Skip to playerSkip to main content
Discover the inspiring story of Hazrat Saeed Bin Abdullah (R.A), one of the most loyal companions of Imam Hussain (A.S.) in the Battle of Karbala. Learn how he sacrificed his life while protecting Imam Hussain during Salah on the Day of Ashura. This emotional and historical documentary explores the courage, faith, and martyrdom of a true hero of Islam.

#Karbala #HazratSaeedBinAbdullah #ImamHussain #Ashura #KarbalaStory #IslamicHistory #MartyrsOfKarbala #Muharram #AhlulBayt #IslamicDocumentary #UrduStory #KarbalaHeroes #YaHussain #IslamicVideos #Karbala2026


Category

📚
Learning
Transcript
00:00آج کس نئے تجزیے میں ہم تاریخ کے ایک ایسے خوفناک اور سنہری واقعے پر روشنی ڈالنے والے ہیں
00:05جو موت کے خوف اور حقیقی بہادری کے مفہوم کو بلکل نئے سرے سے متعرف کرواتا ہے
00:11یہ کوئی عام سی پرانی کہانی نہیں ہے
00:14بلکہ جبر اور غیر متزلزل یقین کے درمیان ایک ایسا تاریخی ٹکراؤ ہے
00:19جس نے اپنے وقت کے سب سے بڑے ظالم کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا
00:23تو چلیے ایک ظالم حکمران اور ایک عالم دین کے آمنے سامنے آنے کی اس لرزہ خیز داستان کو سمجھتے
00:30ہیں
00:30کیا واقعی کامل یقین موت کے اس عالمگیر خوف کو ہرا سکتا ہے جو ہر انسان کی فطرت میں شامل
00:37ہے
00:37ذرا تصور کیا جائے کہ ایک انسان دنیا کی مطلق طاقت اور یقینی موت کے سامنے کھڑا ہے
00:43اور اس کے چہرے پر خوف کے بجائے ایک پرسکون مسکراہت ہے
00:47کیا واقعی ایسا ممکن ہے
00:49آئیے تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس حیرت انگیز سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں
00:54پہلا حصہ
00:56ظلم اور کامل توقل کا ٹکراہو
00:59اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اموی دور کی اس تاریخ اور سیاسی بیچینی کی فضا میں جانا ہوگا
01:05جہاں صرف ظلم اور جبر کا راج تھا
01:08تاریخ بتاتی ہے کہ حجاج بن یوسف نے اس دور میں کیسا خوف پھیلا رکھا تھا
01:13اس نے نیک لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا
01:17یہاں تک کہ جلیل القدر صحابہ اکرام کو بھی قید میں ڈال دیا
01:21اس کے جبر نے پورے معاشرے اور خاص طور پر علمی حلقوں میں اتنا گہرا خوف بٹھا دیا تھا
01:28کہ کوئی اس کی مرضی کے خلاف آواز اٹھانے کی جرت تک نہیں کر سکتا تھا
01:33لیکن اس پوری کہانی کی بنیاد ایک لفظ پر ہے
01:37اور وہ ہے توقل
01:39یعنی کامل یقین
01:40توقل کا اصل مطلب ہے خود کو مکمل طور پر خالق کے حوالے کر دینا
01:45اور یہ اٹل یقین رکھنا
01:47کہ زندگی اور موت صرف اور صرف اسی کے اختیار میں ہے
01:51جب یہ سچا یقین دل میں اتر جاتا ہے
01:54تو دنیا کی کوئی بھی طاقت یا دھمکی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے
01:58یہی وہ روحانی ہتیار تھا
02:00جس نے تاریخ کا رخ مور دیا
02:02دوسرا حصہ
02:03الہی طاقت کا مقالمہ
02:06اب سیدھا اس دربار میں چلتے ہیں
02:08جہاں وقت کے عظیم عالم
02:10حضرت سید بن جبیر
02:12اور تکبر میں ڈوبے ظالم حجاج کے درمیان
02:15یہ تاریخی آمنہ سامنا ہوا
02:17حجاج کا غرور
02:19اس کی حتمی دھمکی سے
