Skip to playerSkip to main content
Discover the inspiring story of the 18 sons of Hazrat Ali (RA) and their remarkable role in Islamic history. Learn about their courage, sacrifices, and contributions, especially during the events of Karbala. This documentary-style video explores authentic historical accounts and highlights the legacy of the family of Imam Ali (RA) that continues to inspire millions around the world.
#HazratAli #ImamAli #Karbala #IslamicHistory #AhlulBayt #Muharram #IslamicDocumentary #KarbalaStory #ImamHussain #IslamicKnowledge #HistoryOfIslam #UrduIslamicVideos #MuslimHistory #KarbalaHeroes #IslamicFacts

Category

📚
Learning
Transcript
00:00खुशामदीद, आज के इस तफसीली जाइजे में हम तारीख के एक नहायत दिल्चस्प और एहम मوضوع पर बात करेंगे।
00:06हम हजरत अली के खानदान और शिज्रा नसब की मुकमल तस्वीर को एक तारीखदान की नजर से समझने की कोशिश
00:12करेंगे।
00:13हम उमुमन तारीख के चंद मशूर औराकी पढ़ते हैं लेकिन आज हम इस पूरे तारीखी कैनरस का मुताला करेंगे ताके
00:19मालूम हो सके के इस अजीव खानदान ने तारीख पर क्या अनमिट नुकूश छोड़े हैं।
00:24तो चलें शुरू करते हैं।
00:26जब भी हजरत अली के बेटों का जिकर आता है तो फौरी तौर पर हमारे जहन में तीन अजीम नाम
00:31उभरते हैं जो तारीख में इंतहाई मशूर हैं।
00:34लेकिन क्या ये बात हैरान कुन नहीं कि असल तादाद 18 है।
00:38ये बिल्कुल एक आइसबर्ग यानि बर्फ के तोदे की तरह है जिसका सिर्फ उपर का हिस्सा हमें नजर आता है।
00:4418 का ये शांदार अदद एक बहुत वसी तारीखी तनाज़र को वाज़े करता है जिसमें हर बेटे ने अपना एक
00:50एहम किरदार अदा किया।
00:51अच्छा तो आज हम इस मोजू को कैसे कवर करेंगे। हम इसे पांच हिस्सों में बाटेंगे। पहले 18 बेटे फिर
01:00मादरी शजरा नसब उसके बाद नुमाया शखसियात फिर गैर मारूफ शहदा और आखिर में खांदानी विरसे का तहफुज। बस ये
01:08हमारा आज का खाक
01:23पहले इस खांदानी शजरे की गहराई में जाने से पहले इस खांदान की बुनियात को याद कर लेते हैं। मशूर
01:30रिवायत है कि रसूल अल्लाह अलेह वालियों ने फरमाया हसन और हुसें जन्नत के नौजवानों के सरदार हैं। ये वो
01:37मुस्तहकम और जानी पैचानी ब�
01:51पूरी तरह समझने के लिए ना इनके मुक्तलिफ मादरी पसे मंजर का मुतालिया बहुत जरूरी है। अगर हम इस खांदानी
01:56तर्तीब को देखें तो हम वाज़े तोर पर समझ सकते हैं कि हजरत इमाम हसन और इमाम हुसें की वालदा
02:01बीवी फातिमा जहरा हैं। फिर हजरत
02:03अम البनीन के चार बेटे हैं हजरत अबास, उस्मान, अब्दॉल्ला और जाफर। इसी तरह मुहम्मद बिन हनीफिया की वालदा खौला
02:10बिनते जाफर हैं। अबुबकर की वालदा लैला बिनते मसूद और मुहम्मद ओसत और यहिया जैसे बेटों की वालदा अस्मा बिनते
02:23If we look at the history of the people of Israel, we know that the people of Israel
02:3140-HJR
03:01əmām حسن اور əmām حسین پیغمبر اسلام کے نواسط
03:04əmām حسن نے 40 حجری میں مسلمانوں کے درمیان جنگ کو روکھنے
