File 06 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |
Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.
Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use
#Quran #Islam #Explore #hadees #hadith #research
Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.
Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use
#Quran #Islam #Explore #hadees #hadith #research
Category
📚
LearningTranscript
00:00ॢ तोहिद ए एल�حी
00:01मक्षूस खुदावथी इस तयारात को मखलूप में तस्लीम करना
00:05जब कोई शखष बीमार हुता है तो हाजिक हाकीमों और माहे um aya SPEAKERists के पाल जाता है
00:11ताकि उसके علم, अकल, समझ और तजर्बे से पाइदा उठा�え
00:16Bymar کے لئے ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے
00:19لیکن ہرچند کے بymar
00:20ایک پادشاہ بھی کیوں نہ ہو
00:22اور ڈاکٹر سب کے سب
00:24عرصتو بھی کیوں نہ ہو
00:25طب اور ڈاکٹری کی
00:27آلہ درجہ کی کتابیں مشورہ کے لئے
00:29مہیا اور موجود ہوں
00:30اور ہر قسم کی دوائیں
00:32اور انجیکشن بسہولت مل سکتی ہوں
00:35اور ضرورت سے بڑھ کر
00:36خدمتگار تعمیل کے لئے
00:38منتظر بیٹھے ہوں
00:40اور حکموں کی تعمیل بلا توقف
00:42So, you can't do that.
00:44You can't do that.
00:47You can't do that.
00:48You can't do that.
00:50You can't do that.
00:52Because nature's nature's things
00:54and their thoughts are always behind.
00:58This is because of this disease
01:00that all of them are in the way.
01:04It's a disease.
01:04It's a disease.
01:04It's a disease.
01:08It's a disease.
01:10...
01:10ڈحرار رجوع کرتا ہے اور اسی سے دعائیں مانگتا ہے جس کی منشاہ قانون
01:16پر کوئی روک ممکن نہیں ہے کوئی مریض کسی ڈاکٹر یا کسی حکیم
01:20سے شفایابی کی دعائیں نہیں مانگتا اسی طرح ایک کسان زمین میں حل
01:25چلاتا ہے امدہ زمین ہے وہ امدہ بیج ہوتا ہے مناسب خات ڈالتا ہے
01:30پانی دیتا ہے ہر طرح کی رکھوالی اور نگرانی کرتا ہے مگر پھر
01:35ڈیچر کی بے شمار چیزیں اور تاثیریں اس کے علم اور کابو سے باہر ہیں مثلا موسمی تغیرات آندھیاں بارشیں
01:43اولے زلزلے ٹرڈی دل اور انگنت اقسام کے مزر جراسیم اور کیلے دیگر دشمنوں کی روپ تھام بلکہ خود اس
01:53کی اپنی کمزوریاں اور غلطیاں اس کے بس کی چیزیں نہیں ہیں
01:56وہ اپنی تمام ممکن کوششوں کے باوجود ہرکس ہرکس نہیں کہہ سکتا کہ میں اناج کو سالمن و غالمن اپنے
02:04کابو میں لے آؤں گا اور اس سے حضب منشا فائدہ اٹھا لوں گا
02:08اس کی حالت آخر تک بیم و رجا کیسی رہتی ہے لیکن انسان اپنے حاصل کردہ سامانوں کے پیچھے چل
02:16کر ہی کام کرتا ہے
02:17لیکن دعا اور اتجا کرنے کے لائق صرف وہ خدا ہی ہے جس کے حکم کے پیچھے پیچھے تمام ازباب
02:24چلتے ہیں
02:25یعنی جو خود مسبب الازباب بھی ہے
02:28پھر دو بادشاہ جنگ کرتے ہیں
02:31اگرچہ وہ ہر طرح کے سامان اور جرار فوجوں کو شکست دے دیتی ہیں
02:46اور دیگر قدرتی افتادیں ان کے علاوہ ہوتی ہیں
02:50وہ باوجود ان تمام کوششوں کے اس احکم الحاکمین اور مالک الملک سے دعائیں مانتے ہیں
02:55جو سبب ساز بھی ہے اور سبب سوز بھی ہے
03:00وہ چاہے تو ان میں دوستی پیدا کر دے اور چاہے تو دونوں کو تباہ کر دے
03:05اور کسی تیسرے بے سرو سامان کے ہاتھ میں مل دے دے
03:09اور چاہے تو کبھی ایک کو فتح دے دے اور کبھی دوسرے کو
