00:00أعوذ بالله اسم العظيم والشيطان العظيم
00:03بسم الله الرحمن الرحيم
00:05نحن الله الرسالي الرسالي
00:08وعلى راق صورة المبيه القريم
00:11أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان العظيم
00:16آج إن شاء الله على زيزه
00:18سورة النساء
00:19کی آيات نمبر 4 سے شروع کریں گے
00:22آيات نمبر 4 سے
00:24هم قرلتی بہلے ترجمة ساتھ
00:26لیکن اس بللل حق محر
00:28محر ہے اس کے مسائل ہیں
00:30وہ دیم محقی ہیں
00:32اس وجہ سے آج إن شب اس آئتیں
00:34وہ پڑھ کر دومارا سے پڑھ کر آگئی جاتے ہیں
00:37اللہ تعالی نے اشارت فرمایا
00:39وَآتُم نِسَاءَ سُوَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةَ
00:45اور عورتوں کو ان کے حق محل
00:50خوشی خوشی عطا کریں
00:53فَإِن تِبْنَا لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِنْهُ النَّفْسًا
00:57اور اگر پھر وہ اپنی خوشی سے
01:01اس حق محر جو تم نے ان کو دیا ہے
01:03اس میں سے کچھ تمہیں واپس نہ اٹھا دے
01:06فَقُلُوْهُ حَنِيْا مَلِيَا
01:09تو پھر اس کو مذہر لے کے کھاؤ
01:11تو اگر اپنی مرضی سے، اپنی پسند سے
01:15وہ تمہیں کچھ واپس کر دے
01:17تو وہ تمہارے لیے لینا جائز ہے
01:19تو اس کو واپس لے سکتے ہو
01:21لیکن خود سے اس کو رکھ کے بیٹھ جاتا یہ جائز لی ہے
01:24یا اس کو کبھی دینا ہی نہ
01:25تو یہ جائز لی ہے
01:27حق محر ادا کرنا لازم ہے
01:29یہ عورت کا حق ہے
01:30جس کے بس وہ آپ کے اوپر حلال ہوتی ہے
01:33یہ ہے کہ اس کو آپ غیر مرضی کر دیتے ہیں
01:37بعض اوقات کے آپ اس کو تھوڑا طاقی پسند
01:39وہ آپ کی باہر بھی مشابر سے دیکھ کرنے تھی
01:43دکاتے وقت کہ ہم اس کو بال میں ادا کر لیے
01:45اور اگر وہ آپ کی جو زوجہ ہے
01:49وہ اس پہ راضی ہے تو اس میں کوئی حاج نہیں ہے
01:52لیکن سٹل وہ آپ نے دینا ہے
01:54جب یہ عورت دے
01:55یہ عورت صلی اللہ علیہ وسلم باپس آتے ہیں
01:58تو قابلِ ادا کر رہتا ہے
02:01تو یہ حق میں ہم اس کو ادا کرنا لازم ہے
02:07اس کے علاوہ منگار ہوتا ہے
02:10ادا کی ادا ہے
02:12امام مخاری رحمت اللہ تعالی نے روایت کیا ہے
02:16کہ حضرتِ عائشہ صدیق علی اللہ تعالی عنہ سے
02:19اس خائطِ مبارکہ کی
02:21جو ابھی ہم نے پڑی ہے
02:22اللہ تعالی عنہ سے دورا
02:25تو اس سے پیشری جو آیا تھی
02:26تو ان کے بارے میں سوال کیا گیا
02:28تو فرمایا کہ
02:32یتیم لڑکی اپنے سر پست کے زیرے پرنش ہوتی ہے
02:37وہ اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے
02:40اس کے ساتھ لکاہ کرنا چاہتا ہے
02:42ٹھیک ہے
02:43اور اس جیسی لیگر جو لڑکیا ہے
02:48ان کے برابر اس کو حق مہر ادا نہیں کرنا چاہتا ہے
02:52اس کو حق مہر ادا نہیں کرنا چاہتا ہے
02:55اور فرمایا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے
03:01اور اس کو پورا پورا حق مہر ادا نہیں کرتا
03:04تو وہ اس کے لئے چائز نہیں ہے
