00:00آج کس نئے تجزیے میں ہم تاریخ کے ایک ایسے خوفناک اور سنہری واقعے پر روشنی ڈالنے والے ہیں
00:05جو موت کے خوف اور حقیقی بہادری کے مفہوم کو بلکل نئے سرے سے متعرف کرواتا ہے
00:11یہ کوئی عام سی پرانی کہانی نہیں ہے
00:14بلکہ جبر اور غیر متزلزل یقین کے درمیان ایک ایسا تاریخی ٹکراؤ ہے
00:19جس نے اپنے وقت کے سب سے بڑے ظالم کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا
00:23تو چلیے ایک ظالم حکمران اور ایک عالم دین کے آمنے سامنے آنے کی اس لرزہ خیز داستان کو سمجھتے
00:30ہیں
00:30کیا واقعی کامل یقین موت کے اس عالمگیر خوف کو ہرا سکتا ہے جو ہر انسان کی فطرت میں شامل
00:37ہے
00:37ذرا تصور کیا جائے کہ ایک انسان دنیا کی مطلق طاقت اور یقینی موت کے سامنے کھڑا ہے
00:43اور اس کے چہرے پر خوف کے بجائے ایک پرسکون مسکراہت ہے
00:47کیا واقعی ایسا ممکن ہے
00:49آئیے تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس حیرت انگیز سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں
00:54پہلا حصہ
00:56ظلم اور کامل توقل کا ٹکراہو
00:59اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اموی دور کی اس تاریخ اور سیاسی بیچینی کی فضا میں جانا ہوگا
01:05جہاں صرف ظلم اور جبر کا راج تھا
01:08تاریخ بتاتی ہے کہ حجاج بن یوسف نے اس دور میں کیسا خوف پھیلا رکھا تھا
01:13اس نے نیک لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا
01:17یہاں تک کہ جلیل القدر صحابہ اکرام کو بھی قید میں ڈال دیا
01:21اس کے جبر نے پورے معاشرے اور خاص طور پر علمی حلقوں میں اتنا گہرا خوف بٹھا دیا تھا
01:28کہ کوئی اس کی مرضی کے خلاف آواز اٹھانے کی جرت تک نہیں کر سکتا تھا
01:33لیکن اس پوری کہانی کی بنیاد ایک لفظ پر ہے
01:37اور وہ ہے توقل
01:39یعنی کامل یقین
01:40توقل کا اصل مطلب ہے خود کو مکمل طور پر خالق کے حوالے کر دینا
01:45اور یہ اٹل یقین رکھنا
01:47کہ زندگی اور موت صرف اور صرف اسی کے اختیار میں ہے
01:51جب یہ سچا یقین دل میں اتر جاتا ہے
01:54تو دنیا کی کوئی بھی طاقت یا دھمکی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے
01:58یہی وہ روحانی ہتیار تھا
02:00جس نے تاریخ کا رخ مور دیا
02:02دوسرا حصہ
02:03الہی طاقت کا مقالمہ
02:06اب سیدھا اس دربار میں چلتے ہیں
02:08جہاں وقت کے عظیم عالم
02:10حضرت سید بن جبیر
02:12اور تکبر میں ڈوبے ظالم حجاج کے درمیان
02:15یہ تاریخی آمنہ سامنا ہوا
02:17حجاج کا غرور
02:19اس کی حتمی دھمکی سے
02:21صاف جھلگتا ہے
02:22وہ کہتا ہے
02:23میں تمہیں قتل کر دوں گا
02:25تمہاری زندگی میرے ہاتھ میں ہے
02:27اسے یہ خام خیالی تھی
02:29کہ زندگی اور موت کے فیصلے
02:31اس کے تخت سے ہوتے ہیں
02:33یہ مادی طاقت کے نشے میں
02:36کہی گئی ایک انتہائی متقبرانہ بات تھی
02:38لیکن اس تھمکی کا جو جواب
02:41حضرت سید بن جبیر نے دیا
02:42وہ سچ میں کمال ہے
02:43وہ بس مسکراد یہ
02:45اور یہ مسکراد حجاج کے لیے
02:47کسی تلوار کے وار سے کم نہیں تھی