03:13اور چاہے تو دونوں کو واپس بھیج دے
03:15جو چاہے سو کرے مالک اپنے ملک میں مختار ہے
03:19پیدا کرنا اور نتیجہ مقصود تک پہنچانا صرف اسی کے اختیار میں ہے
03:24یہی حال ہماری تمام تجارتی محنتوں
03:28مقدموں
03:29سفروں اور تمام دیگر کوششوں کا بھی ہے
03:32اس بیان سے ساپ کھل جاتا ہے
03:34کہ انسانوں کے لئے باہم دگر
03:36نیچرل استمداد جائز ہی نہیں
03:39بلکہ ضروری ہے
03:40لیکن وہ استمداد جو محض تصرفِ الہی سے تعلق رکھتی ہے
03:44کسی دوسرے سے چاہنا
03:46اس کو دوسرا خدا بنانا
03:48اور خدا کی خدائی میں شریک خیرانا ہے
03:50لیکن حق تعالیٰ اپنے تصرف کے کاموں میں کسی کو شریک نہیں کرتا
03:54یعنی یہ نہیں کہتا
03:56کہ ایک تو میں متصرف ہوں
03:58اور ایک تجھ کو بھی
04:00اس قسم کے تصرف کی قوت
04:02یا اختیار کسی ایک قسم کے کاموں میں
04:04یا چند روز کیلئے بھی
04:06دے دیتا ہوں
04:07اگر یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دائرہ تصرف میں
04:11کسی اور کو بھی شامل کر لیتا ہے
04:13تو تمام مشرق سچے ہیں
04:15کسی کے اختیاری افعال کو
04:17وحی کا درجہ دینا
04:18اسے خدا بنانا ہے
04:21وحی اور اکل میں بھی تصرف
04:23اور نیچر کا ہی فرق ہے
04:24مشورہ یعنی اکلی مدد
04:27انسانوں سے مانگی جاتی ہے
04:28لیکن کسی مخلوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا
04:31کہ ہمیں وحی لا دو
04:33ہم نے کتاب کے شروع ہی میں
04:35وحی اور اکل کا فرق دکھلا دیا تھا
04:37پس کسی محدود العقل
04:39اور کمجور بشر کے اختیاری کاموں میں
04:41اس کو ایسی قوت یا اختیار دینا
04:43کہ جس سے اس کے کام میں
04:46بائینہ وحی کے مثل بن جائیں
04:48جو خدا کا خاص فیل ہے
04:50اس کو دوسرے خدا بنانا ہے
04:52یہ بات اذر من الشمس ہے
04:54کہ خدا جو کام محض اپنے تصرف
04:56اور اختیار سے بلا
04:58کسی بشری اختیار کے دخل کے کرتا ہے
05:00وہ کسی بشر کا اختیاری فیل
05:02ہرگز نہیں ہو سکتا
05:04اسی طرح جو تعلیم و تفہیم
05:06خود خدا اپنے تصرف اور اختیار سے
05:08کسی بشری اختیار کے دخل کے بغیر
05:10کسی بشر کو دیتا ہے
05:13یعنی انبیاء کو جو وحی کرتا ہے
05:15وہ بھی کسی بشری اختیار
05:17کا نتیجہ نہیں ہوتی
05:18وہ خود خدا ہی کا خاص فیل ہوتا ہے
05:21اس سے بلکل واضح ہو جاتا ہے
05:23کہ کسی بشر کے اقلی اور اختیاری
05:25اقوال و افعال کو خدا کے تصرف
05:27یعنی وحی کا درجہ دینا
05:29اس کو خدا بنا دینا ہے
05:30اقلی اختیار
05:31جن میں غلطیاں واقع ہو سکتی ہیں
05:34وہ کبھی بھی وحی نہیں ہو سکتے
05:38ہمارا شروع ہی سے یہ سوال رہا ہے
05:41کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:43کے محدود بشری فیل
05:45اور اختیار کے کام
05:46کسی طرح بھی وحی علیہ ہو سکتے ہیں
05:48اس کے جواب میں حضرات اہلی حدیث
05:51نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:52کے مختار اور مکلف اور جواب دے
05:54ہونے سے ہرگز ہرگز انکار نہیں کیا
05:57بلکہ نہایت صفائی سے
05:59تسلیم فرمایا ہے
06:00کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:02کے استحادات میں غلطیاں واقع ہوتی تھی
06:05مگر باوجود اس اقرار
06:07کہ وہ آن حضرت کے استحادات
06:09کو وحی کا درجہ بھی دیتے ہیں
06:11چنانچہ ان کا اعتراب یہ ہے
06:13کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:16بشرتے
06:17آپ کو حق تعالیٰ نے بزریا
06:19وحی کے تفسیر قرآن کی
