Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Stories of the Prophets - Life of 25 Prophets in Islam - Prophet Adam to Last Prophet Muhammad

Category

📚
Learning
Transcript
00:00انسانی تاریخ کا دامن ہزاروں برسوں پر محیط ہے
00:06اس زمین نے عظیم الشان بادشاہوں کو دیکھا
00:10زبردست سلطرتوں کو بنتے اور بگڑتے دیکھا
00:14مگر اس ساری تاریخ میں ایک سلسلہ ایسا ہے
00:19جو کبھی منقطع نہیں ہوا
00:21ایک ایسی کڑی جو پہلے انسان سے شروع ہوئی
00:26اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر مکمل ہوئی
00:30کیا آپ کو علم ہے کہ روایات کے مطابق
00:34اللہ تعالی نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے
00:38ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام بھیجے
00:41ہر دور میں ہر قوم کے لیے
00:45ہر بستی میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا اور بشارت دینے والا آیا
00:50لیکن قرآن مجید میں اللہ نے
00:53صرف پچیس انبیاء کا نام لے کر ذکر فرمایا
00:56کیوں تو کیا آپ تیار ہیں
00:59ان پچیس منتخب ہستیوں کی زندگی کا راز جاننے کے لیے
01:04کہانی کی ابتداء اس وقت سے ہوتی ہے
01:08جب زمین پر انسان کا نام و نشان بھی نہیں تھا
01:12صرف خاموشی تھی
01:14یا جنات کی فساد انگیزیاں
01:17پھر اللہ تعالی نے
01:19فرشتوں کے سامنے ایک فیصلہ سنایا
01:22ایک ایسا فیصلہ
01:25جس نے کائنات کی تقدیر بدل دی
01:29اللہ تعالی نے فرمایا
01:32میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں
01:36حضرت آدم علیہ السلام
01:39پہلے انسان اور پہلے نبی
01:43حضرت آدم علیہ السلام
01:45جنت میں رہنے لگے
01:47لیکن انسان تنہا نہیں رہ سکتا تھا
01:51اس لیے اللہ نے ان کی بائیں پسلی سے
01:54مائیں ہوا کو پیدا فرمایا
01:56تاکہ وہ سکون حاصل کر سکیں
01:59جنت کی ہر نعمت ان کے لیے تھی
02:01سوائے ایک درخت کے
02:04اللہ نے فرمایا
02:06اس درخت کے قریب بھی مت جانا
02:09ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے
02:13لیکن وہ دشمن
02:14وہ ابلیس
02:16جو قسم کھا چکا تھا
02:19کہ وہ انسان کو بھٹکائے گا
02:21اس نے حملہ کیا
02:22طاقت سے نہیں
02:24بلکہ وس وسے سے
02:27اس نے قسمیں کھا کر کہا
02:30میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
02:33یہ درخت تو تمہیں
02:36ہمیشگی کی بادشاہت دے گا
02:38حضرت آدم علیہ السلام
02:40بھول گئے
02:41ان سے غلطی ہو گئی
02:44انہوں نے وہ کھل کھا لیا
02:46اور جیسے ہی نوالا حلق سے نیچے اترا
02:49جنت کا لباس اتر گیا
02:52انہوں نے اپنی غلطی مان لی
02:54اے ہمارے رب
02:56ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا
03:00اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا
03:03اور ہم پر رحم نہ کیا
03:05تو ہم یقینت برباد ہو جائیں گے
03:08یہ تاریخ کی پہلی توبہ تھی
03:10اللہ نے توبہ قبول تو کر لی
03:13لیکن تقدیر کا فیصلہ آ چکا تھا
03:16اللہ نے حکم دیا
03:17نیچے اتر جاؤ
03:19روایات میں آتا ہے کہ وہ سرندیپ موجودہ سری لنکا
03:26یا ہند کے پہاڑوں پر اترے
03:28اور مائے ہوا جدہ میں
03:31وہ جنت کی نعمتوں سے نکل کر کانٹوں اور پتھروں والی زمین پر آگئے تھے
03:53جدائی کا غم اور اللہ کی ناراضگی کا ڈر
03:58یہاں سے حضرت آدم علیہ السلام کی جدوجہد کا آغاز ہوا
04:06انہوں نے زمین پر پہلا گھر بنایا
04:09کھیتی باڑی سیکھی
04:11پتھروں کو رگڑ کر آگ جلانا سیکھا
04:14وہ صرف پہلے انسان نہیں تھے
04:17وہ پہلے نبی بھی تھے
04:20انہوں نے اپنی اولاد کو سکھایا
04:23کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنی ہے
04:26پھر وقت گزرتا گیا
04:29حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آ گیا
04:35ایک طویل عمر گزارنے کے بعد
