00:00Surah Al-Fatihah
00:30Surah Al-Fatihah
01:00Surah Al-Fatihah
01:30And the truth is that if Allah tb.a. ki atakartah niamatun ko shumar karna chahein
01:36Ginnna chahein, counting ka nidra lana chahein
01:39Tuh R.A. فرmata wa in ta'udhu niamatallah lila tuha
01:43Allah tb.a. ki aitnay niamatun hain
01:47Aitnay inamatun hain, aitnay ahsanatun akramatun hain
01:51Kho un ko hesabu shumar meh
01:53Or counting ka nidra naihi laaya jaya sakta
01:55دنیا کے یہ سارے سمندر جو ہے یہ سیاہی بن جائیں اور سارے درخت کلم بن جائیں تو پھر بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے احسانات و اللہ کی نعمتوں کو رب تبارک و تعالیٰ کے کرم کو ہم نہیں لکھ سکتے ہیں اور اس کی تعریف کا ہم حق ادھا نہیں کر سکتے ہیں
02:14رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے قل هو اللذی انشاءکم آپ فرما دیجئے کہ وہی رب ہے جس نے تمہیں پیدا کیا یعنی سب سے بڑا اس کا کرم یہ ہے کہ اس مالک و مولا نے انسان کو عدم سے وجود عطا فرمایا اللہ اکبر فرمایا انسان اپنی حقیقت پر غور کرے قل حل اتا علا انسان حین من الدہر لم یکن شئی ام مذکورا ایک وقت وہ تھا کہ انسان کوئی قابل ذکر شئی نہیں تھا
02:42رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو عدم سے وجود عطا فرمایا پھر انسان کو مٹی سے پیدا کیا انسان کا نطفہ بنا مدغہ بنا علاقہ بنا پھر اس کے اس لوتھڑے کو اوپر جو ہے وہ گوشت چڑھایا گیا اور اس کے بعد ایک بڑی خوبصورت شکل اور صورت اللہ اکبر رب تبارک و تعالیٰ نے حضرت انسان کو ایک بہترین تخلیق کے ساتھ
03:08لقد خلقنا الانسان فی احسنی تقویم خود رب تبارک و تعالیٰ وہ مالک و مولا خود فرما رہا ہے کہ بہترین شہکار بنا کر رب تبارک و تعالیٰ نے بلکہ ان مراحل کو ذکر کرنے کے بعد رب تبارک اللہ احسن الخالقین
03:23اللہ اکبر اس احسن الخالقین نے اپنی خلق میں اپنی مخلوق میں انسان کو شہکار بنایا اور اشرف المخلوقات بنایا افضل المخلوقات بنایا اکرم المخلوقات بنایا
03:39ولقد کرمنا بنی آدم کا تاج انسان کے سر پر رکھا دیکھیں ساری اللہ تبارک و تعالیٰ کی مخلوق ہیں لیکن رب تبارک و تعالیٰ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا
03:49تو فرمایا انی جاعلن فی الارضی خلیفہ میں زمین میں اپنا ایک نائب اور خلیفہ بنا رہا ہوں
03:55اور اس کے بعد حضرت آدم کو پیدا کرنے کے مشورے کے بعد رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے آدم کو پیدا کیا کس انداز کے ساتھ
04:04فرمایا خلقت بیدیہ و نفخت فیہی من روحی فرمایا کہ میں نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کی
04:12حالانکہ رب تبارک و تعالیٰ کا ایسا کوئی جسم اور جسمانیت نہیں ہے جیسا ہمارا جسم ہے
04:17جہاں پر بھی لفظ ید پیدا استعمال کیا جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں ید بلا کیف
04:22اس کی کوئی کیفیت ہم بیان نہیں کر سکتے
