Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:00I'm going to pray for you.
00:30Surah Al-Fatiha.
01:00میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں زبا کر رہا ہوں اب بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہیں
01:06عرض کیا ہے میرے والد محترم آپ کر دیجئے وہ کام جس کے کرنے کا آپ کو حکم دیا گیا ہے
01:15اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
01:20پھر جب یہ دونوں نے اطاعت کے لیے سرخم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا
01:26اور ہم نے آوازی ابراہیم بس ہاتھ روک لو
01:31بے شک تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور ہم اسی طرح انعام دیتے ہیں نیک کام کرنے والے لوگوں کو
01:39مہتم صامین آج سے دس دن بعد عید العزا کا مبارک دن شروع ہونے والا ہے جسے ہم عید قربان بھی کہتے ہیں
01:48لفظ عید عود سے محفوظ ہے عادہ یعود و عودن یعیدن سے محفوظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے بار بار لوٹنا بار بار دوبارہ باپسانا
01:58یہ وہ مقدر سنگ ہے مہتم صامین کے جس میں اللہ تبارک و تعالی کی رحمت انسان کے اوپر آتی رہتی ہیں
02:07اللہ تبارک و تعالی اپنے بندوں کو انام و اکرام سے نوازتا ہے
02:12عید قربان جب بھی آئے ایک ایسا واقعہ ہمارے ذہنوں میں آ جاتا ہے جو ہزاروں سال پہلے کا واقعہ ہے
02:20یہاں اپنے سورہ ہوگا حضی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضی اسماعیل علیہ السلام کے زبا کرنے کا واقعہ
02:28حضی ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا جو خواب تھا وہ کیا تھا
02:34اجاز مقدس کے ریگستان پر حضی ابراہیم علیہ السلام کے نوے سال پہ اولادی میں گزر گئے
02:42تقریباً چھاسی سال کے بارے میں بھی یہ روایات ملتی ہیں
02:45شب و روز اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں نرینہ اولاد کے لئے دعا فرماتے رہے
02:51اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی
02:55اور تقریباً چھاسی سال کے عمر میں آپ کو حضی اسماعیل علیہ السلام جیسا پیارا بیٹا نوازا
03:03باپ بیٹے سے بہت پیار کرنے لگے
03:05عارضوں کے پورے ہونے پر مسررت اور خوشی کے دن بسر ہونے لگے
03:10مگر چند دن گزرے تھے کہ امتحان کا وقت آ گیا اور یہ امتحانا بیسا تھا کہ جان سے ہاتھ دونا پڑا
03:17امتحان کیا تھا؟
03:19اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے ابراہیم علیہ السلام
03:23اپنی بیوی حضرت حاجرہ سلام اللہ علیہ السلام
03:27اور اپنے ننے بیٹے کو جو کیا بھی بہت ہی چھوٹے ہیں
03:32ان کو اللہ کی حکم کے مطابق سہرہ میں اکیلے چھوڑ کے چلے ہو
03:36یہاں آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا
03:39نہ خیدی باری نہ پانی نہ گزر بسر کے لئے کوئی جانور نہ انسان کچھ بھی یہاں بھی موجود نہ تھا
03:45مگر مہتم سامین دیکھیں جب اللہ کا حکم آیا تو ہر ابراہیم علیہ السلام نے
03:51کیسے سب کچھ اپنے گھر والوں کو بیوی بچوں کو اکیلے تنہا چھوڑ دیا
03:57گرمہ گرم پہاڑ اور سہرہ تھے پانی کا دور دور تک نشان نہ تھا
04:03یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے
04:06اللہ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ مومنوں تم میں سے اچھے کام کو
04:15ان کرتا ہے تم میں سے نیک کام کو ان کرتا ہے
04:18اللہ نے تو زندگی اور موت کو پیدا ہی اسی لئے کیا ہے