02:21صاف جھلگتا ہے
02:22وہ کہتا ہے
02:23میں تمہیں قتل کر دوں گا
02:25تمہاری زندگی میرے ہاتھ میں ہے
02:27اسے یہ خام خیالی تھی
02:29کہ زندگی اور موت کے فیصلے
02:31اس کے تخت سے ہوتے ہیں
02:33یہ مادی طاقت کے نشے میں
02:36کہی گئی ایک انتہائی متقبرانہ بات تھی
02:38لیکن اس تھمکی کا جو جواب
02:41حضرت سید بن جبیر نے دیا
02:42وہ سچ میں کمال ہے
02:43وہ بس مسکراد یہ
02:45اور یہ مسکراد حجاج کے لیے
02:47کسی تلوار کے وار سے کم نہیں تھی
02:49انہوں نے انتہائی اتمنان سے فرمایا
02:51تو احمق ہے
02:52زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں نہیں
02:55بلکہ میرے رب کے اختیار میں ہے
02:56یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا
02:59ایک قیدی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
03:01ایک مغرور بادشاہ کو
03:03اس کی اصلیت یاد دلا رہا تھا
03:04اس پر حجاج غصے سے پاگل ہو گیا
03:07اور اس نے جلادوں کو آواز دی
03:09لیکن حضرت سعید مزید کھل کر
03:11مسکرانے لگے
03:12حجاج نے جھنجلا کر پوچھا
03:14کہ اب کیوں ہس رہے ہو
03:15تو جواب ملا
03:16میں اپنے رب کی بینیازی پر ہس رہا ہوں
03:19جس نے تجھ جیسے ظالم کو بھی
03:21محلت دے رکھی ہے
03:22یعنی ان کا روحانی سکون
03:24اس دنیا کی پرواہ سے بہت اوپر جا چکا تھا
03:27ظالم ہمیشہ ظاہری حیثیت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے
03:31قتل سے ٹھیک پہلے
03:33حضرت سعید نے قبلہ رخ ہو کر تلاوت شروع کر دی
03:36حجاج نے چلا کر حکم دیا
03:38اس کا رخ قبلہ سے پھیر دو
03:40لیکن ان کا جواب دیکھئے
03:41انہوں نے فرمایا
03:42مشرق بھی اللہ کا ہے اور مغرب بھی
03:45جدھر بھی مو کرو وہیں اللہ کی ذات موجود ہے
03:47یعنی حجاج ان کا جسم تو گھما سکتا تھا
03:50لیکن ان کی روح کی سمت نہیں بدل سکتا تھا
03:53جلاد کے تلوار اٹھانے سے پہلے
03:55حضرت سعید کی آخری
03:57اور لرزہ خیست تنبیح پورے دربار میں گونجی
04:00مجھے ویسے ہی قتل کرنا
04:02جیسے تم چاہتے ہو
04:03کہ قیامت کے دن تمہیں قتل کیا جائے
04:05میں قیامت میں تم پر گواہی دوں گا
04:09یہ سننا تھا کہ پورے دربار میں
04:10ایک خوفناک خاموشی چھا گئے
04:12یہاں تک کہ جلاد کے ہاتھ کانپنے لگے
04:15تیسرا حصہ
04:16بے خوف شہادت
04:17آخر کار تلوار چل گئی
04:19لیکن اس شہادت میں بھی ایک ایسی حیرت انگیز
04:22بات چھپی تھی
04:23جس نے ظالم کو ہلا کے رکھ دیا
04:25ایک انتہائی غیر معمولی جسمانی رد عمل سامنے آیا
04:29حضرت سعید کا سر قلم ہو چکا تھا
04:31لیکن ان کے جسم سے خون کا بہاؤ متواتر جاری تھا
04:35اور رکھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
04:37خون کی ایسی تیزی
04:38عام طور پر کٹے ہوئے جسموں میں دیکھنے کو نہیں ملتی
04:41اس منظر نے حجاج کو بری طرح بکھلا دیا
04:45اس وقت دربار میں موجود ایک طبیب کی تشخیص آج بھی حیران کر دینے والی ہے
04:49طبیب نے بتایا کہ موت کا خوف مرنے والے کے خون کو جمع دیتا ہے
04:54جس سے خون خوشک ہو جاتا ہے
04:56لیکن اس شخص کے دل میں موت کا ذرہ برابر بھی خوف نہیں تھا
05:00یہ موت سے بلکل بنیاز تھا
05:02اور اسی لئے اس کا خون اس طرح رواں ہے
05:05یہ اس بات کا واضح مادی ثبوت تھا
05:07کہ وہ اندر سے کس قدر پرسکون تھے
