00:00آئیے آج کے اس جائزے میں ہم تاریخ کے ایک بہت ہی خاص اور سچ کہوں تو انتہائی جذباتی پہلو
00:07پر بات کرتے ہیں
00:07ہم سب نے کربلا کے واقعات سن رکھے ہیں لیکن آج ہم اس پوری داستان کو ایک مختلف زاویے سے
00:14دیکھیں گے
00:14سانی زہرہ بی بی زینب سلام اللہ علیہ کی نظر سے
00:18یہ صرف ایک جنگ کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ ان کے دو بیٹوں
00:22آن اور محمد کی بے مثال قربانی اور ایک ماں کس ناقابل یقین صبر کی کہانی ہے جس نے تاریخ
00:29کا رخ مور دیا
00:30ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر وہ کون سا جذبہ تھا
00:34جس نے ان ماں کو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو میدان جنگ میں بھیجنے کا حوصلہ دیا
00:40تو اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا
00:44یہ سفر مدینہ سے شروع ہوتا ہے
00:46یہ کوئی عام سفر نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑے اور مقدس اہد کی شروعات تھی
00:51جیسے جیسے یہ قافلہ کربلا کی تپتی ریت تک پہنچا
00:55حالات کی سنگینی بلکل واضح ہو چکی تھی
00:57آشور کی رات یعنی جنگ سے بلکل پہلے کی رات
01:01سرہ تصور کریں خیموں میں کیسا ماحول ہوگا
01:04خوف بلکل نہیں
01:06وہاں صرف عبادت تھی اور رب کی رضا پر راضی رہنے کا جذبہ
01:10اور پھر آیا دس محرم کا دن
01:12وہ حتمی امتحان جہاں حق اور باطل کا فیصلہ ہونا تھا
01:16اس پاس منظر کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے
01:19کیونکہ تب ہی ہم سمجھ پائیں گے
01:21کہ ان ماہوں کا اصل امتحان کتنا کٹھن تھا
01:24اب ذرا خیموں کے اندر کے ان مناظر کو محسوس کریں
01:27ماں اپنے بچوں کو میدان میں جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں
01:30ایک طرف بی بی فروا ہے
01:32جو شہزادہ کاسن کو ان کے چچا پر قربان ہونے کا درس دے رہی ہیں
01:35دوسری طرف بی بی لیلہ ہیں
01:37جو علی اکبر کو ایسے قربانی دینے کا کہہ رہی ہیں
01:40کہ جناب فاطمہ کے سامنے فخر سے سر اتھا سکیں
01:43لیکن ان سب کے درمیان بی بی زینب کا انداز بلکل مختلف اور بہت گہرا ہے
01:48وہ اپنے دونوں بچوں کو سامنے بٹھا کر
01:50بڑے پیار سے ان کے بال سوار رہی ہیں
01:52اور ساتھی انہیں یاد دلا رہی ہیں
01:54کہ دیکھو تم حیدر کرار کے نواسے اور جعفر تیار کے پوتے ہو
01:58وہ انہیں سمجھا رہی ہیں
02:00کہ میدان میں جاؤ
02:00تو تمہاری شجاعت ایسی ہو
02:02کہ مجھے اپنی ماں فاطمہ کے سامنے شرمندگی نہ ہو
02:05یہ واقعی ایک عامل وردہ نہیں تھا
02:07یہ تو شجاعت اور روحانیت کی اگلی نسل میں باقاعدہ منتقلی تھی
02:11اب یہاں جو بات سب سے زیادہ حیران کن ہے
02:14وہ یہ ہے
02:15کہ بی بی زینب نے انہیں صرف یہ نہیں کہا
02:17کہ جاؤ اور جا کر لڑو
02:19انہوں نے دو انتہائی خاص اور سخت ہدایات تھی
02:23پہلی یہ
02:24کہ سیدھا دشمن کے کمانڈر عمر بن ساتھ کو نشانہ بنانا
02:28یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے
02:29یہ ایک بہت بڑی جنگی حکمت عملی تھی
02:32اور دوسری ہدایت
02:34جو سچ میں دل دہلا دینے والی ہے
02:36وہ یہ تھی
02:37کہ اگر لڑتے لڑتے دریائے فرات تک پہنچ بھی جاؤنا
02:40تو پانی کا ایک گھونٹ بھی مت پینا
02:42سوچیں ذرا کیوں
02:44کیونکہ امام حسین کی چھوٹے بچے
02:46خیموں میں پیاسے تھے
02:48یہ ہوتی ہے ہمدردی اور وفاداری کی اصل میراج
02:52یہ صرف جنگ کے اصول نہیں تھے
02:53یہ ایک ماں کی طرف سے دیئے گئے خالص روحانی فرائز تھے
02:57اور پھر وہ وقت آ ہی گیا
02:58دس محرم کا سورج نکلا
03:00اور کربلا کا میدان قربانیوں سے گونج اٹھا
03:04ایک کے بعد ایک حق کے راستے میں جانے نچھاور ہو رہی تھی
03:08خیموں میں لاشے لائی جا رہی تھی
03:10آپ تصور کر سکتے ہیں کہ وہاں کیسی خاموشی
03:12کیسا دکھ
03:14لیکن ساتھی کیسا ایک ناخابل تسخیر عظم ہوگا
03:17شہدہ کے خون سے
03:18کربلا کی ریت رنگین ہو رہی تھی
03:20لیکن اسی دوران
03:22بی بی زینب کے خیمے میں
03:24ایک عجیب سی بیچینی بڑھ رہی تھی
03:25انہوں نے دیکھا کہ اتنے سارے لوگ شہید ہو چکے ہیں
03:28مگر ان کے اپنے بچوں
03:30آن اور محمد کی باری ابھی تک نہیں آئی
03:33ایک ماں اور ایک بہن کے لیے یہ لمحہ
03:35کتنی عذیت اور بے قراری کا ہوگا
03:38اسی بے قراری میں
03:39جب بی بی زینب کی نظر
03:41اپنے بیٹوں پر پڑی جو ابھی تک خیمے میں موجود تھے
03:44تو ان کے موز سے وہ تاریخی الفاظ نکلے
03:47اون محمد تم اب تک زندہ کیوں ہو
03:50بظاہر یہ جملہ بہت سخت لگتا ہے نا
03:53لیکن اس کی گہرائی دیکھیں
03:54بچے بتاتے ہیں کہ وہ تو بار بار اپنے مامو
03:57یعنی امام حسین کے پاس جا رہے ہیں
03:59لیکن وہ انہیں لڑنے کی اجازت ہی نہیں دے رہے
04:02دراصل بی بی زینب
04:04اب ہرگز یہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی
04:06کہ ان کے بھائی پر مصیبت آئے
04:08اور ان کے اپنے بچے خیمے میں محفوظ بیٹھے رہیں
04:10اسی تڑپ میں
04:12انہوں نے فوراں حضرت عباس کو بلایا
04:14تاکہ وہ جا کر امام حسین سے سفارش کرے
04:17اور ان بچوں کو بھی
04:18قربان ہونے کی اجازت مل سکے
04:20اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے
04:22کہ امام حسین انہیں اجازت کیوں نہیں دے رہے تھے
04:24اور آخر کس بات پر مانے
04:26اس کا جواب ہمیں تاریخ کے ایک پرانے اہد میں ملتا ہے
04:30جب حضرت عباس کے ذریعے
04:31بی بی زینب نے ماں حسین کو اپنا واسطہ دیا
04:34تو امام نے کہا
04:35کہ یہ بچے میرے پاس ان کے والد
