Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
40. 2/3, Weekly Dars-e-Quran,
Lecturer: Hafiz Muhammad Imtiaz Ali
Surah: Aal-e-Imran,
Para: 4, Verses: Ayah 177 & onwards
Date: Thursday, 13 November 2025
Venue: Hillview Islamic & Education Centre Location: Glasgow, Scotland, United Kingdom
Join us for this insightful weekly Dars as Hafiz Muhammad Imtiaz Ali continues the tafsir of Surah Aal-e-Imran, beginning from Ayah 177. Delivered at the Hillview Islamic & Education Centre, this session offers reflections and lessons drawn directly from the Qur'an.
Transcript
00:00تین سو کے قریب ملافق جو ہے وہ جنگ چھوڑ کے چلے گئے تھے
00:03تو اللہ تعالیٰ نے ملافقوں کو بالکل واضح ہمارا گیا
00:06مومنوں کو بھی بدا چلے گیا
00:08اللہ اور اس کے رسول تو پہلے سے جانتے تھے
00:11لیکن مومن جو ہے عام جو مسلمان تھے
00:13ان کو اس وقت بدا کر گیا کہ یہ پکے ملافق ہیں
00:16اسی طرح کر
00:19جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا
00:25کہ حمراء الاصل کے مقام پر
00:27ابو سفیان دوبارہ مدینہ پر حملہ کی تیاری کر وہاں ہے
00:30تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
00:33مسلمانوں کو اس کا تعاقب کرنے کا حکم دیا
00:36تو اس وقت جو ہے
00:37مسلمان اگرچہ شکستہ دل تھے
00:40ٹوٹے ہوئے دل تھے
00:41بظاہر اگر ہم دیکھیں گریابی لہا سے
00:43تو بظاہر جنگ ہارے گئے گئے
00:45بظاہر آگے گئے گئے
00:46تو اگرچہ وہ جنگ بھی مسلمان جیتے ہیں
00:49اس لحاظ سے کہ وہاں سے جو جو
00:50تعلیمات ملی ہیں
00:57کشادہ کی ہیں کھو دیا ہیں
00:59تو اس سب کے بعد
01:01جماع قدری صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا
01:03فوراً چکڑے ہیں
01:06کہ عمو سفیان نے اس کا لشکر
01:07واپسی حملہ کی تیاری کر رہا ہے
01:09تو اللہ تعالی نے پھر ان کے دلوں پر
01:12روب داری کر دی ہے
01:13یہ ہمیں پیچھے دروس میں پڑھ لیا ہے
01:16کہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر
01:18روب داری دیا
01:19ان کو ایک دفعہ یہ خیال آیا تھا جب ہونے شروع ہوئے تھے
01:21کہ ہم ابھی جائیں واپس
01:23ودینہ پر حملہ ترے
01:24اور مسلمانوں کو ایک ہی دفعہ میں خانم آنے
01:26تو اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر
01:28روب داری کر دیا
01:29تو بھر وہاں سے واپس آنے کے اونے کوئی جو رب دی گئے
01:32چلے گئے
01:32تو فرمایا کہ منافق جو ہے
01:35اس وقت بھی مسلمانوں کو چھوڑ کے
01:36چلے گئے تھے
01:37تو اللہ تعالی نے اس طرح ان کو علت دیگا دیا
01:39اور اس آئیت میں مارکہ میں
01:42اللہ تعالی نے
01:43آقدری صلی اللہ علیہ وسلم
01:44کیا ساتھ دینے والوں کو تحییب کرا دیا
01:47اور یہ سات سو صحابہ اکرام علیہ وسلمان تھے
01:51اور ان میں
01:52خلفہ راشدی چاروں صحابہ
01:55حضرت عبو بکر صدیق
01:56حضرت عمر فاروق
01:58عثمان گنی
01:59اور حضرت علی قطر اللہ رجح و کریم
02:01یہ چاروں جو چلیل القدر صحابہ
02:03یہ چاروں کے چاروں مہت موجود تھے
02:06تو اگر اس آئیت مبارکہ کو ہم دیکھیں
