Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:00奢ลیل بسماللہ الرحمن الرحیم
00:02السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:03مطلب سامین
00:05جب محمد بن قاسم کو اس بات
00:08کا علم ہوا تو اس نے عروض
00:09یعنی منجنی کا نشانہ خود اپنے
00:11ہاتھوں سے جھنڈے پر صدح کیا
00:13اور پتھر پھینک کر
00:15جھنڈے کو گرا دیا
00:16جھنڈہ گرنے سے ہندوؤں میں حلچل
00:19مچ گئی وہ قیرے سے باہر نکل
00:22کا مسلمانوں کا مقابلہ کرنے لگے
00:23اب وہ مسلمانوں کو مارنے
00:26یہ خود مننے کا فیصلہ کر چکے تھے
00:28محمد بن قاسم نے ایک فیصلہ
00:30Doy балہ کیا
00:31اور حملے کا حکم دے دیا
00:33اور اسلامی skill
00:34اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے
00:36قلعہ کی سیڑھیوں دیواروں
00:38اور دروازوں پر چڑھ گئے
00:42اور سپاہی
00:43چاروں طرف سے
00:44مضبوط صفے بنا کر
00:46کھڑے ہو گئے
00:46ہندو نے
00:48کئی ضردار حملے کیے
00:50مگر مسلمان سپائیوں نے
00:52ان کے ہر حملے
00:53کا بھرپور جواب دیا
00:54اور لاشوں کے
00:55ڈھیر لگا دئیے راجہ دہر کی فوج بدل ہو کر پیچھے ہٹ گئے اور اسلامی
01:00لشکر ایک ریلے کتنا قلعے میں داخل ہو گئی نعرہ تکبیر اللہ
01:04اکبر کی گونج میں راجہ کی بچی خوچی فوج نے خوف کھا کر ہتیار
01:09ڈال دئیے تھے قلعہ پر قبضہ کرنے کے بعد اسلامی لشکر نے فجر
01:13کی نماز دیبل کے گونر کے محل میں پڑھی اور صورت طلوع ہونے کے
01:18بعد وہ دیبل کے شہر میں آگئے دیبل کا حکمران راجہ دہر بھی
01:24ایک بہت بڑے اور طاقتور ہاتھی پر سوار ہو کر میدان جنگ میں آ گیا
01:28محمد بن قاسم نے موقع پا کر راجہ دہر کے ہاتھی کی سونڈ کار دی
01:33ہاتھی اس حملے سے بری طرح بکھلا گیا اور پاگلوں کی طرح اچھلنے لگا
01:38راجہ دہر جو اپنے قلعے اور دربار میں شیر کی طرح گرچہ کرتا تھا
01:43اب گیدر کی طرح میدان سے بھاگنے کی راہ تلاش کرنے لگا
01:46مگر شیر دل محمد بن قاسم کے چند وار اس کو ختم کرنے کے لئے کافی رہے
01:52راجہ دہر کی موت کے بعد ہندوں کا زوڑ ٹوٹ گیا اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے
01:58مسلمان اپنے جنرل محمد بن قاسم کی سربراہی میں فاتح کی حیثے سے شہر میں داخل ہوئے
02:04تو ہندو قوم ڈر رہی تھی کیا مسلمان ان کے ساتھ نہ جانے کیسا سلوک کریں گے
02:09مگر جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو محمد بن قاسم نے صاف اعلان کر دیا
02:14کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا جائے گا
02:18کسی قسم کی کوئی لوٹ مار نہیں کی جائے گی
02:22کسی کو قید نہیں کیا جائے گا
02:24میرا کوئی سپاہی کسی مندر کی بے حرمتی بھی نہیں کرے گا
02:28سب لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ازادہ نہ زندگی گزارے
02:33محمد بن قاسم کے اس حکم نے تمام لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا
02:38اسلامی رشکر کی آمد سے پہلے لوگ فکر مند تھے کہ انہیں شدید نقصان پہنچایا جائے گا
02:44مگر جب انہوں نے مسلمان جنرل کا حکم سنا تو خوشی کا اظہار کیا
02:50تمام لوگوں نے خوشی سے اسلامی رشکر کا استقبال کیا
02:53ہندووں کو عبادت کے لئے مکمل ازادی دی گئی
02:56محمد بن قاسم نے ان تمام عرب صداگروں کو ازاد کر دیا
03:01جن کو رادہ دار کے ڈاکو نے لوٹ کر قید کر لیا تھا
03:05تمام قیدیوں نے رہا ہو کر خوشی کا اظہار کیا اور محمد بن قاسم کو دھیروں دعائیں دی
