Skip to playerSkip to main content
File 16 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |


Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.

Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use


#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research

Category

📚
Learning
Transcript
00:00باب چہارم
00:01انبیاء علیہ السلام سے اجتہادی غلطیاں ہو سکتی تھی
00:04بلا شبہ
00:05ہر رسول پہلا شخص ہوتا ہے
00:07جو اشاعت اسلام کے بنیاد رکھتا ہے
00:09اور عام قائدہ ہے
00:10کہ جو شخص کسی کام کے بنیاد ڈالتا ہے
00:13اس کا حوصلہ
00:14حمد
00:14استقلال
00:15پختی
00:16عظم و ارادہ
00:17نیک نیتی
00:18خیرخواہی
00:19ہمدردی
00:20عام انسانوں سے
00:21بہت زیادہ اور مثالی ہوا کرتی ہے
00:23اور جو نیک اشخاص
00:24اس کے ساتھ ابتدان شامل ہوتے ہیں
00:26ان میں سے بھی اکثر کا یہی حال ہوتا ہے
00:29وہ غلطیاں جن سے
00:30اکل و فہم
00:31محبت
00:31نیک نیتی
00:32خیرخواہی
00:33اور سچی توبہ بچا لیتی ہے
00:34ان سے نسبتاں کم ہوتی ہیں
00:36لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہے
00:38کہ وہ معصوم ان الخطہ ہوتے ہیں
00:40اور ان سے کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی
00:43ان صفات میں
00:44تمام رسول بھی یقصہ نہیں ہوتے
00:46اور ان کی کوششیں بھی یقصہ باراور نہیں ہوتی
00:49حضرت لوت علیہ السلام کے ساتھ
00:50صرف ان کا اپنا گھر ہی مسلمان بنا
00:59صورت نمبر 51 آیت نمبر 36
01:01ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک گھر پایا ہے
01:04اپنے گھر والوں میں سے بھی بیوی پیچھے رہ گئی تھی
01:13صورت نمبر 7 آیت نمبر 83
01:15تو ہم نے لوت اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا
01:18البتہ اس کی بیوی نہیں بچی
01:20وہ باقی ماندہ حلاق ہونے والوں میں سے ہو گئی
01:23حضرت نوح علیہ السلام نے مدت دراز تک
01:26دن رات جان توڑ کوششیں کی
01:28لیکن
01:31وَمَا آمَنَ مَعَهُوا إِلَّا قَلِيلِ
01:36صورت نمبر 11 آیت نمبر 40
01:38تھوڑے سے آدمیوں کے سوا ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لیا
01:42حتیٰ کہ ان کی بیوی بھی اس معاملے میں ان کی ہم خیال نہ ہوئیں
01:46ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُ مْرَأَةَ نُوحٍ وَمْرَأَةَ لُوْقٍ
01:53كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا
01:58فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْمِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شِيئًا
02:03وَقِيلَ دُخُلَ النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ
02:07صورت نمبر 66 آیت نمبر 10
02:10کفار کے لئے اللہ نے ایک مثال پیش کی ہے
02:13یعنی زوجہ نوح اور زوجہ لوت کی مثال
02:17یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں
02:21لیکن دونوں نے شوہروں سے خیانت کی
02:23تو وہ اللہ کے عذاب سے انہیں وہ کچھ بھی کام نہ آسکے
02:26اور دونوں بیویوں سے کہہ دیا گیا
02:29کہ جہانم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہو جاؤ
