00:00سلام آج کی اس جائزے میں ہم ایک بہت ہی دلچسپ اور سچ کہوں تو تھوڑے سے چپتے ہوئے تضاد
00:05پر بات کرنے والے ہیں
00:06یعنی ایک طرف ہماری آج کی دنیا ہے جہاں ہر نیکی ہر کام کو بس کیمرے کی آنکھ اور سوشل
00:13میڈیا کی واہ واہ کیلے کیا جاتا ہے
00:15اور دوسری طرف دوسری طرف ابتدائی اسلامی شخصیات کا وہ کمال کا روحانی سکون ہے جو گمنامی اور انتہائی سادگی
00:23میں چھپا تھا
00:24تو چلیے سیدھا ماخز کے انشاندار واقعات میں غوطہ لگاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم اس سے کیا سیکھ
00:29سکتے ہیں
00:30اب سب سے پہلا اور بڑا سوال آج کے اس دور میں جہاں ہر چیز لائکس اور شیئر سے ناپی
00:37جاتی ہے وہاں سچی سادگی آخر دکھتی کیسی ہے
00:40ہمارا دل چاہتا ہے کہ بس کوئی بھی اچھا کام کریں فوراں اس کی تصیل پوسٹ کریں اور دنیا سے
00:46داد وصول کریں
00:47لیکن کیا واقعی یہی نیکی کا اصل میار ہے
00:51ماخز میں بتاتا ہے کہ سادگی بھئی محض دکھاوے کا نام بلکل نہیں ہے
00:55تو پھر حقیقی آجزی ہے کیا
00:57اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پرانے یا پھٹے ہوئے کپڑے پہن لیے یا خود کو غریب سا ظاہر کر
01:01لیا
01:01تو بس ہم آجز ہو گئے لیکن ماخز اس کی بڑی زبردست وضاحت کرتا ہے
01:05یہ کوئی فیشن سٹیٹمنٹ نہیں ہے
01:07یہ دراصل اندر کی ایک ایسی گہری کیفیت ہے جہاں آپ کبھی کسی بھی حال میں کسی دوسرے انسان کو
01:13خود سے کم تر نہیں سمجھتے
01:15جب تک اندر سے یہ کیفیت نہ آئے باہر کا حلیہ بدلنا بس بے مائنیسی بات ہے
01:19اب ذرا اس موازنے کو دیکھیں
01:21یہ واقعی آنکھیں کھولنے والا ہے
01:24آج کل کیا ہوتا ہے
01:25معمولی سا صدقہ بھی دینا ہو تو کیمرے کے بغیر نہیں دیا جاتا
01:28اور تقریبات میں ہمیں بس وی آئی پی پروٹوکال چاہیے
01:30لیکن اگر ہم ابتدائی اسلامی طرز عمل کو دیکھیں
01:34تو وہ اس کے بالکل اولٹ تھے
01:35عظیم رہنما
01:36بڑے بڑے خلفہ
01:38اپنے گھر کا جھاڑو خود دے رہے ہیں
01:40وہ شہرت اور تعریف سے ایسے بھاگتے تھے جیسے کوئی خطرہ ہو
01:44کیوں؟
01:44تاکہ ان کا اخلاص بچا رہے
01:46یہ تضاد واقعی سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے نا؟
01:49خیر
01:50اب ہم اپنے پہلے اہم حصے کی طرف آتے ہیں
01:52ڈیجیٹل دور میں پاکیزگی
01:54یعنی اپنی نگاہ اور دل کی حفاظت
01:56ہاں جب ہر وقت سکرین ہماری آنکھوں کے سامنے
01:59تو دل کو پاک رکھنا مشکل تو بہت ہے
02:01پر ضروری بھی سب سے زیادہ ہے
02:03ماخز میں ایک کمال کا واقع ہے
02:05ذرا تصور کریں
02:06حضرت انز بن مالک رضی اللہ عنہ کے ایک طالب علم کو
02:08ایک ملکہ کی طرف سے بے پناہ دولت اور گناہ کی پیشکش ہوتی ہے
02:12اور وہ کیا کرتے ہیں
02:13وہ اس جال میں فسنے کے بجائے سیدھا چھت سے چھلانگ لگا دیتے ہیں
02:16یعنی دنیاوی لالچ کے بجائے موت قبول کر لی
02:19یہ ہے پاکیزگی کے وہ حد
02:21جہاں انسان اپنے دل کو بچانے کے لیے کسی بھی چیز کی پروانی کرتا
02:24اسی طرح ماخز میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کفل کا ذکر ہے
02:28جو بہت گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا
02:30لیکن جب ایک مجبور عورت نے اسے صرف یہ یاد دلایا
02:32کہ اپنے اندر کی آنکھیں کھولو
02:35اللہ دیکھ رہا ہے
02:36تو آپ یقین کریں
02:37اس کے دل پر ایسا لرزہ تاری ہوا
02:39کہ اس نے اسی وقت سچی توبہ کر لی
02:41اور یہی ایک جملہ اس کے بخشش کا ذریعہ بن گیا
02:44یہ جملہ آج بھی ہمارے غفلت میں ڈوبے دلوں کو جگانے کے لیے کافی ہے
02:48تو بھائی سوال یہ ہے کہ ہم آج کیا کر سکتے ہیں
02:51ماقس سے ہمیں کچھ بہت ہی زبردست عملی ٹپس ملتی ہیں
02:55جیسے کہ یہ جو ہم بے مقصد رات گئے تک چیٹنگ کرتے رہتے ہیں
02:58اس سے بچنا چاہیے
03:00اپنے انٹرنیٹ اور میسیجنگ کو
03:02صرف پوزیٹیو اور با مقصد کاموں کے لیے استعمال کریں
03:05اور سب سے اہم بات
03:06نگاہ نیچی رکھنے کا اصول صرف سڑکوں پر نہیں
03:08بلکہ ہماری موبائل سکرینز پر بھی اتنا ہی لاغو ہوتا ہے
03:12اسی سے اندر کا سکون ملتا ہے
03:13اب بڑھتے ہیں دوسرے حصے کی طرف
03:15جو ہے خاندانی حدود کا سختی سے تائین
03:18یعنی رشتوں میں احترام
03:20فاصلہ اور تقدس
03:22دیکھیں یہ ہماری روز مرہ زندگی کا بہت ہی حساس پہلو ہے
03:26آج کی سماجی توقعات اور ماغوس کے بتائے گئے
03:29حدود میں زمین آسمان کا فرق ہے
03:31آج کل کزنز کے ساتھ بہت زیادہ بے تکلفی
03:33یا سسرالی رشتداروں جیسے دیور وغیرہ سے
03:36زبردستی کام کروانا
03:37کپڑے دھلوانا
03:38بڑا عام سا سمجھا جاتا ہے
03:40لیکن ماغوس بالکل صاف بتاتا ہے
03:43کہ جب ہم ان حدود کو توڑتے ہیں
03:45تو دراصل ہم خاندانی جھگڑوں
03:47اور روحانی نقصان کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں
03:49ایک پرسکون گھر کے لیے
03:51ان رشتوں میں فاصلہ اور احترام کا ہونا
03:53لازمی شرط ہے
03:55چلیں اب ہم اپنے تیسرے حصے کی طرف چلتے ہیں
03:58مشکل وقت میں آجزی اور عظیم خلفا کے واقعات
04:01یہ واقعہ واقعی کامال کا ہے
04:03ہم بات کر رہے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی
04:06جن کے نام سے اس وقت کی سوپر پاورز کامپتی تھی
04:09جب انہیں لگا کہ دور دور تک ان کے نام کا ڈھنکہ بج رہا ہے
04:12اور شاید ان کے دل میں اپنی عظمت کا ذرا سا خیال آیا ہے
04:16تو انہوں نے کیا کیا
04:17انہوں نے فوراں لوگوں کو اکھٹھا کیا
04:19اور سرعام اطراف کیا
04:20کہ بھئی میں تو وہ ہوں
04:22جو کبھی مٹھی برک کشمش کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا
04:25مطلب اپنی انا کو کچلنے اور اپنی حقیقت کو یاد رکھنے کا
04:28اس سے شاندار طریقہ کیا ہو سکتا ہے
04:30اب آپ اس نمبر چار کو دیکھیں
04:32یہ کوئی عام سا ہنسا نہیں ہے
04:34یہ ان چار دنوں کو ظاہر کرتا ہے
04:37جب اس وقت کے خلیفہ
04:38حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بیٹیوں کے پاس
04:41کھانے کو مناسب خوراک تک نہیں تھی
04:43وہ چار دن
04:44جی ہاں چار دن تک صرف پیاز اور خوشک روٹی پر گزارا کرتی رہیں
04:49بغیر کسی شکایت کے
04:51یہ سوچ کر ہی حیرت ہوتی ہے
04:52کہ سادگی اور کنات ان کی زندگیوں میں کس قدر رچی بسی تھی
04:56نیت کو خالص رکھنے کی ایک اور زبردست مثال دیکھیں
05:00حضرت عمر بن عبدالعزیز
05:02ایک بیوہ کی یتیم بیٹیوں کا سرکاری وظیفہ لکھ رہے تھے
