Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:02Assalamualaikum wa rahmatullahi wa barakatuh
00:04مطمئن سامین
00:05آپ دیکھ رہے ہیں
00:05محمد بن قاسم کی
00:07مایو گروفری ڈاکومنٹری
00:08آج کی ہماری
00:09اپیسوڑ نمبر 4 ہے
00:10پھر سب لوگ
00:12آپس میں
00:12سرگوشیاں
00:13کرنے کے بعد
00:13خلیفہ
00:14کی طرف
00:14متوجہ ہوئے
00:15کیونکہ
00:16خلیفہ
00:17کو احساس
00:17ہو گیا تھا
00:18کہ
00:18تمام
00:18درباری
00:19خاندان
00:19خلافت
00:20کے
00:20محسن
00:20ہجاد
00:21بن
00:21یوسف
00:21with sexual effects of the fight.
00:24He will have to bring in the way to his family and runt,
00:33which was why his husband and his father have to make strong decisions.
00:38He has to make a newfound that his father has made it.
00:40He also has to make a newfound or newfounding.
00:44He will have to find a newfoundland.
00:46He will have to ask,
00:47didn't he, you know,
00:48this is my husband and belt.
00:50ولید بن عبد الملک نے زبیر کی طرف دیکھا اور کہا
00:54نوجوان میں نے آج سے پہلے بھی تم کو کہیں دیکھا ہوا ہے
00:58شاید تم سراندیب کے علچی کے ساتھ یہاں آئے تھے
01:01تم وہاں سے کب آئے اور وہ بچے گچے لوگ کہاں چلے گئے ہیں
01:05اور وہ اب کہاں پہ ہیں
01:07خلیفہ کو زبیر کی طرف متوجہ دیکھ کر درباری میں زبیر کی طرف دیکھنے لگے
01:13اور اکثر نے اس بات کو پہچان بھی لیا
01:16زبیر کو بے اعتماد دیکھ کر محمد بن قاسم نے جلدی سے حجاد بن یوسف کا خط
01:21خلیفہ کو پیش کرتے ہوئے کہا
01:23یہ آپ کے لئے خاص پیغام ہے
01:25خلیفہ نے خط لے کر پڑھا اور تھوڑی دیر کے لئے سوچ کر کہا
01:30سندھ کے راجہ نے ہمارے جہاز کو لوٹ لیا ہے
01:33سراندیب جانے والی عورتوں اور بچوں کو قید بھی کر لیا ہے
01:37زبیر تم سارا واقعہ خود دربار کو سناو
01:40زبیر نے شروع سے لے کر آخر تک سارا واقعہ دربار میں سنا دیا
01:44مگر درباری خاموشی سے بیٹھے رہے
01:47جس کو دیکھ کر زبیر کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
01:50پھر اس نے جیب سے ایک خط نکالا اور خلیفہ کو پیش کرتے ہوئے کہا
01:54یامعیر الممینین ابو الحسن کی بیٹی نے یہ خط ولی بسرہ کو لکھا تھا
02:00آپ بھی پڑھ لیں
02:01خلیفہ نے خط پڑھتے ہوئے
02:03ولید بن عبد الملک ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
02:08وہ بھی حجاد بن یوسف کی طرح بہت متاثر ہوئے
02:12پھر انہوں نے درباریوں کو سنانے کے لئے انچی آواز میں وہ دوبارہ خط پڑھا
02:17وہ ہر لفظ اور ہر سطر ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے
02:22ان کے احساسات کا اندازہ ان کی آواز سے لگ رہا تھا
02:26انہوں نے آدھا خط پڑھا تھا کہ ان کی آواز بلکل بند گئی
02:31اور وہ بلکل خاموش ہو گئے
02:33اور اپنے رمال سے آنسو صاف کرنے لگے
02:35پھر انہوں نے محمد بن قاسم کو خط پکڑاتے ہوئے کہا
02:39اس خط کو پڑھنے کا مزید حوصلہ نہیں رہا