04:39جب انہوں نے دنیا چھوڑی
04:41تو زمین پر توحید پرست موجود تھے
04:44لیکن ان کے جانے کے بعد کیا ہوا
04:47کیسے شیطان نے دوبارہ انسانوں کو جال میں پھنسایا
04:52پھر تاریخ کے ورق پلٹے
04:55ایک نئی ہستی کا ظہور ہوا
04:58جنہیں قرآن ادریس کے نام سے یاد کرتا ہے
05:01اور ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا
05:04یہ وہ پہلے انسان تھے
05:10جنہوں نے قلم کا استعمال کیا
05:12جنہوں نے لوگوں کو لکھنا سکھایا
05:16وہ صرف عبادت گزار نہیں تھے
05:21بلکہ وہ کائنات کے اسرار پر غور کرنے والے تھے
05:24انسان نے گناہ کرنا شروع کر دیئے تھے
05:27لیکن ابھی تک شرک اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا عام نہیں ہوا تھا
05:32پھر حضرت ادریس بھی رخصت ہو گئے
05:35اور یہاں سے شیطان نے اپنا سب سے خطرناک جال بچھایا
05:39بت پرستی کی ابتدار
05:41محبت سے فریب تک
05:44یہ کسی نفرت سے نہیں
05:47بلکہ محبت سے شروع ہوئی
05:50اس دور میں پانچ بہت نیک لوگ تھے
05:52ود، سوا، یغوس، یعوک اور نصر
05:55جب یہ فوت ہو گئے تو قوم بہت غمگین ہوئی
05:58شیطان ایک ہمدرد کے روپ میں آیا
06:03اور کہا
06:04تم ان نیک لوگوں سے بہت محبت کرتے ہو نا
06:08ان کی یادگاریں بنا لو
06:09ان کی مورتیاں بنا لو
06:10تاکہ انہیں دیکھ کر تمہیں اللہ یاد آئے
06:13لوگوں کو بات اچھی لگی
06:15انہوں نے مورتیاں بنا لی
06:16وہ انہیں پوجتے نہیں تھے
06:19صرف یادگار سمجھتے تھے
06:21لیکن جب وہ نسل ختم ہوئی
06:23اور اگلی نسل آئی
06:25تو شیطان نے کہا
06:27تمہارے باپ دادا
06:29تو ان سے مدد مانگتے تھے
06:31ان کی پوجہ کرتے تھے
06:33زمین فساد سے بھر گئی
06:37تاکتور کمزور کو کچل رہا تھا
06:39فہاشی عام ہو چکی تھی
06:41ایسے گھپ اندھیرے میں
06:44اللہ نے ایک ایسے نبی کو بھیجا
06:46جنہیں شیخ الانبیاء کہا جاتا ہے
06:48حضرت نوح علیہ السلام
06:50ان کا مشن بہت سخت تھا
06:53ان کی قوم انتہائی سرکش
06:56اور ظالم تھی
06:58حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں سمجھایا
07:01اے میری قوم
07:02اللہ سے ڈرو
07:03میں تمہیں دردناک عذاب سے ڈراتا ہوں
07:06لیکن جواب کیا ملا
07:08مزاق
07:09تالے
07:10اور پتھر
07:11وہ انہیں سمجھاتے رہے
07:14تمہاری یہ اونچی امارتیں
07:15تمہارا یہ جدید طرز زندگی
07:17تمہارے یہ دیوتا سب ختم ہونے والا ہے
07:20اس شہر کے بیچ ایک تماشا لگا
07:22خوشک زمین
07:24جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں تھا
07:28وہاں لکڑیوں کا ڈھیر لگنا شروع ہوا
07:30حضرت نوح نے کشتی بنانا شروع کی
07:33یہ منظر شہر والوں کے لیے
07:36ایک لطیفہ بن گیا
07:38لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر
07:41ہستے ہوئے وہاں آتے
07:43وہ تنز کرتے
07:44دیکھو
07:45اب نبی بڑھ ہی بن گیا ہے
07:47کیا یہ کشتی اس سوکھی سڑک پر چلے گی؟
07:50پھر وہ ہوا جو کبھی نہیں ہوا تھا
07:54پانی بادلوں سے برسا نہیں بلکہ ٹوٹ پڑا
07:59اور صرف اوپر سے نہیں زمین کے نیچے سے
08:02ان کے خوبصورت فرش پھٹ گئے اور پانی اُبل پڑا
08:09وہ لوگ جو اپنے مضبوط مکانوں پر ناز کرتے تھے
08:12اب وہ اپنی چھتوں پر چڑ رہے ہیں
08:15وہ شہر جو کچھ دیر پہلے تک روشنیوں اور قہقہوں سے گونج رہا تھا
08:20اب چیخوں میں ڈوب چکا تھا
08:23پانی کا لیول بڑھتا گیا
08:25محل ڈوب گئے
08:27بازار ڈوب گئے
08:29غرور ڈوب گیا
08:31ایک طرف پہاڑ کی چوٹی پر ایک باپ اپنے نافرمان بیٹے کو آخری بار پکار رہا تھا
08:38اور دوسری طرف وہ لکڑی کی کشتی جسے پاگلپن کہا گیا
08:43آج وہیں واحد پناہ گا تھی
08:45زمین پانی سے پاک کر دی گئی
08:48تمام نافرمان ہلاک ہو گئے
08:52مہینوں بعد پانی اترا
08:55اور کشتی جودی پہاڑ پر جارکی
08:58جب حضرت نو علیہ السلام کشتی سے باہر آئے
