Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02السلام علیکم ورحمت اللہ
00:03محتم سامیر آپ دیکھ رہے ہیں محمد بن قاسم کی بائیوگرافی
00:06ڈاکومنٹری
00:07محمد بن قاسم نے سلمان بن عبد الملک
00:10کے کمرے کا دروازہ کھول کر
00:12اندر دیکھا یہ اپیسوڈ نمبر تین ہے
00:14سلمان اپنے ساتھیوں کے ساتھ
00:16دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے
00:18بیٹھا تھا دو خادم
00:19اس کے پاؤں دبا رہے تھے اور ایک کاندھا
00:21دبا رہا تھا محمد بن قاسم
00:24اندر آ کر السلام علیکم کہا
00:25سلمان بن عبد الملک نے نہایت
00:27لا پروائی سے وعلیکم السلام کہا
00:29اور پوچھا کہ تم کون ہو
00:31یہاں کیا لینے آئے ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو
00:33محمد بن قاسم نے کہا
00:35میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کے
00:37آرام میں خلل ڈالا
00:38میں آپ کو یہ بتانے آئے ہوں کہ میں ایک بہت اہم
00:41پیغام لے کر دمشق جا رہا ہوں
00:43سلمان بن عبد الملک نے نہایت
00:45لا پروائی اور تنزی انداز میں کہا
00:47تو جاؤ بابا ہم نے کون سا
00:49تم کو پکڑ رکھا ہے
00:50اس کے ساتھ وہ ایک زہدار
00:53کہکے کے ساتھ ہنس پڑا
00:54اس کے باقے ساتھیوں نے بھی
00:57زہدار کہکے لگانے شروع کر دیئے
00:59محمد بن قاسم نے اس کے رویہ
01:01کی طرف توجہ نہ دی اور کہا
01:03ہمارے گھوڑے بہت تھک چکے ہیں
01:05بہت ہی تھک چکے ہیں
01:07اور اس چوکی سے ہمیں دو
01:09تازہ دم گھوڑے لے کر جانے ہیں
01:11اس کے لئے مجھے آپ کی اجازہ لینے کی
01:13ضرورت تو نہیں مگر میں نے سوچا
01:15کہ ہمارے بعد آپ چوکی کے
01:17محافظوں کو برا بھلا نہ کھیں
01:18سلمان بن عبد الملک نے کہا
01:21کہ اگر تمہارے گھوڑے تھک چکے ہیں
01:23تو دمشق پیدل چلے جاؤ
01:24محمد بن قاسم نے نہایت پرعظم انداز میں
01:27کہا ایک سپاہی کے لئے
01:29پیدل چلنا مشکل نہیں لیکن
01:31ہمیں دمشق بہت جلد پہنچنا ہے
01:33سلمان نے پھر تنز کرتے ہوئے
01:35کہا اچھا تو تم سپاہی ہو
01:37مگر نیام لکڑی کی
01:39دلوارہ یا لوہے کی
01:40یہ سن کر باقی لوگ دوبارہ ہنسنے لگے
01:43محمد بن قاسم نے اپنی
01:45سنجیدگی دوبارہ برقرار
01:47رکھتے ہوئے کہا اگر بازوں میں
01:49طاقت ہو تو لکڑی سے بھی
01:51لوہے جیسا کام لیے جا سکتا ہے
01:52میں پورے یقین سے
01:55کہہ سکتا ہوں کہ میرے نیام میں
01:57تلوار بھی لوہے کی ہے اور مجھے اپنے
01:59بازوں پر مکمل بھروسہ بھی ہے
02:00سلمان بن عبد الملک یہ سن کر
02:03حیران ہو گیا اور اپنے
02:05ایک ساتھی سے کہا
02:06سالے یہ لڑکا باتیں بہت کرتا ہے
02:09ذرا اٹھو اور اس کے مقابلے میں آ جاؤ