04:21زندگی کو اسی لئے انسان کو زندگی فرام کی ہے
04:24کہ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں
04:28انسان کا عمل کس قدر موثر ہے
04:30اے انسانوں کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ تمہیں بیکار پیدا کیا گیا ہے
04:38ایسا بالکل بھی نہیں ہے
04:39مہتم سامین یہاں سہرا ہی سہرا چٹانے ہی چٹانے تھی
04:44جناب حاجرہ یا ایک بچہ دو ہی جانے تھی
04:48نہ دانا تھا نہ پانی تھا بروسہ فقط رب پر تھا
04:52بڑی جب دھوب کی گرمی تو جاں آنے لگی لب پر
04:55مہتم سامین دیکھیں سہرا میں پانی کا نام و نشان تک موجود نہیں
04:59باپ کا سایہ وہ بھی چھوٹ گیا
05:02باپ بھی اکیلہ چھوڑ کے چلا گیا
05:04اب ماں اور بچے اکیلے رہ گئے
05:07سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں چھوڑ کر واپس لوٹے
05:11جب واپس آئے تو دیکھتی ہیں کہ مشکیزے کا پانی جو ہے وہ بھی ختم ہو چکا
05:16سیدنا حاجرہ علیہ السلام پانی کی دوڑ میں
05:20تقریباً صفحہ عمرہ پر ساتھ چکر لگاتی رہی
05:23پیاس کے شدت تھی اور بچے کی فکر کا عالم تھا
05:28بہرحال ماں ہزاروں اور مانوں سے اپنے فرزند کو پال رہی تھی
05:32اور پالتی رہتی ہے
05:34سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا کام وہ بھی ایسے تھا
05:38کہ وہ بھی بہت چھوٹے تھے یہاں قوم بنو جرحم آباد ہو چکی تھی
05:42تو آج اپنے والد محترم سیدنا ابراہیم علیہ السلام
05:46اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی کئی سالوں بعد ملاقات ہوئی
05:52جب سیدنا اسماعیل علیہ السلام جوان ہو چکے تھے
05:56باپ بیٹے نے اللہ کریم کا شکر ادا کیا کہ امتحان میں کامیاب ہو گئے
06:00اور وہ امتحان کیسا تھا کس کے بارے میں تھا کامیابی کیسے ملی
06:05ہم آپ کو بتا دے جلتی ہیں محترم سامین
06:09مگر آج ایک انوکھا اور نرالہ امتحان آ گیا
06:14یہ ذلحج کا مہینہ تھا
06:16آرد ذلحج کو رات کے وقت ایک خواب دکھا گیا
06:19اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب دکھایا
06:24خواب میں یہ تھا کہ وہ آپ اسماعیل علیہ السلام کو زبا کر رہی ہیں
06:29صبح اٹھے تو سوچ میں پڑ گئے کہ یہ رحمانی خواب ہے یا کوئی وسوسہ ہے
06:34اسی وجہ سے آج ذلحج کو یوم ترویہ بھی کہتے ہیں
06:38ترویہ یعنی سوچ کریں
06:40آپ دوسری رات آرام فرما رہے تھے
06:43تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوبارہ حکم ہوا اور دوبارہ وہی خواب دیکھا گیا
06:48نو ذلحج کو یوم عرفہ یعنی پہچاننے کا عرفہ
06:52پہچاننے کا دن بھی کہتے ہیں
06:54اور دسویں رات کو بھی دوبارہ خواب دیکھا گیا
06:56تو یقین آ گیا کہ یہ پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی ہو سکتا ہے
07:01اور پھر دسویں رات خواب دیکھنے کے بعد آپ نے مسمم ارادہ کر لیا
07:06یہ سب سے پیاری چیز
07:08یعنی اپنے پیارے بیٹے حرد اسماعیل علیہ السلام کو
07:12جو کہ ان کو چھاسی سال کمر میں اللہ تعالیٰ نے فراہم کیا تھا
07:16اکیلے بیٹے تھے
07:18وہ بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربان کر دیں گے
07:22صبح اٹھے تو اپنے پیارے بیٹے کو خواب سنایا
07:25خواب سنایا تو کہنے لگے بتاؤ میرے بیٹے کہ تمہاری کیا رائے ہے
07:29بیٹے نے کیا جواب دیا
07:31یا بتفعل ما تؤمر
07:34اے میرے والد محترم آپ کر لیجئے وہ کام جس کے کرنے کا آپ کو حکم دیا گیا ہے
07:39ساتا جی دنی انشاءاللہ من الصابرین
07:43بیٹا کیا کہنے لگا