02:49انہوں نے انتہائی اتمنان سے فرمایا
02:51تو احمق ہے
02:52زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں نہیں
02:55بلکہ میرے رب کے اختیار میں ہے
02:56یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا
02:59ایک قیدی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
03:01ایک مغرور بادشاہ کو
03:03اس کی اصلیت یاد دلا رہا تھا
03:04اس پر حجاج غصے سے پاگل ہو گیا
03:07اور اس نے جلادوں کو آواز دی
03:09لیکن حضرت سعید مزید کھل کر
03:11مسکرانے لگے
03:12حجاج نے جھنجلا کر پوچھا
03:14کہ اب کیوں ہس رہے ہو
03:15تو جواب ملا
03:16میں اپنے رب کی بینیازی پر ہس رہا ہوں
03:19جس نے تجھ جیسے ظالم کو بھی
03:21محلت دے رکھی ہے
03:22یعنی ان کا روحانی سکون
03:24اس دنیا کی پرواہ سے بہت اوپر جا چکا تھا
03:27ظالم ہمیشہ ظاہری حیثیت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے
03:31قتل سے ٹھیک پہلے
03:33حضرت سعید نے قبلہ رخ ہو کر تلاوت شروع کر دی
03:36حجاج نے چلا کر حکم دیا
03:38اس کا رخ قبلہ سے پھیر دو
03:40لیکن ان کا جواب دیکھئے
03:41انہوں نے فرمایا
03:42مشرق بھی اللہ کا ہے اور مغرب بھی
03:45جدھر بھی مو کرو وہیں اللہ کی ذات موجود ہے
03:47یعنی حجاج ان کا جسم تو گھما سکتا تھا
03:50لیکن ان کی روح کی سمت نہیں بدل سکتا تھا
03:53جلاد کے تلوار اٹھانے سے پہلے
03:55حضرت سعید کی آخری
03:57اور لرزہ خیست تنبیح پورے دربار میں گونجی
04:00مجھے ویسے ہی قتل کرنا
04:02جیسے تم چاہتے ہو
04:03کہ قیامت کے دن تمہیں قتل کیا جائے
04:05میں قیامت میں تم پر گواہی دوں گا
04:09یہ سننا تھا کہ پورے دربار میں
04:10ایک خوفناک خاموشی چھا گئے
04:12یہاں تک کہ جلاد کے ہاتھ کانپنے لگے
04:15تیسرا حصہ
04:16بے خوف شہادت
04:17آخر کار تلوار چل گئی
04:19لیکن اس شہادت میں بھی ایک ایسی حیرت انگیز
04:22بات چھپی تھی
04:23جس نے ظالم کو ہلا کے رکھ دیا
04:25ایک انتہائی غیر معمولی جسمانی رد عمل سامنے آیا
04:29حضرت سعید کا سر قلم ہو چکا تھا
04:31لیکن ان کے جسم سے خون کا بہاؤ متواتر جاری تھا
04:35اور رکھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
04:37خون کی ایسی تیزی
04:38عام طور پر کٹے ہوئے جسموں میں دیکھنے کو نہیں ملتی
04:41اس منظر نے حجاج کو بری طرح بکھلا دیا
04:45اس وقت دربار میں موجود ایک طبیب کی تشخیص آج بھی حیران کر دینے والی ہے
04:49طبیب نے بتایا کہ موت کا خوف مرنے والے کے خون کو جمع دیتا ہے
04:54جس سے خون خوشک ہو جاتا ہے
04:56لیکن اس شخص کے دل میں موت کا ذرہ برابر بھی خوف نہیں تھا
05:00یہ موت سے بلکل بنیاز تھا
05:02اور اسی لئے اس کا خون اس طرح رواں ہے
05:05یہ اس بات کا واضح مادی ثبوت تھا
05:07کہ وہ اندر سے کس قدر پرسکون تھے
05:09چوتھا حصہ
05:11ظالم کی اخلاقی جواب دے ہی اور انجام
05:14اس بے خوف شہادت کے فوراں بعد
05:17اب حساب کا وقت شروع ہوتا ہے
05:20یہاں ایک اور بنیادی تصور سمجھتے ہیں
05:22مقافات عمل
05:24یہ وہ اٹل روحانی قانون ہے
