Skip to playerSkip to main content
Discover the inspiring story of Aun Muhammad (RA), the brave son of Hazrat Zainab (SA), who sacrificed his life in the Battle of Karbala alongside Imam Hussain (AS). This emotional and historical account highlights his courage, faith, sacrifice, and unwavering loyalty to the family of the Prophet Muhammad (PBUH). Learn about the events of Karbala, the sacrifices of the Ahlul Bayt, and the legacy of the martyrs who stood for truth and justice.

Watch this complete Islamic history documentary to understand the heroic role of Aun Muhammad (RA) in one of the most significant events in Islamic history.
#AunMuhammad #Karbala #ImamHussain #HazratZainab #MartyrdomOfAunMuhammad #IslamicHistory #KarbalaStory #Muharram #Ashura #AhlulBayt #KarbalaDocumentary #IslamicStories #ShuhadaeKarbala #BattleOfKarbala #UrduIslamicVideos #Karbala2026 #ImamHussainAS #MuharramStories #IslamicDocumentary #KarbalaFacts



Category

📚
Learning
Transcript
00:00آئیے آج کے اس جائزے میں ہم تاریخ کے ایک بہت ہی خاص اور سچ کہوں تو انتہائی جذباتی پہلو
00:07پر بات کرتے ہیں
00:07ہم سب نے کربلا کے واقعات سن رکھے ہیں لیکن آج ہم اس پوری داستان کو ایک مختلف زاویے سے
00:14دیکھیں گے
00:14سانی زہرہ بی بی زینب سلام اللہ علیہ کی نظر سے
00:18یہ صرف ایک جنگ کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ ان کے دو بیٹوں
00:22آن اور محمد کی بے مثال قربانی اور ایک ماں کس ناقابل یقین صبر کی کہانی ہے جس نے تاریخ
00:29کا رخ مور دیا
00:30ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر وہ کون سا جذبہ تھا
00:34جس نے ان ماں کو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو میدان جنگ میں بھیجنے کا حوصلہ دیا
00:40تو اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا
00:44یہ سفر مدینہ سے شروع ہوتا ہے
00:46یہ کوئی عام سفر نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑے اور مقدس اہد کی شروعات تھی
00:51جیسے جیسے یہ قافلہ کربلا کی تپتی ریت تک پہنچا
00:55حالات کی سنگینی بلکل واضح ہو چکی تھی
00:57آشور کی رات یعنی جنگ سے بلکل پہلے کی رات
01:01سرہ تصور کریں خیموں میں کیسا ماحول ہوگا
01:04خوف بلکل نہیں
01:06وہاں صرف عبادت تھی اور رب کی رضا پر راضی رہنے کا جذبہ
01:10اور پھر آیا دس محرم کا دن
01:12وہ حتمی امتحان جہاں حق اور باطل کا فیصلہ ہونا تھا
01:16اس پاس منظر کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے
01:19کیونکہ تب ہی ہم سمجھ پائیں گے
01:21کہ ان ماہوں کا اصل امتحان کتنا کٹھن تھا
01:24اب ذرا خیموں کے اندر کے ان مناظر کو محسوس کریں
01:27ماں اپنے بچوں کو میدان میں جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں
01:30ایک طرف بی بی فروا ہے
01:32جو شہزادہ کاسن کو ان کے چچا پر قربان ہونے کا درس دے رہی ہیں