09:02تو یہ ایک نئی دنیا تھی
09:04پرانی دنیا اپنے گناہوں سمیت غرق ہو چکی تھی
09:10اسی لیے حضرت نوح علیہ السلام کو
09:15آدم ثانی دوسرا آدم کہا جاتا ہے
09:18کیونکہ آج روح زمین پر جتنے بھی انسان ہیں
09:21وہ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں
09:24لیکن کیا انسان نے اس خوکناک عذاب سے سبق سکھا
09:30کیا آنے والی نسلیں صدر گئیں
09:33نہیں
09:35وقت گزرتا گیا
09:38نسلیں بڑھتی گئیں
09:40اور انسان پھر سے سرکش ہو گیا
09:42اس بار طاقت کا نشاہ
09:46انسان کے دماغ پر چڑھ گیا
09:48سہراؤں میں رہنے والے کچھ لوگ اتنے طاقتور ہو گئے
09:52کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنانے لگے
09:55وہ اپنے قد کاٹ پر ناز کرنے لگے
09:58انہوں نے کہا
10:02کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور
10:05یہ قوم آدھ تھی
10:08جن کی طرف اللہ نے حضرت حود علیہ السلام کو بھیجا
10:12حضرت حود علیہ السلام نے انہیں تنبیہ کی
10:15اے میری قوم
10:17اللہ سے ڈرو
10:18اور اس کی عبادت کرو
10:20لیکن انہوں نے کہا
10:22ہم تمہیں بے وقوب سمجھتے ہیں
10:24اور تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
10:26جب انہوں نے تنبیہ کو ٹھکرا دیا
10:29تو خشک سالی آ گئی
10:31بارشیں رک گئیں
10:33باغات اجڑنے لگے
10:35پھر ایک دن انہوں نے دیکھا
10:37کہ آفق پر ایک سیاہ بادل نمودار ہوا
10:40وہ خوش ہو گئے
10:41اور کہنے لگے
10:43یہ تو بادل ہے
10:44جو ہمیں بارش دینے والا ہے
10:46لیکن حقیقت یہ تھی
10:48کہ وہ بادل بارش کا نہیں
10:50بلکہ عذاب کا بادل تھا
10:52پھر وہ ہوا آئی
10:54جسے قرآن
10:55ریح سرسر کہتا ہے
10:57یہ ایسی آندھی تھی
11:01جو انتہائی سرد
11:03شوردار
11:04اور تباہ کن تھی
11:05تو پھر اگر یہ آندھی
11:08مسلسل آٹھ دن
11:09اور سات رات تک چلتی رہی
11:11تو کیا حال ہوا ہوگا
11:13قومِ آدھ اپنی جس طاقت پر غمنڈ کرتی تھی
11:16وہی ان کی حلاکت کا سبب بن گئی
11:19آدھ کی تباہی کے بعد
11:22ان کی جگہ قومِ سمود نے لے لی
11:25یہ لوگ وادی حجر میں آباد ہوئے
11:31جسے آج مدائنِ سالح کہا جاتا ہے
11:34یہ فنِ تعمیر کے ماہر تھے
11:37یہ آدھ کی طرح صرف امارتیں نہیں بناتے تھے
11:39بلکہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر اپنے محل بناتے تھے
11:43انہیں لگتا تھا
11:44کہ اگر توفان یا آندھی آئی
11:46تو یہ مضبوط پہاڑ انہیں بچا لیں گے
11:49اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے
11:53انہی میں سے ایک معزز انسان
11:55حضرت صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا
11:59قومِ سمود نے حضرت صالح علیہ السلام کو چیلنج کر دیا
12:03اے صالح ہم تجھ پر تب ایمان لائیں گے
12:07اگر تم ہمارے سامنے اس ٹھوس چٹان سے ایک زندہ
12:10حاملہ اونٹنی نکال کر دکھاؤ
12:12یہ ایک ناممکن مطالبہ تھا
12:15پتھر سے جانور کیسے نکل سکتا ہے
12:18لیکن نبی کا تعلق اللہ سے ہوتا ہے
12:22حضرت صالح علیہ السلام نے دعا کی
12:26چٹان پھٹی اور سب کی آنکھوں کے سامنے
12:29اللہ کی قدرت سے ایک شاندار اونٹنی برامد ہوئی
12:33یہ اللہ کی نشانی تھی
12:35حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا
12:39یہ اللہ کی اونٹنی ہے
12:41خبردار
12:42اسے ہاتھ مت لگانا
12:44ایک دن یہ پانی پیے گی
12:46اور ایک دن تم
12:48کچھ عرصے تک تو وہ ڈرتے رہے
12:50لیکن پھر ان کے اندر کے شیطان نے سر اٹھایا
12:55چند شریر اور بدبخت لوگوں نے منصوبہ بنایا
13:00ان کا لیڈر قدار بن صالف
13:03آگے بڑھا
13:04اور اس نے اللہ کی نشانی اس ماسون اونٹنی کی کونچیں کار دیں
13:09اور اسے بے دردی سے قتل کر دکا
13:11پھر انہوں نے اکٹھے ہو کر
13:13حضرت صالح علیہ السلام سے کہا
13:15اگر تم سچے رسول ہو تو لے آؤ عذاب
13:19حضرت صالح علیہ السلام نے
13:21روتے ہوئے اپنی قوم کو دیکھا
13:24اور صرف ایک جملہ کہا
13:27اپنے گھروں میں تین دن اور مزے کر لو
13:30یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا
13:35تین دن کی الٹی گینٹی کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گئی
13:39پہلے دن ان کے چہرے زرد ہو گئے
13:42دوسرے دن سرخ ہو گئے
13:44اور تیسرے دن سیاہ
13:47خوف ان کے دلوں میں بیٹھ گیا
13:49لیکن توبہ کی توفیق نہیں ہوئی
13:52چوتھے دن کی صبح جب سورج نکلا
13:55تو آسمان سے کوئی پتھر نہیں برسا
13:59کوئی ہوا نہیں چلی
14:01بس ایک چنگھرگ ایک بلاسٹ سانڈ بھیو آئی
14:04ایک ایسی خوفناک آواز
14:05جس نے ان کے قریجے پھاڑ دیئے
14:08وہ اپنے مضبوط پہاڑوں میں
14:10تراشے ہوئے گھروں کے اندر ہی
14:12اوندھے مو گر کر ہلاک ہو گئے
14:14آج بھی جب آپ مدائن سالح جائیں
14:17تو وہ ویران گھر گواہی دیتے ہیں
14:20کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے
14:23اب تاریخ کا رخ بدلنے والا تھا
14:25اب تک انبیاء آتے تھے
14:28اور ایک قوم تک محدود رہتے تھے
14:32لیکن اب اللہ ایک ایسے انسان کو پیدا کرنے والا تھا
14:37جسے قوم نہیں
14:38بلکہ امت کا باپ بننا تھا
14:41ایک ایسا نوجوان
14:42جو اکیلہ پوری کائنات کے باطل نظام سے ٹکرانے والا تھا
14:47حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے
14:51اپنے والد آذر کو نصیحت کی
14:54پھر اللہ تعالیٰ نے نمرود کے مقابلے میں
14:59حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مظہر فرمایا
15:01قرآن مجید میں سورہ البقرہ آیت دو سو اٹھاون میں آتا ہے
15:05کیا تم نے اسے نہیں دیکھا
15:07جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا
15:10اس بنیاد پر کہ اللہ نے اسے بادشاہت دی تھی
15:13جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
15:16میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے
15:20نمرود نے کہا
15:21میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں
15:25حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
15:28میرا رب تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
15:30تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ
15:32بس وہ کافر حیران رہ گیا
15:35جب سالانہ میلا لگا
15:39اور پوری قوم شہر سے باہر چلی گئی
15:42حضرت ابراہیم علیہ السلام
15:45اکیلے بت خانے میں داخل ہوئے
15:48وہاں بڑے چھوٹے بے شمار بت سجے تھے
15:52آپ نے کلہارہ اٹھایا
15:54اور سب بت توڑ دالے
15:56سب مگر سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا
15:59اور کلہارہ اس کے کندھے پر لٹکا دیا
16:02جب لوگ واپس آئے تو حلچل مچ گئی
16:05انہوں نے کہا
16:07ہمارے خداوں کو کس نے توڑا
16:10کچھ لوگوں نے کہا
16:12ہم نے ایک نوجوان کو ذکر کرتے سنا ہے
16:15جسے ابراہیم کہا جاتا ہے
16:17حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
16:20دربار نمرود میں لائے گیا
16:22وہاں ہزاروں لوگ جمع تھے
16:25نمرود کے درباریوں نے پوچھا
16:27اے ابراہیم
16:30کیا تم نے ہمارے خداوں کو توڑا ہے
16:33حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہائیت حکمت سے کہا
16:36یہ جو بڑا بت ہے
16:37شاید اسی نے کیا ہو
16:39اس سے پوچھ لو
16:40اگر یہ بول سکتا ہے
16:42یہ جواب سن کر وہ سب لا جواب رہ گئے
16:48انہیں معلوم تھا
16:49کہ یہ بت بولنے کی طاقت نہیں رکھتے
16:52ان کے ضمیر نے گواہی دی
16:54کہ یہ بت
16:56محض
16:57بے جان پتھر ہیں
16:59مگر تکبر
17:00اور زد نے
17:02انہیں حق قبول کرنے سے روک دیا
17:04اب فیصلہ ہوا
17:06کہ ابراہیم کو
17:07ایک عبرتناک سزا دی جائے
17:10انہوں نے کہا
17:11اسے آگ میں جلا دو