07:45اے میرے والد محترم آپ کر لیجئے وہ کام جس کے کرنے کا آپ کو حکم دیا گیا ہے
07:50انشاءاللہ آپ مجھے سفر کرنے والوں میں سے پائیں گے
07:54جبھر ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کے یہ بات سنی
07:59تو بہت زیادہ خوش ہوئے
08:01عرض کیا عبا جان آپ کام کر لیجئے
08:03خلیل اللہ اٹھے خواب سے دل کو یقین آ گیا
08:07آخر امتحان بندے کا مالک نے ہے فرمایا
08:10بیٹا بولا آج میں نے خواب میں
08:14باپ بولا کہ آج میں نے خواب میں دیکھا ہے
08:17کتاب زندگی کا ایک نرالہ باب دیکھا ہے
08:21یہ دیکھا ہے کہ میں خود آپ تجھے زبا کرتا ہوں
08:24خدا کے نام سے تیرے لہو سے ہاتھ بھرتا ہوں
08:27مہتم سامین باپ سابر ہے تو بیٹا بھی شاکر ہے
08:31باپ پیکر وفا ہے تو بیٹا پیکر تسلیم اور رضا ہے
08:35باپ بیٹا چلنے لگے تو بیٹے نیرس کی
08:38اے اببا جان چھلوی کے علاوہ رسی اور آنکھوں پر پٹی
08:42باندھنے کے لیے بھی ساتھ لے لیں
08:44پھر باپ بیٹا چل دئیے
08:46بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے
08:48کہ سیدہ حاجرہ علیہ السلام کا اس وقت انتقال ہو چکا تھا
08:52اور بعض میں یہ بھی آتا ہے کہ انتقال نہیں ہوا تھا
08:55مہتم سامین صاحب تفسیر مذری لکھتے ہیں
08:58کہ سیدہ ابراہیم علیہ السلام نے
09:00اپنے بیٹے کو زبا کرنے کا ارادہ کیا
09:04تو شیطان نے سوچا
09:05اگر اس وقت ابراہیم علیہ السلام کے گھر والوں کو
09:09میں بہکا نہ سکا
09:11تو پھر کبھی ان کی اولاد میں سے کسی کو بہکا نہ سکوں گا
09:15یہ ارادہ کر کے وہ مرد کی شکل میں
09:18لڑکے کی ماں
09:19یعنی سیدہ حاجرہ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور کہنے لگا
09:23تم کو معلوم ہے
09:24کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے بیٹے کو کہاں لے کر گئے ہیں
09:28آپ فرمانے لگی
09:30کہ روز کی طرح وہ جنگل میں گئے ہیں
09:32لکڑیاں اکٹھے کرنے کے لیے
09:34ماں نے کہا
09:35شیطان نے کہا نہیں خدا کی قسم ایسا نہیں ہے
09:38بلکہ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل کو زبا کرنے کے لیے
09:43لے کے جا رہے ہیں
09:44ماں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا
09:46وہ تو اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتے ہیں
09:48بے حد پیار کرتے ہیں
09:49شیطان نے کہا
09:51وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زبا کرنے کا حکم دیا ہے
09:55ماں نے کہا
09:56اگر ان کو یہ حکم اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ملا ہے
10:00تو رب العالمین کے اطاعت کرنا ہی بہتر ہے
10:03اب شیطان یہاں سے مایوس ہوگے
10:05مایوس ہوگا وہ بیٹے کے پاس پہنچا
10:07بیٹا اس وقت باپ کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا
10:10تو شیطان نے اس سے کہا
10:11اے لڑکے
10:12کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے والد محترم تمہیں لے کے کہاں جا رہے ہیں
10:16بیٹے نے کہا میں جانتا ہوں
10:19ہم روز کتنا جنگل میں جا رہے ہیں
10:21لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے
10:22شام کو ہم گھر واپس آ جائیں گے
10:24لکڑیاں اکٹھی کر کے
10:25شیطان نے کہا ایسا نہیں ہے
10:27خدا کی قسم ابراہیم کا مقصد یہ نہیں ہے
10:29بلکہ وہ تو تمہیں زبا کرنے چاہتے ہیں
10:31لڑکے نے کہا
10:32لڑکے نے کہا ایسا کیوں
10:34شیطان نے کہا کہ ان کا خیال ہے
10:36کہ ان کے رب نے انہیں ایسا کام کرنے کا حکم دیا ہے
