File 15 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |
Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.
Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use
#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research
Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.
Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use
#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research
Category
📚
LearningTranscript
00:00لَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنْ تَعْوِيلًا
00:04Ey پیروانِ دعوتِ ایمانی
00:07اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی
00:09اور اپنے میں سے حکامِ مملکت کی اطاعت کرو
00:12تو اگر تم میں سے کسی چیز میں
00:15ادنا حکام کے ساتھ کوئی جھگڑا ہو جائے
00:17تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ
00:19اگر تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو
00:22یہی بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے احسن ہے
00:25اس آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت میں سریح فرق دکھلانے کے لیے
00:30عطیو کا لحظ ظاہراً بھی دو دفعہ لائے گیا ہے
00:33اللہ والے عطیو میں صرف اللہ ہی کا ذکر ہے
00:36اور رسول کو اولی العمر ماتحد حکامِ مملکت والے عطیو کے ساتھ ملا کر
00:41انہی کے ساتھ شامل کر دیا ہے
00:44کیونکہ دونوں اطاعتیں الگ الگ ہیں
00:46ایک اطاعت پہلی اللہ کی وحی کی اطاعت ہے
00:49اور دوسری اطاعت پچھلی یعنی اول العمر والی اطاعت عقلی اور انتظامی اطاعت ہے
00:55اللہ تعالی دنیا میں خود عدالت نہیں لگاتا
00:59اللہ تعالی جو ہمیشہ یقصہ حیون قیوم ہے
01:02کبھی بھی لوگوں کے سامنے آ کر اور کرسی عدالت پر بیٹھ کر
01:05مقدمات کے فیصلے نہیں کیا کرتا
01:08اس کے فیصلے اس کے احکام ہیں
01:10جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے
01:12اور رسول اللہ کے زمانے میں
01:14اور آج تک بھی تبلیغ وحی سے ہی ہوتے رہے ہیں
01:17حق تعالی کبھی اس دنیا میں ججوں کی طرح سامنے نہیں آیا کرتا
01:21پس حق تعالی کی اطاعت تو وہی ہے
01:23جو ہمیشہ یقصہ چلی آئی ہے
01:25مگر مخلوق کے جج مرنے والے ہیں
01:28وہ زندگی اور موت میں یقصہ اطاعت کے لائق نہیں ہو سکتے
01:31جس طرح اول العمر سے مراد زندہ حاکم ہے
01:34یہ نہیں کہ بہر صورت ان کے افعال و اقوال کی
01:37ہمیشہ کیلئے تقلید کی جائے
01:39یہی حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے
01:43جو اول العمر والے عطیع میں ہی داخل ہیں
01:46اس آیت مبارکہ میں الرسول سے مراد
01:49کوئی ایسا قانون روایت ہرگز ہرگز نہیں
01:52جو ہمیشہ کیلئے حصول بنا لیا جائے
01:54جیسا کہ اہل حدیث کا خیال ہے
01:56اہل حدیث فرماتے ہیں
01:58کہ یہاں رسول سے مراد حدیثیں ہیں
02:00ان کے نزدیک مسکورہ بالا آیت
02:02سورة نمبر چار آیت نمبر انسٹھ کا مطلب
02:04حسب زیل ہے
02:05اے ایمان والوں اطاعت کرو
02:07قرآن کی اطاعت کرو حدیث کی
02:10اور اپنے میں سے حاکموں کی
02:11پھر اگر تمہارا ان حاکموں کے ساتھ جھگڑا ہو
02:14تو اس مقدمے کو قرآن و حدیث کی طرف موڑو
02:16اگر آیت کا مطلب یہ ہے
02:18تو اب قرآن و حدیث
02:20دونوں کی موجودگی میں فرض کرو
02:22کہ زیر و بکر کے درمیان کسی معاملے میں
02:24جھگڑا ہو گیا جس کا وہ خود
02:26قرآن و حدیث کے ساتھ فیصلہ نہیں کر سکتے
02:28یا خودغرضی یا شرارت کے سبب سے
02:30اپنا اپنا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں
02:32اور اس لئے وہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے
02:34آپس میں اتفاق نہیں کر سکتے
02:36ایسی حالت میں محض قرآن اور حدیث کی
02:39کتابیں ان کا جھگڑا چکانے کے لئے
02:41کافی نہیں ہو سکتی
02:42ضرور ہے کہ وہ اپنا مقدمہ کسی حاکم کی طرف لے جائیں
02:45اب فرض کرو
02:46کہ وہ اپنے کسی صاحب عمر کی طرف
02:49اپنا مقدمہ لے بھی گئے
02:50لیکن وہ اس حاکم کے فیصلے پر بھی
02:52راضی نہ ہوئے
02:53اس صورت میں بقول اہل حدیث انہیں لازم ہوگا
02:56کہ وہ اپنا مقدمہ پھر قرآن و حدیث کی طرف موڑیں
02:59اس طرح انہیں یہ حضرات اہل حدیث بھی
03:01پھر قرآن و حدیث کی طرف ہی لوٹا رہے ہیں
03:04حالانکہ وہ نہ صاحب عمر کی طرف جانے سے پہلے
03:07قرآن و حدیث سے جھگڑا ختم کرا سکے تھے
03:10نہ اب کرا سکیں گے
03:11لہٰذا یہ واضح ہے
03:12کہ ایسے اشخاص کے جھگڑے چکانے کے لئے
03:15قرآن و حدیث بلکہ کوئی قانون بھی
03:18زندہ حکام کے بغیر
03:19نہ پہلے کافی تھا
03:21اور نہ اب کافی ہو سکتا ہے
03:23سو جس قانون کے ہوتے ہوئے
03:25انہیں اول الامر کی طرف جانے کی پہلے
03:28ضرورت پڑی تھی
03:28اب اول الامر کے بعد
03:30یعنی اول الامر منکم کے فیصلے پر
03:32رضمن اور مطمئن نہ ہونے کی صورت میں
03:35پھر ایسے شخص کا چارہکار
03:37اسی قانون کو ٹھہرانا
03:38جس سے وہ پہلے ہی فیصلہ نہیں کرا سکے
03:40بلکل غلط ہے
03:41اس سے یہی مقصود ہو سکتا ہے
03:43کہ وہ ہمیشہ لڑتے جھگرتے رہیں
03:45اور ان کا آخری فیصلہ کر دینے والا
03:48کوئی زندہ حاکم نہ ہو
03:49جس کے فیصلے کی کوئی اپیل نہ ہو
03:51اور انہیں اس پر قانون راضی ہونا پڑے
03:54خواہ غلط شہادتوں کی بدولت
03:56غلط فیصلہ ہی کیوں نہ ہو چکا ہو
03:58اس سے صاف واضح ہوتا ہے
04:00کہ اس آیت کریمہ
04:02یعنی صورت نمبر چار آیت نمبر انسٹھ میں
04:05رسول سے مراد حدیثیں ہرگز نہیں ہیں
04:07بلکہ زندہ رسول مراد ہیں
04:09اور اس کے بعد آپ کے نائب
04:11یعنی مرکزی حکمران
04:12ورنہ اس آیت کا حکم
04:14وفات رسول کے بعد
04:15رسول کے ساتھی غیر موصر ہو جائے گا
04:19انتظامی اطاعت کے قرآنی احکام
04:21انتظامی طور پر منتظمین اور حکام کی
04:24اطاعت انتہائی ضروری ہے
04:25ورنہ نظم و نسخ کو چلانا
04:27اور اسے قائم رکھنا مشکل ہو جائے
04:29اور معاشرے کا عامل ہی رخصت ہو جائے
04:31قرآن کریم نے اس کو بڑی اہمیت دی ہے