04:36حضرت عبداللہ کی امانت ہیں
04:38تب بی بی زینب نے مدینہ سے روانگی کا وہ وقتیاد دلایا
04:42انہوں نے کہا
04:43کیا آپ بھول گئے
04:44کہ عبداللہ نے واضح طور پر کہا تھا
04:46کہ اگر جنگ کی نوبت آ جائے
04:47تو علی اکبر سے پہلے میرے ان دو بیٹوں کو قربان کرنا
04:51ایک میری طرف سے اور ایک زینب کی طرف سے
04:53بس اس پرانے وعدے کی یاد دہانی ہی
04:56وہ واحد چیز تھی
04:57جس نے امام حسین کو مجبور کر دیا
04:59کہ وہ ان ننے مجاہدوں کی قربانی قبول کر لیں
05:02یعنی یہ قربانی اچانک نہیں تھی
05:04مدینہ سے ہی تیہ تھی
05:06اور پھر
05:07جب بل آخر اجازت مل گئی
05:09تو تاریخ نے ایک انتہائی شاندار
05:11اور جذباتی منظر دیکھا
05:13امام حسین نے آگے بڑھ کر
05:15اپنے ان پیرے بھانجیوں کے ماتھے چھومے
05:17وفا کے پیکر حضرت عباس نے
05:20خود اپنے ہاتھوں سے
05:21ایک شہزادے کو گھوڑے پر بٹھایا
05:23اور امام حسین نے دوسرے کو سوار کیا
05:25جب یہ دونوں میدان جنگ کی طرف بڑھے نا
05:28تو ان کا جلال دیکھنے والا تھا
05:31بلکل شیروں کی طرح
05:32ان کے چہروں پر حیدر قرار کی وہ جھلت تھی
05:35جس نے پورے میدان کو لرزا کر رکھ دیا
05:38ان کے قد بے شک چھوٹے تھے
05:40لیکن سچ کہوں تو ان کے ارادے پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط تھے
05:43میدان میں اترتے ہی
05:45ان بچوں نے وہ بہادری دکھائی
05:47جس کی ہزاروں کی فوج کو بلکل بھی توقع نہیں تھی
05:50انہوں نے انتہائی زبردست حکمت عملی سے
05:53دشمن کی سپوں کو چیرنا شروع کر دیا
05:55اور یاد ہے ان کی ماں کی پہلی ہدایت
05:57بلکل انہوں نے سیدھا کمانڈر
05:59عمر بن سعید کی طرف پیش قدمی کی
06:01جب عمر بن سعید نے دیکھا
06:03کہ یہ دو بچے اس کے اتنے قریب آگئے ہیں
06:06اور اس کی جان کو خطرہ ہے
06:07تو وہ بری طرح گھبرا گیا
06:09اس نے فوراں پوری فوج کو ایک ساتھ
06:11اجتماعی حملہ کرنے کا حکم دے دیا
06:13ذرا سوچئے ہزاروں کی مسلح فوج
06:16اور ان کے سامنے صرف دو چھوٹے
06:18اس ظلم کی انتہا میں
06:19چاروں طرف سے تلواروں کے وار ہوئے
06:22اور آخر کار وہ دونوں بہادر بچے
06:24اپنے گھوڑوں کی زین سے
06:25کربلا کی خاک پر آگرے
06:27گرتے ہی انہوں نے اپنے مامو کو پکارا
06:30جب امام حسین دشمنوں کی صفے
06:32چیرتے ہوئے اپنے ان زخمی
06:34بھانجوں تک پہنچے
06:35تو وہاں کا منظر کسی کا بھی دل چیر دینے
06:38کے لئے کافی تھا
06:39ایک شہزادے نے امام حسین کے قدموں پر سر رکھا
06:42آخری سانسے چل رہی تھی
06:43اور انتہائی درد بھری آواز میں کہا
06:46ہمارا سلام کہنا
06:47اور ہماری ماں سے کہنا
06:49کہ ہم لڑتے لڑتے نہر فراد تک پہنچ گئے تھے
06:51لیکن ہم نے پانی نہیں پیا
06:53یہ جملہ یہ واقعی انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے
06:57پورا جسم زخموں سے چور ہے
06:59پیاس کی شدت سے برا حال ہے
07:01لیکن اپنی ماں کی بات
07:03اور خیمے میں بیٹھے پیاسے بچوں کا
07:05اس قدر خیال کہ موت سامنے کھڑی ہے
07:08پھر بھی پانی کا ایک قطرہ
07:09ہلک سے نیچے نہیں اتارا
07:11اور یہی پیغام دیتے ہوئے
07:12وہ دونوں جنت کی طرف روانہ ہو گئے
07:15اس کے بعد امام حسین
07:16حضرت عباس کے سہارے ان معصوموں کی لاشیں
07:19واپس خیمے میں لے کر آئے
07:21اب خیمے کا منظر تصور کریں
07:23جیسے ہی ان دو نئے شہداء کی لاشیں
07:25وہاں لائی گئیں
07:26تمام بیبیاں دھاڑے مار کر رونے لگیں
07:29پورا خیمہ ماتم سے گونج رہا تھا
07:31لیکن جس ماں کی یہ بچے تھے
07:33وہ بیبی زینب کہاں تھی
07:34وہ وہاں نہیں تھی
07:36وہ اپنے خیمے میں بلکل لکیلی
07:38ایک انتہائی گہری اور پرسکون خاموشی کے ساتھ بیٹھی تھی
07:41وہ اس وقت تک باہر نہیں آئی
07:43جب تک امام حسین نے خود پیغام نہیں بھیجا
07:46کہ بہن آؤ اور اپنے بچوں کو آخری بار دیکھ لوں
07:49بیبی زینب کا یہ رویہ
07:50یہ کمال کا صبر
07:51واقعی عام انسانی سوچ سے بہت آگے کی بات ہے
07:54اب جو لمحہ آتا ہے
07:56وہ تو انسانی عقل کو بلکل دنگ کر دیتا ہے
07:59جب بیبی زینب ان لاشوں کے پاس آتی ہے
08:01تو کیا ہوتا ہے
08:02وہ روتے ہوئے اپنے دونوں بیٹوں
08:04آن اور محمد کے درمیان بیٹھ جاتی ہیں
08:06ایک کی سینے پر ہاتھ رکھتی ہیں
08:07چہرہ آسمان کی طرف اٹھاتی ہیں
08:09کوئی شکوہ نہیں
08:10کوئی فریاد نہیں
08:12بس بارگاہ الہی میں کلت جا
08:13اے اللہ
08:14میرے پاس ان کے سوا اور کچھ نہیں تھا
08:17میری اس حقیر سی قربانی کو
08:19حسین کے قدموں میں قبول فرما لینا
08:21یہ تسلیم اور رضا کا وہ مقام ہے
08:23جس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی
08:25اپنا سب کچھ اپنی پوری کائنات لٹا دی
08:28اور پھر بھی یہی لگا کہ شاید حق پوری طرح سے ادا نہیں ہوا
08:31تو ان تمام باتوں کو جاننے کے بعد
08:34ہمارے ذہن میں یہ سوال ضرور اُبھرتا ہے
08:36کہ ایک اتنی بڑی ناقابل تصور قربانی کے سامنے
08:40مکمل روحانی فرض
08:41مکمل ڈیوٹی
08:42آخر کیسی دکھائی دیتی ہے
08:44آن اور محمد کی بہادری
08:46اور بی بی زینب کا وہ عظیم صبر
08:48ہمیں یہ سکھاتا ہے
08:49کہ جب بات حق کی ہو
08:51سچائی کی ہو
08:52تو انسان کو اپنی سب سے پیاری چیز بھی قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے
08:57یہ پوری داستان ہمیں یہ سوچنے پر مجمور کرتی ہے
09:00کہ ہم اپنے مقاصد اور اپنے فرائض کے ساتھ کتنے سچے ہیں
09:03یہ ایک ایسی لازوال کہانی ہے
09:05جو سچائی اور عیسار کی تلاش میں نکلنے والے ہر انسان کو
09:09ہمیشہ راستہ دکھاتی رہے گی
Comments