10:39لڑکے نے کہا
10:41اگر ایسا ہے
10:42تو انہیں اپنے رب تعالیٰ کی اطاعت
10:44تسلیم کرنی چاہئے
10:46اور رب تعالیٰ کی اطاعت کرنی چاہئے
10:48میں راضی ہوں اپنے باپ کی رضا پر
10:50میں راضی ہوں اپنے رب کی رضا پر
10:52جب لڑکے نے شیطان کے بعد نہ مانی
10:55تو شیطان نے پھر
10:56سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف رخ کیا
10:59اور انہیں کہا
11:00ابراہیم کہاں جانے کہہ راض ہے
11:02ابراہیم نے کہا
11:04میں ایک کام سے اس گھاٹی میں جا رہا ہوں
11:06شیطان نے کہا
11:07خدا کی قسم میں جانتا ہوں
11:08شیطان نے خواب میں آ کر
11:10تمہیں اپنے لڑکے کو زبا کرنے کا حکم دیا ہے
11:13ہر ابراہیم علیہ السلام پر چانتے تھے
11:15کہ یہی شیطان ہے
11:16بولے
11:17اللہ کے دشمن میرے راستے سے ہٹ جا
11:20میں ضرور بھی ضرور اپنے رب کا حکم پورا کروں گا
11:23شیطان غزب نہ ہو کر
11:25وہاں سے بھی واپس نامراد چلا گیا
11:28ابودفیل علیہ مرآمہ سیدنا حرد عباس رضی اللہ تعالی
11:32انہوں کا قول نقل فرماتی ہیں
11:33کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو
11:36بیٹے کے زبا کر دینے کا حکم دیا گیا
11:39تو مشہر پر شیطان روکنے کے لیے
11:43یہ آپ کے سامنے آ گیا
11:44آپ آگے نکل چکے تھے
11:46پھر آپ جب جمرہ اقبہ پر پہنچے
11:48تو وہاں شیطان سامنے آ گیا
11:49آپ نے سات گنگریوں اٹھا کے مارے
11:51شیطان چلا گیا
11:53پھر جمرہ وسطہ پر پہنچے
11:54تو شیطان پھر سامنے آ گیا
11:56آپ نے پھر سات گنگریوں ماری
11:58شیطان پھر باک کے چلا گیا
11:59پھر جمرہ اقبرا کے پاس گئے
12:01تو پھر شیطان آ گیا
12:02پھر آپ نے گنگریوں ماری
12:04پھر وہ واپر چلا گیا
12:05اس کے بعد
12:06اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے آپ آگے چل دیئے
12:11تفسیر مسئل
12:11سیدنا حید حاجرہ علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا
12:17یا وہ زندہ تھی دونوں روایات ہمیں ملتی ہیں
12:19سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ خواب کیوں آیا
12:23اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے
12:25حیرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر کیوں نہ آئے
12:28صاحب تفسیر روح البیان
12:30علامہ اسماعیل حقی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
12:33انبیاء علیہ السلام کے دل تو سوتے نہیں ہیں
12:37کیوں؟ کیونکہ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتی ہیں
12:40اور شیطان انبیاء کرام علیہ السلام کے خواب میں تو کبھی آ ہی نہیں سکتا
12:45رؤیاء الانبیاء یحقن
12:48انبیاء کے جو خواب ہوتے ہیں وہ سچ پر مبنی ہوتی ہیں
12:51اللہ کیسا امتحان لے رہے
12:54اور یہ عجیب امتحان ہے کہ قدم قدم پر امتحان
12:57سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا بڑھاپا چل رہا ہے
13:01کئی سالوں بعد بیٹا آتا ہوا ہے
13:03ابھی امتحان کا سابقہ پرچہ ہی حل کیا تھا
13:07کہ ایک نیا امتحان مل گیا
13:08نیا امتحان جو کہ تین دن آپ نے خواب دیکھا
13:12خواب کیا دیکھا کہ اپنے بیٹے کو زبا کر رہی ہیں
13:15سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام خواب کو وہی جان کر
13:19تعمیر حقم کے لیے تیار ہو گئے
13:21سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام شریع لیے ہوئے بیٹے کو زبا کرنے کے لیے جا رہے ہیں
13:28سیدنا زبیل اللہ علیہ السلام کو شیطان نے روکنا چاہا
