Skip to playerSkip to main content
  • 13 hours ago
Kashful Mahjoob Part 29

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری
00:02انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08حضرت محمد بن واسے رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:13تب اے تابعین میں سے ایک بزرگ امام طریقت
00:16دائی اہل مجاہدہ
00:18قائم اندر مشاہدہ
00:20حضرت محمد بن واسے رحمت اللہ علیہ
00:23آپ یہ گانہ روزگار
00:25بکسرت تابعین کے صحبت یافتہ تھے
00:28اکثر مشایخ متقدمین نے آپ سے ملاقات کی
00:32اور آپ سے طریقت کے حقائق
00:33انفاس آلیہ اور ارشادات کاملہ
00:37بکسرت منقول ہیں
00:38چنانچہ آپ نے فرمایا
00:41میں نے کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی
00:43جس میں مجھے خدا کا جلوہ نظر نہ آیا ہو
00:47یہ مقام
00:49مشاہدہ کا مقام ہے
00:51کیونکہ بندہ فائل حقیقی کی محبت میں
00:54اس حد تک فائز ہو جاتا ہے
00:56کہ وہ جب بھی کسی فیل کو دیکھتا ہے
00:59اسے فیل نظر نہیں آتا
01:00بلکہ فائل ہی نظر آتا ہے
01:02جس طرح کوئی شخص تصویر کو دیکھ کر
01:05تصویر بنانے والے کے کمال کو دیکھتا ہے
01:08اس کلام کی اصل و حقیقت
01:10حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے
01:12اس قول مبارک پر ہے
01:14جبکہ انہوں نے چاند ستارے
01:16اور آفتاب کو دیکھ کر کہا تھا
01:18حاضر ربی یہ میرا رب ہے
01:20یہ آپ کے غلبہ و شوق الہی کا حال ہے
01:24کہ انہوں نے جو کچھ بھی دیکھا
01:26اس میں محبوب ہی کی صفت کا جلوہ دیکھا
01:29اس لیے
01:30کہ محبوبانِ خدا
01:32جب کسی چیز پر نظر ڈالتے ہیں
01:34تو انہیں جہان کی ہر چیز
01:37اس کے کہر کا مقہور
01:39اور اس کے غلبہ کا عصیر نظر آتی ہے
01:41اور ہستی کے وجود کو
01:43اس کے فائل کی قدرت کے پہلو میں
01:45پراغندہ دیکھتے ہیں
01:47وہ مفعول کو نہیں دیکھتے
01:49بلکہ فائل کو دیکھتے ہیں
01:51اور تقوین کی حالت میں
01:52ناچیز نظر آتے ہیں
01:54جب حالتِ اشتیاق میں
01:56اس پر نظر پڑتی ہے
01:57تو ان کی نظر مقہور
01:59یعنی کائنات پر نہیں پڑتی
02:01بلکہ کاہر
02:02یعنی کائنات کے بنانے والے ہی
02:05کا جلوہ نظر آتا ہے
02:06اس لیے ان کی نظر مفعول پر نہیں پڑتی
02:09بلکہ فائل ہی کے مشاہدے میں ہوتی ہے
02:12مخلوق نظر ہی نہیں آتی
02:14بلکہ خالق کا جلوہ
02:15ہمیشہ سامنے ہوتا ہے
02:17مزید تفصیل انشاءاللہ
02:19مشاہدے کے باب میں بیان کی جائے گی
02:23ایک گروہ سے
02:24اس مقام میں غلطی واقع ہوئی ہے
02:26وہ رآئیت اللہ فیہی کا مفہوم یہ لیتے ہیں
02:31کہ میں نے اس میں اللہ کو دیکھا
02:34یہ مکان تجزیہ اور حلول کو ظاہر کرتا ہے
02:38اور یہ بات محض کفر ہے
02:40اس لیے
02:42کہ مکان اور جو مکان میں ہو
02:45دونوں ایک جنس کے ہوتے ہیں
02:47اگر کوئی یہ فرض کرے
02:49کہ مکان مخلوق ہے
02:50تو لازم ہے
02:51کہ جو مکان میں ہوگا وہ بھی مخلوق ہوگا
02:53اور اگر یہ فرض کیا جائے
02:55کہ جو مکان میں متمکن ہے
02:59وہ قدیم ہے
03:00تو لازم ہے
03:01کہ وہ مکان بھی قدیم ہوگا
03:03بہر طور
03:05دونوں نظریات فاسد ہیں
03:07خواہ مخلوق کو قدیم کہا جائے
03:09یا خالق کو حادث
03:11یہ دونوں باتیں کفر ہوں گی
03:13لہٰذا کسی چیز میں
03:14اس کی رویت
03:15اس معنی میں
03:17جسے ابتدائیہ میں بیان کر دیا گیا ہے
03:19اس میں اور لطائف ہیں
03:21جو کسی اور جگہ