06:21قوت عطا فرمائی تھی
06:22جیسے ہائی کور یا پریوی کانسل کے جج کو
06:25کسی قانون کی صحیح تشریح کرنے
06:27کا شاہی اختیار ہوتا ہے
06:29یہ تو بلکہ صحیح ہے
06:30کہ انسان اپنی طرف سے خوب کوشش کر
06:33کے کسی بات کو اپنے خیال میں
06:34صحیح قرار دے سکتا ہے
06:36مگر یہ ضرور نہیں
06:37کہ وہ بات فی الواقعہ بھی
06:39ہمیشہ ہی صحیح ہوا کرے
06:41پس کسی جج کو ایسی ہی صحیح تشریح کرنے
06:44کا اختیار مل سکتا ہے
06:46جو اس کی طاقت و عقل کے مطابق ہو
06:48کسی شخص کو وہ اختیار دینا
06:50یعنی کسی کیلئے ایسا اختیار تسلیم کرنا
06:53جو اس کی طاقت و عقل سے بڑھ کر ہو
06:56بلکل فضول اور بیمانے بات ہے
06:58اسی معقول قائدے کے مطابق
07:00تمام بشری عقلوں کو آیات اللہ
07:02قرآن کریم میں
07:03تفکر تدبر تاکل
07:06استنباد کرنے کا اختیار
07:08خدا کی طرف سے ملا ہوا ہے
07:10جیسا کہ
07:18صورت نمبر 47 آیت نمبر 24
07:23تو کیا وہ قرآن میں خور و فکر نہیں کرتے
07:27یا ان کے دلوں پر کفل پڑے ہوئے ہیں
07:29میں عام لوگوں کے متعلق فرمایا گیا ہے
07:32کہ لوگ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے
07:35کیا ان کے ذہنوں پر قرآن کی طرف سے
07:38تعلق یعنی کفل پڑے ہوئے ہیں
07:39لہٰذا یہ اختیار یعنی تدبر
07:42صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
07:44کے بشری عقل کیلئے ہی مختص نہیں ہے
07:47لیکن کمال افسوس ہے
07:48کہ حضرات علمہ الرحیدیس
07:50اپنے بیانات میں
07:52رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری عقل
07:54کو محض عقل والا ہی حق
07:56اور اختیار نہیں دیتے
07:57بلکہ وہ قوت و اختیار دینے پر مصر ہیں
08:00جو بشری عقل کیلئے شائع نہیں
08:02اکلی اور اختیاری اقوال
08:05کو وحی کہنا دوسرا خدا بنانا ہے
08:07بزریا وحی کے تفسیر کرنے کی قوت
08:10عطا فرمانا
08:10اور جج کی طرح نبی کو
08:13تشریح کرنے کا شاہی
08:14یعنی خدا اختیار ہونا
08:16وحی کے ساتھ ہنسی کرنا ہے
08:18اور غیر خدا کو خدای حق دینا ہے
08:20جب کسی بشر کو کسی کام کرنے کی
08:23قوت اور اختیار دے دیا گیا
08:25تو وہ کام اس قوت
08:27اختیار والے کا اختیاری فیل ہو گیا
08:29اب اس بشر کے اختیاری فیل
08:31کو وحی یہ راہی دھیرانا
08:33جو حق تعالیٰ کا خاص فیل ہے
08:34بشری اختیاری فیل اور خدا کے
08:37خاص فیل کو ایک بنا دینا
08:39پھر حضرات اہلی حدیث کا دعویٰ ہے
08:42کہ اقلی فیصلوں میں
08:43چونکے غلطی کا امکان بلکہ
08:45احتمال ہوتا ہے
08:46اس لئے کسی کی ذات پر بلکل یا
08:49بھروسہ کرنا گویا
08:51اس کو احتمال خطہ سے مبرہ جاننا ہے
08:54پس آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
08:56کے فیصلوں کو
08:57بلہاز ان کی شخصیت کے
08:59واجب تسلیم فرمانا
09:01اور چونچرہ کی گنجائش نہ چھونا
09:04صاحب دلالت کرتا ہے
09:05کہ آپ جو فیصلہ فرمائیں گے
09:07وہ اقل مندوں کے فیصلے کے
09:09مانند نہ ہوگا
09:10چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
09:32صورت نمبر چار آیت نمبر پینسلیم
09:36تو نہیں تیرے رب کی قسم
09:38اے پیغمبر وہ مومن ہی نہیں ہو سکتے
09:41جب تک تجھے اپنے باہمین
09:42اختلافات میں حکم نہ بنائیں
09:44پھر جو کچھ آپ فیصلہ فرما دیں
09:46اس سے دل میں بھی کوئی تنگی
09:48محسوس نہ کریں
09:49اور اسے پوری طرح تسلیم نہ کر لیں
09:52ناظرین
09:53حضرات احر حدیث کے جوابات
09:55کا اندازہ لگاتے وقت