02:08اور صحابہ کو دیکھیں
02:09تو یہ چاروں اور دیگر جو ساسوں وہاں پر موجود تھے
02:12تو انت سب کو اللہ تعالی نے طیم کہا ہے
02:15ان کے ایمان کی گواہی دی ہے
02:17اور ان کو پاکیزہ کرا دیا ہے
02:19یہاں سے میں پتہ چلتا ہے
02:20کہ اگر کوئی شخص ان چاروں کے بارے میں
02:23یا ان کے سے کسی بھی ایک کے بارے میں
02:25بدغومانی کرے
02:26بدخیالی کرے
02:28یا ان کے بارے میں
02:29بدتمیزی کرے
02:30بدزبانی کرے
02:32تو گویا کہ اس کا اسلام کے ساتھ تعلق لی ہے
02:35کیونکہ اللہ تعالی نے
02:37جن کو مومن کرا دی ہے
02:38جن کی پاکیزگی کی اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے
02:41تو اگر ان کے بارے میں کوئی معاذ اللہ ظالم کہے
02:44جابر کہے یا کچھ بھی کہے ان کے بارے میں
02:47یہ طرح طرح کی لوگ بولتے ہیں دوسرے کی مخالفت میں
02:50تو یہاں تک بعض لوگ معاذ اللہ کہتے ہیں
02:54کہ آقاقریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسلم مبارک کے بعد
02:57چھے کے سوا تمام اصحاب یہ ہیں وہ مرتد ہو گئے تھے
03:01یہاں تک لوگ کرتے ہیں
03:04کہ صرف چھے صاحب آنے ہیں وہ بچ گئے تھے
03:06اور باقی سارے ہیں وہ معاذ اللہ محترد ہو گئے
03:11ایسے لوگ جن کی اللہ تعالیٰ
03:14قرآن پاک میں نواہی دے ان کے بارے میں
03:16کون ہے ایسا سخت دل جو یہ باتیں کر سکتا ہے
03:19تو معلوم ہمیں یہ ہوتا ہے کہ
03:26اے جیے جو چریل و قدر صحابہ اقرام علیہ وسلم
03:28ان کے بارے میں ہمیں اپنی زبان کو اور اپنے دل کو
03:32اپنے خیالات کو ہمیشہ کنٹرول رکھا چاہیے
03:35کہ ان کے بارے میں اور اسی وجہ سے
03:37بظاہر جو ہم دیکھتے ہیں
03:40کہ نزبہ اوہل میں جن پچاس سو آنے اقرام علیہ وسلم
03:43کی ذمہ داری لگائی گئی تھی
03:44تیر انگازوں کی
03:45کہ یہاں سے آپ نے ہٹنا نہیں ہے
03:47آج کل بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ کون تھے جی
03:50ان کے بارے میں بہتے کیوں نہیں گئے
03:51آپ کا رہی نے جب ان کو باظر حکم دیا تھا
03:54تو حکم دیا تھا ان سے
03:56کہہ لے آپ ہوں گی غلط ہی ہوگئی ان سے
03:59کتا ہی ہوگئی ایک نافرمانی کہہ سکتے ہوگئی
04:03تو لیکن اس کے بعد انہیں سب کے پاس
04:05اللہ تعالیٰ نے یہ اقوائیاں بھی تو دیئے ہیں
04:07تو گویا اللہ تعالیٰ نے اس سب کو معاف بھی
04:09فرما دیا اور ان کی پاکی زکی کی اقوائی بھی اللہ تعالیٰ نے دے رہی
04:13تو اب ہم ہماری اشارہ بھی شاہر نہیں
04:15ہمارے لائک نہیں ہیں کہ ہم ان کے بارے میں
04:17کوئی بھی کلام کریں ہم ان کو کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں
04:20ہم ان کو غلط ہی ہوئی ان سے
04:21اور اس کی جزا
04:29اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ
04:31اللہ کے شایر شان یہ نہیں ہے
04:33کہ وہ تم سب کو غیب پر متلے کریں
04:36عام مسلمان جو ہے ان کو غیب عطا فرمائیں
04:39بلکہ
04:45بلکہ اللہ تعالیٰ کے شایر شان یہ ہے
04:47کہ وہ اپنے رسولوں میں سے جیسے چاہیں
04:49اس کو غیب پر متلے فرمائیں
04:51تو رسولوں کو غیب اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں
04:55اس کے بارے میں یہاں پچھا دیکھ چیزیں ہیں
