Skip to playerSkip to main content
  • 4 hours ago
3/4, 45. Weekly Dars-e-Quran, Topic: Azwaj e Mustafa PBUH
Lecturer: Hafiz Muhammad Imtiaz Ali
Surah: Al-Nisa,
Para: 4, Verses: Ayah 2 & onwards
Date: Thursday, 08 January 2026
Venue: Hillview Islamic & Education Centre Location: Glasgow, Scotland, United Kingdom
Join us for this insightful weekly Dars as Hafiz Muhammad Imtiaz Ali continues the tafsir of Surah Al-Nisa, beginning from Ayah 2. Delivered at the Hillview Islamic & Education Centre, this session offers reflections and lessons drawn directly from the Qur'an.
Transcript
00:00کہ میرے حسین شہید ہو چکے
00:01رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:04تو حضرت عم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:08آپ کو یہ شکیوں دیں
00:09کیونکہ آقا قریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے
00:12اور اس وقت میری ازواج میں سے صرف یہی زندہ ہو گی
00:15تو یہ واحد خاتم ہیں جو اس کے بعد تک زندہ نہیں
00:20یہ ایسی وجہ سے ہم نے جو ابھی پڑھا لیں کہ حضرت عم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:28وہ سب سے پہلے انتہائی مختصر عرصے میں
00:32آقا قریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دکاہ کے بات پھول رہی ہے
00:35اور حضرت عم سلمہ انہوں نے پھر اس کے بعد لانمیس ٹائم پایا ہے
00:39سمجھوائی جیسے
00:40تو یہ آقا قریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت پتا تھا
00:43کہ یہ زندہ ہو گی
00:44باقی سب کا حصول تک دکال ہو چکا ہو گا
00:46تو اس وجہ سے ان کو وہ شیشی نہیں
00:48آقا قریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھویں زوجہ
00:52حضرت زینب بن تجاہش رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے
00:55یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھپی ذات تھی
00:59رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب
01:02حضرت زینب بن حارسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
01:08ان کو اپنا مو بولنگیتہ بنا لیا
01:12حضرت زینب
01:13یہ ایسے صحابی ہیں جبکہ قرآن پاک میں نام کے ساتھ سکر آیا ہے
01:18فَلَمَّا قَوَعَ زَيْدٌ مِّنْهَا مَطَعْتَ
01:22زَبَّجْنَا قَهَا
01:24تو یہ قوائے صحابی ہیں جبکہ قرآن پاک میں نام کے ساتھ سکر آیا ہے
01:28تو حضرت زینب نے اپنا ملو اللہ بیٹا بنا لیا تھا
01:32ٹھیک ہے
01:33تو آپ نے حضرت زینب بن تجاہش سے ان کا نکاح کر دیا
01:39یعنی اپنے بیٹے کا نکاح حضرت زینب پسان کر دیا
01:42اب حضرت زینب جو ہے
01:46وہ حضرت زینب کے
01:48ہموں بولے بیٹے تھے
01:51لیکن وہ غلام تھے
01:53یعنی ازاد کردہ غلام تھے
01:55حضرت زینب جو ہے
02:01وہ بد و اسب کے ایک محسس گرانے کی خاتور تھے
02:06یہ ایک ویل سیکٹل فیملی ہے
02:08اور ایک طرف ہے
02:09وہ ازاد کردہ غلام ہے
02:11تو ہم کیا ہوگا کہ شاندی کے بعد ان کے معاملات آپ سے بھن نہیں رہے تھے
02:16حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ نے
02:18مقتل فوقت نے آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کرتے تھے
02:22شکایت کرتے کہ یہاں رسول اللہ تعالیٰ مواملاتیں جو ہیں وہ اچھے نہیں جار لیں
02:26تو آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم ان کو صبر کی ترقیم فرماتے تھے
02:30کہ آپ صبر کریں
02:30حالانکہ رسول اللہ علیہ وسلم کو علم تھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا نکاح آپ سے کھائے گا
02:38یعنی حضرت زینب کا
02:39یہ آپ کو علم تھا ہے
02:41لیکن مو بولے بیٹے کے ساتھ ان کے شادی کر رکھی تھی
02:44اب عرب میں جو ہے
02:46آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح کیا اس سے پہلے
02:49تاکہ یہاں رب اپنے مو بولے بیٹے کو اپنے اصلی بیٹے کی طرح ہی مانتے ہیں
02:54اس کو مراسل کا حق نامی اور سارے معاملات اسی طرح ہیں
02:58تو اسلام اس عادت کو توڑنا چاہتا تھا
03:01اور بتانا چاہتا تھا کہ آپ کا جو نصبی بیٹا ہے
03:04آپ کا حقیقی بیٹا ہے
03:06اور مو بولے بیٹا جو ہے
03:07ایک برابر نہیں ہے
03:09ہم کیسے باندر شکر ہیں اس کو مو بولے بیٹا کہہ لیں
03:11کیا کہیں کہیں اس میں کوئی حاج نہیں ہے
03:13لیکن اس کے وہ سارے کے سارے حقوق اسی طرح ہی ہے جیسے
03:16آپ کے اپنے سگے بیٹے کے ہیں
03:18تو اب ان کے ساتھ نکاح کر دیا
03:20آقربیم صلی اللہ علیہ وسلم کو سمر کی تلقین فرماتے رہے
03:23لیکن آپ کو پریشانی بھی تھی
03:26کہ جب ان کی اگر طلاق ہوگی
03:30تو اس کے بعد ان کا نکاح تو میرے ساتھ ہو جائے رہا ہے
03:32تو یہ عرب تو بہت زیادہ اعتراض کرے گی
03:36یہ تو شور اٹھائے گے
03:37اور باب اللہ میں چلے گے
03:38تو بہت پرسلہ ہوگا ہے
03:40اس وجہ سے آقربیم صلی اللہ علیہ وسلم کو سمر کی تلقین فرماتے رہے تھے
03:43تو اللہ تعالیٰ نے فرماتے رہے
03:45کہ آپ ان سے کیون حرثیں ہیں
03:47چھوڑیں ان کو
03:48آپ نے جو کرنا ہے وہ کریں
03:50تو
03:51اس کے بعد یہ ہوا
03:54اور آقربیم صلی اللہ علیہ وسلم
03:56اپنی پرسلل اس وجہ سے نہیں دھا رہے تھے
03:58کہ میرے پرسلل اعتراض ہوگا
03:59اس وجہ سے دھتے تھے کہ تملیگ پرسلل ہوگا
04:02تو نئے نئے مسلمان ہوتے تھے
04:03ابھی تک پکے اور پیڑے مسلمان بھی بنے اپنے تھے
04:06تو وہ ایسے اعتراضہ سن کر بعض دکان جو ہے وہ
04:09بہت جایا کرتے تھے
04:11اس پہ چکے ابھی تک مضبوطی نہیں ہوتی تھی
04:15اس وجہ سے
04:16جو آقربیم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ڈاکتا ہے
04:18تو
04:20بالاخر ہوا کیا
04:23کہ حضرت زید بن حارسہ رضی اللہ تعالیٰ نے تنگ آ کر
04:27حضرت زید کو طلاق دے دی
04:29اور اندت پوری ہوئی جیسے ہی
04:31تو اللہ تعالیٰ نے
04:33یہ آیات نازل فرمائی
04:35اور بالخصوص یہ والی آیت
04:37سورہ اعصاب کی آیت
04:38نورت حدیس سیمن ہے
04:39بائیس رس پر ہے
04:40جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
04:43وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمُ مَاهُ عَلَيْهِ
04:46وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ
04:48اَمْسِقْ عَلَيْكَ زَوْجَكْتْ
04:50جب آپ اس شخص سے فرماتے تھے
04:53جس پر آپ نے بھی نام کیا
04:54یعنی اب اس کو اپنا موں میں
04:56موں اللہ پر دمنا رہی ہے
04:57وَأَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ
05:02یعنی اللہ کا بھی اس پر انام تھا
05:03آپ نے بھی اس پر انام فرمایا
05:05اَمْسِقْ عَلَيْكَ زَوْجَكْ
05:07کہ اپنے نکاح کو روکیت کیے
05:09سبر گیجئے
05:09تحمل گیجئے
05:10جو بھی ہم نے پہلے پڑھا
05:12یہ قرآن پاکی آیت میں آیا
05:14آپ دیکھیں
05:15اَمْسِقْ عَلَيْكَ زَوْجَكْ
05:18کہ اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں لکھیں
05:20وَتَّقِ اللَّهُ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ
05:24مَاللَّهُ مُبْدِي وَتَخْشَنَّاسُ
05:26تو اللہ تعالی نے فرمایا
05:28کہ اس کو آپ میں یہ بردارہ رہے تھے
05:29کہ اپنی زوجیت میں رہنے دو
05:31اللہ سے درو
05:31اور آپ اپنے دل میں
05:33اس چیز کو چھپا رہے تھے
05:36یعنی حضرت زینب کے ساتھ
05:37آپ کے اپنے نکاح کو چھپا رہے تھے
05:38جسے اللہ تعالی ظاہر فرمانے والا تھا
05:42وَاللَّهُ اَحَقُّ اَنْبَخْشَا
05:45اور اللہ تعالی اس بات کا زیادہ حق دار ہے
05:48کہ اسی سے نہ آ جائے
05:49فَلَمَّا قَدَعَ زَيْنٌ مِّنْهَا وَتَرًا
05:52زَبَّجْنَا كَهْرًا
05:53وَإِنَا يَكُونَ عَلِ الْمُقْمِنِينَ حَعَرَجٌ
05:56فِي اَزْوَاجِ اَدْعِيَائِهِمْ
05:58اِذَا قَدَعُ مِّنْهُ الْنَوْغَ تَرْحَ
06:00تو پھر اللہ تعالی نے فرمایا
06:02کہ جس اللہ تعالی یہ چیز جو ہے
06:04جس کو آپ چھپا رہے تھے
06:05اللہ تعالی اس کو ظاہر فرمانے والا تھا
06:07تو آپ لوگوں سے
06:10اس بات پر اس وجہ سے نرتے تھے
06:11کہ تبلیغ پر اثر ہوگا
06:13اور اللہ تعالی اس چیز کا زیادہ حق دار ہے
06:16تو اس سے گنا جائے
06:17تو فرمایا کہ آپ
06:20اللہ سے ہی نریں
06:21اور اللہ تعالی نے
06:24زب وجلہ کہا
06:25اللہ تعالی نے اس خاتون کا
06:28حضرت زینب بن جاہش کا نکاح
06:31آپ کے ساتھ فرما دیا
06:32تو یہ واحد خاتون ہے
06:35آپ کہہ لیں دنیا کی خاتون کہہ سکتے ہیں
06:37جس کا نکاح اللہ تعالی نے خود فرمایا
06:39تو کسی اور کو نکاح پڑھنے کی پڑھانے کی ضرورت لی
06:43سیدھا سیدھا نکاح
06:45آیت کے ذریعے ہوگیا
06:46تو
06:48فرمایا کہ ان کو
06:50پھر جب یہ والی آیت نازل ہوئی تو
06:53حضرت زینب نے اطلاق لے دی
06:55اللہ تعالی نے خود ان کا نکاح فرما دیا
06:57میں کہ اپنی غلص پوری کر لی
06:58تو ہم نے
06:59عدد کے بعد آپ کا
07:01اس کے ساتھ نکاح کر دیا
07:02تاکہ مسلمانوں کو
07:04اپنے موں بولنے بیٹوں کی
07:07ازواج کے ساتھ
07:08اگر ایسا کوئی معاملہ آتا ہے
07:09تو اس میں کوئی حرج نہ ہوا
07:11اگر کئی بھی ایسی صورت بندی ہے
07:13کوئی کسی کو اپنا موں مولد بیٹا ملا لے
07:15اور پھر اس کے ساتھ شادی کر لے
07:17کل کلہ وہ اطلاق دے دے
07:19اور آپ اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے
07:20تو پھر آپ کو اس میں حرج نہ ہوا
07:22کیونکہ موں بولا بیٹا جائے
07:23وہ آپ کا حقیقی بیٹا دی
07:24حقیقی بیٹے نے شادی دی
07:27تو یہ معاملہ نہیں ہو سکتا
07:28سب تین حجری میں
07:33اللہ تعالی نے حضرت زینب کا
07:34رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
07:36مکاہ کر دیا
07:37یہ قول یہ ہے
07:38کہ چار اور یہ قول پانچ حجری کبھی ہے
07:40اس وقت حضرت زینب کی عمر مبارک
07:43پینتیس سال تھی
07:44حضرت زینب بنت جاہش
07:47رضی اللہ تعالی عنہ
07:48اب دیگر از واج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
07:52کے ساتھ نے فخر کے ساتھ
07:53یہ کہا کرتی تھی
07:55کہ تمہارا نکاح جو ہے
07:57آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:59اور تمہارے آل و ایان نے
08:01عباس میں دیکھئے کیا ہے