01:35دوسری طرف بی بی لیلہ ہیں
01:37جو علی اکبر کو ایسے قربانی دینے کا کہہ رہی ہیں
01:40کہ جناب فاطمہ کے سامنے فخر سے سر اتھا سکیں
01:43لیکن ان سب کے درمیان بی بی زینب کا انداز بلکل مختلف اور بہت گہرا ہے
01:48وہ اپنے دونوں بچوں کو سامنے بٹھا کر
01:50بڑے پیار سے ان کے بال سوار رہی ہیں
01:52اور ساتھی انہیں یاد دلا رہی ہیں
01:54کہ دیکھو تم حیدر کرار کے نواسے اور جعفر تیار کے پوتے ہو
01:58وہ انہیں سمجھا رہی ہیں
02:00کہ میدان میں جاؤ
02:00تو تمہاری شجاعت ایسی ہو
02:02کہ مجھے اپنی ماں فاطمہ کے سامنے شرمندگی نہ ہو
02:05یہ واقعی ایک عامل وردہ نہیں تھا
02:07یہ تو شجاعت اور روحانیت کی اگلی نسل میں باقاعدہ منتقلی تھی
02:11اب یہاں جو بات سب سے زیادہ حیران کن ہے
02:14وہ یہ ہے
02:15کہ بی بی زینب نے انہیں صرف یہ نہیں کہا
02:17کہ جاؤ اور جا کر لڑو
02:19انہوں نے دو انتہائی خاص اور سخت ہدایات تھی
02:23پہلی یہ
02:24کہ سیدھا دشمن کے کمانڈر عمر بن ساتھ کو نشانہ بنانا
02:28یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے
02:29یہ ایک بہت بڑی جنگی حکمت عملی تھی
02:32اور دوسری ہدایت
02:34جو سچ میں دل دہلا دینے والی ہے
02:36وہ یہ تھی
02:37کہ اگر لڑتے لڑتے دریائے فرات تک پہنچ بھی جاؤنا
02:40تو پانی کا ایک گھونٹ بھی مت پینا
02:42سوچیں ذرا کیوں
02:44کیونکہ امام حسین کی چھوٹے بچے
02:46خیموں میں پیاسے تھے
02:48یہ ہوتی ہے ہمدردی اور وفاداری کی اصل میراج
02:52یہ صرف جنگ کے اصول نہیں تھے
02:53یہ ایک ماں کی طرف سے دیئے گئے خالص روحانی فرائز تھے
02:57اور پھر وہ وقت آ ہی گیا
02:58دس محرم کا سورج نکلا
03:00اور کربلا کا میدان قربانیوں سے گونج اٹھا
03:04ایک کے بعد ایک حق کے راستے میں جانے نچھاور ہو رہی تھی
03:08خیموں میں لاشے لائی جا رہی تھی
03:10آپ تصور کر سکتے ہیں کہ وہاں کیسی خاموشی
03:12کیسا دکھ
03:14لیکن ساتھی کیسا ایک ناخابل تسخیر عظم ہوگا
03:17شہدہ کے خون سے
03:18کربلا کی ریت رنگین ہو رہی تھی
03:20لیکن اسی دوران
03:22بی بی زینب کے خیمے میں
03:24ایک عجیب سی بیچینی بڑھ رہی تھی
03:25انہوں نے دیکھا کہ اتنے سارے لوگ شہید ہو چکے ہیں
03:28مگر ان کے اپنے بچوں
03:30آن اور محمد کی باری ابھی تک نہیں آئی
03:33ایک ماں اور ایک بہن کے لیے یہ لمحہ
03:35کتنی عذیت اور بے قراری کا ہوگا
03:38اسی بے قراری میں
03:39جب بی بی زینب کی نظر
03:41اپنے بیٹوں پر پڑی جو ابھی تک خیمے میں موجود تھے
03:44تو ان کے موز سے وہ تاریخی الفاظ نکلے
03:47اون محمد تم اب تک زندہ کیوں ہو
03:50بظاہر یہ جملہ بہت سخت لگتا ہے نا
03:53لیکن اس کی گہرائی دیکھیں
03:54بچے بتاتے ہیں کہ وہ تو بار بار اپنے مامو
03:57یعنی امام حسین کے پاس جا رہے ہیں
03:59لیکن وہ انہیں لڑنے کی اجازت ہی نہیں دے رہے
04:02دراصل بی بی زینب
04:04اب ہرگز یہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی
04:06کہ ان کے بھائی پر مصیبت آئے
04:08اور ان کے اپنے بچے خیمے میں محفوظ بیٹھے رہیں
