00:00Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:02Muttam-Sami
00:03Khalifah نے لوگوں کو ہاتھ کا اشارہ کر کے خاموش کروایا اور کہا
00:08میری خواہش ہے کہ ایک ہفتے کے اندر دمشقی فوج بسرا روانہ ہو جائے
00:12اگر بسرا میں محمد بن قاسم جیسے چند اور نوجوان موجود ہیں
00:17تو یقیناً کوفہ اور بسرا سے بھی سپائیوں کی کافی تعداد جمع ہو جائے گی
00:21عام میں سے جن کے پاس گھوڑے نہیں ہیں ان کو گھوڑے دیا جائیں گے
00:27جن کے پاس اسلح نہیں ہیں ان کو اسلح دیا جائے گا
00:29میں ایک بہت اہم خبر بھی سنانا چاہوں گا
00:33جس کا فیصلہ کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے
00:35اور وہ یہ ہے کہ میں محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے والے لشکر کا سپے سالا مقرر کرتا ہوں
00:41میں نے اس نوجوان مجاہد کے لیے اماد الدین کا لقب چنا ہے
00:46آپ سب مل کر اس کے لیے دعا کریں
00:48کہ یہ واقعی اسلام کے لیے اماد الدین دین کا ستون ثابت ہو
00:53آمین
00:53مجمع میں ایک بار پھر جوش امڈ آیا
00:57اور سب نے مل کر خلیفہ کے فیصلے کی بھرپور حمایت بھی کی
01:00رات کے آخری پیر محمد بن قاسم نین سے بیدار ہوئے
01:04اور دمشق کی جامعہ مسجد میں تحرجت کی نماز ادا کرنے کے بعد
01:08اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی عز و انکساری کے ساتھ دعا کرنے لگے
01:14اے رب العالمین تو بہت رحیم و کریم ہے
01:17تیری ذات سب سے عالی و عرفہ ہے
01:19میرے کمزور کندوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے
01:23میری مدد فرما
01:25مجھے ذمہ داری کو پورا کرنے کی مکمل توفیق اتا فرما
01:29میرے ساتھیوں کو ان کے آباؤ اجداد کا عظم جذبہ اور استقلال اتا فرما
01:34حشر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہونے بالوں کے سامنے ہمیں شرم سار نہ ہونے دینا
01:43اے مالے کے دو جہاں
01:44مجھے خالد بن ولی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مسنہ بن حارس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا جذبہ اتا فرما
01:51میری زندگی کا ہر لمحہ تیرے دین کی سر بلندی اور سر فرازی میں گزرے
01:56اے اللہ ہماری مدد فرما
01:58تیرے نام پر مٹنے والے تیری رحمت کے طلبگاہ ہیں
02:02ان الفاظ کے ساتھ محمد بن قاسم کی آواز بھر آئی اور آنکھوں سے آنسو بہ نکلے
02:07کچھ دیر یہی کیفیت رہی
02:10جب دل کو حسنا ہوا تو محمد بن قاسم نے دعا کے لئے اٹھے ہاتھ اپنے چہرے پر پھیل لیے
02:15اور دیکھا کہ اس کے ساتھ صرف میں ایک اور آدمی بھی ہے جو اس کے دائیں جانے بیٹھا ہوا ہے
02:21محمد بن قاسم اور اس نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
02:26دونوں ایک دوسرے کو دف دیکھ رہے تھے
02:28اس آدمی کا سادہ لباس اور نورانی چہرہ مقصود جازبیت زہر کر رہا تھا
02:33دونوں کی نظروں میں شناسائی کا انداز بھی تھا
02:38وہ آدمی اپنی جگہ سے ذرا سا کھسکا اور محمد بن قاسم کے انتہائی قریب ہو کر بیٹھ گیا
02:49اور نہایت محبت اور خلوص سے دیکھتے ہوئے بولا
02:52کیا تمہارا نام محمد بن قاسم ہے
