Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
What happened after the tragedy of Karbala? This video explores the emotional journey of the family of Imam Hussain (AS) from Karbala to Damascus and the historic events in Yazid's court. Witness the courage, patience, and unwavering faith of Bibi Zainab (SA) as she delivered a powerful message of truth before Yazid.

Learn about:

The return from Karbala
The journey of Ahlul Bayt (AS)
Events in Yazid's court
The speech of Bibi Zainab (SA)
The message of Imam Hussain (AS)
Lessons from Karbala for all generations

This Islamic historical documentary presents one of the most emotional and inspiring chapters in Islamic history.
Transcript
00:03بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30خیموں میں صرف خواتین
00:31بچے اور چند بیمار افراد باقی رہ گئے تھے
00:35ان میں امام زین العبدین علیہ السلام بھی تھے
00:38جو شدید بیماری کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے
00:41رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے
00:43شہدہ کے مقدس جسم تپتی ہوئی ریت پر پڑے تھے
00:46اور اہلی بیعت کے خیموں سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں
00:51اچانک عمر بن ساد کے لشکر نے حکم دیا
00:54کہ خیموں کو آگ لگا دی جائے
00:56ظالم سپاہی مشالیں لے کر خیموں کی طرف بڑھے
00:59اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شالے بلند ہونے لگے
01:02بچے خوف سے ادھر ادھر بھاگنے لگے
01:04کوئی اپنی ماں کو تلاش کر رہا تھا
01:06کوئی اپنے باپ کو پکار رہا تھا
01:07جو اب اس دنیا میں موجود نہ تھا
01:09اس کا ٹھن گھڑی میں حضرت زینب علیہ السلام نے
01:12پورے حوصلے اور صبر کے ساتھ اہلی بیعت علیہ السلام کو سنبھالا
01:16جلتے ہوئے کھیموں کے درمیان
01:18وہ ایک ماں ایک بہن
01:20اور ایک رہنما کا کردار ادا کر رہی تھی
01:22رات بھر اہلی بیعت نے
01:24کھلے آسمان تلے گزاری
01:25بھوک پیاس غم
01:27اور خوف نے سب کو گھیر رکھا تھا
01:30مگر حضرت زینب کے دل میں
01:32ایک اور ذمہ داری بھی تھی
01:33انہیں امام حسین علیہ السلام کا پیغام
01:36دنیا تک پہنچانا تھا
01:37اگلی صبح گیارہ محرم کو
01:39یزیدی لشکر نے ایک اور ظلم کیا
01:42شہدہ کے سروں کو نیزوں پر
01:44بلند کیا گیا
01:48پھر اہلی بیعت علیہ السلام کی خواتین
01:51اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا
01:52بیپردہ خواتین کو اونٹوں پر سوار کیا گیا
01:55جن پر کجاوے تک موجود نہ تھے
01:57ماسوم بچے رسیوں میں جکڑے ہوئے تھے
01:59ہر طرف دشمنوں کی تلواریں
02:01اور نیزے تھے
02:02اس کافلے کے آگے آگے شہدہ کے سر نیزوں پر
02:05اٹھائے جا رہے تھے
02:06کربلا سے کوفہ تک کا سفر انتہائی تکلیف دائے تھا
02:09راستے بھر لوگ جمع ہوتے
02:11کچھ روتے اور کچھ خوشیاں مناتے
02:13بہت سے لوگ حقیقت سے ناواقف تھے
02:16انہیں بتایا گیا تھا
02:17کہ یہ باغی لوگ ہیں جنہیں سزا دی جا رہی ہے
02:20جب کافلہ کوفہ کے قریب پہنچا
02:22تو شہر میں شور مچ گیا
02:24لوگ سڑکوں پر نکل آئے
02:26ہزاروں افراد اس کافلے کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے
02:29عورتیں گھروں کی چھتوں پر کھڑی تھی
02:31مرد بازاروں میں کتاریں بنا کر کھڑے تھے
02:34اسی دوران حضرت زینب علیہ السلام نے
02:37لوگوں کو مخاطب کیا
02:39ان کی آواز میں وہی جلال تھا
02:41جو ان کے والد حضرت علی علیہ السلام کی آواز میں ہوا کرتا تھا
02:45انہوں نے فرمایا
02:46آئے کوفہ والو تم روتے ہو
02:49تمہاری آنکھوں کے آنسو کبھی نہ رکیں
02:51تم نے ہی حسین کو بلایا
02:53اور پھر انہیں تنہا چھوڑ دیا
02:55یہ الفاظ سن کر پورا مجمع سسکیاں بھرنے لگا
02:58لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا
03:01کوفہ کی فضا ماتم قدہ بن گئی
03:03پھر قیدیوں کو کوفہ کے گورنر کے دربار میں پیش کیا گیا
03:07دربار میں امام حسین علیہ السلام کا
03:09سر مبارک بھی رکھا گیا تھا
03:11ابن زیاد تکبر سے بولا
03:13دیکھا اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا
03:16حضرت زینب علیہ السلام نے بلا خوف جواب دیا
03:19میں نے تو سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا
03:22یہ وہ لوگ تھے جن کے لئے اللہ نے شہادت مقدر فرمائی تھی
03:25پورا دربار خاموش ہو گیا
03:28ابن زیاد حیران رہ گیا
03:30کہ ایک قیدی خاتون اتنے عظیم حوصلے کے ساتھ
03:32اس کے سامنے کھڑی ہے
03:34اس کے بعد امام زین علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی
03:39لیکن حضرت زینب علیہ السلام فوراں ان کے سامنے کھڑی ہو گئی
03:43اور فرمایا
03:43اگر انہیں قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے قتل کرو
03:48ابن زیاد پیچھے ہٹ گیا
03:50اور امام کی جان بچ گئی
03:52چند دن بعد حکم آیا
03:54کہ قیدیوں کو دمشق
03:55یعنی شام بھیجا جائے جہاں یزید حکومت کر رہا تھا
03:59کوفہ سے شام کا سفر سینکڑوں میل پر مشتمل تھا
04:02یہ سفر اہلی بیت کے لیے بے حد تکلیف دہ ثابت ہوا
04:06دن کی تیز دھوپ اور رات کی سردی میں
04:09کافلہ مسلسل چلتا رہا
04:11راستے میں کئی شہروں اور بستیوں سے گزرنا پڑا
04:14لوگ قیدیوں کو دیکھنے کے لیے جمع ہوتے
04:17کہیں تنز کیا جاتا اور کہیں خاموشی سے آنسو بہائے جاتے
04:21ایک مقام پر ایک بزرگ نے جب امام حسین علیہ السلام کا
04:25سر مبارک دیکھا تو حیران رہ گیا
04:28اس نے قرآن کی تلاوت کی آواز سنی جو سر مبارک سے آ رہی تھی
04:32وہ لرز اٹھا اور سجدے میں گر گیا
04:34شام کے قریب پہنچ کر یزید نے حکم دیا
04:37کہ پورے شہر کو سجایا جائے
04:40لوگوں کو بتایا گیا کہ ایک عظیم فتح حاصل ہوئی ہے
04:43شہر کی گلیاں سج گئیں
04:44ڈھول بجائے گئے
04:46لوگ خوشیاں منانے لگے
04:47لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ جنہیں قیدی بنا کر لائے جا رہا ہے
04:51وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے افراد ہیں
04:54جب قافلہ دمشق میں داخل ہوا تو ہزاروں افراد سڑکوں کے کنارے کھڑے تھے
04:59نیزوں پر شہدہ کے سر بلند تھے
05:02اور ان کے پیچھے اہلِ بیت کا قافلہ تھا
05:04بلاخر قیدیوں کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا
05:07یزید اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا
05:10اس کے سامنے امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک رکھا گیا
05:14یزید نے غرور کے ساتھ اشعار پڑھے
05:17اور اپنی فتح پر خوشی کا اظہار کیا
05:20اسی وقت حضرت زینب علیہ السلام کھڑی ہوئے
05:23پورے دربار میں خاموشی چھا گئی
05:25انہوں نے فرمایا
05:26اے یزید کیا تو سمجھتا ہے کہ آج ہم پر زمین تنگ کر دی گئی ہے
05:30اور تو کامیاب ہو گیا ہے
05:32اللہ کی قسم
05:33تو ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکتا
05:35ان کے الفاظ بجلی بن کر یزید کے غرور پر گرے
05:38دربار میں موجود لوگ حیران رہ گئے
05:41انہوں نے پہلی بار حقیقت سنی تھی
05:43پھر امام زین العبدین علیہ السلام کو گفتگو کا موقع ملا
05:47انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا
05:50میں مکہ و منی کا بیٹا ہوں
05:52میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں
05:54میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں
05:58لوگوں پر حقیقت آشکار ہونے لگی
06:00دربار میں موجود بہت سے افراد رونے لگے
06:03یزید نے حالات کو اپنے خلاف جاتا دیکھا
06:05تو موزن کو ازان دینے کا حکم دیا
06:08جب موزن نے کہا