04:10اسی تڑپ میں
04:12انہوں نے فوراں حضرت عباس کو بلایا
04:14تاکہ وہ جا کر امام حسین سے سفارش کرے
04:17اور ان بچوں کو بھی
04:18قربان ہونے کی اجازت مل سکے
04:20اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے
04:22کہ امام حسین انہیں اجازت کیوں نہیں دے رہے تھے
04:24اور آخر کس بات پر مانے
04:26اس کا جواب ہمیں تاریخ کے ایک پرانے اہد میں ملتا ہے
04:30جب حضرت عباس کے ذریعے
04:31بی بی زینب نے ماں حسین کو اپنا واسطہ دیا
04:34تو امام نے کہا
04:35کہ یہ بچے میرے پاس ان کے والد
04:36حضرت عبداللہ کی امانت ہیں
04:38تب بی بی زینب نے مدینہ سے روانگی کا وہ وقتیاد دلایا
04:42انہوں نے کہا
04:43کیا آپ بھول گئے
04:44کہ عبداللہ نے واضح طور پر کہا تھا
04:46کہ اگر جنگ کی نوبت آ جائے
04:47تو علی اکبر سے پہلے میرے ان دو بیٹوں کو قربان کرنا
04:51ایک میری طرف سے اور ایک زینب کی طرف سے
04:53بس اس پرانے وعدے کی یاد دہانی ہی
04:56وہ واحد چیز تھی
04:57جس نے امام حسین کو مجبور کر دیا
04:59کہ وہ ان ننے مجاہدوں کی قربانی قبول کر لیں
05:02یعنی یہ قربانی اچانک نہیں تھی
05:04مدینہ سے ہی تیہ تھی
05:06اور پھر
05:07جب بل آخر اجازت مل گئی
05:09تو تاریخ نے ایک انتہائی شاندار
05:11اور جذباتی منظر دیکھا
05:13امام حسین نے آگے بڑھ کر
05:15اپنے ان پیرے بھانجیوں کے ماتھے چھومے
05:17وفا کے پیکر حضرت عباس نے
05:20خود اپنے ہاتھوں سے
05:21ایک شہزادے کو گھوڑے پر بٹھایا
05:23اور امام حسین نے دوسرے کو سوار کیا
05:25جب یہ دونوں میدان جنگ کی طرف بڑھے نا
05:28تو ان کا جلال دیکھنے والا تھا
05:31بلکل شیروں کی طرح
05:32ان کے چہروں پر حیدر قرار کی وہ جھلت تھی
05:35جس نے پورے میدان کو لرزا کر رکھ دیا
05:38ان کے قد بے شک چھوٹے تھے
05:40لیکن سچ کہوں تو ان کے ارادے پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط تھے
05:43میدان میں اترتے ہی
05:45ان بچوں نے وہ بہادری دکھائی
05:47جس کی ہزاروں کی فوج کو بلکل بھی توقع نہیں تھی
05:50انہوں نے انتہائی زبردست حکمت عملی سے
05:53دشمن کی سپوں کو چیرنا شروع کر دیا
05:55اور یاد ہے ان کی ماں کی پہلی ہدایت
05:57بلکل انہوں نے سیدھا کمانڈر
05:59عمر بن سعید کی طرف پیش قدمی کی
06:01جب عمر بن سعید نے دیکھا
06:03کہ یہ دو بچے اس کے اتنے قریب آگئے ہیں
06:06اور اس کی جان کو خطرہ ہے
06:07تو وہ بری طرح گھبرا گیا
06:09اس نے فوراں پوری فوج کو ایک ساتھ
06:11اجتماعی حملہ کرنے کا حکم دے دیا
06:13ذرا سوچئے ہزاروں کی مسلح فوج
06:16اور ان کے سامنے صرف دو چھوٹے
06:18اس ظلم کی انتہا میں
06:19چاروں طرف سے تلواروں کے وار ہوئے
06:22اور آخر کار وہ دونوں بہادر بچے
06:24اپنے گھوڑوں کی زین سے
06:25کربلا کی خاک پر آگرے
06:27گرتے ہی انہوں نے اپنے مامو کو پکارا
06:30جب امام حسین دشمنوں کی صفے
06:32چیرتے ہوئے اپنے ان زخمی
06:34بھانجوں تک پہنچے
06:35تو وہاں کا منظر کسی کا بھی دل چیر دینے
06:38کے لئے کافی تھا
06:39ایک شہزادے نے امام حسین کے قدموں پر سر رکھا