02:54محمد بن قاسم نے کہا جی ہاں
02:57آدمی نے خوشی سے کہا
02:59میرے نام عمر بن عبدالعزیز ہے
03:01محمد بن قاسم کا چہرہ کھل اٹھا
03:03وہ نہایت عدب سے بیٹھ گیا
03:05محمد بن قاسم اس سے پہلے عمر بن عبدالعزیز کی بزرگی اور پاکیزگی کے متعلق بہت کچھ سن چکے تھے
03:12اور ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ عمر بن عبدالعزیز سے ملاقات بھی کریں
03:17محمد بن قاسم نے ان سے کہا
03:21محترم آپ میرے لئے خصوصی دعا فرمائیں
03:23حیرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا
03:26اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے نیک ارادے کو پورا فرمائے اور تمہاری مدد فرمائے
03:31آمین
03:31محمد بن قاسم نے کہا محترم ایک لمبے عرصے سے میری خواہش تھی کہ میں آپ سے ملاقات کروں
03:37آج اتفاقا آپ سے ملاقات ہو گئی ہے
03:40جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے تحفہ ہے
03:43آپ مجھے کوئی نصیت فرمائیں
03:45عمر بن عبدالعزیز نے مسکرا کر کہا
03:48تمہارے جیسے بہادر اور ہونہار سپرسلار کی قیادت میں انشاءاللہ دشمن کے خلاف تلوار کی موہم ختم ہو جائے گی
03:55مگر تم سندھ میں جہاد کا اصل جذبہ لے کر جا رہے ہو
04:00تو تم کو وہاں پر اپنے اخلاق کردار اور نرم لہجے سے یہ ثابت کرنا ہوگا
04:05کہ تم سندھ کے لوگوں کو غلام بنانے کیلئے نہیں
04:08بلکہ ان کو ظلم سے نجات دلا کر آزادی اور سلامتی کا راستہ بتانے کے لئے آئے ہو
04:14تم نے انہیں یہ بتانا ہے کہ اسلام میں قدم رکھنے والے ہر انسان غلامی سے آزاد ہیں
04:20تم جز علاقے میں جا رہے ہو وہاں کے لوگ آقا اور غلام اونچی اور نیچی ذات کے قائل ہیں
04:27مگر تم نے اسلامی مساوات کا درست نقشہ پیش کر کے تمام انسانوں کو برابر کا درجہ دینا ہے
04:34اس طرح تم ان کے دل بھی جیت لوگے جو آج تمہارا دشمن ہوگا
04:39وہ کل تمہارے کردار کی وجہ سے تمہارا سب سے بہترین دوست بن جائے گا
04:44جاؤ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارا غامی ہونا سرو
04:47اتنی دیر میں فجر کی اعزان گونجنے لگی
04:51دونوں نے فجر کی نواز ادا کی اور محمد بن قاسم نے عمر بن عبدالعزیز سے اجازت لی
04:56اور کہا سندھ روانہ ہونے میں ہمیں کم از کم پانچ سے چھے دن لگ سکتے ہیں
05:01ان دنوں میں مجھے آپ کے علم و فضل سے فیضیاب ہونے کا موقع مل جائے تو میری خوش قسمتی ہوگی
05:08مگر دن میں زیادہ وقت مجھے نئے سپائیوں کو تربیہ دینے میں گزاننا ہوتا ہے
05:12اگر آپ مناسب سنجھے تو رات کو مجھے تھوڑا سا وقت دے دیا کریں
05:16عمر بن عبدالعزیز نے محمد بن قاسم کے کندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
05:21جب بھی تمہارا دل چاہے میرے پاس آ جانا
05:24خاص طور پر اس وقت جب تم یہاں مسجد میں مجھے پاؤ گے
05:28ایک ہفتے کے بعد میں نے مدینہ منورہ چلے جانا ہے
05:32محمد بن قاسم نے عمر بن عبدالعزیز سے اجازت لی اور مسجد سے باہر چلے گئے
05:36جہاں پر دمشق کے نوجوانوں کا ایک بہت بڑا خجوم جمع تھا
05:40وہ اس کے آگے پیچھے چلنے لگے
05:43محمد بن قاسم نے نوجوانوں سے کہا