03:10محمد بن قاسم نے ان صداگروں کو لوٹنے والے تمام ڈاکوں کو گریفتار کر کے انہیں سخص سزائیں بھی دلوائیں
03:17محمد بن قاسم کی آمد کے بعد سندھ میں رفتہ رفتہ دوسرے علاقوں میں بھی اسلامی لشکر کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا
03:25اور وہ کئی علاقے فتح کرتے چلے گئے
03:28ان کامیابیوں کے باوجود مسلمان فوج کا رویہ وہی رہا جس کا حکم محمد بن قاسم نے پہلے سے دیا ہوا تھا
03:36ان علاقوں کی ریایہ مسلمان فوج کو حملہ آور سمجھنے کی بجائے
03:39اپنے نجات، ہندہ اور دکھوں کو دور کرنے والا سمجھنے لگے تھے
03:44خاص طور پر اس عظیم نوجوان سپے سرار نے جب ہندوں میں کسی بھی ذات پاتھ اور اونچ نیز کی تمیز کیے بغیر
03:52تمام انسانوں کو برابری کا حق دے دیا
03:54تو کم ذات والے ہندوں میں خوشوی کی لہر دوڑ گئی
03:59یہ ہندو ہمیشہ سے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے
04:02انہوں نے خود کو اونچی ذات کے ہندووں کے برابر خود کو محسوس کیا
04:06تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ دی
04:08انہوں نے اس مسلمان جنرل کو نہایت عزت اور اترام کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیا
04:15مہتم سامین، محمد بن قاسم نہایت نیک دل اور پکے سچے مسلمان تھے
04:22انہوں نے شہر کے وسط میں ایک بہت بڑی مسجد تعمیر کروائی
04:26سندھ کے علاقے میں یہ پہلی جامع مسجد تھی
04:29اس علاقے کے لوگوں نے چھوٹے بڑے امیر غریب اور ہر طرح کے مسلمانوں کو اکٹھے ایک صف میں کھڑے دیکھا
04:36تو انہوں نے دین اسلام کو سب سے بہتر مذہب مانییا
04:41یہ مساوات کا عملی نمونہ تھا
04:44وقت گزنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں میں سچائی اور مساوات کی روشنی نے اجالہ کر دیا
04:50جس سے وہ خوشی سے دین اسلام میں داخل ہونے لگے تھے
04:54یوں سندھ میں اسلام کی جڑے مذبوط سے مذبوط تر ہوتی چلی گئیں
04:58پھر محمد بن قاسم نے وہاں سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا
05:02سندھ کے مقامی لوگ اپنے موسن اور ہمدردی سے جدائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے
05:08انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
05:11کہ جس نے انہیں کسی بھی ذات پات کی تفریق سے پاک نظام دیا
05:15وہ اس طرح ہمیں چھوڑ کر واپس چلا جائے گا
05:17تمام لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے
05:20گلیوں میں بازاروں میں آ کر محمد بن قاسم کی سواری سے لپٹ لپٹ کر رونے لگے
05:25وہ اسے واپس جانے سے روک رہے تھے
05:28محمد بن قاسم کا اپنا دل بھی یہاں کے لوگوں کے جذبے سے بہت متاثر ہو چکا تھا
05:33انہوں نے تمام لوگوں کو سمجھایا کہ ایک انسان کی ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
05:39میں تم لوگوں میں دین اسلام کے ایک ایسا نظام چھوڑ کر جا رہا ہوں
05:45جس کا حکم ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ علیہ وسلم نے دیا تھا
05:51تم اس نظام برعمل کرتے رہنا
05:54کیونکہ یہی نظام تمہیں سیدھی راہ دکھائے گا
05:57ڈیبل کے مرکزی شہر اور اس کے آس پاس کے لوگ جمع ہو کر محمد بن قاسم کو رخصت کر رہے تھے
06:04عورتیں آگے بڑھ کر سپاہیوں کے گلے میں ہار ڈار رہی تھی
06:08مسلمانوں نے سندھ کے لوگوں کو زندگی کا ایک ایسا رخ دے دیا تھا
06:13جس کے ذریعے ان کو انسانیت کا احساس ہو گیا تھا
06:16ابھی محمد بن قاسم اپنے لشکر کے ساتھ واپسی کے لئے مڑے ہی تھے
06:21کہ ان کو پچاس مسلح عرب آتے دکھائی دیئے