05:05چار بیٹیوں کا لکھ چکے تھے
05:07لیکن جب اس بیوہ نے خلیفہ کی بہت زیادہ تعریف کرنا شروع کر دی
05:10تو انہوں نے پانچویں بیٹی کا وظیفہ لکھنے سے اپنا ہاتھ روک لیا
05:14کیوں؟ انہیں یہ ڈر لگ گیا
05:16کہ اس تعریف کی وجہ سے کہیں ان کے اندر آنا نہ آ جائے
05:19اور ان کا یہ کام صرف اللہ کے لیے نہ رہے
05:22یہ اُتی ہے اخلاص کی انتہا
05:24اب ہم آتے ہیں اپنے چوتھے اور آخری حصے کی جانب
05:27ساماجک توقعات پر سادگی کو ترجیح دینا
05:30اور چھپی ہوئی عبادت میں سکون تلاش کرنا
05:33آج کل جہاں ہر چیز دکھاوے کے لیے ہے
05:35وہاں یہ تصاور کتنا الگ ہے نا
05:37کہ آپ سادگی سے جیئیں اور اپنی عبادت کو چھپائیں
05:40حضرت اویس کرنی کا روحانی مقام اتنا اونچا تھا
05:43کہ صحابہ کو ان سے دعا کروانے کا کہا گیا تھا
05:46لیکن ماخذ بتاتا ہے
05:48کہ وہ خود گرگڑا کر دعائیں مانگتے تھے
05:50کہ بس وہ گمنام ہی رہیں
05:51انہیں کوئی شوق نہیں تھا
05:53کہ لوگ انہیں پہچانے یا ان کی واوا ہو
05:55وہ بس اکیلے میں اپنے رب سے جڑے رہنا چاہتے تھے
05:57ایک اور بڑا سبق آموز واقعہ ماخذ سے ملتا ہے
06:01مشہور صوفی بزرگ
06:03سید احمد کبیر رفائی
06:05ایک تنگ راستے سے جا رہے تھے
06:07کہ سامنے ایک کتہ آ گیا
06:09اب عام طور پر کوئی کیا کرتا
06:11کتے کو ہٹا دیتا
06:12لیکن انہوں نے خود کیچڑ میں چھلانگ لگا دی
06:16تاکہ جانور آرام سے گزر سکے
06:18انہیں یہ خوف تھا
06:19کہ اگر آج انہوں نے ایک کتے کو بھی
06:22خود سے حقیر سمجھا
06:23تو دل میں وہ تکبر پیدا ہو جائے گا
06:26جو ان کی ساری بادات کو تباہ کر دے گا
06:29ان کا یہ احساس
06:30سچ میں دل کو چھولینے والا ہے
06:32کہ بھئی کپڑوں پر کیچڑ لگ جائے
06:34تو کیا ہے پانی سے دھل جائے گی
06:35لیکن اگر دل کے اندر غرور اور تکبر کا داغ لگ گیا
06:38تو آپ اسے ساتھ سمندروں کے پانی سے بھی نہیں دھو سکتے
06:41کتنا گہرا پیغام ہے یہ
06:43روحانی زندگی کو بچانا ہے
06:45تو ظاہر کی صفائی سے زیادہ باطن کی پاکیزگی
06:48اور سچی آجزی چاہیے ہوتی ہے
06:50تو آخر میں
06:51سادگی کا وہ حتمی میار
06:53کیا ہے جسے ہمیں اپنانا چاہیے
06:55ماخذ سیدھا ہمیں نبی کریم
06:57صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
06:59گھرے لو معمولات کی طرف لے جاتا ہے
07:00جو پیش کیا گیا خاموشی سے کھا لیا
07:02کپڑے پھٹ گئے تو خود پیون لگا لیا
07:11یہ اس بات کی پرفیکٹ مثال ہے
07:13کہ ایک بہترین زندگی میں
07:14وی آئی پی کامپلیکس جھوٹے روب
07:16اور انا کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے
07:18تو آج کا یہ جائزہ ہمیں
07:20ایک بہت ہی اہم سوال کے ساتھ چھوڑتا ہے
07:23ذرا سوچئے گا
07:24دوسروں سے داد وصول کرنے اور نام کمانے
07:27کی یہ جو کبھی نہ ختم ہونے والی
07:29دوڑ ہے کیا یہ واقعی
07:31ہمارے دلوں کو خوشی دے رہی ہے
07:32یا اندر سے بلکل خالی کر رہی ہے
07:34کیا اصل سکون اور اصل پاکیزگی
07:37اسی غمنامی اور سادگی میں نہیں ہے
07:39جس کی مثالیں ہم نے آج دیکھی
07:41یہ واقعی ایک ایسا موضوع ہے
07:43جس پر ہمیں رکھ کر سوچنا چاہیے
07:45آج کے اس جائزے میں ہمارے ساتھ شامل ہونے کا
07:47بہت بہت شکریہ
Comments