Hazrat Hood (A.S) Aur Qaum-e-Aad Ka Mukamil Qissa | Aandhi Ka Azaab | Islamic History
Hazrat Hood (A.S) Allah ke azeem Nabi thay jinhein Qaum-e-Aad ki taraf bheja gaya. Qaum-e-Aad apni taqat, buland imaraton aur ghoroor ki wajah se mashhoor thi, lekin jab unhon ne shirk aur na-farmani chhorne se inkaar kiya to Allah ke azaab ka samna karna pada.
Hazrat Hood (A.S) ne apni qaum ko Tauheed aur seedhi raah ki daawat di, magar jab unhon ne inkaar kiya to Allah ne sakht aur thandi aandhi bhej di jo kai din aur raat chalti rahi aur na-farmaan qaum ko tabaah kar gayi.
Is video mein aap jaanenge:
Hazrat Hood (A.S) ka paighaam
Qaum-e-Aad ka ghoroor aur na-farmani
Sakht aandhi ka azaab
Is qissay se milnay wali aham naseehat
Yeh qissa humein sikhata hai ke taqat aur dolat bina imaan ke kisi kaam ki nahi.
🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro
#HazratHood #HoodAS #QaumEAad #IslamicStories #AnbiyaQissay #IslamicHistory #Azaab #QadirKalhoro
Hazrat Hood (A.S) Allah ke azeem Nabi thay jinhein Qaum-e-Aad ki taraf bheja gaya. Qaum-e-Aad apni taqat, buland imaraton aur ghoroor ki wajah se mashhoor thi, lekin jab unhon ne shirk aur na-farmani chhorne se inkaar kiya to Allah ke azaab ka samna karna pada.
Hazrat Hood (A.S) ne apni qaum ko Tauheed aur seedhi raah ki daawat di, magar jab unhon ne inkaar kiya to Allah ne sakht aur thandi aandhi bhej di jo kai din aur raat chalti rahi aur na-farmaan qaum ko tabaah kar gayi.
Is video mein aap jaanenge:
Hazrat Hood (A.S) ka paighaam
Qaum-e-Aad ka ghoroor aur na-farmani
Sakht aandhi ka azaab
Is qissay se milnay wali aham naseehat
Yeh qissa humein sikhata hai ke taqat aur dolat bina imaan ke kisi kaam ki nahi.
🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro
#HazratHood #HoodAS #QaumEAad #IslamicStories #AnbiyaQissay #IslamicHistory #Azaab #QadirKalhoro
Category
📚
LearningTranscript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین اگرامی
00:05ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے
00:08ہماری دعا ہے کہ
00:09اللہ پاک آپ کو صدا آفیت کے سائے میں رکھے
00:12زندگی میں کبھی بھی
00:14کوئی غم کوئی پریشانی
00:15آپ کو لا حق نہ ہو
00:17اللہ تعالی آپ تمام بھائیوں اور میری
00:19مخترم بہنوں کے رزق حلال میں
00:22برکت نصیب فرمائے آمین
00:24دوستو آج کی اس ویڈیو میں
00:25ہم حضرت حود علیہ السلام کا
00:27قصہ بیان کریں گے تاہم آپ سے یہ
00:30گزارش ہے کہ ویڈیو کو آخر
00:31تک ضرور دیکھئے گا اور
00:33کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے
00:35ضرور دیجے گا ناظرین اگرامی
00:37یہ بات نہایت ہی لائق
00:39توجہ ہے کہ قرآن مجید
00:41کے سوا کسی بھی آسمانی کتاب
00:44جیسے تورات وغیرہ نے
00:45اس قوم کا ذکر نہیں کیا
00:47اور نہ قطب تاریخ میں ان کے
00:49بارے میں کوئی مستند باتیں
00:51مذکور ہیں جن کو مدار تحقیق
00:53ٹھہرایا جا سکے یہ صرف قرآن
00:56کریم کی خصوصیت ہے کہ اس نے
00:58قوم آت کی بستیوں ان کے
01:00حالات ڈیل ڈول قوت
01:02و طاقت ان کی خوشحالی
01:04اور عرفال حالی کفر
01:06و عسیان پر ڈٹے رہنے
01:07بد پرستی پر جمنے زمین
01:10میں ادھم مچانے سرکشی
01:12کرنے اور فساد پھیلانے
01:14کو نہایت تفصیل اور
01:15شرح کے ساتھ بیان کرتے ہوئے
01:17بتایا ہے کہ حضرت حود علیہ السلام
01:20نے جب انہیں بتوں کی عبادت
01:22پر اوندھے موں گرتے دیکھا
01:24تو انہیں راہ راست پر لانے
01:26اور ان کے بگڑے عقیدوں
01:28کو سوارنے کے لئے کس قدر
01:30کوششیں کی اور ان کے جواب
01:32میں اس سرکش اور بدبخت
01:34قوم نے کیسے زد
01:35ہٹ دھرمی اور قفر و انات
01:38کا ثبوت دیا بلکہ
01:39الٹا حضرت حود علیہ السلام کا
01:41مزاق اڑایا جس کی پاداش
01:43میں بلاخر وہ ہلاک کر دیے گئے
01:46اور ان کا نام و نشان تک
01:47مٹا دیا گیا اور اب فقط
01:49تو ان کی داستانیں ہی سننے والوں
01:52اور عبرت پکڑنے والوں
01:53کے لئے باقی رہ گئی ہیں
01:55ایک روایت کے مطابق آدھ دراصل
01:57اس قدیم ترین قبیلے کے
01:59مورث عالی کا نام ہے
02:01مشہور تو یہی ہے کہ یہ لفظ عربی
02:03ہے مگر مشہور نحوی
02:05سبویا اس کو عجمی قرار
02:07دیتا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں
02:09کہ سب سے پہلے جس نے عربی میں
02:11گفتگو کی تھی اس کا نام
02:13یا عرب ہے حضرت ابن عباس
02:15رضی اللہ تعالی عنہو سے منقول
02:17ہے کہ سب سے پہلے حود علیہ السلام