04:58فرمایا کہ
05:00اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے
05:02کہ تمہارے
05:04کو لوگوں کے دلوں کی احوال پر متلے فرمائیں
05:07ٹھیک ہے
05:08اور تم لوگوں کو دیکھ کر
05:10یہ جان لوگ کہ فلا شخص مسلمان ہے
05:12یا فلا شخص مومن ہے
05:13یا منافق ہے
05:14یا کافر ہے
05:15تمہارے اللہ کی یہ شان نہیں ہے
05:17تمہیں یہ بتا دیں
05:18اور فلا شخص منافق ہے
05:20یا کافر ہے
05:21انبتہ اللہ تعالیٰ مصائم
05:23آلام اور آزمائشوں کے ذریعے
05:25مومنوں کو
05:26منافقوں سے اور کافروں کا علم مطافر مولد تھا
05:30جیسے ابھی غصبہ احد میں جب تین سو کے قریم منافق جب چھوڑ کے نکلے
05:34تو ظاہر مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے علم دے دیا
05:37لیکن ان کو جو علم ملا ہے وہ جو ظاہر صاحب نے اپنے دیکھ کے ملا ہے
05:41اللہ تعالیٰ نے ان کو علم غیر دیا تھا
05:44جبکہ اللہ نے خود اللہ تعالیٰ نے علمتا تھا
05:47اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے بتا دیا تھا
05:50تو فرمایے گی اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جیسے چاہے
05:54اسے پہلے پہلے مجھٹا فرما دے
05:55اسی طرح اسلام کی راہ میں جب بھی جہاد کا موقع آیا
06:00تو منافق ہمیشہ پیچھے اپ گئے
06:02اور مسلمان ہمیشہ آگئے
06:03بڑے ماں سواء رسولوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے گیا
06:07اور مطلق کرنے کے لیے چل لیا تھا
06:09ان کے علاوہ اور لوگ ان چیزوں کو نہیں جانتے تھے
06:13اور اللہ کے جو رسول ہوتے تھے
06:16اور نور نبوت سے جان لیتے تھے
06:18پاہی کے ذریعے جان لیتے تھے
06:20نور نبوت کے ذریعے جان لیتے تھے
06:22جیسے بھی بنا سو سمجھتے ہیں
06:24اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا
06:28کہ
06:28اچھا اب یہ ہمیں ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے
06:31کہ اللہ تعالیٰ نے جو بنارے پاس برشاہ فرمایا
06:33قُل لا يعلم من فی السماوات والأرض الرغیم
06:37الا ما
06:38کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم
06:41آپ برشاہ فرما لیجئے
06:42کہ
06:43لا يعلم من فی السماوات والأرض الرغیم
06:46کہ جو کوئی بھی آسمان و زمینوں میں ہے
06:50وہ غیب کو نہیں جانتا
06:52الا اللہ سوائے اللہ کے
06:53یعنی آسمان و زمینوں میں جو بھی ہیں
06:56یعنی انسان کہہ لے
06:57اور آسمانوں میں فرشتے کہہ لے
06:59تو جو کوئی بھی ہیں وہ
07:01غیب کو نہیں جانتے سوائے اللہ کے
07:03تو یہاں پہ ہم نے جو پڑا ہے وہاں پہ تو یہ ہے
07:06تو
07:07اگر انبیاء اکرام علیہ السلام کے لیے
07:10علم غیب مانا جائے تو ظاہر ہے
07:12کہ اس میں ظاہر ہمیں یہی لگتا ہے
07:14یہ تو قرآن پاک کا اس میں ٹکرا ہوتا ہے
07:16ٹھیک ہے
07:17تو تعارض لازم آتا ہے
07:19تو اس کی وجہ یہ ہے
07:20کہ جب متلقاً
07:22علم غیب کہا جائے
07:24کہ وہ کسی کے پاس نہیں ہے
07:26سوائے اللہ کے
07:27یہاں پہ جو فرما رہا گیا
07:29تو اس سے مراد متلقاً علم غیب ہے
07:31علم غیب کا حقیقی مالک
07:33جو ذاتی طور پر علم غیب جس کے پاس ہے
07:36وہ صرف اللہ کی بات ہے
07:37کسی نبی کے پاس
