Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Discover the inspiring story of the blessed marriage of Hazrat Fatima (RA), the beloved daughter of Prophet Muhammad ﷺ, and Hazrat Ali (RA). Learn how their nikah took place, the simplicity of their wedding, their love, sacrifice, and the lessons every Muslim can learn from their beautiful relationship. This Islamic historical story highlights faith, humility, and devotion in one of the most honored marriages in Islamic history.

Watch till the end to learn authentic facts about the nikah of Hazrat Fatima (RA) and Hazrat Ali (RA) and the valuable lessons it offers for modern Muslim families.
Transcript
00:00آج کے اس خاص سفر میں خوش آمدید
00:02ذرا آنکھیں بند کیجئے اور سوچئے کہ آپ ابتدائی دور کے مدینہ کی گلیوں میں موجود ہیں
00:07ایک قریبی اور بارک بین صحابی کی نظر سے دیکھیں
00:10تو آج ہم اس ایکسپلینر میں اسلام کی تاریخ کے سب سے مقدس، بابرکت اور حیرت انگیز حد تک سادگی
00:18سے بھرپور نکاح کا مشاہدہ کرنے والے ہیں
00:20جی ہاں یہ مبارک رشتہ ہے شیرِ خدا حضرت علی اور جنت کی عورتوں کی سردار حضرت بی بی فاطمہ
00:27کا
00:27اب اگر آپ اس وقت مدینے میں ہوتے نہ تو آپ کو فضاء میں ایک عجیب سی بیچینی اور شدید
00:33انتظار کا احساس ہوتا
00:35عرب کے بڑے بڑے سردار اور نمائی افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لادلی بیٹی کے لیے
00:42رشتے بھیج رہے تھے
00:43کیونکہ بھائی ہر کوئی اس مقدس گھرانے سے جننے کی سادت حاصل کرنا چاہتا تھا
00:47لیکن ان تمام عظیم رشتوں کو انتہائی نرمی، شفقت اور حکمت کے ساتھ واپس کر دیا گیا
00:53تو پھر سوال یہ تھا کہ آخر اس مبارک رشتے کے لیے کس خوشنصیب کا انتخاب ہونا تھا
01:00یہاں جو سب سے اہم نکتہ ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الہی حکمت ہے
01:06جیسے کہ آپ کے اس خوبصورت فرمان سے واضح ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دیا تھا
01:11کہ آپ نے اپنی بیٹی کے نکاح کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا ہے
01:15مدینہ والوں کو بہت جلد یہ بات سمجھ آ گئی کہ دیکھیں یہ رشتہ کسی دنیاوی دولت، رتبے یا سٹیٹس
01:22کا مہتاج نہیں ہے
01:23بلکہ یہ تو آسمانوں پر تیہ ہونے والا ایک الہی فیصلہ ہے
01:27تو چلیے آگے بڑھتے ہیں باب نمبر ایک کی طرف ایک آجس صحابی کی ہچکچاہٹ
01:33اب ذرا مسجد نوی کے پرسکون ماحول کا تصور کریں
01:38رشتوں کی اس گہما گہمی کے درمیان حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسی عظیم ہستیوں نے محسوس کیا
01:45کہ حضرت علی بلکل خاموش ہیں
01:48ایک واضح اور حیران انگیز فرق سب کی توجہ کا مرکز تھا
01:52ایک طرف عرب کے وہ امیر سردار تھے جن کے رشتے منظور نہیں ہوئے
01:57اور دوسری طرف حضرت علی تھے
01:59جن کے پاس مالی لحاظ سے سچ پوچھیں تو تقریباً کچھ نہ تھا
02:03صرف ایک تلوار پانی ڈھونے والا ایک اونٹ اور لوہے کی ایک ذرا
02:08لیکن ان کا پختہ ایمان اور خالص نیت ایسی تھی
02:11جس کا مقابلہ کوئی دنیاوی دولت کر ہی نہیں سکتی تھی
02:15یہ کتنا ہی جذباتی لمحہ ہوگا
02:17جب حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے ان کی حمد بندھائی
02:21ان دوستوں نے انتہائی نرمی سے کہا
02:24کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:27یہ معاملہ بالکل حضرت علی کے لیے ہی روک رکھا ہے
02:30یہ سن کر حضرت علی کے آنکھیں نم ہو گئیں
02:33انہوں نے بلاخر اپنی تنگ دستی کا اظہار کیا
02:37جس کی وجہ سے وہ رشتہ مانگنے سے ہچکچا رہے تھے
02:40لیکن سچ تو یہ ہے
02:41کہ دوستوں کے انہی لفظوں نے انہیں آگے بڑھنے
02:45اور یہ قدم اٹھانے کا حوصلہ دیا
02:47باپ نمبر دو
02:48الہی فیصلے کا ظہور
02:50اپنی سادگی بھری زندگی کے این مطابق
02:53حضرت علی اپنے اسی پانی ڈھونے والے اونٹ پر سوار ہو کر
02:57نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچے
03:00آپ ان کے دل کا حال سوچیں
03:02ایک طرف گہری امید اور دوسری طرف انتہائی حیاء
03:05کوئی بھی دیکھنے والا اس منظر سے بے حد متاثر ہوتا
03:09جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
03:11حضرت امہ السلمہ سے خوشی میں یہ الفاظ کہے
