Skip to playerSkip to main content
  • 9 months ago
38. 2/3, Series: Weekly Dars-e-Quran
Lecturer: Hafiz Muhammad Imtiaz Ali
Surah: Aal-e-Imran
Para: 4
Verses: Ayah 156 & onwards
Date: Thursday, 16 October 2025
Venue: Hillview Islamic & Education Centre
Location: Glasgow, Scotland, United Kingdom
Join us for this insightful weekly Dars as Hafiz Muhammad Imtiaz Ali continues the tafsir of Surah Aal-e-Imran, beginning from Ayah 156. Delivered at the Hillview Islamic & Education Centre, this session offers reflections and lessons drawn directly from the Qur'an.
Transcript
00:00آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں جس طرح کا ایک زقین اسی صورتحال مبادی
00:03تو یہاں پہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اگر کا لفظ استبال فرمایا ہے
00:08کہ اگر مجھے تنہاری پر ان کا خوف نہ ہوتا ہے
00:11تو یہاں سے ہمیں یہ بھی ملتا ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے
00:15کہ کوئی بڑے نقصان سے بچنے کا
00:17جب بڑے نقصان کا اندیشہ ہو
00:20یا خوف ہو
00:21اس سے بچنے کے لیے
00:24آپ جو چھوٹا نقصان ہے اس کو آپ نے لیتی ہے
00:27مثال کے طور پر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسیکلی ایک فطرے کا خادشہ تھا
00:32کہ فطرہ پھیل جائے گا اگر میں اس کو اب گرا کے اس کو پڑی گا
00:35تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ لیا اسی حالت پر رہتی گی
00:39تو گویا کہ آپ کی جو اپنی مرضی تھی
00:41آپ کی جو خواہش تھی کہ اس کو اندر کر لی
00:44اس کو آپ نے پیچھے چھوڑ لیا
00:45اور بڑے نقصان سے ان کو بچانے کی
00:49تو اگر کوئی ایسی صورتحال ہو
00:51تو بعض اوقات اسی طرح جو ہے
00:53بعض مسائل ہوتے ہیں دنیا میں
00:54علماء سے آکر بعض لوگ مسائل پوچھتے ہیں
00:57تو علماء کرام بھی اسی طرح کرتے ہیں
01:00بعض اوقات مسئلہ حد کو دیکھتے ہوئے
01:02اور کئی مسئلہ کو بتا دیتے ہیں
01:03تو دوسرا بندہ آتا ہے
01:06بعض اوقات اس کی احوال ویسے نہیں ہوتے
01:08تو اس کو جب بتایا جاتا ہے
01:10وہ دونہ آپس میں ملتے ہیں
01:11اچھا ہی
01:11یہ مولوی ساؤں نے آپ کو دیس طرح بتا دی
01:13یہ کہ یہ کونسا دین ہے
01:16یہ انہیں اپنی طرف سے
01:17تو ایسا نہیں ہوتا
01:19کوئی دین اپنی طرف سے نہیں ہوتا
01:20بلکہ ہر بندے کی سیچویشن الگ ہوتی ہے
01:23اس کے معاملات الگ ہوتے ہیں
01:24اس کے احوال الگ ہوتے ہیں
01:26جب ان کو سنا جاتا ہے
01:27اس کو سمجھا جاتا ہے
01:29اس کو پرخا جاتا ہے
01:30تو پھر اسی کی بنا پر
01:31اس کو فتوہ دیا
01:32وہ مفتیان اکرام ہوتے ہیں
01:34پھر اسی صورتحال کے مطابق
01:35اس پر فتوہ دیتے ہیں
01:37تو وہ اپنی جیب سے
01:38یا اپنی طرف سے نہیں ہوتے ہیں
01:39لہذا کہ
01:40بعض اوقات فترے کا خرشہ ہوتا ہے
01:41بعض اوقات کچھ سے توش ہوتی ہے
01:43بعض اوقات کچھ ہوتی ہے
01:44تو اسی لحاظ سے پھر
01:46وہاں پہ ان کو بیان کر دیا گاتا ہے
01:48اسی طرح آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
01:50نے فرمایا
01:51کہ اگر
01:52مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا
01:56تو میں انہیں ہر نباز کے وقت