07:39کسی رسول کے پاس
07:40کسی کے پاس بھی
07:41علم غیب
07:42بذاتِ خود نہیں ہے
07:44سوائے اللہ
07:44تو یہاں پہ جو مراد ہوگی
07:47کہ اللہ کے علاوہ
07:52زمین و آسمانوں میں
07:53جو کوئی بھی ہے وہ غیب نہیں جانتا
07:55تو گویا کہ حقیقی غیب
07:57صرف و صرف اللہ کے پاس ہے
07:58زمین و آسمانوں میں
07:59کسی کے پاس نہیں ہے
08:01ہاں زمین و آسمانوں میں
08:02جس کو اللہ چاہے چنلے
08:04اور پھر اس کو عطا فرما لیں
08:05وہ والا جون ہے
08:07پہلی آئے
08:07تو اللہ جسے چاہے چنلے
08:09اور اس کو جتنا چاہے
08:10پھر عطا فرما لیں
08:11ایسا بھی نہیں ہے
08:12کہ سبی کو ایک مرابر عطا فرمایا
08:13کسی کو پھر عطا فرمایا
08:15کسی کو زیادہ عطا فرمایا
08:16مفسرین کرام
08:19علیہ و عبدوان نے
08:21یہاں میں کچھ عمارات نکل کی ہے
08:24مثال کے طور پر
08:25امان فخر الدین
08:26راضی رحمت اللہ تعالیٰ
08:27جلیل قدر امان ہے
08:29تفسیر پر
08:30ان کا بہت زیادہ ورک ہے
08:31اور ہمارے جو
08:33اہلِ حدیث آبا
08:34میں ان کو بہت زیادہ
08:35فعلو کاتے ہیں
08:35یعنی ان کے ہاں
08:36یہ محمود پرناہ
08:37نہیں
08:38سب ہی فعلو کرتے ہیں
08:40لیکن ان نسبت
08:41ان تھا زیادہ کرتے ہیں
08:42تو وہ بیان فرماتے ہیں
08:44کہ
08:45اللہ تعالیٰ نے
08:46تم سب کو غیب کا علم
08:48نہیں بتایا
08:49جیسے یہ علم
08:51اپنے رسول کو
08:52بتایا ہے
08:53حتیٰ کہ تم
08:54رسول سے
08:55مستمری ہو جاؤا
08:56وہ فرماتے ہیں
08:57کہ اگر تمہیں بھی
08:58غیب کا علم
08:59ادا فرماتے ہیں
09:00جو رسول کو
09:00ادا فرمایا تھا
09:02تو پھر تمہیں
09:03تو رسول کی ضرورت
09:04نہیں رہتی
09:04تم تو مستمری ہو جاتے
09:06تمہارا تو
09:06ان کی طرف
09:07کوئی تعلق
09:08باقی نہیں رہتا ہے
09:09تمہیں رسول کی
09:10ضرورت ہی باقی
09:11نہ رہتی
09:12تو میں اس وجہ سے
09:13تمہیں نہیں
09:14ادا فرمایا
09:14صرف اور صرف
09:15رسول کو ادا فرمایا
09:17بلکہ اللہ تعالیٰ
09:18اپنے بندوں میں
09:19جس کو چاہتا ہے
09:27تاکہ ان کی
09:29اطاق کریں
09:29تو
09:30اس سے پہلے
09:32امام رازی رحمت اللہ
09:33تعالیٰ نے
09:35یہ بھی لکھا ہے
09:35کہ غیب پر
09:36متعلق ہونا
09:37انبیاء اکرام
09:38علیہ السلام کے
09:39خواس میں سے ہے
09:40ان کا ایک قور
09:41یہ بھی ہے
09:42کہ انبیاء اکرام
09:43کو جو خصوصیات
09:44حاصل ہیں
09:45ان میں سے
09:46ایک یہ بھی ہے
09:47کہ اللہ تعالیٰ
09:48کو غیب کا
09:49علم ادا فرما دیتے ہیں
09:50اسی طرح
09:51امام
09:51قرطبی رحمت اللہ
09:53تعالیٰ
09:53وہ فرماتے ہیں
09:54کہ اللہ تعالیٰ
09:55غیب پر
09:56متعلق کرنے کے لئے
09:57اپنے رسولوں
09:59کو چل لیتا ہے
10:00اور اسی طرح
10:02امام
10:03ابو الحیان
10:04محمد بن یوسف
10:05اندرسی رحمت اللہ
10:07تعالیٰ
10:07وہ بیان فرماتے ہیں
10:08کہ اللہ تعالیٰ
10:09علم غیب سے
10:11علم غیب سے
10:12جس پر چاہے
10:14اپنے رسولوں
10:15کو متعلق فرما دیتا ہے
10:16یعنی علم رہب کا
10:17جتنا حصہ
10:18اللہ تعالیٰ چاہے
10:18اپنے رسولوں
10:19کو عطا فرما دیتا ہے
10:21پر بس
10:22رسول کا غیب پر
10:23متعلق ہونا
10:24اللہ تعالیٰ کی
10:25اس کی طرف