17:13اور اپنے خداوں کی مدد کرو
17:16تاریخ اور تفاصیر میں آتا ہے
17:19کہ پوری قوم نے کئی دنوں تک لکڑیاں جمع کی
17:23منجنیک چلی
17:25اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
17:27دہکتے شالوں کے اندر جا گرے
17:29لیکن اسی لمحے اللہ نے حکم دیا
17:32اے آگ
17:34ابراہیم پر تھنڈی اور سلامتی والی ہو جا
17:38آگ تھنڈی ہو گئی
17:39شولے بجھ گئے
17:41اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
17:43سلامت باہر نکل آئے
17:45یہ منظر دیکھ کر سب حیران رہ گئے
17:48ان کے خداوں کی بیبسی
17:50اور اللہ کی قدرت
17:52سب کے سامنے آیاں ہو گئی
17:54لیکن نمرود کا تکبر مزید بڑھ گیا
17:56اس نے کہا
17:58یہ سب جادو ہے
18:01اس محجزے کے بعد بھی
18:04قوم ایمان نہ لائی
18:06حضرت ابراہیم نے
18:08ہجرت کا فیصلہ کیا
18:09ان کے ساتھ صرف ان کی بیوی سارا
18:12اور ان کی بھتیجے حضرت لوت علیہ السلام
18:14ایمان لائے
18:15یہاں سے راستے جدا ہوئے
18:17حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشیں شروع ہو گئی تھی
18:21سہراؤں کی سختی
18:22ریت کی لہر
18:23اور تنہائی نے ان کے سبر کی جانچ لی
18:26دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام
18:28فلسطین کی طرف آئے
18:29عمر ڈھل چکی تھی
18:31بالوں میں سفیدی اتر آئی تھی
18:33اور اولاد
18:35اولاد کی کوئی امید باقی نہ رہی تھی
18:38لیکن اللہ نے ان کے سبر کا پھل دیا
18:40ان کی دوسری اہلیہ حاجرہ کے بطن سے
18:43اللہ نے ایک خوبصورت بیٹا عطا کیا
18:46حضرت اسماعیل علیہ السلام
18:48ابھی خوشی دل میں اتری ہی تھی
18:50کہ ایک اور امتحان دروازے پر آ کھڑا ہوا
18:53بھکم ملا
18:55اپنی بیوی اور ننھے بچے کو
18:57مکہ کے بے آباد
18:59اور ویران ریگستان میں چھوڑاؤ
19:02ایک بڑھا باپ
19:03اپنے جگر کے ٹکڑے کو وہاں چھوڑایا
19:06جہاں نہ پانی تھا
19:07نہ سایا
19:08یہ فیصلہ محبت کا نہیں تھا
19:11یہ صرف اللہ کا حکم تھا
19:14اور پھر اسی ویران ریگستان میں
19:17اللہ نے رحمت اتار دی
19:19زمین پھٹی
19:20پانی اوبلا
19:21اور زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا
19:24یہی وہ جگہ تھی
19:26جہاں مکہ آباد ہوا
19:28لیکن سب سے کڑا امتحان
19:30ابھی باقی تھا
19:32جب اسماعیل چلنے پھرنے کے قابل ہوئے
19:36تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا
19:39کہ وہ اپنے بیٹے کو زبح کر رہے ہیں
19:41نبی کا خواب خواب نہیں ہوتا
19:43نبی کا خواب وہی ہوتا ہے
19:46انہوں نے بیٹے سے پوچھا
19:49اے میرے بیٹے
19:50میں نے یہ خواب دیکھا ہے
19:53تیری کیا رائے ہے
19:55فرمان بردار بیٹے
19:57حضرت اسماعیل نے جواب دیا
19:58ابا جان کر گزریے جو حکم ملا ہے
20:01آپ انشاء اللہ مجھے سابر پائیں گے
20:03منہ کے میدان میں باپ نے بیٹے کو آندھے منہ لٹا لیا
20:06آنکھوں پر پٹی باندھی
20:08تاکہ محبت آڑے نہ آئے
20:10چھری چلائے
20:11لیکن اللہ کو خون نہیں
20:13اطاعت چاہیے تھی
20:14چھری نے نہ کٹا
20:16اللہ نے جنت سے مینڈھا بھیج دیا
20:19اسماعیل کو بچا لیا
20:20یہی وہ قربانی ہے
20:22جس کی یاد
20:24ہم ہر عید پر مناتے ہیں
20:26اس باپ اور بیٹے نے مل کر
20:29اللہ کا گھر کعبہ تعمیر کیا
20:32اللہ نے حضرت ابراہیم کی اس قربانی کو اتنا پسند کیا
20:37کہ انہیں بڑاپے میں ایک اور بیٹے کی خوشخبری دی
20:41ان کی پہلی بیوی سارا کے ہاں
20:43حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے
20:46اب یہاں سے نبوت کی دو شاخے بن گئیں
20:49حضرت اسماعیل کی نسل سے
20:51آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے تھے
20:56اور حضرت اسحاق کی نسل سے
20:59بنی اسرائیل کے تمام انبیاء آنے والے تھے
21:03اللہ نے حضرت لوت علیہ السلام کو