03:14کہ یہ وہ شخص ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے
03:17اور یہ بھی اللہ سے محبت کرتے ہیں
03:19حضرت علی اندر داخل تو ہوئے
03:21لیکن آجزی اور حیاء سے اتنے سرشار تھے
03:23کہ سر جکا کر بیٹھ گئے
03:25کچھ بول نہ پائے
03:26اور بس خاموشی سے اپنی انگلیوں سے زمین کی ریت کو ریتتے رہے
03:29اور یہاں ہمارے اس ایکسپلینر کا کلائمیکس آتا ہے
03:32قدرت کا شاندار فیصلہ سامنے آیا
03:35جب حضرت علی نے بمشکل اپنی ہچکچاہت پر قابو پا کر
03:39اپنی دلی خواہش بیان کی
03:53کیا کمال کی بات ہے نا
03:55چلیے اب چلتے ہیں
03:57باب نمبر تین کی جانب
03:59ایک خوبصورت اور سادہ مہر
04:01آسمانوں پر تین ہونے والی یہ شادی
04:04زمین پر کتنی سادگی سے انجام پائی
04:07اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں
04:10کہ مہر کی ادائیگی کے لیے
04:11حضرت علی نے اپنی لوہے کی ذرہ
04:14حضرت عثمان غنی کو فروخت کر دی
04:17روایتوں کے مطابق اس کی قیمت
04:19لگبک چار سو درہم بنی
04:21اور یہ معمولی سی رقم انہوں نے
04:23انتہائی عدب کے ساتھ
04:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
04:27خدمت میں پیش کر دی
04:28اور اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے
04:31کہ اس چار سو درہم میں سے
04:33جب حضرت عثمان کو اتر اور لباس
04:35خریدنے کے لیے کچھ رقم دی گئی
04:36تو پیچھے صرف ترے ست درہم بچے
04:39جی ہاں صرف سکسٹی تھری درہم
04:41اور انہی پیسوں سے حضرت
04:43ابو بکر کو اس نئے جوڑے کے لیے
04:45گھر کی تمام ضروریات اور
04:47جہیز خریدنے کے لیے بھیجا گیا
04:48آپ اس انتہائی سادہ
04:51جہیز کی فیرس پر ذرا غور کریں
04:53بستر کے نام پر
04:55بس ایک سادہ چارپائی
04:56خجور کے چھلکوں اور اون سے
04:59بھرے دو گدے اور گھاز
05:01بھرے تکیے تھے جب آٹا پیسنے
05:03کی چکی مٹی کے پیالوں
05:05اور چمڑے کی مشک جیسا یہ
05:07انتہائی سادہ سمان نبی کریم
05:09صلی اللہ علیہ وسلم
05:11کے سامنے پیش کیا گیا
05:12تو وہ اپنے آنسو نہ روک سکے
05:14یہ آنسو دنیا کی کمی کے نہیں تھے
05:17بلکہ اس رشتے کی پاکیزگی
05:19آجزی اور شکر گزاری کے تھے
05:21اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:23نے ان کی عبدی خوشیوں کے لیے
05:25ڈھیروں دعائیں کریں
05:26اور اب باب نمبر چار
05:29موجزاتی ولیمہ
05:30مدینہ کے لوگوں کی خوشی کا دن
05:33رخصتی کے اگلے دن
05:35مدینہ میں ولیمے کی
05:37تیاریاں شروع ہوئیں
05:38ایک صحابی نے دعوت کے لیے
05:40ایک چھوٹا سا جانور پیش کیا
05:42بظاہر وہ جانور کم لگ رہا تھا
05:44لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:46کی ہدایت دیکھئے
05:47انہوں نے حضرت بلان کو حکم دیا
05:50کہ پورے مدینہ کو دعوت دے دو
05:52پورا شہر جمع ہوا
05:54اور حیران انگیز طور پر
05:56سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا
05:58اگر آپ اس ولیمے میں موجود
06:00کسی بھی صحابی سے پوچھتے نہ
06:01تو وہ آپ کو بتاتے کہ فضا میں
06:03ایک عجیب سی حیرت اور عقیدت تھی
06:05سب نے کھا لیا
06:07لیکن برطن بلکل بھرے رہے
06:09جیسے کسی نے انہیں چھوا تک نہ ہو
06:11انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
06:13کہ حقیقی خوشحالی کسی دولت کی
06:16کسرت کا نام نہیں ہے
06:17بلکہ یہ تو اللہ کی لا محدود
06:20رحمتوں اور بڑکتوں سے آتی ہے
06:22تو آخر میں مدینہ کے
06:24اس خوبصورت واقعے سے
06:25ہم کیا سبق سیکھتے ہیں
06:27سب سے اہم بات یہی ہے
06:29کہ اسلامی تاریخ کا سب سے عظیم
06:31مبارک اور بابرکت رشتہ
06:33سب سے زیادہ آجزی
06:35اور سادگی پر مبنی تھا
06:37دنیا کی دولت نہیں بلکہ خالص
06:39نیت اور اللہ پر بھروسہ
06:41رشتوں کو عظیم بناتا ہے
06:43اور یاد رکھیں
06:44الہی فیصلے اکثر ہماری ہچکچاہٹ کے پیچھے
06:48خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں
06:50مدینہ کی اس روشن تاریخ
06:52کو سامنے رکھتے ہوئے
06:53میں آپ کو ایک سوال کے ساتھ چھوڑے جا رہا ہوں
06:56دولت، سٹیٹس اور ردبے کی دیوانی
06:58اس جدید دنیا میں
06:59ہم اس مقدس رشتے کی گہری سادگی
07:02اور الہی برکتوں کو
07:04اپنی زندگیوں میں کیسے لاسکتے ہیں
07:06اس بات پر ضرور غور کیجئے گا
07:08کیونکہ سادگی کا یہ راستہ
07:10آپ کی زندگی کے سفر کو بھی
07:11حقیقی سکون اور برکتوں سے بھر سکتا ہے
Comments

Recommended