00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:04شام کو محمد بن قاسم نے اپنے تجربہ کار سالاروں کو بلائے اور ان سے مشورہ چاہا
00:10کچھ نے کہا کہ پہاڑی سلسلے کی بجائے سمندر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا جائے
00:16مگر محمد بن قاسم نے اس تجویز کو بسند نہ کیا
00:19اس نے کہا جب تک یہ علاقہ دشمن سے پاک نہیں ہو جاتا
00:24ہمارا آگے بڑھنا خطرناک ہو سکتا ہے
00:26ہمارا اصل مقصد دیبل پہنچنا نہیں بلکہ سندھ کو بھی فتح کرنا ہے
00:31جہاں پر مظلوم لوگوں کو راجہ دہر کے ظلم سے نجات دلانی کی
00:35ایک سالان نے کہا محترم اگر اس مہم کے دوران آپ کو کوئی نقصان ہو گیا تو کیا ہوگا
00:41محمد بن قاسم نے کہا کاسیہ کی لڑائی میں ایرانیوں کو اپنے بڑے لشکر کے باوجود
00:47اس لئے شکست ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے سپے سالار رستم کو اپنی طاقت مانا ہوا تھا
00:52جب رستم مارا گیا تو وہ مسلمانوں کے مٹی بر لشکر کے مقابلے سے بھاگ گئے
00:58مگر اس کے برعکس مسلمانوں کے سپے سالار حضرت سعید بن نبی وقاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
01:03زخمی حالت میں گھوڑے پر سوار ہونے کے قابل نہیں تھے
01:06اور انہیں میدان سے الگ بیٹھنا پڑا
01:09مگر پورا لشکر خود اعتمادی سے سپے سالار کی غیر موجودگی کا احساس کیے بغیر لڑ رہا تھا
01:16ہم بادشاہوں اور سالاروں کے لئے نہیں لڑتے ہم تو اللہ تعالیٰ کیلئے لڑتے ہیں
01:21بادشاہوں اور سالاروں پر بھروسہ کرنے والوں کو ہمیشہ زلت ملی ہے
01:26مگر ہمارا ایمان اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارکاہ میں حاضر ہیں
01:32قرآن مجید ہمارا رہنما ہے
01:35میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے قوم کے لئے رستم نہ بنائے
01:40بلکہ مجھے مسننہ بن حارس بننے کی توفیق عطا فرمائے
01:44جن کی شہادت نے ہر مسلمان کو جذبہ شہادت سے سرشار کر دیا تھا
01:49آمین
01:50مطمس آمین
01:52بھیم سنگھ کی فوج کے ساتھ اسلامی لشکر کا آمنہ سامنا ہوا
01:56دونوں طرف سے خوب حملے ہوئے
01:59اسلامی لشکر نے اپنے سپے سالار کے حکم کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کیا
02:03اور دشمن کو کافی نقصان پہنچایا
02:05اس دوران میں اسلامی لشکر کا بھی خاصہ نقصان ہوا
02:10آدھی رات تک محمد بن قاسم کے تھکے ہارے سپائی زخمیوں کی مرم پٹی
02:15اور شہیدوں کی تدفین میں مصروف رہے
02:18ادھر میدان میں ہر طرف دشمن کے زخمی سپائی خوب چیخ رہتے
02:23شہدہ کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد اسلامی لشکر کا نوجوان
02:28سپے سالار محمد بن قاسم بھی کئی راتیں جاگنے
02:31تھکاوٹ سے چور ہونے کی وجہ سے بے چین تھے
02:34آپ کے بازو دن بھر تلواروں اور نیزوں سے کھیلنے کے بعد
02:40چھل ہو چکے تھے
02:41مگر پھر بھی آپ اپنی تھکاوٹ کو بھول کر
02:44کمر پر پانی کا مشکیزہ لادے زخموں سے چور
02:47دشمن کے سپائیوں کو پانی پلا رہے تھے
02:50دن کے وقت جن آنکھوں میں دشمن کو ختم گننے کی چمکتی
02:54وہی آنکھیں اس وقت زخمیوں کی حالت دیکھ کر آنسو بہا رہی تھی
02:58وہ ہاتھ جن میں پکڑی تلوار دشمن کے لیے موت کا پیغام تھی
03:02وہی ہاتھ اب دشمن کے زخموں پر مرہم لگا رہے تھے
03:08اسلامی رشکر کے سپائی بھی دن بھر کی لڑائی سے تھک چکے تھے
03:12مگر وہ بھی اپنے سپے سالار کا جذبہ دے کر اس کی مدد کر رہے تھے
03:17انہوں نے دشمن کے زخمی سپائیوں کو کمر پر اٹھا کر
03:21کلے کے اندر زمین پر لٹا دیا
03:24محمد بن قاسم میدان میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے میں مصروف تھے
03:29کہ اس کو پہاڑی سے پیچھے سے کسی کے کرانے کی آواز سنائی دی
03:33وہ فوراں پہاڑی کی طرف بڑھے
03:35آپ کے قریبی دوست اور سالار بھی آپ کے ساتھ تھے
03:40جب انہوں نے مشل کی روشنی آگے کی
03:43تو دشمن کے مرے ہوئے سپائیوں کے درمان ایک ذرہ پوچھ زخمی نوجوان دکھائی دیا
03:47جس کی ذرہ پر خون کے کئی نشانات موجود تھے
03:51اس کے سینے میں ایک تیر اترا ہوا تھا
03:56اس کے ہاتھ سے تلوار تو چھوٹ چکی تھی
03:58مگر وہ دوسرے ہاتھ میں سندھ کا جھنڈا تھامے ہوئے تھا
04:02محمد بن قاسم نے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے
04:07زخمی کو اٹھ کر بیٹھنے میں مدد دی اور چند گھونٹ پانی بھی پلایا
04:11پانی پی کر نوجوان نے آنکھیں کھول دی
04:14زخموں سے اس کا بدن دکھ رہا تھا
04:16زخمی نوجوان نے جب اسلامی لشکر کے سپائیوں کو دیکھا
04:20تو سندھ کے جھنڈے کو مضبوطی سے تھام لیا
04:22ایک سالان نے نوجوان
04:26ایک سالان نوجوان کو غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا
04:29ایک سالان نے نوجوان کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا
04:33اوہ یہ تو بھیم سنگھ لگتا ہے
04:35بھیم سنگھ نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا
04:38مسلمانوں تم کو فتح مبارک ہو
04:40محمد بن قاسم نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا
04:43یہ بھیم سنگھ نے کیا کہا ہے
04:44ساتھی نے عربی میں ترجمہ کرتے ہوئے کہا
04:47کہ اس نے کہا ہے کہ آپ کو فتح مبارک ہو
04:49محمد بن قاسم نے بھیم سنگھ کو سہارہ دیتے ہوئے کہا
04:53میں حیران ہوں کہ سندھی فوج
04:55ایک ایسے بہادر سپے سالار کی موجودگی میں میدان سے بھاگ گئی
04:59پھر ایک سالار نے بھیم سنگھ کو بیٹھنے کے لیے سہارہ دیا
05:03اور محمد بن قاسم نے خود اس کی پسلی سے تیر باہر نکالا
05:08اور مرہم بھی لگا دیا
05:09قلعہ بہت چھوٹا تھا
05:11اس لیے فوج کیلئے جگہ کم پڑ گئی
05:13محمد بن قاسم نے باقی سپائیوں کو
05:16قلعے سے باہر پڑاؤ کرنے کا کہہ دیا
05:19اور اپنے زخمی سپائیوں کے ساتھ
05:21دشمن کے زخمی سپائیوں کو خیموں میں جگہ دے دی
05:24اس نے تمام جراہوں اور طبیبیوں کو بلایا
05:29اور حکم دیا کہ وہ دشمن کے زخمی سپائیوں کا خاص خیار رکھیں
05:33ان کوئی کتاہی نہ کریں
05:34محمد بن قاسم خود بھی جراہی اور طب کے بڑے فن کو جانتے تھے
05:40اس لیے وہ خود بھی زخمیوں کے خیموں کا چکر لگا کر
05:43سب کی خیاریت بار بار پوچھتے رہتے
05:46وہ دشمن کے سپائیوں سے عربی میں بات کرتے
05:49تو اس کا ساتھی سندھی زبان وہ اس کا تجمہ کر دیتا
05:52اس پیغام میں وہ کہتا
05:53آپ لوگ فکر نہ کریں
05:55آپ سب بہت جل تندرس ہو جائیں گے
05:58آپ لوگ یہ نہ سمجھے کہ آپ ہماری قید میں ہیں
06:01بلکہ سیدمند ہونے کے بعد آپ لوگ جہاں جانا چاہیں چلے جانا
06:05دشمن کے سپاہی
06:07زخمی سپاہی
06:08محمد بن قاسم کے اس رویہ پر حیران و پریشان تھے
06:11وہ کہنے لگے
06:13بھگوان کے لیے آپ خود اران کریں
06:15مگر محمد بن قاسم کا کہنا تھا
06:18کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ جو پورا کر رہی ہیں
06:20زخمیوں میں بھیم سنگ محمد بن قاسم کی خاص توجہ کا مرکز تھا
06:25وہ خود ان کے زخم صاف کرتے ہوئے
06:28اور مرہم پٹی کرتے ہوئے دکھائی دئیے
06:30آخر انسانی تاریخ کا سب سے کم عمر سالہ
06:34سہرہ سمندر اور جنگل پار کرتا ہوا
06:37اپنی منزل دیبل کے قریب پہنچ چکا تھا
06:40مہتم سامین
06:42دیبل کا قلعہ بہت مضبوط اور بڑا بھاری تھا
06:46راجہ دہر کی فوج نے کھلے میدان کی بجائے
06:49قلعہ میں بند ہو کر مقابلہ کرنے کا سوچا ہوا تھا
06:52یوں راجہ دہر کی فوج قلعہ میں بند ہو کر
06:55مسلمانوں پر حملے کر رہی تھی
06:57اور مسلمان کھلے میدان میں اس کا مقابلہ کر رہے تھے
07:01چونکہ راجہ دہر کی فوج قلعہ میں بند تھی
07:03اس لئے محمد بن قاسم کی فوج کا نقصان زیادہ ہو رہا تھا
07:08دیبل کا محاصرہ کی ہوئے تقریباً ایک ہفتہ ہونے کو تھا
07:13ان دینوں میں اسلامی لشکر کے کئی جوانوں نے
07:15قلعہ کی دیوار پر چڑھنے کی ہر ممکن کوشش کی
07:18مگر راجہ دہر کے سپائی ان پر گرم تیل پھینک دیتے
07:22اور مسلمان سپائیوں کو مجبوراً وہاں سے دور ہٹنا پڑتا تھا
07:26محمد بن قاسم نے نوجوانی میں بھی زبردہ سوچ کے مالک تھے وہ
07:31وہ اسلامی لشکر کو مضبوط سے مضبوط تر بھرانے کے لئے
07:35بہت کارنامے سر انجام دی چکے تھے
07:37اس لئے وہ سندھی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے پتھر پھینکنے والی مشین
07:42منجنیک بھی لے کر آئے تھے
07:44یہ بہت بڑی تھی
07:46جس کو دیکھ کر ہی خوف آنے لگتا تھا
07:48اس منجنیک کا نام عروس بھی تھا
07:51راستے میں پہاڑی راکے کی وجہ سے
07:54اس کو سمندری راستے سے یہاں لائے گیا تھا
07:56جب دیبل کے قلعہ کا محاصرہ کی ہوئے تقریبین ایک ہفتہ ہو گیا
08:00تو اسلامی لشکر کے سپاہی عروس کو کھینچ کر
08:03میدان جنگ میں لے آئے
08:05ان کے پاس اس کے علاوہ چھوٹی منجنیک بھی تھی
08:08جن سے پتھر پھینک کر انہوں نے قلعہ کی دیوار کے کچھ حصے کمزور کر دیئے تھے
08:13سندھی سپاہیوں نے عروس کو دیکھا
08:16تو ان کے ہوش اڑ گئے اور انہیں یقین ہو گیا
08:18کہ اب یہ مشین بہت جل ہمارے قلعہ کی دیوار کو توڑ دے گی
08:23شام ہونے سے پہلے
08:25عروس کے ذریعے قلعہ کی مضبوط دیوار پر بھاری پتھر پھینکے گئے
08:29مگر کامیابی نہ ہوئی
08:31اگلے دن
08:32صبح صویر محمد بن قاسم نے عروس کے ذریعے شہر پر سنگے باری شروع کر دی
08:37شہر کے درمیان ایک بہت بلند مندر بھی تھا
08:41جس کے گمبت کی انچائی تقریباً چالیس فٹ سے زیادہ تھی
08:45اس مندر میں تمام ہندو پوجہ کرتے تھے
08:48اس پر سرخ رنگ کا ایک بہت بڑا جھنڈا لہراتا تھا
08:52ہندو کا عقیدہ تھا کہ جب تک یہ جھنڈا لہراتا رہے گا
08:56ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا
08:58تمام دیوتا ان کی حفاظت کریں گے
09:01اور دشمن کی فوج کو ضرور شکست ہوگی
09:03یہ جھنڈا باقی جھنڈوں سے زیادہ انچا تھا
09:07منجنی کو استعمال کرنے میں محمد بن قاسم کو خاصی مہارت بھی حاصل تھی
09:12مطم سامین اس کے بعد آگے کیا ہوا
09:15انشاءاللہ آپ کو نیکس اپیسوڈ میں بتائیں گے
09:17اگر آپ کو ہماری یہ ویڈیو اچھی لگی ہے
09:19تو اس ویڈیو کو لاسکت ضرور دیکھے گا
09:21ہمارے چینل کو بھی ضرور سبسکرائب کیجئے گا
09:24اللہ حافظ
Comments