01:58وضو کا حکم دیتا ہے
01:59اسی طرح بسواق کے بارے میں بھی ہے
02:01کہ اگر اب مجھے اپنی امت پر
02:03مشکت کا خرشہ نہ ہوتا
02:05تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ
02:06بسواق کرنے کا لازمی حکم نہیں ہوں
02:08یہاں پہ بھی اگر کا حکم ہے
02:10تو مشکت سے بچانے کے لیے
02:12آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
02:13کیونکہ
02:14رحمت للعالمین ہے
02:15اپنی امت کے لیے رحمت ہے
02:17تو ہمیشہ اپنی امت کو
02:19مشکت سے مشریبت سے بچانے کے لیے
02:21اپنے کوشش کی ہے
02:22اور اسی کی فکر کی ہے
02:24تو یہ چند ایک چیزیں ہیں
02:26جو اس کے زمن میں
02:27اس کے بعد
02:28جو منافقوں کا قول تھا
02:31حسرت کے بارے میں
02:33اللہ تعالیٰ نے فرمایا
02:34کہ اللہ ان کے لیے
02:35ان کی باتوں کو حسرت بنا لیتا ہے
02:36تو اس کے بارے میں چند ایک چیزیں ہیں
02:39کہ جو مسلمان کسی سفر میں جاتے ہوئے
02:42فوت ہو جاتے ہیں
02:43یا کسی غزوہ میں جاتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں
02:46تو منافقین
02:47ان مسلمانوں کے رشتہ داروں سے کہتے ہیں
02:49کہ اگر یہ وہاں پہ نہ جاتے ہیں
02:51تو یہ مارے نہ جاتے ہیں
02:52بیسیکلی منافق خود تو اندر سے منافق تھے
02:54وہ تو اندر سے مسلمان نہیں ہوتے تھے
02:57اس موقع سے فیدہ اٹھاتے ہوئے
02:58وہ جو شہید ہو جاتے ہیں
03:00یا فوت ہو جاتے ہیں
03:01ان کی کوشش یہ ہوتی تھی
03:02کہ ان کے عائزہ جو ہے
03:03ان کے رشتہ دار میں
03:04ان کو بھی برگلا لیا جائے
03:06ان کو بھی محکا لیا جائے
03:07تو اس طرح کی باتیں کرتے تھے
03:10تو اللہ تعالی نے فرمایا
03:11کہ ان کے قول انہی کے لئے حسرت بنے گے
03:15ان کو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا
03:17اسی طرح منافقین
03:19اپنے مسلمان بھائیوں کے دلوں میں
03:21جب یہ شبہ ڈالیں
03:23اور ان کے کہنے میں آ کر
03:24جہاد کرنے میں نہ جائے گے
03:26تو پھر جب وہ دیکھیں گے
03:27کہ مسلمان جہاد کر کے
03:28سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے
03:31مالِ غنیمت لے کے
03:32کامیاب و کامران ہو کے لوٹے
03:34تو پھر یہ منافقوں جنگلیں گے
03:37اس طرح سے بھی حسرت بن جاتی گی
03:38کہ جو انہوں نے کہا کہ نہ جاتے ہیں
03:40اور جن کو روکا
03:42اگر کچھ لوگ رکھ جاتے ہیں
03:43تو پھر کیا ہوتا
03:44لالی کا حسرت بن جاتی ہے
03:46کہ ان کے دلوں میں حسرت بن جاتی ہے
03:48کہ کاش کے ہم چلے جاتے ہیں
03:50یہ تو جید کے آگئے ہیں
03:51یہ تو مالِ غنیمت بھی لے کے آگئے ہیں
03:52اور فتحیاب بھی ہو کے آگئے ہیں
03:54اسی طرح اس کا ایک معنی یہ بھی ہے
03:56کہ قیامت کے دن جب منافقین دیکھیں گے
03:59کہ مجاہدین اور شہدات
04:01اللہ تعالی نے کس خدر انعام و اکرام سے نوازہ ہے
04:04اور ان کو بے پناہ
04:07سواب مل رہا ہے
04:08عجر مل رہا ہے
04:09اور ان منافقوں کو ان کے قول کی بنا
04:12پر ظلمت اور بثوائی مل رہی ہے
04:14اور اس کا سامنہ کا انہوں پر جاہے
04:16تو اس وقت بھی کہیں گے کاش
04:18تو پھر بھی یہ حسرت کریں گے
04:20تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان کا قول
04:22انہوں پر حسرت بن رہا ہے
04:23اور اس کا ایک معنی یہ بھی ہے