06:24محمد بن قاسم اس وقت اپنے گھوڑے پر سوال لشکر کی سفوں کا جائزہ لے رہے تھے
06:29اس نے جب آنے والے عرب باشندوں کو دیکھا تو ان کو بڑا تعجب ہوا
06:34کیونکہ آنے والے نہائیت تیز ربطاری سے ان کی طرف بڑھ رہے تھے
06:38جب عرب باشندے محمد بن قاسم کے قریب پہنچ گئے
06:42تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ وہ سالار بھی تھے
06:45جو چند روز پہلے بسرہ روانہ ہو گئے تھے
06:48ایک سوال نے آگے بڑھ کر محمد بن قاسم کو ایک خط پیش کرتے ہوئے کہا
06:53یہ امیر و ممنین سلمان بن عبد الملک کا خط ہے
06:56محمد بن قاسم فوراں چونکہ
06:59کیا؟ کیا امیر و ممنین سلمان بن عبد الملک کا خط؟
07:03سوال نے جواب دیا جی ہاں
07:05خلیفہ ولی بن عبد الملک وفات پات چکے ہیں
07:07اب سلمان بن عبد الملک مسلمانوں کے خلیفہ ہیں
07:11محمد بن قاسم کا دل یہ خبر سن کر دھڑک نہ بھول گیا
07:14مگر انہوں نے چہرے پر دل کی حالت ظاہر نہ کی
07:18انہوں نے خط کھول کر پڑھا اور گردن جھکا کر کچھ دیر کے لیے سوچا
07:23اور پھر بولے مجھے سلمان بن عبد الملک سے یہی امید تھی
07:27یزید بن ابو کبشا کون ہے؟
07:31ایک بڑے آدمی نے گھوڑا آگے بڑھاتے ہوئے کہا
07:34میرا نام یزید بن ابو کبشا ہے
07:36محمد بن قاسم نے مسکرا کر ان کو دیکھا
07:39اور گھوڑا آگے بڑھا کر یزید بن ابو کبشا سے ہاتھ میں لائے اور کہا
07:43محترم آپ کو اسلامی لشکر کی قیادت مبارک ہو
07:48میں امیر و ممیدین کی حد کھڑیاں اور بیڑیاں پہننے کے لیے حاضر ہوں
07:52آپ کو خلیفہ نے جو حکم دی ہے آپ اس پر عمل کریں
07:56یزید بن ابو کبشا اس موقع پر محمد بن قاسم کی مسکراہت دے کر بہت متاثر ہوئے
08:02انہوں نے اسلامی لشکر کے سپاہیوں کی طرف دیکھا جو کہ محمد بن قاسم کے حکم کے منتظر تھے
08:10پھر انہوں نے دیکھا کہ سلال لشکر جو کہ ولید بن عبد الملک کی وفات اور سلمان بن عبد الملک کی خلافت کا سن کر
08:17محمد بن قاسم کے گرد جمع ہو چکے تھے
08:20اس وقت یزید بن ابو کبشا نے محسوس کیا کہ وہ خود ایک لاکھ سے زیاد سپاہیوں کا لشکر قائد نہیں بلکہ مجرم ہے
08:28اور ان کے اصل قائد کے سامنے مجرم کی طرح کھڑا ہے
08:34مطم سامی محمد بن قاسم کی یہ الفاظ میں امیر و ممینین کی حد کھڑیاں اور بیڑیاں پہننے کے لیے حاضر ہوں بار بار گونج رہے تھے
08:42ان کی نظریں محمد بن قاسم کی نظروں کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی تھی
08:47اس نے کئی برطبہ اپنی نظر اٹھانے کی کوشش کی مگر ان میں اتنی تاب نہیں تھی کہ وہ اٹھی رہتی
08:53آخر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا
08:56ان سب کی گردنیں اور نظریں بھی جھکی ہوئی تھی
09:00یزید بن ابو کبشا کی زبان کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ نہیں مل رہتی
09:04آخر اس نے کہا اے میرے دوست قدرت نے یہ ذلت میرے نصیب میں لکھی ہوئی تھی
09:10محمد بن قاسم نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا نہیں ہرگز نہیں
09:13آپ پریشان نہ ہوں آپ فقط الچی ہیں قاسد ہیں آپ نے خریفہ کا پیغام مجھے دیا ہے
09:19اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں
09:21مہتم سامین یہ تھی محمد بن قاسم کی اپیسوڈ نمبر سیبن
09:26جو کہ یہاں میں مکمل ہوتی ہے انشاءاللہ نیکس اپیسوڈ میں ملتی ہیں
09:30جو کہ آخری ہوگی محمد بن قاسم کی اپیسوڈ
09:33اللہ حافظ آپ نے خیار کیے گا
Be the first to comment
Add your comment

Recommended