02:42اب آگے اسے تم پڑھ کر سنا دو
02:45محمد بن قاسم نے خط پڑھنا شروع کر دیا
02:48درباریوں کے چہرے کا رنگ بلکل بدل رہا تھا
02:51تمام درباری خط سن کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتے تھے
02:56مگر وہ سب امیر الممنین کی خاموشی کی وجہ سے خاموش بیٹھے تھے
03:00مگر یہ خاموشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہی
03:04اور شہر کا بوڑا قاضی اپنی جگہ سے اٹھا اور بولا
03:07امیر الممنین آپ کو کس بات کا انتظار ہے
03:10یہ سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں ہے
03:12پانی ہمارے سروں سے اوپر ہو چکا ہے
03:15آپ نے بھی خط پڑھا اور سنا ہے
03:17ہم نے بھی پڑھا اور سنا ہے
03:19ہمارا دل بے قرار اور بے چائن ہے
03:21آپ کو کوئی فی فیصلہ کرنے میں
03:24بلکل بھی دیر نہیں کرنی چاہیے
03:26خلیفہ نے بوڑے قاضی کی طرف دیکھا اور کہا
03:30میں آپ سب کی رائے کا منتظر تھا
03:33اب آپ ہی بتائیں کہ آپ کی کیا راہ ہے
03:35قاضی نے کہا
03:37یا امیر الممنین رائے اس وقت دی جاتی ہے جب دو راستے ہوں
03:41مگر اب ہمارے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے
03:44اور وہ ہے جہاد کا راستہ
03:46اس لیے اس حوالے سے رائے لینے کی بجائے آپ حکم دے دیں
03:49خلیفہ نے ہاتھ میں تلوار پکڑی
03:52اور کہا میں آپ سب کی رائے پوچھنا چاہوں گا
03:56ایک بڑے عددار نے کہا
03:58یا امیر الممنین
03:59ہم سب آپ کے حکم بلمر کریں گے
04:02آپ یہ بات یاد رکھیں
04:04کہ ہم میں سے کوئی بھی الٹے پاؤں چلنا نہیں جانتا
04:07ہم سب شہید یا غازی کا درجہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں
04:11خلیفہ نے کہا
04:13آپ کی بات بالکل درست ہے
04:14مگر ہمارے پاس فوج بھی بہت کم ہے
04:17موسیٰ بن نسیر کا پیغام بھی آ چکا ہے
04:20کہ وہ اندلس پر حملہ کرنا چاہتے ہیں
04:22دوسری جانب
04:23ترکستان میں عراق کی ساری فوج کو
04:26کنتبی اپنے لیے بہت کم سمجھتا ہے
04:29اس لیے
04:30ہمیں کوئی نیا محاذ کھولنے سے پہلے سوچنا پڑے گا
04:33کہ ہم فلحار سبر کریں
04:34یا ان کے محاذ کو کمزور کر لیں
04:37بوڑے قاضی نے
04:39دوبارہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا
04:41امیر الممنین
04:43اس خط کو سننے کے بعد
04:45ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں
04:47جو آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ نہ کرے
04:49اگر آپ کم فوج کا معاملہ عوام کے سامنے رکھیں
04:53تو مجھے پورا یقین ہے
04:54کہ سندھ کی مہم کے لیے
04:56ہم افریقہ کو
04:57یا ترکستان سے افواج بلانے کی نوبت تک نہیں آئے گی
05:01خلیفہ نے
05:02بوڑے قاضی کی بات سن کر کہا
05:04اگر آپ عوام کو جہاد کے لیے
05:07رازی کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں
05:08تو میں ابھی اور اسی وقت
05:10سندھ کے لیے جہاد کا اعلان کرنے کو تیا ہوں
05:12قاضی نے خلیفہ کی بات سن کر
05:15اپنے باقی ساتھیوں کی طرف دیکھا
05:17خلیفہ نے
05:18جب یہ منظر دیکھا تو اپنی جگہ سے اٹھ کر