13:32مگر آپ نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے لیے تابع کر دیا
13:36وطم سامین
13:38سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام کو تین جمروں کے پاس شیطان کا سامنا ہوتا ہے
13:43سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام تین جگہ ساتھ ساتھ کنکریاں مارتے ہیں
13:49آج بھی اگر ہم حج کرنے کے لیے جاتی ہیں
13:52تو سنتِ ابراہیم علیہ السلام کے مطابق
13:55ہم ساتھ کنکریاں مارتے ہیں
13:57اور یہ شیطان کو ماننا
13:59یہ حج کے مناسق میں سے ایک مناسق بھی ہے
14:02اور رکن بھی ہے
14:02حج کا ایک ام رکن ہے
14:04سعادت مند بیٹا جھت گیا
14:06فرمانِ باری تعالیٰ پر
14:08زمین و آسمان حیران تھے
14:10اس اطاعت گزاری پر
14:12کہا فرزند نے اے باپ
14:14اسماعیل صابر ہے
14:15خدا کے اکبن بندہ
14:17فیت عمیلِ حاضر ہے
14:19رضا جوئی کی یہ جو صورت نظر آئی نہ تھی اب تک
14:22یہ جررتِ بیشتر انسان نے
14:24دکھلائی نہ تھی اب تک
14:26فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَوِينَ
14:33حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
14:36بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا
14:39وَنَا دَيْنَا خُعِنَا عِبْرَاهِيم
14:44اور ہم نے پکارا کہ اے ابراہیم
14:47سینا خلیللہ علیہ السلام نے چھوڑی کوتیز کیا
14:51آنکھوں کو بند کیا پٹی بان لی
14:53اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا دیا
14:57باپ بیٹا مطمئن ہے
14:59اب سارے کے سارے عالم یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں
15:03یہاں یقین ہی یقین ہے ایمان محکم ہے
15:06باپ نے اللہ تبارک وطلہ کی رضا کی خاطر
15:10بیٹے کی گردن پر چھوڑی بھی جلا دی
15:12بیٹے نے اللہ تبارک وطلہ کی خوشنودی کے لیے
15:15اپنی گردن کٹنے کے لیے جھکا دی
15:17یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامتی سکھائے تھے
15:22کس نے اسماعیل کو آداب فرزن دی
15:25حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
15:29علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار حرد عبرائیل علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا
15:34کیا تجھے کبھی مشکلت کے ساتھ جلدی سے آسمان سے اترنا پڑا
15:38تو جب عبرائیل علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا
15:41ہاں چار مرتبہ
15:42پہلی بار جب عبرائیم علیہ وآلہ وسلم کو نمرود نے آگ میں ڈالا
15:47مرش کے نیچے تھا
15:49اللہ نے حکم لیا کہ میرے بندے کے پاس پہنچا
15:51میں جلدی سے ان کے پاس پہنچ گیا
15:53فرمایا
15:55پوچھا آپ کی کوئی حاجت ہے
15:59فرمایا تجھ سے کوئی حاجت نہیں ہے
16:03دوسری بار جب عبرائیم علیہ وآلہ وسلم نے
16:07چھلی کوہ اسمائیل علیہ وآلہ وسلم کی گردن پر رکھ دیا
16:10مرش کے نیچے تھا
16:12اللہ نے حکم لیا فوراں میرے بندے کے پاس پہنچا
16:15میں پہنچ گیا
16:16میں چھلی کوہ ابراہیم علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر
16:19اور چھلی کوہ اسمائیل علیہ وآلہ وسلم کے گلے سے میں نے ہٹا دیا
16:23تیسی بار جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزو عہد میں کفار نے زخمی کیا
16:28اور آپ کے دان مبارک کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا تھا
16:31عہد کے دن بھی میں فرش کے نیچے تھا