04:25لیکن رب تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا
04:28نہ رب تبارک و تعالیٰ کی کوئی روح حضرت آدم کے اندر حلول کر گئی
04:32مراد یہ ہے کہ احزازا تشریفا تقریما رب تبارک و تعالیٰ ذکر فرما رہے ہیں
04:39کہ ہم نے گویا کہ ایک شہکار اپنے سامنے تیار کیا
04:43یہ سارے مراحل گزرنے کے بعد رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے
04:50وہی ذات ہے جو ماں کے رحموں کے اندر انسان کو صورت عطا فرماتا ہے
04:56شکل عطا فرماتا ہے
04:58کتنی پیاری صورت کتنا پیارا جسم اللہ اکبر
05:02وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا
05:09کتنا خوبصورت پیدا کیا
05:11اے انسان تجھے کیا ہو گیا
05:24اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کو بلا بیٹھا
05:28اللہ کے احسانات کو بلا بیٹھا
05:30اللہ کے اکرامات کو بلا بیٹھا
05:33یاد تو کر انسان کہ تجھے اللہ نے کتنی بہترین صورت عطا فرمائی
05:38کتنا بہترین موتدل اللہ نے تجھے جسم عطا فرمایا
05:43ہر چیز تجھے کامل و مکمل عطا فرمائی
05:46اور پھر یہ رب تبارک و تعالیٰ کی مخلوق کے اندر
05:50انسان کو کیسا پیدا کیا
05:53آپ دیکھیں کہ شیر کے اندر طاقت و قومتی
05:56کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے سونگنے کی
05:58طاقت و قوت عطا فرمائی ہے
06:00لیکن انسان کو اللہ نے جو عقل و شعور عطا فرمایا
06:04ادراک عطا فرمایا
06:06انسان کو رب تبارک و تعالیٰ نے جو
06:09سپیکنگ پاور قوتِ گویائی
06:11اور بیان کی طاقت عطا فرمائی
06:14وہ اس کی تمام مخلوق کے اندر
06:17کسی کو نہیں مری
06:18اور انسان ممتاز ہو جاتا ہے
06:20انسان اشرف ہو جاتا ہے
06:22اللہ کی ساری مخلوق کے اندر
06:24رب تعالیٰ فرماتا ہے
06:25الرحمن علم القرآن
06:28خلق الانسان علمہ البیان
06:31وہی رحمان ہے جس نے انسان کو
06:34خلق کیا
06:35عدم سے وجود عطا فرمایا
06:37بہترین صورت عطا فرمای
06:39عقل و شعور عطا فرمایا
06:41قوتِ ادراک عطا فرمای
06:43اور اسی انسان کو
06:45اللہ نے قوتِ بیان عطا فرمایا
06:47رب تعالیٰ نے
06:49اپنے معافی زمیر کو
06:50منتقل کرنے کا جو ملکہ ہے
06:52وہ صرف حضرتِ انسان کو عطا فرمایا
06:55تو فرمایا
06:56ہر اعتبار سے تم یاد کرو
06:58کہ اللہ تعالیٰ کی تمہاری
07:00پیدائش سے لے کر
07:02مراحل سے لے کر
07:03پھر اس دنیا کے اندر جب تم آئے
07:05تو اللہ تعالیٰ نے
07:07اس آسمان کو تمہارے لیے بنایا
07:09اس زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا
07:12اللہ اکبر
07:13رب تعالیٰ نے
07:14آسمان سے تمہارے لیے
07:16موصلہ دھار بارشیں فرمائی
07:18پھر ان بارشوں کے ذریعے
07:20اللہ نے نباتات عطا فرمائے
07:22پھل عطا فرمائے
07:23اے حضرتِ انسان
07:24یہ سب کچھ رب تعالیٰ نے
07:27تمہیں نعمتیں عطا فرمائی
07:29یہ سب کچھ تمہارے لیے بنایا ہے
07:31یہ سب میرے رب کے
07:32احسانات و اکرامات ہیں
07:34نعمتیں ہیں