10:26وہی کے ذریعے
10:27ہوتا ہے
10:27اہدا نہیں ہے
10:28وہی کے ذریعے
10:29ہوتا ہے
10:29سوء اللہ تعالیٰ
10:30غیب سے
10:31یہ خبر دیتا ہے
10:32کہ فنان شخص
10:32میں اخلاص ہے
10:33اور فنان شخص
10:35میں اسلام
10:35اخلاص نہیں ہے
10:36بلکہ نفاق ہے
10:37تو
10:38ان کو یہ
10:39وہی کے ذریعے
10:41معلوم ہو جاتا ہے
10:42خود بخود
10:43بغیر واسطہ
10:44وہی کے
10:45یہ کبھی
10:46ان کو معلوم نہیں
10:47ہوتا
10:47تو اللہ تعالیٰ
10:48ان کو
10:48وہی کے ذریعے
10:49یا
10:50اس کے
10:51القاع کے ذریعے
10:52اللہ تعالیٰ
10:52ان کو
10:53بتا دیتے ہیں
10:53تو یہ چند
10:56ایک چیزیں ہیں
10:57جو علم غیر کے
10:58زمن میں
10:59یہاں پہ بیان ہوئی
11:00اور پھر
11:00اسی طرح
11:02آقا قریب
11:06صلی اللہ علیہ وسلم
11:06کے بارے میں ہے
11:07یہ ایک
11:07بحث ایسی ہے
11:08جو پاکستان
11:09انڈیا میں
11:10ہمارے ملکوں
11:10میں بہت زیادہ ہوتی ہے
11:11حالانکہ یہ ایسی
11:12محص نہیں ہے
11:13جس پر
11:14اسلام کا
11:15یا ایمان کا
11:15دعوت دار ہو
11:16یہ ہمیں یاد کر جائے
11:17کوئی شخص
11:18یہ مان لے
11:19تب بھی وہ
11:20مسلمان رہے گا
11:21کوئی شخص فرض کرے
11:22نہیں بھی مانتا
11:22تب بھی وہ مسلمان رہے گا
11:24یہ ایسا نہیں ہے
11:24پلرز آف اسلام
11:25اسے نہیں ہے
11:26آقا کی شان ہے
11:28یعنی اللہ نے
11:29ابھی جو ہم نے پڑھا ہے
11:29کہ اللہ کے
11:30اپنے رسولوں میں سے
11:31جیسے چاہے
11:32اسے عطا فرماتا ہے
11:33تو اب یہاں پہ
11:35چند ایک چیزیں ہیں
11:36آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:38کو یہ علم عطا ہوا
11:40یا نہیں
11:40ہم احادیث کے
11:42روشنی میں
11:42یہاں پہ دیکھتے ہیں
11:43امام محمد بن اسمائیل
11:45بخاری رحمت اللہ
11:46تعالیٰ لے
11:47کو بیان کرتے ہیں
11:48کہ حضرت ابو موسیٰ
11:50اشعری رضی اللہ تعالیٰ
11:51اب کو بیان کرتے ہیں
11:52کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
11:54سے چند چیزوں کے
11:55کو تعالیٰ لے ایک سوال کیا گیا
11:57جن کو آپ نے
11:58ناپسن فرمایا
11:59ٹھیک
12:00جب آپ سے زیادہ
12:02مرتبہ سوالات کیے گئے
12:03آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:05تھوڑا
12:05بیسر میک ہوئے
12:06تھوڑا ناراض ہوئے
12:07اور آپ نے فرمایا
12:09کہ
12:09جو چاہو
12:10مجھ سے سوال کرو
12:11ایک شخص
12:13اٹھ کے کھڑا ہوا
12:13اس نے ارض کیا
12:14کہ
12:14یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:16میرا باپ کون ہے
12:17آپ نے فرمایا
12:18تمہارا باپ
12:19اضافہ ہے
12:20دوسرے شخص
12:21نے ارض کیا
12:22کہ
12:22یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:23میرا باپ کون ہے
12:24آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:26نے فرمایا
12:26تمہارا باپ
12:27شہبہ کا
12:28ازاد تردہ
12:29غلام
12:29صالب ہے
12:30یہ دو شخصوں
12:32نے یہ پوچھے
12:32اور دونوں کے
12:33وہ باپ نہیں ہیں
12:34یہ یہاں پہ بیانی ہے
12:35حدیث میں
12:37اس وقت
12:37تشریحات میں
12:38یہاں پہ لکھا ہوا ہے
12:39کہ دونوں کے جو باپ تھے