03:08اور معاشرے کی اصلاح کے لیے امن کی راہ چنی
03:11اور دوسری طرف əmām حسین نے 61 حجری میں یزید کی بیعت سے انکار کیا
03:16اور حق کی خاطر کربلا کے میدان میں اپنی عظیم قربانی پیش کی
03:20یہاں ان دونوں مختلف حکمت عملیوں کا موازنہ کرنا
03:23تاریخ کے طالب علموں کے لیے بہت اہم ہے
03:25امام حسن کا صلاح نامہ اور امام حسین کی مزاہمت
03:28بظاہر یہ دو متزاد راستے لگتے ہیں
03:32لیکن درحقیقت دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے وقت کے انتہائی مختلف اور
03:36کٹھن تاریخی حالات میں مسلمانوں کی حقوق اور تحفظ کے لیے
03:40بلکل وہی قدم اٹھایا جو اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی
03:43تیسری نمائیہ ترین شخصیت حضرت عباس ہیں
03:46جو 26 حجری میں پیدا ہوئے
03:49ان کی بہادری تو ضرب المسل ہیں
03:51کربلا میں وہ امام حسین کے علمدار تھے
03:54دس محرم کو جب پانی بند کر دیا گیا
03:57تو وہ پانی لانے کے لیے دریائے فرات پر گئے
04:00اور شدید لڑائی کے بعد اپنے بازو کٹوا کر
04:04بہادری سے شہادت نوش کی
04:06ان کی اس بےمثال وفاداری نے
04:08انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے عمر کر دیا
04:11اب ہم آتے ہیں حصہ چہارم کی طرف
04:13کربلا کے غیر معروف شہدہ
04:16یہاں ایک بڑا اہم سوال ذہن میں آتا ہے
04:19کہ اس دن کربلا کے میدان میں
04:21امام حسین اور حضرت عباس کے علاوہ
04:23اور کون کھڑا تھا
04:24یہ محض ایک فرد کا نہیں
04:26بلکہ ایک مشترکہ خاندانی سفر تھا
04:28ذرا اس سفر کو دیکھیں
04:30مدینہ میں بیعت سے انکار
04:31پھر مکہ کا سفر
04:32وہاں سے کوفہ کی طلف روانے کی
04:34دو محرم کو کربلا میں رکا جانا
04:37اور پھر دس محرم کا دن
04:38امام حسین کے کافلے میں شریک ان تمام بھائیوں نے
04:41اس پورے سفر میں قدم سے قدم ملا کر
04:44ایک دوسرے کا ساتھ دیا
04:45اس قافلے میں حضرت امام بنین کے
04:47دیگر بیٹے بھی شامل تھے
04:49عثمان، عبداللہ جن کی عمر اس وقت
04:51تقریباً پچیس سال تھی
04:52اور جعفر جو چھ سو سنتالیس اسوی میں پیدا ہوئے
04:55ان سب نے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ جنگ کی
04:58اور میدان کربلا میں شہادت حاصل کی
05:00یہ بات بڑی واضح طور پر ظاہل کرتی ہے
05:03کہ امام بنین کے تمام بیٹے
05:04میدان جنگ کی اس قربانی کے لیے
05:06یقصہ طور پر پورازم تھے
05:08اسی طرح اس کم عمری کے باوجود
05:10قربانی دینے والوں میں
05:11حضرت عمر، حضرت ابوبکر
05:14جن کی عمر اس وقت محض بائیس سال تھی
05:16اور حضرت محمد ازغر شامل تھے
05:18اس شاندار شجرہ نصب کے حامل
05:21ان نوجوانوں نے
05:22کم عمری کے باوجود
05:23امام حسین کے ساتھ اپنی شدید وفاداری نبھائی
05:27اور آشورہ کے دن
05:28اپنا سب کچھ قربان کر کے
05:30شہادت کا عظیم رتبہ پایا
05:32آخر میں ہم حصہ پنجم کا جائزہ لیں گے
05:34خاندانی ورسے کا تحفظ
05:36اب ہم ان بیٹوں کی بات کریں گے
05:39جو کربلا میں موجود نہیں تھے
05:40اور دیکھیں گے کہ یہاں دو مختلف حکمت اعملیاں
05:43کیسے کام کر رہی تھی
05:44ایک طرف کربلا کی وہ زبردست قربانی تھی