04:26کہ منافقین جو ضائف قسم کے مسلمان ہوتے
04:29ان کو جہاد سے روکنے کے لیے شبہ ڈالے
04:31اور جب وہ مسلمان جہاد پر نہیں جائیں گے
04:35تو یہ جو منافقین ہیں یہ خوش ہو جائے گے
04:37لیکن بعد میں جب وہ مسلمانوں پر
04:40ان منافقوں کے مکرو فریم کا حال کھل جائے گا
04:42تو یہ ان سے بیزار ہو جائے گے
04:44اور ان کو لانتان کریں گے
04:46تو پھر کافر منافقوں کے یہ قول جائے ہیں
04:48اس صورت میں بھی ان کے لیے حسرت بن جائے گے
04:51اور اس کا چوتھا معنی یہ ہے
04:54کہ منافق جو ہے
04:56یہ مختہ مسلمانوں کے سامنے یہ شبہات پیدا کرے
04:59تو تو ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرے گے
05:02اور ان کی ساری کی ساری کوشش بیکار جائے گی
05:05تو اس سے منافقوں کو یہ حسرت ہوگی
05:07کہ کاش ہم ان کو احسان نہ کہتے
05:09کیونکہ اب تو ان کے سامنے ہماری قول کھول گیا
05:12تو اس صورت میں بھی ان کا قول جو ہے ان کا حسرت بن جاتا ہے
05:16تو یہ چند ایک چیزیں ہیں
05:18جو اللہ تعالیٰ نے
05:19یعنی جو قول بیان فرمایا
05:21اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے
05:24اس کے زمن میں
05:25مفسرین کرام نے بیان فرمایا
05:27اس کے بعد فرمایا
05:28کہ اب تم مر جاؤ
05:31یا تم قتل کر دیے جاؤ
05:32تو تم سب نے
05:33اللہ ہی کی طرف جبہ کیے جانا ہے
05:35تو اس کے زمن میں
05:37امام فخر الدیر راضی رحمت اللہ تعالیٰ نے
05:39ایک چیز بیان فرمای ہے
05:40وہ فرماتے ہیں
05:41کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
05:43کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے
05:44جن کے بدن بہت لاغر اور کمزور ہو چکے تھے
05:48چہریں ان کے بالکل کمزور تھے
05:50حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
05:52ان پر کسرت عبادت کے آثار دیکھے
05:55اور ان سے پوچھا
05:57کہ تم اللہ تعالیٰ سے
05:58کس چیز کی قمندہ رکھتے ہو
06:00کس چیز کے قلبگار ہو
06:01تو انہوں نے کہا
06:03کہ ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں
06:05حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
06:07کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے بعید نہیں ہے
06:10کہ تم کو اپنے عذاب سے بچا رہے
06:13یعنی تم جتنی اللہ کی عبادت کرتے ہو
06:15اتنی کرتے ہو
06:16کہ تم کنزور ہو گئے ہو
06:17تمہارے پر لکاہ پہنے ہیں
06:19تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بائید نہیں
06:21کہ تم نے اپنے عذاب سے محفوظ فرما دی
06:24پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام
06:26کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزرے
06:28تو ان پر بھی اسی طرح عبادت کے آثار دیکھے
06:32تو ان سے سوال کیا
06:34تو ان لوگوں نے یہ جواب دیا
06:35کہ ہم اللہ تعالیٰ کی جنت کے طلبگار ہیں
06:38اس کی رحمت کے طلبگار ہیں
06:40تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
06:42کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے بہت بعید ہے
06:45کہ تم کو اپنی جنت اور اپنی رحمت عطا نہ فرما
06:48یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے کرم جو ہے
06:51وہ تمہیں اپنی جنت اور رحمت عطا کر کے چھوڑے ہیں
06:54پھر اسی طرح آپ تیسری قوم کے پاس سے گزرے