03:06اور اگر وہ اس کو پورا پورا حق مہر ادا کریں
03:09تو پھر اس کے لئے چاہتا ہے
03:12حضرت عائشہ عدی اللہ عنہ نے کہا کہ
03:14پھر گوھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے اتعلق سوال کیا
03:17کہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے اس نہیں کرتا
03:20اس کو حق مہر ادا نہیں دیتا
03:22اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے
03:24تو پھر اللہ تعالی نے یہ بھائی آئیت مبارکہ ناظر فرقی
03:27وَيَسْتَقْتُوْنَكَ فِيْنِسَا
03:30اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتوہ کرتے ہیں
03:38پشتے اسوال کرتے ہیں
03:40تو اللہ تعالی تو میں آپ کے بارے میں بتاتا ہے
03:43تو پھر اللہ تعالی نے اس حق میں حق اللہ سے دیمائے رہے ہیں
03:48فرمایا کہ جب یتیم لڑکی مالدار اور حسین ہو
03:51اس کے ولی اس کے ساتھ لکاہ پر باغم ہوگو
03:54اور پورا پورا مہر ادا نہ کرنا چاہئے
03:57اور جب اس کے مال اور اس کی شکل صورت میں ان کو دھمت نہ ہو
04:01اور دوسری عورتوں کے ساتھ شادی کرنا چاہئے
04:05تو دو صورتیں من جاتی ہیں
04:06یا تو اس کا مال اور اس کی خودصورتی کی وجہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں
04:10پورا حق میں ہم نہیں دینا چاہتے ہیں
04:12یا پھر ان کی خودصورتیوں کو اتنی زیادہ پسند نہیں ہے
04:15لیکن مال پسند ہے
04:16تو دو صورتیں من جاتی ہیں
04:19اور جب پسند خاتون پسند نہیں ہے
04:22تو کسی دوسری خاتون کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں
04:25فرما اگر تو وہ اسی خاتم کے ساتھ شادی کر لیں
04:29ٹھیک ہے ان کے مال کی حفاظت کریں جب
04:31مالیں ہو جائیں تو ان کو اپس کر لیں
04:33لیکن اگر ان کے ساتھ شادی کرنا ہے
04:36تو پھر کیا ہے کہ ان کو حق میں پورا پورا دیں
04:39جتنا کہ اس ایریا میں اس علاقے میں جو رواع ہے
04:44اس جیسی عمر کی اس جیسی حسن کی دیگر خواتین کو دیا جاتا ہے
04:48اتنا حق میں اس کو عدار دیں
04:50یہ کمس کم ہے
04:51ہاں زیادہ دینا چاہیے تو یہ ہمارے ہیں جیساں بھی زیادہ دیں
04:54تو فرما اگر وہ اس کو پورا حق مہم نہ دے
04:59تو ان کے لئے جائز نہیں ہے یہ لیکن اللہ
05:01ان کے لئے پھر یہ جائز نہیں رہتا ہے
05:05امام احمد بن حنبر رحمت اللہ تعالی نے روایت کرتے ہیں
05:09کہ حضرت سحید مدی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
05:12کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
05:14جس شخص نے اسی عورت کا مہر مقرر کیا
05:18اور اللہ تعالی کو علم ہے کہ اس کا ارادہ مہر ادا کرنے کا نہیں ہے
05:22یعنی کہ دل میں اس کا ارادہ یہ ہے کہ میں نے دینا نہیں ہے
05:26بس میں سے اعلان کر دیا مقرر کر دیا
05:28فرمایا کہ اس شخص نے اس عورت کو دھوکہ دے کر
05:32اس کی فرج کو اپنے اوپر حلال کیا
05:34یعنی اس کا ریلیشنشپ یہ ہے