12:41جن کو وہ باپ کہتے تھے
12:43یا جو
12:43اپنے گھروں میں
12:44کوئی تھے
12:44وہ دونوں یہ نہیں تھے
12:46جب انہوں نے یہ پوچھا
12:48تو انہوں نے پھر
12:48اپنے گھروں میں
12:49جا کے تحقیق کی
12:50ان میں سے ایک نے
12:51تو اپنی والدہ کی
12:52گندر پر ترواد کی
12:53اس نے کہا
12:53اتاویہ باپ
12:54تو جو اس نے
12:56جب اس کی والدہ
12:58نے کوئینا ہے
12:58تو وہی ایکزیکل کی گانت
13:00ہے جو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:01نے اس کو دے رہا ہے
13:01تو اب جب دو شخصوں نے یہ پوچھا
13:04دو شخص نے
13:05کھڑے ہوئے پوچھا
13:06تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی
13:09انہوں نے
13:09آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:11کے چہرے میں
13:11غزب کے آثار بھی دیکھے
13:13تو انہوں نے سمجھ لیا
13:15یہ مواملات
13:15ایسے اگر کوئی پوچھتا جائے گا
13:17تو یہ مواملات کھل رہے گی
13:18یہ تدری کیا کیا نکل کیا دے گیا
13:20تو انہوں نے آج کیا
13:21کہ آس اللہ علیہ وسلم
13:23آپ ہمیں معاف کرتے ہیں
13:24ہم اللہ تعالیٰ کی مارکہ میں
13:25توبہ کرتے ہیں
13:26آئندہ سے ایسے سوالات
13:28ہم نے کریں گے
13:29تو پھر کونوں نے کہہ
13:30کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:31کو آپ کا جو غصہ ہے کہہ لیں
13:33کہ اس کو دوری ہے
13:35تو اب
13:38یہاں سے میں یہ پتہ چلتا ہے
13:39کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:41نے فرمایا کہ
13:41جو چاہو مجھ سے پوچھ لوں
13:43تو کیا کوئی ایسا شخص
13:45یہ کہہ سکتا ہے
13:46جس کو چیزوں کو پتہ نہ
13:47ایک بات یہ
13:51اور دوسری بات یہ ہے
13:53کہ جنہوں نے پوچھا ہے
13:54انہوں نے کیا پوچھا ہے
13:56کوئی ایسی چیزوں نہیں پوچھی
13:57جو انہوں نے سامنے ہی تھی
13:58موجود تھی
13:58تو آقا کریں جنہوں میں
13:59دونوں احباب نے
14:02اپنے والد کا پوچھا ہے
14:04اور آپ یہ
14:06یاد رکھیں
14:07کہ والد کے والد
14:08والدہ کے علاوہ
14:10کسی کو نہیں پتا ہو سکتا ہے
14:12ابن کے والد کو
14:13خود بھی نہیں پتا ہو سکتا ہے
14:14اللہ نہ کرے
14:15کوئی عورت کسی دوسرے وقت
14:16جو حقیقی والد ہے
14:19شہد وہ بھی
14:20اتنا
14:20اس کو
14:21وہ نہیں کہہ سکتا
14:23یعنی
14:23اتنے
14:25اتنے
14:25نامے سے نہیں کہہ سکتا
14:26کہ میں اس کا بات
14:27آئیت کا پوچھا نہیں
14:28آپ کہہ سکتے ہیں
14:28یہ چیزیں آگئی ہیں
14:30لیکن اس وقت کی بات
14:32آپ نے
14:32تو عورت کے علاوہ
14:34کوئی نہیں جان سکتا
14:35کہ اس کا بات ہونا ہے
14:36تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:38نے اس کو بتایا ہے
14:39اور پھر اس نے جا کے
14:41گھر میں
14:41اپنی والدہ کی
14:42گھر میں پہ تلوہ رکھ رہی
14:44اس نے کہا بتا
14:44جب آپ کو
14:45کیونکہ وہ بھی جانتے تھے
14:47کہ جو اللہ کے نبی کہتے ہیں
14:48یہ سچ کہتے ہیں
14:49اور اللہ کے نبی کو
14:51اللہ تعالیٰ نے جو علمِ غیبت
14:52آفرمایا تو یہ تھا
14:53کہ کم کون پیدا ہوا ہے
14:55اور
14:56اس عورت کے پاس
14:57کہوں گیا ہے
14:58کس سے یہ
14:58اس کا
14:59مغام میں بچہ قیرہ ہے
15:01اللہ تعالیٰ نے وہ بھی
