00:00آج کے اس خاص سفر میں خوش آمدید
00:02ذرا آنکھیں بند کیجئے اور سوچئے کہ آپ ابتدائی دور کے مدینہ کی گلیوں میں موجود ہیں
00:07ایک قریبی اور بارک بین صحابی کی نظر سے دیکھیں
00:10تو آج ہم اس ایکسپلینر میں اسلام کی تاریخ کے سب سے مقدس، بابرکت اور حیرت انگیز حد تک سادگی
00:18سے بھرپور نکاح کا مشاہدہ کرنے والے ہیں
00:20جی ہاں یہ مبارک رشتہ ہے شیرِ خدا حضرت علی اور جنت کی عورتوں کی سردار حضرت بی بی فاطمہ
00:27کا
00:27اب اگر آپ اس وقت مدینے میں ہوتے نہ تو آپ کو فضاء میں ایک عجیب سی بیچینی اور شدید
00:33انتظار کا احساس ہوتا
00:35عرب کے بڑے بڑے سردار اور نمائی افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لادلی بیٹی کے لیے
00:42رشتے بھیج رہے تھے
00:43کیونکہ بھائی ہر کوئی اس مقدس گھرانے سے جننے کی سادت حاصل کرنا چاہتا تھا
00:47لیکن ان تمام عظیم رشتوں کو انتہائی نرمی، شفقت اور حکمت کے ساتھ واپس کر دیا گیا
00:53تو پھر سوال یہ تھا کہ آخر اس مبارک رشتے کے لیے کس خوشنصیب کا انتخاب ہونا تھا
01:00یہاں جو سب سے اہم نکتہ ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الہی حکمت ہے
01:06جیسے کہ آپ کے اس خوبصورت فرمان سے واضح ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دیا تھا
01:11کہ آپ نے اپنی بیٹی کے نکاح کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا ہے
01:15مدینہ والوں کو بہت جلد یہ بات سمجھ آ گئی کہ دیکھیں یہ رشتہ کسی دنیاوی دولت، رتبے یا سٹیٹس
01:22کا مہتاج نہیں ہے
01:23بلکہ یہ تو آسمانوں پر تیہ ہونے والا ایک الہی فیصلہ ہے
01:27تو چلیے آگے بڑھتے ہیں باب نمبر ایک کی طرف ایک آجس صحابی کی ہچکچاہٹ
01:33اب ذرا مسجد نوی کے پرسکون ماحول کا تصور کریں
01:38رشتوں کی اس گہما گہمی کے درمیان حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسی عظیم ہستیوں نے محسوس کیا
01:45کہ حضرت علی بلکل خاموش ہیں
01:48ایک واضح اور حیران انگیز فرق سب کی توجہ کا مرکز تھا
01:52ایک طرف عرب کے وہ امیر سردار تھے جن کے رشتے منظور نہیں ہوئے
01:57اور دوسری طرف حضرت علی تھے
01:59جن کے پاس مالی لحاظ سے سچ پوچھیں تو تقریباً کچھ نہ تھا
02:03صرف ایک تلوار پانی ڈھونے والا ایک اونٹ اور لوہے کی ایک ذرا
02:08لیکن ان کا پختہ ایمان اور خالص نیت ایسی تھی
02:11جس کا مقابلہ کوئی دنیاوی دولت کر ہی نہیں سکتی تھی
02:15یہ کتنا ہی جذباتی لمحہ ہوگا
02:17جب حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے ان کی حمد بندھائی
02:21ان دوستوں نے انتہائی نرمی سے کہا
02:24کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:27یہ معاملہ بالکل حضرت علی کے لیے ہی روک رکھا ہے
02:30یہ سن کر حضرت علی کے آنکھیں نم ہو گئیں
02:33انہوں نے بلاخر اپنی تنگ دستی کا اظہار کیا
02:37جس کی وجہ سے وہ رشتہ مانگنے سے ہچکچا رہے تھے
02:40لیکن سچ تو یہ ہے
02:41کہ دوستوں کے انہی لفظوں نے انہیں آگے بڑھنے
02:45اور یہ قدم اٹھانے کا حوصلہ دیا
02:47باپ نمبر دو
02:48الہی فیصلے کا ظہور
02:50اپنی سادگی بھری زندگی کے این مطابق
02:53حضرت علی اپنے اسی پانی ڈھونے والے اونٹ پر سوار ہو کر
02:57نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچے
03:00آپ ان کے دل کا حال سوچیں
03:02ایک طرف گہری امید اور دوسری طرف انتہائی حیاء
03:05کوئی بھی دیکھنے والا اس منظر سے بے حد متاثر ہوتا
03:09جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
03:11حضرت امہ السلمہ سے خوشی میں یہ الفاظ کہے
03:14کہ یہ وہ شخص ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے
03:17اور یہ بھی اللہ سے محبت کرتے ہیں
03:19حضرت علی اندر داخل تو ہوئے
03:21لیکن آجزی اور حیاء سے اتنے سرشار تھے
03:23کہ سر جکا کر بیٹھ گئے
03:25کچھ بول نہ پائے
03:26اور بس خاموشی سے اپنی انگلیوں سے زمین کی ریت کو ریتتے رہے
03:29اور یہاں ہمارے اس ایکسپلینر کا کلائمیکس آتا ہے