05:35اس نے دھوکہ دے کر اپنے اوپر حلال کیا ہے
05:38قیامت کے دن وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا
05:42کہ وہ ثانی شہار ہو رہا ہے
05:44فرمایا کہ جو شخص بھی کسی عورت کے ساتھ
05:49حتما ہے اس نیت کے ساتھ صرف مقرر کر دے کر
05:51میں نے دینا نہیں ہے
05:53فرمایا اللہ تعالی کو قیامت والے جب وہ
05:55ظانی کی صورت پر سامنا کرے گا اللہ کا
05:58اور فرمایا کہ جس شخص نے کسی سے قاضلیا
06:02اور اس نیت کے ساتھ کہ میں اس کی واپس نہیں کر دیا
06:06ٹھیک ہے
06:07تو اور اس نے اس کو دھوکہ دیا
06:11اور اس کے مال کو اپنے اوپر حلال کر دیا
06:16فرمایا قیامت کے دن وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا
06:20کہ وہ چوش ہو رہا ہے
06:22تو جب بھی کسی سے قرضہ دیں تو ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے
06:27کہ ہم نے یہ باقیس کر رہا ہے
06:28ہم نے بھی یہ چار پائی سال پہلے جہوہ کوئی کا معاملہ
06:32تو بہت سارے احباب کے بارے میں سنا بھی یہ دیکھا بھی ہے
06:36کہ وہ اس نیت سے انہوں نے شرط لیا تھا
06:38کہ بس ٹھیک ہے جو گورنمنٹ کا مال ہے آنے دیں
06:40ٹھیک ہے
06:41آنے دیں دیں یہ واپس بھی کرنا ہے
06:43تو اگر کوئی اس نیت سے لیا ہے
06:45ساہر مجبوری تھی اس وقت لے لیا ہے
06:47جو گورنمنٹ آپ کو بیریفٹ دے رہی تھی
06:49کہ آپ کا بزنس چلتا رہے
06:51معاملہ کا ساہب ہے
06:52ٹھیک ہے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے
06:54لیکن اس نیت سے لیا ہے
06:56کہ اب اس کو واپس نہیں کرتا
06:57نہیں کروئے
06:58تو گورنمنٹ کا قانون
07:00تو جو کہے گا وہ
07:01قانون کہے گا
07:02لیکن اللہ کا قانون یہ ہے
07:04کہ قدقیانت والے دیں
07:05تو بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت شاہد ہوئے ہیں
07:07چوروں کی ساتھ مشبہ کیے ہیں
07:09اللہ تعالیٰ حسم کو اس سے محبوظ رکھے
07:12اور یہ معاملہ جو ہے
07:14گورنمنٹ ہمیشہ سمجینگی سے لینا چاہیے
07:17حق ہے کیوں ہے
07:21اس کے بارے میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے
07:23جس میں بہت زیادہ غلوب نہیں کرنا چاہیے
07:26یعنی بہت شاہد کر رہاں نہیں کرنا چاہیے
07:29اتنا بھی استقاعت نہیں
07:30اور بالکل اتنا بھی نہیں دینا چاہیے
07:34کہ جو کسی کے جیسے
07:35ہمیں ہم نے حدیشیں پڑھی ہے
07:36کہ جو عورت جس کے ساتھ آپ دکاہ کرنے جا رہے ہیں
07:39اگر آپ کم از کم دے
07:41تو کم از کم اس کی جلدیگر
07:43اس ایریے میں جو اس کی کارماز ہے
07:45اتنا دے
07:45حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
07:52کہ سنو عورتوں کا محب مقربن کرنے میں غلوب نہ کرو
07:56کیونکہ اگر اس دنیا میں کوئی عزت ہوتی
07:59یا اللہ کے رزدیک اس میں تقوہ ہوتا
08:01تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:02یعنی زیادہ سے زیادہ محب مقربن کرنے میں
08:07یا انانس کرنے میں