16:33اور اللہ نے فرمایا میرے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پکڑ لے
16:38اگر میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گر گیا
16:42تو یاد رکھنا میں زمین سے کبھی سبزہ و درخت نہ ہوگا
16:46تو میں نے عرش سے چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون مبارک ہاتھوں میں لیا
16:52اور میں چلا گیا
16:53چوتھی مرتبہ جب حضرت یوسف علیہ وسلم کو ان کے بھائیوں نے کونے میں پھینکا
16:58تو میں عرش الہی کے نیچے تھا
17:00اللہ تعالیٰ پتران نے اشانت فرمایا کہ میرے بندے کو جا کے پکڑ لو
17:03میں نے حضرت یوسف علیہ وسلم کو کونے کے پانی تک پہنچنے سے پہلے ہی اٹھا لیا
17:09تفسیر روح البیان جل نمبر سات صفحہ نمبر چار سو چوہتر
17:14اگر حضرت یبرائیل علیہ وسلم کی رفتار کا یہ عالم ہے
17:18تو محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار کا عالم کیا ہوگا
17:21بہرحال جبریل امین علیہ وسلم نے بڑی تیزی سے آ کر چھوڑی کو
17:26سینا اسماعیل علیہ وسلم کے گردن سے پنے کر دیا
17:30اور آپ کی جگہ ایک دنبہ وہ لے کر آئے اور اسی کو زبا کیا گیا
17:35پدر تھا مطمئن بیٹے کے چہرے پر بحالی تھی
17:39چھوڑی ہلکو میں اسماعیل پر چلنے ہی والی تھی
17:42مشیعت کا مگر دریائے رحمت جوش میں آ گیا
17:46کہ اسماعیل کا ایک رومٹا کٹنے نہیں پایا
17:49گویا حضرت ابراہیم علیہ وسلم چھوڑی کو چلنے کا حکم دیتے تھے
17:54اور اب بے جلیل رکنے کا حکم دے رہے تھے
17:57یہ جگہ منہ کے مسجد کے قریب ہے
18:00یہاں آج بھی حاجی جو ہے وہ قربانگاہ منہ میں مناتے ہیں
18:05اور وہیں پہ جا کے قربانی کرتے ہیں
18:07بار بار ابراہیم علیہ السلام نے چھوڑی کو چلایا
18:12اور بار بار ابراہیل علیہ السلام نے چھوڑی کو ہٹا ریا
18:16وَنَا دَيْنَا هُوَئِنَا عِبْرَاهِيمِ
18:19اور ہم نے آوازیا عبراہیم
18:20یعنی باپ نے حکم الہی کے سامنے
18:24اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے
18:26اپنے سر کو جھگا دیا
18:27سیدنا عبراہیم علیہ السلام نے
18:30اسماعیل علیہ السلام کو زمین پر لٹا دیا
18:33سیدنا عبراہیم علیہ السلام نے
18:36اسماعیل کے حلق پر چھوڑی کو چلا دیا
18:39تو ہم نے عبراہیم علیہ السلام کو پکارا
18:42قَدْ صَدَّقْتَ الرُّعِيَا
18:45تم نے خواب اپنا سچ کر دکھایا
18:47اے عبراہیم ہم نے مشکل امتحان میں تمہیں ازمایا
18:51تمہارے بس میں جو کچھ تھا
18:53آپ نے اس حکم کی تعمیل کر دکھائی
18:55تم نے اسماعیل علیہ السلام کو راہ خدا میں
18:58ضربہ کرنے میں کوئی قصر نہ چھوڑی
19:00ہم نے اسے بچا لیا
19:02یہ اللہ کا حکم تھا
19:04بس انتہان تھا جو کہ پورا ہو گیا
19:07اور اس لئے بھی بچا لیا
19:08کہ اس وقت اسماعیل علیہ السلام کی
19:10پشتے مبارک میں نور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھا
19:15مہتم سامین یہ تھا وہ واقعہ
19:17جو کہ قربانی کے پیچھے کی یادگار ہمیں دلاتا ہے
19:20کہ حضر ابراہیم علیہ السلام کیسے
19:23حضر ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو
19:26ضبہ کرنے کے لئے چل پڑے تھے
19:28بے شک ہم تو نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی اچھا بدلہ دیتی ہیں
19:35ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو بیتر جزا دی
19:38ہم نے اسماعیل علیہ السلام کو ضبہ ہونے سے بچا لیا
19:42ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو ضبہ کا ثوابی دیا