06:58اور ان پر بہت زیادہ عبادت کے آثار دیکھے
07:02تو ان سے پوچھا کہ تم کسی لئے عبادت کرتے ہیں
07:04تو انہوں نے کہا کہ اس لئے کہ ہمارا وہ معبود ہے
07:08اور ہم اس کے بندے ہیں
07:09ہم کسی چیز کی رغبت نہیں کرتے
07:13اور نہ ہی کسی چیز کے خوف سے عبادت کرتے ہیں
07:16یعنی ہماری نہ تو کسی چیز کا ہمیں ڈر ہے
07:19اور نہ ہی کوئی چیز ہماری چاہت ہے
07:21ہماری چاہت صرف اور صرف اللہ کی رضا ہے
07:25ہم صرف اسی کے لئے عبادت کرتے ہیں
07:28نہ تو ہمیں جنت کا لالچ ہے
07:29نہ تو جہلل کا خوف ہے
07:31اللہ کی رضا اور اسی کی چاہت ہماری
07:33اس کی خوشنودی ہماری چاہت ہی
07:35تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
07:38تم اللہ کے مخلص بندے ہو
07:40اور تم سچے عبادت بھی ساتھ
07:42تو اللہ تعالیٰ کی جب بندہ عبادت کرے
07:45تو پھر گویا کہ صرف اور صرف
07:48اسی کی رضا کرنیے کرے
07:49اگرچہ جنت کی طلب میں عبادت کرنا مغلوع نہیں ہے
07:54احادیث میں مغلوع نہیں ہے
07:55اور جہنم سے پناہ مانگنا
07:57اور اس سے نرد کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا
08:01یہ بھی احادیث میں مغلوع ہے
08:03اس سے بھی بلا نہیں ہے
08:04کہ ایسا حرام یا حلال کا مسئلہ نہیں ہے
08:06وہ بھی
08:07لیکن اللہ کی عبادت کرنے کا صحیح لطف وہی ہے
08:11کہ بندہ اللہ کی عبادت کریں
08:13صرف اللہ کی رضا کیلئے
08:14صرف اور صرف اسی کی چاہت ہو
08:16اور چاہت آ دیکھیں
08:18کہ اگر ہم اپنا منشاہ یہ بلانے
08:21کہ ہم اللہ کی عبادت
08:23اللہ کے لئے کرتے ہیں
08:24کیونکہ کل قیامت والے دینا
08:28اور پھر جنت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی زیارت ہو
08:30ٹھیک
08:31تو اب کیا ہوا
08:33کیا ہمیں جہنم کا خوف رہا
08:35یا کیا ہم جہنم میں چلے جائے گی
08:37ماظر بھی ہوگی
08:38کیونکہ جہنمیوں کو تو اللہ کا دیدار نہیں ہوگی
08:41اور کیا ہمیں جنت کی کوئی لالچ رہے گی
08:45کیونکہ جب ہم اللہ کی رضا کے لئے
08:48اللہ کے دیدار کے لئے
08:50اس کی زیارت کے لئے جب سب کچھ کرے گے
08:52تو دیفنیلی جنت میں پہنچ گئے
08:54جہنم سے بھی بات گئے
08:56سب کچھ ہو گیا
08:57تو ایک ہی چیز میں جب سب کچھ داخل ہے
08:59تو کھر بات گئے گی
08:59تو جو بندہ
09:02اللہ کی رضا کے لئے
09:04جو کچھ بھی کرے
09:05صرف اور صرف خالص اللہ کے لئے کرے
09:08تو سب سے بیسٹ اللہ کے لئے گئے
09:10اگرچہ دوسری چیزیں کرے
09:12تو وہ بھی اے سچ کوئی بری چیزیں نہیں ہیں
09:15جنت کی طلب میں
09:16وَمْ بَلَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَا
09:19وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَا
09:20وَقِنَا عَذَابَنَّا
09:22عَذَابٌ نَار سے جو بچنے کا ہے
09:24وہ بھی ہمیں حکم دیا گیا ہے
09:26اور جنت کی طلب
09:28وہ بھی ہمیں حکم دیا گیا ہے
09:30اس کا
09:30تو یہ چیزیں مگنو نہیں ہیں
09:32لیکن جو کہتے ہیں
09:33رب بیسٹ لیا
09:34ہائیست جلحول ہے
09:35انسان کا
09:36یا ایمان کا
09:37یا جو
09:38انبیاء اکرام علیہ وسلم کا جانبہ ہے
09:40کہ وہ جنت یا جہنم سے بے پرواہ ہو کے
09:43اللہ کی رضا کے لیے جو بھی کام بنتے ہیں
09:46اور جس طرح سورہ دہر میں ہے