15:03ان کو تعافرمایا
15:04تو گویا کہ
15:05ہر ہر چیز
15:06جو اہلے ہو چکی ہے
15:08وہ بھی آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
15:10جانتے ہیں
15:10اور جو بعد میں ہونے والی ہیں
15:12اس کے بارے میں بھی
15:12پڑھتے ہیں
15:13کہ
15:14حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ
15:18وہ بیان کرتے ہیں
15:19کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:20ہمارے دمیان
15:21ایک مجلس میں کھڑے ہوئے
15:23پھر
15:24آپ صلی اللہ علیہ وسلم
15:25نے
15:26امتدائے خلق سے
15:27یعنی جب سے
15:29دنیا تخلیق ہونا شروع ہوئی
15:31تب سے لے کہ
15:32خبریں بیان کرنا شروع ہوئی
15:34حتیٰ کہ جنتیوں کو
15:36اپنے ٹھکانوں تک جانے
15:38اور جہنمیوں کے
15:39اپنے ٹھکانوں تک جانے
15:41جانے تک کی خبریں آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
15:43ہمارے دمیان کرنے
15:45سو جس شخص نے
15:47ان کو یاد رکھا
15:48اس نے یاد رکھا
15:49اور جو بھول گیا
15:50سو بھول گیا
15:51سو بھول گیا
15:51سو بھول گیا
15:52کہ جب سے دنیا بنی ہے
15:53اور جب تک
15:55جنتی جنت میں داخل ہو گئے
15:56جہنمی جہنم میں داخل ہو گئے
15:58وہاں تک ہر چیز آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دی
16:01اگر جس نے یاد رکھا
16:03اس کو یاد رہا
16:04اس کو لے گیا
16:04جس کو بھول گیا
16:05اسو بھول گیا
16:06اسی طرح حضرت حضیفہ ربی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
16:10اسی طرح حضرت حضیفہ ربی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
16:14کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
16:16ہم میں ایک تقریر فرمائی
16:18اور اس میں قیامت تک ہونے
16:20والے تمام امور کو بیان فرمائی
16:23جس شخص نے اسے جان لیا
16:25جس شخص نے لیا جان لیا
16:28یعنی بھول گیا سب گئی
16:29یعنی جس نے سنتے ہوئے نہ سنا
16:32جیسے ہوتا ہے کہ بعض اوقات
16:34بندہ کوئی خیال میں بھول ہوتا ہے
16:35تو سنتے ہوئے بھی نہ سننا ہوتا ہے
16:37تو فرمائی کہ جس نے جان لیا جان لیا
16:39اس نے نہیں جانا
16:40اس نے نہیں جانا
16:41یہ دونوں روایت جو ہے
16:43یہ بحاری شریف کی ہے
16:44اسی طرح امام مسلم
16:46مسلم شریف کی روایت یہ ہے
16:49کہ حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ انہوں بیان کرتے ہیں
16:52کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سبوں کی نماز پڑھائی
16:56اب یہ والی تھوڑی ڈیٹیل ہے
16:57اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا کے
17:01ممبر پر جلوہ فروز ہوئے
17:03اور ہمیں ختمہ دیا
17:05اور بیان کرتے رہے
17:07حتیٰ کہ زہر کا وقت آگیا
17:08آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر سے نیچے تشریف لائے
17:12آپ نے زہر کی نماز پڑھائی
17:19خطبہ دیتے رہے
17:20یہاں تک کہ اثر کا وقت آگیا
17:22پھر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے
17:25اثر کی نماز پڑھائی
17:26اور پھر واپس آپ نے ممبر پر تشریف لے گئے
17:30اور خطبہ دینا شروع کیا
17:31حتیٰ کہ سورج مروب ہو گیا