02:11میں اس سپاہی کے جہور
02:13دیکھنا چاہتا ہوں
02:14ایک سامنے رنگ کا لمبا آدمی فوراں
02:17اٹھا اور تلوار تھام کر
02:19محمد بن قاسم کی طرف بڑھا
02:21محمد بن قاسم نے کہا
02:23میں راہ چلتے ہوئے
02:25سپاہیانہ سلایتیں دکھانے
02:27کا عادی نہیں ہوں اور نہ ہی
02:29میرے پاس فضول وقت ہے
02:31اگر میرے پاس اضافی وقت
02:33بھی ہوتا تو مجھے بے مقصد کہہ کے
02:35لگانے والوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے
02:37یہ کہہ کر
02:39محمد بن قاسم کمرے سے
02:41باہر نکل گیا
02:42مگر سالے نے آگے بڑھ کر
02:44تلوار کی نوک اس کی طرف کرتے ہوئے
02:46اس کا راستہ روک لیا اور کہا
02:48ارے ہو بے وقوف
02:49اگر تمہاری عمر کچھ زیادہ بھی ہوتی
02:52تو میں تم کو بتاتا کہ
02:53بے مقصد کہہ کے لگانے والا
02:55کس کو کہتے ہیں
02:56سلمان بن عبد الملک نے سالے سے کہا
02:59اس لڑکے کو جانے دو
03:00اللہ جانے کہاں سے تلوار لے آیا ہے
03:03اتنی دیر میں زبیر گھوڑوں کی لگام
03:06تھام کر آتا ہوا نظر آیا
03:08تو سلمان نے سالے سے کہا
03:10اب یہ کون ہے جو گھوڑے لے کر
03:12جا رہا ہے
03:13سالے نے اس کی طرف دیکھا
03:15تو اتنی دیر میں محمد بن قاسم نے
03:17تلوار نیام سے باہر نکالی اور کہا
03:20لگتا ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ
03:23آج بھی اس دنیا میں موجود ہیں
03:25تم ہمیں روک نہیں سکتے
03:27سالے نے اپنی تلوار کی نوک
03:30محمد بن قاسم کے سینے کی طرف کی
03:32اور نہایت غصے سے چلایا
03:34اگر تمہاری زبان سے
03:36مزید کوئی لفت نکلا
03:38تو میں اپنی تلوار کو تمہارے خون
03:40ابھی یہ الفاظ سالے کی زبان
03:42پر ہی تھے کہ فضاء میں
03:44دو تلواروں کے ٹکڑانے کی آواز گنجی
03:47اور چند لمحوں میں
03:48سالے کی تلوار دس بارہ
03:51قدم دور جاکی ہوئی
03:52گرتے ہوئی نظر آئی
03:53اور اس کے ساتھی حیران کھڑے تھے
03:56محمد بن قاسم نے
03:58لگام پکڑی اور چھلانگ لگا کر
04:01گھوڑے پر سوار ہو گیا اور گھوڑے
04:02کروخ موٹتے ہوئے سلیمان بن
04:04عبد الملک کی طرف دیکھا اور کہا
04:06آپ کا یہ ساتھی بہادر تو ہے
04:08مگر تلوار پکڑنا نہیں جانتا
04:10میری بات مانیں
04:12کہ ان ساتھیوں کو دمشق میں
04:14جنگی ہتھیاروں کی نمائش سے پہلے
04:16کسی سپاہی کے سپورت کر دیں
04:18یہ کہہ کر محمد بن قاسم
04:20نے گھوڑے کو ایر لگائی
04:22اور زبیر بھی اس کے ساتھ
04:26کھوڑے کو بھگا کر منٹو میں
04:27سلیمان بن عبد الملک کی
04:28نظروں سے اجل ہو گیا
04:30سالے شرمنگی سے
04:33اپنی ہونٹ کارتے ہوئے
04:34استبل کی طرح بھاگا لیکن
04:36سلیمان بن عبد الملک نے ہستے ہوئے
04:38اسے روک لیا اور کہا اب زیادہ