09:48وَيُتْعِمُوا لَكْتَعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيبًا وَأَسِيرًا
09:54اور اس کے بعد فرمایا
09:55اِنَّمَا نُتْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّا
09:59کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہے
10:01جو اللہ کے راستے میں
10:03یقیموں کو مسکیموں کو
10:05اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں
10:06اور پھر اس کے بعد یہ کہتے ہیں
10:08اِنَّمَا نُتْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّا
10:12کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں
10:14صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہیں
10:17لَا نُرِينُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا
10:20ہم نہ تو تم سے کوئی جزا چاہتے ہیں
10:22نہ ہی کوئی شکریہ چاہتے ہیں
10:24تم سے ہمیں کوئی توقع نہیں
10:26کوئی کچھ بھی نہیں چاہتے ہیں
10:28صرف اور صرف اللہ کی رضا چاہتے ہیں
10:30تو یہ اللہ کے سب سے بیسٹ مجھے ہوتے ہیں
10:33جبکہ آج کل ہمارا حال تو یہ ہوتا ہے
10:35کہ ہم کسی کو کچھ چیز پیش کریں
10:37اس سے پہلے طلبگار ہوتے ہیں
10:39کہ ہمیں فیل بیک ملے گا
10:40کسی کے سامنے کھانا رکھیں گے
10:42اس کو بھی ہمیں کیسا لگیا جی
10:43اس نے بلے
10:45وہ جو ہے نا
10:46ہمیں کیسا لگیا جی
10:49تم بیسیکل ہی کیا ہوتا ہے
10:50ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فلفورت تعریف کر دی ہوئے ہیں
10:53اور جب جس کو بیچارے کو بلا کے کھلا رہے ہیں
10:55تو ان کیا کہے ہیں
10:56کہ بہت برا لگا ہے
10:57تو کہے ہیں کہ بہت اچھا لگا ہے
10:59تو یہ ایک فیڈ بیک
11:02حالانکہ فیڈ بیک وہ ہوتا ہے
11:03جو بندہ کھانے والا کھائے
11:05اور کھانے ہی
11:05کہیں وہ مزہ آگیا ہے
11:07یہ اصل فیڈ بیک ہے
11:09تعریف یہ ہے
11:10اور جو بندہ چاہت کر کے
11:12خود سے لے
11:13تو بیسیکل ہی ایک قسم کا
11:15پہلے ایک رواج کے طور پر کہنے
11:18تو شاید آمال ضائع نہ ہو
11:20لیکن اگر قرآن و حدیث کے مطابق دیکھیں
11:22تو انہوں نے اپنی ساری میند کو ضائع کر دی
11:24ہم نے کرتے ہی انہیں کی
11:26تو آپ نے فلفورت دوہن کیسا نہ گئی
11:28تو وہ ظاہر تعریف کرے گا
11:31تو گویا کہ آپ کی تعریف جو تھی مقصد
11:33وہ تعریف ہو گیا
11:34وہ جو اللہ کی رضا کی
11:36یا جو مین مقصد اللہ
11:37تو جو بھی اچھا عمل کریں
11:40جو بھی نیک کام کریں
11:41تو اس کا مین مدعا اور اس کی جو خواہش ہے
11:45وہ صرف اور صرف
11:46اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہونا چاہیے
11:48نہ کہ کوئی آن
11:50اسی طرح پھر
11:52اللہ تعالیٰ نے اشار فرمایا
11:54ہم نے چونکہ کافی آج
11:56نماز کی وجہ سے تھوڑا لیکھ شروع کیا تھا
11:59تو دس منٹ آرہ دیں گے
12:01تو اس کے بارے شروع ہوئے
12:02سو آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں
12:05اللہ تعالیٰ نے فرمایا
12:07فَمِمَا رَحْمَتٍ مِّنَ الْمَاحِ لِنْ تَعْلَهُمْ
12:11تو یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے
12:13جس کی وجہ سے آپ نرم مزاج ہیں
12:15وَلَوْكُمْ تَفَضَّنْ غَلِيْضَ الْقَلِمِ
12:20اگر آپ تنخو ہوتے
12:22یا سخت دل ہوتے
12:24لَنْ فَدُّو مِنْ حَوْلِكْ
12:26تو یہ صحابہ اکرام علیہ وردوان کی جو جماعت ہے