08:02لیکن میرا نکاح
08:03اللہ تعالی نے خود رکھا ہے
08:04یعنی وہ اس بات پر فخر کیا کرتی تھی
08:06امام طبرانی فرماتے ہیں
08:10کہ حضرت زینب بنت جاہش
08:12رضی اللہ تعالی عنہ کی وفاد
08:14حضرت عمر بن خطاب
08:16رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں
08:18بیس ہجری پہ ہوئی
08:20اور حضرت عمر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی
08:23اس وقت آپ کی عمر
08:25یعنی حضرت زینب کی عمر مبارک
08:27طرف پر مرستی
08:28رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثال کے بعد
08:30ازواج متحرات میں
08:32سب سے پہلے آپ کا ویسان ہوا
08:34حضرت دوسری جو حضرت زینب تھی
08:37ان کا عمر صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہو گیا تھا
08:40تو عمر صلی اللہ علیہ وسلم کے
08:42اس دنیا سے جانے کے بعد
08:43ان کا ویسان سب سے پہلے ہوا
08:45آپ کی آٹھویں زوجہ محترمہ حضرت جبیلیہ
08:49بنت حارس رضی اللہ تعالی عنہ
08:51جبیلیہ بنت حارس رضی اللہ تعالی عنہ
08:53آپ پہلے مصافع بن صفوان کے نکاح میں تھی
08:56جو حالت کفر میں قتل کر دیئے گئے
08:59چھے ہجری میں غزوہ بنو
09:01مصطلق ہوا
09:02اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:04ان کے ساتھ مکا فرمایا
09:05امام احمد فرماتے ہیں
09:07کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
09:11کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:12بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا
09:15تو حضرت جبیلیہ
09:16ساقب بن قیس بن شماس کے حصہ میں آئیں
09:19یہ غزوہ بنو مصطلق میں
09:21گرفتار کر کے باندی ان کو بنا لیا گیا تھا
09:24جو غزوہ ہوا نا
09:25اس میں یہ قید ہوئی
09:26دیگر جو قیدی آئے
09:27تو آپ غاندی بن گئی تھی
09:29تو انہوں نے نو عباق چاندی
09:33ایک اوکیہ جو ہے وہ چاریس در مقا ہوتا ہے
09:36تو نو عباق کے عوض
09:38انہوں نے ان کو ازاد کر دیا
09:40تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ہے
09:43وہ کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:45میں جبیلیہ گنتے
09:47حارس ہوں
09:48حارس اپنی قوم کا صداد تھا
09:51آپ کو معلوم ہے کہ مجھے باندی بنا لیا گیا ہے
09:53آپ میرے مقاعتبت کی رقم ادا کر کے مجھے ازاد کر دیجئے
09:57وہ کہنے لگی کہ ان کے پاس وہ ہے
10:00وہ نو عباق چاندی کے طلب کرتے ہیں
10:02تو آپ ایسا کی دیئے
10:03کہ آپ نو عباق دے کے مجھے ازاد کر دیجئے
10:06میں چونکہ ایک صداد کی بیٹی ہو
10:08تو میرے ساتھ یہ
10:09آپ شفقت فرمائیں
10:10میرے اتران فرمائیں
10:11تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:14ان کو فرمایا ہے
10:15کہ کیا تم کو اس سے بہتر خبر نہ دوں
10:18وہ یہ ہے کہ تمہیں آزاد کرنے کی بھی جائے
10:21اپنے نکاح میں لے
10:22اس سے زیادہ ہو کیا چاہیے انہیں
10:24تو وہ بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقل میں آگئی
10:27اب کیا ہوا
10:29کہ تقریبا کچھ سو روح تھے
10:31وہاں سے جو قیدی کر کے لائے گئے تھے
10:33تو جیسے ہی حضرت عبیرہ
10:35ان کا نکاح آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا
10:38تو جترے صحابہ اکرام
10:40رضی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
10:42وہ کہنی تھے
10:43خدا تھے