05:46آپ سب لوگ میدان میں پہنچیں میں تھوڑی دیر تک آپ کے پاس آتا ہوں
05:50تمام نوجوان میدان کی طرف چل پڑے
05:52یہ پاندن گزنے کا پتہ بھی نہیں چلا
05:55اور دمشق میں نوجوانوں کا ایک بہت بڑا لشکر بھی تیار ہو چکا تھا
05:59صبح نماز فجر پڑھنے کے بعد دمشق کے لوگ مکانوں کی چھتوں اور بازاروں میں کھڑے ہو کر
06:05محمد بن قاسم اور اسلامی لشکر کا جلوس دیکھ رہے تھے
06:08دنیا کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ تھا
06:12کہ ایک طویل سفر کے بعد جنگ کرنے والی فوج کی باگ ڈوڑ
06:16ایک سترہ سالہ نوجوان کے ہاتھ بھی تھی
06:18دمشق سے بسرہ تک کے راستے میں
06:21ہر شہر ہر بستی سے کئی نوجوان کم سن لڑکے اور بوڑھے بھی اس لشکر میں شریک ہو رہے تھے
06:26کوفہ اور بسرہ میں محمد بن قاسم کے روانہ ہونے کے اطلاع پہنچ چکی تھی
06:32وہاں عورتیں بھی اپنے مردوں کو سن جانے والے لشکر میں شامل ہونے کا کہہ رہی تھی
06:37بلکہ محمد بن قاسم کی بوڑی والدہ بھی بسرہ کی بوڑی عورتوں کے ساتھ مل کر جہاد کی تبلیغ کر رہی تھی
06:44عورتوں نے اپنے قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کروا دیئے
06:48تاکہ اسلامی لشکر کے کام آسکے
06:51محمد بن قاسم نے بسرہ میں تین دن تین راتیں گزاری
06:55ان دنوں بیت المال میں لاکھوں روپے اور زیورات جمع ہو گئے تھے
07:00دمشق سے روانہ ہوتے وقت اسلامی لشکر میں پانچ ہزار سپاہی موجود تھے
07:05مگر جب یہ سپاہی بسرہ پہنچے تو ان کی تعداد بارہ ہزار سے بھی کہیں زیادہ ہو گئی تھی
07:11جن میں چھ ہزار سپاہی گھر سوار، تین ہزار پیدل اور تین ہزار سمانے رسد کے اونٹوں کے ساتھ موجود تھے
07:17مہتم سامین محمد بن قاسم بسرہ سے شیراد اور وہاں سے مکران تک پچھلے گئے
07:24مکران کی سرد پار کر کے جب لسبیلہ کا علاقہ شروع ہوا تو وہاں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
07:31بھیم سنگھ اپنی بیس ہزار فوج کے ساتھ لسبیلہ کے سندھی گورنر کی مدد کے لئے پہنچ چکا تھا
07:38اس نے وہاں ایک مضبوط قلعے کو اپنا مرکز بنا کر تمام راستوں میں ماہر تیر اندازوں کو بٹھا دیا تھا
07:45جب اسلامی لشکر ان پہاڑی علاقے میں پہنچا تو بھیم سنگھ کے سپاہیوں نے حملے کرنے شروع کر دیئے
07:52تیس چالیس سپاہیوں کا گروہ کسی پہاڑی یا ٹیلے سے اچانک نکلتا اور اسلامی لشکر پر تیر بسا کر اچانک غیب ہی ہو جاتا تھا
08:01گھوڑوں پر سوار اسلامی سپاہی ادھر ادھر ہو کر خود کو بچا تو لیتے مگر اونٹ سوار ان حملوں سے شدید پریشان تھے
08:10کیونکہ اونٹ بدک کر ادھر ادھر بھاگنے لگ جاتے تھے جن کو قابو کرنا بہت مشکل تھا
08:16یہ صورتحال دیکھ کر محمد بن قاسم نے ہر اول دستر کی تعداد میں اضافہ کر دیا
08:21جس سے دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنا آسان ہو گیا
08:26مگر چالاک دشمن پھر بھی اتنا شدید حملہ کرتا کہ اسلامی لشکر بوکھلا جاتا تھا
08:32مہتم سامین یہ تھی محمد بن قاسم کی اپیسوڈ نمبر پانچ جو کہ یہاں پہ مکمل ہوتی ہے
08:37جلد ہی آپ کے ساتھ ملتے ہیں آپ کو ملتے ہیں اپیسوڈ نمبر چھے کے ساتھ
08:42اپنا خیار رکھے گا اللہ حافظ
Comments