02:20نے عربی زبان بولی تھی
02:21جبکہ ایک قول یہ بھی ہے
02:23کہ عربوں کو عرب اس لئے کہتے ہیں
02:25کیونکہ یہ فرات کے
02:27غربی کنارے پر آباد تھے
02:29اور یہ سہرہ نشین آرامی قومیں
02:32تھیں اور ان پر عربوں کا
02:33اطلاق یوں ہونے لگا کہ لفظ
02:35غرب کی غین کو عین
02:37پڑھا جانے لگا یوں فرات
02:39کے غرب میں آباد یہ قوم
02:41عرب کہلانے لگیں
02:43اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ قبیلہ
02:46عاد جو عمالقہ میں سے
02:48تھے لیکن یہ تورات کا بیان
02:49ہے جو غلط ہے انہی پر
02:51عربوں کا اطلاق ہوتا ہے غرص
02:54جب ہم ان دونوں اقوال
02:55کو درست فرض کر لیتے ہیں تو
02:57ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرات کے
02:59غربی کنارے پر آباد آرامی
03:02قوم جو غرب سے
03:03عرب مشہور ہو گئے تھے یہی
03:05عرب ہی قوم عاد تھے
03:07جو آرامی یا سامی
03:09قوم تھے انہی ہی قرآن
03:11مجید نے آد اولہ کہا
03:13ہے اور یہی ام بائدہ
03:15یعنی ہلاک ہونے والی قومیں
03:17یا عرب آربہ یعنی
03:19خالص عرب ہیں جنہیں یورپ کے
03:21مستشرقین ام ام سامیہ
03:24کہتے ہیں ناظرین سیدنا
03:25حود علیہ السلام قبیلہ آج سے
03:27تعلق رکھتے تھے یہ ایک عربی
03:29قبیلہ تھا جن کی رہائش امان
03:32اور حضر موت کے درمیان
03:34ریت کے ٹیلوں والے علاقے
03:36احقاف میں تھی یہ علاقہ
03:38سمندر کے کنارے پر واقع تھا
03:39یہ لوگ زیادہ تر لمبے لمبے
03:43تھے اللہ تعالی نے انہیں مضبوط
03:45اور قوی اجسام سے نوازا تھا
03:48سخت اور بلند و بالا
03:49پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت
03:51محلات تعمیر کرنے میں
03:53ان کا کوئی سانی نہیں تھا
03:55ان کی زمینیں سرسبز و شاداب
03:58اور ہر قسم کے باغات سے
03:59آراستہ تھیں ان کے اکثر قبائل
04:02امان سے حضر موت
04:03اور یمن تک پھیلے ہوئے تھے
04:05ان کا مسکن یمن تھا
04:07جبکہ ان کی اکثر آبادی حضر موت
04:09اور یمن کے سواحل کے
04:11آس پاس آباد تھی
04:13طوفان نوح کے بعد سب سے پہلے
04:15قوم عاد نے بت پرستی اختیار
04:18کی تھی چنانچہ اللہ تعالی نے
04:19ان کے بھائی حود علیہ السلام کو
04:21نبی بنا کر مبعوث فرمایا
04:23انہوں نے اپنی قوم کو
04:25اللہ کی طرف بلایا انہیں دعوت
04:28حق دی اللہ تعالی نے
04:29سورہ عراف میں سیدنا حود
04:31علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا
04:34ہے اور عاد کی طرف ان کے
04:36بھائی حود کو بھیجا اس نے
04:38کہا اے میری قوم
04:39اللہ کی عبادت کرو اس کے
04:41سوا تمہارا کوئی معبود نہیں
04:43تو کیا تم نہیں ڈرتے
04:45اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے
04:47جنہوں نے کفر کیا
04:49کہا بے شک ہم یقیناً تجھے
04:51ایک طرح کی بےوقوفی میں
04:53مبتلا دیکھ رہے ہیں
04:54اور بے شک ہم یقیناً
04:56تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں
04:58اس نے کہا اے میری قوم
04:59مجھ میں کوئی بےوقوفی نہیں
05:01لیکن میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے
05:04ایک رسول ہوں
05:05میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں
05:08اور میں تمہارے لئے ایک امانتدار خیر خواہ ہوں
05:12اور کیا تم نے عجیب سمجھا
05:13کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے
05:16تم میں سے ایک آدمی پر ایک نصیحت آئی
05:19تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو
05:22جب اس نے تمہیں نوح کی قوم کے بعد جانشین بنایا
05:26اور تمہیں قد و قامت میں زیادہ پھیلاؤ دیا
05:29سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو
05:31تاکہ تم فلاح پاؤ
05:33انہوں نے کہا
05:34کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے
05:36کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں
05:39اور انہیں چھوڑ دیں
05:40جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے
05:43تو جس کی دھمکی تو ہمیں دیتا ہے
05:45وہ ہم پر لے آ
05:46اگر تو سچوں میں سے ہے
05:48اس نے کہا
05:49یقیناً تم پر تمہارے رب کی طرف سے
05:51ایک عذاب اور غزب آ پڑا ہے
05:54کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو
05:57جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں
06:01جن کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی
06:04تو انتظار کرو
06:05بے شک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں
06:09تو ہم نے اسے اور ان لوگوں کو
06:12جو اس کے ساتھ تھے
06:13اپنی رحمت سے نجات دی
06:15اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی
06:17جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا
06:20اور وہ ایمان والے نہ تھے
06:21ناظرین ان آیات میں
06:23حود علیہ السلام اور ان کی قوم عاد کا قصہ بیان کیا گیا ہے
06:27یہ لوگ عاد بن عرم بن عوس بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے
06:32زبردست جسمانی قوت کے یہ مالک تھے
06:35بتوں کی پوجا کرتے تھے
06:37حود علیہ السلام اسی قوم کے ایک شریف خاندان میں سے تھے
06:41جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا تھا
06:45لیکن جس طرح وہ لوگ جسمانی طور پر بڑے سخت تھے
06:49اسی طرح سے ان کے دل بھی بہت سخت تھے
06:51انہوں نے حود علیہ السلام کو احمق اور بے وقوف قرار دیا
06:55نوز باللہ ہے
06:56اور جھوٹا بھی بتایا
06:57اور ہزار کوششوں کے باوجود راہ راست پر نہ آئے
07:01تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا
07:03قرآن کریم میں کئی جگہ پر یہ بتایا گیا ہے
07:06کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کیا تھا
07:09جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی تھی
07:13وہ آندھی اس قدر تیز تھی
07:15کہ جس چیز پر سے گزرتی
07:17اسے چورا کر ڈالتی
07:19حتیٰ کہ اس نے انہیں پٹخ پٹخ کر ہلاک کر ڈالا
07:22ان کی لاشیں اس طرح سے دکھائی دیتی تھی
07:24جیسے کھجور کے کھوکلے تنے ہیں
07:27ناظرین قوم نوح جس طرح پانچ بتوں کی عبادت کرتی تھی
07:31اسی طرح قوم آدھ بھی خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر
07:35بتوں کی عبادت میں لگ گئی تھی
07:37اور بقول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہو
07:41کہ ان بتوں کے نام سمود اور ہتار تھے
07:45رب تعالیٰ نے حضرت حود علیہ السلام کو
07:48قوم آدھ کی ہدایت کے لئے مبعوس فرمایا
07:50جو ان کی سب سے معزز اور سردار شاخ خلود میں سے تھے
07:55آپ سرخ اور سفید رنگ کے بڑے خوبصورت اور وجیہ انسان تھے
08:00انہی جیسا ڈیل ڈول تھا اور داڑھی لمبی تھی
08:04آپ نے قوم کے لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا
08:07توحید اختیار کرنے کا حکم دیا
08:10سمجھایا کہ لوگوں پر ستم ڈھانے کا سلسلہ بند کر دو
08:13مگر ان لوگوں نے یہ کہہ کر ان باتوں کے ماننے سے انکار کر دیا
08:17کہ بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے اور طاقت کا یہی غرور انہیں لے ڈوبا
08:23کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے انہیں یہ ڈیل ڈول عطا کیا تھا
08:27اور وہ اسی کے منکر ہو کر
08:29اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کی عبادت میں مشغول ہو کر
08:33انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے تھے
08:36جو ان کی تباہی کا آخرکار سبب بنا
08:39حضرت حود علیہ السلام نے قوم آدھ کی عذیتوں پر صبر کیا
08:43اور انہیں بتایا کہ میں کوئی بے وقوف نہیں بلکہ میں تو تمہارے لئے امانتدار اور خیر خواہ ہوں
08:50دین خیر خواہی کا نام ہے
08:52صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
08:58کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:02کہ دین خیر خواہی کرنے کا نام ہے
09:05ہم نے پوچھا کس کی خیر خواہی
09:06تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:09اللہ کی اس کے کتاب کی اس کے رسول کی
09:13مسلمانوں کے حکمرانوں کی اور عام انسانوں کی
09:17حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
09:21کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز قائم کرنے
09:26زقوات ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی
09:31اور ان روایات سے پتا چلتا ہے کہ ہر مومن کو خیر خواہ ہونا چاہیے
09:37ناظرین طوفان نوح کے بعد ان کے تینوں بیٹوں سے نسل انسانی بڑھی اور پھلی پھولی
09:42جس کا ذکر ہم نے گزشتہ ویڈیو میں کیا تھا
09:45حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا سام تھا
09:48جس کے معنی بلند مرتبہ آدمی کے ہیں
09:51آج بھی جب نسل انسانی کی بات ہوتی ہے
09:54تو ایران کی مغربی سرحد سے بہیرہ روم کے ساحل تک
09:58اور بہیرہ اسود سے بہیرہ عرب تک جو قوم آباد ہیں
10:02انہیں سامیل نسل کہا جاتا ہے
10:05حضرت نوح علیہ السلام کے دوسرے بیٹے کا نام حام تھا
10:08جس کے معنی سیاہ فام کے ہیں
10:11اور یہ نسل شمالی افریقہ میں پائے جاتی ہے
10:14یہ سامل نسل کے لوگ ترقی کر کے دور دور تک پہنچ گئے
10:19لیکن ہم جس دور کی تاریخ بیان کر رہے ہیں
10:22ان کا پچیس سو سال قبل مسیح
10:25اور چوبیس سو قبل مسیح کے درمیانی ادوار سے تعلق ہے
10:29ان کا خاص علاقہ یمن اور امان کے درمیان واقع تھا
10:33آج اس درمیانی علاقے کو ال احقاف کہتے ہیں
10:36جس کے معنی ہے ریگستان
10:38چونکہ اب یہ حصہ ویران پڑا ہے
10:40اور یہاں بعد سرسر اور بعد سموم کے توفان اٹھتے رہتے ہیں
10:45اس لیے یہاں کسی بستی
10:47یا کسی آبادی کا کوئی وجود تک نہیں تھا
10:50اور لوگ اس کو ربہ خالی بھی کہتے ہیں