05:26جس کے تحت انسان کو اپنے آمال کا انجام
05:29اسی دنیا میں بھگتنا پڑتا ہے
05:31حجاج کا غرور اور ظلم
05:33اب ٹھیک اسی مقافات عمل کی زد میں آنے والا تھا
05:36ہوا کچھ یوں کہ اسی رات
05:38حجاج کے پیٹ میں ایک انتہائی شدید اور عذیتناک درد اٹھا
05:43درد اتنا تھا
05:44کہ وہ چیخنے اور بلبلانے پر مجبور ہو گیا
05:47اگلے چودہ دن تک وہ مسلسل وہموں
05:50اور شدید ذہنی عذیت کا شکار رہا
05:52وہ راتوں کو اٹھ کر چلاتا
05:54کہ سعید اسے پیروں سے گھسیٹ رہے ہیں
05:57اور کہہ رہے ہیں کہ قیامت کا دربار لگا ہے
05:59اور ٹھیک پندروے دن
06:01اپنے ہی خوف اور درد کی شدت سے
06:03وہ ظالم حکمران
06:05ایک نہایت عبرت اناک موت مارا گیا
06:08پانچوان اور آخری حصہ
06:10دنیاوی خوف پر غلبہ پانے والی بہادری
06:13یہ جو واقعہ ہم نے دیکھا
06:15یہ تاریخ میں کوئی اکیلی مثال نہیں ہے
06:18جب ہم اس دور کی دوسری عظیم شخصیات کو دیکھتے ہیں
06:22تو حضرت علی کی مثال سامنے آتی ہے
06:24جب ان سے پوچھا گیا
06:26کہ وہ جنگ میں
06:27اپنی پشت کی حفاظت کا لباس کیوں نہیں پہنتے
06:30تو انہوں نے فرمایا
06:31مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا
06:33موت کے بعد تو راحت ہی راحت ہے
06:35یہ وہی کامل توقل ہے
06:38جو دنیا کے مادی اسباب
06:40اور خوف سے بلکل آزاد ہے
06:42بلکل اسی طرح
06:43ایک اور عظیم سپہ سالار
06:45حضرت خالد بن ولید
06:47جب وہ بستر مرگ پر تھے
06:49تو ان کے جسم پر زخموں کے اتنے نشان تھے
06:52کہ کوئی جگہ باقی نہیں تھی
06:54لیکن انہیں اس بات کا شدید افسوس تھا
06:56کہ انہیں میدان جنگ میں شہادت کیوں نہیں ملی
06:59اور وہ بستر پر جان دے رہے ہیں
07:01ان کے ساتھیوں نے انہیں تسلی دی
07:04کہ ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے
07:06کہ قیامت کے دن انہیں شہدہ کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا
07:09سچے مومن اور حق پر ڈٹے رہنے والے لوگ
07:13موت کو کوئی آخری دیوار
07:15یا اختتام نہیں سمجھتے
07:16بلکہ یہ ان کے نزدیک
07:18رب کی رحمت کی طرف کھلنے والا
07:20ایک تروازہ ہے
07:21آج کے دور میں جہاں زیادہ تر قیادت
07:24مادی طاقت جوڑ توڑ اور خوف پر مبنی ہے
07:27یہ تاریخی کردار
07:28ہمیں ایک بلکل مختلف بے لوس اور اخلاقیات پر
07:32مبنی قیادت کا تصور دیتے ہیں
07:34کیا یہ کامل توقل
07:36آج کی بے چینیوں کو ختم کر سکتا ہے
07:38ہم آج کل کے دور میں
07:40ادم تحفظ
07:40مستقبل کی فکر
07:42اور بے شمار نئی پریشانیوں میں گھری رہتے ہیں
07:44لیکن اگر کامل یقین
07:46ایک متلک الانان ظالم کو
07:48ایک مسکراتے ہوئے عالم کے سامنے لرزنے پر
07:50مجبور کر سکتا ہے
07:51تو یہ توقل آج کے ذاتی
07:54پیشاورانہ اور بوجودی خوف کو بھی
07:57یقیناً ختم کر سکتا ہے
07:58اسی فکر انگیز سوال کے ساتھ
08:00آج کا یہ تجزیہ یہی ختم ہوتا ہے
08:02تاریخ کا یہ سبق
08:04ہمیں اپنے ہر خوف کا سامنا
08:05ایک مسکراہت کے ساتھ کرنے کا حوصلہ
08:08ضرور دیتا ہے
Comments