00:00This is true, Allah.
00:03So, what does he say?
00:064.
00:08A.
00:088.
00:091.
00:176.
00:176.
00:197.
00:248.
00:259.
00:26and by the way that is provided in the prayers of the IELTS?
00:33but by the way that was the only method of IELTS?
00:37so I can't say that if I could bear my prayers
00:45then I will read for you
00:46to go to the AELTS?
00:48so if as you could touch on this
01:13Surah number 10, ayat number 94
01:16تو اے پیغمبر اگر تمہیں اس کتاب کے متعلق جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے کوئی شک
01:23ہو تو آپ ان لوگوں سے پوچھئے جو آپ سے پہلے خدا کی کتاب پڑھتے رہتے ہیں
01:28جقیناً آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے حقی آیا ہے لہٰذا آپ شک و شعبہ کرنے والوں
01:35میں سے نہ بنیے
01:36اگر کسی بات کا علم نہ ہو تو اہل ذکر سے سوال کرنا
01:46Surah number 16, ayat number 43
01:49اگر تم نہ جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو
01:53اہل الرائے لوگوں سے مشورہ بھی کر لینا
01:57وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّرِينَ
02:06Surah number 3, ayat number 169
02:09اور ان سے مشورہ کر لیا کرو
02:12تو جب آپ مشورہ کر کے بات تیہ کر چکے
02:16تو اس کے بعد اللہ پر بھروسہ کیجئے
02:19اور جو لوگ تمہارے تابع دار ہیں
02:21انہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے
02:23وَأَمْرُهُمْ شُورَا بَيْنَهُمْ
02:26Surah number 42, ayat number 38
02:28اور مسلمانوں کے تمام معاملات باہمی مشورے سے تیہ ہونے چاہئے
02:33تو اس سے یہ تمام باتیں اپنے اقلی درجے سے نکل کر
02:37وہی الہی کا درجہ نہیں پالیں گے
02:39اس اقلی تحقیق و تدبر میں
02:42وہ ایلچی اور اس کے پیرو ایک ہی کیفیتی ہوں گے
02:46بہرحال وحی الہی حاکم ہے
02:49اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:53اور جملہ مومنین
02:55اپنے اپنے بشری اور محدود فہم و اختیار کے مطابق
02:58اس کے محکوم اور متی ہیں
03:00یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے
03:03کہ وحی الہی جو حاکم ہے
03:05وہ اور چیز ہے
03:06اور انسانوں کی بشری اور محدود اقل و اختیار والے مطابق
03:10چیز سے دیگر ہے
03:11یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے
03:14کہ اقلی اور اختیاری اطاعت میں
03:16بشری کمزوریوں کا بھی دخل ہوتا ہے
03:18یہ وحی جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں
03:21چونکہ وہ اختیار انسانی کے
03:23کسی ادنہ شائبے کے بغیر
03:25صرف تصرف الہی سے ہی ہوتی ہے
03:27اس لئے لازم ہے
03:28کہ وحی پانے والا انسان
03:30اس وقت معمول کی حالت میں ہو
03:32اور اس کا اپنا اختیار و ارادہ
03:34اس وقت بلکل جاتا رہے
03:36اور قطعان معطل ہو جائے
03:38تاکہ اس وحی میں
03:40ان جذبات کی کسی رنگ کی
03:41بلکل آمیزش نہ ہونے پائے
03:43جو انسانی اختیار و ارادے کا تقاضہ ہے
03:46یہ حالت دیکھنے والوں کو بھی
03:48نظر آسکتی ہے
03:49چنانچہ قرآنی نزول کی حالت
03:52کو صحابہ بھی دیکھتے تھے
03:53اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
03:55سورت نمبر پانچ آیت نمبر ایک سو ایک
04:17اے پیروان دعوت ایمانی
04:20ان باتوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو
04:23جو اگر ظاہر کر دی جائیں تو
04:25تمہیں دکھ میں ڈال دیں
04:26اور اگر ان کا اس وقت سوال کرو گے
04:29جس وقت قرآن مجید نازل کیا جا رہا ہو
04:32تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی
04:35اللہ نے ان سے درگزر کیا ہوا ہے
04:38اور اللہ غفور و حلیم ہے
04:40اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
04:42کہ وحی کی حالت ایک خاص طرح کی ہوتی تھی
04:45جو لوگوں پر واضح ہوتی تھی
04:47حق تعالیٰ نے اس حالت کی خصوصیت
04:50صرف قرآن مجید کے ساتھ دکھائی ہے
04:52لیکن حدیثوں کے بیان کے وقت
04:54رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:56عام بشری اقل و اختیار والی حالت میں ہوتے تھے
05:00اور لوگوں کے ساتھ برابر میل جول رکھتے
05:02اختیاری سوال جواب اور گفتگو فرماتے تھے
05:06حاصل یہ کہ جو حدیثیں واقعے میں بھی
05:10رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
05:14ان افوال و اقوال کا نام ہے
05:16جو آن جناب نے
05:17اپنی بشری فہم و اختیار کے مطابق
05:20حضب زمانہ وحی الہی کے مطابعت میں
05:23کیے اور کہے
05:24اب یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے
05:26کہ یہ مطابعت کسی حاکم کی تھی
05:28آیا صرف قرآن مجید ہی کی مطابعت تھی
05:31یا کسی اور وحی کی بھی
05:33اگر کوئی اور مران وحی بھی تھی
05:35جس کی بشری مطابعت میں
05:37یہ حدیثی اقوال و افوال صادر ہوئے
05:39تو ان کی نشاندہی ہونی چاہئے
05:42کیا کوئی صاحب
05:44اس کا نشان بتائیں گے
05:45اگر یہ صرف قرآن مجید ہی کی وحی تھی
05:48تو ہمارا تو اس پر پہلے ہی ایمان ہے
05:51اور بقول علماء حدیث حضرات کا یہی مذہب ہے
05:54کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے
05:58وہ قرآن مجید سے فہم کر کے کیا ہے
06:00اور یہ بات آفتاب عالمتاب کی طرح روشن ہے
06:04کہ انسانی فہم کوئی ایسی چیز نہیں ہے
06:06جو دوسروں کو کبھی بھی سمجھ میں نہ آسکے
06:09جبکہ فہم کا منشاہ و مدار
06:11یعنی قرآن مجید بھی ہمارے پاس موجود ہے
06:13اس سے معقول حدیثوں کو پرکنے اور جانچنے کا ایک اور یقینی ذریعہ بھی ہمارے ہاتھ آ جاتا ہے
06:21ایک مغالطہ اور اس کا جواب
06:24علماء حدیث کی طرف سے اکثر و بیشتر کہا جاتا ہے
06:28کہ ہم حدیث نبی کے متعلق وہی اعتقاد رکھتے ہیں
06:32جس کا اظہار امام شافی نے کیا ہوا ہے
06:36یعنی آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے احکام ارشاد فرمائے ہیں
06:42وہ سب کے سب وہ ہیں جو آپ نے خود قرآن مجید سے سمجھے ہیں
06:46اتقان سیوتی
06:49جس کو حافظ ابن قیم مرہوم نے زاد المیاد میں مفصل بیان کیا ہے
06:55اس عقیدے کا ثبوت قرآن مجید سے ملتا ہے
06:58اللہ تعالیٰ نے قرآن کا بیان کرنا اپنے ذمہ لیا ہے
07:03ارشاد ہے سورت نمبر 75 آیت نمبر 18 اور 19
07:08ان علینا جمعہ و قرآنہ ثم ان علینا بیانہ
07:15چکیناً قرآن کو جمع کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہیں
07:19پھر بے شک اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ داری ہے
07:23لیکن اس فرض الہی کو دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا گیا ہے
07:31وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
07:42آیت نمبر 44
07:44ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر یعنی قرآن اس لئے نازل کیا ہے
07:48کہ آپ لوگوں کے لئے وہ باتیں بیان کر دیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں
07:53شاید وہ غروف فکر سے کام لیں
07:55یہ آیت صاف بتا رہی ہے
07:58کہ قرآن کا بیان کرنا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرض قرار دیا گیا ہے
08:04اور سابقا آیت
08:05آیت نمبر 19
08:07صورت نمبر 75
08:08نے اس بیان کو فرضِ الٰہی بتایا ہے
08:12ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے
08:15کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرآن کو بیان کرنا
08:19کسی عالم یا مشتہید کے بیان کے مثل نہیں ہے
08:22بلکہ یہ بیان بیانِ الٰہی ہے
08:25اس کی مثال آج کل کی اسطلاح میں یوں ملتی ہے
08:28کہ قانون سازی لیجسلیٹیو کانسل کا کام ہے
08:31ہائی کورٹ کا کام قانون سازی نہیں
08:34بلکہ قانون کی تشریح و تفسیر ہے
08:37مگر جس قانونی دفعہ پر
08:39ہائی کورٹ کسی صورت میں فیصلہ کر دے
08:41اور اس کی جو توضیح و تشریح کر دے
08:44تو تمام صوبے کے لئے وہ فیصلہ
08:47یا تو تشریح و توضیح مثل قانون کی نافذ ہوتی ہے
08:50اور اگر پریویو کانسل کے جج کسی جانب رائے قائم کر دیں
08:54تو سارے ملک کے لئے وہ حجت ہو جاتا ہے
08:57حالانکہ وہ فیصلہ قانون نہیں
09:00بلکہ قانون کی تشریح اور حضب قانون فیصلہ ہے
09:03ٹھیک اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:07کی حدیث کو قرآن مجید کے ساتھ خاص نزبت ہے
09:10اسی لئے حدیث نبی کے احکام کو
09:12خدا تعالیٰ نے احکام الہیہ میں شمار کیا ہے
09:15چنانچہ ارشاد ہوتا ہے
09:17اَلَمْ تَرَئِلَ الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّ اَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُ الصَّلَاةِ
09:24سورة نمبر چار آیت نمبر ستتر
09:27اے نبی آپ نے ان لوگوں کو دیکھا
09:30جن کو کہا گیا کہ
09:31جنگ سے ہاتھ بند رکھو
09:33اور نماز برتے رو
09:35اس آیت میں جو کفو ایدی اکم کا حکم ہے
09:39وہ قرآنی حکم میں نہیں ملتا
09:41پھر اس حکم کو واجب الاتبا قرار دے کر
09:45الزام کیوں لگایا گیا
09:46اس کا جواب یہی ہے
09:48کہ وہ زبان نبوت کا ارشاد تھا
09:51اور حکم الہی کے برابر قرار دے دئے گیا
09:54واللہ عالم
09:56دوسری مثل اس کی یہ آیت ہے
09:58وَمَا جَعْلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا
10:03سورة نمبر دو آیت نمبر 143
10:06جس قبلہ بیت المقدس پر تو اے نبی تھا
10:10ہم نے اس کو اس لئے مقرر کیا تھا
10:12کہ تابین کو غیر تابین سے جزا کر دیں
10:15اس آیت میں جعلنہ کا مفہول بھی
10:18الْقِبْلَةَ کو بتایا ہے
10:20اور جعلنہ کو فیلِ الٰہی بتایا ہے
10:23حالانکہ کسی کو بھی قرآن مجید میں
10:25تلاش کرنے کے لئے
10:26کوئی ایسا فکرہ نہیں مل سکتا
10:28جس میں یہ حکم ہو
10:30کہ بیت المقدس کی طرف مو کر کے نماز پڑھو
10:32جس سے اس حکایت کا موقع من مل سکے
10:36آپ قرآن مجید میں
10:38ان احکام کی تلاش پر کامیاب نہیں ہو سکتے
10:42اس سارے اقتباس کا حاصل یہ ہوا
10:44کہ حق تعالیٰ نے
10:46سورة القیامہ میں یہ بتایا تھا
10:48کہ قرآن کریم کو پڑھوانا
10:50اور اس کی تفسیر بیان کرنا
10:52ہمارے ذمہ ہیں
10:54لیکن سورة نحل میں یہ فرما دیا ہے
10:56کہ ہم نے یہ ذکر
10:58یعنی قرآن اے نبی آپ کی طرف
11:00اس لئے اتا رہے
11:02تاکہ آپ لوگوں کے لئے
11:04وہ جو ان کی طرف بتا رہا گیا ہے
11:07بیان کر دیں
11:07تاکہ وہ اس میں تفکر کریں
11:10سورة نمبر سولہ آیت نمبر چب والس
11:12اور ہمارے محترم علم حدیث
11:14فوراً اس نتیجے پر پہنچ گئے
11:16کہ خدای بیان و تفسیر
11:18اور رسولی تبیین ایک ہی چیز ہے
11:20حالانکہ اس سے پہلے
11:22خالق و مخلوق اور وحی اور
11:24عقل کے درمیان جو فرق ہے
11:26ہم نے تفسیر سے بیان کر دیا ہے
11:28وہاں ہم نے کہہ دیا کہ
11:29خدای تفسیر وہ ہے
11:31جو خود قرآن کریم میں موجود ہے
11:33اور جس کی وجہ سے
11:34قرآن کریم کو آہستہ آہستہ
11:36اتارنا ضروری قرار دیا گیا
11:38تاکہ وہ تفسیر خود قرآن کی میں آ جائے
Comments