00:00ایک فقیر دریا کے کنارے بیٹھا تھا
00:02کسی نے پوچھا کہ بابا کیا کر رہے ہو
00:04فقیر نے کہا کہ انتظار کر رہا ہوں
00:07کہ دریا مکمل بہ جائے
00:09تو پھر پار کروں
00:11اس آدمی نے کہا کہ کیسی باتیں کرتے ہو بابا جی
00:14مکمل پانی بہنے کے انتظار میں
00:16تو تم کبھی دریا پار ہی نہیں کر پاؤگے
00:19فقیر نے کہا کہ یہی تو میں تم لوگوں کو سمجھانا چاہتا ہوں
00:23کہ تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے ہو
00:25کہ ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہو جائیں
00:28تو پھر نماز پڑھوں گا
00:29داڑھی رکھوں گا
00:30حج کروں گا
00:31خدمت کروں گا
00:33جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا
00:35ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے
00:39اسی طرح سے زندگی ختم ہو جائے گی
00:41پر زندگی کے کام اور ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوگی
00:45دوستو آپ کیا کہتے ہیں
00:47کمنٹس میں بتائیے کا
Comments