09:56ہمارے سوالات بھی پیش نظر رکھا کریں
09:58یہاں ہمارا سوال
10:00صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
10:07کے بشری اقوال بھی وہی تھے
10:09جن کے لئے آپ مکلف اور جواب دے بھی تھے
10:12حضرات علماء احر حدیث فرماتے ہیں
10:15کہ اقلی باتوں میں
10:16کسی کی ذات پر بلکل بھروسہ کرنا
10:18گویا احتمال خطا سے مبرہ جاننا ہے
10:21یعنی خدا ماننا ہے
10:23یہ بلکل سچی بات ہے
10:25ہمارے سوال کا جواب
10:26اتنی بات سے صحیح صحیح مل جاتا ہے
10:29مگر اس کے بعد وہ فرماتے ہیں
10:31کہ اللہ تعالیٰ نے
10:32رسول کی شخصیت کو
10:33آپ کے بشری اور اقلی اقوال و افعال میں بھی
10:36بلکل یہ بھروسہ کے لائق
10:38اور احتمال خطا سے مبرہ بنا دیا ہے
10:41یا یوں کہیے کہ
10:42حضور کو دوسرا خدا ٹھہرا دیا ہے
10:44چنانچہ فرماتے ہیں کہ
10:46اگرچہ اقل کو بلکل یہ بھروسہ کے
10:49لائق اور مبرہ
10:50ان الخطا ہونے کا درجہ دینا باطل ہے
10:53مگر خدا نے رسول کی
10:54اقل کو یہ درجہ دے دیا ہے
10:56کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
10:59کے فیصلوں کو بے لحاظ
11:00حضور کی شخصیت کے واجب تسکیم فرما دیا ہے
11:03اور چونچرہ کی گنجائش
11:05نہیں چھوڑی
11:06پس خدا کے ایسے درجہ اختیار دینے سے
11:09رسول کی بشری اقل
11:11ایسی قرار پا گئی کہ دوسرے اقلمندوں
11:13کے مثل نہ رہی
11:14مازاللہ
11:15سیدھے سوال کے جواب میں کیسے پیش
11:18ڈالے جاتے ہیں
11:19صاف نہیں کہا جاتا
11:21کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:24کی اختیاری اور بشری اقل
11:26کے اقوال و افعال ہرگز ہرگز
11:28وحی نہیں تھے
11:30قول اللہ اور قول البشر کی تمیز
11:32ہرگز ختم نہیں ہو سکتی
11:34اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
11:36کے بشری اقوال بھی وحی تھے
11:38تو قول البشر اور قول اللہ
11:40میں وحی ہونے کے اہدبار سے
11:42کوئی فرق نہیں رہتا
11:43اس سے وہ کافر سچا بن جاتا ہے
11:45جو کہتا تھا کہ یہ قرآن
11:47اسی بشر یعنی محمد رسول اللہ
11:50صلی اللہ علیہ وسلم کا کال ہے
11:51کال محمد کو کال
11:53الہی کی طرح وحی بنانا
11:55صراحتا اس کافر کی تزدیق کرتا ہے
11:58جو کہتا تھا
12:03سورت نمبر چوہتر آیت نمبر پچیس
12:06جو قرآن خدا کا نہیں
12:08بلکہ بشر محمد کا کال ہے
12:10یعنی وہ کہتا تھا
12:11کہ محمد اپنے کال کو
12:13اللہ کا کال کہتا ہے
12:15اسی طرح علماء احریادیس
12:17کال رسول کو
12:18اللہ کا کال بتا کر
12:20تزدیق فرما رہے ہیں
12:21کہ واقعی رسول صلی اللہ علیہ وسلم
12:23کا کال اللہ کا کال ہے
12:25لیکن خدا اس کافر کی متعلق
12:27آگے فرماتا ہے
12:30سورت نمبر چوہتر آیت نمبر چھبیس
12:34میں ضرور
12:35اسے جہانم میں داخل کر کے
12:37رہوں گا
12:40دائرہ اختیارات
12:42یہ امر آفتاب المعطاب
12:44کی طرح روشن ہے
12:45کہ صحابہ کرام
12:46رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:47سے بیٹے نہیں مانگ سکتے تھے
12:49اور نہ یہ سوال کر سکتے تھے
12:51کہ ہمارے بیٹوں کو
12:52طول حیات عطا فرما دیئے
12:54کیونکہ یہ کام آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
12:58کے اقل و اختیار سے باہر تھے
12:59حضور تو اپنے بیٹوں کو
13:01اور نمازوں کو بھی نہ بجا سکے
13:03حاصل یہ کہ جو کام
13:05حضور صلی اللہ علیہ وسلم
13:06کے اپنے فہم و اختیار کے نہ تھے
13:08ان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم
13:10سے سوال نہیں ہو سکتا تھا
13:11لیکن جو کام آن جناب
13:13یہ اپنی اقل و اختیار کی تھے
13:15ان کا ماننا آپ کی گھر سے جائز تھا
13:18مثلا ایک پیاسہ
13:20رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:21سے پانی مانگ سکتا تھا
13:23خواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
13:25اپنے گھر سے پانی پلا دیتے
13:26یا کسی نہر یا طلاب سے
13:29یا بارش کا پانی منگا دیتے
13:30مگر وہ پیاسہ حضور سے
13:32یہ سوال نہیں کر سکتا تھا
13:34کہ آپ بارش برسا کر پانی پلا دیجئے
13:37اب یہ بات بالکل ہی واضح ہے
13:39کہ اسی طرح وہی الہی میں
13:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:42کے اپنے اقل و اختیار کا
13:44کوئی دخل نہیں
13:45ٹھیک جس طرح بیٹے بخشنے
13:47طول حیات عطا فرمانے
13:49اور بالش برسا دینے کا
13:51کوئی اختیار نہیں تھا
13:53ہاں نازل شدہ وہی میں
13:54تدبر کرنے اور اقل و فہم سے
13:57کام لینے کی پوری اجازت تھی
14:00صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ و اجمعیم
14:03جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
14:04سے مسائل پوچھتے تھے
14:06وہ بالکل اسی پیاسے کی طرح
14:08جو آپ سے آپ کی طاقت
14:09اور اختیار کے مطابق
14:11ہی پانی مانگتا تھا
14:12اپنے مسائل کا حل مانگتے تھے
14:15جیسے وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا
14:17کہ وہ پانی پلاؤ جو
14:18ہر دفعہ اسی وقت
14:20تازہ بتازہ آسمان سے برسا ہو
14:22اسی طرح صحابہ بھی
14:24یہ نہیں کہتے تھے
14:25اور نہ کہہ سکتے تھے
14:27کہ ہمیں وہ حل بتائیے
14:28جو تازہ بتازہ آسمان سے
14:31بزریا وحی نازل ہوا ہو
14:32اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
14:34کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
14:36اپنے بچری فہم اختیار سے
14:38بھی بلجرور باتیں کیا کرتے تھے
14:41جو ہرگز ہرگز
14:42وہی نہیں قرار پاسکتی تھی
14:46خدا کا مخصوص فیل
14:48کسی بندے کا اختیاری فیل
14:50قرار نہیں پاسکتا
14:51اگر خدا کسی صاحب اختیار شخص
14:54کے ساتھ ایسا وعدہ فرمائے
14:56کہ تیری تمام اختیاری باتیں
14:58بھی وہی ہوں گی
14:59تو اس سے لازم آئے گا
15:01کہ وہ شخص جب چاہے
15:02خدا سے با اختیار خل وہی حاصل کر سکتا ہے
15:05اسی طرح اس بندے کے لئے
15:07وہی پانا اور غائبانا
15:09باتیں بتلا دینا
15:10اختیاری فیل بن جائے گا
15:12لیکن یہ قطن محال ہے
15:14کہ ایک چیز اللہ تعالی کا
15:15مخصوص فیل بھی ہو
15:17اور وہی چیز کسی بشر کا
15:19اختیاری فیل بھی ہو
15:20حاصل یہ کہ اگر
15:21رسولوں کے اختیاری فیل بھی تھے
15:24تو وہ ہرگز ہرگز
15:25وہی الہی نہیں ہو سکتے
15:27مگر افسوس ہے کہ
15:28آج تک ایسی سیدھی سی بات
15:30کا سفائی کے ساتھ
15:31اقرار نہیں کیا گیا
15:32رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:34کو ہر وقت
15:35وہی نہیں ہوا کرتی تھی
15:36جب آپ کوئی آیت
15:38نہ لاتے
15:39تو کافر کہا کرتے تھے
15:41وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِنْ بِآَيَةٍ
15:44قَالُوا لَوْ لَجْتَبَيْتَهَا
15:47سورة نمبر ساتھ
15:48آیت نمبر دو سو تین
15:49اور جب آپ
15:51ان کے پاس
15:52کوئی آیت نہیں لاتے
15:53تو وہ کہتے ہیں
15:54کہ تُو نے خود ہی
15:55کیوں نہ اسے بنا لیا
15:56یعنی تُو اسے خود ہی
15:58کیوں نہیں گھڑ لائا
16:00تو اس کے جواب میں
16:01حکم ہوا
16:02سورة نمبر ساتھ