21:06صدوم کی بستی مردہ سمندر کے قریب کی طرف
21:09نبی بنا کر بھیجا
21:11وہ قوم تاریخ کی بدترین بے حیائی میں ببتلا تھی
21:15ہم جنس پرستی
21:18حضرت لوت علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا
21:22لیکن وہ اپنی برائیوں میں اندھے ہو چکے تھے
21:26آخرکار اللہ نے اس بستی کو زمین سے اٹھایا
21:30اور الٹ کے پٹک دیا
21:31اور ان پر پتھروں کی بارش کی
21:34یہ بھی ایک عبرتناک انجام تھا
21:37حضرت اسحاق کے ہاں بیٹا پیدا ہوا
21:44جن کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام تھا
21:48اور حضرت یعقوب کا ہی دوسرا نام
21:51اسرائیل اللہ کا بندہ تھا
21:54انہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے
21:58حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے
22:03اور ان بارہ بیٹوں میں ایک بیٹا ایسا تھا
22:09جسے دیکھ کر چاد بھی شرما جائے
22:12لیکن بھائیوں کے دل میں اس کے لیے نفرت کی آگ جل رہی تھی
22:16حضرت یوسف علیہ السلام خوبصورتی اور سبر کے نبی ہے
22:22ایک ایسی سازش تیار ہو رہی تھی
22:25جو ایک شہزادے کو غلام بنا دے گی
22:27اور پھر غلام کو بادشاہ
22:30انہوں نے یوسف علیہ السلام کو شیر کے بہانے جنگل میں لے جا کر
22:35ایک آندھے کوئے میں پھینک دیا
22:37اور باپ کے پاس ایک قمیز لے آئے
22:41جس پر جھوٹا خون لگا ہوا تھا
22:44حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ دھوکہ ہے
22:49مگر انہوں نے وہ تاریخی جملہ کہا
22:51بس بہترین سبر ہے
22:53دوسری طرف کوئے کی تاریخی میں
22:56ننھے یوسف اکیلے تھے
22:58مگر اللہ ان کے ساتھ تھا
23:01ایک قافلہ گزرا
23:03انہوں نے پانی کے لیے ڈول ڈالا
23:06اور یوسف کو باہر نکال لیا
23:08لیکن آزادی نہیں ملی
23:11بلکہ انہیں مصر کے بازار میں
23:14چند درہموں کے عوض
23:15ایک غلام کی طرح بیچ دیا گیا
23:17ذرا سوچیں ہی
23:19ایک نبی کا بیٹا
23:20جو شہزادہ بننے کے لائق تھا
23:23اب ایک آجنبی ملک میں غلام تھا
23:26مگر اللہ کی تدبیر دیکھئے
23:29انہیں مصر کے وزیر نے خریدا
23:31اور محل میں لے آیا
23:33یوسف علیہ السلام جوان ہوئے
23:36تو اللہ نے انہیں بے پناہ خوبصورتی عطا کی
23:38اتنی کہ عزیز کی بیوی زلیخہ
23:40اپنی نیت خراب کر بیٹھی
23:42اس نے گناہ کی دعوت دی
23:44دروازے بند کر دیئے
23:47لیکن یوسف علیہ السلام نے فرمایا
23:52معاذ اللہ
23:52اللہ کی پناہ
23:54یہ گناہ ہے
23:54وہ بھاگے
23:55قمیز پیچھے سے پھٹی
23:57اور پاک دامن رہے
23:58لیکن دنیا کے انصاف نے
24:00انہیں قصور وار ٹھہرا کر
24:02جیل بھیج دیا
24:04قید کی کال
24:06کوٹھڑی میں کئی سال گزر گئے
24:08لیکن جو اللہ پر توقل کرتا ہے
24:11اللہ اسے فرش سے
24:13عرش پر بٹھا دیتا ہے
24:15بادشاہ وقت نے
24:17ایک خواب دیکھا
24:18جس کی تعبیر کوئی نہ بتا سکا
24:21تب یوسف علیہ السلام کو
24:23یاد کیا گیا
24:24انہوں نے جیل سے ہی خواب کی ایسی تعبیر بتائی
24:27کہ بادشاہ دنگ رہ گیا
24:29یوسف علیہ السلام کو جیل سے نکالا گیا
24:32لیکن اب وہ قیدی نہیں ہا
24:34مصر کے وزیر خزانہ تھے
24:37پھر وہ وقت آیا
24:39جب قہد پڑا
24:40اور وہی بھائی
24:42جو انہیں کونے میں پھینک گئے تھے
24:45اب بھکاری بن کر
24:47اناج مانگنے ان کے دربار میں آئے
24:50یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا
24:54مگر وہ نہیں پہچان سکے
24:57جب حقیقت کھلی تو بھائی شرم سے پانی پانی ہو گئے
25:02ان کا خیال تھا کہ اب بدلہ لیا جائے گا
25:05سر قلم ہوں گے
25:06لیکن یوسف علیہ السلام نے فرمایا
25:09آج تم پر کوئی ملامت نہیں
25:11اللہ تمہیں معاف کرے
25:14یوسف علیہ السلام کے قصے کے بعد
25:17آئیے ذکر کرتے ہیں
25:18سبر کے بادشاہ کا
25:20اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی مشکل ہے
