Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Discover the inspiring story of Prophet Harun (AS) and Prophet Musa (AS), two of the greatest prophets mentioned in the Holy Quran. Learn about their mission against Pharaoh, their struggle to guide the Children of Israel, and the lessons of faith, patience, leadership, and trust in Allah.

This Islamic documentary explores authentic Quranic events, historical insights, and powerful reminders from the lives of Prophet Musa (AS) and Prophet Harun (AS). Watch till the end to uncover valuable lessons that remain relevant today.

👉 Don't forget to Like, Share, and Subscribe for more Islamic stories and Quranic history.
Transcript
00:00سلام آج کی اس جائزے میں ہم ایک بہت ہی دلچسپ اور سچ کہوں تو تھوڑے سے چپتے ہوئے تضاد
00:05پر بات کرنے والے ہیں
00:06یعنی ایک طرف ہماری آج کی دنیا ہے جہاں ہر نیکی ہر کام کو بس کیمرے کی آنکھ اور سوشل
00:13میڈیا کی واہ واہ کیلے کیا جاتا ہے
00:15اور دوسری طرف دوسری طرف ابتدائی اسلامی شخصیات کا وہ کمال کا روحانی سکون ہے جو گمنامی اور انتہائی سادگی
00:23میں چھپا تھا
00:24تو چلیے سیدھا ماخز کے انشاندار واقعات میں غوطہ لگاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم اس سے کیا سیکھ
00:29سکتے ہیں
00:30اب سب سے پہلا اور بڑا سوال آج کے اس دور میں جہاں ہر چیز لائکس اور شیئر سے ناپی
00:37جاتی ہے وہاں سچی سادگی آخر دکھتی کیسی ہے
00:40ہمارا دل چاہتا ہے کہ بس کوئی بھی اچھا کام کریں فوراں اس کی تصیل پوسٹ کریں اور دنیا سے
00:46داد وصول کریں
00:47لیکن کیا واقعی یہی نیکی کا اصل میار ہے
00:51ماخز میں بتاتا ہے کہ سادگی بھئی محض دکھاوے کا نام بلکل نہیں ہے
00:55تو پھر حقیقی آجزی ہے کیا
00:57اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پرانے یا پھٹے ہوئے کپڑے پہن لیے یا خود کو غریب سا ظاہر کر
01:01لیا
01:01تو بس ہم آجز ہو گئے لیکن ماخز اس کی بڑی زبردست وضاحت کرتا ہے
01:05یہ کوئی فیشن سٹیٹمنٹ نہیں ہے
01:07یہ دراصل اندر کی ایک ایسی گہری کیفیت ہے جہاں آپ کبھی کسی بھی حال میں کسی دوسرے انسان کو
01:13خود سے کم تر نہیں سمجھتے
01:15جب تک اندر سے یہ کیفیت نہ آئے باہر کا حلیہ بدلنا بس بے مائنیسی بات ہے
01:19اب ذرا اس موازنے کو دیکھیں
01:21یہ واقعی آنکھیں کھولنے والا ہے
01:24آج کل کیا ہوتا ہے
01:25معمولی سا صدقہ بھی دینا ہو تو کیمرے کے بغیر نہیں دیا جاتا
01:28اور تقریبات میں ہمیں بس وی آئی پی پروٹوکال چاہیے
01:30لیکن اگر ہم ابتدائی اسلامی طرز عمل کو دیکھیں
01:34تو وہ اس کے بالکل اولٹ تھے
01:35عظیم رہنما
01:36بڑے بڑے خلفہ
01:38اپنے گھر کا جھاڑو خود دے رہے ہیں
01:40وہ شہرت اور تعریف سے ایسے بھاگتے تھے جیسے کوئی خطرہ ہو
01:44کیوں؟
01:44تاکہ ان کا اخلاص بچا رہے
01:46یہ تضاد واقعی سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے نا؟
01:49خیر
01:50اب ہم اپنے پہلے اہم حصے کی طرف آتے ہیں
01:52ڈیجیٹل دور میں پاکیزگی
01:54یعنی اپنی نگاہ اور دل کی حفاظت
01:56ہاں جب ہر وقت سکرین ہماری آنکھوں کے سامنے
01:59تو دل کو پاک رکھنا مشکل تو بہت ہے
02:01پر ضروری بھی سب سے زیادہ ہے
02:03ماخز میں ایک کمال کا واقع ہے
02:05ذرا تصور کریں
02:06حضرت انز بن مالک رضی اللہ عنہ کے ایک طالب علم کو