05:21کھڑے ہوئے اور درباری فوراں
05:23وہ بھی کھڑے ہو گئے
05:24خلیفہ نے تلوار کو لٹھی کی طرف پکڑتے ہوئے کہا
05:27میں اپنے عوام سے
05:29مایوس نہیں ہوں
05:30مجھے صرف یہ شکایت ہے کہ ہمارے معززین
05:32جو رائے دے سکتے تھے
05:34وہ سب خود پسند اور خود غرض ہو گئے ہیں
05:36آپ کو علم تو ہے کہ جب
05:38موسیٰ بن نسین نے افریقہ کے طرف
05:40جانے کی اجازت چاہی
05:41اور میں نے اس کو اجازت دے دی
05:44تو اونچے طبقے کے لوگوں نے سخت
05:46مخالفت کی تھی
05:47جب کنٹریہ نے مرو پر حملہ
05:50کیا تھا تو میرے اپنے بھائی سلمان
05:52بن عبد الملک نے صاف صاف
05:54لفظوں میں میری سخت
05:56مخالفت کی تھی
05:57یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ باہت
06:00لوگوں میں جو مخلص لوگ ہیں وہ
06:02قاہل اور آرام پسند ہو کر
06:03اپنے گھروں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں
06:05وہ لوگ گھروں میں بیٹھ کر روئے زمین
06:08پر غلبہ اسلام کے لئے
06:10اپنی نیک دعاوں کو کافی سمجھتے ہیں
06:12اگر تمام معززین
06:14دربار عوام میں جائیں اور ان کو
06:16جہاد کا بتائیں تو میں نہیں سمجھتا
06:18کہ چند روز میں ایک ایسی فوج
06:20تیار نہ ہو جائے گی جو نہ صرف
06:22سندھ پر بلکہ پوری دنیا پر غالب
06:24غلبہ اسلام کے لئے کافی ہوگی
06:26آپ لوگ میری بات کا برا نہ مانئے گیا
06:29ایک یا دو دن عوام کو
06:31بلکہ اپنی جیسے بے عمل معززین کو
06:34یہ بات بتا کر خوش
06:35اپنے آپ کے لئے خوش ہی محسوس کریں گے
06:38پھر سندھ کے راجہ دہار کو
06:40برا بلا کہہ کر
06:41بنی اسرائیل کے طرح دنیا اور آخرت کا سارا بوج
06:44اللہ کریم کے سپڑ کر کے
06:46ایرام سے بیٹھ جائیں گے
06:47مگر
06:49ہم سب حمد کرے تو مجھے یقین ہے
06:52کہ عالم اسلام ابھی پر جوش اور زندہ ہیں
06:54اگر تمام معززین تفریحی
06:56مجلس کی جگہ دمشق کے ہر گھر میں جائیں
06:59عوام میں جانا گفتگو کرنا
07:01اور ان کے ساتھ بیٹھنا گوارہ کر لیں
07:03تو سندھ کے جو قیدی دیواروں کو کان لگائے بیٹھیں ہیں
07:06وہ بہت جلد ہمارے گھوڑوں کے
07:08ٹاپوں کے آوازیں سنیں گے
07:10اللہ کریم
07:11اس لڑکی کو صحت اور زندگی عطا فرمائے
07:14وہ اپنی روشن آنکھوں سے خود دیکھے گی
07:16کہ ابھی ہماری تلوانے کند نہیں ہوئی
07:18ان کو زنگ نہیں لگا
07:19امیر الممنین
07:21امیر الممنین نے پورے دربار کو
07:24ایک خاموش پیغام دے دیا تھا
07:26محمد بن قاسم نے آگے برکڑ کہا
07:28یا امیر الممنین
07:29اگر آپ اجازت دیں
07:30تو میں یہ ساری ذیمہ داری لینے کو تیا ہوں
07:33خلیفہ نے مسکرا کر
07:35محمد بن قاسم کے کندے پر ہاتھ رکھا
07:37اور کہا
07:37تم کو میری اجازت کی کیا ضرورت ہے
07:40تم کو میری اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہے
07:43یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں تشریف لے گئے
07:46اور دربار برخواست ہو گیا
07:47دربار میں موجود تمام معززین نے
07:51محمد بن قاسم کو گھیل لیا
07:53نئی فوج تیار کرنے میں