10:53لیکن اس ربہ خالی پر ایک طاقتور قوم حکومت کرتی تھی
10:57جو آد کہلاتی تھی
10:59آد کا سلسلہ نسل پانچویں نسل میں
11:01حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام سے جا ملتا ہے
11:05یہ نہایت طاقتور انسان تھے
11:07فارغ البالی کا دور دورہ تھا
11:10علاقے میں خوشحالی تھی
11:11بے فکری کے باعث آس پاس کی قوموں کے مقابلے میں
11:15ان میں تکبر پیدا ہو گیا تھا
11:17بتوں کی پوجا کرنے والے یہ انسان
11:19کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے
11:21یہ چلتے تھے تو اکڑ کر
11:23اور باتیں کرتے تھے تو گردن ترشی کر کے
11:26ان کی امارتیں شاندار ستونوں پر کھڑی ہوتی تھیں
11:30اور انہیں جو بھی دیکھتا
11:31حیران ہو کر رہ جاتا تھا
11:33بہر عرب اور بہر احمر کے درمیان
11:36عرب کے جنوب اور شمال میں
11:38دونوں جانب
11:39یعنی امان اور حضر موت
11:42بہرین اور مغربی یمن تک
11:43ایک وسیع سہرہ ہے
11:45جسے سہرہ الاحقاف کے نام سے
11:48یاد کیا جاتا ہے
11:49نیز اسے سہرہ آزم الدنیا
11:52اور الربی الخالی بھی کہتے ہیں
11:54اہل احقاف حقف کی جمع ہیں
11:57جس کے لغوی معنی ہیں
11:59ریت کے بلند و بالا
12:01اور وسیع عریض ٹیلے کے
12:03اس لقو دق بیابان سہرہ میں
12:05سفر کرنا تو دور کی بات ہے
12:07اس کے اندر قدم رکھنا
12:09بھی تصور نہیں کیا جا سکتا
12:11کہ موت کی اس وحشتناک
12:13وادی کی جانب رخ کرنا
12:15خودکشی کے مترادف ہے
12:17یہی وجہ ہے کہ مقامی بدوں سے لے کر
12:20مہمجو سیاہوں تک
12:22کوئی اس سہرہ کے قریب جانا بھی پسند نہیں کرتا
12:25سفید اور باریک ریت کے
12:27ہزاروں فٹ اونچے پہاڑوں میں
12:30اگر کوئی شے پھینکی جائے
12:31تو وہ لمحوں میں غرق ہو جاتی ہے
12:34اور ریت کی ستہ پر جنبش تک نہیں آتی
12:36یہ سہرہ اللہ بزرگو برتر کی
12:39کھلی نشانیوں میں سے ہے
12:41اور اہل دنیا کے لیے جائے عبرت
12:44اہل احقاف نامی اس بھیانک وادی کو دیکھ کر
12:47یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا
12:49کہ یہ کسی زمانے میں دنیا کا
12:51سب سے زیادہ سرسبز اور شادہ بلاقہ تھا
12:54جہاں بے شمار پھلوں اور پھولوں کے وسیع باغات
12:57تھنڈے پانی کے چشمیں
12:59آپشاریں اور بلندو بالا امارتیں تھیں
13:02جس میں دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور
13:05مالدار اور شاندار تمدن رکھنے والی قوم
13:08قوم آد آباد تھی
13:10یہ دنیا کے سب سے زیادہ قداور تھے
13:13اور زوراور انسان تھے
13:15اتنے طاقتور لوگ اللہ نے پھر پیدا نہیں کیے
13:18جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کی
13:20سورة الفجر میں ارشاد فرمایا
13:22ان جیسی کوئی قوم اور ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی
13:26حضر موت اور نجران کے درمیانی علاقے
13:29الاحقاف میں قوم آد کے جسے قوم عرم بھی کہا جاتا ہے
13:34تیرہ قبائل آباد تھے
13:36قوم آد کے الاحقاف میں رہنے سے
13:39متعلق قرآن کریم میں
13:40اللہ تعالی نے فرمایا
13:42حود علیہ السلام کو یاد کرو
13:44جبکہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرائیا
13:47علامہ جلال الدین سیوتی
13:49اپنی تفسیر در منشور میں تحریر فرماتے ہیں
13:53کہ قوم آد نہایت زوراور اور بہادر قوم تھی
13:57یہ بدپرست تھے
13:58ان کے دو بتوں کے نام حمود اور حب بیان کیے گئے ہیں
14:02ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں
14:05تیسرے بت کا نام سمد بیان کیا ہے
14:07اس قوم کی طرف حضرت حود علیہ السلام مبعوس کیے گئے تھے
14:11آپ کا سلسلہ نسب حود بن شالخ بن عرف شد
14:15بن سام بن نوح علیہ السلام بتایا جاتا ہے
14:18ایک دوسرے قول کے مطابق حود علیہ السلام کا نام عابر ہے
14:22جو شالخ کے بیٹے تھے اور وہ عرف شد کے بیٹے تھے
14:26جو سام بن نوح کے بیٹے تھے
14:29کہتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت حود علیہ السلام نے عربی زبان میں کلام فرمایا
14:34البتہ وحب بن منبع رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
14:37کہ حود علیہ السلام کے والد سب سے پہلے عربی بولنے والے تھے
14:41بعض حضرات نے نوح علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کا نام بھی لیا ہے
14:47ناظرین حضرت حود علیہ السلام نے قوم کو خدا کی پکڑ سے ڈرائیا
14:51ان کے سامنے نوح علیہ السلام کی قوم کے انجام کی مثالیں پیش کی
14:56انہیں یاد دلایا کہ خدا نے ان پر کس طرح سے نامات رکھے ہیں
15:00بڑے بڑے جسم دیئے ہیں
15:02قوم نوح کے بعد انہیں زمین کا سردار بنایا ہے
15:05زمین میں انہیں بسایا ہے
15:07زمین ان کے لئے اپنے خزانے اگلتی ہے
15:10جس کے غلوں میووں اور کھیتوں سے یہ اور ان کے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں
15:15اور آسمان ان پر اپنی خیر برساتا ہے
15:18انہیں اپنی عقلوں سے کام لینا چاہیے
15:21تاکہ ان پر یہ حقیقت آشکار ہو
15:23کہ جن بتوں کی یہ پوجہ کرتے ہیں
15:25وہ کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے
15:28اور نفع اور نقصان کی مالک صرف خدا تعالیٰ کی ذات اقدس ہے
15:33جس نے انہیں ترہ ترہ کی مختلف نعمتوں سے نواز رکھا ہے
15:38اسی نے انہیں پیدا کیا
15:40ان کی موت کا مالک بھی وہی ہے
15:42اس لئے اس سے ڈرنا چاہیے
15:43اور اس کی طرف تائب ہونا چاہیے
15:46اور انہیں اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے
15:49وہ ان پر مصلہ دھار بارشیں برسائے گا
15:52جو نفع رساں ہوں گی
15:53نہ کہ ضرر رساں اور انہیں اور زیادہ عزت اور طاقت عطا فرمائے گا
15:59آپ نے یہ کہا
16:00کہ اس خیر خواہی کا میں تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا
16:03اور نہ کسی سرداری کا خواہ ہوں
16:05میرا عجر تو خدا کے ذمہ ہے
16:07اور جو ایسا ہو
16:08اس پر کوئی الزام نہیں رکھا جا سکتا
16:11کیونکہ وہ خیر و نصیت کا یہ کام
16:13اپنے کسی ذاتی نفع کے لئے نہیں کرتا
16:16قوم عاد نے حضرت خود علیہ السلام کے اس پیغام کو ماننے سے
16:19اور اپنی خواہشات سے دستبردار ہونے سے
16:23صاف صاف انکار کر دیا
16:24اگرچہ ان میں کچھ نیک دل لوگ بھی تھے
16:27مگر قوم میں بدبختوں کی اکثریت نے
16:30انہیں بھی حق پر رہنے نہ دیا
16:31پھر سب نے مل کر حضرت خود علیہ السلام کو نادان کہا
16:35جھٹلایا اور آپ علیہ السلام کی صداقت پر قائم ناقابل انکار دلائل
16:41اور براہن سے آنکھیں پھیر لیں
16:43اور صاف کہہ دیا کہ
16:44حود نہ تو آپ ہمارے پاس پکی دلیلیں لائے ہیں
16:48اور نہ ہم آپ کے کہنے پر ان کی پرستش کو چھوڑنے والے ہیں
16:53نہ ہم آپ کو خدا کا فرستاد آز سمجھتے ہیں
16:56اور نہ یہ بات ماننے کو تیار ہیں
16:58کہ جن عبادتوں سے آپ ہمیں منع کرتے ہیں
17:02وہ خدا کے ہماری سفارش نہ کریں گے
17:04بلکہ الٹا آپ کو نادان اور بتوں کی عبادت سے روکنے
17:08اور صرف ایک اکیل اللہ کو مستحق عبادت ٹھہرانے کی بنا پر
17:13راہ حق سے برگشتہ قرار دیا
17:16کیونکہ یہ سب باتیں انہیں اپنے آبا و اجداد سے ملنے والی تعلیمات کے خلاف تھیں
17:21لہذا یہ اپنے جسمانی قد و قامت اور طاقت کی بنا پر
17:25شرک جیسی ناقابل معافی بیماری میں مفتلا ہو گئے
17:29جو ان کی ہلاکت کا سبب بن گئی
17:31اللہ تعالی نے قرآن کریم کے مختلف مقامات پر قوم آدھ پر نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ فرمایا
17:38تاکہ کفر و شرک اور غرور و تکبر میں مفتلا لوگوں کو تنبیح ہو سکے
17:43اس کے علاوہ قرآن کریم کی ایک سورت کا نام حضرت حود علیہ السلام کے نام پر سورت حود ہے
17:50قرآن پاک کے گیارویں پارے میں یہ سورت مبارکہ موجود ہے
17:54ایک سو تئیس آیات اور دس رکوات پر یہ مشتمل ہے
17:58سورت حود مکی ہے اس دور میں نازل ہوئی
18:01کہ جب کفار مکہ کا ظلم و ستم اپنے عروج پر تھا
18:05چنانچہ سورت حود میں ان پچھلی قوموں کا تذکرہ ہے
18:08جو اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی تقذیب کر کے
18:13قہرِ الہی کا نشانہ بنی
18:15اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے عبرت کا نمونا بن گئی
18:20سورت حود میں ساتھ پیغمبروں کے قصص و واقعات درج ہیں
18:24لیکن اس سورت کو حضرت حود علیہ السلام کے نام سے منصوب کرنے سے معلوم ہوتا ہے
18:28کہ حضرت حود علیہ السلام کے قصے اور قوم آدھ پر نازل ہونے والے عذاب کو خاص اہمیت حاصل ہے
18:36حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کے کچھ بال سفید ہو گئے
18:43تو صحابہ نے ارز کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بوڑے ہو گئے
18:49تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے سورت حود نے بوڑھا کر دیا
18:55بعض روایات میں سورت حود کے ساتھ سورت واقعہ مرسلات اور سورت تکویر کا بھی ذکر ہے
19:01طوفان نوع کے بعد قوم آدھ بھی وہ قوم تھی جو سب سے پہلے کفر و شرک میں مبتلا ہو کر بتوں کی پوجاری بن گئی تھی
19:09انہیں اپنے پتھروں کے خداوں پر بڑا گھمنڈ تھا ان کی معاشی حالت تو بہت امدہ تھی
19:14لیکن جہالت گمراہی جھوٹ بے حیائی باطل اقوال اور فاسد خیالات نے انہیں معاشرتی طور پر تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا تھا
19:23چنانچہ کفر و شرک کے سمندر میں غرق قوم آدھ کی بد آمالیاں جب اپنی آخری حدود پار کر گئیں
19:31تو اللہ تعالی نے انہی میں سے اپنے ایک نیک بندے حضرت حود علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر مبعوز فرمایا
19:39حضرت حود علیہ السلام ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو وائز و نصیت کرتے رہے