05:47اور دوسری طرف وہ خاموش
05:49محتاط اور بقا پر مبنی مشاورتی کردار تھا
05:52جو مدینہ میں رہ جانے والے بھائیوں نے اپنایا
05:54تاکہ خاندان کی تعلیمات باقی رہ سکیں
05:56تو یہاں سب سے اہم نقطہ حضرت محمد بن حنفیہ کا ارتکائی کردار ہے
06:02خولہ بنت جعفر کے یہ بیٹے
06:04جو جنگ جمل اور سفین میں اپنی زبردست اسکری مہارت کے لیے جانے جاتے تھے
06:09کربلا کے وقت مدینہ میں تھے
06:11اور انہوں نے امام حسین کو مشورہ بھی دیا
06:14کربلا کے بعد انہوں نے ایک انتہائی محتاط اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیا
06:19اور ایک ایسی ہجری میں اپنی وفات تک خاندان کی بقا کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا
06:25ان کے علاوہ وہ بھائی جنہوں نے میدان جنگ سے دور خاموش زندگیاں گزاریں
06:30ان میں محمد عوصد جن کا انتقال 684 عیسوی میں ایران میں ہوا
06:34یہیہ، حمزہ اور عمر عاطف شامل ہیں
06:38یہ شخصیات علم، تقوی اور عالی اخلاق کی بدولت جانے گئیں
06:42انہوں نے سیاسی کشمکش سے دور رہ کر
06:44اپنے خاندان کے اخلاقی معیارات کو انتہائی موثر انداز میں محفوظ رکھا
06:49خاندانی فہرست کے آخری ناموں میں عبید اللہ، احمد اور ابراہیم کا ذکر ملتا ہے
06:54جنہوں نے شجاعت اور دیانتداری کے اصولوں کو زندہ رکھا
06:58جب ہم ابراہیم کے بات کرتے ہیں تو تاریخ کی کتابوں میں کچھ تنوہ دیکھنے کو ملتا ہے
07:02شیعہ اور سنی تاریخی روایات میں ان کی نزبی حیثیت کے حوالے سے کچھ اختلافات موجود ہیں
07:08جو کہ خالصتاً ایک علمی بحث ہے
07:10اور سچ پوچھیں تو یہ اختلافات دراصل تاریخ نویسی کی باریکیوں کو سمجھنے کا ایک شاندار موقع ہیں
07:17ایک تاریخدان کے لیے یہ کوئی مذہبی جھگڑا نہیں بلکہ ایک دلچسپ متعلیہ ہے
07:22مختلف روایات جیسے کہ محمد ازغر کی والدہ کے نام پر مختلف آرہ
07:27یا ابراہیم کے مستند حوالے
07:29یہ سب ہمیں سکھاتے ہیں کہ قدیم تاریخ کو کیسے ریکارڈ کیا گیا
07:33اور اسے پڑھتے وقت ہمیں کتنی وسط نظری کی ضرورت ہے
07:36اس پورے جائزے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی کے ان اٹھارہ بیٹوں نے
07:41چاہے وہ تاریخ کے سفات پر بہت نمائع ہوں
07:43یا پسے منظر میں خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوں
07:46ایک ایسا مجموعی ورثہ قائم کیا
07:48جو شجاعت، تقوی اور گہرت تاریخی اثرات سے بھرا ہوا ہے
07:52کسی نے میدان جنگ میں شہادت دی
07:54تو کسی نے علمی سطح پر
07:55لیکن اس خاندانی مراز کو سب نے مل کے ایک رکھا
07:58اب آخر میں ایک انتہائی دلچسپ سوال
08:02جو ہمارے ذہنوں میں اُبھرتا ہے
08:03وہ یہ ہے کہ
08:04آخر ایسا کیوں ہوتا ہے
08:06کہ تاریخ کی کچھ شخصیات
08:08ہماری اجتماعی یاد داشت میں عمر ہو جاتی ہیں
08:11جبکہ کچھ جنہوں نے بلکل وہی قربانی دی
08:14وہ پسے منظر میں کہیں دھنلا جاتی ہیں
08:16بحثیت تاریخ کے طالب علم
08:18یہ وہ سوال ہے جس پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے
08:21آج کے اس علمی جائزے میں
08:22ہمارے ساتھ شامل ہونے کا بہت شکریہ
Comments

Recommended