04:40بہادری نہ دکھاؤ تم ان لڑکوں
04:42کا کچھ بگار نہیں سکتے
04:44وہ لڑکا ہمارا مزاک اڑا کر
04:46بہت دور چلا گیا ہے
04:48محمد بن قاسم کی شخصیت سے ہی
04:50اندازہ ہو جاتا تھا
04:52کہ بدین سلام کا پکا اور سچا پیروکار تھا
04:55راستے میں زبین نے محمد بن قاسم سے کہا
04:58کہ آپ کو علم ہے کہ
04:59سلمان بن عبد الملک خلافت کا امیدوار بھی ہے
05:02محمد بن قاسم نے کہا
05:04اللہ کریم مسلمانوں کو
05:06ہر قسم کے شر سے بچائے آمین
05:09زبین نے محمد بن قاسم کی بات سن کر
05:12سمم آمین کہا اور پھر کہا
05:13آج میں نے آپ کے چہرے کو
05:15پہلی دفعہ اتنے جلال میں دیکھا ہے
05:17سالے کا مقابلہ کرنے کیلئے
05:20جب آپ نے تلوار نکالی
05:21تو مجھے آپ کے زیادہ عمر کے تجربہ
05:24سپاہی محسوس ہوئے آپ مجھے
05:26آپ کو بتا ہے کہ یہ سالے کون تھا
05:29یہ تلوار زنی کا بہت بڑا تجربہ کار
05:32کھلاری ہے
05:33میں نے ڈیڑھ سال پہلے اس کو دیکھا تھا
05:36اسے اپنی محالت پر بہت غرور تھا
05:39مگر آپ نے تو اس کا سارا غرور
05:40مٹی میں ملا دیا
05:41محمد بن قاسم اس کے بات سن کر
05:44مسکرا دیا اور دمشق کی جانب
05:46تیزی سے بڑھنے لگا
05:47مہتم سامین
05:50دمشق پہنچ کر دونوں نے جامعہ مسجد میں
05:52نماز حسر ادا کی اور
05:54کسر خلافت میں چلے گئے
05:55جہاں امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک
05:58نے ان کی آمد کی ادلہ پاتے ہی
05:59انہیں فوراں اندر آنے کا حکم دی دیا
06:02جب یہ دونوں دربار میں پہنچے
06:04تو خلیفہ ولید بن عبد الملک نے
06:05دونوں کو باری باری سر سے پاؤں تک دیکھا
06:08اور پوچھا
06:09تم دونوں میں سے محمد بن قاسم کس کا نام ہے
06:12محمد بن قاسم نے
06:14نہایت عدب سے جواب دیا
06:15یا امیر المؤمنین میرا نام
06:18محمد بن قاسم ہے
06:19خلیفہ کے سوال کرنے کے بعد تمام
06:22درباریوں کی نظریں زبیر پر لگی ہوئی تھی
06:24مگر محمد بن قاسم
06:26کا جواب سن کر وہ سب
06:27حیرت سے اسے دیکھنے لگے
06:29سب کی نظروں میں حیرت اور زبان پر
06:32خاموشی تھی
06:32تھوڑی دیر بعد سب درباری ایک دوسر سے
06:36سرگوشیاں کرنے لگے
06:37حجاد بن یوسف کے پیرے خصے
06:40خریفہ کو علم تو تھا
06:41کہ محمد بن قاسم بالکل نوجوان ہے
06:43جس کی عمر بمشکل سونہ ستنہ سال ہے
06:46مگم تمام
06:47مگر تمام درباری زبیر
06:50ہی کو محمد بن قاسم سمجھ رہے تھے
06:52اس لڑکے کو
06:53قطیبہ کے
06:54یا کنتبیہ کے لشکر کا سرار آرہ
06:57ماننے کو وہ بالکل بھی تیار نہیں تھے
07:00مہتم سامین اس کے بعد آگے کیا ہوا
07:02ہم آپ کو نیکس ایپیسوڈ میں بتائیں گے
07:04اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended