Skip to playerSkip to main content
File 04 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |


Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.

Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use

#Quran #Islam #Explore #hadees #hadith #research

Category

📚
Learning
Transcript
00:00وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً
00:06كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا
00:12وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا
00:19سورة 25 آیت 32 اور 33
00:23اور جن لوگوں نے قرآن کا انکار کر دیا ہے
00:27انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پورا ایک ساتھ کیوں نہیں نازل کیا گیا ہے
00:33آپ ان سے کہہ دیجئے اسی طرح آہستہ آہستہ نازل کیا گیا ہے
00:38تاکہ اس کے ذریعے سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کریں
00:41اور ہم نے اسی لئے اسے آہستہ آہستہ ہی پڑھ کر سنایا ہے
00:45اور اسی طرح قرآن کریم کی بہترین تفسیر و توجیبی لے آتے ہیں
00:49کفار کے اس اعتراض پر کہ یہ قرآن اس رسول پر سارے کا سارا ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا
00:56گیا
00:56اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے تین جواب دیئے ہیں
00:59اور تینوں جوابوں کی ایک ہی نویت ہے
01:02اور وہ جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کو آہستہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزبات قلب
01:08مؤترزین کے اعتراضوں کے جوابات اور قرآن کی تفسیر کے لیے آہستہ آہستہ اتارا جا رہا ہے
01:15اب یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ نمبر ایک جو تسلی اور ثبات قلب وہی الہی سے حاصل
01:23ہو سکتی ہے
01:24وہ محض اقل سے نہیں مل سکتی
01:26اور نمبر دو جس اعتراض کا جواب اقل سے حاصل کیا جائے وہ ویسا تسلی بخش نہیں ہو سکتا
01:34جیسے کہ وہ جواب جو وہی الہی سے ملتا ہے
01:37اور نمبر تین اسی طرح محض اقلی تفسیر و تشریف کو وہ درجہ نہیں دیا جا سکتا
01:43جو خود حق تعالی کی تفسیر و تشریف اور بیان کا ہونا چاہیے
01:47اہلِ حدیث علم اکرام بھی اس بات کو مانتے ہیں
01:50کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ثبات قلب اور کفار کے سوالوں کے جوابات
01:56اور تفسیر و بیان قرآن بزریا وحی کے ہی حاصل ہوتے تھے
02:00فرق صرف اس قدر ہے کہ ہمارے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام وحی قرآن میں
02:06موجود ہے
02:07لیکن اہلِ حدیث حضرات کے نزدیک آپ کی بہت سے وحی قرآن مجید سے باہر بھی ہے
02:13اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر قرآن مجید آپ کی تمام یعنی پوری وحی نہیں ہے
02:19بلکہ وحی کا صرف ایک حصہ ہے
02:21تو قرآن مجید کی جخلق نازل ہو جانے سے باقی وحی کے لئے پیچھے آنے کا بھی موقع مل سکتا
02:27ہے
02:27اور وہ تینوں مقصد جو قرآن کو آہستہ آہستہ نازل کرنے سے حاصل ہونے تھے
02:32اب بھی وحی کے اس دوسرے حصے یعنی احادیث نبی سے حاصل کیا جا سکتے تھے
02:37لہٰذا قرآن کریم کا وہ جواب جو اس نے کفار کے مقابلے میں دیا تھا غلط ہو جاتا ہے
02:44اہلِ حدیث حضرات کے قول کے مطابق وحی الہی کے دو حصے تھے
02:49ایک حصہ قرآن کریم میں آگیا دوسرا حصہ احادیث نبی کے ذہل میں آ رہا ہے
02:54کفار کا یہ اعتراض تھا کہ قرآن کریم جگبار کی پورا کا پورا کیوں نازل نہیں کیا گیا
03:00قرآن نے اس کے جواب میں کہا کہ اس کی تین اہم وجو ہیں
03:04جن کی وجہ سے ہم نے اسے جگبار کی اکٹھا نازل نہیں کر دیا
03:09پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پیغمبر خدا کے دل کو وحی کی ذریعے سے ثبات
03:15حاصل ہو
03:15دوسری وجہ یہ ہے کہ مؤثرزین کے اعتراضات کے جوابات ساتھ ساتھ دیے جا سکیں
03:21تیسری وجہ یہ کہ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح ہوتی جائے
03:26تو اگر قرآن سے باہربی وحی کا ایک حصہ یعنی ارشادات نبی علیہ السلام موجود تھا
03:32جو آہستہ آہستہ آنا تھا اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی پر پھیلا ہوا تھا
03:39تو وہ تینوں فائدے جو قرآن نے بیان کیے ہیں اس دوسری قسم کی وحی سے کیوں نہ حاصل کر
03:46لیے گئے
03:46اس میں کونسی مشکل حائل تھی کہ قرآن کریم پورا کو پورا ایک مردہ مناثر کر دیا جاتا
03:52اور دوسری قسم کی وحی بعد میں آتی رہتی اور اس کے ذریعے سے آہستہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
03:59قلب آتر کو ثبات حاصل ہوتا رہتا
04:01اور مؤثرزین کے جوابات بھی دیے جاتے اور قرآن کریم کی تفسیر و تسریح بھی ہوتی جاتی
04:07ناظرین تو غور فرمائیے کہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی نہ ہونے پر یہ کیسی زبردست دلیل
04:16ہے
04:16کہ اگر وحی کے علاوہ جو قرآن کریم میں لائی گئی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور
04:23بھی وحی ہوا کرتی تھی
04:24تو وہ وحی قرآن کریم کو یکلخ نازل کر دینے کے بعد بھی اسی طرح برابر آہستہ آہستہ دی جا
04:31سکتی تھی
04:32بلکہ بقول اہل حدیث دی گئی ہے
04:35اس کے آہستہ آہستہ لانے پر کفار کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا
04:38ہاں اگر کفار اس دوسری وحی پر بھی اعتراض کرتے تو اس وقت اس کے متعلق اس آیت
04:45یعنی صورت نمبر پچیس آیت نمبر بتیس تیس والا جواب دینا بلکہ صحیح ہوتا
04:50کیونکہ اس کے بعد وحی کی کوئی تیسری قسم تو موجود نہیں تھی
04:54لیکن اس حالت میں جبکہ دوسری قسم کی وحی پر کفار کو کوئی اعتراض ہی نہیں تھا
04:59ایسا جواب دینا ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا
05:03جبکہ بقول حضرات علماء حدیث دوسری وحی ان کاموں کے لئے موجود تھی
05:08ان حدیثوں کو بھی وحی مانا جائے تو کفار کا اعتراض بلکل حق بجانب ٹھہرتا ہے
05:13کہ جب ان امور کے لئے ایک دوسری وحی موجود ہے
05:16تو پھر قرآن کو یقبال کی کیوں نازل نہیں کر دیا جاتا
05:20اور حق تعالیٰ کے جوابات غلط ہو جاتے ہیں
05:23کہ قرآن کی سوا وحی کا دوسرا طریقہ موجود ہوتے ہوئے محمل جواب دیا جا رہا ہے
05:29اس سے قطن ثابت ہوتا ہے
05:31قرآن مجید کے علاوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دیگر ایسی باتوں
05:36جائر قرآن کے وحی ہونے کو ماننا سراصل باطل ہیں
05:40بہرحال اس سے معلوم ہو گیا
05:42کہ حق تعالیٰ کا بیان قرآن اور تفسیر تشریف خود قرآن ہی میں موجود ہیں
05:48اور خارج از قرآن آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان و تبہین
05:54جہاں تفسیر و تشریف الہی بیان سے الگ چیز ہے
05:57دونوں کو ایک کرنا غلط ہے
06:00تبہین کے دو معنی
06:02تبہین کے معنی جہاں تشریف و تفسیر کے آتے ہیں
06:05وہیں اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں
06:08کہ جو بات مجھے معلوم ہو گئی ہے
06:10میں اسے لوگوں پر منعن بے کم وکاس ظاہر کر دوں
06:14جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
06:16وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيْتَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ
06:25سورة نمبر تین آیت نمبر ایک سو ستاسی
06:28اور یاد کرو
