Skip to playerSkip to main content
File 07 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |


Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.

Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use

#Quran #Islam #Explore #hadees #hadith #research

Category

📚
Learning
Transcript
00:01یا ایوہالنبی لم تحرم ما احل اللہ لکن
00:06Surah 66 Ayat 1
00:08Ey Peygamber Islam,
00:10آپ ان چیزوں کو کیوں حرام کیے لیتے ہیں
00:13جنہیں Allah نے آپ کے لئے حلال کیا ہے
00:16لیکن جن عمر پر تنبیہ نہیں فرمائی گئی
00:19وہ مسلم رہتی تھی
00:20اس سے معلوم ہوتا ہے
00:22کہ وہ رسول Allah ﷺ
00:24اپنی بشری عقل سے اجتہاد فرمایا کرتے تھے
00:28اور جہاں تک حضور اپنی بشری عقل سے صحیح چلتے تھے
00:31خدا خاموش رہتا تھا
00:32مگر جہاں آپ غلطی کھا جاتے تھے
00:34خدا تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے سمجھا دیا کرتا تھا
00:38یعنی قرآن مجید کے سوائے
00:40باقی سب آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بشری فہمی تھا
00:44مگر چونکہ اس فہم کی غلطیاں خدا کی وہی نکال دیتی تھی
00:48اس لئے باقی اگر سے وہی نہ ہوتا تھا
00:51مگر وسلم رکھا جاتا تھا
00:53اس میں حضرات علماء کرام نے صاف اقرار کر لیا ہے
00:56کہ رسول اللہ کے کامات و اشہدات آپ کی اقل اختیار پر مبنی اشتہادات ہوتے تھے
01:03اور آپ کے فہم و اشتہاد میں غلطیاں بھی ہوتی تھی
01:07لیکن وہ بعد میں وحی الہی کے ذریعے نکال دی جاتی تھی
01:11لیکن پھر دوسری طرف ہمارے یہی علماء کرام
01:14اس کے بھی مدعی ہیں کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
01:18وہ بزریا وحی کے حق تعالی نے تفسیر قرآن کرنے کی قوت ادا فرمائی ہوئی تھی
01:23چنانچہ آپ کی تفسیر تفہیم الہی سے ہوا کرتی تھی
01:27حدیث نازل ہوتی تھی اور وحی خفی ہوا کرتی تھی
01:31جو قرآن کی علاوہ تھی وغیرہ وغیرہ
01:34ان دعویوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
01:37کا فہم پہلے سے یہ تفہیم الہی سے ہوا کرتا تھا
01:41اب اگر یہ صحیح ہے کہ آپ کا فہم تفہیم الہی سے تھا
01:45تو اس میں غلطی نہیں ہو سکتی جس کے بعد اس میں اصلاح فرمائی جائے
01:49اب ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات کو مانا جائے
01:52دوم ایک طرف یہ فرمایا جاتا ہے کہ
01:55آدھی سے نبی بتفیم الہی قرآن مجید کی تفسیر ہیں
01:59کون نہیں جانتا کہ جب تک متن موجود نہ ہو تفسیر کیسے ہو سکتی ہے
02:04اس سے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر
02:08قرآن مجید کی آیات نازل ہونے کے بعد ہی
02:11رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی جاتی تھی
02:14اس سے پہلے کہ پہم قرآن مجید کی تفسیر نہیں ہوتے تھے
02:18اور نہ وہ خلا کے سکھائے ہوئے ہی ہوتے تھے
02:22لیکن اس کے برحث قرآن مجید کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے
02:25کہ غزوہ بدر، غزوہ اہور، جنگ احضاب، جنگ ہنین وغیرہ کے واقعات کی توصیق
02:32کے تردید ان کے واقع ہو چکنے کے بعد قرآن میں نازل ہوئے تھے
02:36اور تمام روز مردہ کی ضروریات مثل، میراز، نکاح، طلاق، حرام و حلال،
02:42مصر و وضو وغیرہ کے احکام قرآن کریم میں مدینہ مرمورہ میں بہت بعد میں پیچھے لائے گئے
02:48حالکہ اس پر شروع سے ہی کسی نہ کسی طریقے سے عمل ہوتا آ رہا تھا
02:53اور اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے ضروری حالات
02:59بعد از حقوق قرآن مجید میں لانے ضروری سمجھے گئے
03:02تو مسکورہ والا غزوات میں جو کچھ آپ نے کیا تھا
03:06یا فرمایا تھا جن کا بعد میں تذکرہ قرآن کریم نے کیا ہے
03:11وہ کن آیات قرآن کی تفسیر تھے
03:13کیا وہ انہی آیات کی تفسیر تھے جو غزوات کے بعد نازل ہوئی
03:17تو کیا تفسیر پہلے آگئی تھی
03:19اور مطلع بعد میں نازل ہوا تھا
03:21اس طرح روز مردہ کی ضروریات
03:23مثلاً میراس، نکاح، طلاق، حرام و حلال
03:26غصر و غزو کے احکام جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئے تھے
03:30مکہ زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں ان کی بجا عبری ہوتی رہی تھی
03:34لیکن قرآن کریم میں اس وقت ان کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے
03:39ان کی بجا عبری آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ارشادات کے مطابق ہی ہو رہی تھی
03:45تو کیا وہ ارشادات جو آپ نے مکہ میں دیئے تھے
03:48ان آیات احکام کی تفسیر تھے جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں
03:52جہاں بھی وہی مشکل درپیش ہے کہ تفسیر پہلے آ رہی ہے اور مطلب بعد میں
03:56اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ضروری حالات
04:01بعد از وقوع قرآن کریم میں لانے ضروری سمجھے گئے
04:05تو کیا آپ کی زندگی کے وہ حالات جو آپ سے سرزد ہوئے تھے
04:09ان آیات قرآن کی تفسیر تھے جو بعد از وقوع قرآن کریم میں نازل ہوئیں
04:14ان تمام صورتوں میں تفسیر پہلے آ رہی ہیں اور مطلب یعنی قرآن کریم کے آیات
04:19بعد میں آ رہی ہیں ہمیں تو اس سے یہ نظر آتا ہے کہ بعد از وقوع جو آیات
04:24نازل ہوئیں ہیں ان سے مقصود ہی یہ بتانا ہے کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
04:30نے اپنے بچری اور اقلی استحاد سے جو کچھ فرمایا تھا یا جو کچھ کیا تھا
04:35جو کہ اس کی عبدی دینی حیثیت نہیں تھی یہ ان پولی اور پہلی آحادیث کی توسین کو تزدیق بعد
04:42میں قرآن میں نازل کر کے
04:43یہ بتانا مقصود ہے کہ اب وہ دین میں عبدی حجت ہوں گی
04:47لہٰذا حجیثوں کا قرآنی اصلاح اور تزدیق کی مہتاج ہونا اس سے ثابت ہو جاتا ہے
04:54سوم
04:54ایک تیسرا تضاد بھی ملاحظہ فرمائیے
04:57ایک طرف تو ہمارے حضرات علماء کرام اس کے مدعی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ
05:05احکام قرآن مجید ہی کا پہم دے
05:07اور دوسری طرف اس کے بھی مدعی ہیں کہ قرآن کے عام حکم کو آپ اپنے خصوصی اختیار سے خاص
05:14بھی کر سکتے تھے
05:15یعنی قرآن کا پہم تو حکم کے عموم کو بتا رہا ہے
05:19مگر رسول حکم خداوندی میں تخصیص کر لیتا ہے
05:23اور یہ تخصیص مفسروں والی تخصیص نہیں ہوتی
05:26جو کسی قرآن حکم یا اقلی صند سے کی جاتی ہے
05:29بلکہ یہ خدای حکم کے مطابق عرہدہ اپنا استقلال رہتی ہے
05:33اور اب یہ بات بلکل ہی واضح ہے
05:36کہ تخصیص محکوم سے الگ چیز ہی ہوتی ہے
05:39جس کے لیے الگ صند کی ضرورت لازم ہے
05:42بس خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو ہی وہ صند قرار دے لینا
05:47بتلاتا ہے کہ رسول کو قرآن کے خلاف کر لینے کا بھی مستقل حق حاصل ہے
05:53اہل حدیث حضرات کی طرف سے اس کی جو مثالیں دی جاتی ہیں
05:57علمے سے سب دو ملائزہ فرمائیے
06:07صورت نمبر چار آیت نمبر گیارہ
06:09خدا تمہیں تمہارے اولادوں کے بارے میں وسیعت فرماتا ہے
06:13کہ لڑکے کو اتنا حصہ ملے گا جتنا دو لڑکوں کو ملتا ہے
06:17قرآنی فہم کا تقاضی یہ ہے
06:20کہ یہ حکم عام ہو اور سب پر اس کا اطلاع کیا جائے
06:24لیکن کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
06:28نے اس کو غیر انبیاء کے لئے مخصوص کر لیا ہے
06:31اور آپ نے فرما دیا ہے
06:33ہم انبیاء کا گروہ ہیں
06:36نہ ہم کسی کے وارث ہوتے ہیں
06:38نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے
06:40ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سکتا ہے
06:46آشیہ نمبر ایک
06:48خواجہ صاحب کا یہ اعتراض
06:50اہل حدیث نفت نظر کے بموجب ہے
06:52ورنہ فرحقیقت اس حدیث میں کوئی حکم نہیں ہے
06:56بلکہ خبر ہے
06:57انبیاء علیہ السلام دولت اور روپیہ پیسہ
07:00یا زمین اور جائدات جمع ہی نہیں کر دیتے
07:03کہ ان میں وراثت کی تقسیم جاری ہو سکے
07:05جو کچھ ہوتا تھا وہ مملکت کی ملکیت ہوتا ہے
07:09البتہ انبیاء کی تحویر میں ہوتا ہے
07:11اور مرنے کے بعد وہ بعد میں آنے والے خریفہ کی تحویر میں چلا جاتا ہے
07:16اس پہ وراثت کہاں سے چلے گی
07:18ناشر
07:19نمبر دو
07:20قرآن کریم کا ارشاد ہے
07:23وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ
07:39سورة نمبر چوبیس آیت نمبر پچپن
07:42اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لے آئے ہیں
07:45اور صلاحیت بکش عامال کر رہے ہیں
07:48وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین میں خلافت آتا فرمائے گا
07:52جیسا کہ اس نے تم سے پہلوں کو خلافت آتا فرمائی تھی
07:56قرآن کا یہ حکم تمام اہل ایمان کیلئے عام ہے
08:00لیکن کہا جاتا ہے کہ آنسا صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:03اپنے اختیار خاص سے اسے خاص فرما لیا ہے
08:07اور حکم دے دیا کہ
08:08الْآئِمْ مَتُمْ مِنْ الْقُرَيْشِ
08:10اور الْخِلَافَةِ مِنْ قُرْيْشِ
08:13یعنی خلقہ قریش میں سے ہوں گے
08:15یا خلافت قریش میں رہی گی
08:17آشیہ نمبر دو
08:19یہ ادراز بھی اہل حدیثوں کے نفتہ نظر کے بہموجب ہے
08:22ورنہ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم نہیں ہے
08:27کہ عام حکم کو خاص کر لینا کا اعزام دیا جا سکے
08:31یہ محض خبر ہے
08:32اور واقعہ یہی ہے کہ آپ کے بار عائمہ قریش ہی میں سے ہوئے ہیں
08:39ہم اس فہم قرآنی کو سمجھنے سے بلکل قاسر ہیں
08:43جس میں غور و فکر کرنے والے کو یہ حق بھی حاصل ہوتا ہے
08:46کہ قرآن کے عموم حکم میں سے جسے چاہے
08:49مستثنہ کر لے اور عموم حکم کو خاص بنا لے
08:52چہاروں
08:53ہم نے اس سے پہلے گزارش کی تھی
08:56کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بشر تھے
08:59اور ہماری طرح ایک مخبوب تھے
09:01اور خالق اور مخبوب کی اطاعت میں فرق ہوتا ہے
09:04ہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت
09:07غیر وحیمیں ایسی ہی ہے
09:08جیسا کہ ہم حقام وقت کی
09:11یا ماں باپ اور استاذوں کی اطاعت کرتے ہیں
09:14اس کے جواب میں علماء اعیدیز کی طرف سے فرمایا جاتا ہے
09:18کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیتوں میں فرق ہے
09:22ایک حیثیت آپ کی بشریت ہے
09:24دوسری حیثیت آپ کی رسالت کی ہے
09:27ہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
09:29بشری حیثیت میں ہماری طرح ایک مخلوق ہیں
09:32اس حیثیت میں آپ کی اطاعت
09:34نہ فرض ہے نہ واجب
09:35لیکن بابس پہ رسالت اور بحیثیت نبوت
09:39ان کی شان یہ ہے
09:40کہ ان کی اطاعت بہینی
09:42اللہ کی اطاعت بن جاتی ہے
09:44حق تعالیٰ کا اشار ہے
09:45میں یوتی و رسول فقط اتا اللہ
09:48جو رسول کی اطاعت کرتا ہے
09:50وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے
09:52اس کی مثال
09:53ہائی کورڈ اور پریویو کانسل کے جج کی ہے
09:55وہ بحیثیت مملکت کا ایک فرض
09:58اور رعیت ہونے کی کوئی چیز نہیں
10:00یہی وجہ ہے کہ اس منصف پر
10:02مقرر ہونے سے پہلے
10:03اس کا فیصلہ کچھ بھی نہیں
10:05اور پینشن ہو جانے کے بعد بھی
10:08وہ حیث ہے
10:09لیکن بحیثیت وصف حکومت
10:11چیف جسٹس ہونے کے جو کچھ ہے
10:14وہ ظاہر ہے
10:15اس کے جواب میں جب سوال کیا گیا
10:17کہ ہائی کورڈ کا جج
10:19قبل اس تکرر اور بالاس پینشن
10:21تو کانون میں کوئی دخل نہیں رکھتا
10:23مگر جب وہ جج کے عوضے پر
10:25معمور ہو جاتا ہے
10:26تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے
10:28اس وقت اس کی رائیں
10:30اور فہم بیعینی
10:31کانون سمجھے جاتے ہیں
10:32بیعینی
10:33اسی طرح آپ کے ناظرین
10:35رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
10:37قبل اس نبوت پر بشتے
10:39اور بشری محدود
10:40فہم و اختیار رکھتے تھے
10:42مگر نبوت کے منصف پر
10:44سرپراز ہونے کے بعد
10:45کیا آپ کی حیثیت
10:46اس معنی میں بدل گئی تھی
10:48کہ آپ اب بشن نہیں رہے تھے
10:50اس وقت آپ کا وہی
10:52محدود بشری فہم
10:54بیعینی
10:54وہی کے مسابق ہو گیا تھا
10:56اور وہ
10:57اقلی اور اختیاری
10:59حیثیت سے نکل گیا تھا
11:00تو بجائے
11:01اس کا جواب دینے کے
11:02وہ ہم پر ناراض ہونے لگتے ہیں
11:04اس سے معلوم ہوتا ہے
11:06کہ ان حضرات کے نزدیک
11:07رسول اکرم کی
11:08زمان نبوت میں بھی
11:10بشری حیثیت نہیں وجہتی
11:12اور اس وقت بھی
11:13آپ کا وہی محدود
11:15بشری فہم
11:16بیعینی
11:17وہی کے مانن
11:18نہیں بن جاتا تھا
11:19اور اپنی
11:20اقلی حیثیت سے
11:21نہیں نکل جاتا تھا
11:22صرف ببست پر
11:24رسالت ہی
11:24حضور کی اطاعت
11:26بیعینی
11:26الحق تعالیٰ کی
11:27اطاعت بھی تھی
11:28چنانچہ
11:29قرآن کریم کی
11:30آیت سے بھی
11:31یہی معلوم ہوتا ہے
11:32کہ وہ
11:32رسول ہونے
11:33اور وقی ناظر ہونے
11:34کی حالت میں بھی
11:35بچر بھی
11:36ادھوتے تھے
11:37قل انما انا بشر
11:40مثلکم یوحا
11:42ایلی انما
11:45الہکم الہ واحد
11:48صورت نمبر
11:50اکتاریس
11:51بٹا چھے
11:52اٹھارہ بٹا
11:53ایک سو دس
11:54اے پیغمبر
11:55کہہ دیجئے
11:56کہ میں تو
11:57تم جیسا انسان ہی
11:59ہوں
11:59البتہ
11:59مجھ پر
12:00وہی آتی ہے
12:01کہ تمہارا
12:02معبوب
12:02ایک ہی معبوب ہے
12:03اور
12:04قل سبحان
12:05ربی
12:13اے پیغمبر
12:14کہہ دیجئے
12:15میرا پروتگار پاک ہے
12:16میں ایک بشر
12:18اور ایک رسول
12:19ہونے کے سوا
12:20اور کیا ہوں
12:20اس کے علاوہ
12:21قرآن کریم میں
12:22اس محقوں کی
12:23اور بھی
12:24کئی آیتیں ہیں
12:25جن سے یہی
12:26ثابت ہوتا ہے
12:27کہ رسول
12:27حالت رسالت
12:28بشری ہوا کرتے تھے
12:30وہ نبی
12:30ہو کر
12:31بشری حیثیت سے
12:32نکل نہیں جاتے تھے
12:33اگر علماء
12:34احر حدیث بھی
12:35اس بات
12:36کو تسلیم کرتے ہیں
12:37تو ہم میں
12:38اور ان میں
12:38کوئی اختلاف
12:39نہیں رہ جاتا
12:40ہم بھی یہی
12:41کہتے ہیں
12:42کہ زمانہ نبوت
12:43میں بھی
12:43رسول
12:44خدا کی
12:44بشری اطاعت
12:45صرف بشری اطاعت
12:46ہی رہتی تھی
12:47کچھ بدل
12:48نہیں جاتی تھی
12:49اقلی حیثیت سے
12:50خارج نہیں
12:50ہو جاتی تھی
12:51صرف وہی اطاعت
12:53خدا کی
12:53اطاعت ہوتی تھی
12:54جسے آپ
12:55محض
12:56بوست پہ
12:57رسالت
12:57پہنچا دیتے
12:58اور یہ ظاہر ہے
12:59کہ رسولی حیثیت
13:00کا کام
13:01صرف
13:01اور صرف
13:02بلاغ ہی ہوتا ہے
13:07صورت نمبر پانچ
13:08آیت نمبر
13:09ننانوے
13:09رسول کے ذمہ
13:11تو محض
13:11پہنچا دینا ہے
13:12اب ہم میں
13:13اور اہلِ حدیث
13:14حضرات میں
13:15صرف اتنا
13:15فرق رہ جاتا ہے
13:16کہ ہمارے نزدی
13:17بشری اطل کی
13:18اطاعت بھی
13:19بسا اوقات
13:20فرض ہوتی ہے
13:21مگر علماء
13:22اہلِ حدیث
13:22کے نزدی
13:23رسول کی
13:24بشری اطاعت
13:24اس قدر
13:29حاصل یہ کہ
13:30اس نقطے پر
13:31علماء اہلِ حدیث
13:32کے نزدی
13:32زمانِ نبوت
13:33میں بھی
13:34جبکہ
13:34حضور علیہ السلام
13:36وصف نبوت
13:37رکھتے تھے
13:38حضور صلی اللہ
13:39علیہ وسلم
13:40کی بشری اطاعت
13:41بشری اطاعت
13:42ہی رہتی تھی
13:43اس کی حیثیت
13:44کچھ بدل
13:45نہیں جاتی تھی
13:46لیکن
13:47ان حضرات
13:47کے دوسرے
13:48بیانات
13:49اس کے برخلاف
13:50ہیں
13:50اب ناظرین
13:51خود یہ بتائیں
13:52کہ ان کی
13:53ان دعووں میں
13:54سے کون سا
13:55صحیح ہے
13:55آیا زمانِ
13:56نبوت میں
13:57رسول کی
13:58بشری
13:58اور اقلی اطاعت
14:00بشری
14:00اور اقلی ہی
14:01رہتی ہے
14:01یا بدل
14:03ہاں حضور
14:04صلی اللہ
14:05علیہ وسلم
14:05کی بشریت
14:07ہمارے رسول
14:09مقبول
14:09صلی اللہ
14:10علیہ وسلم
14:11کوئی نئے
14:11انداز
14:12کے رسول
14:13نہ تھے
14:29صورت نمبر
14:3046 آیت
14:31نمبر
14:32اے پیغمبر
14:33کہہ دیجئے
14:34کہ میں
14:35کوئی
14:35انوکہ
14:36رسول
14:36تو
14:36ہوں
14:36نہیں
14:37مجھے
14:38کیا
14:38معلوم
14:38کہ