19:45ہم نے دونوں کو برطری اور عظمت والا بنا دیا
19:49ہوئے جبرائیل نازل اور تھامہات حضرت کا
19:53کہ بس امتہا مقصود تھا
19:55احسار و جررت کا
19:56اطاعت اور قربانی ہوئی منظور یزدانی
19:59کہ جنہ سے بکرہ آگیا بہرہ قربانی
20:02غرز زنبہ ہوگا قربان اسماعیل کے صدقے
20:05ہوئی یہ سنت اس ایمان کی تکمیل کے صدقے
20:08وَفَدَيْنَاهُ بِزِبَحِنَ عَظِيمِ
20:11اور ہم نے اس کے عوض ایک بڑا سا زنبہ بے دیا
20:13ایک آواز ابراہیم علیہ السلام نے سنی
20:17آنکھ اٹھا کے دیکھا جو جبرائیل سامنے تھے
20:19جن کے ساتھ ایک میٹا تھا
20:21ابراہیل علیہ السلام نے اس کیا
20:24یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے
20:26آپ اس کے قربانی کر دیجئے
20:28جناب اسماعیل علیہ السلام کی قربانی بھی منظوری
20:32اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی بھی منظوری
20:35اللہ اکبر خطاب اس دن سے اسماعیل نے پایا زبی اللہ
20:40خدا نے آپ ان کے حق میں فرمایا زبی اللہ
20:44برادران اسلام
20:45اللہ تبارک و تعالی اپنے بندوں کے افعاد سے اچھی طرح واقف ہے
20:49اور بندوں سے امتحان لیتا رہتا ہے
20:51اور جتنے بھی اللہ تبارک و تعالی کے نیک اور برگزیدہ بندے ہوتے ہیں
20:55انہیں مشکلات کا سامنا بھی زیادہ کرنا پڑتا ہے
20:58جگہ جگہ پہ انہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے
21:02آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کو پڑھ سکتی ہیں
21:05کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
21:08کہ جس قدر مجھے عذیت اور تکلیف دی گئی
21:11شاید اس سے میرے علاوہ کسی اور پیغمبر کو اس قدر ستایا گیا ہو
21:16یا تکالیف دی گئیوں
21:18مہتم سامین یہ تھا قربانی کا دن
21:21یہ تھی وہ بات جو کہ قربانی کا دن کے پیچھے کی یادگار ہمیں بتلاتی ہے
21:26کہ سگینا عبراہیم علیہ السلام نے کیسے اپنے بیٹے کو عذبہ کیا تھا
21:30ہم اپنی ویڈیو کے افتدام کرتی ہیں لیکن اسی کے ساتھ آپ کو کچھ باتیں بتاتا چلتا ہوں
21:36کہ قربانی خالجتاً اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے سباب کے نیے سے کرنی چاہئے
21:41اور
21:42قرآن مجید پانمبر چار پہلی آیت مبارکہ
21:52اللہ نے فرمایا
21:53تم نیکی کا کمال نیکی کے عروج کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے
21:58جب تک کہ تم اپنی محبوب ترین چیز اللہ تبارک وطولہ کی بارگاہ میں خرچ نہ کر دو
22:04تو مہتم سامین
22:05اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے محبوب چیز جو انسان کم لگتی ہے
22:10وہی خرچ کرے
22:11تب ہی اس کو نیکی کا کمال اور عروج حاصل ہوگا
22:15اور جو چیز تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خرچ کرتے ہو
22:18اللہ تعالیٰ اسے جاننے والا ہے
22:21So, if there is a set of people who need to come,
22:25if there is no one, if there is a complaint that has been a part of there,
22:29will not be in this part,
22:32then we will get into this video.
22:34This video will be the most important thing to do.
22:38If you don't like this video,
22:40and you will join us for the last part.
22:41All right, Father B.
22:42and we will join our guests on our daily basis.
22:44And we will say that in this video we will come back to...
22:47Absolutely.
22:47...
Be the first to comment
Add your comment

Recommended