16:03آیت نمبر دو سو تین
16:05قُلْ اِنَّمَا
16:07اَتَّبِعُ مَا يُوحَا
16:10اِلَيَّا مِ الرَّبِّ
16:12آپ کہہ دیجئے
16:14کہ میں تو صرف
16:15اپنے رب کی وحی کے پیچھے چلتا ہوں
16:17یعنی اپنی طرف سے
16:19بنا کر کوئی آیت پیش نہیں کرتا
16:21اور پیش نہیں کر سکتا
16:23میں تو وحی الہی کے پیچھے چلتا ہوں
16:26یہ نہیں کہ
16:27وحی الہی میرے فہم و اختیار کے پیچھے چلتی ہو
16:30اور جو بات میں کہہ دوں
16:31وحی الہی بن جائے
16:33حدیث
16:35ماز ابن جبل رضی اللہ عنہ کے مطابق
16:38اہل حدیث حضرات بھی تسلیم فرماتے ہیں
16:41کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے
16:43پہلے قرآن مجید سے حکم تلاش کرنے چاہیے
16:46اگر قرآن مجید میں نہ ملیں
16:49تو حدیث کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے
16:52اور حدیث میں بھی اس کے متعلق احکام نہ ہوں
16:55تو اجتہاد اور رائے کے اصول پر عمل کرنا لازم ہے
16:58اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
17:00کہ قرآن و حدیث کے باوجود بھی
17:02اہلِ علم کے نزدیک اجتہاد کر کے
17:04رائے نکالنے کی سخت ضرورت ہے
17:07اسی ضرورت کے سبب سے
17:09مشتہدوں کو بھی اجتہاد کرنے پڑے ہیں
17:11اس سے ثابت ہوتا ہے
17:13کہ خود وحی نے ہی بہت کچھ
17:15اکل پر چھوڑا ہوا ہے
17:16جب وحی الہی کا منشہ ہی یہ ہے
17:19کہ بہت سے مسائل کو اکل پر چھوڑ دے
17:22تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
17:25کی بشری اکل ہی اس لائق نہیں تھی
17:27کہ اس پر اسی طرح کے مسائل چھوڑے جاتے
17:29کیا نعوذ باللہ
17:31آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
17:33اجتہاد کے ناقابل سمجھ کر
17:35ہر ہر مسئلے کی خاطر وحی کی جاتی تھی
17:38کیا جن مسائل کو
17:40خود وحی الہی نے
17:41اپنے میں شامل نہ کر کے
17:43آج تک اجتہاد پر چھوڑ رکھا ہے
17:45وحی مسائل زمانہ رسول میں بھی
17:48اسی طرح بشری اکلوں پر نہیں چھوڑے ہوئے تھے
17:50اور اگر اس وقت
17:52وحی الہی نے ہی ان مسائل کو
17:54بشری اجتہاد پر چھوڑنا منظور فرمایا تھا
17:56تو کیوں اب
17:58برخلاف منشائے وحی
17:59ان بشری اجتہادوں کو
18:01وحی بنایا جائے
18:03ابتدائے اہد رسالت میں
18:05مسلمان ضرور فوت ہوا کرتے تھے
18:08ان کی میراسوں کو بھی
18:09تقسیم کرنے کی ضرورت پڑتی تھی
18:11لیکن احکام میراس
18:14ایک مدت کے بعد
18:15مدینہ منورہ میں جا کر نازل ہوئے
18:17ان میں یہ بھی فرمایا ہے
18:19کہ خدا تمہیں
18:20غلطیوں سے بچانے کے لئے یہ بیان کر رہا ہے
18:23اس سے معلوم ہوتا ہے
18:25کہ عرصہ دراز تک
18:26تقسیم مراز باوجود غلطیوں کے
18:29حضب فہم ہی ہوتی رہی تھی
18:31اسی طرح وضو بھی
18:32ابتدائی سے کسی نہ کسی طرح کیا جاتا تھا
18:35مگر وضو کا حکم
18:37اور طریقہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوا
18:39اس سے صاف کھل جاتا ہے
18:41کہ اس سے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہ
18:43رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
18:45کی اطاعت
18:46اقلی باتوں میں
18:47اقلی طور پر ہی کیا کرتے تھے
18:49پس عہد نبوت میں
18:50رسول اللہ کی
18:51اقلی اطاعت بھی
18:52بزرور ہوتی تھی
18:54اب اس اقلی اطاعت کے
18:55کچھ اور معنی
18:56بنا لینا درست نہیں
18:58مقام حیرت
19:01لوگ حیران ہوں گے
19:03کہ جب بات بلکل واضح ہے
19:05کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:07کے بشری اور اقلی اقوال و افعال