06:10اشاد ان محمدن رسول اللہ
06:11تو امام زین العبدین علیہ السلام نے
06:14یزید سے پوچھا
06:15یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نانا ہیں یا میرے
06:19یزید خاموش ہو گیا
06:21دربار میں سناٹا چھا گیا
06:22اب عوام کی ہمدردیاں اہلِ بیت کے ساتھ ہو چکی تھی
06:26شام کے لوگ جنہیں جھوٹ بتایا گیا تھا
06:28اب حقیقت جان چکے تھے
06:30ہر طرف گم و اندوہ کی کیفیت پیدا ہو گئی
06:33یزید کو محسوس ہوا
06:35کہ اگر اس نے اہلِ بیت کو
06:37مزید قید میں رکھا
06:38تو عوام اس کے خلاف ہو جائیں گے
06:41چنانچہ اس نے اپنے رویے میں
06:43نرمی دکھانا شروع کی
06:44قیدیوں کو ایک بہتر جگہ منتقل کیا گیا
06:47اس دوران اہلِ بیت نے
06:49شام میں مجالس ازا مناقت کی
06:51لوگ جوک در جوک آ کر
06:53امام حسین کی مظلومیت سنتے اور گریہ کرتے
06:56یہی وہ لمحہ تھا جب کربلا کا پیغام
06:59پوری اسلامی دنیا میں پھیلنا شروع ہوا
07:01چند دن گزرنے کے بعد
07:03یزید نے اہلِ بیت کو
07:04ظاہری طور پر آزاد کرنے کا فیصلہ کیا
07:07اس نے اعلان کیا
07:09کہ قیدیوں کو مدینہ واپس جانے کی
07:11اجازت دی جاتی ہے
07:12حضرت زینب علیہ السلام
07:14اور امام زین العبدین علیہ السلام
07:17نے شہدہ کی یاد میں
07:19مجالس مناقت کی اور پھر واپسی
07:21کے سفر کی تیاری کی
07:22واپسی کے سفر میں کافلہ کربلا بھی پہنچا
07:25روایات کے مطابق
07:27جب اہلِ بیت دوبارہ کربلا پہنچے
07:29تو شہدہ کی قبروں پر
07:31گریہ وزاری کی گئی
07:33حضرت زینب اپنے بھائی امام حسین کی قبر پر
07:35حاضر ہوئے اور درد بھری آواز میں
07:37سلام پیش کیا
07:38یہ منظر اتنا دلخراش تھا کہ وہاں موجود
07:41ہر شخص کی آنکھیں عشقبار ہو گئیں
07:43کربلا سے روانگی کے بعد
07:44کافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہوا
07:46جب مدینہ کے قریب پہنچے تو
07:48بشیر بن جزلم کو آگے بھیجا گیا
07:50تاکہ لوگوں کو خبر دے سکے
07:52بشیر مدینہ پہنچا اور اعلان کیا
07:55اے مدینہ والو
07:56حسین علیہ السلام شہید کر دئیے گئے
07:59یہ خبر سنتے ہی پورا
08:00مدینہ سوگ میں ڈوب گیا
08:02لوگ گھروں سے نکل آئے
08:03ہر طرف گریہ و ماتم شروع ہو گیا
08:05جب اہل بیت کا قافلہ مدینہ میں داخل ہوا
08:08تو وہی شہر جو کبھی خوشیوں سے گونجتا تھا
08:11آج غم کا مرکز بن چکا تھا
08:14حضرت زینب علیہ السلام نے
08:16مدینہ میں بھی کربلا کا پیغام عام کیا
08:18انہوں نے لوگوں کو بتایا
08:19کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی جرم ہے
08:22امام زین العبدین علیہ السلام نے
08:24اپنی زندگی کا باقی حصہ کربلا کی
08:27یاد زندہ رکھنے میں صرف کیا
08:29یوں اگرچہ یزید نے سمجھا تھا
08:32کہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو
08:34شہید کر کے ان کا نام مٹا دیا ہے
08:36مگر حقیقت اس کے براقس ثابت ہوئی
08:39کربلا کا پیغام زندہ رہا
08:42امام حسین علیہ السلام کی قربانی
08:44ظلم کے خلاف
08:45مضاحمت کی علامت بن گئی
08:47حضرت زینب علیہ السلام کی استقامت
08:50نے دنیا کو سکھایا
08:51کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں
08:54مگر حق کی آواز کو
08:55خاموش نہیں کر سکتی
08:57کربلا کی جنگ دس محرم کو ختم ہوئی تھی
08:59لیکن کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے
09:02امام حسین کی شہادت
09:04نے انسانیت کو یہ سبق دیا
09:06کہ عزت کے ساتھ جینا
09:08اور حق کے لئے قربانی دینا ہی
09:10حقیقی کامیابی ہے
09:11اور حضرت زینب علیہ السلام نے ثابت کر دیا
09:14کہ اگر کربلا میں
09:16حسین علیہ السلام نے
09:17اسلام کو اپنے خون سے زندہ کیا
09:19تو شام کے دربار میں
09:21زینب علیہ السلام نے
09:22اپنے ختموں سے اس پیغام کو
09:25ہمیشہ کے لئے عمر کر دیا
09:28موسیقی
Comments

Recommended