19:44کبھی وہ انہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتیں یاد دلاتے کبھی عذابِ الہی سے ڈراتے لیکن وہ بہرے اور اندھے بنے رہے
19:53تاریخی کتب میں ہے کہ حضرت حود علیہ السلام مسلسل پچاس برس یا اس سے بھی زیادہ درس و تدریس نصیحت میں مصروف رہے
20:03قوم آدھ کے تیرہ قبائل میں سے لقمان اور خلجان نامی قبائل نہایت ہی طاقتور ترین تھے اور انہیں حکمرانی کی حیثیت حاصل تھی
20:13حضرت حود علیہ السلام نے جب دعوت حق دی اور کفر و شرک چھوڑ کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا
20:20تو لقمان قبیلے نے سخت مضامت کی اور حضرت حود علیہ السلام کے دشمن ہو گئے
20:26اس کے برعکس دوسرے قبیلے خلجان نے حضرت حود علیہ السلام کی باتوں پر غور و خوز کیا
20:32اور ان میں سے اکثر جلد ہی آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کر کے ایمان لے آئے
20:38حضرت حود علیہ السلام نے اپنی قوم کو راہِ حق پر گامزن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی
20:43مگر قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا
20:47بلاخر انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں مدد کے لیے دست دعا دراز کیے
20:52جسے قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے
20:54نبی نے دعا کی
20:55اے میرے پروردگار انہوں نے مجھے جھوٹا کہا ہے
20:59پر تو میری مدد فرما
21:00اللہ نے اپنے نبی کی فریاد کے جواب میں فرمایا
21:04اے نبی یہ بہت جلد اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے
21:07اللہ تعالی نے اپنے نبی علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور قوم عاد پر عذاب کی ابتدا ہو گئی
21:14بادلوں کے فرشتے کو حکم دیا گیا کہ اب بارش نہ برسائی جائے
21:18چشموں کے فرشتے کو حکم دیا گیا کہ ان کے تھنڈے میٹھے اور شفاف پانی سے لبریز چشموں اور آفشاروں کو خوشک کر دو
21:27چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے سر سبز اور شاداب کھیت و کھلیان سوکھنے لگے
21:33مویشی مرنے لگے یہاں تک کہ لوگ پینے کے پانی تک کو ترسنے لگے
21:38کثیر تعداد میں پیدا ہونے والے پھل اور اناج ناپید ہو گئے
21:43پوری قوم خوشک سالی کا شکار ہو کر بدحال اور پریشان ہو گئی
21:48یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا حضرت خود علیہ السلام سے اپنی قوم کی یہ پریشانی دیکھی نہ جاتی تھی
21:56آپ علیہ السلام بہت افسردہ اور بہت ہی پریشان رہتے تھے
22:00اور پھر ایک دن انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم کے لوگو
22:04تم اپنے پالنے والے سے بخشش مانگو اس کے آگے توبہ استخفار کرو
22:09وہ تم پر آسمان سے مصلہ دھار میں برسائے گا اور تمہاری طاقت و قوت میں اضافہ فرمائے گا
22:16اور دیکھو گناہگار بن کر روگردانی نہ کرو
22:19قرآن کریم اور حدیث مبارکہ میں توبہ استخفار کے بڑے فوائد بیان فرمائے گئے ہیں
22:25ابن ماجہ اور ابو دعود میں حدیث مبارکہ ہے کہ جو پابندی سے استخفار کرتا ہے
22:31اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر فکر سے کشادگی ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے
22:36اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی
22:41بہرحال حضرت حود علیہ السلام کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اس قوم پر کوئی اثر نہ ہوا
22:47بلکہ نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنے لگے
22:51کہ ہم محض تیرے کہنے پر اپنے آبا وجداد کے اور اپنے ان معبودوں کو کیوں چھوڑ دیں
22:56قوم آدھ پر ہوا کا عذاب بھیجا گیا
22:59اور ہوا کا عذاب بھیجنے کے لئے ہوا کے خزانوں کا صرف اتنی مقدار میں موں کھولا گیا
23:05جتنا کہ انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے
23:08یعنی صرف اتنی مقدار کہ کھلنے پر خجور سے لمبے قد والے اور انتہائی طاقتور لوگوں کو تنکے کی طرح بنا دیا
23:18اور وہ خصوخاشاک کی طرح ہوا کے بہاؤ پر ادھر ادھر اڑنے لکے
23:23اور تباہ و برباد ہو گئے
23:25اس قوم پر نہایت تیز و تند ہوا بھیجی گئی
23:29جو سات دن اور سات راتوں تک مسلسلوں نے تباہ و برباد کرتی رہی
23:34اس تیز ہوا نے ان طاقتور اور قوی ہے کل انسانوں کو ہلاک کر کے یوں پھینک دیا
23:39جیسے درختوں کے دنیں کٹے پڑے ہوتے ہیں
23:42اور دنیا و آخرت کی لانت ان پر الگ سے بھیجی گئی
23:47جبکہ باری تعالی نے حضرت حود علیہ السلام اور آپ پر ایمان لانے والوں کو
23:51اس بدترین عذاب سے محفوظ و معمون رکھا
23:54یہ قوم آدھ تھی جو فنا کے گھاٹ اتر گئی
23:57یہی آدھ اولا کہلاتے ہیں
23:59اور آدھ ثانیہ جنہیں لوگ قوم سمود بھی کہتے ہیں
24:04یہ یمن کے باشندے تھے
24:06قہتان سبا کے قبیلے انہیں سمود کہتے ہیں
24:09قوم آدھ کو قرآن مجید میں قوم نوہ کے خلفہ میں شمار کیا گیا ہے