08:08یا رکھنے میں
08:08اگر عزت ہوتی
08:10تو اللہ کے رسول سب سے زیادہ عزتہ ہے
08:12تو وہ اس کو بڑھ چکے رکھتے ہیں
08:14اور آپ اس میں غلوب کرتے
08:18اور فرماتے ہیں کہ میرے عیم کے مطابق
08:20رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:21نے اپنی کسی زوجہ یا کسی صاحبزادی
08:24کا بارہ اوکیہ سے زیادہ حق محب مقربن نہیں کیا
08:29ساڑھے بارہ اوکیہ
08:29ساڑھے بارہ اوکیہ ہے
08:31یہاں پہ انہوں نے بارہ اوکیہ کیا ہے
08:34حضرت عمر بن خیمہ تعالیٰ نے
08:35اور وہ جو ساڑھے بارہ والی ہے
08:38حضرت عائشہ صدیقہ علیہ اللہ تعالیٰ
08:40انہوں سے سوال کیا گیا تھا کہ حسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:42نے اتنا حق بہت مقربن کیا ہے
08:44حضرت عائشہ صدیقہ علیہ اللہ عنہ نے فرمایا
08:47کہ آپ کی ازواج کا محب بارہ اوکیہ
08:50اور نش ہوتا تھا
08:52فرمایا کہ تم کیاہتے ہیں
08:54کہ یہ نش کیا چیز ہے
08:55تو خود حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا
08:57کہ وہ اوکیہ کا حاف ہے
09:00سو بارہ اور حاف
09:01سو ساڑھے بارہ اوکیہ کے ہیں
09:03وہ حق میں ہے
09:05اپنی ازواج کا مقابل فرمایا
09:07اور فرمایا کہ ایک اوکیہ
09:09چالیس درہم کامتا ہے
09:12تو گویا کہ کل بلا کے لئے پانچ سو درہم ملے گئے
09:15سو پانچ سو درہم جو ہے
09:16کریس اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کا حق میں
09:19مقربن ہو رہا تھا
09:20تو اس میں یہ ایک نمبر
09:22میں بتایا یہاں
09:23حالانکہ ہم نے ناس کس نے کہا تھا
09:26کہ کچھ ازواج کا حق میں ہے
09:27وہ ان کی غلابی سے آزادی کے
09:29بزرز کے قرآن دے رہی ہے
09:30تو ہمیں ایک راستہ دکھایا گیا ہے
09:37کہ جو معقول ہو احتدال کے ساتھ
09:39تو حق میں حق کو کٹ کر رہا چاہیے
09:41تو یہ ہے
09:44اس کے بعد جو ہے
09:46حق میں حق لازم دینا چاہیے
09:49یہ ہم نے بھی پڑھ لیا
09:50حضرت امام مقاری رحمت اللہ تعالی نے
09:53ایک روائیت بیانتی ہے
09:54حضرت عرص بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
09:57حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے
10:00انسال کی ایک عورت کے ساتھ نکاہ کیا ہے
10:02اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے پوچھا
10:06کہ تم نے اس کا کتنا حق محرم تعلق کیا ہے
10:09تو انہوں نے کہا کہ
10:10یا رسول اللہ ایک گھوٹھلی کے برابر سونا
10:12تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
10:15کہ ملیمہ کرو خواہ ایک مکری ہی کیو رہا ہے
10:18ٹھیک ہے
10:18تو گویا کہ عبد الرحمن صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:21اس سونے کی مقدار کو
10:22اس کے قبول فرمایا
10:24اور فرمایا کہ حق محرم
10:25یعنی دو چیزیں ہوئے یہاں سے ملو ہوئے
10:27ایک حق محرم ادا کرنا لازم ہے
10:29اور ملیمہ کرنا بھی سنت ہے
10:31تو یہ بھی ہمیں کرنا چاہیے