12:29یہ آپ کی طرف جو کھنچے آتے ہیں
12:31دل اور رات آپ کے مناوے پہ حاضر ہوتے ہیں
12:33یہ آپ کی جن سے ہٹ جاتے ہیں
12:36یہ چلے جاتے ہیں
12:37تو آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم کی
12:39جو رحمت ہے وہ کیا ہے
12:40اور کتنی بڑی رحمت ہے آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم کی
12:43اس کے بارے میں اگر ہم دیکھیں
12:45تو یہاں پہ بہت سے واقعات ہیں
12:47جو ہمیں ملتے ہیں
12:49اور آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
12:52نے ایک تو افوہ درگ گزر
12:53جو اس کا حکم لیا ہے
12:55وہ بھی احادیث سے ہمیں ملتا ہے
13:01پڑھیں گے اور انشاءاللہ اس کے بعد ختم کریں گے
13:03امام بخاری رحمت اللہ تعالی
13:05انہوں نے بیان فرمایا
13:06بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابو حریرہ
13:09رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں
13:11کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:13سے اتقاضہ کیا
13:15اور بہت بدکلامی کی
13:16آیاب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
13:19جو صحابہ اکرام علیہ وآلہ وسلم تھے
13:21انہوں نے چاہا کہ
13:23اس کی پٹائی کرنے یا اس کو مارے
13:24اب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:27کہ اس کو چھوڑ دے
13:27کیونکہ صاحب حق کے لیے بات کرنے کی
13:30گنجائش ہوتی ہے
13:31اور ایک اوٹ خرید کر اس کو
13:34فرمایا کہ اس کو اس کا حق ادا کریں گا
13:36ایک اوٹ خرید کر اس کو دے گا
13:38صحابہ اکرام علیہ وآلہ وسلم نے
13:40کہا کہ اس وقت جو اوٹ دستیاب ہے
13:43اس کے اوٹ سے افضل ہے
13:45یعنی اس کا ممکن ہے
13:48کہ اس کا بیگرہ نہیں ہے
13:50کہ اس شخص کا کوئی اوٹ گن گیا ہے
13:52یا کسی نے لے لیا
13:53صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آتے
13:55اس نے تقاضہ کیا
13:56اور انتہائی نہندات
13:58نامناسب انداز میں تقاضہ کیا
14:01تو صحابہ اکرام کو گصہ
14:03یا انہوں نے چاہا کہ اس کو بارے
14:05صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
14:07کہ اس کو چھوڑ دیں
14:07ظاہر ہے اس کا مقصان ہوا ہے
14:09تو وہ اپنی مقصان کے لیے تقاضہ کر رہا ہے
14:11تو فرمایا کہ اس کو ایک اوٹ اپنی طرف سے آپ دے دیں
14:13تو اگر اس کا اوٹ نہیں ہوا
14:14تو صحابہ اکرام علیہ وسلم نے ارز کیا گیا
14:18یا رسول اللہ ہمارے پاس جو اوٹ موجود ہے
14:20وہ تو بہتر اوٹ ہے
14:22اس کا اوٹ تو اتنا بہتر نہیں تھا
14:23یعنی اتنا بہنگا نہیں تھا
14:25تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
14:27کہ وہی اس کو ادا کرنے
14:28جو اوٹ بہتر موجود ہے
14:30کہ اگر خرید کے اوٹ دینا ہے
14:32تو اس کو بہتر اوٹ دینا ہے
14:33کیونکہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے
14:36جو قرض کو اچھے طریقے سے ادا کرنے
14:38تو گویا کہ اگر کوئی شخص آگے
14:45بدقلامی بھی کر رہا ہے
14:46آج کے محمد نے الفاظ میں کہے
14:49تو بدقلیزی بھی کر رہا ہے
14:50تو اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کا
14:52آپ نے حکم دیا
14:53سراکہ بن مالک
14:56ان کو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:58میں موافر بانی جاتا