24:14حضرت حود علیہ السلام حود کی سب سے معزز شاہ خلوت کے ایک فرد تھے
24:20ناظرین عذاب الہی کے ابتدائی مراحل میں
24:23خوشک سالی نے قوم آدھ کی حالت ابتر کر دی تھی
24:27چنانچہ ان کے سرداروں اور دانشوروں نے اس سے نجات پانے کے لیے
24:31مختلف تدابیر اور غور خوض شروع کر دیا
24:34یہ بات بڑی حیران کن ہے
24:35کہ پچھلی قوموں کو جب کبھی کوئی مشکل آگھیرتی
24:39تو وہ اس سے نجات کے لیے حجاز مقدس کا سفر کرتے تھے
24:44اور بیت اللہ شریف میں جا کر
24:46اللہ کے آگے آہوزاری کرتے تھے
24:49یعنی کافر قومیں بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی تھیں
24:53کہ اس عرض و سماوات میں ایک لا فانی قوت موجود ہے
24:57لیکن اس کے باوجود جب نبی اور رسول یہ بات کہتے
25:01تو ان کی اقل پر پردہ پڑ جاتا تھا
25:04قوم آدھ کے سرداروں نے بھی یہی فیصلہ کیا
25:07کہ قوم کے سر کردہ افراد بیت اللہ شریف جا کر
25:11اندیکھے خدا کے سامنے فریاد کریں
25:14چنانچہ مختلف قبائل کے سرداروں اور دیگر اہم افراد پر مشتمل
25:19ستر افراد کا ایک وفد حجاز مقدس روانہ ہوا
25:23اس زمانے میں مکہ پر قوم عمالیق کی حکمرانی تھی
25:28جس کا سردار معاویہ بن بکر تھا
25:30اور معاویہ کی والدہ قوم آدھ سے تعلق رکھتی تھی
25:34ویسے بھی معاویہ بن بکر قوم آدھ کی شان و شوقت سے بڑا مرعوب تھا
25:39چنانچہ اس نے وفد کی بڑی خاطر مدارات کی اور اسے بڑی عزت اور احترام سے
25:45اپنے یہاں ٹھہرایا
25:47تبری کی روایت ہے کہ اس وفد میں دو افراد
25:50مرشد بن سعد اور لقمان بن لقیم
25:54یہ صاحب ایمان اور حضرت حود علیہ السلام کے پیروکار تھے
25:58غالباً ان کا تعلق قبیلہ خلجان سے ہوگا
26:02ان دونوں کے علاوہ باقی سب کافر اور بد پرست تھے
26:06معاویہ نے ان کے عزاز میں رقص و سرود کی محافل کا احتمام کیا
26:11اور تقریباً ایک مہینے تک یہ لوگ اپنے آنے کا مقصد فراموش کر کے
26:16عائش و عشرت اور شراب و شباب کی محافل میں مدھوش رہے
26:20جب ان کا قیام طویل ہو گیا تو معاویہ بن بکر کو ان کے واپس جانے کی فکر لاحق ہوئی
26:27کافی سوچ بچار کے بعد اس نے ناچنے گانے والیوں کے ذریعے چند اشعار کی صورت میں انہیں ان کے آنے کے مقصد کی یاد دہانی کروائی
26:36جس پر وفد کو ہوش آیا
26:38تاریخی کتب میں یہ لکھا ہے کہ اس موقع پر وفد میں شامل مرشد اور لقمان نے ایک بار پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی
26:47کہ جو کچھ حضرت حود علیہ السلام کہتے ہیں اس پر ایمان لے آؤ لیکن وہ نہ مانے
26:53پھر وفد بیت اللہ شریف گیا اور بارش کی دعائیں مانگنی شروع کر دی
26:57ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر تین رنگوں کے بادل بھیج دیے
27:04جن میں ایک سفید تھا دوسرا سیاہ تھا اور تیسرا تھا سرخ
27:08اس کے ساتھ ہی آسمانوں سے ندائے غیب آئی
27:11اپنے اور اپنی قوم کے لیے ان تینوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو
27:17چنانچہ وفد نے سوچ بیچار کے بعد سیاہ بادل کو اپنے لیے پسند کر لیا
27:22جس کے ساتھ ہی سرخ اور سفید ٹکڑے آسمان سے غائب ہو گئے
27:27اور عبر سیاہ آہستہ آہستہ آسمان پر چھانے لگا
27:32وہ لوگ اپنی دعا کی قبولیت پر بڑے خوش تھے اور سمجھتے تھے
27:36کہ اب خوش کسالی ختم ہو جائے گی
27:39چنانچہ پوری قوم نے خوشیاں منعنی شروع کر دی
27:42لیکن حضرت حود علیہ السلام سمجھ گئے تھے کہ یہ تو عذابِ الہی ہے
27:47لہذا انہوں نے ایک بار پھر اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
27:51اے میری قوم یہ اللہ کا عذاب ہے جو تم پر نازل ہوا چاہتا ہے
27:57پھر انہوں نے اللہ تعالی کا فرمان انہیں سنایا
28:00نہیں بلکہ دراصل یہ عبر وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے
28:06یہ ہوا کا توفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے
28:10جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز تباہ کر ڈالے گا
28:14حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے
28:19حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا
28:22یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:26لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہوگی
28:30لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر
28:33اس کے برعقص تشویش کے آثار نظر آتے ہیں
28:36آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آئشہ اس بات کی کیا زمانت ہے
28:42کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہوگا جبکہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہلاک کر دی گئی
28:48اس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا کہ یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا
28:54حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگتے
29:01اے اللہ میں تجھ سے اس کی خیر کا طالب ہوں اور جو اس میں ہے اس کی خیر کا
29:07اور جو تُو نے اس میں شر رکھا ہے تو اس سے اور اس کے شر سے میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں
29:14پھر حکم ہوا کہ اے حود جو ستر آدمی تجھ پر ایمان لائے ہیں ان کو اپنے ساتھ لے کر پہاڑ پر جا رہو
29:21تب حضرت حود علیہ السلام ان کو لے کر پہاڑ پر چلے گئے اور کہا کہ اے قوم اب تم کو ہوا ہلاک کرے گی
29:29اور تم پر غزبِ الہین قریب آئے گا وہ بولے کونسی ایسی ہوا ہے جو ہم پر غالب ہوگی
29:36تب اللہ تعالیٰ نے حود علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ اپنی قوم سے کہہ دو اے میری قوم
29:42اپنے گناہ بخشواؤ اپنے رب سے اور پھر اپنے کو رجوع کرو اس کی طرف تاکہ تم پر چھوڑ دے آسمان سے دھاریں
29:51اور زیادہ سے زیادہ تم کو دے اور پھر نہ جاؤ گناہگار ہو کر کافروں نے کہا ہم توبہ نہیں کریں گے
29:59اور نہ ہی تم کو اس کا رسول مانیں گے
30:01ناظرین وحب بن منبعہ نے روایت کی ہے کہ ساتھویں زمین پر ایک ہوا ہے اور اس کا نام ریح العقیم ہے
30:09اور ستر ہزار زنجیروں سے اس کو باندھ رکھا ہے اور ستر ہزار فرشتے اس پر محافظ ہیں اور موکل ہیں
30:17جب قیامت کا دن ہوگا وہ ہوا چھوڑ دی جائے گی اور وہ ہوا اتنی تیز ہوگی
30:22کہ پہاڑوں کو ریزہ عبرشم کے اڑا دے گی اور آسمان گر پڑے گا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے
30:29اور وہ روئی کی طرح اڑتا پھرے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
30:34پھر جب پھونکیں گے نرسنگے میں ایک پھونک اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ
30:41اور پہاڑ ٹکے جائیں ایک چوٹ اس دن ہو پڑے گی ہو پڑنے والی اور پھٹ جائے گا آسمان
30:48پھر اس دن وہ سست ہوگا پھر حکم ہوا اے فرشتو وہ ہوا قوم آدھ پر کچھ دیر کے لیے چھوڑ دو
30:56تب انہوں نے عرض کی کہ اے جببار عالم کس قدر چھوڑیں حکم ہوا گائے کی ناک کے نتھنے کے اندر سے چھوڑ دو
31:06انہوں نے عرض کی کہ یا اللہ اس مقدار سے تو سارا عالم ہی برباد ہو جائے گا
31:11تب حکم ہوا کہ سوئی کے ناکے کے سوراہ کے برابر چھوڑ دو
31:16حکم خدا کی تعمیل ہوئی تو وہ ہوا ماند عبر سیاہ کے پہاڑ کی طرف نکل کر آئی
31:23اس ہوا کو دیکھ کر قوم آدھ خوش ہوئی
31:26بولے یہ عبر ہے ہم پر ضرور برسے گا
31:30حضرت حود علیہ السلام نے کہا کوئی نہیں وہ یہی ہے جس کی تم لوگ تشابی کرتے تھے
31:36اور یہ وہ ہوا ہے جس میں دکھ کی مار ہے
31:39اور جب ہوا نکلی تو کافروں نے کہا
31:42اے حود تُو نے جو خوش خبری پہنچائی
31:45کہ جس سے ہم خنک تر ہوں گے
31:47حضرت حود علیہ السلام نے فرمایا کہ کافروں ذرا صبر کرو
31:51اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر عذابِ علیم پہنچا ہے
31:55وہ اس خبر کو سن کر تقریباً سات لاکھ مرد تین پہاڑوں کے درمیان میں جا رہے
32:01جہاں ہوا کی راہ ایک طرف سے بھی نہ تھی
32:05اور یہ سب ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر
32:07اور اپنے پاؤں کو گھٹنوں تک زمین میں گاڑ کر بیٹھتے تھے
32:13اور عورتوں مرد اور لڑکوں نے
32:15اپنے بیچ میں چار پائیوں کو لے لیا
32:18اور کہتے تھے کہ تین طرف تو ہمارے پہاڑ ہیں
32:21اور ایک جانب ہم سب ہیں
32:23دیکھتے ہیں کہ کون سی ہوا ہے
32:25جو ہم سب کے بیچ سے گزرتی ہے
32:28اور وہ ہم پر کس طرح سے زور کر سکتی ہے
32:31جب متقبروں نے اپنی قوت کا غرور کیا
32:34اچانک ایک آواز رعد کی آئی
32:37اور ہوا نے اس قدر زور کیا
32:39کہ پہلے مکانات اور قصر وغیرہ جتنے تھے
32:43سب کو جڑ سے کھود کر پھینک دیا
32:46اور تمام تعمیرات برباد ہو گئیں
32:49ان کی عبرت کے واسطے ان کے پاؤں کے نیچے
32:52اور ان کے سامنے سر نگوں کر کے زمین پر ڈال دیا
32:57پھر کیا ہوا کہ ان میں سے کوئی بچا رہا
33:00اور پتھر دھول اور خاک میں ایک برس تک پڑے روتے رہے
33:05اور جو شخص بھی ان کے رونے کی آواز سنتا
33:08تو وہ بھی ہلاک ہو جاتا تھا
33:10کیونکہ ان کے رونے کی آواز نہایت ہی بھیانک اور بہت ہی خراب تھی
33:15اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار
33:19قوم آدھ پر چلائے رکھا
33:21یہ آندھی مسلسل چلتی رہی
33:24ایک قول کے مطابق اس عذاب کی ابتداد جمعے کے دن ہوئی تھی
33:28جبکہ بعض کہتے ہیں کہ بدھ کے دن عذاب کی ابتداد ہوئی تھی
33:33واللہ عالم
33:34دوستو یہ تھا حضرت حود علیہ السلام کا قصہ
33:37ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ویڈیو بھی آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
33:42اور اپنے دوستوں کے ساتھ اسے شیئر کریں گے
33:45آنے والی ویڈیو تک اپنے میزبان
33:47قادر بخش کلھوڑوں کو اجازت دیجئے
33:50اللہ حافظ
Be the first to comment