19:09ہرگز ہرگز وہی نہیں تھے
19:11تو ہمارے علماء اکرام کو
19:13اس کے تسلیم فرما لینے میں
19:14کون سی دشواری ہو سکتی ہے
19:16اس کے جواب میں
19:17اس کے سوا کیا کہا جائے
19:19کہ
19:19اس سچی بات کو تسلیم کر لینے سے
19:22ان کا تمام تار و پود ہی
19:24درم بھرم ہو جاتا ہے
19:26ہمارے علماء اکرام
19:27اگر اسے تسلیم فرما لیں
19:29تو انہیں یہ بھی پاننا پڑتا ہے
19:31کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
19:33کے ارشادات اور اقدامات
19:35اقوال و افعال دو قسم کے تھے
19:38ایک تو محض تصرف الہی سے
19:40علم یقینی کے ساتھ ملتے تھے
19:42جو وہی الہی تھے
19:43دوسرے آپ کے بشری اقوال
19:45جو خود وہی نہیں تھے
19:47اس صورت میں حق تارہ پر لازم تھا
19:49کہ ان دونوں کو خلط ملط نہ رہنے دیں
19:52کیونکہ
19:53اول تشریحی وحی کا بدل
19:56آئندہ آن حضرت کے بعد
19:58کبھی نہیں ملنا تھا
20:00لیکن اقلی تحقیقات کا بدل
20:02ہمیشہ ممکن ہے
20:04دوم نیز یہ کہ
20:05اس امتیاز سے
20:07تشریحی وحی
20:08ایک بے مثل اور سہل الحصول
20:10مجموعے میں محفوظ ہو جائے
20:12سوم مزید یہ کہ
20:14حق تعالیٰ اس ممتاز مجموعے کی
20:16حفاظت کو اپنے ذمہ لے کر
20:19اپنے فرض کو صحیح طور پر
20:20بجا لاکر دکھلا دے
20:22کہ جس طرح حفاظت اور رحمت سے
20:25ہم نے اسے اتارا ہے
20:26اسی حفاظت سے اسے پہنچا بھی دیا ہے
20:29چہارم
20:30اگر وحی اور غیر وحی کو مخلوط رہنے دیا جاتا
20:34تو غیر محفوظ حصہ
20:36جس کی حفاظت منظور نہ تھی
20:38ضرور ہی موضوع
20:40ضعیف غریب اور ذنی بن جاتا
20:43جیسا کہ حدیثوں کا حال ہوا ہے
20:45حدیثوں نے موضوع آیتیں بھی بنائی ہیں
20:48مگر شکر ہے کہ
20:49اس مجموعہ
20:50وحی الہی قرآن کریم کے ممتاز ہونے کے سبب
20:53وہ اس میں نہیں مل سکی
20:55موضوع آیتیں ان حدیثوں ہی میں رہیں جن میں انہیں رہنا چاہیے تھا
21:00حاصل یہ کہ
21:01وحی کو غیر وحی سے ممتاز کرنا
21:03خود وحی بھیجنے والے ہی کا کام ہے
21:06خدا کا یہ کام صرف قرآن مجید کی صورت میں ہی ملتا ہے
21:09اگر قرآن مجید کے سوا بھی
21:11کوئی وحی رسول خدا پر نازل ہوئی ہوتی
21:14تو اس کے نازل کرنے والا
21:16اس کی حفاظت بھی ضرور کر دیتا
21:18خدا نے رسول خدا کی ساری وحی کو
21:21قرآن مجید میں لاکر
21:22وحی کی ضرورتوں کے مطابق
21:24اسے مکمل کر دیا ہے
21:27خدا فرض منصبی سے غافل نہیں
21:31ہمارے علماء کرام کے خیال میں
21:33قرآن مجید نے
21:34رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
21:37بہت سی وحی کو چھوڑ بھی دیا ہے
21:39اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
21:41کے بشری اور عقلی
21:43اقوال و افعال کے ساتھ
21:45گرمت رہنے دیا ہے
21:46اب اگر ہمارے علماء کرام حدیثی بیانات
21:49کو وحی اور غیر وحی
21:51کا مجموع قرار دیں تو
21:52اس سے ثابت ہوگا کہ اللہ تعالی نے
21:55وحی اور غیر وحی کو جدہ جدہ
21:57کرنے کا فرض خود ادا نہیں کیا
21:59بلکہ بہت کچھ ہم پر بھی
22:01چھوڑ دیا ہے تاکہ ہم
22:03خود ہی وحی اور غیر وحی کو
22:04سنگ سنگ کر اختیار کرتے رہا کریں
22:06کہ کس حدیثی کول کو
22:08وحی ٹھہرائیں اور کس کو رسول کی
22:11اپنی رائے قرار دیں
22:14منصب رسالت
22:16ہمارے حضرات علماء کرام
22:18رسول کی بشری اور عقلی
22:19باتوں کو بھی وحی بنانا چاہتے ہیں
22:21تاکہ وحی اور غیر وحی میں
22:23کسی تمہیز کی ضرورت ہی نہ رہے
