00:03بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30خیموں میں صرف خواتین
00:31بچے اور چند بیمار افراد باقی رہ گئے تھے
00:35ان میں امام زین العبدین علیہ السلام بھی تھے
00:38جو شدید بیماری کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے
00:41رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے
00:43شہدہ کے مقدس جسم تپتی ہوئی ریت پر پڑے تھے
00:46اور اہلی بیعت کے خیموں سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں
00:51اچانک عمر بن ساد کے لشکر نے حکم دیا
00:54کہ خیموں کو آگ لگا دی جائے
00:56ظالم سپاہی مشالیں لے کر خیموں کی طرف بڑھے
00:59اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شالے بلند ہونے لگے
01:02بچے خوف سے ادھر ادھر بھاگنے لگے
01:04کوئی اپنی ماں کو تلاش کر رہا تھا
01:06کوئی اپنے باپ کو پکار رہا تھا
01:07جو اب اس دنیا میں موجود نہ تھا
01:09اس کا ٹھن گھڑی میں حضرت زینب علیہ السلام نے
01:12پورے حوصلے اور صبر کے ساتھ اہلی بیعت علیہ السلام کو سنبھالا
01:16جلتے ہوئے کھیموں کے درمیان
01:18وہ ایک ماں ایک بہن
01:20اور ایک رہنما کا کردار ادا کر رہی تھی
01:22رات بھر اہلی بیعت نے
01:24کھلے آسمان تلے گزاری
01:25بھوک پیاس غم
01:27اور خوف نے سب کو گھیر رکھا تھا
01:30مگر حضرت زینب کے دل میں
01:32ایک اور ذمہ داری بھی تھی
01:33انہیں امام حسین علیہ السلام کا پیغام
01:36دنیا تک پہنچانا تھا
01:37اگلی صبح گیارہ محرم کو
01:39یزیدی لشکر نے ایک اور ظلم کیا
01:42شہدہ کے سروں کو نیزوں پر
01:44بلند کیا گیا
01:48پھر اہلی بیعت علیہ السلام کی خواتین
01:51اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا
01:52بیپردہ خواتین کو اونٹوں پر سوار کیا گیا
01:55جن پر کجاوے تک موجود نہ تھے
01:57ماسوم بچے رسیوں میں جکڑے ہوئے تھے
01:59ہر طرف دشمنوں کی تلواریں
02:01اور نیزے تھے
02:02اس کافلے کے آگے آگے شہدہ کے سر نیزوں پر
02:05اٹھائے جا رہے تھے
02:06کربلا سے کوفہ تک کا سفر انتہائی تکلیف دائے تھا
02:09راستے بھر لوگ جمع ہوتے
02:11کچھ روتے اور کچھ خوشیاں مناتے
02:13بہت سے لوگ حقیقت سے ناواقف تھے
02:16انہیں بتایا گیا تھا
02:17کہ یہ باغی لوگ ہیں جنہیں سزا دی جا رہی ہے
02:20جب کافلہ کوفہ کے قریب پہنچا
02:22تو شہر میں شور مچ گیا
02:24لوگ سڑکوں پر نکل آئے
02:26ہزاروں افراد اس کافلے کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے
02:29عورتیں گھروں کی چھتوں پر کھڑی تھی
02:31مرد بازاروں میں کتاریں بنا کر کھڑے تھے
02:34اسی دوران حضرت زینب علیہ السلام نے
02:37لوگوں کو مخاطب کیا
02:39ان کی آواز میں وہی جلال تھا
02:41جو ان کے والد حضرت علی علیہ السلام کی آواز میں ہوا کرتا تھا
02:45انہوں نے فرمایا
02:46آئے کوفہ والو تم روتے ہو
02:49تمہاری آنکھوں کے آنسو کبھی نہ رکیں
02:51تم نے ہی حسین کو بلایا
02:53اور پھر انہیں تنہا چھوڑ دیا
02:55یہ الفاظ سن کر پورا مجمع سسکیاں بھرنے لگا
02:58لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا
03:01کوفہ کی فضا ماتم قدہ بن گئی
03:03پھر قیدیوں کو کوفہ کے گورنر کے دربار میں پیش کیا گیا
03:07دربار میں امام حسین علیہ السلام کا
03:09سر مبارک بھی رکھا گیا تھا
03:11ابن زیاد تکبر سے بولا
03:13دیکھا اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا
03:16حضرت زینب علیہ السلام نے بلا خوف جواب دیا
03:19میں نے تو سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا
03:22یہ وہ لوگ تھے جن کے لئے اللہ نے شہادت مقدر فرمائی تھی
03:25پورا دربار خاموش ہو گیا
03:28ابن زیاد حیران رہ گیا
03:30کہ ایک قیدی خاتون اتنے عظیم حوصلے کے ساتھ
03:32اس کے سامنے کھڑی ہے
03:34اس کے بعد امام زین علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی
03:39لیکن حضرت زینب علیہ السلام فوراں ان کے سامنے کھڑی ہو گئی
03:43اور فرمایا
03:43اگر انہیں قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے قتل کرو
03:48ابن زیاد پیچھے ہٹ گیا
03:50اور امام کی جان بچ گئی
03:52چند دن بعد حکم آیا
03:54کہ قیدیوں کو دمشق
03:55یعنی شام بھیجا جائے جہاں یزید حکومت کر رہا تھا
03:59کوفہ سے شام کا سفر سینکڑوں میل پر مشتمل تھا
04:02یہ سفر اہلی بیت کے لیے بے حد تکلیف دہ ثابت ہوا
04:06دن کی تیز دھوپ اور رات کی سردی میں
04:09کافلہ مسلسل چلتا رہا
04:11راستے میں کئی شہروں اور بستیوں سے گزرنا پڑا
04:14لوگ قیدیوں کو دیکھنے کے لیے جمع ہوتے
04:17کہیں تنز کیا جاتا اور کہیں خاموشی سے آنسو بہائے جاتے
04:21ایک مقام پر ایک بزرگ نے جب امام حسین علیہ السلام کا
04:25سر مبارک دیکھا تو حیران رہ گیا
04:28اس نے قرآن کی تلاوت کی آواز سنی جو سر مبارک سے آ رہی تھی
04:32وہ لرز اٹھا اور سجدے میں گر گیا
04:34شام کے قریب پہنچ کر یزید نے حکم دیا
04:37کہ پورے شہر کو سجایا جائے
04:40لوگوں کو بتایا گیا کہ ایک عظیم فتح حاصل ہوئی ہے
04:43شہر کی گلیاں سج گئیں
04:44ڈھول بجائے گئے
04:46لوگ خوشیاں منانے لگے
04:47لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ جنہیں قیدی بنا کر لائے جا رہا ہے
04:51وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے افراد ہیں
04:54جب قافلہ دمشق میں داخل ہوا تو ہزاروں افراد سڑکوں کے کنارے کھڑے تھے
04:59نیزوں پر شہدہ کے سر بلند تھے
05:02اور ان کے پیچھے اہلِ بیت کا قافلہ تھا
05:04بلاخر قیدیوں کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا
05:07یزید اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا
05:10اس کے سامنے امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک رکھا گیا
05:14یزید نے غرور کے ساتھ اشعار پڑھے
05:17اور اپنی فتح پر خوشی کا اظہار کیا
05:20اسی وقت حضرت زینب علیہ السلام کھڑی ہوئے
05:23پورے دربار میں خاموشی چھا گئی
05:25انہوں نے فرمایا
05:26اے یزید کیا تو سمجھتا ہے کہ آج ہم پر زمین تنگ کر دی گئی ہے
05:30اور تو کامیاب ہو گیا ہے
05:32اللہ کی قسم
05:33تو ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکتا
05:35ان کے الفاظ بجلی بن کر یزید کے غرور پر گرے
05:38دربار میں موجود لوگ حیران رہ گئے
05:41انہوں نے پہلی بار حقیقت سنی تھی
05:43پھر امام زین العبدین علیہ السلام کو گفتگو کا موقع ملا
05:47انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا
05:50میں مکہ و منی کا بیٹا ہوں
05:52میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں
05:54میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں
05:58لوگوں پر حقیقت آشکار ہونے لگی
06:00دربار میں موجود بہت سے افراد رونے لگے
06:03یزید نے حالات کو اپنے خلاف جاتا دیکھا
06:05تو موزن کو ازان دینے کا حکم دیا
06:08جب موزن نے کہا
06:10اشاد ان محمدن رسول اللہ
06:11تو امام زین العبدین علیہ السلام نے
06:14یزید سے پوچھا
06:15یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نانا ہیں یا میرے
06:19یزید خاموش ہو گیا
06:21دربار میں سناٹا چھا گیا
06:22اب عوام کی ہمدردیاں اہلِ بیت کے ساتھ ہو چکی تھی
06:26شام کے لوگ جنہیں جھوٹ بتایا گیا تھا
06:28اب حقیقت جان چکے تھے
06:30ہر طرف گم و اندوہ کی کیفیت پیدا ہو گئی
06:33یزید کو محسوس ہوا
06:35کہ اگر اس نے اہلِ بیت کو
06:37مزید قید میں رکھا
06:38تو عوام اس کے خلاف ہو جائیں گے
06:41چنانچہ اس نے اپنے رویے میں
06:43نرمی دکھانا شروع کی
06:44قیدیوں کو ایک بہتر جگہ منتقل کیا گیا
06:47اس دوران اہلِ بیت نے
06:49شام میں مجالس ازا مناقت کی
06:51لوگ جوک در جوک آ کر
06:53امام حسین کی مظلومیت سنتے اور گریہ کرتے
06:56یہی وہ لمحہ تھا جب کربلا کا پیغام
06:59پوری اسلامی دنیا میں پھیلنا شروع ہوا
07:01چند دن گزرنے کے بعد
07:03یزید نے اہلِ بیت کو
07:04ظاہری طور پر آزاد کرنے کا فیصلہ کیا
07:07اس نے اعلان کیا
07:09کہ قیدیوں کو مدینہ واپس جانے کی
07:11اجازت دی جاتی ہے
07:12حضرت زینب علیہ السلام
07:14اور امام زین العبدین علیہ السلام
07:17نے شہدہ کی یاد میں
07:19مجالس مناقت کی اور پھر واپسی
07:21کے سفر کی تیاری کی
07:22واپسی کے سفر میں کافلہ کربلا بھی پہنچا
07:25روایات کے مطابق
07:27جب اہلِ بیت دوبارہ کربلا پہنچے
07:29تو شہدہ کی قبروں پر
07:31گریہ وزاری کی گئی
07:33حضرت زینب اپنے بھائی امام حسین کی قبر پر
07:35حاضر ہوئے اور درد بھری آواز میں
07:37سلام پیش کیا
07:38یہ منظر اتنا دلخراش تھا کہ وہاں موجود
07:41ہر شخص کی آنکھیں عشقبار ہو گئیں
07:43کربلا سے روانگی کے بعد
07:44کافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہوا
07:46جب مدینہ کے قریب پہنچے تو
07:48بشیر بن جزلم کو آگے بھیجا گیا
07:50تاکہ لوگوں کو خبر دے سکے
07:52بشیر مدینہ پہنچا اور اعلان کیا
07:55اے مدینہ والو
07:56حسین علیہ السلام شہید کر دئیے گئے
07:59یہ خبر سنتے ہی پورا
08:00مدینہ سوگ میں ڈوب گیا
08:02لوگ گھروں سے نکل آئے
08:03ہر طرف گریہ و ماتم شروع ہو گیا
08:05جب اہل بیت کا قافلہ مدینہ میں داخل ہوا
08:08تو وہی شہر جو کبھی خوشیوں سے گونجتا تھا
08:11آج غم کا مرکز بن چکا تھا
08:14حضرت زینب علیہ السلام نے
08:16مدینہ میں بھی کربلا کا پیغام عام کیا
08:18انہوں نے لوگوں کو بتایا
08:19کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی جرم ہے
08:22امام زین العبدین علیہ السلام نے
08:24اپنی زندگی کا باقی حصہ کربلا کی
08:27یاد زندہ رکھنے میں صرف کیا
08:29یوں اگرچہ یزید نے سمجھا تھا
08:32کہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو
08:34شہید کر کے ان کا نام مٹا دیا ہے
08:36مگر حقیقت اس کے براقس ثابت ہوئی
08:39کربلا کا پیغام زندہ رہا
08:42امام حسین علیہ السلام کی قربانی
08:44ظلم کے خلاف
08:45مضاحمت کی علامت بن گئی
08:47حضرت زینب علیہ السلام کی استقامت
08:50نے دنیا کو سکھایا
08:51کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں
08:54مگر حق کی آواز کو
08:55خاموش نہیں کر سکتی
08:57کربلا کی جنگ دس محرم کو ختم ہوئی تھی
08:59لیکن کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے
09:02امام حسین کی شہادت
09:04نے انسانیت کو یہ سبق دیا
09:06کہ عزت کے ساتھ جینا
09:08اور حق کے لئے قربانی دینا ہی
09:10حقیقی کامیابی ہے
09:11اور حضرت زینب علیہ السلام نے ثابت کر دیا
09:14کہ اگر کربلا میں
09:16حسین علیہ السلام نے
09:17اسلام کو اپنے خون سے زندہ کیا
09:19تو شام کے دربار میں
09:21زینب علیہ السلام نے
09:22اپنے ختموں سے اس پیغام کو
09:25ہمیشہ کے لئے عمر کر دیا
09:28موسیقی
Comments