03:22انشاءاللہ لکھے جائیں گے
03:24امام اعظم ابو حنیفہ نومان بن ثابت
03:27رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:29تب اتابعین میں سے
03:30امام طریقت
03:31امام العائمہ
03:33مقتدائے اہل سنت
03:35شرف فقہہ
03:37اززل علماء
03:38سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ نومان بن ثابت
03:42رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:43آپ عبادات و مجاہدات اور طریقت کی اصول میں
03:47عظیم الشان مرتبہ پر فائز ہیں
03:49ابتدائی زندگی میں آپ نے لوگوں کے اجدہام سے کنارہ کش ہو کر
03:53گوشہ نشینی کا قصد فرمایا
03:55تاکہ لوگوں میں عزت و حشمت پانے سے دل کو پاک و صاف رکھیں
03:59اس دوران
04:02اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف اور منہمک رہیں
04:05مگر ایک رات آپ نے خواب میں دیکھا
04:07کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
04:10استخوان مبارک کو جمع کر رہے ہیں
04:13اور بعض کو بعض کے مقابلہ میں انتخاب کر رہے ہیں
04:17اس خواب سے آپ بہت پریشان ہوئے
04:19اور حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
04:23ایک مساحب سے اس خواب کی تابعی دریافت کی
04:26انہوں نے جواب دیا
04:28کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک
04:32اور آپ کی سنت کی حفاظت میں
04:34ایسے بلند درجہ پر فائز ہوں گے
04:37کہ گویا آپ ان میں تصرف کر کے
04:39صحیح و سکیم کو جدا جدا کریں گے
04:41دوسری مرتبہ
04:43رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا
04:46حضور نے فرمایا
04:48اے ابو حنیفہ
04:49تمہیں میری سنت کے زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے
04:53تم گوشہ نشینی کا خیال دل سے نکال دو
04:56آپ بکسرت
04:58مشایخِ متقدمین کے استاز ہیں
05:01چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادھم
05:03حضرت فزیل بن آیاز
05:05حضرت دعوت تائی
05:07اور حضرت بشر حافی
05:08رحم اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین
05:10نے آپ سے اقتصاب فیض کیا ہے
05:13علماء کے درمیان یہ واقعہ مشہور ہے
05:15کہ آپ کے زمانہ میں
05:17ابو جعفر المنصور خلیفہ تھا
05:19اس نے یہ انتظام کیا
05:21کہ چار علماء میں سے
05:23کسی ایک کو قاضی بنا دیا جائے
05:24ان چاروں میں
05:26امام آزم رحمت اللہ علیہ کا نام بھی شامل تھا
05:28بقیہ تین فرد
05:30حضرت سفیان سوری
05:32حضرت
05:33مسعر بن قدام
05:35اور حضرت قاضی شرع رحمت اللہ علیہ تھے
05:39یہ چاروں بڑے متبہر عالم تھے
05:43کاسد کو بھیجا گیا
05:44کہ ان چاروں کو دربار میں لے کر آئے
05:47چنانچہ جب یہ یکجا ہو کر روانہ ہوئے
05:49تو راہ میں
05:50حضرت امام آزم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
05:53میں اپنی فراست کے مطابق
05:55ہر ایک کے لیے ایک اقتباد تجویز کرتا ہوں
05:58سب نے کہا
05:59کہ آپ جو تجویز فرمائیں گے
06:01اسی کے مطابق ہی ہوگا
06:03آپ نے کہا
06:05کہ مسعر خود کو دیوانہ بنا لیں
06:07سفیان سوری بھاگ جائیں
06:09اور شرح قاضی بن جائیں گے
06:12چنانچہ حضرت سفیان سوری نے
06:14اس تجویز کو پسند کیا
06:16اور راستے ہی میں بھاگ کڑے ہوئے
06:18ایک کشتی میں گھس کر کہنے لگے
06:20لوگوں مجھے پناہ دو
06:22کیونکہ کچھ لوگ میرا سر کاٹنا چاہتے ہیں
06:24ان کے اس کہنے میں
06:26ان کا اشارہ