22:26ان کے نزدیک اہد رسالت
22:28ایک ایسا منصب ہے جہاں
22:29غیر وحی کو بھی وحی کا ہی
22:31امتیاز اور مرتبہ حاصل ہوتا ہے
22:34ان کے نزدیک رسول اللہ
22:35صلی اللہ علیہ وسلم کے باتوں میں
22:37کول بشر اور کول خدا کا
22:39ایک ہی مفہوم ہے کیونکہ ان کے
22:41نزدیک رسول خدا کی بشری اطاعت
22:44بھی بہینی وحی کی اطاعت
22:45کے برابر ہے معاذ اللہ
22:47سمم معاذ اللہ
22:49بشری اور عقلی اقوال میں سے
22:51بعض کی تزدیق اور بعض کی تردید
22:54رسول اللہ
22:55صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف
22:57جو خدا کی طرف سے وحی
22:59یعنی قرآن نازل ہوئی ہے
23:01اس میں حضور اکرم کی بہت سے
23:03بشری اور عقلی اقوال و اقوال کی
23:05تزدیق کر دینا ضروری قرار دیا گیا ہے
23:07بلکہ قرآن مجید میں
23:09رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
23:11کی زندگی کے بہت سے حالات
23:13و واقعات بعد از حقوق بھی
23:15درش کر کے انہیں محفوظ کر دینا
23:17لازم سن جا گیا ہے
23:18اس مجموع وحی یعنی قرآن کریم میں
23:21رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
23:23کے بہت سے اشادات و اقدامات
23:25کی اصلاح بھی فرمائی گئی ہے
23:27اور کئی باتوں کی کھول کر
23:29تردید بھی کر دی گئی ہے
23:31اب ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
23:33کی جن باتوں کو مجموع وحی
23:39وہ محض اکل پر ہی چھوڑی گئی ہیں
23:41ان کو نہ مصدقہ وحی
23:43کہہ سکتے ہیں نہ مقذوبہ وحی
23:45حاصل یہ کہ وہ وحی
23:47جو ایک حد تک رسول اللہ صلی اللہ
23:49علیہ وسلم کی بشری اور اقلی
23:51باتوں کی تزدیق و تردید
23:53اور اصلاح سب کو اپنے ہاتھ
23:55میں لینا ضروری سمجھتی ہے
23:57اس کی نری خاموشی کسی بات
23:59کی قطعی صحت کی دلیل نہیں
24:01بن سکتی مگر بڑا افسوس
24:03ہے کہ ہمارے علماء اکرام
24:05اس سچی اور سیدھی بات کو نہیں مانتے
24:07اور الٹ پلٹ دابوں پر
24:09ادھر آتے ہیں
24:10تزادات
24:12ہمارے علماء اکرام کا ذہن چونکہ
24:14اس مسئلے میں ساپ نہیں ہے
24:16اس لئے عجیب و غریب تزادات آپ کو
24:19ان کی تحریروں میں ملیں گے
24:20یہاں ہم ان کے چند تزادات
24:23جو اس موضوع سے تعلق رکھتے ہیں
24:25بطور نمونہ پیش کرتے ہیں
24:26اول
24:27بہاوالہ امام شافی اور
24:29علامہ ابن قیم وغیرہ فرماتے ہیں
24:32کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
24:34کل احکام فہم قرآن پر مبنی تھے
24:37یعنی آپ کے تمام اقدامات
24:39اور تمام ارسادات قرآن کریم
24:41ہی سے ماخوص و مستنبت ہوتے تھے
24:44اس اخصو استنباد
24:45یعنی استحاد میں آپ سے غلطی بھی ہو جاتی تھی
24:48لیکن ان اغلاق پر
24:50تنبیع الہی وارد ہو جاتی تھی
24:52مثلا
24:52عف اللہ عن کلمہ اذنت لہم
24:57لما اذنت لہم
24:59حتی يتبین لکن لذین صدقوا
25:03وتعلم الكادبین
25:05سورت نمبر نو
25:07حیت نمبر تر تالیس
25:09اے پیغمبر
25:09اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے
25:11مگر آپ نے ان منافقین کو
25:14تبوک کی جنگ میں پیچھے رہ جانے کی
25:16اجازت کیوں دے دی
25:17آپ کو معلوم تو ہو جاتا
25:19کہ کون لوگ سچ بول رہے ہیں
25:21اور آپ جھوٹوں کو بھی پہچان لیتے
25:23اور
25:24یا ایوہا النبی لما تحرم ما احل اللہ لکھ
25:31سورت نمبر 66 آیت نمبر 1
25:33اے پیغمبر اسلام
25:35آپ ان چیزوں کو کیوں حرام کیے لیتے ہیں
25:37جنہیں اللہ نے آپ کی لئے حلال کیا ہے
Comments