17:34فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں
17:38تمام ماکانہ و مایکون کی خبریں عطا فرمائی
17:41ماکانہ کا مطلب جو کچھ ہو چکا تھا
17:45وہ بھی ہمیں بتا لیا
17:46و مایکون جو کچھ قیامت تک ہونا تھا وہ بھی ہمیں بتا لیا
17:50سب کچھ بتا لیا
17:51سو جو ہم میں سے زیادہ حافظہ ملا تھا
17:55اچھے ذہن ملا تھا
17:56اس کو یاد لائے گیا
17:57اور جو
17:58اس کو یعنی اس کو یاد لائے گیا
18:01اس کی پاس زیادہ ہی لکھا
18:02اور جو کھول گیا
18:03تو اب یہ والی تمام حدیث
18:06اور اس کے ساتھ ایک اور حدیشی میں دیکھتے ہیں
18:08حضرت عرصوبان رضی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرماتے ہیں
18:11کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں
18:13اللہ تعالی نے رضوے زمین کو لپیٹھ کر
18:17میرے سامنے رکھ دیا ہے
18:19کہ میں اس کے مشرق اور مدرب کو اس طرح دیکھتا ہوں
18:22جیسے اپنی حتیدی کو
18:23جیسے انسان اپنی حتیدی کو دیکھتا ہے
18:25آتا قریم صلی اللہ علیہ وسلم
18:26مشرق اور مدرب کو اس طرح دیکھتا ہے
18:29تو گھویا کہ یہ سارا کا سارا ظاہر ہے
18:32ہاں
18:33ہمارے پاکستان میں جو بحث ہو رہی ہوتی ہے
18:35وہ یہ ہو رہی ہوتی ہے کہ علم غیب سے
18:37کیا مراد ہے
18:38یعنی بیسیکلی انڈرسٹینڈنگ تھا خوڑا سا مراد ہے
18:40میں بھی واضح تک دوں
18:41کہ جو کہتے ہیں علم غیب نہیں ہے
18:44وہ کہتے ہیں یہ سارا کچھ
18:46جب دیکھ لیا حدیدی کے سامنے
18:47تو پھر غیب کہاں رہا
18:48ٹھیک ہے تو غیب تو نہیں ہے آپ کے پاس
18:51اور جو کہتے ہیں غیب ہے وہ کہتے ہیں
18:54غیب تو اس لحاظ سے ہے
18:55جو ہمارے سامنے چیز نہیں ہے
18:57اور حقیقت یہ ہے
18:58کہ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے
19:01تو واقعی غیب نہیں ہے
19:02کیونکہ اللہ تعالی نے سب کچھ بتا دیا
19:04جب بتا دیا تو پھر تو غیب نہیں ہے
19:06تو جو کہتے ہیں کہ غیب ہے
19:08وہ اس لحاظ سے ہے
19:10کہ ان کے لیے غیب نہیں ہے
19:12کیونکہ وہ جانتے ہیں
19:13غیب میرے یا آپ کے لیے ہے
19:15اگر ہم اس وجہ سے انکار کرتے ہیں
19:17کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
19:19علم غیب نہیں ہے
19:20کیونکہ وہ جانتے ہیں
19:21بات تو بنتی ہے
19:23سمجھ بھی آتی ہے
19:24کہ جب وہ پہلے سے ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں
19:27تو پھر غیب کس بات کر رہا ہے
19:29تو جو کہتے ہیں کہ جی ان کے پاس غیب نہیں ہے
19:31اس لیے یہ کو سامنے ہے ہر چیز ہو گئے
19:34تو اگر یہ والا
19:35اس وجہ سے غیب کا انکار کیا جائے
19:38تو یہ پھر
19:39اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
19:40اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو کہایا
19:42کہ عالی و نمیق و شہالہ
19:44تو اللہ تعالیٰ بھی تو ہر چیز کو جلتا ہے
19:46تو اگر وہ عالی و غیب ہے
19:49کہ انہیں وہاں چیز کو جلتا ہے
19:51تو وہاں پہ بھی ہم یہی اُرا دیتے ہیں
19:53وہ تو ہر چیز کو جاتا ہے
19:55لیکن ہم وہ چیز کو جاتا ہے
19:56تو جو چیزیں ہم سے غیب ہیں
19:59اس کے سامنے ہیں
Be the first to comment
Add your comment

Recommended