06:30جب اللہ نے ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی
06:33یہ اہد لیا تھا
06:35کہ تم اسے لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے
06:39یعنی ظاہر کرو گے
06:40اور اسے چھپاؤ گے نہیں
06:41اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان اہل کتاب کو جن پر وہی نازل نہیں ہوتی تھی
06:48تاقیدی حکم دیتا ہے
06:49کہ کتاب اللہ کو لوگوں سے ہرگز نہ چھپانا
06:53کہ کہیں خود کو مذہبی ٹھیکے دار سمجھ کر
06:56صرف اپنے مخصوص حلقے تک اسے محدود رکھو
06:59اور عوام تک اسے نہ پہنچنے دو
07:02بلکہ لوگوں پر اسے ضرور ظاہر کرنا
07:04اسی طرح اللہ تعالیٰ سورة نمبر سولہ آیت نمبر چب والس میں
07:09اپنے رسول پاک کو فرماتا ہے
07:26اے پیغمبر
07:27ہم نے آپ پر اس ذکر
07:29یعنی قرآن کو اس لئے نازل کیا ہے
07:31تاکہ آپ لوگوں کے سامنے جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے
07:36اسے ظاہر کر دیں
07:37یعنی اسے چھپائیں نہیں
07:39شاید وہ غور و فکر کریں
07:41مطلب یہ کہ یہ قرآن ہم نے تیرے دل
07:44یعنی قلب پر اس لئے نہیں اتارا
07:46کہ تُو اسے اپنے پاس ہی چھپائے رکھے
07:48اور لوگوں کو نہ سنائیں
07:50یہ قرآن صرف انزلنا الہی کا
07:53ہم نے تم پر نازل کیا ہی نہیں ہے
07:56بلکہ ما نزلہ الہیم
07:58جو ان پر نازل کیا گیا ہے
08:00کے مطابق تمام لوگوں کے لئے بھی ہے
08:03پس یہ قرآن تجھ پر اس لئے اتارا گیا ہے
08:06کہ چونکہ یہ ان کی
08:08یعنی لوگوں کی طرف بھی اتارا گیا ہے
08:11تو تُو ان پر ظاہر کر دیں
08:13حق تعالیٰ نے جہاں لطبی جنہو لنناس
08:16کے مختصر الفاظ نہیں بولے
08:18بلکہ ایسے الفاظ دائے گئے ہیں
08:20تاکہ ظاہر کرنے کی وجہ بھی ساتھ ہی آ جائے
08:23لہٰذا لطبی جنہ لنناس
08:26ما نزلہ الہیم فرمایا
08:28یہ دلیل تبجین کے مذکورہ بالا
08:31یعنی ظاہر کرنے کے معنی کی ہی تاقید کرتی ہے
08:35باقی رہی غور و فکر
08:37اور تدبر والی تشریع و تفسیر
08:39تو وہ تو حضب الحکم
08:40قرآن کریم تمام لوگوں کا حق ہے
08:42جس میں رسول اور غیر رسول
08:44سب شامل ہیں
08:45اسی لئے اس آیت میں ساتھ ہی فرما دیا گیا
08:48کہ تفکر خود ان تمام لوگوں کا فرض ہے
08:51وَلَا عَلَّهُمْ جَتَفَكْرُونَ
08:53سورة نمبر سولہ آیت نمبر چوالیس
08:57بہرحال یہ بات بلکل واضح ہے
09:00کہ قرآن مجید رسول اکرم
09:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:04کے قلب اثر پر حضور کی ذاتی ملکت کی طور پر
09:07نازل نہیں ہوا کرتا تھا
09:09کہ اگر آپ چاہیں
09:11تو کوئی بات کسی کو پہنچا دیں
09:13ورنہ اپنے پاس ہی روک رکھیں
09:15نہیں نہیں
09:16بلکہ قرآن کریم
09:18اگرچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:21کی ذریعے اور واسطے سے آیا ہے
09:23مگر تمام جہان کی طرف اتارا گیا ہے
09:26اور اس پر سب کا یقصہ حق ہے
09:29چونکہ قرآن کریم
09:30سب لوگوں کے لئے یقصہ
09:32عطیہ الہی اور خوان
09:35یغمہ ہے
09:36اس لئے رسول کریم پر نحاس
09:38سختی کے ساتھ لازم کیا گیا تھا
09:40کہ ان لوگوں پر بھی اظہار کر دیں
09:42قرآن مجید میں
09:43اس کی بار بار تعقید آئی ہے
09:46کہیں فرمایا گیا ہے
10:02سورة نمبر پانچ
10:03آیت نمبر سر سر
10:05اے رسول
10:05جو کچھ آپ کی طرف
10:07آپ کے پروردگار کی طرف سے
10:09نازل کیا گیا ہے
10:10اسے آپ لوگوں تک پہنچا دیجئے
10:12اگر آپ نے ایسا نہ کیا
10:14تو آپ نے پیغام رسانی
10:16یعنی رسالت کی تبلیغ نہیں فرمائی
10:18آپ لوگوں سے نہ ڈیلئے
10:20اور اللہ آپ کو
10:21لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا
10:23اور کہیں ارشاد کیا ہے
10:26سورة نمبر پانچرہ
10:28آیت نمبر چورانوے
10:30تو جو کچھ اے رسول
10:31آپ کو حکم دیا جاتا ہے
10:33اسے کول کرواشگاہ کر کے
10:35سنا دیجئے
10:36اور سیکڑوں مرتبہ حکم دیا گیا ہے
10:39ذکر
10:40یاد دلا دیجئے
10:42اس کول ذکر کر دیجئے
10:44بشر بشارت دے دیجئے
10:46انذر بدعمالی کے نتائج سے
10:49ڈرا دیجئے
10:49کل کہہ دیجئے
10:51وحکم تو فیصلہ کر دیجئے
10:54حکم کر دیجئے
10:56نبیع ہم
10:57انہیں خبردار کر دیجئے
10:59وغیرہ وغیرہ
10:59ان تمام تعقیدوں سے
11:01اظہار کے سوا
11:02تفسیر و تشریف کے معنی
11:04کبھی نہیں لیا گئے
11:05لیکن ایک دفعہ
11:06لطبیجن کا لفظ آنے سے
11:08ہمارے موجز و محترم
11:10حضرات احرادیز کی طرف سے
11:12وحی موقع اظہار
11:14مراد نہیں لیا گیا
11:15حالکہ عام طور پر
11:17اس لفظ کے یہی معنی لیا گئے ہیں
11:19بلکہ محض بات بنا کر
11:21یہاں تبجین کے معنی
11:23تفسیر قرار دے دیئے
11:25اور تفسیریں کیسی
11:27وحی والی تفسیر
11:28جو صرف حق تعالیٰ کے لئے ہی خاص ہیں
11:31مگر وہ اس آیت کے حوالے سے
11:32حضور اکرم کے سپرد کر دی گئے ہیں
11:35حالکہ بندہ خواہ کوئی بھی ہو
11:37وہ صرف بشری عقل والی تفسیر
11:39ہی کر سکتا ہے
11:40وہی والی تفسیر کا کرنا
11:42تو صرف اسی کا خاصہ ہو سکتا ہے
11:45جو محض اپنے اختیار
11:46اور تصرف سے ہی وہی کیا کرتا ہے
11:48کیا خلائی خاصے کا حق
11:50یا منصف
11:51یا قوت
11:52یا اختیار
11:52کسی بندے کو بھی مل سکتا ہے
11:54قطر نہیں
11:55یہ صرف حضرات علماء
11:56اہلی حدیث کا ہی اختراح ہے
11:58حاصل یہ کہ
12:00چونکہ قرآن مجید
12:01لوگوں کی طرف نازل کیا گیا ہے
12:03اس لئے لازم ہے
12:04کہ اس کا اظہار
12:05دوسرے لوگوں کے لئے بھی کر دیا جائے
12:07زیر نظر آیت نمبر چھوالے
12:10سورت نمبر سورہ میں
12:11اسی دلیل کو پیش کر کے
12:13اس اظہار کا حکم دیا گیا ہے
12:15جو سینکڑوں آیتوں میں موجود ہے
12:17اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
12:19اور ہم نے تیری طرف یہ ذکر
12:21یعنی قرآن نازل کیا ہے
12:23ذکر کا لفظ خود چاہتا ہے
12:25کہ اسے لوگوں کو سنا دیا جائے
12:27اس لئے آگے فرمایا
12:29لِتُ بَيِّنَا لِلنَّاسُ مَا نُزِّلَا لَيْهِمْ
12:33تاکہ آپ لوگوں پر
12:34اس چیز کو ظاہر کر دیں
12:36جو ان کی طرف اتاری گئی ہیں
12:39پاکی رہی تدبر اور تفکر
12:42والی تفسیر
12:42سو وہ تو تمام لوگوں کا حق ہے
12:45اس لئے قرآن کے اتارنے کی
12:47دوسری وجہ یہ بتلائی
12:49تاکہ وہ خود تفکر کریں
12:51جیسا کہ اسی آیت کے آخر پر
12:53ارشاد ہوتا ہے
13:00اور تاکہ لوگ خود تفکر کریں
13:04اس مبارک آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا
13:07کہ اے پیغمبر
13:09تم اسے بیان کر دو
13:10بلکہ زمیر
13:11اسے کی جگہ
13:12یہاں قرآن مجید کا وہ نام
13:15وَعَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الزِّكْرَ
13:17اور ہم نے آپ کی طرف
13:19ذکر کو نازل کیا ہے
13:21ظاہر کر کے لائے گیا ہے
13:23جو اظہار قرآن کی بیان دریر ہے
13:27اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
13:30کہ اس آیت میں
13:31تبعین کے معنی اظہار کے ہیں
13:33کیونکہ تفکر کے لوگوں پر
13:36چھوڑنے سے بھی
13:37اس کی تائید ہوتی ہے
13:38اور ظاہر ہے
13:39کہ بندے کی تفسیر
13:41صرف وہی ہو سکتی ہے
13:43جو وہ خود اپنی بچری
13:44عقل سے کر سکے
13:46خدای تفسیر کا تو
13:49جو خود قرآن کریم میں موجود ہے
13:51بندہ ظاہر کرنے والا ہو سکتا ہے
13:53نہ کہ مفسر
13:54مفسر
Comments

Recommended