25:24تو حضرت عیوب علیہ السلام کی زندگی دیکھ لیں
25:27یہ بہت مالدار تھے
25:30بڑے بڑے کھیت
25:32مویشی
25:33اور بہت سی اولاد تھی
25:35شیطان نے اللہ سے کہا
25:38عیوب تیرا شکر اس لیے کرتا ہے
25:40کیونکہ تُو نے اسے سب کچھ دے رکھا ہے
25:43اگر یہ نعمتیں چھین لے
25:46تو وہ ناشکری کرے گا
25:48آزمائش شروع ہوئی
25:49حضرت عیوب کا سارا مال تباہ ہو گیا
25:52جانور مر گئے
25:53گھر کی چھت گری
25:54اور ساری اولاد شہید ہو گئی
25:56لیکن زبان پر شکوہ نہ آیا
25:59فرمایا
26:00اللہ کا تھا
26:02اللہ نے لے لیا
26:04پھر دوسری آزمائش آئی
26:06جسمانی بیماری
26:08ان کے جسم پر ایسے زخم
26:13اور پھوڑے نکل آئے
26:15کہ لوگ ان کے پاس بیٹھنے سے
26:17گھبرانے لگیں
26:18سب چھوڑ گئے
26:20صرف ایک وفادار بیوی
26:22ساتھ رہی
26:23سالوں تک وہ تکلیف میں رہے
26:27کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھے رہتے
26:29مگر زبان پر
26:31الحمدللہ جاری رہا
26:33جب امتحان مکمل ہو گیا
26:34تو حضرت عیوب نے دعا کی
26:36اے اللہ
26:37مجھے تکلیف پہنچی ہے
26:39اور تُو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے
26:41اللہ کا حکم ہوا
26:42اپنا پاؤں زمین پر مارو
26:45وہاں سے
26:46تھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹا
26:48انہوں نے غسل کیا
26:51بیماری ختم ہو گئی
26:53جوانی لوٹ آئی
26:55اور اللہ نے انہیں
26:56ان کا مال اور اولاد
26:57دگنی کر کے
26:58واپس لوٹا دیئے
26:59یہ انعام ہے
27:00سبر کرنے والوں کا
27:02اس کے بعد باری آتی ہے
27:03خطیب الانبیاء
27:04انبیاء کے مقرر
27:06یعنی حضرت شعیب علیہ السلام کی
27:09یہ مدین بستی کی طرف
27:11بھیجے گئے تھے
27:12یہ لوگ تاجر تھے
27:14لیکن انتہائی بے ایمان
27:16ان کی بیماری یہ تھی
27:19کہ جب چیز دیتے
27:20تو کم تولتے
27:21ڈنڈی مارتے
27:23اور جب لیتے
27:24تو پورا پورا لیتے
27:25اور راستوں میں بیٹھ کر
27:27لوگوں کو لوٹتے بھی تھے
27:29حضرت شعیب علیہ السلام نے
27:32انہیں بہت پیار سے سمجھایا
27:35میرے بھائیو
27:37ناب تول میں کمی نہ کرو
27:39زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
27:41مگر وہ باز نہ آئے
27:43انہوں نے کہا
27:45اے شعیب
27:46کیا تمہاری نماز
27:47تمہیں یہ سکھاتی ہے
27:49کہ ہم اپنا مال
27:50اپنی مرضی سے خرچ نہ کریں
27:52جب وہ اپنی ہٹ دھرمی سے
27:54باز نہ آئے
27:55تو اللہ کا عذاب
27:56بادل کی صورت میں آیا
27:58لوگ سمجھے
28:00چھاؤں آ گئی ہے
28:01وہ سب
28:03اس بادل کے نیچے
28:05جمع ہو گئے
28:06اچانک اس بادل سے
28:08آگ برسنے لگی
28:10اور زمین میں
28:11ایک زبردست
28:12زلزلہ ہیا
28:12وہ سب کے سب
28:14وہیں ہلاک ہو گئے
28:15حضرت شعیب علیہ السلام
28:17وہاں سے
28:18افسوس کرتے ہوئے
28:19نکل گئے
28:20کہ میں نے
28:21تو تمہیں
28:21بہت سمجھایا تھا
28:23حضرت موسیٰ علیہ السلام
28:25قلیم اللہ
28:26وقت کا پہیا گھوما
28:28اور ہم مصر کی سرزمین پر آ پہنچے
28:31یہاں بنی اسرائیل
28:33جو کبھی
28:33یوسف علیہ السلام کے دور میں
28:35معزز مہمان
28:36اب بدترین غلام بن چکے تھے
28:38ان کی پیٹھوں پر
28:39کوڑے برسائے جاتے اور
28:42ان کی نسل کو
28:43بے رحمی سے ختم کیا جاتا
28:45یہ ظلم فیرون کا تھا
28:48جس نے ایک خواب دیکھا تھا
28:50کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا
28:51اس کی سلطنت کو ختم کر دے گا
28:53وہ تقدیر سے لڑنے نکلا تھا
28:56ایک ماں نے اپنے بچے کو بچانے کے لیے
29:00لکڑی کے ایک صندوق میں ڈالا
29:02اور تھنڈے دل کے ساتھ
29:03اسے دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کر دیا
29:05ذرا اللہ کی شان دیکھئے
29:08موجیں اس صندوق کو کہیں اور نہیں
29:11بلکہ سیدھا فیرون کے محل لے گئیں