07:35ان کو حساب و شمار کے اندر
07:37نہیں لائے جا سکتا ہے
07:38فرمائے ہم نے زمین کو
07:46بچھونا نہیں بنایا
07:48ہم نے جو ہے
07:49پہاڑوں کو بطوری میخ نہیں بنایا
07:51ہم نے رات رکھا
07:53ہم نے دن رکھا
07:54اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَابَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَا فِى اللَّيْلِ وَالْنَهَارِ
07:58لَآیَاتِ لِي أُلِي الْأَلْبَابِ
08:00یہ دن اور رات کا پلٹنا
08:02یہ اللہ کی نعمتوں میں سے نعمت ہے
08:03اگر دن ہی دن ہوتا
08:06تو انسان کو آرام نہ ملتا
08:08تو سوچیں
08:09انسان کا کیا حال ہوتا
08:11اور رات ہی رات ہوتی
08:13سورجی طلوع نہ ہوتا
08:14تو انسان اپنے زندگی کے
08:17معاش و معاملات کو کیسا چلاتا
08:19اس میرے رب نے کتنا کرم کیا
08:21رات کی نعمت بھی عطا فرمائی
08:23فرمائے
08:24نیند کو تمہارے آرام کے لیے رکھا
08:27دن کو تمہارے معاش کے لیے رکھا
08:29رات کو ساتر بنایا
08:31آرام کے لیے بنایا
08:32اور دن کو معاش کے لیے بنایا
08:34لیکن حضرت اکرامی
08:36ہم نے اس فطرت کا اُلٹ کر دیا
08:38ہم نے کہا نہیں نہیں نہیں
08:39ہم رات کو جاگیں گے
08:41دن کو سوئیں گے
08:42علاقہ رب تعالیٰ فرماتا ہے
08:44میں نے تمہارے آرام کے لیے
08:46رات کو بطور نعمت کے رکھا
08:48تاکہ رات کے اندر تم آرام کرو
08:51اور دن کے اندر
08:52وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشَا
08:54دن کے اندر اپنے معاش کی تلاش کے اندر نکلو
08:57آج دنیا کے اندر لوگ انرجی کے حوالے سے
08:59بہت زیادہ رو رہے ہیں
09:00تو یہ اللہ نے ایک قدرتی انرجی رکھی ہے
09:03یہ روشنی رکھی ہے
09:04فرمایہ تاکہ اس روشنی کے اندر
09:07تم اپنے معاملات کو پورے کرو
09:09جیسے رات ہو
09:10مغرب کی نماز پڑے انسان
09:12سنت یہ ہے
09:13حضور کھانا کھاتے تھے مغرب کے بعد
09:15عشاء کی نماز پڑھتے سو جاتے تھے
09:17اور فوراں جو ہے
09:19اس رات کو پورا
09:21یوٹرلائز کرتے تھے
09:22آج بھی دیکھیں آپ
09:23ویسٹ جو ہے وہ
09:25اسی حضور علیہ السلام کے طریقے
09:28کو ایڈاپٹ کرتے ہوئے
09:30وہ رات کو اپنے آرام کے لیے
09:32استعمال کرتے ہیں
09:33اور دن کو معاش کے لیے استعمال کرتے ہیں
09:36یعنی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ
09:38کی ان ساری چیزوں کو دیکھیں
09:39یہ میرے مالک و مولا نے
09:41سب انسان کو پیدا کیا
09:43زندگی عطا فرمائی
09:45وجود عطا فرمایا
09:46اور ساتھ ساتھ یہ ساری نعمتیں
09:49عطا کر کے
09:50رب تبارک و تعالی نے فرمایا
09:52کہ اے حضرت انسان
09:53یہ سب کچھ تیرے لیے ہے
09:56اور تجھے میں نے
09:59اپنی عبادت کے لیے پیدا کی
10:00وما خلقت الجن
10:03والانس الا لیابدو
10:04افا حسیبتو انما خلقناکو
10:07اباثا
10:07تم نے کیا سمجھا
10:08کہ یہ سارا نظام
10:10اللہ تبارک و تعالی نے
10:11ایسے ہی ابس اور بیکار بنایا
10:13تمہیں بھی بیکار بنایا
10:14نہیں نہیں نہیں نہیں
