00:00оставissaask Renaissance
00:02writings
00:02early
00:03in
00:03foreign
00:03.
00:05nar
00:08would
00:11.
00:15.
00:21.
00:28.
00:29. . . . . .
00:59foreign
01:29حیرت کی بات یہ تھی کہ ان میں سے اکثر لوگوں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
01:34بات تک نہیں کی تھی
01:36مکہ میں ایک بوڑھی عورت بھی انہی لوگوں میں شامل تھی
01:39وہ قریش کی پھیلائی ہوئی باتوں پر مکمل یقین کر چکی تھی
01:43اس کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام
01:47اس کے آباؤ اجداد کی روایات پر حملہ تھا
01:50وہ اتنی زیادہ خوف زدہ ہو گئی
01:53کہ اس نے قسم کھالی کہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف بھی نہیں
01:59دیکھی گی
01:59کیونکہ اسے یقین تھا کہ اگر اس نے ایک نظر بھی دیکھا
02:03تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جادو کے اثر میں آ جائے گی
02:08آہستہ آہستہ اس کا خوف نفرت میں بدل گیا
02:11ہر صبح وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی ہو جاتی
02:14اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قعبہ کی طرف تشریف لے جاتے
02:18تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گھر کا کچرا اور گندگی پھینگ
02:21لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ بلکل مختلف تھا
02:26آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ غصہ کرتے
02:29نہ بدلہ لیتے اور نہ ہی سخت بات کہتے
02:32آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑتے
02:36اور اس عورت کے لیے ہدایت کی دعا فرماتے
02:39یہ سلسلہ کئی مہینوں تک جاری رہا
02:42بوڑھی عورت روزانہ بے عدبی کرتی رہی
02:45جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز
02:48صبر برداشت اور حسن اخلاق کا مظاہرہ فرماتے رہے
02:52آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بھی اس کے ساتھ سختی نہیں فرمائی
02:57یہی رویہ مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے
03:00بوڑھی عورت کی نفرت بھی برقرار رہی
03:02کیونکہ وہ نہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتی تھی
03:06اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتی تھی
03:09اس لیے اسے حقیقت جاننے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا
03:12اس کی نفرت صرف ان جھوٹی باتوں پر قائم تھی
03:15جو اس نے دوسروں سے سن رکھی تھی
03:18دوسری طرف قریش کی تمام مخالفت اور جھوٹے پروپیگینڈے کے باوجود
03:22ایک اللہ کا پیغام لوگوں کے دلوں تک پہنچتا جا رہا تھا
03:25لوگ صرف پیغام ہی نہیں
03:27بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین اخلاق
03:31اور عظیم کردار سے بھی متاثر ہو رہی تھی
03:33جب بوڑی عورت نے دیکھا کہ اس کے اپنے پڑوسی اور جاننے والے آہستہ آہستہ بتوں کی عبادت چھوڑ رہے
03:40ہیں
03:40تو اس کی پریشانی بڑھنے لگی
03:42اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کی پوری دنیا بدل رہی ہے
03:46اور اس کے پرانے عقائد ختم ہوتے جا رہے ہیں
03:49اپنی روایات کو بچانے کی شدید خواہش میں
03:53اس نے ایک مشکل فیصلہ کیا
03:54اس نے سوچا کہ وہ مکہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلی جائے گی
03:59تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام سے ہمیشہ کے لیے دور
04:05رہ سکے
04:06اس نے اپنا ضروری سامان ایک بڑے اور بھاری صندوق میں رکھا
04:10اور شہر چھوڑنے کے لیے روانہ ہو گئی
04:12یہ دراصل جھوٹے پروپاگینڈے کا نتیجہ تھا
04:15وہ عورت اپنے گھر
04:17اپنے پڑوسیوں
04:19اور اپنی پوری زندگی کو صرف اس خوف کی وجہ سے چھوڑ رہی تھی
04:23جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھا
04:25بلکہ قریش کے سرداروں نے اپنے مفادات کے لیے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا تھا
04:30لیکن وہ زیادہ دور نہ جا سکی
04:32تیز دھوپ اور سخت گرمی میں چلتے چلتے وہ تھک گئی
04:36اس کا بھاری صندوق اب اس سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا
04:39اسی دوران ایک مسافر وہاں سے گزرا
04:41اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت مشکل میں ہے
04:44اس نے بغیر کسی لالچ
04:46بغیر کسی عجرت کے مطالبے
04:48اور بغیر کسی درخواست کے