14:59حضرت برہ بن عاظب رضی اللہ تعالی
15:02نو بیان کرتے ہیں
15:03کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:05مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے
15:08تو سراکہ بن مالک
15:09اس نے آپ کا پیچھا کیا
15:11نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
15:14نے اس کے خلاف دعائیں
15:16ضرر سرمائی
15:17اس کا گوڑا جو ہے اس میرے میں تنسلیہ
15:19یہ بیسیکلی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:26کے پیچھے جناہ تھا
15:27انہیں جا کے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:29کو شہید کرتے ہیں
15:30تو اسی رادے سے چلا تھا
15:32جب قریب پہنچا تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:35نے اس کے لئے دعائیں ضرر کر دی
15:36نقصان کی دعا
15:38تو اب اس کا گوڑا جو ہے وہ
15:40زمین کے اندر چلا گیا
15:41تو اس نے پھر ریکوست کیا
15:43کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:44مجھے معافر ماہ دیں
15:45میرے لئے
15:46تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:49نے اس کو جب معاف کیا
15:50اور اس نے وعدہ کیا
15:53کہ میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا
15:54بات یہ وائیات میں ہے
15:56کہ تین نفعہ سا ہوا
15:57تو اس نے کہا
15:58جی میں آپ میرے لئے دعا کریں
16:00کہ اللہ مجھے معاف کر دیں
16:01تو جیسے معاف کیا
16:04تو پھر سے وہ
16:05برے ارادے سے آپ کی طرح
16:07تو اس روایت میں ہے
16:08کہ ایک دفعہ جب
16:09جیسے اس نے وعدہ کر دیا
16:11کہ یہ حسول اللہ
16:11آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہویا
16:13تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:14نے پھر اس کو
16:15معاف فرما دیا
16:18تو پھر اس کا گوڑا باہر نکلایا
16:22اسی طرح عبد الرحمن بن مالک
16:25یہ جو سراکہ بن مالک
16:27اس کے متیجے
16:28وہ روایت کرتے ہیں
16:30کہ سراکہ بن مالک بیان کرتے ہیں
16:31کہ ہمارے پاس
16:33کفارِ قریش کی قاصد آئے
16:35اور انہوں نے قریش سے یہ
16:37انہوں نے کہا
16:38کہ قریش نے یہ اعلان کیا ہے
16:40کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
16:42اور حضرتِ عبو بکر صدیق
16:44رضی اللہ تعالی عنہ
16:45ان کو قتل کرے گا
16:47یا ان کو گرفتار کر کے
16:48ہمارے پاس لے آئے گا
16:50تو ہر ایک بدلہ میں
16:52اس کو سو اونٹ انعام دیے جائے گی
16:55تو اسی وقت
16:57ایک شخص آیا
16:58اور اس نے کہا
16:59کہ میں نے ساحل کے ساتھ ساتھ
17:01کچھ لوگوں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے
17:02اور میرا گمان یہ ہے
17:04کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
17:06اور ان کے اصحاب ہیں
17:07تو میں نے اس کو ٹالنے کے لیے کہا
17:10کہ وہ نہیں ہوگے
17:11لیکن تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہوگا
17:13میں نے تھوڑی دیر تک
17:14یعنی میں تھوڑی دیر وہاں پہ بیٹھا رہا
17:17پھر میں گھر گیا
17:18میں نے اپنی قریش سے کہا
17:20کہ میری گوڑی کو فلاں ٹھیلے کے پیچھے لے جائے
17:22میں اپنا نیزہ لے کر گوڑی میں
17:25یعنی سراکہ بن مالک جو ہے
17:27ان کے بدیجے بیان کرتے ہیں