10:16میرے رب نے کسی شئے کو بیکار نہیں بنایا
10:18اس مالک ربنا ما خلقتا
10:21هذا باطلا
10:21سب چیزیں انسان
10:23تیرے لیے ہے
10:24اور تجھے فرمایا
10:25کہ اے انسان
10:26زندگی آمد
10:27برائے بندگی
10:30زندگی بے بندگی شرمندگی
10:32فرمایا
10:33قل ہو
10:33پھر تمہارے لیے سماعت بنائی
10:42تمہارے لیے کان بنائے
10:44تمہارے لیے آنکھیں بنائیں
10:46تمہارے لیے سماعت و بسارت
10:48اور افعیدہ
10:49فواد
10:50فواد بڑکتا ہوا
10:51دھڑکتا ہوا دل
10:53اللہ تبارک و تعالی نے
10:54یہ دھڑکتا ہوا دل
10:55اگر یہ دھڑکنیں بند ہو جائیں
10:57اس سے جا کر پوچھو
10:59کہ ان دھڑکنوں کی قیمت کیا ہے
11:03یہ سانسوں کا روا دوا ہونا
11:06یہ جو ہم اکسیجن لیتے ہیں
11:08اور یہ جو ساری کے سارے چیزیں
11:10اگر اکسیجن
11:11سانس بند ہو جائے
11:13تو پھر جو
11:14آلائے تنفس کی مشینیں ہیں
11:16وینٹ پر انسان جو چلا جاتا ہے
11:18وینٹیلیٹر پر
11:19جا کے پوچھو
11:20کہ وہ سانسیں لینے کے لیے
11:22کتنی قیمتیں جکانی پڑتی ہیں
11:24ہیں جی
11:25کہ بھئی لگا دو
11:26تاکہ
11:27مسنوعی طور پر
11:28سانس ان کی بحال رہے
11:30آج جب سانسیں روا دوا ہیں
11:33یہ دھل کی دھڑکنیں روا دوا ہیں
11:35ہم سے کوئی پوچھے
11:37کہ یار اللہ نے بڑا کرم کیا ہے
11:38تمہیں اللہ نے آنکھیں دی
11:40دل دیا
11:40آہاں یاراں
11:42ٹھیک ہے
11:43ٹھیک ہے یار ٹھیک
11:44یعنی انسانی مزاج اور فطرت یہ ہے
11:46رب تعالی خود فرماتا ہے
11:48کہ دیکھو تو صحیح
11:49وَجَعَالَ لَكُمُ السَّمَعَا وَلَا بِسَارَ
11:50بہت تھوڑے لوگ ہیں
11:57بڑے ہی کم لوگ ہیں
11:58فرمایا جو شکر ادا کرتے ہیں
12:01اے انسان تجھے
12:02اللہ نے کتنی نعمت اعطا فرمائے
12:03قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ
12:06وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
12:07فرمایا تمہیں زمین کے اندر پھیلا دیا
12:09اور پھر تمہیں وہ جمع بھی کرے گا
12:11ایسا نہیں ہے
12:13کہ یہ سب نعمتیں دے کر
12:14دنیا کے اندر رب تعالیٰ و تعالیٰ نے
12:17حضرت انسان کو چھوڑ دیا
12:19فرمایا
12:19نائی نائی نائی
12:20اللَّذِينَ يَذُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَا قُرَبِّينَ
12:23لَوْدْ کر ایک دن رب تعالیٰ کی بارگاہ کے اندر ہی جانا
12:27لیکن انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے
12:32ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا
12:33انسانی مزاج اور طبیعت بڑی عجیب و غریب قسم کی
12:37رب تعالیٰ نے خرار مجید کے اندر فرمایا
12:40کہ جب انسان کے پاس کوئی نعمت نہیں ہوتی ہے
12:43تو انسان اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا ہے
12:46اے خدایہ مجھے یہ نعمت دے دے
12:48مجھے اولاد دے دے
12:50مجھے کوئی نیک بیوی دے دے
12:52مجھے گھر دے دے
12:53مجھے مال و دولت دے دے
12:54کہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں
12:56المال والبنون زینت الحیات الدنیا