29:14فیرون جس بچے کو شہر شہر ڈھونڈ رہا تھا
29:17اللہ نے اسی بچے کو اس کی اپنی گود میں
29:20اس کے اپنے خرچے پر پلوا دیا
29:22یہ بچہ کوئی اور نہیں آ
29:24حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے
29:28موسیٰ علیہ السلام فیرون کے محل میں
29:31شہزادوں کی طرح پلے بڑے
29:33لیکن ایک دن ان کے ہاتھ سے انجانے میں
29:36ایک مصری قتل ہو گیا
29:38وہ مصر چھوڑ کر مدین چلے گئے
29:41وہاں کئی سال رہے شادی کی اور بکریاں چرائیں
29:46لیکن کہانی ابھی شروع ہونی تھی
29:49واپسی پر کوہ تور کے دامن میں
29:52انہیں ایک آگ دکھائی دی
29:55وہ آگ لینے گئے تو وہاں سے آواز آئی
29:59اے موسیٰ میں ہی اللہ ہوں
30:03سارے جہانوں کا رب
30:05یہ وہ مقام تھا جہاں ایک چرواہے کو
30:08کلیم اللہ اللہ سے بات کرنے والا کا خطاب ملا
30:12اور ان کی دعا پر ان کے بھائی حضرت حارون علیہ السلام کو
30:17ان کا مددگار اور نبی بنا دیا گیا
30:21اب مقابلہ شروع ہوا
30:22دو فقیر بغیر کسی فوج دنیا کے سب سے بڑے سپر پاور فیرون کے دربار میں جا کھڑے ہوئے
30:28انہوں نے کہا بنی اسرائیل کو چھوڑ دے
30:32فیرون نے قہقہ لگایا
30:34میں تمہارا ربِ آلیہ ہوں
30:35یہ جادو ہے جو تم لائے ہو
30:37فیصلہ یہ ہوا کہ مقابلے کا دن رکھا جائے
30:40وہ تاریخ کا سب سے بڑا دن تھا
30:43ایک طرف مصر کے ستر ہزار ماہر جادوگر
30:48اور دوسری طرف تنہا موسیٰ
30:52جادوگروں نے اپنی رسیاں پھینکی
30:55تو وہ دیکھنے والوں کو سامپ محسوس ہونے لگے
30:58پوری آبادی دہشت زدہ ہو گئی
31:01تب اللہ نے فرمایا
31:02اے موسیٰ
31:04خوف نہ کر
31:06اپنی لاتھی پھینک
31:08جیسے ہی لاتھی زمین پر گری
31:10وہ ایک بہت بڑا اردھا بن گئی
31:13اور جادوگروں کے سارے سامپوں کو نگل گئی
31:16جادوگر بھی جو فن کے ماہر تھے
31:19فوراں پمچ گئے
31:21کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا
31:24وہ وہیں سجدے میں گر گئے
31:26اور پکار اٹھے
31:27ہم موسیٰ اور حارون کے رب پر ایمان لائے
31:32فیرون چیخہ
31:33میں تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا
31:36تمہیں سولی چڑھا دوں گا
31:38فیرون کا غصہ آسمان کو چھونے لگا
31:42اللہ کا حکم آیا
31:45کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جاؤ
31:49موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر نکلے
31:53سامنے بحر اہمر
31:55ریڈ سیہن کا گہرہ سمندر تھا
31:57اور پیچھے فیرون کا لشکر
31:59موت دونوں طرف رقص کر رہی تھی
32:01انہوں نے لاتھی سمندر پر ماری
32:03پانی پھٹ گیا
32:04سمندر کے بیچ میں خوشک راستہ بن گیا
32:07بنی اسرائیل گزر گئے
32:09اور جب فیرون اپنے تکبر کے ساتھ بیچ سمندر میں پہچا
32:14تو اللہ نے پانی کو ملنے کا حکم دے دیا
32:17وہ غرق ہو گیا
32:19اس کے بعد بنی اسرائیل کو سہرہ میں منو سلوی ملا
32:22تر ملی
32:24لیکن ان کی ہٹ دھرمی ختم نہ ہوئی
32:27حضرت موسی کی غیر موجودگی میں انہوں نے بچڑے کو پوجھنا شروع کر دیا
32:31حضرت حارون نے انہیں بہت روکا
32:33مگر وہ باز نہ آئے
32:35یہ حضرت موسیعی اور حارون کی زندگی
32:38مسلسل جدو جہد اور سبر کی داستان ہے
32:41انہی کے دور کے قریب ایک اور نبی کا ذکر قرآن میں بہت مختصر مگر اعزاز کے ساتھ آیا ہے
32:48حضرت ذلکفل علیہ السلام
32:51ان کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتے
32:53لیکن اللہ نے انہیں قرآن میں سابرین
32:56سبر کرنے والوں
32:57روایت کے مطابق
32:58یہ ایک ایسے نیک بندے تھے
33:00جنہوں نے نبی ہونے کے باوزود
33:02اپنی قوم کی ذمہ داریاں نبھائیں
33:04کی فہرست میں شمار کیا ہے
33:06دن کو روزہ رکھتے اور رات کو قیام کرتے
33:09اور کبھی غصہ نہ کرتے
33:11انہوں نے جو وعدہ کفلان لیا
33:13اسے پورا کر دکھایا
33:14موسیقا
33:16موسیقا

Recommended