10:32جتنی استطاع تو
10:33عبد الرحمن صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں
10:35پیشنی جب انہوں نے پڑا تھا
10:36کہ غزو ایک خیمت سے واپس ہی پڑا
10:38صحابہ اکرام سے فرمایا
10:40کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے
10:41تو کسی کے باس جو تھے خورو رہے تھے
10:43کچھ بھی تھا
10:44سارا کچھ لے آئے
10:45تو وہاں پہ آکر
10:46تو عبد الرحمن صلی اللہ علیہ وسلم
10:47اس کو اپنا ملیمہ کرانا لیا
10:49اور ملیمہ کرنا چاہیے
10:52جتنی بھی استطاع تو
10:53دھوڑا ہو زیادہ ہو جو ہی ہو
10:54ہاں یہ جو ہمارے رواج بن گئے ہیں
10:56کہ ہم جہان سے قرضے لے لے کے
10:59اور خان خان کے
11:00رسول اللہ تعالیٰ کر کے لے کرتے ہیں
11:01وہ قرآن حدیث میں نہیں ہے
11:03جتنا آپ کی استطاع پر ہو
11:06جتنا آپ کر سکتے ہیں
11:07تو ساری دنیا کو
11:09اور سارے جہان کی جشد بنا کے
11:11آپ کی لاتے ہیں
11:11انڈ پہ ہیں
11:13بہت زیادہ آپ بنا لے
11:15تو کہتے ہیں یہ عام کمال ہے
11:17اور نہ کھنے تو
11:19کہتے ہیں کدوس کریں
11:20تو جس عوام کو
11:21خوش کرنے کے لیے سارا کچھ کرتے ہیں
11:23وہ پھر بھی خوش نہیں ہو
11:24تو اس کی وجہ ہے
11:26اگر ہم اللہ رسول کو
11:27خوش کرنے کے لیے کریں
11:28جتنی اپنی ہمت ہے
11:29جتنی استطاع ہے
11:30اتنا کر لیں
11:31تاکہ اللہ رسول خوش ہو رہے
11:33تو یہ لوگ خوش ہو رہے
11:34اور نہ بھی ہوگے
11:35تو کیا ہوگا
11:35لوگوں کے خوش ہو رہی
11:36یا نہ ہونے کا فرق نہیں ہے
11:38اللہ رسول کے خوش ہو رہے
11:39تو ان چیزوں کا بھی
11:42ہمیں خیال رکھنا چاہیے
11:43اب حق مہد جو ہے
11:46اسی کے بارے میں
11:47ایک حدیث شریف حضرت
11:48ایک صاحب انساء
11:49الساعدی رضی اللہ تعالی
11:51انہوں بیان فرماتے ہیں
11:52کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:53کے پاس ایک عورت آئی
11:55اور اس نے کہا
11:56کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:58نے آپ کے پاس حاضر ہوئی ہوں
11:59اور میں نے
12:01اپنا آپ
12:02آپ کو حبہ کر دیا
12:03اپنا نفس
12:07اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:08نے اپنا چہرے
12:08اپنا نبالک اٹھایا
12:09اس کی طرف دیکھا
12:10اور اپنا سارنبالک
12:11پیچھے جگا لیا
12:12جب اس عورت نے دیکھا
12:14کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ consonant
12:15نے
12:16آپ کے متعلق
12:18کوئی فیصلہ نہیں کیا
12:18جنہیں کچھ مطاہہ نہیں گیا
12:19تو وہ بیٹھ گی
12:20عورتہ
12:20انتظار ملتا ہے
12:21اب کے اس حال میں سے ایک شخص
12:24کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ
12:25یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:27اگر آپ کو اس عورت میں دلچسپی نہیں ہے
12:29یا اس کے ساتھ لکار نہیں قطع چاہتے
12:31تو آپ اس کے ساتھ
12:34میرا نکال ملتی ہے