10:44یہ جیسے جیسے بھی ان کے پاس تھے
10:46تو انہوں نے سوچا
10:47کہ یہ تو قبیلہ جو ہے
10:49یہ تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سسلان بن گیا ہے
10:51تو ان سب نے ان سب کو ازاد کر دیا ہے
10:54تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ علیہ وسلم
10:57انہاں فرماتی ہیں
10:58کہ میں نے کسی اور عورت کو نہیں دیکھا
11:01جو اپنے قبیلے کے لیے
11:03اتنی بڑی رحمت کا باعث بن گئی ہے
11:05ان کی وجہ سے
11:07سو لوگ کو عظم دیئے
11:09ان کی قبیلہ ملتا ہے
11:11حضرت عمر مومنین جوہریہ رضی اللہ تعالی عنہ
11:14ستر سال کی عمر مزار کر
11:16ربی الاول پچاس ہدنی میں
11:18مدینہ ملعورہ من فوتحی
11:19مروان بن حکم نے ہی
11:21جنازہ پنایا
11:23حضرت جوہریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے
11:25نکاح کرنے کی یہ حکمت تھی
11:26کہ اس نکاح کی وجہ سے
11:28بلو المستلق جو قبیلہ ہے
11:31ان کے سو نفوس
11:33ازاد کر دیئے گئے
11:34اور آپ کی زندگی میں
11:36ایک باندی کو آزاد کر کے
11:38نکاح کرنے کا نمونہ حاصل ہو
11:40تو یہ ایک وجہ تھی
11:41ان کے سامکان کی
11:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:44نومی زوجہ حضرت صفیہ بنت حی
11:47بنت اختب حضی اللہ تعالی عنہ ہے
11:49یہ حضرت حارون علیہ السلام کی
11:52اوضا سے ہیں
11:53ان کے والد قبیلہ بن مدین کے
11:56سمدار تھے
11:57ان کے پہلے خامد کو قتل کر دیا گیا
11:59فتح خیفر کے موقع میں
12:01رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:03اس کو آزاد کر کے ان کے ساتھ
12:05نکاح کیا یہ ساتھ ہجری کا واقعہ ہے
12:07امام بخاری رحمت اللہ تعالی نے
12:10روایت کرتے ہیں
12:11کہ حضرت انس بن مالک
12:13رضی اللہ تعالی نے بیان کرتے ہیں
12:15کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:16اول وقت میں صبح کی نماز پڑی
12:18پھر آپ نے سوار ہو کر کہا
12:20اللہ و اکبر خیفر تمام ہو گیا
12:23ہم جب کسی قوم کے علاقہ پر
12:25حملہ عبر ہوتے ہیں
12:26تو جن کو پہلے ڈوایا جاتا ہے
12:28ان کی کیسی بری صبح ہوتی ہوگی
12:30یعنی صبح صبح اللہ و اکبر کہا
12:32کہ جب ان کے بارے میں یہ بتایا گیا
12:34تو ساتھا کہتے ہیں کہ ہم سوشتے تھے
12:36جن کو صبح صبح اٹھا دیا گیا
12:38کہ کیا حال ہوگا
12:39ان کی صبح کتنی مری ہوگی
12:40یہودی اپنی گلیوں سے نکلے
12:42اور کہنے لگے
12:43کہ سینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
12:46لشکر کے ساتھ آئے ہیں
12:47رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:49پھر ان پر غالب آگئی یہودیوں کا
12:51ان کے جنگ جو مردوں کو قتل کر دیا گیا
12:54یعنی خیبہ کے جو جنگ جوی ہوتی منت ہیں
12:57ان کو قتل کر دیا گیا
12:58عورتوں اور بچوں کو قیدی کا لیا گیا
13:01حضرت داحیہ ربی اللہ تعالیٰ انہو
13:04انہوں نے کہا کہ
13:06یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:07مجھے قیدیوں میں سے ایک لڑکی عطا کر دیتی ہے
13:10آپ نے فرحہ ہے کہ ایک لڑکی لے لو
13:12تو انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا
13:15پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:17بارگاہ میں ایک شخص آیا
13:19انہوں نے کہا کہ
13:21اے اللہ کے نبی آپ نے داحیہ کو
13:23حضرت صفیہ بنت حیی عطا کر دی ہے
13:25جو کہ قریضہ اور مدیر کی سردار ہیں
13:27دو قبیلے تھے ان کی وہ سردار ہیں
13:29ٹھیک ہے
13:30تو اس سے کیا ہے کہ فتنہ پر نہ بھرپا ہو جائے
13:33تو آپ کے سواہ
13:35وہ کسی کے لائق نہیں ہے
13:36وہ سردار جالی ہے
13:37تو آپ چونکہ نبی اللہ ہے
13:40تو یہ آپ کا حق بنتا ہے
13:42کہ آپ اس کو اپنے عقب میں رہ لیں
13:44تو حقہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:46کہ صفیہ کو بلاو
13:47جب ان کو بلایا گیا
13:49تو آپ نے حضرت داحیہ سے فرمایا
13:51کہ قیدیوں میں سے تم کسی اور ماندی پر لے
13:54یہ مجھے دیتا ہوں
13:55تو پھر آقا قریضہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:57حضرت صفیہ کو آزاد کر کے
13:59ان کے ساتھ لکاہ کیا
14:00ثابت نے حضرت انس سے پوچھا
14:03کہ ان کا حق مہت کے اتنا ہو
14:05مقارن براہ سردار
14:06ٹھیک ہے
14:07کیونکہ جامل کے حالات تھے
14:08اور وہاں کے سبھی لوگ موجود تھے
14:10تو پوچھا کہ کتنا
14:11حضرت انس نے دیان کیا
14:13کہ ان کو آزاد کر دینا ہی
14:15ان کا حق مہت قرار پایا
14:16ان کے ان کو فریق اعزاد کر دیا
14:18اور ان کے ساتھ لکاہ کا لیے دیئی
14:19یا حق مہت کا قرار پایا
14:20حضرت انس نے صلی اللہ علیہ وسلم
14:23رضی اللہ تعالی عنہ نے
14:24ان کا بناوسرگار کر کے
14:26راستہ میں قیام کی ایک جگہ پر
14:28رات کو انہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا
14:31تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:33نیکسٹ صبح جہاں ہے
14:34وہ اس حالت میں کی
14:36کہ خجلہ روسی میں ایک لئیس ہو جاتی
14:39اور ان کے ساتھ آپ نے شب گزارے کی
14:41پھر صبح آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم جب اٹھے
14:45تو آپ نے فرمایا کہ
14:46جس کے پاس جو بھی کھانے کی چیز ہونے وہ لے آؤ
14:49تو کسی کے پاس کچھ سب تو دے
14:51کسی کے پاس جو دے
14:52کسی کے پاس کھلو رہے دے
14:53وہ سب کے سب لے آئے
14:54تو چپڑے کا ایک دستر خان بشاہ دیا گیا
14:57اور سار اسمان اس کے پاس پر آکے
14:59گھی تھا جس کے پاس جو بھی تھا
15:01وہ لے آکے تو وہ دعوتِ
15:03ملیمہ کرام دے دیں گے
15:04تو ملیمہ سامرہ رہے ہیں
15:06ہم دیکھے کیسے کیسے آلات ہوتے ہیں
15:08کہ جنگ سے فتح آسمان کے آ رہے ہیں
15:11اور وہاں پہ ہی ملیمہ ہو رہا ہے
15:12وہاں پہ ہی ملیمہ ہو رہا ہے
15:14سارا کچھ وہی پہ ہو رہا ہے
15:17حضرتِ صفیہ رضی اللہ تعالی
15:19انہاں رمضان المبارک پچاس
15:21یا باوت ہیجری میں ان کا مثال ہوا
15:23اور جنگ البقی میں ان کا بھی مدفن ہے
15:26حضرتِ صفیہ رضی اللہ تعالی
15:28انہاں سے نکاح کرنے میں حکمت یہ تھی
15:30کہ اگر وہ کسی اور کے نکاح میں آتی
15:32تو فتنہ اور نزہ پیدا ہونا تھا
15:34تو کیونکہ وہ نبی ذاتی بھی تھی
15:37قریضہ اور ندیر کی سردار بھی تھی
15:40اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:41نے آپ کے سوا
15:43کسی کے نکاح میں جانا
15:46یعنی آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
15:48کے شایعان شاہد آگیا
15:49آپ کو اپنے نکاح میں لے رہے تھے
15:51فتنہ سے بچانے کے لئے
15:52اور حضرتِ حارون علیہ السلام کی اولان سے بھی تھی
15:54تو اس وجہ سے آقا قریب صلی اللہ علیہ وسلم
15:56نے خود دل کو اپنے پاس لیا
15:58اور اپنا شرفِ زونیت بخشا
Comments

Recommended