14:39کل
14:39کو
14:39میرے
14:39ساتھ
14:40اور
14:40تمہارے
14:40ساتھ
14:41کیا
14:41معاملہ
14:41کیا
14:42جائے
14:42گا
14:42میں تو
14:42اسی کی
14:43پیروی
14:43کرتا
14:44ہوں
14:44جو
14:44میری
14:45طرف
14:45وحی
14:45کی
14:45جاتی
14:46ہے
14:46میں
14:46تو
14:46صرف
14:47ایک
14:47کھلن
14:47کھلہ
14:48ڈرانے
14:48والا
14:49ہوں
14:49اور
14:49بس
14:50پہلا
14:51یا پچھلا
14:51یا درمیانی
14:52رسول
14:53ہونا
14:53ایک
14:53عمر
14:54اضافی
14:54ہے
14:55پچھلی حیثیت
14:56سے آپ
14:56بھی
14:56ویسے ہی
14:57رسول
14:57تھے
14:57جیسے
14:58دوسرے
14:58انبیاء
14:58تھے
14:59اس
14:59حیثیت
15:00سے
15:12وَلَوْلَا
15:13أَن ثَبَّتْنَا
15:15كَلَقَدْ كِتَّ تَرْكَنُ
15:17إِلَيْهِمْ
15:17شَيْئًا
15:18قَلِيلًا
15:19سورة
15:21نمبر سترہ
15:21آیت
15:22نمبر
15:22چہتر
15:23اور
15:24اگر ہم
15:25آپ کو
15:25ثابت
15:26قدم
15:26نہ رکھتے
15:26تو
15:27آپ
15:27ان کی طرف
15:28چھوڑا
15:29بہت
15:29چھوڑنے
15:29لگیتے
15:30اور
15:31کئی دفعہ
15:32صحب
15:32ہو چکنے
15:33کے بعد
15:33اطلع دی جاتی
15:34جیسے فرمایا
15:35يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ
15:42سورة
15:43نمبر
15:43چھے آسٹر
15:43آیت
15:44نمبر
15:44ایک
15:44اے پیغمبر
15:46آپ
15:46ان چیزوں
15:47کو
15:47اپنے
15:47اوپر
15:48کیوں
15:48حرام
15:48کیے
15:49لیتے ہیں
15:49جو
15:49اللہ
15:50نے
15:50آپ
15:50کے لئے
15:51حلال
15:51کی
15:51ہیں
15:51مزید
15:53ملائزہ
15:53ہو
15:54سورة
15:55نمبر
15:55نو
15:55آیت
15:56نمبر
16:03تیر
16:04وغیرہ
16:05نیز
16:06زبان
16:06رسول
16:06سے
16:07کہلوایا
16:07وَلَوْ كُنْتُ
16:08أَعْلَمُ
16:09الْغَيْبَ
16:10لَسْتَكْثَرْتُ
16:11مِنَ
16:11الْخَيْرِ
16:12وَمَا مَسَّنِ
16:13يَسُونَ
16:14سورة
16:15نمبر
16:16سات
16:16آیت
16:16نمبر
16:17ایک سو
16:17اٹھاسی
16:18اگر میں غیب
16:19جانتا ہوتا
16:20تو بہت سی
16:21بھلائی اکھٹی کر لیتا
16:22اور مجھے
16:23کوئی
16:24برائی
16:24نہ پہنچتی
16:25اس سے
16:26صاف
16:26معلوم
16:27ہوتا ہے
16:27کہ اگرچہ
16:28حضور صلی اللہ علیہ وسلم
16:29کو بعض
16:30غلطیوں کی
16:31اطلاع دی جاتی تھی
16:32مگر بعض
16:33ایسی تھی
16:34جن کا
16:34بلا تعیین
16:35و تشخیص
16:36ہی ذکر ہوا ہے
16:37پھر بعض
16:38کاموں کی
16:39اطلاع حضور
16:40کو بار بار
16:40دی جاتی تھی
16:41لیکن
16:41بشریت بھی
16:42عجیب چیز ہے
16:43کہ جناب صلی اللہ علیہ وسلم
16:44کے باوجود
16:45اطلاع کے
16:46ان کاموں
16:47کا ارادہ
16:48بلکہ
16:48عمل بھی
16:49وجود میں
16:49آ ہی گیا
16:50غم کرنے
16:51یعنی
16:52کافروں کے
16:52ناماننے پر
16:53غمگین ہونے سے
16:54آپ کو
16:55بار بار
16:55رکا گیا
16:56اور فرمایا
16:57لعلک باقع
16:58نفسک
16:59اللہ یکونو
17:00مؤمنین
17:01صورت نمبر
17:03چھبیس
17:03شاید آپ
17:04تو اپنے آپ
17:05کو
17:05ہلاک ہی
17:06کر ڈالیں گے
17:07کہ وہ
17:07مومن کیوں
17:08نہیں بن جاتے
17:09اور
17:10فلعلک باقع
17:12نفسک
17:13علی آثار
17:14ہم
17:21سورت نمبر
17:22اٹھارہ
17:23آیت نمبر
17:24چھے
17:24تو اے پیغمبر
17:25شاید آپ
17:26تو افسوس
17:27کے مارے
17:28ان کے پیچھے
17:28اپنے آپ
17:29کو ہلاک
17:29کر ڈالیں گے
17:30اگر وہ
17:31اس کلام
17:31یعنی
17:32قرآن پر
17:32ایمان
17:33نہ لے آئے
17:34اور
17:35فلا تذهب
17:36نفسک
17:36علیہم حسرات
17:38سورت نمبر
17:39پینتیس
17:40آیت نمبر
17:41آٹھ
17:41ان پر
17:42حسرتیں
17:42کرتے کرتے
17:43آپ کی
17:44جان ہی
17:44جاتی نہ
17:45رہے
17:45مگر
17:46چونکہ
17:46آپ
17:46بشر تھے
17:47اس لئے
17:48بشری
17:48طقاتوں
17:49سے
17:49آپ
17:49روکے
17:50نہ
17:50رہ
17:50سکتے
17:51تھے
17:51حضور
17:52صلی اللہ
17:52علیہ وسلم
17:53کوئی ایک
17:53مرتبہ
17:54قرآن
17:54مجید
17:55کے ساتھ
17:55جلدی
17:55کرنے
17:56سے
17:56روکا
17:56گیا
18:25وَلَا
18:55تُحرْ
19:25وَلَا
19:54اپنے
19:56رَبْ
20:17وَلَا
20:36رَبْ
21:06اَعْضَ
21:36لَنَا
21:37تو میں
21:38تو
21:38اب تک
21:39کبھی
21:39کا عذاب
21:39نازل
21:40کر چکا
21:40ہوتا
21:41اور
21:41میرے
21:41اور
21:42تمہارے
21:42درمیان
21:43کبھی
21:43کا
21:43فیصلہ
21:44ہو چکا
21:45ہوتا
21:45اور
21:45اللہ
21:46ظالم
21:46کو
21:47خوب
21:47جانتا
21:48ہے
21:48اس سے
21:49صاف
21:49معلوم
21:49ہوتا
21:50کہ جلد
21:50بازی
21:51بشریت
21:51کا
21:51تقاضہ
21:52ہے
21:52اگرچہ
21:53نبی
21:53اور
21:53رسول
21:54ہی
21:54کیوں
21:54نہ
21:54ہوں
21:57صورت
21:58نمبر
21:58اکیس
21:58آیت
21:59نمبر
21:59سنتیس
22:00انسان
22:00کے
22:00پیدائش
22:01ہی
22:01جلد
22:02بازی
22:02سے
22:02ہوئی
22:02ہے
22:03پھر
22:03حق
22:04تعالیٰ
22:04رسول
22:04کریم
22:05صلی اللہ
22:05علیہ
22:06وَلَا
22:08خلاف
22:08پرس
22:09غریبوں
22:09کو
22:09اپنے
22:10پاس
22:10سے
22:10نکال
22:10کا ظالم
22:11نہ بن جانا
22:12وَلَا
22:13تَقْرُدِ
22:13الَّذِينَ
22:14يَدْعُونَ
22:14رَبَّهُم
22:15بِالْغَدَا
22:16تِوَالْعَشِ
22:17يُرِيدُونَ
22:18وَجْهَهُ
22:18مَا
22:19عَلَيْكَ
22:19مِنْ
22:20حِسَابِهِم
22:21مِنْ
22:21شَيْءٍ
22:22وَمَا
22:22مِنْ
22:23حِسَابِكَ
22:23عَلَيْهِم
22:24وَمَا
22:25مِنْ
22:25حِسَابِكَ
22:26عَلَيْهِم
22:26مِنْ
22:27شَيْءٍ
22:28فَتَقْرُدَهُم
22:29فَتَقْرُدَهُم
22:30فَتَكُونَ
22:31مِنَ
22:31الظَّالِمِينَ
22:32سورة 6
22:34آیت 52
22:35اور ان لوگوں کو
22:37نہ ذوکار گئے
22:38جو اپنے پروردگار
22:39کو صبح شام پکارتے رہتے ہیں
22:41وہ محض خدا کی خوشنودی ہی چاہتے ہیں
22:44آپ کے ذمہ ان کا کچھ حساب نہیں
22:46اور آپ کے حساب میں
22:48کچھ ان کے ذمہ نہیں ہے
22:50کہ آپ انہیں ذوکار دیں
22:51اور یوں آپ ظالموں میں سے ہو جائیں
22:54اور دوسرے موقع پر پھر تاقید فرمائی
22:57کہ حیات دینوی کی زینتوں کا ارادہ کرتے ہوئے
23:01آپ غریبوں سے مو نہ موڑ لیں
23:02وَصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم
23:06بِالْغَدَاتِ وَالْعَشِي يُرِيدُونَ وَجْهَا
23:10وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ
23:13زِيْنَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
23:15وَلَا تُقِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُقَا
23:25سورة نمبر اٹھارہ آیت نمبر اٹھائیس
23:29اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ ثابت قدم رکھئے
23:33جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے
23:36اور اسی کی رضا کی خواہش رکھتے ہیں
23:38اور ان سے اپنی آنکھیں نہ پھیلئے
23:41کہ آپ دنیاوی زیب و زینت کی خواہش کرنے لگ جائیں
23:45اور جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے
23:48اور وہ اپنی خواہشات کا پیرو ہو گیا ہے
23:51آپ اس کی اطاعت نہ کیجئے
23:53اور اس کا معاملہ تو کلی زیادتی کا ہے
23:58حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ تر کمزور اور غریب لوگ ایمان لائے تھے
24:03اور قریش کے حقابر آپ کی مجلس میں ان غریبوں کی موجودگی سے قبیدہ خادر ہوتے تھے
24:08اور اسلام کی ہدایت سننے سے ان کی وجہ سے محروم رہ جاتے تھے
24:13حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے ملال ہوتا تھا
24:17آپ چاہتے تھے کہ قریش کے حقابر اسلام کی باتیں سنیں اور اسلام لائیں
24:21اس بنا پر بشری کمزوری کی بنا پر آپ سے غربہ اور کمزوروں کے ساتھ بے توجی اور غفلت کا
24:28صدور ہو جاتا تھا
24:29اور حق تعالیٰ کو اس پر بار بار تنبی فرمانی پڑتی تھی
24:32یہ بشریت کا تقاضی تھا اور آپ بشریت سے مبررہ نہیں تھے
24:41اللہ تعالیٰ رسول اکرم اور مومنوں کا ولی ہے
24:45اللہ تعالیٰ اپنے رسول کا ولی تھا
24:48اور جس طرح اللہ تعالیٰ رسول کا ولی تھا وہ تمام صالح بندوں کا بھی ولی ہے
24:53وہ اپنے رسول کی زبان سے کہلواتا ہے
25:06بے شک اللہ میرا ولی ہے جس نے اس کتاب یعنی قرآن مجید کو اتارا
25:12اور وہی صالحین کا بھی ولی بنتا ہے
25:14مومنوں کو بھی حق تعالیٰ اندھیروں سے نکال کر نور اور روشنی کی طرف لاتا ہے
25:20اور ان سے ان کی سیاد کو دور کر دیتا ہے
25:23اور انہیں سیدھے راستے پر چلا جاتا ہے
25:25چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
25:28وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
25:36سورة نمبر بائیس آیت نمبر چبون
25:39بتحقیق
25:40اللہ مومنوں کو سیدھے راستی کی طرف ہدایت کرنے والا ہے
25:44نیس ارشاد فرمایا
25:47وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
25:53سورة نمبر تین آیت نمبر ایک سو ایک
25:57جو شخص اللہ کے احکام کو مضبوط پکڑے
26:01سو وہ تحقیق سیدھے راستے کی طرف چلا
26:04ایسی بہت سے آیات قرآن مجید میں موجود ہیں
26:07ایسی آیات سے یہ نتیجہ نکال لینا
26:10کہ تمام مومن اور رسول منزع عن الخطہ ہو جاتے ہیں
26:14اور ان کی بچری عقل وحی الہی کا کام دیتی ہے
26:17سرطاپہ باطل ہے
26:20وحی کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہے
26:23عقل کا نہیں
26:24حق تعالیٰ نے جس چیز کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے
26:27وہ صرف کتاب عزیز یعنی وحی ہے
26:31باقی رہا وہ حصہ جو عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے
26:34اور جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحب بھی ہو جاتا تھا
26:38اور جو دوسروں کے تدبر و تفکر و تعاقل پر بھی ڈالا گیا ہے
26:43جس کے متعلق آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام سے مشورے لینے کا بھی حکم دیا گیا
26:50ہے
26:50فَعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
26:54فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
26:58إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّرِينَ
27:01سورة نمبر تین آیت نمبر ایک سو انسٹھ
27:04تو آپ اے پیغمبر انہیں معاف فرمائیں
27:08ان کے لئے استغفار کریں
27:09اور معاملات میں ان سے مشورہ فرمایا کریں
27:12تو جب آپ رفتہ رائے قائم کر لیں
27:15تو اللہ پر ورحصہ کیجئے
27:17اس کی حفاظت کا کوئی ذمہ نہیں لیا گیا
27:20اور نہ اس کی وہ حفاظت وقو میں آئی ہے
27:23جو اس وحی کے لائق ہونی چاہیے
27:25جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقصود ہو
27:27جو وحی ہمیشہ کے لئے مقصود ہوگی
27:29اس میں کوئی ادنا تغیر بھی راہ نہیں پا سکتا
27:38سورة نمبر پندرہ آیت نمبر نو
27:40بلا شبہ ہم نے اس ذکر قرآن کو نازل کیا ہے
27:45اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں
27:57اور سورة نمبر اکتالیس آیت نمبر بیالیس
28:00باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے
28:03نہ اس کے پیچھے سے
28:05یہ صاحب حکمت اور لائق حمد و سنہ ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے
28:09لہذا قرآن کریم کی حفاظت اور روایات کی
28:13عدم حفاظت کا مشاہدہ بھی
28:15اس عمر کی بیان دلیل ہے
28:17کہ قرآن کریم تو حجت ہے
28:19لیکن روایات ہرگز ہرگز حجت نہیں
28:21نیز خود رسول کریم کا انہیں محفوظ نہ کرنا بھی
28:25خود ان کی عدم حجت ہونے کی
28:27ٹھوس اور ناقابل تردید دلیل ہے
28:30کیونکہ حجت کو محفوظ نہ کرنے سے
28:33خود آپ کے فریضہ رسالت پر زد آتی ہے
28:37بدلتے ہوئے حالات اور انسانی عقل
28:40یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے
28:43کہ حیات انسانی جامد نہیں ہے
28:45بلکہ متحرک ہے
28:46اس کے حالات و واقعات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں
28:50ایک وقت وہ تھا
28:51کہ لڑائیوں میں اکیلے اکیلے بہادر نکلتے تھے
28:55اور دادے شجاعت دیتے تھے
28:57اب اس طرز عمل کو
28:58اگرچہ یہ سنت صحابہ اور سنت رسول ہی ہے
29:02دشمن کے مقابلے کے وقت
29:04محض حضور سمجھا گیا ہے
29:06کبھی تیر اندازی کو بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا
29:08اب توپ اور بندوق تو علیدہ رہیں
29:11رنگ رنگ محلق گیسیں تیار ہو رہی ہیں
29:14جو ہوائی جہازوں کے ذریعے جہاں چاہے پھیلائے جا سکتی ہیں
29:17اس وقت تو شکار کے لیے
29:18پرانی تیر اندازی کی کوئی وقت باقی نہیں رہی
29:21پھر جنگوں میں
29:22اس سنت صحابہ اور سنت رسول کی قوت
29:25سمجھنا قطن محلق ہے
29:27اب دیکھنا یہ ہے
29:28کہ ان بدلتے ہوئے حالات اور واقعات میں
29:30جو روز نئے نئے پیدا ہوتے رہتے ہیں
29:33بلکہ بسا اوقات نہایت مشکل
29:35اور پیچیدہ صورتیں بھی اختیار کر لیتے ہیں
29:37کیا ان کے حل کے لیے
29:39ہر وقت نئی نئی وحی ناظر ہونی شاہیے
29:41جبکہ انبیاء کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے
29:43اور ان کے حل کے لیے
29:45نئی وحی کے آنے کے امکانات
29:47متلقن ختم ہو چکے ہیں
29:48تو اگر اب ایسے ایسے معاملات
29:51وحی پر نہیں بلکہ ہماری
29:53کمزور عقل پر چھوڑے گئے ہیں
29:54تو کیا اسی طرح کے وقتی معاملات
29:56اہد رسالت میں بھی رسول کی عقل پر
29:59نہیں چھوڑے جا سکتے تھے
30:00رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو
30:02وہی تو ہماری ہدایت کے لیے ہی ہوتی تھی
30:05پھر جس چیز کو
30:06ہماری اپنی ہی کمزور عقل پر
30:09چھوڑنا منظور رکھا گیا ہے
30:10کیا وہ رسول کی اپنی عقل پر
30:12نہیں چھوڑی جا سکتی تھی
30:14دیکھئے جس طرح آج کل
30:16اپنی حفاظت کے خاطر گیسوں
30:18دور مارتوبوں ٹینکوں
30:20بمبار تیاروں سب میرینوں
30:23اور بموں کی خاص
30:24تاقید کرنے کے لیے
30:26کسی نئی وحی کی ضرورت نہیں
30:28تو کیا اسی طرح تیر اندازی کے
30:30زمانے میں تیر اندازی کی تاقید
30:32کرنے کے لیے وحی کی ضرورت تھی
30:34یا یہ وقتی تقاضی
30:36صرف عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے
30:39تاکہ آیت کریمہ
30:40وَأَعِدُّوا لَهُم مَسْتَقَعْتُم
30:43مِن قُوَةٍ وَمِن رِبَاطِ
30:46الخیل
30:47وَمِن رِبَاطِ
30:49الخیل تُرْهِبُونَ بِهِ
30:51عَدُوَ اللَّهِ وَعَدُوَكُم
30:53وَآخَرِينَ مِن دُونِهِ
30:56سورة نمبر آٹھ
30:57آیت نمبر ساٹھ
30:58اور ان کفار کے لیے جس قدر
31:01طاقت تم تیار رکھ سکو
31:02تیار رکھو مثلا سرحدوں پر
31:05گوڑوں کے رسالے باندھو
31:07تاکہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے
31:09دشمنوں پر اپنا روپ ڈال کر
31:11خوف زدہ رکھ سکو
31:12اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں
31:15کو بھی کے مطابق
31:16جس میں ہر زمانے کے مناسب
31:19پوجی قوت تیار کرنے کا حکم
31:21دیا گیا ہے وقتی تاکازوں کو
31:22ملحوظ رکھتے ہوئے جس دور میں
31:25صرف تیر و تفنگ کی ضرورت
31:27تھی اس وقت تیر و تفنگ کی
31:28پوجی طاقت مہایا کر لی جاتی تھی
31:31اور آج مولک
31:32گیسوں توبوں ٹینکوں اور تیاروں
31:35کی ضرورت ہے آج ہم
31:36یہ سب سامان بغیر کسی نئی وحی کی
31:39تاقید کے مہیا کرتے چلے جائیں
31:41صحیح مسلم میں ہے
31:42کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
31:45نے ارشاد فرمایا کہ
31:46جو تیر اندازی جانتا ہو
31:48پھر اسے ترک کرتے وہ ہم میں سے نہیں
31:51دیکھئے کیسی سخوائید ہے
31:53اب اگر یہ حدیث صحیح ہے
31:54تو یہ صرف اس زمانے کے لیے
31:56ایک اقلی حکم تھا
31:58حدیثوں کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
32:01تیر اندازی کا حکم دیا کرتے تھے
32:03اور اس میں لوگوں کے مقابلے بھی
32:05کرایا کرتے تھے
32:06لیکن اب آج کے دور میں
32:08اور تو اور خود بنی اسماعیل
32:10بھی جن کا باپ نبی
32:12اور مانا ہوا تیر انداز تھا
32:14اس حکم پر بوقت جنگ
32:16ہرگز ہرگز عمل نہیں کرتے
32:18ایسے حکموں کو
32:19وحی خفی کے نام سے خوام خواہ
32:21وحی الہی قرار دینا
32:28صورت نمبر ساتھ آیت نمبر اٹھائیس
32:30کیا خدا کے ذمہ وہ باتیں رگاتے ہو
32:32جن کا تمہیں علم نہیں
32:34کی وعید کے تحت آ جاتا ہے
32:36فتت بھرو
32:37وحی اور عقل کا بیان فرق
32:40قرآن مجید میں آیا ہے
32:41کہ دشمنوں کو ڈرانے کے لیے
32:43جو بھی قوت تم سے ہو سکتی ہے
32:45تیار کرو
32:46صورت نمبر آٹھ آیت نمبر ساٹھ
32:48اب اس حکم کے مطابق
32:50اسلامی حکومتوں کو آج کے دور میں
32:52تو ٹینک تیاریں
32:53ایٹم بم اور گیس وغیرہ
32:55تیار کرنے لازم ہیں
32:56لہٰذا اس آیت
32:58وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَسْتَقَعْتُمْ مِنْ قُوَّتِ
33:02صورت نمبر آٹھ آیت نمبر ساٹھ میں
33:04قوت سے مراد
33:06ہرگز ہرگز تیر اندازی نہیں ہو سکتی
33:08قرآن کریم نے
33:09قوت کا لفظ استعمال کرمایا ہے
33:11جو ہر دور کے رائج الوقت
33:13ہتھیاروں پر صادق آتا ہے
33:15ایٹم بم اور گیس پر ہی محدود نہیں
33:18آئندہ جتنی اختراق
33:20اصلحسازی کے سلسلے میں
33:22ہو سکیں گی وہ سب اس کا
33:23مصادق ہوں گے یہ وحی کے
33:25الفاظ ہیں لیکن صحیح مسلم میں
33:27اس آیت کی تفسیر میں آن حضرت صلی اللہ
33:29علیہ وسلم سے مروی ہے کہ
33:31اس آیت میں قوہ کے متعلق
33:33فرمایا سن رکھو تحقیق
33:35یہ قوت تیر اندازی ہے
33:37سن رکھو تحقیق یہ قوت تیر اندازی ہے
33:40سن رکھو تحقیق یہ قوت تیر اندازی ہے
33:43اگر یہ حدیث صحیح ہے
33:45جس میں فوجی قوت کو تین مرتبہ
33:47کے تقرار کے ساتھ تیر اندازی
33:49پر موقوف کیا گیا ہے
33:51تو یہ تفسیر خدا عالم الغیب
33:53کی طرف سے نہیں ہو سکتی
33:54جو یقینا جانتا ہے کہ فوجی طاقت
33:57کی تیر اندازی پر موقوف کر دینا
33:59سراسر غلط ہے
34:00کیونکہ اصلے کی دور ایک دن ایٹم بموں
34:03اور میزائلوں تک کو پیچھے چھوڑ جائیں گی
34:05لہٰذا یہ کچھ رسول مقبول
34:07صلی اللہ علیہ وسلم
34:08نے صرف اپنے گرد و پیش کے حالات
34:11کے مطابق اپنی محدود
34:12اقل و اختیار سے ہی ایسا فرمایا ہوگا
34:14اسے اقل کی حدود ہی میں
34:16محدود کہا جا سکتا ہے
34:18وہی تو قرار نہیں دیا جا سکتا
34:20اس سے وہی اور اقل کا فرق
34:22صاف واضح ہو جاتا ہے
34:23کہ وہی اپنے مفہوم کے لئے پیرائیہ بیان
34:26کیا اختیار کرتی ہے
34:28اور بچری اقل کیا اختیار کرتی ہے
34:31وہی صرف
34:32تصرف الہی میں ہے
34:34قرآن مجید حق تعالیٰ کی وحی ہے
34:37اسے حق تعالیٰ نے بغیر
34:38کسی کے مشورے یا خواہش کے
34:40دخل کے خاص اپنے تصرف
34:43اور دخل سے نازل فرمایا ہے
34:44نیچر اور نیچر میں دخل
34:47جسے کوئی ٹال نہ سکے دو چیزیں ہیں
34:49ان کا فرق پہلے بیان ہو چکا ہے
34:51اقل اور وحی میں بھی
34:53بلکل یہی فرق ہے
34:54تعظیم اور عبادت کا امتیاز
34:57بھی اسی سے ہو سکتا ہے
34:58نیچرل یعنی مادی
35:01ولایت اور مدد دوسروں سے طلب کی جا سکتی ہے
35:04مگر تصرفات
35:06ولایت اور مدد
35:07صرف حق تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے
35:12سورة نمبر اٹھارہ
35:14آیت نمبر چھوالیس
35:15وہاں تو ولایت اللہ ہی کے لیے ہے
35:17جو حق ہے
35:18اسی طرح اقلی مدد اور مشورہ
35:21دوسروں سے بھی مانگ سکتے ہیں
35:23لیکن وحی مانگ کر
35:24یا خواہش کر کے
35:25یا دعا کر کے نہیں لی جا سکتی
35:28کیونکہ وحی کرنا
35:29بلا دخل غیرے
35:31حق تعالیٰ ہی کا اپنا کام ہے
35:33آبیدانہ اطاعت اور
35:34آقلانہ و منتزمانہ اطاعت
35:37قرآن مجید صرف
35:38اقلا ثابت شدہ حق ہی نہیں
35:40بلکہ ایسا حق ہے جو خود
35:42حق تعالیٰ نے بتلایا بھی ہے
35:44اس قرآن کی اطاعت محض
35:46اقلی اطاعت ہی نہیں
35:47بلکہ حق تعالیٰ کی آبیدانہ اطاعت ہے
35:50اب اگر وحی الہی
35:52یعنی خدا کی اطاعت کے ساتھ
35:54کوئی اور اطاعت بھی لازم قرار دے دی جائے
35:56اور اسے بھی آبیدانہ اطاعت سمجھا جائے
35:59تو اس سے سراتا دو معبودوں
36:01کا ماننا لازم آئے گا
36:02حق تعالیٰ اس بلہ سے
36:04اپنی حفظ و امان میں رکھے
36:06آمین
36:06اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے
36:08خدا کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
36:11کی الگ اطاعت
36:12ہرگز ہرگز آبیدانہ اطاعت نہیں
36:15بلکہ محض آقلانہ و منتزمانہ
36:17اطاعت ہو سکتی ہے
36:19بلا شبہ اطاعت دو قسم کی ہے
36:22ایک آبیدانہ
36:23دوسری آقلانہ و منتزمانہ
36:25آبیدانہ اطاعت صرف وہی الہی کی ہے
36:27اس کے برقس استاد
36:29ماں باب
36:30حکیم
36:30ڈاکٹر
36:31اور حکام
36:32اسربرہ کی اطاعت آقلانہ
36:34اور منتزمانہ ہے
36:35حاصل یہ کہ
36:36جس اطاعت میں کسی کے ذات
36:38کو ہی اصل دلیل بنایا جائے
36:40اور اس کے ساتھ
36:41کسی دوسری دلیل کے ہونے
36:42نہ ہونے کی
36:43کوئی ضرورت نہ سمجھ جائے
36:45وہ اطاعت
36:46اس کی عبادت ہوتی ہے
36:48یہ اطاعت آبیدانہ ہے
36:50اور یہ سوائے حق تعالیٰ کے
36:52کسی اور کے لائق
36:53ہرگز نہیں ہے
36:54اور حق تعالیٰ
36:55کسی کو بھی
36:56اپنے ساتھ
36:56ایسی اطاعت
36:57تو حق دار نہیں بناتا
36:59وَلَا يُشْرِقُ فِي حُکْمِهِ اَحَدَا
37:02سورة نمبر اٹھارہ
37:04آیت نمبر چھبیس
37:05اور وہ اپنی حکومت
37:07یا حکم میں
37:08کسی کو شریک نہیں کرتا
37:09نصارہ
37:11اپنے احبار و رہبان
37:12علماء و درویش کی
37:14اور مسیح ابن مریم کی
37:16عابدانہ اطاعت کرتے تھے
37:18ان میں
37:18پوپوں کی ایسی اطاعت
37:20آج تک چلیا رہی ہے
37:22اللہ تعالیٰ نے فرمایا
37:23کہ انہوں نے
37:24اپنے احبار و رہبان
37:26کو اللہ کے سوا رب بنا لیا
37:28اور چونکہ یہ عابدانہ اطاعت
37:30حضرت مسیح ابن مریم
37:31علیہ السلام کی بھی
37:33قطن حرام ہے
37:34اس لئے آیت میں
37:35اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا
37:50صورت نمبر نو
37:51آیت نمبر اکتیس
37:53انہوں نے
37:54اپنے علماء اور پادریوں
37:56کو اللہ کے علاوہ
37:57اپنا رب بنا لیا
37:58اور مسیح ابن مریم کو بھی
38:00یاد رہے کہ
38:02انبیاء اور رسل
38:03لوگوں کو
38:04اپنے عابد اور عبد
38:06بنانے کے لئے
38:07نہیں آئے تھے
38:08مَا كَانَ لِبَشَرٍ
38:10أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ
38:11الْكِتَابَ
38:12وَالْحُقْمَ
38:13وَالْنُبُوَّةِ
38:15ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ
38:17كُونُوا عِبَادًا لِي مِن دُونِ اللَّهِ
38:21وَلَاكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ
38:24بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ
38:26الْكِتَابَ
38:27وَبِمَا كُنْتُمْ تَدُرُسُونَ
38:30صورت نمبر تین
38:31آیت نمبر 89
38:32کسی انسان کو یہ بات زیبہ نہیں
38:35کہ اللہ اسے کتاب
38:36حکومت اور نبوت عطا فرمائے
38:39پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے
38:40کہ تم سب خدا کے بجائے میرے بندے
38:43مُتھی اور فرموبردار بن جاؤ
38:45لیکن وہ تو یہی کہے گا
38:47کہ اللہ والے بن جاؤ
38:49کیونکہ تم کتاب الٰہی کی تعلیم
38:51دیتے رہے ہو
38:52اور اسی کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہو
38:55قرآن کہتا ہے
38:57کہ کیا یہ لوگ پہلے موحط تھے
38:59اور رسول انہیں مشرق بنانے کے لئے
39:01بھیجے جاتے تھے
39:02وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّقِذُ الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا
39:11اَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
39:16صورت نمبر تین
39:18آیت نمبر 80
39:19اور وہ تمہیں یہ حکم بھی نہیں دے گا
39:22کہ تم فرشتوں اور انبیاء کو اپنا رب بنا لو
39:25کیا وہ اس کے بعد
39:27کہ تم اسلام لا چکے ہو
39:28تمہیں کفر کرنے کا حکم دے گا
39:30ہرگز نہیں
39:31ماذا اللہ
39:33یہی آبیدانہ اطاعت ہیں
39:35جس کے لئے بار بار فرمایا ہے
39:37کہ حکم خدا کی سوا کسی کا نہیں ہے
39:39سن رکھو
39:40کہ حکم صرف اسی کا ہے
39:42ان الحکم اللہ
39:44صورت نمبر 6 آیت نمبر 57
39:46صورت نمبر 12 آیت نمبر 40
39:49صورت نمبر 18 آیت نمبر 36
39:52خبردار پیدا کرنا اور حکم کرنا
39:55صرف اسی کے لئے ہے
39:56اللہ لہو الحق والعم
39:59نے اس فرمایا
40:00کہ میں خدا کے سوا کوئی اور حکم بنا لوں
40:06صورت نمبر 6 آیت نمبر 114
40:09جبکہ
40:14صورت نمبر 21 آیت نمبر 23
40:17جو کچھ بھی وہ کرتا ہے
40:20اس سے کوئی نہیں پوچھ سکتا
40:21البتہ ان سب سے پوچھا جائے گا
40:24وغیرہ وغیرہ
40:25برست اس کے دوسری آیتوں میں
40:27حق تعالیٰ کے سوا بھی حکم بتلائے گئے ہیں
40:30مثلا جائز باتوں میں
40:32مع باب کیتا ہے
40:33وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِبْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ
40:36يَا بُنَيْ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ
40:40اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
40:43وَوَصْيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ
40:46حَمَلَتْهُ أُمُّهُ
40:48حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنُ
41:20وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ
41:21شریک نہ کرنا
41:22یقیناً شرک بڑا ہی ظلم ہے
41:25اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وسیعت کی ہے
41:29اس کی ماں نے اسے زوف پر زوف کے باوجود پیٹ میں اٹھائے رکھا
41:33اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑایا
41:35کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرتے رہنا
41:39تم کو میری طرف ہی لوٹنا ہے
41:41ہاں اگر والدین تمہیں میرے ساتھ کسی کو شریک ماننے پر مجبور کریں
41:46جسے تم شریک نہیں جانتے
41:48تو اس کی ہرگز اطاعت نہ کرنا
41:51مومن حاکم کی اطاعت
41:54یا ایوہا الذین آمنوا
41:57اقیعوا اللہ و اقیعوا الرسول و اولیل امر منکم
42:03صورت نمبر چار آیت نمبر انسٹھ
42:05اے پیروانے دعوت ایمانی
42:07اللہ کی اطاعت کرو
42:09اور رسول کی اطاعت کرو
42:11اور اپنے میں سے عرباب حکومت کی بھی
42:13اور چونکہ قرآن مجید میں مطلقاً اختلاف نہیں ہے
42:17اس لئے لازم آتا ہے
42:19کہ دونوں قسم کی حکم مختلف قیفیت کے ہوں
42:22اس سے صاحب پل جاتا ہے
42:24کہ حق تعالیٰ کی اطاعت آبیدانہ اطاعت ہے
42:27اور دیگر حکموں کی اطاعت خواہ رسول ہوں
42:30یا غیر رسول
42:31حکام ہوں یا معوا
42:32صرف اقلی و انتظامی اطاعت ہے
42:35حق تعالیٰ کی آبیدانہ اطاعت میں
42:38کسی نبی اور رسول کو بھی شامل کرنے سے
42:40لا محالہ شرک ہو جائے گا
42:42اور مومن کے لئے اس سے پرحیز لازم ہے
42:45موسیقی
42:45موسیقی
Comments

Recommended