12:35رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
12:38کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے
12:39اس نے کہا کہ یا رسول اللہ نہیں
12:41فرمایا کہ جاؤ اپنے گھار جاؤ
12:43اور جا کے دیکھو شاید تمہیں کوئی چیز من جائے
12:45رہے گھر گیا واپس آیا
12:47اور کہنے لگا با خدا
12:49مجھے کوئی بھی ایسی چیز نہیں ملی
12:51جو کہ لے گیا سکتا کی مادر
12:52آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور دیکھو
12:55خال لوہے کی انگوٹھی ہی توجہی ہے
12:57پھر سے جاؤ تلاشی دو
12:59شاید تمہیں لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے
13:02واپس گیا
13:04اور آ کے کہنے لگا کہ
13:05با خدا لوہے کی انگوٹھی بھی ملے گا
13:07اب صحابہ اکرام علیہ وسلم
13:10کے حالات دیکھئے
13:11بعض کے ظاہر بعض تجات پر
13:14اس میں تاجر بھی تھے
13:15بعض بہت کشار بھی تھے
13:17ابھی جو ہم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف
13:19رضی اللہ عنہ کو پڑھا ہے
13:20تو وہ بہت بڑے تاجت ہے
13:21جو سونے کی مقدار مقبر کی
13:25تو کہنے لگے کہ با خدا
13:28مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملے
13:30تو کہنے لگے کہ آنسو اللہ
13:32میرے پاس تو صرف ایک تہبر ہے
13:34جو میرے پاہ لکھا ہے
13:35تو آقر قریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:38نے اشارت فرمایا کہ تمہارے طے بندگاہ یہ کیا کرنے گی
13:41یہ خاتم اس کا کیا کرنے گی
13:43اگر تم باندھ لوگے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوگا
13:45وہ لے لے گی تو تمہارے پاس کچھ نہیں ہوگا
13:47تو اس کا بھی فائدہ نہیں ہے
13:49تو وہ شخص پیڑ گیا ہے
13:51جب کافی دیر ہو گئی
13:53اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:55اس کو واپس جاتے دیکھا
13:56تو آپ نے اس کو بلانے کا خودیا
13:58اور جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
14:01کہ تمہیں قرآن پاک کا کچھ حصہ یعاد ہے
14:04تو اس نے گم کر بتایا
14:07کہ اس کو فلا فلا فلا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
14:12کہ تمہیں ان صورتوں کو زبانی پڑھتے رہو
14:14اس پڑھتے ہو
14:15اس نے کہا کہ یہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی میں پڑھتا ہوں
14:17فرمایا کہ جاؤ تمہیں جو قرآن یعاد ہے
14:20اس کو حق محب بکارلہ کرتے ہو
14:24اس کے حوص کی یعاوتی سپڑھتے ہیں
14:25وارع اغلبو الله ، وارض تلعي وارض ا farmh
14:33وارض خات الخوف في الج Ellie
14:35وسائلتها
14:39ومعوا Çünkü
14:42هناكkeeper جميل就08 assignments
14:46وارضها apologized
14:48ولمون كاته
14:50ولر rebelس لمeless
14:51الم bomber
14:53حقا قریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بار بار اس سے پوچھا کہ کچھ نہ کچھ لے او
14:57فاس حولنے کی ملتی کی قابل
14:59تو وہ دے او