02:08ایک ملکہ کی طرف سے بے پناہ دولت اور گناہ کی پیشکش ہوتی ہے
02:12اور وہ کیا کرتے ہیں
02:13وہ اس جال میں فسنے کے بجائے سیدھا چھت سے چھلانگ لگا دیتے ہیں
02:16یعنی دنیاوی لالچ کے بجائے موت قبول کر لی
02:19یہ ہے پاکیزگی کے وہ حد
02:21جہاں انسان اپنے دل کو بچانے کے لیے کسی بھی چیز کی پروانی کرتا
02:24اسی طرح ماخز میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کفل کا ذکر ہے
02:28جو بہت گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا
02:30لیکن جب ایک مجبور عورت نے اسے صرف یہ یاد دلایا
02:32کہ اپنے اندر کی آنکھیں کھولو
02:35اللہ دیکھ رہا ہے
02:36تو آپ یقین کریں
02:37اس کے دل پر ایسا لرزہ تاری ہوا
02:39کہ اس نے اسی وقت سچی توبہ کر لی
02:41اور یہی ایک جملہ اس کے بخشش کا ذریعہ بن گیا
02:44یہ جملہ آج بھی ہمارے غفلت میں ڈوبے دلوں کو جگانے کے لیے کافی ہے
02:48تو بھائی سوال یہ ہے کہ ہم آج کیا کر سکتے ہیں
02:51ماقس سے ہمیں کچھ بہت ہی زبردست عملی ٹپس ملتی ہیں
02:55جیسے کہ یہ جو ہم بے مقصد رات گئے تک چیٹنگ کرتے رہتے ہیں
02:58اس سے بچنا چاہیے
03:00اپنے انٹرنیٹ اور میسیجنگ کو
03:02صرف پوزیٹیو اور با مقصد کاموں کے لیے استعمال کریں
03:05اور سب سے اہم بات
03:06نگاہ نیچی رکھنے کا اصول صرف سڑکوں پر نہیں
03:08بلکہ ہماری موبائل سکرینز پر بھی اتنا ہی لاغو ہوتا ہے
03:12اسی سے اندر کا سکون ملتا ہے
03:13اب بڑھتے ہیں دوسرے حصے کی طرف
03:15جو ہے خاندانی حدود کا سختی سے تائین
03:18یعنی رشتوں میں احترام
03:20فاصلہ اور تقدس
03:22دیکھیں یہ ہماری روز مرہ زندگی کا بہت ہی حساس پہلو ہے
03:26آج کی سماجی توقعات اور ماغوس کے بتائے گئے
03:29حدود میں زمین آسمان کا فرق ہے
03:31آج کل کزنز کے ساتھ بہت زیادہ بے تکلفی
03:33یا سسرالی رشتداروں جیسے دیور وغیرہ سے
03:36زبردستی کام کروانا
03:37کپڑے دھلوانا
03:38بڑا عام سا سمجھا جاتا ہے
03:40لیکن ماغوس بالکل صاف بتاتا ہے
03:43کہ جب ہم ان حدود کو توڑتے ہیں
03:45تو دراصل ہم خاندانی جھگڑوں
03:47اور روحانی نقصان کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں
03:49ایک پرسکون گھر کے لیے
03:51ان رشتوں میں فاصلہ اور احترام کا ہونا
03:53لازمی شرط ہے
03:55چلیں اب ہم اپنے تیسرے حصے کی طرف چلتے ہیں
03:58مشکل وقت میں آجزی اور عظیم خلفا کے واقعات
04:01یہ واقعہ واقعی کامال کا ہے
04:03ہم بات کر رہے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی
04:06جن کے نام سے اس وقت کی سوپر پاورز کامپتی تھی
04:09جب انہیں لگا کہ دور دور تک ان کے نام کا ڈھنکہ بج رہا ہے
04:12اور شاید ان کے دل میں اپنی عظمت کا ذرا سا خیال آیا ہے
04:16تو انہوں نے کیا کیا
04:17انہوں نے فوراں لوگوں کو اکھٹھا کیا
04:19اور سرعام اطراف کیا
04:20کہ بھئی میں تو وہ ہوں
04:22جو کبھی مٹھی برک کشمش کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا
04:25مطلب اپنی انا کو کچلنے اور اپنی حقیقت کو یاد رکھنے کا
04:28اس سے شاندار طریقہ کیا ہو سکتا ہے
04:30اب آپ اس نمبر چار کو دیکھیں
04:32یہ کوئی عام سا ہنسا نہیں ہے
04:34یہ ان چار دنوں کو ظاہر کرتا ہے
04:37جب اس وقت کے خلیفہ
04:38حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بیٹیوں کے پاس
04:41کھانے کو مناسب خوراک تک نہیں تھی
04:43وہ چار دن
04:44جی ہاں چار دن تک صرف پیاز اور خوشک روٹی پر گزارا کرتی رہیں
04:49بغیر کسی شکایت کے
04:51یہ سوچ کر ہی حیرت ہوتی ہے
04:52کہ سادگی اور کنات ان کی زندگیوں میں کس قدر رچی بسی تھی
04:56نیت کو خالص رکھنے کی ایک اور زبردست مثال دیکھیں
05:00حضرت عمر بن عبدالعزیز
05:02ایک بیوہ کی یتیم بیٹیوں کا سرکاری وظیفہ لکھ رہے تھے
05:05چار بیٹیوں کا لکھ چکے تھے
05:07لیکن جب اس بیوہ نے خلیفہ کی بہت زیادہ تعریف کرنا شروع کر دی
05:10تو انہوں نے پانچویں بیٹی کا وظیفہ لکھنے سے اپنا ہاتھ روک لیا
05:14کیوں؟ انہیں یہ ڈر لگ گیا
05:16کہ اس تعریف کی وجہ سے کہیں ان کے اندر آنا نہ آ جائے
05:19اور ان کا یہ کام صرف اللہ کے لیے نہ رہے
05:22یہ اُتی ہے اخلاص کی انتہا
05:24اب ہم آتے ہیں اپنے چوتھے اور آخری حصے کی جانب
05:27ساماجک توقعات پر سادگی کو ترجیح دینا
05:30اور چھپی ہوئی عبادت میں سکون تلاش کرنا
05:33آج کل جہاں ہر چیز دکھاوے کے لیے ہے
05:35وہاں یہ تصاور کتنا الگ ہے نا
05:37کہ آپ سادگی سے جیئیں اور اپنی عبادت کو چھپائیں
05:40حضرت اویس کرنی کا روحانی مقام اتنا اونچا تھا
05:43کہ صحابہ کو ان سے دعا کروانے کا کہا گیا تھا
05:46لیکن ماخذ بتاتا ہے
05:48کہ وہ خود گرگڑا کر دعائیں مانگتے تھے
05:50کہ بس وہ گمنام ہی رہیں
05:51انہیں کوئی شوق نہیں تھا
05:53کہ لوگ انہیں پہچانے یا ان کی واوا ہو
05:55وہ بس اکیلے میں اپنے رب سے جڑے رہنا چاہتے تھے
05:57ایک اور بڑا سبق آموز واقعہ ماخذ سے ملتا ہے
06:01مشہور صوفی بزرگ
06:03سید احمد کبیر رفائی
06:05ایک تنگ راستے سے جا رہے تھے
06:07کہ سامنے ایک کتہ آ گیا
06:09اب عام طور پر کوئی کیا کرتا
06:11کتے کو ہٹا دیتا
06:12لیکن انہوں نے خود کیچڑ میں چھلانگ لگا دی
06:16تاکہ جانور آرام سے گزر سکے
06:18انہیں یہ خوف تھا
06:19کہ اگر آج انہوں نے ایک کتے کو بھی
06:22خود سے حقیر سمجھا
06:23تو دل میں وہ تکبر پیدا ہو جائے گا
06:26جو ان کی ساری بادات کو تباہ کر دے گا
06:29ان کا یہ احساس
06:30سچ میں دل کو چھولینے والا ہے
06:32کہ بھئی کپڑوں پر کیچڑ لگ جائے
06:34تو کیا ہے پانی سے دھل جائے گی
06:35لیکن اگر دل کے اندر غرور اور تکبر کا داغ لگ گیا
06:38تو آپ اسے ساتھ سمندروں کے پانی سے بھی نہیں دھو سکتے
06:41کتنا گہرا پیغام ہے یہ
06:43روحانی زندگی کو بچانا ہے
06:45تو ظاہر کی صفائی سے زیادہ باطن کی پاکیزگی
06:48اور سچی آجزی چاہیے ہوتی ہے
06:50تو آخر میں
06:51سادگی کا وہ حتمی میار
06:53کیا ہے جسے ہمیں اپنانا چاہیے
06:55ماخذ سیدھا ہمیں نبی کریم
06:57صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
06:59گھرے لو معمولات کی طرف لے جاتا ہے
07:00جو پیش کیا گیا خاموشی سے کھا لیا
07:02کپڑے پھٹ گئے تو خود پیون لگا لیا
07:11یہ اس بات کی پرفیکٹ مثال ہے
07:13کہ ایک بہترین زندگی میں
07:14وی آئی پی کامپلیکس جھوٹے روب
07:16اور انا کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے
07:18تو آج کا یہ جائزہ ہمیں
07:20ایک بہت ہی اہم سوال کے ساتھ چھوڑتا ہے
07:23ذرا سوچئے گا
07:24دوسروں سے داد وصول کرنے اور نام کمانے
07:27کی یہ جو کبھی نہ ختم ہونے والی
07:29دوڑ ہے کیا یہ واقعی
07:31ہمارے دلوں کو خوشی دے رہی ہے
07:32یا اندر سے بلکل خالی کر رہی ہے
07:34کیا اصل سکون اور اصل پاکیزگی
07:37اسی غمنامی اور سادگی میں نہیں ہے
07:39جس کی مثالیں ہم نے آج دیکھی
07:41یہ واقعی ایک ایسا موضوع ہے
07:43جس پر ہمیں رکھ کر سوچنا چاہیے
07:45آج کے اس جائزے میں ہمارے ساتھ شامل ہونے کا
07:47بہت بہت شکریہ
Comments

Recommended