04:50خود آگے بڑھ کر مدد کی پیشکش کی
04:52اس نے وہ بھاری صندوق اپنے کندھے پر اٹھایا
04:55اور عورت کے ساتھ چلنے لگا
04:57راستے بھر بوڑھی عورت اس مہربان انسان کو
05:00رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خبردار کرتی رہی
05:03وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اس اجنبی پر بڑا احسان کر رہی ہیں
05:07اس نے وہ تمام افواہیں دہرائیں
05:09تو اس نے لوگوں سے سن رکھی تھی
05:11اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جادوگر ہیں
05:15کبھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے ہیں
05:18کبھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں
05:22اور کبھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
05:25مکہ کے امن اور اتحاد کو ختم کر دیا ہے
05:28لیکن وہ اجنبی خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا
05:32وہ ایک طرف اس کا بھاری سامان اٹھائے ہوئے تھا
05:35اور دوسری طرف انہی الزامات کو بھی برداشت کر رہا تھا
05:38جو دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے خلاف لگائے جا رہے تھے
05:43آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بھی اپنے صفائی پیش نہیں فرمائی
05:48آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لفظ بھی غصے میں نہیں فرمایا
05:52آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے اس عورت کی مدد فرماتے رہے
05:56راستہ ختم ہونے کے قریب تھا
05:59جب وہ دونوں عورت کی منزل پر پہنچے
06:01تو وہ اس مہربان انسان کے حسن اخلاق، سبر اور بے لوس مدد سے بے حد متاثر ہو چکی تھی
06:08اس کے دل میں اس اجنبی کے لیے عزت پیدا ہو گئی تھی
06:12اس نے سوچا کہ اتنا اچھا انسان یقیناً نیک اور شریف ہوگا
06:16اس نے نہایت محبت سے کہا
06:18اللہ آپ کو اس نیکی کا بہترین بدلا دے
06:21جانے سے پہلے براہ کرم اپنا نام تو بتا دیجئے
06:25تاکہ میں آپ کیلئے دعا کر سکوں
06:26تب اس اجنبی نے پہلی مرتبہ خاموشی توڑی
06:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سکون اور آجزی سے فرمایا
06:35میرا نام محمد ہے
06:36یہ سنتے ہی بوڑھی عورت پر جیسے بجلی گر گئی
06:40وہ حیرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتی رہ گئی
06:44اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا
06:46کہ جس شخصیت کو وہ روزانہ برا بھلا کہتی رہی
06:49جس پر وہ روز کچرا پھینکتی رہی
06:51اور جس کے بارے میں راستے بھر جھوٹے الزامات لگاتی رہی
06:55وہی شخص آج اس کا بھاری سامان اپنے کندوں پر اٹھا کر
06:59کئی میل پیدل چلتا رہا
07:01اس لمحے اس کے ذہن میں پھیلی ہوئی تمام افواہیں ٹوپنے لگیں
07:05اسے محسوس ہوا کہ جس انسان کو وہ برسوں سے برا سمجھتی رہی
07:09حقیقت میں وہ تو بے مثال رحم دل
07:12سابر اور عالی اخلاق کے مالک ہیں
07:14اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
07:17اسے اپنی ہر حرکت پر شدید شرمندگی محسوس ہونے لگی
07:21اس نے دل ہی دل میں سوچا
07:23اگر یہ واقعی وہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے
07:27جن کے بارے میں مجھے اتنی بری باتیں بتائی گئی تھی
07:30تو پھر لوگ چھوٹ بولتے رہے
07:32اس دن پہلی بار اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا
07:37اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کردار کو اپنے سامنے محسوس کیا
07:42اسے سمجھ آ گیا کہ لوگوں کی سنی ہوئی باتوں پر یقین کر لینا آسان ہے
07:48لیکن حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بالکل مختلف ہوتا ہے
07:53بڑی عورت نے فوراں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا
07:56اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی
08:00اور اپنے برے رویے پر گہرین ادامت کا اظہار کیا
08:04اسلامی روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:08نہ اس سے کوئی شکایت کی نہ اسے ملامت فرمایا
08:11اور نہ ہی اس کے ماضی کو یاد دلا کر شرمندہ کیا
08:15بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کی طرح
08:18نرمی شفقت اور رحم کا مظہرہ فرمایا
08:22کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی عظیم اخلاق
08:27اور بی مثال حسن سلوک سے متاثر ہو کر
08:29وہ عورت اسلام کی حقانیت کو قبول کرنے پر آمادہ ہو گئی
Comments