15:00تو اگر کچھ بھی نہیں ملا
15:02اور وہ خواہش من دعشان دیکھا
15:04اور خاتون جو ہے وہ بھی ظاہر اس کو سارا چاہیے
15:07اور انتاظمی طور پر
15:08تو وہ بھی تیار ہے تو فرمائے
15:10کہ تمہارے قرآن پاکی جو صورتیں یاد ہیں
15:12کسی کے بس تمہارے نکاح میں اس کو دیئے
15:15تو وہ اس کے ساتھ سے روانا ہوگئی اس کی ملتی ہے
15:18تو حق میں ہم یہ ہے یہ بہت ہی ضروری چیز ہے
15:22کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے دینا
15:24یعنی اس کو ہم کھا دی شکتے ہیں
15:26جب مقرب کرنیا ہے
15:28اگر مقرب نہیں کیا پہلے اس کو مٹا دے گی
15:30کہ میرے پاس تو کچھ نہیں گئی
15:31چند صورتیں بھی یاد ہیں
15:33تو تم اگر وہ مان جائے تو ٹھیک ہے
15:36ہم آج کے دن میں منا نہیں خیال کوئی
15:38کوئی بے خاطر نہیں اس میں مان دے گی
15:40اگر وہ کہیں کہ پورا ہوگی
15:42فرمی کیا بلکہ اندار کو نہیں کہا کہتے ہیں
15:46وہ کہیں کہ موروی کی چاہیے دیں گی
15:48وہ کہیں گے بڑا دکھا بندہ ہو
15:50نماز ہی ہو موروی دیں گے
15:53تو یہ آج کا نماز ہی رہے
15:55اللہ تعالیٰ میں رہے ہیں
15:57لیکن یہ ہے کہ جو چیزیں آپ آپس میں ٹھیک کر لیں
16:02اگر اس میں وہ نازی ہیں تو آپ کے لئے جائز ہیں
16:05لیکن فیزیکل کوئی چیز ایسی ہو جو آپ اس کو دے سکیں
16:09آئیے بھی ایک چیز ہم نے دیکھی ہے
16:11ہمارے پاکستان میرے والے
16:13سارے جہان کے عورتیں سیدھے کام کریں
16:15کہ ہم دول بجائے گے باجے بجائے گے
16:17اور پتر اکیا کہت آئے گیا
16:19ہزاروں کیا باز اکار کو لاکھ روپیہ اوپر سے پھینک دیتے ہیں
16:23کیونکہ وہ دکھا لے گی
16:25اور جب حکمہ کی والی آتی ہے
16:27تو ہم کہتے ہیں شریح حکمہ مقال رہ کریں پانچ سو پیہ
16:30ملنہ کے مطلب یہ کونسا شریح حکمہ ہے
16:33یہ بلکل غیر شریح حکمہ ہے
16:35شریح حکمہ آپ کی استطاع پہ ہے
16:37آپ کی طابت پہ ہے
16:39اور جو وہاں پہ مربجہ جو لوگوں کے
16:41وہاں پہ چلتا ہے اس کے حساب سے
16:43یہ کہا ہے کہ سارا ہمیں
16:45آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے
16:47آپ اتنے مالدار ہیں کہ آپ لاکھوں روپیہ پھینک رہے ہیں
16:49اور اب باقی سارا
16:51انہی کے لوازمہ جو ہے وہ جو خام کھا کے ہیں
16:53ان میں سے بہت سارے
16:55جائز ہی ہوئے ہیں
16:57تو وہ سارا کچھ کروا کے
16:59اس کے بعد جب ایک عورت کو
17:01اس کا حق دینے کا قائمہ ہے
17:03جو کہ آپ کی زوجہ بل کیا رہی ہے
17:05اپنا جسم اپنے
17:07تو اس کے وقت آتا ہے کہ شریح حکمہ ہے
17:09پائیسو بہت سارا لگتا ہے
17:11یہ بلکل غیر شریح ہے
17:13حالان کوئی بندہ صاحبہ استطاع پہ نہیں ہے
17:15جیسے بھی ہم نے آئیوان پہ ہے
17:17کسی کے ایسے معاملات ہیں
17:19تو اس کے لئے شریح پائیسو ہو سکتا ہے
17:21اس کے معاملات اچھے ہیں
17:23اس کے لئے بلکل غیر شریح ہے
17:25اپنے ہمیشہ آپ کی استطاعات کے اطاف کے کام کو ادا کرتا جائیں گے
Comments