05:09چوتھا حصہ
05:11ظالم کی اخلاقی جواب دے ہی اور انجام
05:14اس بے خوف شہادت کے فوراں بعد
05:17اب حساب کا وقت شروع ہوتا ہے
05:20یہاں ایک اور بنیادی تصور سمجھتے ہیں
05:22مقافات عمل
05:24یہ وہ اٹل روحانی قانون ہے
05:26جس کے تحت انسان کو اپنے آمال کا انجام
05:29اسی دنیا میں بھگتنا پڑتا ہے
05:31حجاج کا غرور اور ظلم
05:33اب ٹھیک اسی مقافات عمل کی زد میں آنے والا تھا
05:36ہوا کچھ یوں کہ اسی رات
05:38حجاج کے پیٹ میں ایک انتہائی شدید اور عذیتناک درد اٹھا
05:43درد اتنا تھا
05:44کہ وہ چیخنے اور بلبلانے پر مجبور ہو گیا
05:47اگلے چودہ دن تک وہ مسلسل وہموں
05:50اور شدید ذہنی عذیت کا شکار رہا
05:52وہ راتوں کو اٹھ کر چلاتا
05:54کہ سعید اسے پیروں سے گھسیٹ رہے ہیں
05:57اور کہہ رہے ہیں کہ قیامت کا دربار لگا ہے
05:59اور ٹھیک پندروے دن
06:01اپنے ہی خوف اور درد کی شدت سے
06:03وہ ظالم حکمران
06:05ایک نہایت عبرت اناک موت مارا گیا
06:08پانچوان اور آخری حصہ
06:10دنیاوی خوف پر غلبہ پانے والی بہادری
06:13یہ جو واقعہ ہم نے دیکھا
06:15یہ تاریخ میں کوئی اکیلی مثال نہیں ہے
06:18جب ہم اس دور کی دوسری عظیم شخصیات کو دیکھتے ہیں
06:22تو حضرت علی کی مثال سامنے آتی ہے
06:24جب ان سے پوچھا گیا
06:26کہ وہ جنگ میں
06:27اپنی پشت کی حفاظت کا لباس کیوں نہیں پہنتے
06:30تو انہوں نے فرمایا
06:31مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا
06:33موت کے بعد تو راحت ہی راحت ہے
06:35یہ وہی کامل توقل ہے
06:38جو دنیا کے مادی اسباب
06:40اور خوف سے بلکل آزاد ہے
06:42بلکل اسی طرح
06:43ایک اور عظیم سپہ سالار
06:45حضرت خالد بن ولید
06:47جب وہ بستر مرگ پر تھے
06:49تو ان کے جسم پر زخموں کے اتنے نشان تھے
06:52کہ کوئی جگہ باقی نہیں تھی
06:54لیکن انہیں اس بات کا شدید افسوس تھا
06:56کہ انہیں میدان جنگ میں شہادت کیوں نہیں ملی
06:59اور وہ بستر پر جان دے رہے ہیں
07:01ان کے ساتھیوں نے انہیں تسلی دی
07:04کہ ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے
07:06کہ قیامت کے دن انہیں شہدہ کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا
07:09سچے مومن اور حق پر ڈٹے رہنے والے لوگ
07:13موت کو کوئی آخری دیوار
07:15یا اختتام نہیں سمجھتے
07:16بلکہ یہ ان کے نزدیک
07:18رب کی رحمت کی طرف کھلنے والا
07:20ایک تروازہ ہے
07:21آج کے دور میں جہاں زیادہ تر قیادت
07:24مادی طاقت جوڑ توڑ اور خوف پر مبنی ہے
07:27یہ تاریخی کردار
07:28ہمیں ایک بلکل مختلف بے لوس اور اخلاقیات پر
07:32مبنی قیادت کا تصور دیتے ہیں
07:34کیا یہ کامل توقل
07:36آج کی بے چینیوں کو ختم کر سکتا ہے
07:38ہم آج کل کے دور میں
07:40ادم تحفظ
07:40مستقبل کی فکر
07:42اور بے شمار نئی پریشانیوں میں گھری رہتے ہیں
07:44لیکن اگر کامل یقین
07:46ایک متلک الانان ظالم کو
07:48ایک مسکراتے ہوئے عالم کے سامنے لرزنے پر
07:50مجبور کر سکتا ہے
07:51تو یہ توقل آج کے ذاتی
07:54پیشاورانہ اور بوجودی خوف کو بھی
07:57یقیناً ختم کر سکتا ہے
07:58اسی فکر انگیز سوال کے ساتھ
08:00آج کا یہ تجزیہ یہی ختم ہوتا ہے
08:02تاریخ کا یہ سبق
08:04ہمیں اپنے ہر خوف کا سامنا
08:05ایک مسکراہت کے ساتھ کرنے کا حوصلہ
08:08ضرور دیتا ہے
Comments

Recommended