00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:04حضرت امام حسین
00:05رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر
00:07آپ کے بچپن میں ہی مشہور ہو گئی تھی
00:09اور آپ کے والدین کریمین کے ساتھ
00:12ساتھ بہت سارے صحابہ کرام یہ جانتے تھے
00:14کہ ایک دن امام حسین
00:15رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
00:16ظلم انقتل کیا جائے گا اور وہ منصف
00:19شہادت پر فائز ہوں گے
00:21مشکاہ شریف میں حدیث ہے کہ
00:22صعی اللہ تعالیٰ عنہ
00:25رضی ام فضل بن تحارش
00:26رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں
00:28کہ میں ایک نوع نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ عنہ
00:29کی خدمت میں حاضر ہوں
00:31امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:33کو آپ نے گود میں اٹھایا ہوا تھا
00:35پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
00:37کی آنکھوں سے لگتا رانسوں بہرے تھے
00:39میں نے ارز کیا
00:41یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:42میرے ماں باپ آپ
00:44آپ پر قربان ہوں
00:52دی تھی کہ میری امت
00:53میرے اس فرزند کو شہید کر دے گی
00:56میں نے ارز کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:58کیا اس فرزند کو شہید کر دے گی
01:00حضور نے فرمایا ہاں
01:02اور جبرائیل میرے پاس اس کی شہادتگاہ کی
01:04صرف مٹی بھی لائے تھے
01:06اسی طرح حضور مارک
01:11رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
01:12کہ بارش کے فرشتے نے
01:14حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خضرت میں
01:16حاضری دینے کے لیے اجازت فرض کی
01:18جب وہ فرشتہ اجاز ملنے پر
01:20نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خضرت پر حاضر ہوا
01:23تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم
01:25حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
01:26گود میں اٹھائے پیار کر رہے تھے
01:28فرشتہ نے ارز گئے
01:30یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
01:31کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں
01:33حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:35ہاں
01:36اس نے کہا کہ آپ کی امت
01:38امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دے گی
01:41اگر آپ چاہیں
01:43تو میں ان کی قتلگاہ کی مٹی آپ کو دکھا دوں
01:45پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لائے
01:47جسے ام الممنین حضرت ام سلمہ
01:49رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کپڑے میں لے لیا
01:51ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے
01:53کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:55اے ام سلمہ
01:56جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا
01:59کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا ہے
02:01حضرت ام سلمہ
02:02رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں
02:04کہ میں نے اس مٹی کو شیشی میں بند کر لیا
02:06جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
02:09شہادت کے دن خون بن گئی تھی
02:11ابن سعید
02:13حضرت شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرماتی ہیں
02:15کہ سجنہ حضرت عریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
02:17جنگ سفین کے موقع پر
02:19کربلا سے آپ گزر رہے تھے
02:21کہ فراد کے کنارے آپ ٹھائر گئے
02:23اور اس زمین کا نام دریاد فرمایا
02:25لوگوں نے کہا کہ اس زمین کا نام کربلا ہے
02:28کربلا کا نام سنتے ہی آپ اس قدر روئے
02:31کہ زمین آسوں سے تر ہو گئی
02:33پھر فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
02:36ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا
02:37کہ آپ رو رہی ہیں
02:38میں نے اس کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہی ہیں
02:41فرمایا ابھی میرے پاس
02:43جبرائیر آئے تھے
02:44انہوں نے مجھے خبر دی تھی
02:46کہ میرا بیٹا حسین دریائے فراد کے کنارے
02:49اس جگہ پر شہید کیا جائے گا
02:51جس کو کربلا کہتے ہیں
02:52اور وہاں کی مٹی بھی مجھے سنگھائی گئی
02:54خطبات مہرن
03:03صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت امام حسین
03:05نزی اللہ تعالیٰ کی اشارت کی خبر دے دی تھی
03:08صحابہ کرام اور اہل بیعت میں سے
03:10کئی حضرات کو یہ معلوم ہو چکا تھا
03:11کہ امام حسین نزی اللہ تعالیٰ شہید ہوں گے
03:14اور ان کی اشارتگاہ بھی
03:16کربلا کا مقام ہے
03:17لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:19اور ناہی حیرت علیہ وسلم
03:20اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:22اور دیگر اہل بیعت
03:24جتنے بھی تھے
03:25آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو قریبے رشدہ
03:27ان سب نے
03:28اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
03:30حیرت امام حسین
03:31یا امام حسین
03:32رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:33اس حادث سے محفوظ رکھنے کی دعا کی
03:34اور نہ ہی حضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
03:37دعا کی درخواست کی
03:38کیونکہ یہ صدقوں معلوم تھا
03:40کہ حیرت امام حسین
03:41رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:42کے لئے آزماش اور امتحان ہے
03:44اور امتحان سے کسی کو بچائے نہیں جا سکتا
03:47بلکہ یہ دعا کی جاتی ہے
03:48کہ اللہ
03:49اسے امتحان میں کامیابی عطا فرما
03:51اور ثابت قدم بڑھ
03:52تاریخ اسلام کا
03:54وہ واقعہ
03:55یہ کس قدر دردنا تھا
03:57ہم آپ کو ضرور بتائیں گے
03:59کہ امام حسین
04:00رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:01کو
04:01بے درد ظالموں نے کیسے
04:03فتل کیا
04:04یا شہید کیا
Comments