07:55تعاون کا یقین دلایا
07:56اور اس کو ڈھیروں دعائیں بھی دیں
07:58محمد بن قاسم نے
07:59دمشق کے ہر محلے اور گلی میں جا کر
08:02سندھ کے جہاد کے لیے لوگوں کو بتایا
08:04جس پر تمام لوگ جہاد پر جانے کے لیے تیار ہو گئے
08:08بچے جوان بوڑے سب
08:10محمد بن قاسم کی قیادت میں خود کو شامل کر رہے تھے
08:13بوڑے اور جوان اپنی تلواریں بلند کر کے
08:17اپنی حمایت کا یقین دلانے لگے
08:18اتنے میں
08:20ایک دس سالہ بچہ حجوم کو پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا
08:23اور خلیفہ ولید بن عبد الملک کے قریب جا کر بولا
08:27یا امیر الممنین
08:28کیا مجھے بھی جہاد پر جانے کی اجازت ہے
08:31مجھے عرب نہیں تھا
08:32ورنہ میں بھی اپنی تلوار ساتھ لے کر آتا
08:34میں بھی سندھ میں قید مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں
08:38پھر اس بچے نے تھوڑی دیر کے لئے کچھ سوچا اور کہا
08:41آپ مجھے اجازت دیں تو میں بھی بھاگ کر گھر جاتا ہوں
08:44اور اپنی تلوار لے کر آتا ہوں
08:46آپ مجھے تھوڑی دیر کی اجازت دے دیں
08:49اور سندھ جانے والے لچکر کو بھی روک لیں
08:51تاکہ میں بھی اس میں شامل ہو سکوں
08:53خلیفہ نے بچے کی معصومیت اور جذبے کو دیکھ کر
08:57اس کے گالوں پر پیار کیا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
09:00بیٹا ابھی تم یہی رہو
09:02کیونکہ جہاد پر جانے کے لئے تم کو بھی چند سال مزید انتظار کرنا ہوگا
09:07بچہ خلیفہ کی بات سن کر مزید پریشان ہو گیا
09:11وہ دورتا ہوا محمد بن قاسم کے پاس چلا گیا
09:14بچے کے چہرے پر بیچینی بھی تھی
09:17جیسے وہ جہاد پر جانے کے لئے بیچین ہو رہا ہو
09:20وہ جہاد پر جانے کی زد کرنا چاہتا تھا
09:23مگر دونوں بڑی شخصیات کے احترام کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا
09:27خلیفہ ولید بن عبد الملک نے بچے کی طرف مسکرا کر دیکھا
09:32اور سپاہی کو کرسی سے اٹھا کر کرسی اٹھانے کا حکم دیا
09:36جب سپاہی کرسی لے آیا
09:38تو انہوں نے محمد بن قاسم کے قریب رکھنے کا اشارہ کیا
09:41خلیفہ نے کرسی پر کھڑے ہو کر
09:44اللہ تعالیٰ کی حمد و سنا بیان کی اور کہا
09:47محمد بن قاسم کی تقریب کے بعد
09:50مزید کچھ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے
09:52مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے
09:54کہ تمہاری خیرت زندہ ہے
09:56بے حسی تم سب سے بہت دور ہے
09:58میں ابھی اور اسی وقت سندھ کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کرتا ہوں
10:03اللہ تعالیٰ سندھ جانے والے لوگوں کی لشکروں کی مدد فرمائے
10:08آمین
10:09لوگوں کا حجوم خلیفہ کی بات سن کر پرجوش ہو گیا
10:13اور فضاء میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعروں سے فضاء گونج رہی تھی
10:18مہتم سامین یہ تھی اپیسوڈ نمبر چار
10:21جو کہ یہاں پہ مکمل ہوتی ہے
10:22جلدی ملتے ہیں آپ کو اپیسوڈ نمبر پانچ میں
10:25اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended