Skip to playerSkip to main content
File 12 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |


Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.

Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use

#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research

Category

📚
Learning
Transcript
00:00حضور اکرم کی تمام اجتحادی غلطیاں قرآن نے نہیں نکالیں
00:03یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے
00:05کہ فریقین میں سے لعان کے واقعے میں
00:08ایک فریق تو یقینا جھوٹا تھا
00:10اور سزا کا مستحق بھی تھا
00:12لیکن عدالت نبوی سے دونوں فریقوں کا برات کا پروانہ مل گیا
00:16اور دونوں سزا سے بچ گئے
00:17ان میں سے ایک فریق جو یقینا جھوٹا تھا
00:20اس کو آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے برات کا پروانہ مل جانا
00:25اور سزا سے اس کا بچ جانا یقینا غلط تھا
00:28اور وحی جلی نے آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
00:31اس غلط فیصلے کی تصحیح آج تک بھی نہیں فرمائی
00:35لہذا یہ دعویٰ بھی غلط ہو گیا
00:37کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتحادی غلطی تو ہو جانی ممکن تھی
00:41مگر وحی جلی سے اس غلطی کو فوراں درست کر دیا جاتا تھا
00:45اور یہ کہ جب کسی فیصلے کے خلاف کوئی تنبی نازل نہیں ہوئی
00:49تو ثابت ہو گیا کہ وحی الہی نے اس فیصلے کو مسلم رکھا ہے
00:53اس لئے وہ وحی کے حکم میں ہے
00:56بشریت رسول
00:57ہر رسول بشر ہی ہوتا ہے
01:24تمام آیتیں ہم نے تفصیلی طور پر شروع میں بیان کر دی ہیں
01:28حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بشر ہی تھے
01:31سوال یہ ہے کہ حضور اکرم کی فطرت بے اینی
01:35وہی فطرت تھی جو عام انسانوں کی ہوا کرتی ہے
01:38یا اس سے کچھ مختلف تھی
01:40یعنی رسول اللہ کی فطرت قطعان فطرت الناس تھی
01:43یا وہ فطرت الناس سے جدہ فطرت تھی
01:46کیا حضور میں کوئی خاص قوت یا سمجھ یا باریک بھی نہیں
01:50ایسی بھی تھی جو قیامت تک دوسرے بشروں انسانوں کو نہیں مل سکتی
01:54یہ سوال ہمارے یہاں اس لئے اٹھانا پڑا
01:56کہ عام لوگوں کے ازہان میں یہ مسئلہ واضح نہیں ہے
01:59اکثر محراب و ممبر سے اس قسم کی آوازیں آپ نے بھی سنی ہوں گی
02:03کہ یہ لیجئے یہ آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہتے ہیں
02:07اور قرآن کی آیت سے ثبوت پیش کرتے ہیں
02:10قُلْ إِنَّمَا أَنَبَشَعُمْ مِثْلُكُمْ يُوحَا إِلَيْهِ
02:17سورة نمبر 18 آیت نمبر 110
02:20سورة نمبر 41 آیت نمبر 6
02:22اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے
02:24کہ تمہاری ہی طرح کا ایک آدمی ہوں
02:27مجھ پر وہی آتی ہے
02:28انما انا بشر مثلکم کو تو دیکھتے ہیں
02:32مگر یوحا علیہ کو بھول جاتے ہیں
02:35آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
02:37بشر تو ضرور ہیں
02:38مگر آپ ایسے بشر ہیں
02:40جس پر وہی آتی ہے
02:41ایسا بشر اب اور کوئی نہیں ہو سکتا
02:44جس پر وہی بھی آتی ہو
02:46اسی ٹکلے میں آپ کی خصوصیت
02:49قُبرا بیان کر دی گئی ہے
02:50آپ ہماری طرح کے بشر نہیں ہیں
02:53ہم پر تو کسی پر
02:54وحی نہیں آ سکتی وغیرہ
02:56اور یہ تمثیل دی جاتی ہے
02:58صاحبوں جھاما بھی پتھر ہوتا ہے
03:01اور سنگریزہ بھی پتھر ہوتا ہے
03:02لیکن ہیرہ بھی تو پتھر ہی ہوتا ہے
03:05یاکود اور زمرد بھی تو پتھر ہی ہوتا ہے
03:08کیا سارے پتھر برابر ہوتے ہیں
03:10ہیرہ یاکود زمرد باوجود پتھر ہونے کے
03:13پتھر کے ایک پورے پہاڑ پر بھاری ہوتا ہے
03:16جھاما اور سنگریزہ کو پھیک دیا جاتا ہے
03:19اور ہیرہ یاکود اور زمرد کو
03:21شہنشاؤں کے تاج میں جگہ دی جاتی ہے
03:23کہنے کو تو سب پتھر ہیں
03:25مگر ایک پتھر بے قیمت ہے
03:27اور ایک پتھر بیش قیمت ہے
03:29تو صاحبوں آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
03:31ایسے ہی بچر ہیں
03:32جیسے ہیرہ یاکود اور زمرد بھی پتھر ہی ہوتا ہے
03:36مگر پتھر پتھر میں فرق ہے
03:38ایسے ہی بشر بشر میں فرق ہے
03:40لیکن ایسا کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں
03:43کہ اسی آیت میں مس لکم کا لفظ بھی تو رکھا ہوا ہے
03:46جس کے معنی یہ ہیں
03:48کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
03:50صرف اپنی بشریت ہی کا اعلان نہیں فرما رہے ہیں
03:53بلکہ ایسی بشریت کا اعلان فرما رہے ہیں
03:56جو عام انسانوں جیسی ہے
03:57کوئی مخصوص اور ممتاز بشریت نہیں ہے
04:00لہٰذا یہاں جھاوے اور ہیرے کی مثال نہیں دی جا سکتی
04:04اس کے علاوہ اس پر بھی غور فرمائیں
04:06کہ اگر آپ کی بشریت کچھ مخصوص اور ممتاز بشریت تھی
04:10جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں تھی
04:12تو آپ کا یہ فرمانا کہ میں تمہارے جیسا بشر ہوں
04:15اگر میں نے قرآن مجید کو خود بنا لیا
04:18یہ اللہ کا نازل فرمودہ نہیں ہے
04:20تو پھر اس کے مثل بنا سکتے ہو
04:23بلکل ہی غلط ہو جاتا ہے
04:25یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:27اپنے قبل از نبوت زمانے کے متعلق نہیں فرمائی
04:31بلکہ بعد از نبوت بحکم خدا مکہ میں بھی فرماتے رہے
04:35اور مدینے میں بھی یہی ارشاد فرماتے رہے
04:38اگر آپ کی فطرت عام فطرت انسانی سے الگ تھی
04:42عام لوگوں سے ممتاز و مخصوص تھی
04:45یا آپ کی سمجھ بود فوق البشر تھی
04:47تو لوگ کہہ سکتے تھے
04:49کہ آپ نے خدا سے کلام سننے کے وجہے
04:51قرآن بنانے میں اپنی خاص قوتوں سے کام لیا ہے
04:54جب ہم میں وہ خاص قوتیں آ ہی نہیں سکتی
04:58تو ہم سے قرآن کی مثل مانگنا فضول ہے
05:01لہٰذا یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے
05:03کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے آئینی
05:06وہی بشری فطرت تھی
05:08جس پر حق تعالیٰ نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے
05:11اور آپ کی وہی عقلتی جو دوسرے بشروں کو بھی مل سکتی ہے
05:16نبوت اقتصابی چیز نہیں
05:18یاد رہے کہ نبوت کو اقتصابی چیز نہیں ہے
05:22جو لیاقتوں اور مناسبتوں کے مطابق حاصل ہو سکے
05:26اور دنیا میں اگرچہ نبی کی ضرورت نہ ہو
05:29پھر بھی ان مناسبتوں اور لیاقتوں والے فرد کو ضرور ہی نبی بنایا جائے
05:34پھر وہ مناسبتیں اور لیاقتیں نبوت کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں رکھا کرتی
05:40کہ جن سے نبی بنائے جانے والے کو پہلے ہی سے
05:43اپنے نبی یا رسول بننے کی امید یا توقع پیدا ہو جایا کریں
05:47قرآن مجید کے ارشاد
05:49وَكَذَلِكَ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا
05:54مَا كُنْتَ تَدِرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْاِيمَانِ
05:59وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا
06:13وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
06:18سورة نمبر 42 آیت نمبر 52
06:21اور اے پیغمبر اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے
06:25کہ اپنے حکم سے ایک روح بھیجی
06:27آپ کو کچھ معلوم نہیں تھا
06:29کہ کتاب کیا ہوتی ہے
06:31اور نہ یہ معلوم تھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے
06:33لیکن ہم نے اسے یعنی وحی کو ایک نور بنا دیا ہے
06:37جس کے ذریعے سے ہم اپنے بندوں میں سے
06:40جسے چاہتے ہیں ہدایت دے دیتے ہیں
06:42وحی نور ہم نے آپ کو عطا کر دیا ہے
06:44اور یقیناً آپ سرات مستقیم کی طرف
06:47وحی کی وجہ سے ہدایت دے دیتے ہیں
06:51کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
06:55کو کوئی امید نہیں تھی
06:56کہ مشبر کوئی کتاب اترے گی
06:58صرف الہی رحمت و موحبت نے ہی آپ کا انتخاب فرما لیا
07:03اور آپ کو چن لیا تھا
07:04قرآن مجید کے اترنے کے بعد
07:06حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی
07:08قرآن مجید ہی سے ہدایت ہوتی تھی
07:11اور دوسرے لوگوں کو بھی
07:13قرآن مجید ہی سے ہدایت ملتی ہے
07:16حاصل یہ کہ
07:17اگرچہ موجود اشخاص میں سے
07:19زیادہ لائق اور مناسب شخص کو ہی
07:21رسول بنایا جاتا تھا
07:23لیکن اس کے یہ معنی نہیں
07:24کہ ہر لائق اور مناسب شخص کو
07:26زمانی کی ضرورت کے بغیر ہی
07:28خامقہ رسول بنا دیا جائے
07:30تو جب بہت مناسبتیں اور لیاقتیں
07:32کسی کو خود ہی رسول نہیں بنا سکتی
07:35تو انہیں رسولوں کے ساتھ خاص کر دینے کے کیا معنی ہے
07:39بس ضرور وہ لیاقتیں اور مناسبتیں
07:42دوسروں میں بھی ہو سکتی ہیں
07:43رسولوں کے ساتھ اس کی کوئی مخصوصیت نہیں
07:46لیکن یاد رہے
07:47کہ ہر شخص میں ان خواست کا موجود ہونا ضروری نہیں
07:51جس مریض کو دوسروں کا فکر تو
07:53علیہ درہ اپنے علاج کا بھی خیال نہ ہو
07:56اس کو علاج کی وحی کر دینا درست نہیں ہوگا
07:59رسول ان لوگوں سے چنے جاتے تھے
08:01جن کے دل میں انسانوں کے لئے کمال درد اور ان کی مصیبتوں اور بیماریوں اور مرضوں کا بڑا فکر
08:07ہو
08:07وہ خود بھی بڑی حیرت اور سراسمیگی میں ہوتے ہیں
08:11مگر اس حیرت اور سراسمیگی میں مگن نہیں ہوتے
08:15بلکہ اس سے نکلنے کے لئے بیتاب اور بے قرار ہوتے ہیں
08:19یہ حالت کسی دوسرے میں بھی پیدا ہو سکتی تھی
08:22مگر فی الواقعہ جس قدر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں تھی
08:26کسی اور میں نہیں تھی
08:28دنیا میں کھلی گمراہی اور زلال مبین کے سبب
08:31حق تعالیٰ کی حکمت اور رحمت رسول بھیجنا چاہتی تھی
08:34خدا نے ایک آلہ سائل کو چن لیا
08:37اور فرمایا کہ
08:38تو بھی سائل کو مجھ جڑکنا
08:46صورت نمبر 93 آیت نمبر 10
08:49دوسری طرف حق تعالیٰ فرماتے ہیں
09:01صورت نمبر 57 آیت 49 سے 51
09:07انہیں کیا ہو گیا ہے
09:09کہ وہ اس تذکرے یعنی قرآن مجید سے
09:11احراز اور روح گردانی کرتے ہیں
09:13گویا کہ وہ گھدے ہیں
09:15جو بدک کر کسی شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوں
09:19ان مبارک آیات سے معلوم ہوتا ہے
09:21کہ حق سے احراز کرنے والوں
09:23اور آخرت سے بے خوف ہونے والوں
09:25کو وحی نہیں دی جا سکتی
09:27وہ تو اس وحی کو لے کر
09:29اس کی بے قدری کریں گے
09:30دوسروں کو کیا پہنچائیں گے
09:32لہٰذا رسول اور نبی ان لوگوں سے چنے جاتے ہیں
09:35جو آلہ درد تلب اور استراب رکھتے ہوں
09:38لیکن اس درد تلب اور استراب میں
09:41فوق البشریت نہیں ہوتی
09:43بلکہ وہ محض وحی ہوتے ہیں
09:44جو عام بشر حاصل کر سکتے ہیں
09:46کفار کہتے تھے
09:48کہ خود ہم کو رسول کی طرح
09:50وحی کیوں نہیں ملتی
09:51ہم پر بھی وحی آنی چاہیے
09:53حق تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں
09:55اللہ اعلم حیث يجعل رسالتا
09:59سورت نمبر چھے
10:00آیت نمبر ایک سو چوبیس
10:02اللہ خوب جانتا ہے
10:04کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے
10:05سورہ مدسر ہی میں ہے
10:07بل یرید کل امرئی منہم
10:10ان یؤتا صحفا منشرا
10:13کلا بل لا یقافون الاخرہ
10:16سورت نمبر پشتر
10:18آیت نمبر باون اور تیرہ پن
10:20بلکہ ان میں سے
10:22ہر آدمی یہی چاہتا ہے
10:23کہ اسے بھی خدا کی طرف سے
10:25وحی کے کھلے ہوئے صحیفے دے دیے جائیں
10:28یہ کیسے ہو سکتا ہے
10:29ہرگز نہیں
10:30بلکہ وہ تو آخرت سے بھی نہیں رکھتے
10:34رسالت کی پہلی بنیادی شرط
10:36تو خوف آخرت ہے
10:37ان میں وحی نہیں ہے
10:39ان پر وحی کیسے بھیجی جا سکتی ہے
10:41اس پر صحیفے کیسے نازل ہو سکتے ہیں
10:44مطلب یہ کہ
10:45رسالت کیلئے لائق اور مناسب شخص
10:47چنا جاتا ہے
10:48لیکن تم ایسے نہیں ہو
10:50تم میں وہ صلاحیتیں ہی نہیں ہیں
10:52لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے
10:54کہ رسولوں میں کوئی فوقل بشر پترت ہوتی ہے
10:57وہ فوقل بشر قوتوں کے مالک ہوتے ہیں
11:01غیب دان اور بے اختلاف
11:03صرف حق تعالیٰ کی ذات ہے
11:04اہل حدیث حضرات تسلیم فرماتے ہیں
11:07کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
11:10عالم الغیب نہیں تھے
11:11ایسا کہنے سے ان کا یہ مقصد
11:13ہرگز نہیں ہوتا
11:14کہ آپ کی توعین اور حد تک کریں
11:16بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہوتا ہے
11:18کہ قرآنی اسرار اور پیشنگوئیاں
11:21آن حضرت کا کام نہیں ہیں
11:22بلکہ یہ اس ذات واحد کا کام ہے
11:24جس کی صفت
11:25یعلم السرہ پس سمواتی والعرض
11:28صورت نمبر پچیس آیت نمبر چھے ہے
11:30اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے
11:32کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
11:34کو بھی
11:35یعلم السرہ والی صفت اور اختیار
11:37اور قوت ملی ہوئی تھی
11:39تو اس طرح قرآن مجید
11:41اسی قوت اور اختیار کا نتیجہ کہلائے گا
11:43اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:45اللہ کے خود اپنے بنائے ہوئے شریک قرار پائیں گے
11:48العیاز باللہ
11:50اسی طرح میری گزارش ہے
11:52کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:54کی تمام ارشادات چونکہ وہی نہیں تھے
11:57اس لئے ان میں اختلافات ہو سکتے تھے
11:59وہ بے اختلاف نہیں تھے
12:01کیونکہ اگر آپ کے تمام اقوال
12:03بے اختلاف ہو سکتے تھے
12:05تو تئیس سالہ حیات طیبہ کے تمام
12:07بے اختلاف اقوال ایک کتاب میں
12:09جمع بھی کیا جا سکتے تھے
12:10اور یوں غیر خدا کی طرف سے
12:12ایک لمبی چوڑی بے اختلاف کتاب
12:14تیار ہو جانی ممکن تھی
12:16لیکن حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
12:33سورت نمبر چار آیت نمبر بیاسی
12:35تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے
12:38اگر وہ خدا کی سوا کسی دوسرے کے پاس سے ہوتا
12:41تو وہ ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے
12:45یعنی اگر یہ قرآن غیر خدا کی طرف سے ہوتا
12:48اور جیسا کہ کفار کہتے ہیں
12:50اسے خود رسول نے تیار کیا ہوتا
12:53تو اس میں بڑے اختلافات ہوتے
12:55پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:58کے تمام ارشادات کو بے اختلاف ثابت نہ کرنا
13:01خدا نخاصہ اس لئے نہیں ہے
13:03کہ معاذ اللہ عنہ حضرت کی کوئی حد تک اور توہین کی جائے
13:06بلکہ دکھانا یہ مقصود ہے
13:09کہ ایسی اختلافی باتوں والا بشر
13:11رسول ایسے بے اختلاف قرآن کو خود نہیں بنا سکتا تھا
13:15رسول اللہ بلحاظ بشریت بڑے نیک
13:18لیکن لوازم بشریت سے مبررہ نہیں تھے
13:22حدیث کے مطابق خود آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
13:27کہ انبیاء بھی اللہ کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتے
13:31اور ان نعمتوں کے لائق شکر بجا نہیں لاسکتے
13:34ایک سانس میں دو انعمتیں ہوتی ہیں
13:36سانس کا اندر جا کر اندر ہی نہ رک جانا
13:39اور باہر آقا متلکن ہی خارج نہ ہو جانا
13:42بندے کے لئے وجز عذر تقصیر کے کوئی چارہ نہیں
13:46ہاں یہ ضرور ہے
13:48کہ جن الفاظ کا زبان پر لانا عام داناؤں کے لئے بھی مناسب نہیں
13:53اور جن کاموں کا کرنا عام نیکوں کے خیال میں بھی نہیں آسکتا
13:57وہ رسول کے لئے کبھی زیبا نہیں ہو سکتے
14:00اور جو باتیں شریف گھرانوں کے لئے پھر حقیقت موجب آر ہیں
14:04وہ رسول کے گھر میں برعظائے رسول ہرگز واقعہ نہیں ہو سکتی
14:08حاصل یہ کہ رسول
14:10زبط نفس شرافت اور عیسار میں گریہ ہوئے نہیں ہوتے
14:14مگر بخاری کی کئی ایک حدیثیں ایسی ہیں
14:17جو کچھ ان میں مذکور ہیں
14:19ان کے لکھنے سے شرم آتی ہے
14:21ناظرین بخاری شریف کا باب الغسل
14:24اور باب الحائز نمونتن خود ملاحظہ فرمائیں
14:28رسول آمدن حق تعالیٰ کا مقابلہ نہیں کر سکتے
14:32شریروں اور بدماشوں والے کام ان سے ہر کس سرزد نہیں ہو سکتے
14:36وہ یہ نہیں کر سکتے کہ کسی کی عورت پر عاشق ہو جائیں
14:40اسے اپنے گھر میں ڈال لیں
14:41اور اس کے خوابن کو تابوت سکینہ کے پاس
14:44سب سے آگے کھڑا کر کے قتل کرا دیں
14:46جیسا کہ روایات میں حضرت دعوت پر اضام لگایا جاتا ہے
14:50ایسا کر کے وہ رسول نہیں رہ سکتے
14:52رسولوں کو اگر اپنی ادنا خطا کا بھی علم ہو جاتا
14:56تو وہ اس پر نادم ہوتے
14:57اور خدا سے اس کی بخشی طلب کرتے تھے
15:00رسول اپنی غلطیوں کا اقرار کرتے
15:06سورت نمبر 20 آیت نمبر 114
15:09اے میرے پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما
15:12اور
15:16سورت نمبر 1
15:17مجھے سیدھے راستے کی ہدایت فرما
15:20کی دعا مانگتے رہتے
15:22وہ ترقیات سائنس اور اصلاحوں کے کبھی مخالف نہیں ہو سکتے
15:26انہوں نے کبھی اپنے نفس کی پیروی نہیں فرمائی
15:30ان کا واحد مقصد صرف خدا ہوتا
15:32انہیں علم کا کمال شوق ہوتا
15:35وہ تو کفار سے بھی کہتے تھے
15:42سورت نمبر 6 آیت نمبر 148
15:45تمہارے پاس علم کی کوئی بات ہو تو اسے ہمارے لئے باہر نکالو
15:49یعنی اسے ہمارے سامنے پیش کرو مختصر یہ کہ رسول بشریت کے لحاظ سے بڑے ہی نیک تھے
15:56مگر لوازی میں بشریت سے آری نہیں ہو سکتے
16:00وحی کی ضرورتوں کے لئے قرآن کافی ہے
16:03قرآن مجید نے ہماری وحی کی ضرورتوں کو پورا کر دیا ہے
16:07جو باتیں وحی سے بتلانی ضروری تھی وہ سب قرآن مجید میں ہی آگئی ہیں
16:12اس کے سوا ہمیں کسی اور وحی کی تلاش کی ضرورت باقی نہیں رکھی گئی
16:16ہاں قرآن مجید نے ہمارے دین کا بہت سا حصہ اقلی کوششوں پر بھی چھوڑا ہے
16:21ہم دوسروں کی اقلوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں
16:24جب بات یہ ہے تو کیا حدیثوں کے ہی حسن و عبدہ اور معقول حصے کو ہم چھوڑ سکتے ہیں
16:30ہرگز نہیں
16:32آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو ہم سر اور آنکھوں پر جگہ دیں گے
16:37دنیا کی تمام اقلہ کی باتوں پر آن حضرت کی باتیں بھاری ہیں
16:42مگر یہ ضرور ہے کہ ہم انہیں اقلی طور پر ہی ریتے ہیں
16:46نہ کہ وحی کے طور پر
16:47ہم آنکھیں کھول کر علا بصیرہ چلتے ہیں
16:50آنکھیں بند کر کے نہیں
16:52قرآن مجید نے ہمیں اسی لائن پر چلایا ہے
16:55خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے پر چلتے تھے
16:59قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُوْ إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ
17:14اَنَ وَمَنِ اتَّبَعَنِينَ
17:16وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
17:25اے پیغمبر کہہ دیجئے یہی میرا راستہ ہے
17:29کہ میں اللہ کی طرف بصیرت کے اوپر لوگوں کو بلاتا ہوں
17:33آنکھیں بند کر کے نہیں
17:34اور میرے متابین کی روش بھی یہی ہے
17:38اللہ کی ذات پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
17:42حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خداداد اقل و فہم سے کام لیتے تھے
17:47آپ نے اقل کو جواب نہیں دیا ہوا تھا
17:50صحیح بخاری اور مسلم میں ہے
17:52کہ زب یعنی سوس مار یعنی گو
17:55رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دسترخان پر پیش کی گئی
18:00تو آپ نے فرمایا
18:01لَسْتُ بِعَقْرِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ
18:05یعنی میں اسے کھاتا بھی نہیں
18:07اور اسے حرام بھی نہیں کہتا
18:09ذرا علماء اہل حدیث بدلائیں
18:11کہ بقول حدیث سوس مار
18:13وہ حلال ہوئی یا حرام
18:15ذنی باتوں میں ایسا ہی کہنا ٹھیک ہے
18:18کہ ہم اسے کھاتے بھی نہیں اور حرام بھی نہیں کہہ سکتے
18:21اب بتائیے کہ کیا یہ حدیث وہی ہو سکتی ہے
18:29لیکن صحیح مسلم میں گوہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہیں کھایا تھا
18:35اس کی جو وجہ بتائی گئی وہ
18:37یقیناً آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقل و فہم پر سوکیانہ حملہ ہی کہا جائے گا
18:42صحیح مسلم میں جو وجہ بتائی گئی وہ وہی تو کیا ہوتی
18:45رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری اقل کے بھی لائق نہیں
18:49حضب حدیث صحیح مسلم حضور فرماتے ہیں
18:52کہ بنی اسرائیل کے ایک قبیلے پر حق تعالیٰ نے غزب نازل کر کے انہیں مسک کر دیا تھا
18:57یعنی ان کی شکل بدل کر دواب جانور بنا دیا تھا
19:01پس مجھے معلوم نہیں کہ وہ شاید انہی میں سے ہو
19:05سو نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اس سے منا کرتا ہوں
19:11حضرات اہل حدیث آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
19:14اس قدر تو ہم پرستو بنا دیتے ہیں
19:16مگر آپ کے لئے بشری اقل کو تسلیم کرنے کے لئے روادار نہیں
19:20یعنی آپ کے ہر کول و فیل کو وہی قرار دے کر
19:23آپ کی بشری اقل سے انکار کرتے ہیں
19:26لیکن سوال یہ ہے
19:27کہ کیا ہر مسئلے میں شک و شبہ خود رسول اکرم نے پیلا کر دیا تھا
19:31کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے مجبور کیا تھا
19:35کہ جب آپ سوسمار
19:36یعنی گو کو حرام نہیں کہہ سکتے
19:39تو کھا کر کیوں نہیں دکھاتے
19:41آپ کو تو ہر بات میں نمونہ بننا چاہیے
19:44پھر آپ سوسمار کے معاملے میں کیوں شک میں پڑے ہوئے ہیں
19:47جبکہ آپ کی ہر حدیث وہی ہے
19:50تو پھر کیوں وہمی لوگوں والے قیاس سے فرماتے ہیں
19:53کہ شاید بنی اسرائیل کے مسخ شدہ آدمیوں کی اولاد ہو
19:57اس لئے میں اس کے کھانے میں متردد ہوں
20:00اور چونکہ مجھے خود یقین نہیں
20:02اس لئے کسی کو اس سے روپ بھی نہیں سکتا
20:04اور اگر آپ کو شک ہے
20:06تو کیا آئندہ بھی کبھی اس شک سے نکل کر
20:09سوسمار کا قطعن حلال ہونا
20:11آپ صلی اللہ علیہ وسلم واضح کر دیں گے
20:13وغیرہ وغیرہ
20:14الائیاز باللہ
20:16امام آزم کے نزدیک حرام
20:18اور امام شافعی کے نزدیک حلال
20:21اب جبکہ بقول علماء احرحادیث وحی کے بغیر
20:24نہ بولنے والے نبی اور رسول کے شک کی
20:27ماذا اللہ ماذا اللہ یہ حالت ہو
20:29تو امت کے شک و اختلاف کا کیا حال ہوگا
20:32جیسا کہ سوسمار
20:34اور آج تک امام آزم کے مقلدوں کے نزدیک حرام ہے
20:37اور امام شافعی کے مقلدین کے نزدیک حلال ہے
20:41جب امت میں حلال حرام کے متعلق ایسا اختلاف موجود ہے
20:44کہ ایک گروہ دوسرے کو کہہ سکتا ہے
20:47کہ تم نے حلال کو حرام کر دیا ہے
20:49اور دوسرا یہ اعظام دے سکتا ہے
20:51کہ تم نے حرام کو حلال بنا دیا ہے
20:53اور یہ سب کچھ حدیث شریف کے طفیل میں آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سوپا جا رہا
20:59ہے
21:00اور جب علماء احلی حدیث کی اپنی یہ حالت ہو
21:04تو ہم اگر کسی امر کے متعلق احتیاطا یہ بھی کہہ دیں
21:07کہ یہ امر ہمارے نزدیک بھی قابل غور ہے
21:10تو کیا اس سے ہماری اس بحث پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے
21:13ہرگز نہیں
21:14مختصر یہ کہ ہم سے اس بحث کے متعلق ایسے سوالات پوچھنا سرطاپہ باطل ہے
21:20ہمیں تو اس بحث سے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ ہمارے لئے
21:24نمبر ایک
21:25سوائے قرآن مجید کے کسی اور وحی کا تورات انجیل وغیرہ کا بھی بطور وحی کے کوئی استقلال باقی نہیں
21:33رہا
21:33نمبر دو
21:35پھر نرے اجتہادات خواہ کسی کے بھی ہوں
21:38قرآن مجید کے ساتھ کسی طرح بطور وحی کے دوسرا مستقل اصور ٹھیر سکتے ہیں
21:44باب دون
21:48اس کتاب کا اصل موضوع تو یہی ہے
21:51کہ علماء احرادیث جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشادات و اقتامات کو وحی کا درجہ دینے پر
21:58مصر ہیں
21:58ان کو مبنی برخطہ ہونا واضح کیا جائے
22:01چنانچہ وہ آپ کے افعال و اقوال کو کبھی وحی خفی کا نام دیتے ہیں
22:06اور کبھی وحی غیر مطلوب کے لقب سے یاد کرتے ہیں
22:09چونکہ کتاب کا اصل موضوع یہی مسئلہ ہے
22:11اس لئے آپ کو ہر باب میں اسی کی پرچھائیاں ملیں گی
22:15پہلا باب جو انبیاء کرام کی بشریت اور ان کے اقوال و افعال کو مبنی بر بشری اقل و استیار
22:21ثابت کرنے کے لئے تھا
22:23اس میں بھی جگہ جگہ یہ بحث آتی رہی ہے
22:26اور آئندہ ابواب میں بھی آتی رہی گی
22:29لیکن حضرت خواجہ صاحب نے اس موضوع پر تابعا نہیں
22:33بلکہ اصالتا جو کچھ تحریر فرمایا ہے
22:36جسے ہم اس باب میں پیش کر رہے ہیں
22:38خواجہ صاحب فرماتے ہیں
22:40اگر حدیثیں بطور وحی اور الہی کے کفار کے سامنے پیش کی جاتی تھی
22:45تو کیوں انہوں نے کبھی قرآن مجید کے معنی حدیثوں کی مخارفت نہیں کی
22:49اور کیوں احادیث کے وحی ہونے کے متعلق جھگڑے اور اعتراض نہیں کیے
22:54کفار تو غیر قرآن کو خود ہی مانگ رہے تھے
22:57وہ قرآن ہی کی بدلنے پر زور دیا کرتے تھے
23:00وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آیَاتُنَا بَيِّنَاتٍ
23:04قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَ نَأْتِ بِقُرْآنٍ غیرِ هَذَا
23:22قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدْدِ لَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ
23:30إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَا إِلَيْا إِلَيْا إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
23:42سورة نمبر 10 آیت نمبر 15
23:46اور جب ان کے سامنے ہمارے آیتوں کی جو کھلی کھلی اور واضح ہیں تلاوت کی جاتی ہے
23:52تو جنہیں ہمارے روح بروح پیش ہونے کی توقع نہیں
23:55یعنی اخروی زندگی پر ان کا ایمان نہیں ہے
23:58کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن لائیے
24:02یا اسے بدل دیجئے
24:04اے پیغمبر کہہ دو کہ میرے لئے یہ ممکن نہیں
24:07کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں
24:09میں تو اسی کا اتباہ کرتا ہوں
24:11جو میری طرف وحی کی جاتی ہے
24:13اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں
24:16تو مجھے ایک بڑے دن قیامت کے عذاب کا اندیشہ ہے
24:21منافقین بھی قرآنی صورتوں اور آیتوں ہی کے نازل ہونے سے
24:24ڈرہ کرتے تھے
24:25انہیں احادیث سے کوئی ڈر نہیں تھا
24:27یحذر المنافقون ان تنزل علیہم سورت تنبئہم بما فی قلوبہم
24:37قل استہزئو ان اللہ مخرج ما تحذرون
24:47منافقین ڈرھتے رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ کر دی جائے
24:52جو انہیں ہمارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کی خبر دے دے
24:56اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے
24:58فوق ٹھٹے کر لو
24:59یقیناً اللہ ان چیزوں کو ظاہر کر کے رہے گا
25:02جن کے اندیشے تم کرتے رہتے ہو
25:04حالکہ حدیث سے تو ہر روز ان کے سامنے پیش ہوتی رہتی تھی
25:08مومن بھی صورتوں ہی کے نازل ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے
25:13وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ وَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ
25:23وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِ مَرَضُ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِي عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ
25:37سورة نمبر سنتالیس آیت نمبر بیس اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نازل
25:44نہیں کر دی جاتی تو جب کوئی واضح اور محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جہاد کا ذکر
25:50کیا گیا تھا تو آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے دل میں نفاق کا روگ ہے کہ وہ
25:56آپ کی طرف ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے وہ شخص دیکھا کرتا ہے جس پر موت کی مدہوشی تاری ہو
26:02تو ایسے لوگوں کے لئے تباہی ہی ہے
26:05ایک دفعہ بقول روایات کچھ عرصے کے لئے قرآن مجید کا نزول رک گیا
26:10لوگوں نے نزول وحی کے اس وقتی طور پر رک جانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطلوب
26:17و مغوظ الہی ہونے پر محمول کر لیا
26:20حالانکہ حدیث کا وقوع اس وقت بھی ہو رہا تھا
26:23اگر حدیث بھی وحی ہے تو ان کا وقوع آپ کو منظور و مقبول بارگاہ الہی ٹھہرانے کے لئے کیوں
26:29نہ کافی ہو گیا
26:30اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعانو تنس پر کیوں نہ فرما دیا
26:35کہ مصخر وحی کی دوسری قسم وحی خفی یا وحی غیر مطلوب تو مجھ پر برابر آ رہی ہے
26:41میں خدا کا مقبول و مبغوظ کیسے ہو گیا
26:44اس کے بعد یہ بھی ملاحظہ فرمائی ہے کہ قرآن کریم صحابہ کرام کو ایسی باتوں کے سوال کرنے سے
26:51جن کا جواب تکلیف دے بن جائے تاقیدن روٹا ہے
26:54یا ایوہا الَّذین آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ
27:03وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُوا الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ
27:09عَفَ اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
27:14قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَابِرِينَ
27:22صورت نمبر پانچ آیت نمبر ایک سو ایک اور ایک سو دو
27:26اے پیروانے دعوت ایمانی
27:28ایسی چیزوں کے متعلق نہ پوچھا کرو
27:30کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں
27:33تو تمہیں بری لگیں
27:34اور اگر تم ان کے متعلق پوچھو گے
27:36جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہے
27:38تو وہ تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں گی
27:41حالکہ اللہ نے ان سے درغزر کی ہے
27:43اور اللہ بڑا بخشنے والا بردوار ہے
27:46تم سے پہلے قوموں نے ایسے ہی سوالات کیے تھے
27:48پھر وہ ان کے منکر بن گئے
27:50اس آیت کریمہ میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو ڈر آیا ہے
27:54کہ اگر قرآن کے نازل ہوتے وقت
27:57ان کا سوال کرو گے
27:58تو ضرور تمہیں جواب ملے گا
28:00اب اگر حدیثیں بھی وہی کے ذریعے سے ملتے تھیں
28:02تو کیوں ان سوالات کے جوابات کو
28:04قرآن کے نزول کے ساتھ ہی وابستہ فرما دیا گیا
28:07کفار اعتراض کیا کرتے تھے
28:09کہ کیوں یہ قرآن ایک ہی دفعہ سارے کا سارا نازل نہیں کر دیا جاتا
28:22صورت نمبر پچیس آیت نمبر بتیس
28:25اور کفار کہتے ہیں
28:26کہ پیغمبر پر یہ قرآن ایک ہی بار سارے کا سارا کیوں نازل نہیں کر دیا جاتا
28:32اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے کئی وجہیں بیان پرمائی ہیں
28:35اول یہ کہ اس سے مصیبتوں اور مشکتوں کے اوقات میں
28:40رسول اللہ کی دل جمعی اور قلب اعتر کی تقویت مطلوب ہے
28:44جب آدمی کو کوئی مشکل پیش آ جائے
28:47اور اس کے ساتھ ہی اس کی تسلیل کرنے والا کوئی تسلیل کے الفاظ کہہ دے
28:51تو یہ مصیبت زدہ کی تقویت کا باعث ہوتا ہے
28:54بنیزبہ اس کے کہ کتاب سارے کی سارے ایک دن نازل کر دی جاتی
28:58اور زندگی بار اس کی تعلیم کی اشارت میں مختلف صعبات اور مشکلات پیش آتی رہتی
29:04مگر کوئی تسلیل کے دو لفظ بھی کہنے والا نہ ہوتا
29:07تو اکثر اس کی وجہ سے بشری حمد جواب دے جاتی ہے
29:11اور آدمی حسطہ ہو گیٹھتا ہے
29:13آہستہ آہستہ قرآن کو نازل کرنے میں یہ فائدہ ہے
29:16کہ ہر محل اور ہر وقت حمد افضائی کا سامان ہوتا رہتا ہے
29:20جہاں حمدیں پس ہونے لگیں
29:22پوراً حسطہ بڑھانے والی آیات نازل ہو گئیں
29:31صورت نمبر پچیس آیات نمبر بتیس
29:34ایسا ہی ہوا ہے کہ ہم نے قرآن کو ایک دم سارے کے سارا نازل نہیں کر دیا
29:39تاکہ اس کے ذریعے سے ہم آپ کے دل کو ثابت رکھ سکیں
29:42اور اسی لیے ہم نے قرآن کو آہستہ آہستہ پڑھا
29:46یعنی نازل کیا ہے
29:47ظاہر ہے کہ اگر اکھٹی ایک ہی وقت میں تمام تسلیلیں دے دی جائیں
29:52تو وہ ساری زندگی کے لیے کافی نہیں ہو سکتی
29:56حضرات علماء اہل حدیث غور فرمائیں
29:59کہ اگر کوئی حدیثی اور روایتی
30:01وہی خفی کا ذریعہ بھی آپ کے قلب آثر کو تسلیل دینے
30:05اور ثابت بخشنے کے لیے قرآن کی طرح مثلہ ماہ موجود تھا
30:09تو کیا حق تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے
30:12اس پر کفار کہہ سکتے تھے
30:14کہ تسلیل دینے کے لیے اور دل جمعی قائم رکھنے کے لیے
30:17وہی خفی کا ایک اور ذریعہ موجود ہے
30:20قرآن کریم کوئی جدبارگی نازل کرنے میں کیا حضر ہے
30:23تو اس کا جواب ظاہر ہے
30:25کہ کچھ نہیں دیا جا سکتا تھا
30:27دوم
30:27دوسری وجہ یہ بیان فرمائی ہے
30:30کہ قرآن کریم پر کفار کی طرف سے
30:32جو اعتراض یا اہل حاجت کی طرف سے کچھ سوالات ہوں
30:36تو ان کے جواب بھی قرآن ہی میں دے دیے جائیں
30:38وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ
30:45اور نہیں لاتے ہیں وہ آپ کے پاس کوئی مثال
30:48مگر ہم لے آتے ہیں آپ کے پاس اس کا صحیح جواب
30:52مطلب یہ کہ قرآن کے متعلق موافقین و مخالفین
30:56کے اگر کچھ اشکالات یا سوالات ہوتے ہیں
30:59تو ان کا جواب بھی ہم قرآن ہی میں ساتھ کے ساتھ دے دیتے ہیں
31:03اگر سارا قرآن جدبارگی ایک ساتھ ہی نازل کر دیا جاتا
31:07تو لوگوں کے اشکالات و سوالات کے جواب
31:09وحی کے ذریعے سے نہ دیے جا سکتے ہیں
31:12یہ بھی علماء حدیث کے عقیدے پر صحیح نہیں ہو سکتی
31:16اگر قرآن جیسا کوئی اور ذریعہ وحی خفی جواب دینے کے لئے موجود تھا
31:22تو مختلف اشکالات کے جوابات بجائے قرآن کے اس ذریعے سے دیے جا سکتے تھے
31:28سوم
31:29تیسری وجہ یہ بتائی گئی ہے
31:31کہ قرآن کو آہستہ آہستہ نازل کرنے میں یہ بھی مسئلیت ہے
31:34کہ قرآن کی ضروری تفسیر بھی ساتھ کے ساتھ ہی ہوتی جائے
31:44اور تاکہ ہم بہترین تفسیر بھی کر دیں
31:48حضرات اہل حدیث کے قول پر یہ جواب بھی صحیح نہیں ٹھہرتا
31:52اگر قرآن جیسی وحی وحی تفسیر کرنے کے لئے
31:56کوئی اور ذریعہ وحی خفی کا آہدہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا
32:00تو قرآن کوئی جگبارگی سارے کا سارا نازل کر دینے میں کیا عمر مانے تھا
32:05وحی خفی کے ذریعے سے قرآن کی تفسیر ہوتی رہتی
32:08قرآن مجید کی تبلیغ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی فرض تھی
32:14کہ چلتی ہوئی تلواریں اسے نہیں روک سکتی تھی
32:17لیکن اہدیث صرف حیاء یا دنجوئی کے خیال سے بھی روکی جا سکتی تھی
32:22جس کی وجہ یہی تھی کہ قرآن وحی تھا
32:24اس کو روکنا ممکن نہیں تھا
32:26اس کی تبلیغ ضروری تھی
32:28لیکن اہدیث وحی نہیں تھی
32:30وہ اہدیث صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی اور شخصی ثواب دیت سے متعلق تھی
32:36ان کی تبلیغ آپ پر فرض نہیں تھی
32:38یا ایہا الذین آمنوا لا تدخلوا بیوت النبي
32:44إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غیر ناظرین اناه
32:53ولكن اذا دعیتم فدخلوا
32:55فاذا طعنتم فانتشروا
32:58ولا مستأنسین لحديث
33:00ان ذلكم كان يؤذي النبي فيستحی منكم
33:05والله لا يستحی من الحق
33:08صورت نمبر تیس آیت نمبر تریپن
33:11اے پیروانِ دعوتِ ایمانی
33:13نبی کے گھر میں نہ بزایا کرو
33:16الا یہ کہ تمہیں اس کی اجازت دی جائے
33:18مثلا کھانے کے لئے بلائے جائے
33:20تو کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ جم جاؤ
33:23لیکن جب تمہیں بلائے جائے
33:24تو گھر میں جاؤ
33:25اور جب کھانا کھا لوگا تو منتشر ہو جاؤ
33:28بات چیز سے رقوض رکھتے ہو پر جم کرنا بیٹھ جاؤ
33:31یہ بات نبی کی عذیت کا باعث ہوا کرتی تھی
33:34لیکن نبی حیاء کی وجہ سے کچھ نہیں کہتا تھا
33:36اور حق تعالیٰ بات کہہ دینے میں نہیں شرماتا
33:39مرحضہ فرمائیے
33:41کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں
33:44غریب لوگ کھانا کھانے آیا کرتے تھے
33:46وہ کھانا پکنے سے پہلے ہی آ بیٹھتے تھے
33:49اور کھانے کے بعد بھی
33:50آہدہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
33:52بات چیت اور گفتگو
33:54یعنی حدیثوں کے لالچ میں لگے رہتے تھے
33:56اکثر لوگوں کی ایسی ہی عادت ہوتی ہے
33:59رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
34:01ان کے اس فیل سے سخت عذیت ہوتی تھی
34:04اگر آپ انہیں اپنے حدیثی بیان سے منع فرماتے تھے
34:07تو بالکل بجا ہوتا
34:09لیکن آپ حیاء کے سبب ایسی سچی حدیث بھی بیان نہیں کر پاتے تھے
34:13چنانچہ آپ ان لوگوں کو ان کے اس فیل سے نہ رکھ سکے
34:16حتیٰ کہ حق تعالیٰ نے وہی کے ذریعے سے
34:19قرآن کریم میں ساری بات نازل فرما دی
34:22اب قرآن مجید میں آ جانے کے بعد
34:24اس بات کے بیان سے وہی حیاء آپ کو ہرگز ہرگز نہ رکھ سکی
34:28اور آپ نے ڈنکی کی چوٹ اس کا اعلان فرمایا
34:31فا تبیرو یا علی الافصار
34:33حدیثی بیان کے ذریعے سے آپ کو حیاء آئی
34:36اور آپ ان اصحابہ کو نہیں رکھ سکے
34:39اس کی تبلیغ آپ پر فرض نہیں تھی
34:42وہ آپ کا ایک ذاتی اور شخصی معاملہ تھا
34:44اس لئے اختیاری تھا
34:45لیکن قرآن وحی کے بیان کو آپ نہیں رکھ سکے
34:49نہ آپ کو کوئی حیاء مانے آئی
34:51کیونکہ یہ شخصی اور ذاتی معاملہ نہیں تھا
34:53یہ قرآن وحی تھی
34:54اس کی تبلیغ آپ پر فرض تھی
34:56قرآن مجید کے مطالق تحدی فرمائی گئی ہے
35:00کہ اس کی مثل ایک صورت
35:01بلکہ ایک حدیث ہی لیا
35:03یہ تحدیث سے ببارت آرائی
35:05اور قرآن کی فصاحت و بلاغت ہی میں نہیں
35:08بلکہ زیادہ تر ہدایت میں ہے
35:10جو قرآن مجید کا مقصود اصلی ہے
35:12حق تعالیٰ اپنے رسول کو فرماتے ہیں
35:15قل فأتو بکتاب من عند اللہ
35:18ہوا اہدا منہما اتبع
35:21اتبعو ان کنتم صادقین
35:26صورت نمبر اٹھائیس
35:28اے پہلنبر
35:29کہہ دیجئے
35:30کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آؤ
35:33جو ان دونوں
35:34تو راض اور قرآن
35:35سے زیادہ ہدایت والی ہو
35:37تو میں اسی کا اتبا کر لوں گا
35:39اگر تم سچے ہو
35:41اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
35:43کہ حدیثیں خدا حضرت کی طرف سے
35:45اس وقت بھی قرآن کی مثل
35:47نہیں سمجھے جاتی تھی
35:48بلکہ تورات کا درجہ بھی نہیں رکھتی تھی
35:51حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
35:53فرماتے ہیں
35:53کہ اگر یہ قرآن
35:55میں نے اپنے دل سے بنا لیا ہے
35:56تو تم بھی میرے ہی جیسے بشر ہو
35:59اس کی معنی بنا لاؤ
36:11بسورت مثلہ
36:12ودعو من استقعتم
36:14من دون اللہ
36:16ان کنتم صادقین
36:19صورت نمبر دست
36:21کیا وہ کہتے ہیں
36:22کہ اس قرآن کو
36:23محمد نے خود ہی بنا لیا ہے
36:24اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے
36:26کہ اس جیسی
36:27ایک ہی صورت بنا کر لے آؤ
36:29اور اللہ کے سوا
36:30جسے تم مدد کے لئے بلا سکتے ہو
36:32بلا لو
36:33اگر سچے ہو
36:34اور صورت تور میں ہے
36:42صورت نمبر باون
36:44آیت نمبر چونتیس
36:45تو اس قرآن جیسی ایک بات
36:47یعنی حدیث ہی لے آئے
36:48اگر وہ سچے ہیں
36:50اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
36:51کہ قرآن مجید
36:52کے سوا رسول اللہ
36:53صلی اللہ علیہ وسلم
36:54کے پاس
36:55کوئی اور ایسی چیز نہیں تھی
36:57جو دوسرے بشر
36:58حاصل نہیں کر سکتے تھے
37:00یعنی جسے
37:01واہی کہا جا سکتا ہے
37:02صرف قرآن ہی
37:03ایسی چیز تھی
37:04جس کے مطالق
37:05قرآن نے تحدی کی ہے
37:07باقی رہیں
37:07احادیث
37:08تو وہ بشری
37:09اقل و افتیار سے
37:10حاصل ہوتی تھی
37:11جو ہر شخص
37:11حاصل کر سکتا ہے
37:13اسی وجہ سے
37:13ان کے بارے میں
37:14قرآن نے
37:15کوئی تحدی نہیں فرمائی
37:22سورت نمبر پندرہ
37:23آیت نمبر نو
37:24جکیناً
37:25اس ذکر
37:26یعنی قرآن
37:27کو ہم نے نازل کیا ہے
37:29اور ہم ہی
37:30اس کے محافظ ہیں
37:31لیکن حق تعالیٰ نے
37:32حدیثوں کی
37:33کوئی ذمہ داری
37:34قبول نہیں گی
37:35بلکہ سچ پوچھئے
37:36تو روایتوں
37:37اور حدیثوں
37:38کو بلکل
37:38رابیوں کے
37:39سچ چوت پر
37:40چھوڑ دیا ہے
37:41اگر حدیثیں بھی
37:42داخل قرآن
37:43وہی تھی
37:44تو وہ بھی
37:45مثلیت اور
37:46حفاظت قرآن
37:47میں بھی
37:47داخل ہونی لازم تھی
37:49قرآن کی حفاظت
37:50کا ذمہ
37:51حق تعالیٰ نے
37:51کیوں لیا ہے
37:52اسی لئے
37:53تو لیا ہے
37:54کہ وہ وہی ہیں
37:55خدا کلام ہے
37:57اگر حدیثیں بھی
37:58وہی ہیں
37:58اور خدا ہی
38:00کا کلام
38:00اور مثلہ
38:01معاہ ہیں
38:01تو ان کی
38:02حفاظت کا ذمہ
38:03حق تعالیٰ نے
38:04کیوں نہیں لیا
38:05واقعہ یہ ہے
38:06کہ رسول اکرم
38:07صلی اللہ علیہ وسلم
38:08کی طرف سے
38:09ہمارے پاس
38:10کوئی چیز
38:10سوائے قرآن
38:11مجید کے
38:12الہی حفاظت
38:13کے ساتھ
38:13نہیں پہنچی
38:14اگر حدیثیں بھی
38:15قرآن مجید کی طرح
38:16ہمیشہ کے لئے
38:17مقصود اور
38:18ضروریت تبلیغ ہوتی
38:19تو لا محلہ
38:20قرآن مجید کی طرح
38:22محفوظ صورت میں
38:23ہی ہم تک
38:23پہنچائی جاتی
38:24حضرات
38:25صحابہ
38:26اکرام
38:26رضوان اللہ
38:27علیہم
38:28اجمعین
38:28اکثر
38:29حضور اکرم
38:30صلی اللہ علیہ وسلم
38:31سے مسائل
38:32پوچھتے رہتے تھے
38:33لیکن جب
38:33کوئی بات
38:34پوچھتے
38:34تو پہلے
38:35حکم الہی
38:36ماہ
38:36اور
38:37ماہ
38:38انزل اللہ
38:38کے متعلق
38:39پوچھتے تھے
38:40اسی طریق سے
38:41ایک مطابع
38:42صحابہ
38:50فرمایا
38:51کہ گھدوں کے
38:52بارے میں
38:52مجھ پر
38:53کوئی خاص آیت
38:54نازل نہیں ہوئی
38:55سوائے
38:55اسی جامعہ آیت
38:56کے جو سپرحاوی ہے
38:58اور جمعداد
38:59اور نبعدات
38:59اور حیوانات
39:00سب کو سمیٹ لیتی ہے
39:01علیہ دف
39:02کچھ نازل نہیں ہوا
39:03مطلب یہ
39:04کہ تم کو
39:05مال کی زکاة
39:06کا حکم پہنچ چکا ہے
39:07لہذا
39:08جو بھی
39:09مال کے زمین میں آتا ہے
39:10اس کا بھی
39:11یہی حکم ہے
39:12یعنی زکاة
39:13دینی ہی ہوگی
39:14حق تعالیٰ کا منشاہ
39:15تو یہی ہے
39:16کہ نیکی کرو
39:17اور بدی سے بچو
39:18کیونکہ
39:18تم کو
39:19اپنا زرہ زرہ
39:20عمل دیکھنا ہوگا
39:21تو کیا
39:21گھدوں کی زکاة
39:22دینے
39:23یا نہ دینے
39:24ہی پر سوال نہ ہوگا
39:25حاصل یہ
39:26کہ
39:26رسول اللہ
39:27صلی اللہ علیہ وسلم
39:28کہ یہ فرمانا
39:29کہ مجھ پر
39:30سوائے
39:30اس آیت کاملہ
39:32اور جامعہ
39:33کہ
39:38سورة
39:39نینا نوے
39:40آیت نینا نوے
39:41تو جو زرہ
39:42بھر نیکی کرے گا
39:43اسے
39:44قیامت میں
39:45دیکھ لے گا
39:45اور کچھ
39:46نازل نہیں ہوا
39:47اس سے
39:48صاف معلوم ہوتا ہے
39:49کہ
39:50آہ حضرت
39:50صلی اللہ علیہ وسلم
39:51کے نزدیک
39:52منزل من اللہ
39:53یا ما انزل اللہ
39:55صرف وہی ہے
39:56جس میں
39:56خود یہ آیت ہے
39:58یعنی
39:58صرف قرآن مجید
39:59آپ نے ایک جامعہ
40:01آیت قرآنی سے ہی
40:02استنباد
40:02اور استدلال
40:03کر کے
40:04جواب دینے کے بجائے
40:05دوسری
40:06وہی
40:06خفی
40:13اور فرما دیا
40:15کہ
40:16اس سلسلے میں
40:16کوئی الگ حکم
40:17اس آیت جامعہ
40:18کے علاوہ
40:19مجھ پر نازل نہیں ہوا
40:20حالکہ
40:21جو جواب
40:22آپ نے دیا ہے
40:23وہ
40:23علماء احرہ حدیث
40:24کے نزدیک
40:25وہی
40:25خفی والی
40:26ما انزل اللہ
40:27میں سے تھا
40:28لہذا
40:29حضور کا یہ جواب
40:30غلط
40:31کھہرتا ہے
40:32نیز
40:33حق تعالیٰ کا
40:34اشاد ہے
40:34کہ
40:35اگر
40:35ما نزلنا
40:36علا عبدنا
40:37میں
40:37تمہیں شک ہے
40:39تو اس کی
40:40بسل ایک ہی سورت
40:41بنا کر لے آؤ
40:42اس سے
40:42صاف صاف
40:43معلوم ہوتا ہے
40:44کہ
40:44ما نزلنا
40:45علا عبدنا
40:46سوائے قرآن
40:47کے اور کچھ
40:48نہیں ہے
40:48کیونکہ
40:49سورتیں
40:49تو قرآن
40:50ہی میں ہوتی ہیں
40:51حدیث میں
40:52تو سورتوں
40:52کا وجود
40:53ہمیں آج
40:54تک نہیں ملا
40:54شکر ہے
40:55علماء حدیث
40:56نے بخاری شریف
40:57کے تیس پارے
40:58تو بنا دالے
40:59مگر انہیں
40:59سورتیں
41:00بنانے کا
41:00خواب نہیں آیا
41:01سورہ آراب
41:02کی افتدائی
41:03ان الفاظ سے
41:04ہوتی ہے
41:05اَلِفْ لَمِّن صَاد
41:15كتاب
41:16انزل
41:18إليک
41:18فلا يقاین
41:19في صدرك
41:20حرج منه
41:22لتنذر به
41:25وذکر
41:26للمؤمنين
41:28اتبعوا
41:29ما
41:30انزل
41:31إليكم
41:32من ربكم
41:33وَلَا تَتَّرِعُوا
41:35مِن دُونِهِ
41:38أَوْلِيَاء
41:39قَلِيلًا
41:40مَا تَذَكَرُونَ
41:42سورت نمبر ساتھ
41:44آیت نمبر ایک
41:45اور تین
41:46الف
41:47لام
41:48مِم
41:49سود
41:50یہ قرآن
41:51ایک کتاب ہے
41:52جو
41:52اے پیغمبر
41:53آپ کی طرف
41:54نازل کی گئی ہے
41:55تو آپ کے سینے میں
41:57اس کی وجہ سے
41:58کوئی تنگی نہیں
41:59ہونی چاہیے
41:59تاکہ آپ
42:00اس کے ذریعے سے
42:01لوگوں کو
42:02ڈرا سکیں
42:02اور یہ مومنین
42:04کے لئے
42:04نصیت ہو
42:05اے لوگوں
42:06جو کچھ
42:07تم پر
42:07تمہارے رب کی طرف
42:08سے نازل کیا گیا ہے
42:09اس کی پیر بھی کرو
42:11اور اپنے رب کو
42:12چھوڑ کر
42:12دوسرے
42:13اولیاء
42:13مددگار کی
42:14پیر بھی
42:15مت کرو
42:15تم بہت
42:16کم نصیت
42:17حاصل کرتے ہو
42:19پہلی آیت میں
42:20بتا دیا ہے
42:21کہ اے پیغمبر
42:22آپ کی طرف
42:23صرف
42:24یہ قرآن
42:25کتاب
42:25نازل کیا گیا ہے
42:27احادیث نہیں
42:28لہٰذا
42:29آپ اسی کے ذریعے سے
42:30لوگوں کو
42:31ڈرائیے
42:32اور اس کی وجہ سے
42:33آپ کے دل میں
42:34کوئی تنگیم
42:34نہیں ہونی چاہیے
42:35اس کے بعد
42:36دوسری آیت میں
42:37تمام مسلمانوں
42:38کو
42:38ستاک کر کے
42:39فرمایا جا رہا ہے
42:40کہ جو کچھ
42:41تمہارے رب کی طرف
42:42سے تم پر
42:43نازل کیا گیا ہے
42:44اس کی پیر بھی کرو
42:45ظاہر ہے
42:46کہ اس سے
42:47مراد وحی کتاب
42:48ان ذرا
42:49علیہ کا ہے
42:50جو پسری آیت میں
42:51آ چکا تھا
42:52کوئی اور چیز نہیں
42:53کیونکہ
42:54لوگوں پر تو
42:55ان کے پروردگار
42:56کی طرف سے
42:57سوائے
42:57اس قرآن کریم کے
42:58جو آن حضرت
42:59صلی اللہ علیہ وسلم
43:00پر نازل ہوا تھا
43:02کوئی اور چیز
43:03نازل نہیں ہوا
43:04کرتی تھی
43:05چنانچہ
43:06تمام مفسرین
43:07نے بھی اتفاق
43:08ما انزلہ علیکم
43:10من ربکم
43:10سے مراد قرآن کریم
43:12ہی لیا ہے
43:12لہٰذا
43:13ان آیتوں سے
43:14واضح طور پر ثابت ہے
43:15کہ ما انزلہ علیکم
43:17من ربکم
43:18یا
43:24قرآن
43:25اور صرف قرآن
43:26ہی ہے
43:26لیکن پھر بھی
43:27ہمارے علماء حدیث
43:28کو اصرار ہے
43:29کہ حدیثیں بھی
43:30آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
43:32پر نازل ہوا
43:33کرتی تھی
43:36حضرت حارون
43:37علیہ السلام
43:37رسول اور نبی
43:39تھے
43:39اور
43:39اولوالعظم
43:40انبیاء میں
43:41ان کا شمار ہوتا ہے
43:43مگر چالیس رات
43:44تک
43:44کوئی طور پر
43:45رہنے کے بعد
43:46جب حضرت
43:46موسیٰ علیہ السلام
43:47بابس آئے
43:48اور قوم کو
43:49دو سالہ پرستی میں
43:50مشغول پایا
43:51تو حضرت حارون
43:53علیہ السلام
43:53کو جواب دہی
43:54کے لئے بلایا
43:55اور پوچھا
44:06صورت نمبر بیس
44:07آیت نمبر بانوے
44:09اور تیرانوے
44:09موسیٰ نے کہا
44:11اے حارون
44:12جب تُو نے انہیں دیکھا
44:13کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں
44:15تو تجھے میرے اتباہ
44:17کرنے سے کس چیز
44:18نے روکا
44:19تو کیا
44:19تُو نے میرے حکم
44:20کی نافرمانی کی
44:22موسیقی
44:22موسیقی
44:22موسیقی
Comments

Recommended