06:27حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:31کے اس ارشاد کی طرف تھا
06:33کہ جسے ایک قاضی بنایا گیا
06:35اسے بغیر چھری کے زبہ کر دیا گیا
06:38ملاہ نے انہیں کشتی کے اندر شپا لیا
06:41بکیہ تینوں علماء کو
06:42منصور کے روبرو پہنچا دیا گیا
06:44منصور نے
06:45امام آزم کی طرف متوجہ ہو کر کہا
06:48کہ آپ منصب قضاء کے لئے بہت مناسب ہیں
06:50امام آزم نے فرمایا
06:52اے امیر میں عربی نہیں ہوں
06:54اس لئے سردار آنے عرب
06:57میرے حاکم بننے پر راضی نہ ہوں گے
07:00منصور نے کہا
07:01اول تو یہ منصب
07:03نسبت و نسل سے تعلق نہیں رکھتا
07:05یہ علم و فراست سے تعلق رکھتا ہے
07:07چونکہ آپ تمام علماء زمانہ سے افضل ہیں
07:10اس لئے
07:11یہ آپ ہی کے لئے زیادہ موضوع اور لائق ہے
07:13امام آزم نے فرمایا
07:16میں اس منصب کے لائق نہیں
07:18پھر فرمایا
07:19میرا یہ کہنا
07:20کہ میں اس منصب کے لائق نہیں
07:22اگر سچ ہے
07:23تو میں واقعی اس کے لائق نہیں
07:25اور اگر جھوٹ ہے
07:26تو جھوٹے کو مسلمانوں کا قاضی نہیں بنانا چاہیے
07:30چونکہ تم خدا کی مخلوق کے حاکم ہو
07:32تمہارے لئے
07:33ایک جھوٹے کو اپنا نائب بنانا
07:35لوگوں کے اموال کا
07:36معتمد اور مسلمانوں کے ناموس کا
07:39محافظ مقرر کرنا
07:40مناسب نہیں ہے
07:42اس ہیلہ سے
07:43آپ نے منصب قضا سے نجات پائی
07:46اس کے بعد
07:48منصور نے
07:49حضرت محصر
07:51رحمد اللہ علیہ کو بلایا
07:52اور انہوں نے خلیفہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا
07:55اے منصور
07:56تیرا کیا حال ہے
07:57اور تیرے بال بچے کیسے ہیں
07:59منصور نے کہا
08:00یہ تو دیوانہ ہے
08:01اسے نکال دو
08:02اس کے بعد
08:03حضرت شرح کی باری آئی
08:05ان سے کہا
08:06آپ کو منصب قضا ملنا چاہیے
08:08انہوں نے فرمایا
08:09میں سودائی مزاج کا آدمی ہوں
08:11اور میرا دماغ بھی کمزور ہے
08:13منصور نے جواب دیا
08:14اعتدال مزاج کے لیے
08:16شربت و شیرے وغیرہ کا استعمال کرنا
08:19تاکہ دماغی کمزوری
08:20دور ہو کر
08:21اکل کا حاصل ہو جائے
08:23غرض
08:24کہ منصب قضا
08:25حضرت شرح کے حوالے کر دیا گیا
08:27اور امام آزم
08:29رحمد اللہ علیہ نے
08:30انہیں چھوڑ دیا
08:32اور پھر کبھی بات نہ کی
08:34اس واقعہ سے
08:36آپ کا کمال و حیثیت ظاہر ہے
08:38ایک یہ کہ آپ کی فراست
08:40اتنی عرفہ وعالہ تھی
08:41کہ آپ پہلے ہی
08:42سب کی خصلت
08:43اور عادت کا جائدہ لے کر
08:45صحیح اندازہ لگا لیا کرتے
08:47اور دوسرے یہ
08:48کہ سلامتی کی راہ پر
08:49گامزن رہ کر
08:50خود مخلوق سے بچائے رکھنا
08:52تاکہ مخلوق میں
08:54ریاست و جاہ کے ذریعے
08:56نخوت نہ پیدا ہو جائے
08:57یہ حکایت اس عمر کی
08:59کبھی دلیل ہے
08:59کہ اپنی صحت و سلامتی
09:01کیلئے کنارہ کشی بہتر ہیں
09:02حالانکہ آج
09:04حصول جاہو مرتبہ
09:05اور منصب قضاء کی خاطر
09:07لوگ سرگردان رہتے ہیں
09:09کیونکہ لوگ خواہش نفسانی میں
09:11مبتلا ہو کر
09:12راہ حق میں
09:13ثواب سے دور ہو چکے ہیں
09:15اور لوگوں نے
09:16عمراء کے دروازوں کو
09:17قبلہ حاجات بنا رکھا ہے
09:19اور ظالموں کے گھروں کو
09:20اپنا بیت المامور سمجھ لیا ہے
09:23اور جابروں کی مسنت کو
09:25کعبہ کا حسینیوں
09:26ادنا کے برابر جان رکھا ہے
09:28جو بات بھی ان کی مرضی کے خلاف ہو
09:31وہ اس سے انکار کر دیتے ہیں

Recommended