06:42آخری سانسے چل رہی تھی
06:43اور انتہائی درد بھری آواز میں کہا
06:46ہمارا سلام کہنا
06:47اور ہماری ماں سے کہنا
06:49کہ ہم لڑتے لڑتے نہر فراد تک پہنچ گئے تھے
06:51لیکن ہم نے پانی نہیں پیا
06:53یہ جملہ یہ واقعی انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے
06:57پورا جسم زخموں سے چور ہے
06:59پیاس کی شدت سے برا حال ہے
07:01لیکن اپنی ماں کی بات
07:03اور خیمے میں بیٹھے پیاسے بچوں کا
07:05اس قدر خیال کہ موت سامنے کھڑی ہے
07:08پھر بھی پانی کا ایک قطرہ
07:09ہلک سے نیچے نہیں اتارا
07:11اور یہی پیغام دیتے ہوئے
07:12وہ دونوں جنت کی طرف روانہ ہو گئے
07:15اس کے بعد امام حسین
07:16حضرت عباس کے سہارے ان معصوموں کی لاشیں
07:19واپس خیمے میں لے کر آئے
07:21اب خیمے کا منظر تصور کریں
07:23جیسے ہی ان دو نئے شہداء کی لاشیں
07:25وہاں لائی گئیں
07:26تمام بیبیاں دھاڑے مار کر رونے لگیں
07:29پورا خیمہ ماتم سے گونج رہا تھا
07:31لیکن جس ماں کی یہ بچے تھے
07:33وہ بیبی زینب کہاں تھی
07:34وہ وہاں نہیں تھی
07:36وہ اپنے خیمے میں بلکل لکیلی
07:38ایک انتہائی گہری اور پرسکون خاموشی کے ساتھ بیٹھی تھی
07:41وہ اس وقت تک باہر نہیں آئی
07:43جب تک امام حسین نے خود پیغام نہیں بھیجا
07:46کہ بہن آؤ اور اپنے بچوں کو آخری بار دیکھ لوں
07:49بیبی زینب کا یہ رویہ
07:50یہ کمال کا صبر
07:51واقعی عام انسانی سوچ سے بہت آگے کی بات ہے
07:54اب جو لمحہ آتا ہے
07:56وہ تو انسانی عقل کو بلکل دنگ کر دیتا ہے
07:59جب بیبی زینب ان لاشوں کے پاس آتی ہے
08:01تو کیا ہوتا ہے
08:02وہ روتے ہوئے اپنے دونوں بیٹوں
08:04آن اور محمد کے درمیان بیٹھ جاتی ہیں
08:06ایک کی سینے پر ہاتھ رکھتی ہیں
08:07چہرہ آسمان کی طرف اٹھاتی ہیں
08:09کوئی شکوہ نہیں
08:10کوئی فریاد نہیں
08:12بس بارگاہ الہی میں کلت جا
08:13اے اللہ
08:14میرے پاس ان کے سوا اور کچھ نہیں تھا
08:17میری اس حقیر سی قربانی کو
08:19حسین کے قدموں میں قبول فرما لینا
08:21یہ تسلیم اور رضا کا وہ مقام ہے
08:23جس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی
08:25اپنا سب کچھ اپنی پوری کائنات لٹا دی
08:28اور پھر بھی یہی لگا کہ شاید حق پوری طرح سے ادا نہیں ہوا
08:31تو ان تمام باتوں کو جاننے کے بعد
08:34ہمارے ذہن میں یہ سوال ضرور اُبھرتا ہے
08:36کہ ایک اتنی بڑی ناقابل تصور قربانی کے سامنے
08:40مکمل روحانی فرض
08:41مکمل ڈیوٹی
08:42آخر کیسی دکھائی دیتی ہے
08:44آن اور محمد کی بہادری
08:46اور بی بی زینب کا وہ عظیم صبر
08:48ہمیں یہ سکھاتا ہے
08:49کہ جب بات حق کی ہو
08:51سچائی کی ہو
08:52تو انسان کو اپنی سب سے پیاری چیز بھی قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے
08:57یہ پوری داستان ہمیں یہ سوچنے پر مجمور کرتی ہے
09:00کہ ہم اپنے مقاصد اور اپنے فرائض کے ساتھ کتنے سچے ہیں
09:03یہ ایک ایسی لازوال کہانی ہے
09:05جو سچائی اور عیسار کی تلاش میں نکلنے والے ہر انسان کو
09:09ہمیشہ راستہ دکھاتی رہے گی
Comments

Recommended