04:34چند مثالیں پیش خدمت ہیں
04:35نمبر ایک
04:36یا ایها الذین آمنوا
04:41اذا قیل لكم تفسحوا في المجالس
04:47فافسحوا يفسح الله لكم
04:49واذا قیل انشزوا فانشزوا
04:54يرفع الله الذین آمنوا منكم
04:58والذین اوتوا العلم درجات
05:02والله بما تعملون خبیر
05:06صورت نمبر اٹھاون آیت نمبر گیارہ
05:08اے پیروانے دعوت ایمانی
05:10جب تم سے کہا جائے
05:12کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو
05:14تو کھل کر بیٹھ جاؤ
05:15اللہ تمہارے لئے کشادگی کر دے گا
05:17اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو
05:19تو اٹھ جائے کرو
05:20اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے کو
05:22جو ایمان لائیں
05:23جنہیں علم دیا گیا
05:24بلند کر دے گا
05:25اور جو کچھ تم کرتے ہو
05:27اللہ اس سے خوب واقف ہے
05:29دیکھئے اس آیت کریمہ میں
05:31کس شدومت کے ساتھ
05:32امیر مجلس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے
05:35امیر مجلس خواہ ہمیں
05:37زلیل کرنے کے لئے
05:38ہماری توہین کرنے کے لئے
05:40ہمیں مجلس سے اٹھ جانے کا حکم ہی
05:42کیوں نہ دے رہا ہو
05:43لیکن ہمارے لئے اس کی اطاعت فرض ہے
05:45یہی حال تمام محکموں کا ہے
05:47انتظام میں مخل ہونا
05:49فساد پیلا کرنا ہے
05:50اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے
05:56اگر کسی کے گھر پر
05:58اس کی ملاقات
05:58یا کسی اور ضروری کام کیلئے جائیں
06:00اور سلام کریں
06:01لیکن وہ شخص کہہ دے
06:03کہ مجھے اس وقت فرصت نہیں ہے
06:04اس وقت آپ واپس چلے جائیں
06:06دوسرے کسی وقت آئیں
06:07تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں
06:08کہ فوراں واپس ہو جاؤ
06:10یا ایہا الذین آمنوا
06:14لا تدخلوا بیوتا غير بیوتكم
06:22حتى تستأنسوا وتسلموا على أهلها
06:30ذلكم خير لكم لعلكم تذكرون
06:35فَإِن لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ
06:43وَإِن قِيلَ لَكُمْ اُرْجِعُوا فَرْجِعُوهُ وَأَزْكَى لَكُمْ
06:49وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
06:57اے پیروانِ دعوتِ ایمانی
06:59اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں جب تک اجازت نہ لے لو
07:03اور گھر والوں کو اجازت لینے کے لئے سلام نہ کر لو
07:06اندر نہ چلے جائے کرو
07:08یہی تمہارے لئے بہتر ہے
07:09امید ہے کہ تم نصیت حاصل کرو گے
07:12پھر اگر ان گھروں میں تم کسی مرد کو نہ پاؤ
07:15تو اندر نہ چلے جاؤ
07:16جب تک تمہیں اس کی اجازت نہ دی جائے
07:19اور اگر تم سے کہا جائے
07:20کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ
07:22یہی بات تمہارے لئے پاکیزہ تر ہے
07:24اور جو کچھ تم کرتے ہو
07:25اللہ خوب جانتا ہے
07:27اپنے گھروں میں آنے کے لئے
07:29اجازت دینے کا اختیار صاحب خانہ کو ہوتا ہے
07:31اگر ہم اس کے حکم کو نہ مانیں
07:33تو اس کے اختیار میں خلل ڈالنے والے مفسد ہوں گے
07:36یہاں حق تعالیٰ نے صاحب خانہ کے حکم کو
07:39اپنا حکم بنا دیا ہے
07:40حالانکہ صاحب خانہ وہی سے نہیں کہتا
07:43اور بالکل ممکن ہے
07:44کہ صاحب خانہ کا ایسا کہنا
07:46غرور و تکبر یا محض ستانے کے لئے ہو
07:48مگر ہمارے لئے حق تعالیٰ
07:50اس کی اطاعت کو فرض قرار دیتا ہے
07:52نہیں نہیں
07:53صرف ہمارے لئے ہی نہیں
07:55بلکہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
07:58کے لئے بھی اس حکم کا ماننا فرض ہے
08:00نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
08:02کئی باتوں میں مومنوں کی اطاعت فرماتے تھے
08:05حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
08:16صورت نمبر انجاز آیت نمبر ساتھ
08:19اور جان رکھو
08:19کہ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے
08:21اگر وہ شورہ کے علاوہ بھی
08:23بہت سی باتوں میں تمہاری اطاعت کرتا
08:25تو تم تکلیف میں پڑ جاتے
08:27یہاں فرمایا جا رہا ہے
08:29کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
08:31بہت سی باتوں میں تمہاری اطاعت نہیں کرتا
08:34جس کا صاف مطلب یہ ہے
08:35کہ بعض باتوں میں وہ تمہارا کہنا مان لیتا ہے
08:38یہی حکم اپنے اپنے وقت میں
08:40خلفہ اور حکام کیلئے ہے
08:41سب خدا کے مطی ہیں
08:42اور ہم سب کو مل جل کر نیکی کا کام
08:45بجا لانا لازم ہے
08:47اطاعت رسول کی عملی شکل
08:49قرآن کریم کے الفاظ میں
08:52جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:54نے مدینہ مرورہ میں
08:56حکومت اور مملکت قائم فرمالی
08:58عدالتیں قائم کر دی گئیں
08:59اور دشمنوں کے حملوں کی
09:01متفکہ روک تھام کی ضرورت ہوئی
09:03ایسے زمانے میں
09:04حتی و رسول کا
09:05عالی شان اور معقول فرمان نازل ہوا
09:08بلا شبہ عمر جامعہ میں
09:10وَإِذَا كَانُوا مَعَهُوا عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ
09:16آیت نمبر باسر
09:17جب مسلمان آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:20کے ساتھ کسی اجتماعی معاملے میں ہوں
09:22اطاعت کی خوبی دکھلانا
09:24اور اس کی تعقید فرمانا
09:26نہایت ہی ضروری تھا
09:28اطاعت رسول کے تمام احکام
09:30انہی آیام میں نازل ہوئے ہیں
09:31مدنی صورتوں میں
09:32اس کی شاہد عدل ہیں
09:34اتنی ہی بات فیصلہ کر دینے
09:36کیلئے کافی ہے
09:37اس اطاعت کے یہ معنی
09:38ہرگز نہیں
09:39کہ رسول کے ساتھ
09:40عابدانہ تعلق پیدا کرو
09:41اور اسے پاپ کی طرح
09:43اپنا رب بنا لو
09:44اس اطاعت کے صرف یہی معنی ہے
09:46کہ حکم کے لحاظ سے
09:47اصل اطاعت خدا کے ساتھ رکھو
09:59صورت نمبر 6 آیت نمبر 57
10:01وہ چیز یعنی عذاب الہی
10:04میرے پاس تو نہیں
10:05جس کی تم جلدی مچا رہے ہو
10:06حکم اللہ ہی کے لئے ہے
10:08وہی حق بیان کرتا ہے
10:10اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
10:12اور
10:29صورت نمبر 12 آیت نمبر 40
10:31حکم تو اللہ ہی کے لئے ہے
10:33کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو
10:36اصل دین قیم یہی ہے
10:37لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں
10:40بہرحل
10:41اصل ایمان خدا کے ساتھ رکھیں
10:43اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر
10:44اس کی معایت میں جہاد کریں
10:46یعنی جان سے
10:47مال سے
10:48ہر طرح سے
10:49جان توڑ کوششیں کریں
10:50چنانچہ قرآن مجید کے نزول کے آخری آیام میں
10:53اس کی تفسیر فرما دی
10:55اور ارشاد فرما دیا
10:56کیا ہے
10:57وَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ
11:01أَنْ آمِنُوا بِاللَّهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ
11:05اَسْتَأْذَنَكَ أُولُوَ الطَّولِ مِنْهُمْ
11:08اَسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّولِ مِنْهُمْ
11:11وَقَالُوا دَرْنَانَكُمْ مَعَ الْقَاعِدِينَ
11:15رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ
11:19وَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْطَهُونَ
11:24لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ
11:28وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
11:41سورة نمبر نو آیت نمبر 86 سے 88
11:45جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر
11:50جہاد کرو
11:51تو ان میں سے مقدور والے لوگ آپ سے اجازتیں مانگتے ہیں اور کہتے ہیں
11:55کہ اے اللہ کے رسول ہمیں چھوڑ دیجئے ہم پیچھے بیٹھنے والوں کے ساتھ رہ جائیں
12:00انہیں یہ بات بڑی پسند ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں
12:04ان کے دنوں پر مہر لگ چکی ہے تو وہ بات کو سمجھتے نہیں
12:08لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے وہ اپنے جان اور مال سے جہاد کرتے
12:14جان توڑ کوششے کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ فلاہ پانے والے ہیں
12:21اس آیت کریمے میں وجہدو مار رسول ہی کے پاک الفاظ تفسیر کے طور پر ہی آئے ہیں
12:28تفسیر القرآن بالقرآن
12:30تفسیر القرآن بالقرآن ہی قرآن کے شایل شان تفسیر ہوتی ہے
12:34سبحان اللہ سبحان اللہ
12:36جب قرآن کی تفسیر تصریف آیات کے ذریعے سے خود قرآن کریم سے کی جائے
12:41تو وہ کس کدر آلہ پائے کی ہوتی ہے
12:44یہی تفسیر تفسیر کی اصل شان دکھلاتی ہے
12:47تفسیر وہ نہیں ہوتی کہ قرآن تو یہ فرمائیں کہ ظالم لوگ رسول کو مسہور یعنی سہر زدہ کہتے ہیں
12:53وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا
12:59سورة نمبر پچیس آیت نمبر آٹھ
13:02اور ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا گیا
13:07ہے
13:07یعنی وہ بکواس کرتے ہیں
13:09چھوٹ بولتے ہیں کہ آپ پر جادو کر دیا گیا ہے
13:12اور روایتی تفسیر کہے کہ ہاں رسول پر جادو کر دیا گیا ہے
13:17ماذا اللہ ماذا اللہ
13:18اللہ کے رسول پر جادو ہو گیا
13:20یہ لوگ اس کا نام تفسیر رکھتے ہیں
13:22اور اسے اپنی طرف سے صحیح بنانے کے لیے ایری چھوٹی کا زور لگا دیتے ہیں
13:27شاید ان کے ہاں تفسیر اسی کو کہتے ہیں
13:29کہ جس میں ایسی بناوٹی باتیں بنانی پڑیں
13:33استغفراللہ
13:33علماء اکرام ایک طرف تو
13:35آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ کو مدت تک جادو گروں کے قبضے میں دے دیتے ہیں
13:40اور حضور کے دماغ کا مختل ہونا بھی مانتے ہیں
13:43اور یہ بھی مانتے ہیں کہ جس عرصے میں آپ پر جادو ہو گیا تھا
13:46اس عرصے میں یادداش تک بیکار ہو چکی تھی
13:48اور یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ کی باتیں وہی خفی تھی
13:51جو جادو زدگی یہ دوران بھی جاری تھی
13:54تاجب یہ ہے
13:55کہ وہی اور جادو کی آمیزش کا تصور
13:58اہل روایت کے ہاں ہی قابل قبول ہو سکتا ہے
14:00جبکہ اہل حدیث کے اس اکیلے سے یہ چیز نکھر کر آیا ہو رہی ہے
14:04کہ آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جادو زدگی کے عرصے میں لا محالہ
14:09وہی خفی بھی جادو زدہ ہی ماننی پڑتی ہے
14:11حیرت اس عمر پر ہے کہ اہل روایت یہ تو فرماتے ہیں
14:15کہ حضور پر جادو ہوا
14:16یادداش جاتی رہی
14:17عقل مختل ہو گئی
14:19مگر اسی عقل کے متعلق دوسری طرف یہ تسلیم نہیں کرتے
14:23کہ حضور اپنی بشری عقل سے بھی کام لیتے تھے
14:26اور وہ بشری عقل کے کام اس لائق ہوتے تھے
14:29کہ ان کے مناسب ان کی اطاعت کی جائے
14:32ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ نظام سے
14:35الگ رہ کر بھی لوگ مومن تھے
14:37رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت
14:40ابتدان مدینہ منورہ میں بہت کمزور تھی
14:43اس وقت ضرورت تھی کہ نئے مسلمان جن کو کفار ستاتے تھے
14:46اس حکومت یعنی مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آئیں
14:49اور اس طرح خود بھی محفوظ ہو جائیں
14:51اور اس حکومت کی تقویت کا باعث بھی بنیں
14:54مل جل کر کام کرنے میں بڑی برکت ہوتی ہے
14:57باوجود اس کے بہت سے مسلمان ایسے بھی تھے
15:00جنہوں نے اپنے اپنے علاقے اور اپنے اپنے قبائل میں
15:03اپنے اپنے انتظامات کر لئے تھے
15:05یہ لوگ چونکہ الہدہ انتظام رکھتے تھے
15:07اس لئے نہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر کے آئے
15:11اور نہ ان احکام سے فائدہ اٹھا سکے
15:13جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
15:14اپنی نو قائم شدار حکومت میں روز مردہ جاری فرماتے تھے
15:18حالانکہ وہ اس حالت میں بھی
15:20وحی الہی یعنی قرآنی احکام سے
15:22مستثنہ نہیں تھے
15:23لیکن نام نحال وحی خفی سے
15:25بلکل بے تعلق اور بے بہرہ تھے
15:27مگر اس الہدگی کے باوجود
15:29وہ ایمان اور دین سے خارج نہیں ہو گئے تھے
15:32چنانچہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں
15:34اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
15:45وَالَّذِينَ آوَنُوا وَمَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضُ
15:53وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَایَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا
16:04وَإِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْحُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
16:21صورت نمبر آٹھ آیت نمبر بہتر
16:24یقیناً جو لوگ امان لائے اور حجرت کی
16:26اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جان توڑ کوشش کی
16:30اور جنہوں نے ان لوگوں کو جگہ دی اور مدد کی
16:33یہ لوگ ایک دوسرے کے سرپرست اور مددگار ہیں
16:36اور وہ لوگ جو امان تو لے آئے مگر حجرت نہیں کی
16:39تمہارے لئے ان کی سرپرستی اور مددگاری سے کوئی سروکار نہیں
16:43جب تک وہ حجرت نہ کر لیں اور اگر وہ تم سے دین میں مدد مانگیں
16:47تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے
16:49مگر اس قوم کے مقابلے پر نہیں
16:51کہ تم میں اور ان میں کوئی صلح کا معاہدہ ہے
16:54اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے
16:57اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مومن دیندار مسلمان
17:01جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظام اور سرپرستی سے باہر تھے
17:05اپنے مقدمے حضور کے پاس نہیں لاتے ہوں گے
17:08روز مرہ آپ جو احکام مدینہ منورہ میں نافذ فرمایا کرتے تھے
17:12ان پر بھی عمل نہیں کر سکتے تھے
17:14مگر اس سے وہ کافر نہیں بن جاتے تھے
17:16اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
17:20اپنے مقدمات لانے کی فرضیت صرف ان مومنوں کے لئے ہے
17:24جو آن حضور کے نظام میں داخل تھے
17:26اور مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے
17:28لیکن جو لوگ آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انتظامی سرپرستی سے باہر تھے
17:33وہ اس کے فوائد اور اس کی برکتوں سے بھی محروم تھے
17:36لیکن اس کے برقس جو لوگ ایک انتظام ریاست
17:39یعنی مملکت میں رہنا دکھلا کر
17:41پھر دغا کریں
17:42اپنے مقدمات رسول مقبول کے پاس نہ لائیں
17:45اور آپ کے فیصلے کو آخری اور قطعی تسلیم نہ کریں
17:48اور بد امنی پھیلائیں
17:49وہ یقینا انتہائی بدداد اور قابل مواخذہ ہیں
17:53اسی لئے قرآن نے انہیں مجرم قرار دیا ہے
17:56جو اسلامی نظام میں رہ کر آپ کو آخری حکم نہ مانیں
18:00رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں رہتے ہوئے
18:04اگر آپ کو کوئی حکم تسلیم نہ کرتا
18:07تو وہ ہرگز مومن نہیں ہے
18:08مدینہ منورہ میں دو طرح کے لوگ تھے
18:11ایک تو وہ جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے
18:14پک منافق
18:15وہ کہتے تھے کہ ہم قرآن مجید کو
18:17اور پچھلی کتابوں تورات و انجیل کو بھی مانتے ہیں
18:20لیکن مدینہ کی اصلاح اور عوام کے جھگڑے چکانے کے لئے
18:23رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عدالتیں قائم فرمائی تھیں
18:27ان کی طرف نہیں آتے تھے
18:28انصاف اور عدل سے بھاگتے تھے
18:30اور اپنے مقدمیں سرکشوں اور کافروں کی طرف لے جاتے تھے
18:34تاکہ من مانے فیصلے کرا سکے
18:41سورت نمبر چار آیت نمبر ساٹھ
18:43چاہتے ہیں کہ اپنے مقدمیں فیصلے کے لئے سرکشوں کی طرف لے جائیں
18:48اور اس بری حرکت سے نقصان اٹھا کر بہانے بناتے تھے
18:58سورت نمبر چار آیت نمبر باسٹھ
19:01ہمارا ارادہ تو اس سے محض حسن معاملہ اور باہمی جگجہتی پیدا کرنے کا تھا
19:06اس پر بھی شیطنیت سے باز نہیں آتے اور معافی نہیں مانگتے تھے
19:10ایسے لوگ جب تک حاکم وقت یعنی رسول مقبول کی اطاعت کر کے نہ دکھاتے
19:15تورات انجیل اور قرآن کے مومن قرار نہیں پا سکتے تھے
19:18حق تعالیٰ نے انہی منافقوں کے بارے میں فرمایا ہے
19:42سورت نمبر چار آیت نمبر پیسٹھ
19:44ان کی یہ حرکتیں صحیح نہیں
19:46بخدا یہ اپنے زوم اور دعوے کے مطابق قرآن مجید
19:50اور دیگر الہی کتابوں کے مومن نہیں قرار پا سکتے
19:53جب تک تجھے اپنے باہمی جھگڑوں اور الجھنوں اور تنازات میں حکم
19:58یعنی آخری فیصلہ دینے والا نہ بنائیں
20:00پھر تیرے فیصلے سے اپنے سینوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں
20:03اور تسلیم کر لیں جو تسلیم کرنے کا حق ہے
20:08اس مبارک اور نورانی آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے
20:11کہ مومن کے لیے لازم ہے
20:13کہ اپنے حاکم آلہ کے آخری فیصلے کو جی چرانے کے بغیر تسلیم کر لیا جائے
20:18تسلیم کیا ہے
20:19اس فیصلے پر راضی ہو جانا
20:21اور اس کے لیے اپنے آپ کو سونپ دینا
20:23تسلیم کی یہ معنی نہیں ہے
20:25کہ اگرچہ وہ فیصلہ واقعے کے برخلاف بھی ہو
20:28تو بھی اس کی واقعیت پر ایمان لائے جائے
20:31اور خلاف واقعہ کو واقعی اعتقاد کر لیا جائے
20:34حدیث سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے
20:36بخاری اور مسلم میں حضرت امی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
20:40کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
20:43میں بھی ایک آدمی ہوں
20:44اور البتہ میرے پاس مدعی اور مدعا علیہ آتے ہیں
20:48سو شاید بعض شخص دوسرے بات سے زیادہ فسی و بلی
20:51یعنی زیادہ چرب زمان اور خوش تقریر ہو
20:54تو میں گمان کر لوں کہ وہی سچا ہے
20:56اور اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں
20:58سو جس کو میں اس طرح کسی مسلمان کا حق غلط طور پر دلوا دوں
21:03تو وہ اس کے حق میں دوزک کا ایک ٹکڑا ہے
21:06چاہے وہ اسے اٹھا لے ہوئے اور چاہے چھوڑ دے
21:09اس سچی حدیث سے
21:11مہر نیمروز کی طرح روشن ہو جاتا ہے
21:14کہ کسی فریق مقدمے کی فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی سے
21:18رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی
21:21اثر پذیر ہو کر خلاف واقع فیصلہ دے سکتے تھے
21:24پس وہ نقشان رسیدہ شک
21:26جس کو خلاف واقع فیصلہ ملا ہے
21:28کس طرح اس خلاف واقع فیصلہ کو صحیح سمجھ سکتا ہے
21:32اور اس پر ایمان لاسکتا ہے
21:33وہ صرف یہی کہہ سکتا ہے
21:35کہ میں اسے کھلے دل سے تسلیم کر لیتا ہوں