17:30کہ سراکہ بن مالک نے کیا کیا کیا تھا
17:31تو کہتے ہیں کہ گوڑی تیار کی
17:34لوگوں کو ہٹ آیا اسے
17:37جب ایک مند آگے اس نے کہا
17:39کہ یہ کفارِ قریش نے جو ہے
17:40یہ ارادہ دیا ہے
17:42کہ جو بھی جا کے ان لوگوں کو قتل کرنے گا
17:44یا کہن کن کے لیے آئے گا
17:45تو ان کو سو سو اون انا ملے گیا
17:48تو سراکہ بن مالک نے وہاں پہ
17:50اس خبر لانے والے کو کہا
17:52اور جس نے دیکھا تھا
17:54کہ وہاں پہ جا رہا ہے
17:55نبی صلی اللہ علیہ وسلم
17:56آگ کے ساتھ ہی
17:57تو اس کو کہا وہ نہیں ہوگی
17:59وہ شاید کوئی اور ہوگی
18:00تو بیسری کے لیے وہ دل میں کیا کہہ رہا ہے
18:02کہ لوگوں کو بنا گا جا ہے
18:03کہ کوئی اور نہ چلا جائے
18:04میں خود جاؤں گا
18:05تو کشنر بیٹھا رہے
18:08پھر جیسے ہی سب لوگ
18:10یعنی وہاں سے چلے گئے
18:11تو انہوں نے گھر جا کے تیاری کی
18:13اپنی کنیز کو کہا
18:14کہ میری اونٹلی جو ہے
18:15میری گوڑی جو ہے
18:16اس کو فلان جگہ پہ
18:17ٹیلے کے پاس لے جائے
18:18اور خود نیزہ اور تیاری کر کے
18:20چلے
18:22اور وہاں پہ جب ان کے قریب جا پہنچے
18:26تو پھر کیا ہوا ہے
18:27کہ ترکش سے ایک تیر نکالنا
18:29اور فال نکالنا
18:30یہ مشرقی نے مکہ فال نکالنا کرتے تھے
18:33تو وہ نکالی
18:34تیر چھوڑا
18:35تو کہتے ہیں کہ فال میرے خلاف شکریہ
18:37تو مجھے یعنی بیسی کے لیے
18:39وہ جو اپنے وہ کرتے تھے
18:41اس نے بھی اس کو منع کیا
18:43کہ یہ کام نہ کریں
18:44ٹھیک ہے
18:45تو وہ کہتے ہیں کہ پھر باز نہیں آئے
18:48پھر چلتے رہے ان کے پیچھے
18:49ٹھیک ہے
18:50کچھ آگے گئے پھر وہاں پہ جا کے
18:52پیچھا کرتے کرتے
18:53پھر جا کے پھر سے تیر نکالنا
18:55فال نکالی
18:56تو پھر بھی اس کے خلاف آئی
18:58تو اس طرح کرتے رہے
19:00لیکن پیچھا کرنے سے باز نہیں آئے
19:02یہاں پھر کہتے ہیں
19:04کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:05کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی
19:07آپ
19:08یعنی آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
19:10ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے
19:11جبکہ حضرت عبو مکر صلی اللہ تعالی عنہ
19:14وہ چاروں طرف دیکھ رہے تھے
19:16ادھر ادھر دیکھ رہے تھے
19:17تو وہ کہتے ہیں کہ اچانک کیا ہوا
19:19کہ میری گھوڑی کے اگلے دونوں پہر
19:22اور جیسے گھوڑی آگے سے
19:26یعنی بے وزن ہوئی نا
19:28تو یہ اوپر سے نیچے آتے رہے
19:30تو وہ کہتے ہیں کہ میں گر گیا
19:33تو میں نے اس گھوڑی کو ڈانٹا ہے
19:35لیکن اس کے پیر زمین سے نہیں نکل سکے
19:37میں نے پھر تیر نکالا
19:40اور فال نکال لی
19:41تو اس بفعہ پھر سے تیر اور فال
19:43اس نے میرے خلاف دیا
19:45کہ آپ یہ کام نہ کریں
19:47تو کہتے ہیں پھر میں نے
19:49رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:50اور حضرت ابو مطح صدیق
19:52یعنی ان کو ریکوست کیا
19:56کہ آپ میری گھوڑی کو نکال لیں
19:57یعنی میرے خلاف جو ہے
19:58مجھے امان دے
20:00اور میں نے ان سے وعدہ کیا
20:02کہ میں بھی آپ کو امان دیتا ہوں
20:03یعنی میں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہوگا
20:05تو پھر وہ ٹھہر گئے
20:07اور میں اپنی گھوڑی پر سوار ہو
Comments

Recommended