03:32قدرت کا شاندار فیصلہ سامنے آیا
03:35جب حضرت علی نے بمشکل اپنی ہچکچاہت پر قابو پا کر
03:39اپنی دلی خواہش بیان کی
03:53کیا کمال کی بات ہے نا
03:55چلیے اب چلتے ہیں
03:57باب نمبر تین کی جانب
03:59ایک خوبصورت اور سادہ مہر
04:01آسمانوں پر تین ہونے والی یہ شادی
04:04زمین پر کتنی سادگی سے انجام پائی
04:07اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں
04:10کہ مہر کی ادائیگی کے لیے
04:11حضرت علی نے اپنی لوہے کی ذرہ
04:14حضرت عثمان غنی کو فروخت کر دی
04:17روایتوں کے مطابق اس کی قیمت
04:19لگبک چار سو درہم بنی
04:21اور یہ معمولی سی رقم انہوں نے
04:23انتہائی عدب کے ساتھ
04:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
04:27خدمت میں پیش کر دی
04:28اور اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے
04:31کہ اس چار سو درہم میں سے
04:33جب حضرت عثمان کو اتر اور لباس
04:35خریدنے کے لیے کچھ رقم دی گئی
04:36تو پیچھے صرف ترے ست درہم بچے
04:39جی ہاں صرف سکسٹی تھری درہم
04:41اور انہی پیسوں سے حضرت
04:43ابو بکر کو اس نئے جوڑے کے لیے
04:45گھر کی تمام ضروریات اور
04:47جہیز خریدنے کے لیے بھیجا گیا
04:48آپ اس انتہائی سادہ
04:51جہیز کی فیرس پر ذرا غور کریں
04:53بستر کے نام پر
04:55بس ایک سادہ چارپائی
04:56خجور کے چھلکوں اور اون سے
04:59بھرے دو گدے اور گھاز
05:01بھرے تکیے تھے جب آٹا پیسنے
05:03کی چکی مٹی کے پیالوں
05:05اور چمڑے کی مشک جیسا یہ
05:07انتہائی سادہ سمان نبی کریم
05:09صلی اللہ علیہ وسلم
05:11کے سامنے پیش کیا گیا
05:12تو وہ اپنے آنسو نہ روک سکے
05:14یہ آنسو دنیا کی کمی کے نہیں تھے
05:17بلکہ اس رشتے کی پاکیزگی
05:19آجزی اور شکر گزاری کے تھے
05:21اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:23نے ان کی عبدی خوشیوں کے لیے
05:25ڈھیروں دعائیں کریں
05:26اور اب باب نمبر چار
05:29موجزاتی ولیمہ
05:30مدینہ کے لوگوں کی خوشی کا دن
05:33رخصتی کے اگلے دن
05:35مدینہ میں ولیمے کی
05:37تیاریاں شروع ہوئیں
05:38ایک صحابی نے دعوت کے لیے
05:40ایک چھوٹا سا جانور پیش کیا
05:42بظاہر وہ جانور کم لگ رہا تھا
05:44لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:46کی ہدایت دیکھئے
05:47انہوں نے حضرت بلان کو حکم دیا
05:50کہ پورے مدینہ کو دعوت دے دو
05:52پورا شہر جمع ہوا
05:54اور حیران انگیز طور پر
05:56سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا
05:58اگر آپ اس ولیمے میں موجود
06:00کسی بھی صحابی سے پوچھتے نہ
06:01تو وہ آپ کو بتاتے کہ فضا میں
06:03ایک عجیب سی حیرت اور عقیدت تھی
06:05سب نے کھا لیا
06:07لیکن برطن بلکل بھرے رہے
06:09جیسے کسی نے انہیں چھوا تک نہ ہو
06:11انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
06:13کہ حقیقی خوشحالی کسی دولت کی
06:16کسرت کا نام نہیں ہے
06:17بلکہ یہ تو اللہ کی لا محدود
06:20رحمتوں اور بڑکتوں سے آتی ہے
06:22تو آخر میں مدینہ کے
06:24اس خوبصورت واقعے سے
06:25ہم کیا سبق سیکھتے ہیں
06:27سب سے اہم بات یہی ہے
06:29کہ اسلامی تاریخ کا سب سے عظیم
06:31مبارک اور بابرکت رشتہ
06:33سب سے زیادہ آجزی
06:35اور سادگی پر مبنی تھا
06:37دنیا کی دولت نہیں بلکہ خالص
06:39نیت اور اللہ پر بھروسہ
06:41رشتوں کو عظیم بناتا ہے
06:43اور یاد رکھیں
06:44الہی فیصلے اکثر ہماری ہچکچاہٹ کے پیچھے
06:48خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں
06:50مدینہ کی اس روشن تاریخ
06:52کو سامنے رکھتے ہوئے
06:53میں آپ کو ایک سوال کے ساتھ چھوڑے جا رہا ہوں
06:56دولت، سٹیٹس اور ردبے کی دیوانی
06:58اس جدید دنیا میں
06:59ہم اس مقدس رشتے کی گہری سادگی
07:02اور الہی برکتوں کو
07:04اپنی زندگیوں میں کیسے لاسکتے ہیں
07:06اس بات پر ضرور غور کیجئے گا
07:08کیونکہ سادگی کا یہ راستہ
07:10آپ کی زندگی کے سفر کو بھی
07:11حقیقی سکون اور برکتوں سے بھر سکتا ہے
Comments