21:37اگرچہ یہ فیصلہ واقع کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے
21:40پس تسلیم کرنے کے معنی یہ تو ہرگز نہیں ہے
21:43کہ اس فیصلے کے واقع کے مطابق صحیح ہونے کا بھی اعتقاد کر لیا جائے
21:48منتخب اللغات میں تسلیم کے معنی لکھے ہیں
21:56اس سے صاف کھل جاتا ہے
21:58کہ آلہ حاکم کے حکم پر گردن رکھ دینا تسلیم ہے
22:02نہ یہ کہ اس پر خدا کے حکم کی طرح اعتقاد بھی کر لینا لازم ہے
22:07حضرت دعوت صحیح فیصلہ نہ دے سکے
22:10حضرت دعوت علیہ السلام نے ایک مقدمے کا فیصلہ صحیح نہیں دیا
22:14صحیح فیصلہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیا
22:16قرآن پاک میں حضرت دعوت علیہ السلام کے ایک مقدمے کا ذکر آتا ہے
22:20کسی قوم کی بکریاں رات کے وقت کسی کے کھیت میں چر گئیں
22:23اس مقدمے کا صحیح فیصلہ حضرت دعوت علیہ السلام نہ دے سکے
22:27حق تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جو انہی کے بیٹے تھے صحیح فیصلے پر پایا
22:33وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ اِذْ يَحْکُمَانِ فِي الْحَرْفِ اِذْنَ فَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
22:38اِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُکْمِهِمْ شَاهِدِينَ
22:43فَفَحَّمْنَا هَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُکْمًا وَعِلْمًا
22:52اور سلمان اور داود کا ذکر کرو جب وہ اس کھیت کے بارے میں فیصلہ دے رہے تھے
22:57جس میں ایک قوم کی بکریاں چر گئی تھیں اور ہم اس فیصلے کو دیکھ رہے تھے
23:02تو ہم نے مقدمے کی سمجھ سلمان کو دی اور ہم نے ہر ایک کو داود کو بھی اور سلمان
23:07کو بھی حکومت اور علم عطا فرمایا تھا
23:10پس بتقاضہ بشریت صحیح فیصلہ نہ دے سکنا رسولوں اور نبیوں کا کوئی قصور نہیں ہے
23:17ضعیف انسان ہونا اور غیب نہ جاننا آدمیوں کا کوئی ظلم نہیں ہے
23:22اور ایسی غلطیاں جو بشریت کے تقاضے سے وقوع وزیر ہوں کسی کا کوئی ظلم نہیں ہے
23:27نہ اس میں کسی کا کوئی قصور ہے
23:31منافقوں کے متعلق صحابہ کے دو گروہ
23:34مختصرا یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ مدینہ منورہ میں اہد رسالت محب میں ایسے منافق بھی تھے
23:40جو کفار کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے اور ان سے الگ نہیں ہوتے تھے
23:44یہ لوگ کفار کے ساتھ مل ملا کر اہل اسلام کے مقابلے میں کفار کو مدد بھی دیتے تھے
23:49لیکن مسلمانوں کی قابو میں آتے تو کہتے تھے کہ ہم تو مسلمان ہیں
23:53کفار کے جبر سے چلے آئے ہیں
23:55لیکن باوجود اس کے ان سے الگ نہیں ہونا چاہتے تھے
23:59ایسے لوگوں کے متعلق رسول اللہ کے تابداروں صحابہ کرام میں اختلاف ہوا
24:03دو پارٹیاں بن گئیں
24:05ایک پارٹی کہتی تھی کہ ان کو این حالت جنگ میں پا کر قتل نہ کرنا
24:09اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے
24:11یہ مومن نہیں ہیں
24:13یہ کافروں کے ساتھ آئے ہیں
24:14لہٰذا کافر ہیں
24:15ان کو زندہ چھوڑ دینا اپنے لئے خطرہ مول لینا ہے
24:18لہٰذا ان کو قتل ہی کر دینا مناسب ہے
24:21دوسری پارٹی کہتی تھی کہ ان کو معاف کر دو
24:24یہ لوگ اپنے ماضی پر شرمندہ تو ہیں
24:26اور مشرقین کے ساتھ آنے کو غلط تو سمجھتے ہیں
24:29جب ہی تو کہہ رہے ہیں کہ ہم مشرقین کے جبر کی وجہ سے آئے ہیں
24:33شاید انہیں ہمارے اس سلوک سے ہدایت ہی مل جائے
24:36خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو سرابہ رحمت تھے
24:40اس دوسری پارٹی ہی کہ ہم خیال تھے
24:42اور چاہتے تھے کہ کسی طرح انہیں ہدایت مل جائے
24:45اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
24:54سورت نمبر چار آیت نمبر اٹھاسی
24:57مسلمانوں
24:58منافقین کے سلسلے میں تمہارے دو گروہ کیوں بن گئے
25:01اللہ نے تو ان کے اپنے آمال کی وجہ سے انہیں اوندھا کر دیا تھا
25:05یہ لوگ قطعان گمراہ اور منافق ہیں
25:08یعنی جب یہ منافق ایسے کرتود کرتے ہیں
25:11اور اپنے آپ پر خود رحم نہیں کرتے
25:13اور دوسروں کے قتل سے نہیں ٹلتے
25:15تو ان کی طرفداری کے کیا معنی ہے
25:17یہ بھی ویسے ہی ہربی دشمن ہیں
25:19جیسے مشرقین
25:20حق تعالیٰ نے اس فرمان سے پہلی پارٹی کے موقف کی تائد و تصدیق فرمائی
25:25کہ جب ان منافقوں کی ایسی ایسی حرکتیں ہیں
25:27تو اس سچی پارٹی سے مخالفت کر کے
25:30اپنے میں دو پارٹیاں کیوں مناتے ہو
25:32پھر دوسری پارٹی کو جو ان کی ہدایت کے متوقع تھے
25:35بلکہ ان کی ہدایت کی تمنہ رکھتے تھے
25:38دھمکایا کہ
25:44سورت نمبر چار آیت نمبر اٹھاسی
25:46یعنی کیا تم یہ ارادہ رکھتے ہو
25:48کہ انہیں سیدھے راستے پر لیاؤ
25:50جنہیں اللہ نے ان کے کرتوتوں کے سبب بے راہ ٹھہرا دیا ہے
25:54اور اپنے رسول کو خاص کر کے
25:56الگ حکم دیا
26:03سورت نمبر چار آیت نمبر اٹھاسی
26:05جس کو اس کے کرتوتوں کے باعث
26:07اللہ ہنگمرا ٹھہرا دے
26:09تو اے پیغمبر آپ اس کے لئے
26:11ہرگز ہرگز کوئی راستہ نہیں پاسکیں گے
26:13خود رسول اکرم دوسری پارٹی کے ساتھ
26:17حاصل یہ کہ
26:18بعض منافقین کے بارے میں
26:20اہل الرائے صحابہ کی دو پارٹیاں ہو گئی تھی
26:22اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
26:24رائے مبارک بھی دوسری پارٹی کے موافق تھی
26:27کہ ان کو معاف کر دیا جائے
26:28لیکن حق تعالیٰ نے
26:29واللہ اکسہم بما کسبو
26:33اور اللہ نے ان کے کرتوتوں کے سبب
26:37انہیں اوندھا کر دیا ہے فرما کر
26:39پہلی پارٹی کی تصدیق فرما دی
26:41اور رسول اکرم والی پارٹی کی آیت
26:43کے اگلے حصے میں غلطی ظاہر فرما دی
26:45اگر اس معاملے میں
26:47رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:49غیر جانبدار ہوتے
26:50یا علیدہ اپنی کوئی تیسری رائے رکھتے
26:53تو حق تعالیٰ اہل الرائے مومنین کی
26:55تین پارٹیاں بن جانا فرما دا
26:57نہ کہ دو
26:58حق تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ فرما کر
27:01کہ جس کو اللہ گمراہ قرار دے دیں
27:03اے پغمبر آپ اس کے لئے
27:05کوئی راستہ نہیں پائیں گے
27:06سب واضح کر دیا ہے کہ حضور اکرم
27:09اسی پارٹی کے ہم رائے تھے
27:10جس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ
27:12منافق ہدایت پر آ جائیں گے
27:14پس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے
27:16اگرچہ رحم و کرم اپو و درگزر
27:19کے پہلو لیے ہوئے تھی
27:20مگر صحیح نہ تھی اور یہ محال ہے
27:22کہ حق تعالیٰ ایسا اعتقاد رکھنا سکھائے
27:25کہ کسی کی غلطی کو غلطی جان کر
27:27بھی یہ عقیدہ رکھا کرو
27:29کہ وہ صحیح ہے
27:30ہاں یہ سکھلانا لازم ہے
27:31کہ دو عملی پھیلا کر
27:33بدنظمی نہ پیدا کرو
27:35اگر مذکورہ والا معاملے میں
27:36حق تعالیٰ کے فیصلے نازل فرمانے سے پہلے
27:39اختلاف رائے کے وقت میں ہی
27:41کوئی جنگ واقع ہو جاتی
27:42اور اس میں وہ منافق اسی حالت میں پائے جاتے
27:45تو اس کے معاملے میں
27:46باوجود اختلاف رائے کے
27:48رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
27:50غلط حکم پر ہی عمل کرنا لازم تھا
27:53اپنی مخالف رائے پر چلنا
27:55قطن حرام ہوتا
27:56اور یاد رہے
27:57کہ اختلاف رائے رکھنا اور بات ہے
27:59اور جرنیلوں کمانڈروں
28:01حاکموں منصفوں اور مسلحوں
28:03کی اطاعت سے نکل کر
28:05دو عملی پھیلانا اور بات ہے
28:07اول ذکر یعنی اختلاف رائے
28:09بغرض تعمیر صحیح ہے
28:11اور موخر ذکر نافرمانی میں
28:14چونکہ تخریب ہی تخریب ہے
28:15اس لئے وہ غلط ہے
28:17کیونکہ جس بشر کا غلطی کر سکنا
28:19ممکن ہے
28:20اس کے ساتھ معقول اور صحیح طور پر
28:22اختلاف رائے کرنے سے
28:23کوئی دانا مانے نہیں ہو سکتا
28:26لیکن اختلاف رائے کو
28:27اس حد تک بڑھانا
28:29کہ عملی معاملات میں
28:30حاکم علا کی موجودگی کے باوجود
28:32دو پارٹیاں اور دو جتھے
28:34الگ الگ بن جائیں
28:35جس سے دو عملی کا خوف ہو
28:38کسی صورت میں معقول نہیں قرار پاسکتا
28:40اور اسی لئے حق تعالیٰ نے
28:42معقول اور صحیح اختلاف رائے سے
28:45نہیں روکا
28:46بلکہ دو جتھے بن جانے کو
28:47پسند نہیں فرمایا
28:49جیسا کہ حکم کیا ہے
28:50کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے
28:51کہ تم ان منافقوں کے بارے میں
28:53دو جتھے بن رہے ہو
28:55البتہ یہ ضرور ہے
28:56کہ دو پارٹیاں بننے کا
28:58اعظام زیادہ تر
28:59اسی پارٹی پر لگ سکتا ہے
29:01جس نے غلط ہو کر
29:02دوسری پارٹی بنا لی ہو
29:03اور ایک کے دو کر دیے ہوں
29:05صحابہ کی دو پارٹیاں بن جانے سے
29:08یہ عمر بھی مہر نیمروز کی طرح
29:10روشن ہو جاتا ہے
29:11کہ محض اہدہ رسالت پر قائم ہونا ہی
29:14ہر اختلاف کو مٹانے کے لئے
29:16کافی نہیں تھا
29:17ورنہ رسول اکرم کے
29:18اہدہ رسالت پر قائم ہونے کے
29:20باوجود صحابہ کی دو پارٹیاں
29:22نہ بن سکتی
29:23رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
29:25کے اقوال بہر صورت
29:26اختلاف کو مٹا نہیں سکتے تھے
29:30اختلافات کو مٹانا
29:31قرآنی آیات یا شہرہ سے ممکن تھا
29:35جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
29:37کے ساتھ کسی معاملے میں
29:38کسی کا اختلاف ہوتا
29:39تو وہ شہرہ وغیرہ
29:41اقلی ذرائع پر ہی چھوڑا جاتا تھا
29:43اور یا قرآن مجید
29:44آ کر فیصلہ کرتا تھا
29:46منافقین کے بارے میں
29:47دو پارٹیاں بن جانے کے معاملے میں
29:49بھی قرآن نے ہی آ کر فیصلہ کیا
29:51اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
29:53کا صرف عہدہ رسالت پر
29:54متعین ہونا ہی
29:55تمام اختلافات کے
29:57مٹا دینے کے لئے کافی ہوتا
29:58تو قرآن مجید کے نازل ہونے کی
30:00کوئی ضرورت باقی نہ رہتی
30:02رسول کا عہدہ رسالت پر
30:03قائم کیا جانا اس لئے تھا
30:05کہ ان کے ذریعے سے
30:06وحی الہی پہنچائی جائے
30:08نہ کہ ان کی محدود بشری اقل کی
30:10کچھ شکو بھی
30:11وحی الہی بنا دیا جائے
30:12ان لوگوں کے نزدیک شاید
30:14انسانی اقل و فہم کی
30:15کچھ بھی قدر نہیں
30:16اور اسی لئے یہ لوگ
30:18حضور صلی اللہ علیہ وسلم
30:19کو انسانی اقل و فہم سے
30:21کام لینے والا قرار نہیں دے سکتے
30:27صورت نمبر ترے پن
30:28کیا انسان کی ہر عرض
30:30کبھی پوری ہوئی ہے
30:31کفار چاہتے تھے
30:33کہ رسولوں کے ساتھ
30:34بشریت نہ لگی رہے
30:36بلکہ وہ خواہش رکھتے تھے
30:37کہ خود ہم کو بھی
30:38وحی ہوا کرے
30:39تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے
30:41مگر حق طالعہ نہیں چاہتا تھا
30:43کہ ان کی احواہ کا
30:44اتباہ کر کے صحیفہ فطرت
30:46اور عقل کی اہمیت کو
30:48ضائع کر دے
30:48آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
30:50کے ساتھ ایک عورت کا مجادلہ
30:52رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
30:54کے ساتھ اختلاف ہونے کی صورت میں
30:56قرآن مجید کا حکم بننا
30:58کئی جگہ ثابت ہے
30:59ایک عورت کو اس کے خامل نے
31:01ماں کہہ دیا
31:01لوگ اس فضول حرکت کو
31:03طلاق قرار دیتے تھے
31:04وہ عورت اس عام فضول رسم کی
31:07اصلاح چانے کے لیے
31:08رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
31:10کی خدمت میں حاضر ہوئی
31:11چونکہ عربوں کا یہ عام دستور تھا
31:13کہ ایسا کہہ دینے سے
31:14ان کے ہاں عورت پر طلاق پڑ جاتی تھی
31:17لہٰذا آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
31:19نے بھی عام عرب دستور کے مطابق
31:21اسے یہی جواب دیا
31:22اور حضور کا اس کے ساتھ
31:24اتفاق رائے نہ ہوا
31:25وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
31:28کے ساتھ جگرتی اور سوال جواب کرتی رہی
31:30آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
31:32سے ماجوز ہو کر
31:33اللہ کے حضور میں شکایت کی
31:35وہ تو اپنے بندوں کے آڑے وقت میں
31:37کام آنے والا ہی ہے
31:38اس نے اس عورت کے کول کو سن لیا
31:41اور اس کے حق میں فیصلہ دے دیا
31:43صورت نمبر اٹھاوان آیت نمبر دو سو ایک
31:45یہ صورت آج تک
31:46صورہ مجادلہ کے نام سے مشہور ہے
31:48اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
31:50کہ عورتوں کو بھی
31:51رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
31:54اپنے حقوق کے لئے
31:55جگڑنے کا حق ملا ہوا ہے
31:57ہمارے نزدیک تو یہ
31:58رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
32:00کی بڑی عزت اور شان ہے
32:02مگر بندہ پرس
32:03اللہ کو چھوڑ کر
32:04رسول اللہ کی پوجہ کرنے والے
32:06اسے رسول اللہ کی حد تک
32:07سمجھتے ہیں
32:08نعوذ باللہ
32:09لیکن حق تعالیٰ نے
32:10اس مجادلے کو
32:11قرآن کریم میں شامل کر کے
32:13رسول مقبول کی حقیقی شان
32:16کو اظہر منشمس کر دیا ہے
32:18اور علویت اور رسالت کے
32:20مقامات کو
32:20الگ الگ نکھار کر رکھ دیا ہے
32:23منتحہ سوال حق تعالیٰ ہے
32:25منتحہ سوال
32:27رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں
32:29بلکہ حق تعالیٰ ہیں
32:30مذکورہ عورت کے مجادلے
32:32صورت نمبر اٹھاون
32:33آیت نمبر ایک سے ثابت ہے
32:35کہ اگر رسول منتحہ سوال ہوتا
32:37تو اس عورت کا کیا حق تھا
32:39کہ وہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
32:41کے فیصلے دے دینے کے بعد
32:42رسول کے ساتھ مجادلہ کرتی
32:44اور رسول اسے نہ رکھتا
32:46کہ تیرا کوئی حق نہیں
32:48کہ میری فیصلے دے دینے کے بعد
32:50پھر بار بار مجھ سے سوال اور جواب کرے
32:52کیونکہ میں منتحہ سوال ہوں
32:54اور میرے فیصلے پر تجھے حق کے اعتراض نہیں
32:57اور حق تعالیٰ بھی اس عورت کو رکھتے
32:59کہ خبردار تجھے میرے رسول کے ساتھ
33:01جھگڑا کرنے کا کیا حق ہے
33:03یا اللہ تعالیٰ کم از کم
33:05اس عورت پر ناراضگی کا اظہار فرماتے
33:07لیکن بجائے کسی خبگی کے اظہار کے
33:10یہاں تو حق تعالیٰ نے
33:11فیصلہ خلاف رائے رسول
33:13خود عورت کے حق میں دے دیا
33:15حقیقت یہ ہے
33:16کہ لفظ رسول کا مقام ہی یہی ہے
33:18جو آیت مجادلہ
33:20صورت نمبر اٹھاور آیت نمبر ایک اور دو
33:22میں دکھایا گیا ہے
34:05سورت نمبر اٹھاون آیت نمبر ایک اور دو
34:08اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے
34:11جو اے پیغمبر تم سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی ہے
34:15اور اللہ سے شکایت کر رہی ہے
34:17اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا
34:20یقیناً اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
34:23تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے زہار کر لیتے
34:26یعنی انہیں ماں کہہ دیتے ہیں
34:27وہ ان کی ماں نہیں بن جاتی
34:30ان کی ماں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا ہے
34:33البتہ وہ ایک بہودہ اور غلط بات کہتے ہیں
34:36اور اللہ بڑا معاف کرنے والا بکشش کرنے والا ہے
34:39اہل روایت کی بنیادی لغزش یا غلطی ہی یہی ہے
34:43کہ اللہ کے رسول کو خود اللہ تعالیٰ کے مقام پر لا کھڑا کرنے میں
34:47آپ کی شان سمجھتے ہیں
34:48اس واقعے سے ارشاد الہی
34:50فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَقِّمُوكَ بِمَا شَجْرَ بَيْنَهُمْ
34:57ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
35:13تو تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوں گے
35:16جب تک اپنے باہمی اختلافات میں
35:19تجھے اے پیغمبر حکم نہ بنا لیں
35:21پھر اپنے دلوں میں آپ کے فیصلے سے کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں
35:25اور پوری طرح اسے تسلیم کر لیں
35:27کا مطلب اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے
35:30کیونکہ مجادلہ والی عورت نے
35:31آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو
35:34نہ صرف یہ کی تسلیم نہیں کیا
35:36بلکہ آپ کے فیصلے کے بعد دل میں تنگی بھی محسوس کی
35:39اور بارگاہِ الٰہی میں شکایت بھی کی
35:42اور حق تعالیٰ نے اس کی شکایت سن لے
35:44اور شکایت کا ازالہ فرمایا
35:46سوال یہ ہے کہ یہ عورت کیا مومن نہیں رہی تھی
35:49اگر ایسا ہے تو خدا نے اس کی تاہید کیوں فرمائی
35:54اختلافات کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے
35:57اس مذکورہ بالا واقع سے بھی
35:59سورج کی طرح روشن ہو جاتا ہے
36:02کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
36:04اختلاف رائے کے وقت حق تعالیٰ کی طرف شکایت کی جاتی تھی
36:08اور حق تعالیٰ اپنے الفاظ میں بزبان رسول فرماتا تھا
36:25سورت نمبر بیالیس آیت نمبر دس
36:28اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرتے ہو
36:30تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے
36:33وہی اللہ میرا رب ہے
36:34اسی پر میرا بھروسہ ہے
36:36اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں
36:38پھر بزبان رسول ہی ارشاد فرمایا
36:50سورت نمبر 6 آیت نمبر 114
36:52کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حکم تلاش کروں
36:55حالانکہ وہی تو ہے جس نے تمہاری طرف یہ کتاب مفصل کر کے نازل فرمائی ہے
37:01ہاں واہمی مشاجرات اور انتظامی معاملات میں قرآنی بلکہ اقلی فیصلہ بھی رسول یا
37:07آلہ حاکموں کے ذریعے ہی کرایا جا سکتا ہے لیکن اعتقادات کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی تعلق
37:14رکھتا ہے
37:15جب تک خدا کا حکم یا اس کا منشاہ نہ ثابت ہو جائے
37:18کسی آلہ حاکم کا فیصلہ کر دینا بھی اعتقاد کیلئے کافی نہیں
37:22نبی اور رسول بھی اصحاب امر سے فیصلے کراتے تھے
37:26اگر کسی شخص کا کسی نبی یا رسول سے کسی معاملے میں اختلاف کی وجہ سے کوئی مقدمہ ہو جائے
37:33تو خود رسول ہی اپنے آپ کو بری کر لینے کا حق نہیں رکھتا
37:37اللہ کے رسول اول مومنین ہوتے ہیں
37:40وہ بھی مومنین کے لئے جو احکام ہیں ان میں داخل ہوتے ہیں
37:44بلکہ دوسرے مومنین سے ان پر زیادہ قانونی ذمہ داریاں اور سختیاں ڈالی جاتی ہیں
37:49ان سے ریعتیں نہیں کی جاتی
37:51رسولوں کو جب ان کی اپنی حکومت نہ ہو
37:54تو اپنا فیصلہ اولی الامر اور اعلی حکام سے ہی کرانا ہوتا تھا
37:58جس حکومت میں وہ رہتے تھے انہیں اس کے قانون پر چلنا اور نیک رعیت بننا ہوتا تھا
38:03حضرت یوسف علیہ السلام کو پہلے تو بلا وجہ قید خانے میں ڈال دیا گیا
38:08اور پھر جب شاہ مصر نے بغیر کسی مقدمہ چلانے کے قید خانے سے نکالنا چاہا
38:13تو انہوں نے اس پر بھی اپنے مقدمے کو بادشاہ کے حضور میں ہی پیش کرنا ضروری سمجھا
38:41سورت نمبر بارہ آیت نمبر پچاس
38:43بادشاہ نے کہا اسے یعنی یوسف کو میرے پاس لاؤ
38:47تو جب قاسد یوسف علیہ السلام کے پاس آیا
38:50تو یوسف نے کہا اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ
38:53اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے
38:58میرا آقا ان کے مقر سے خوب واقف ہے
39:02اور بادشاہ سے اپنی بھریت کرائے بغیر قید خانے سے نہ نکلے
39:06اور اس طرح نیک غلام نیک قیدی نیک نوکر بن کر دکھلایا
39:11اور بحالت غلامی اپنے آقا اور بحالت قیدی اپنے داروغہ
39:16اور بحیثیت ملازمت اپنے بادشاہ کی ٹھیک ٹھیک اطاعت فرمائی
39:21روایتیں سبیل المومنین نہیں ہو سکتی
39:23قرآن کریم نے سبیل المومنین کی پیروی کو ضروری قرار دیا ہے
39:28علماء حدیث سبیل المومنین سے روایت مراد لے کر
39:32احادیث کی اطاعت کو ضروری قرار دے لیتے ہیں
39:34حالانکہ سبیل المومنین سے روایت مراد لینے کا کوئی جواز نہیں ہے
39:39سبیل المومنین والی آیت
39:40سورت نمبر چار آیت نمبر ایک سو پندرہ سے پچھلی آیت میں لوگوں کو اس سے ممانیت فرمائی گئی ہے
39:47کہ وہ الگ الگ سرگوشیاں نہ کریں
39:49الگ الگ سرگوشیاں کرنا محفل میں دوسرے موجود لوگوں کی دل آزاری کا باعث ہوتا ہے
39:55کہ شاید ہمارے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں
39:57یا کوئی ایسی بات ہے جو ہم سے چھپانا چاہتے ہیں
40:21سورت نمبر چار آیت نمبر ایک سو چودہ
40:24اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں
40:26سوائے اس شخص کے جو صدقے کا یا کسی نیک بات کا
40:30یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم کرے
40:33اور جو شخص یہ کرتا ہے خدا کی رضا جوئی کے لیے
40:37تو ہم اسے جلد ہی بڑا عجر عذا فرمائیں گے
40:41الگ سرگوشیاں ممنون ہیں
40:42جو بات ہو سب کے سامنے رکھ دو
40:45اور اس کے متعلق سب کے رائے لے لو
40:47یہ اس آیت کا حاصل ہے
40:48اس کی تفسیر و تشریح دوسری آیت سے فرما دی گئی
40:57سورت نمبر تین آیت نمبر ایک سو انسٹھ
40:59تو اے پیغمبر ان سے درگزر کیجئے
41:02اور ان کے لئے استغفار فرمائیے
41:04اور ان سے معاملات میں مشورہ فرمائیے
41:09سورت نمبر بیالیس آیت نمبر ارتیس
41:12اور مسلمانوں کے تمام معاملات
41:14ان کے باہمی مشورے سے تیہ ہوتے ہیں
41:16مسلمانوں کا طریقہ یہ ہے
41:18کہ وہ اپنی تمام معاملات باہمی مشورے سے تیہ کرتے ہیں
41:22آیت نمبر چار بٹا ایک سو چودہ میں
41:24دراصل اسی مشورہ باہمی کی تاقید فرمائی گئی ہے
41:27پھر اس سے اگلی آیت
41:29یعنی چار بٹا ایک سو پندرہ میں
41:31اسی اسلامی طریقے کو
41:32جس پر تمام مسلمانوں کو کاربند رہنا چاہیے
41:35سبیل المومین بتایا گیا ہے
41:37اور اس کی مخالفت سے لوگوں کو روکا گیا ہے
41:40وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ
41:49وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ
41:52نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّا وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
42:02صورت نمبر چار آیت نمبر ایک سو پندرہ
42:05جو شخص رسول کی مخالفت کرے
42:08اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت واضح ہو چکی ہے
42:11اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راہ کا اتباہ کرے
42:14تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے
42:16جدھر وہ پھر رہا ہے
42:18اور اسے جہنم میں جال دیں گے
42:20اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
42:21اس آیت میں مسلمانوں کو اس گدایت پر چلنے کی تاقید فرمائی جا رہی ہے
42:26جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ کی طرف سے لائے تھے
42:31اور نے سبیل المومنین یعنی شورہ کے طریقے کار پر چلنا سکھا رہے ہیں
42:35خود آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی
42:38وحیِ الٰہی اور سبیل المومنین یعنی
42:41وَشَاوِرْهُمْ تِلْآمُ
42:42کہ حکمِ الٰہی کے مطابق وحی اور شورہ دونوں پر چلتے تھے
42:46یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ رسول کے لئے
42:49کوئی وحیِ الٰہی کی پیروی ہی ضروری ہو
42:51اور ہمارے لئے رسول سے الگ کوئی اور سبیل المومنین بھی ہو
42:55یعنی رسول کے لئے کچھ اور دین ہو
42:57اور ہمارے لئے کچھ اور
42:59اور بعد میں آنے والے خود ہی روایتیں تراشیں
43:02اور انہیں سبیل المومنین ٹھیرا لیں
43:04اطاعت رسول اور مومنین کے لئے ایک ہے
43:07پس اطاعتِ الٰہی کرنے میں
43:09ہمارے لئے اور رسول اللہ کے لئے
43:11ایک ہی قوائد ہیں
43:12سورت نمبر چار آیت نمبر اکسو پندرہ
43:15آیت اوپر گزر چکی ہے
43:16سبیل المومنین کی مخالفت کرنے میں
43:19جو وعیدیں مذکور ہیں
43:20وہ سب کے لئے یقصہ ہیں
43:22قرآنِ مجید ایسے دلائل سے بھرا پڑا ہے
43:25مگر لوگوں کے نزدیک قرآنِ کریم کی تعلیمات
43:28نہ اصلاف کے قرآنی
43:29یا غیر قرآنی عامال کے لئے
43:31کوئی قسوٹی یا حاکم ہے
43:33کہ اس کے میار سے ان کو جانچا جا سکے
43:35اور نہ اخلاف کے لئے
43:37بلا شرکت کسی اور کتاب
43:39مثلا بخاری و مسلم وغیرہ کے
43:41واجب الاتبا جانتے ہیں
43:43ہم ان کے ان خیالات سے متفق نہیں ہو سکتے
43:46ہمارے نزدیک اعتقادات میں
43:48سوائے قرآنِ مجید کے
43:50نہ تو کوئی سلف ہی استقلال رکھتا ہے
43:52اور نہ کوئی خلف
43:53حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید
43:55جس قدر بے دلیل
43:56اصلاف پرستی کا دشمن ہے
43:58دنیا کی کوئی کتاب
44:00اس سلسلے میں قرآنِ مجید کی
44:01مثل نہیں ہے
Comments