12:59یہ اللہ تعالیٰ کی دنیا بھی زینتیں ہیں نعمتیں
13:03لیکن انسان دعائیں کرتا ہے
13:05التجائیں کرتا ہے
13:07جیسے وہ نعمتیں ملیں
13:09بھائی مبارک ہو مبارک ہو
13:11تمہیں یہ نعمت مل گئی یہ نعمت مل گئی یہ نعمت مل گئی
13:15رہے نہیں بھائی ہم نے بڑی محنت کی ہے
13:17ہم نے بڑا پلین کیا ہے
13:20بہت سٹرگل کیے ہیں ہم
13:21ایسے تھوڑی ملی ہے
13:22نائی نائی نائی
13:23فرمایا انسان کا
13:32مزاج کیسا ہے
13:33جب اسے نعمت
13:34جب تکلیف کے اندر ہوتا ہے
13:35تو بڑا متوجہ
13:37منیب بن لئی
13:38متوجہ ہو کر دعا کرتا ہے
13:40لیکن رب تعالیٰ فرماتا ہے
13:42فَإِدَا خَوَّلَا
13:43جب رب تبارک و تعالیٰ نعمت دے
13:45دوسرے مقام پر فرمائے
13:46فَإِدَا خَوَّلْنَاهُ نعمتا مِنَّا
13:48جب ہم نعمت دے دیتے ہیں
13:50تو کہتا ہے
13:51اِنَّمَا اُوتِتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ اِنْدِ
13:53یہ میرے علم کی وجہ سے
13:56یہ میرے سٹرگل کی وجہ سے
13:58کوشش کی وجہ سے
13:59محنت کی وجہ سے
14:00فرمائے یہ فتنہ ہے
14:02یہ آزمائش ہے
14:03حضرت اکرامی جب انسان
14:05نعمتوں کو
14:06اپنی سٹرگل ہی صرف سمجھنا لگ جائے
14:09دیکھو
14:09ہم تو ہمیشہ سبق ہی یہ دیتے ہیں
14:11کہ سٹرگل کی جائے
14:12واللہی سالی انسان
14:13اللہ ماسا انسان
14:14وہی پاتا ہے
14:15جس کی کوشش کرتا ہے
14:16لیکن دنیا کے اندر
14:17سٹرگل کرنے والا
14:18تو یار بہت سارے لوگ ہیں
14:19بہت سارے لوگ محنت کرتے ہیں
14:21ہم سے بھی زیادہ نعمت
14:22محنت کرتے ہیں
14:23جو نعمتیں ہمیں میسر ہیں
14:25کیا ہر وہ نعمت
14:26ان کو میسر ہے
14:27نہیں میسر ہے
14:29اس لیے یہ نہ کہو
14:30کہو محنت کرنا میرا کام تھا
14:33جیسے
14:34جیسے باگ کے اندر
14:36پانی دینا مالی کا کام ہوتا ہے
14:42دے تو میرا رب لگاتا ہے
14:43یہ سورج اس کو روشنی دیتا ہے
14:45اور بارش برستی ہے
14:47اللہ اکبر
14:48یہ نعمتیں ہوتی ہیں
14:49ساری کی ساری رب تبارک و تعالی
14:50کبھی ایسا ہوتا ہے
14:52کسی زمین کے اندر
14:53انسان کتنا بھی پانی دیتا رہے
14:55نہیں اگتا ہے
14:55فرمایا کہ یہ سب کچھ
14:57عطا کرنے والے
14:58یہ پھل پھل دینے والا
15:00وہ مالک و مولا ہے
15:01ایک تو میں یہی کہوں گا
15:03خاص طور پر
15:04اپنے مسلمان بھائیوں کو
15:05کہ کبھی اپنی کسی نعمت پر
15:08اترانا نہ
15:09کبھی کسی نعمت پر
15:10یہ نہ کہنا
15:11وہ قارونی جو زبان تھی
15:13جو قارون سے پوچھا گیا
15:14تو اس نے کہا
15:15یہ سب کچھ میں نے خود بنایا ہے
15:16اللہ اکبر
15:17فرمایا کہ
15:19لا تفرح
15:19ان اللہ لا يحب الفرحین
15:21اتراؤ نہ
15:22تکبر نہ کرو ان نعمتوں پر
15:25اللہ نے نعمتیں دی رہی
15:26ان کو برتو استعمال کرو
15:28لیکن ان کا ایک شکرانہ یہ ہے
15:31کہ ایک انسان
15:32زبان سے شکر ادا کرتا ہے
15:34ایک پیکٹیکل
15:36ایک شکرانہ ہوتا ہے
15:37کہ تمہارے جتنے
15:39پارٹس آف بوڈی ہیں
15:40تمہارے جسم کے آزاں ہیں
15:42وہ ہر ہر عضو
15:45اللہ کی تابداری میں ہو
15:47وہ ہر ہر عضو
15:49رب تبارک و تعالیٰ کی
15:50فرما برداری کے اندر ہو
15:52یہ جو فرمایا
15:53فرمایا تمہارے لئے
15:57سماعت بنائی
15:58بسارت بنائی
15:59رب تبارک و تعالیٰ نے
16:00تمہارے لئے دھڑکتا ہوا
16:01دل لکھا
16:02لیکن یہ مت سمجھنا
16:04کہ یہ نعمتیں دیکھ کر
16:05رب نے تجھے
16:06مادر پیدر آزاد بنا کر
16:08چھوڑ دیا
16:08فرمایا نہیں
16:09یہی ترتیب ساری جکر
16:14فرمایا دوسرے مقام پر
16:15فرمایا
16:23ان تمام نعمتوں کے بارے میں
16:25رب تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ سے
16:27تمہاری مسئولیت ہوگی
16:29تمہاری جواب دہی ہوگی
16:32کہ تم نے ان نعمتوں کو
16:34کیسے برتا ہے
16:35ان نعمتوں کو
16:36کیسے استعمال کیا ہے
16:37کیا ان آنکھوں سے
16:39تم حرام دیکھتے رہے
16:40نامحرم عورتوں کو
16:43دیکھتے رہے
16:43گندی چیزیں دیکھتے رہے
16:45جن کو دیکھنے سے
16:46منع کیا گیا
16:47اللہ نے تو تمہیں حکم دیا تھا
16:56کہ یہ اللہ نے نگاہیں دی ہیں
16:58ان نگاہوں کو تم نے
17:00حرام کے اندر نہیں استعمال کرنا
17:02نگاہوں کو نیچے رکھنا ہے
17:04اور حرام آ جائے
17:05تو نگاہوں کو
17:06جو ہٹا دینا ہے
17:07یہ سماعت اس لیے تھی
17:09کہ رب تبارک و تعالیٰ کا
17:11کلام سنو
17:12ازان سنو
17:13اچھی چیزیں سنو
17:14یہ دھڑکتا ہوا دل
17:16اس لیے تھا کہ اس کے اندر
17:17پوزیٹیو چیزیں لے کر آؤ
17:18اس دل کے اندر
17:19اچھے نیتیں
17:20اچھے خیالات ہوں
17:21فرمایا تم نے کیا سمجھ دی
17:23کہ ایسے چھوڑ دیا
17:24فرمایا
17:25نائی نائی
17:25ثم لا تسعلون یوم اذن
17:27عن النائیم
17:28ہر ہر نعمت کے بارے میں
17:29جہاں پوچھا جائے گا
17:30وہیں پر ان السمع
17:32والبسر والفعاد
17:33کل اولائی کا کانا
17:35عنہ مسئولہ
17:36ازاد کرامی میرے رب کی بڑی نعمتیں
17:38ان نعمتوں کو حساب و شمار
17:43کے اندر نہیں دایا جا سکتا ہے
17:45لیکن ان نعمتوں کا حق یہ ہے
17:47کہ مالک و مولا کی تابداری کرو
17:50فرمبرداری کرو
17:52اور اپنی زندگی کو
17:53اللہ اور اس کے رسول کی
17:55اطاعت کے اندر گزارو
17:56فرمایا
17:56اگر تم یہ چاہتے ہو
17:58کہ اللہ تمہیں
17:58زبال نعمت سے محفوظ فرمائے
18:00اللہ اکبر
18:01فرمایا
18:02اگر تم نعمتوں پر شکر کرو گے
18:10وہ مالک و مولا
18:11تمہاری نعمتوں کے اندر
18:12اضافہ فرمائے گا
18:14اور اگر تم ناشکری کرو گے
18:17تو وہ نعمتیں چھن جائیں گی
18:18بلکہ
18:19اللہ کے عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گی
18:21رب تعالی ہمیں اس کی نعمتوں پر
18:23شکر گزاری کی
18:24تابداری کی
18:26فرما برداری کی
18:27توفیق عطا فرمائے
18:29وآخر دعوانا
18:30الحمدللہ رب العالمين
18:31یہ قرآن
18:43لوگوں کے لیے واضح بیان ہے
18:46اور ہدایت ہے
18:48اور پرہیزگاروں کے لیے
18:50نصیحت ہے
18:51imagine a world
18:54where every drop of water
18:55brings life
Comments