02:32حضرت نوح علیہ السلام کا ایک لڑکا ان کی اپنی آنکھوں کے سامنے غرق ہو گیا
02:38ونادى نوح ربه فقال رب ان بني من اہلي وان وعدك الحق وانت احكم الحاكمین
02:52قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحَ
02:59فَلَا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ
03:03فَلَا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ
03:07إِنِّي أَعِضُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
03:12صورت نمبر گیارہ آیت نمبر پینتالیس اور چھالیس
03:16اور نُوح نے اپنے رب کو پکارا
03:18پس کہا پروردگار میرے بیٹا میرے اہل میں سے ہے
03:22اور تیرہ وعدہ سچا ہے
03:24اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
03:26تو حق طالع نے فرمایا کہ
03:28اے نُوح تیرہ بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ہے
03:31اس کے عامال نیت نہیں ہیں
03:32یعنی ہمارے ہاں خون اور نسل کو نہیں
03:35بلکہ عمل کو دیکھا جاتا ہے
03:37تو ایسی بات کا مجھ سے سوال نہ کر
03:40جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے
03:42میں تجھے نصیت کرتا ہوں
03:43کہ تُو جاہلوں میں سے نہ ہو جا
03:45پس کوششوں کی کامیابی اور چیز ہے
03:48اور کسی کو معصوم عن الخطہ
03:50بنا دیا جانا اور چیز ہے
03:52انبیاء علیہ السلام
03:54خطہ اجتہادی سے معصوم نہیں تھے
03:57رسولوں کو بلا شبہ
03:58اپنی وحی پر بڑا یقین ہونا لازم ہے
04:01مگر ساتھ ہی عام اصول کے مطابق
04:03یہ بھی لازم ہے
04:04کہ رسولوں کی ذمہ داری اور جواب دیہی
04:06بھی بہت بڑی ہوئی ہوتی ہے
04:08جیسا کہ خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
04:11کا قول سورہ یاسین میں
04:13مذکور ہے
04:21سورت نمبر دس آیت نمبر پندرہ
04:23اگر میں اپنے پروردگار
04:25کی نافر مانی کروں
04:26تو میں بھی بڑے دن کے عذاب سے
04:28ڈرتا ہوں
04:28انبیاء علیہ السلام کے صحو
04:30اور خطائیں قرآن مجید میں
04:32متعدد مذکور ہیں
04:34اگرچہ
04:51سورت نمبر اکیس آیت نمبر
04:53چھبیس اور ستائیس
04:54وہ کہتے ہیں
04:55کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے
04:57خدا کی ذات اس سے پاک ہے
04:59یعنی جنہ وہ اس کے بیٹے بتا رہے ہیں
05:02وہ اس کے بیٹے نہیں
05:03بلکہ وہ اس کے معزز و مکرم بندے ہیں
05:06وہ بات کرنے میں
05:08اس سے سبقت نہیں کرتے
05:09اور وہ اس کے حکم کے مطابق
05:11ہی عمل کرتے ہیں
05:12قرآن کی اس شہادت کے مطابق
05:14یہ تو ثابت ہوتا ہے
05:15کہ انبیاء کرام کا
05:17یہ پاکیزہ گروہ
05:18عمدن غلطی کرنے سے مبرہ ہے
05:20لیکن قرآن مجید سے
05:21یہ ثابت نہیں ہوتا
05:23کہ انبیاء علیہ السلام سے
05:24صحوہ
05:24لگزش اور خطائیں
05:26بلکل سرزد ہی نہیں ہوتی تھی
05:28حضرت یونس علیہ السلام کا
05:29قوم سے الگ ہو جانا
05:31وَإِنَّ يُعْنُسَنَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
05:35اِذْ أَبْقَئِ لَا الْفُلْكِ الْمَشْحُونَ
05:39فَسَاہَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ
05:42فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِينَ
05:46صورت نمبر سینتیس آیت نمبر
05:48ایک سو بیالیس سے ایک سو انتالیس
05:50اور یقیناً
05:51یونس بھی رسولوں میں سے تھے
05:59چنانچہ مچھلے نے ان کا لکمہ بنا لیا
06:01اور وہ پشیمان تھے
06:03حضرت نوح علیہ السلام کا
06:05بیٹے کے لئے سفارش اور دعا کرنا
06:07اور حق تعالیٰ کی طرف سے
06:08متنبع کیا جانا
06:16سورت نمبر گیارہ آیت نمبر چھالیس
06:18میں تجھے نصیت کرتا ہوں
06:20اے نوح کہ تُو جاہلوں میں سے نہ بن
06:23حضرت دعوت علیہ السلام کا
06:25بکریوں کے مقدمے میں
06:26صحیح فیصلہ نہ دے سکنا
06:45صورت نمبر اکیس
06:46آیت نمبر اٹھتر اور اناسی
06:48اور دعوت اور سلیمان کے واقعے
06:51کو یاد کرو
06:51جب وہ کھیت کے مقدمے میں
06:53فیصلہ دے رہے تھے
06:54جب کھیت میں قوم کی بکریوں
06:56چر گئی تھی
06:57اور ہم ان کے فیصلے کو
06:59دیکھ رہے تھے
07:00تو ہم نے مقدمے کے فیصلے
07:01کی سمجھ سلیمان کو
07:02عطا فرمائی
07:03اور سب کل دعوت کو
07:05اور سلیمان کو
07:06ہم نے حکومت
07:07اور علم عطا فرمایا تھا
07:09وغیرہ آیت کریمہ سے
07:11صاف صاف ظاہر ہو جاتا ہے
07:13کہ حق تعالیٰ کے
07:14انبیاء و رسول
07:15بشریت کے تقاضوں سے
07:16ہرگز مبررہ نہیں تھے
07:18اور ان سے بھی
07:19صحب اور نسیان
07:20اور خطائیں
07:21سرجت ہو جاتی تھی
07:22لہٰذا صاف ظاہر ہے
07:24کہ جس مجموع کلام میں
07:25احتمال خطا ہو
07:27وہ وحی نہیں ہو سکتا
07:28چونکہ صحب و خطا سے
07:30مبررہ صرف وحی علیہ ہے
07:31پس حجت بھی یہی ہے
07:33اس لئے اب
07:34وحی علیہ کی محبت
07:36ہی پیدا کرنی چاہیے
07:37تاکہ ہمارا شوق
07:38و ایمان بھی بڑھے
07:39اور عالی کام انجام دے
07:40وحی کی محبت کا کام
07:42وحی کی محبت ہی سے ہوگا
07:44اگر غیر وحی کو
07:45چالیں کر کے
07:46وحی
07:46یا وحی کے
07:47ہم مائنے
07:48اور ہم پلہ قرار
07:49دے لیا جائے
07:50تو وحی کی خاص
07:51محبت ہی جاتی رہے گی
07:52رائے
07:53رابی
07:54اجمع
07:55اور اسلاف پرستی
07:56یہی وجہ ہے
07:57کہ اب
07:58اگرچہ مکمل صورت میں
07:59وحی موجود ہے
08:01جو
08:01حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
08:03پر نازل ہوئی تھی
08:04مگر اس کا شوق
08:05محبت
08:05اور پیار
08:06یہ رہ گیا ہے
08:07کہ اہل قرآن
08:08ایک قسم کی
08:09گالی بن گئی ہے
08:10کسی کو
08:11اہل قرآن
08:11کہہ دینا
08:12اسے گمرا
08:13اور بدفطرت
08:13کہنے کے
08:14مدرادف ہے
08:15اور اہل حدیث
08:16کا نام
08:16فخر سے لیا جاتا ہے
08:18اجمع
08:18اور سلف
08:19اور خلف
08:20کے آرہ سے
08:20بلکہ بخاری
08:21کے کوئی ایک باپ
08:22باندھ دینے سے
08:23قرآن کو
08:24چھوڑ دیا جاتا ہے
08:25ایک ایک درویش
08:26اور مولوی کی مرضی
08:27قرآن پر
08:28قاضی بنی ہوئی ہے
08:29قرآن کو
08:29محض اس کی روانی
08:30اور اس کے منشاہ
08:31اور اسی کے رنگ
08:32میں نہیں دیکھا جاتا
08:33بعض لوگ
08:34مغالطہ دیتے ہیں
08:35کہ چونکہ
08:36رسولوں کو
08:36اللہ کی طرف سے
08:37علم اور حکم
08:38ملا ہوتا ہے
08:39اس لئے
08:40ان کا پہم
08:40کبھی غلط نہیں کرتا
08:41ہماری گزارش یہ ہے
08:43کہ دوسرے محسینین
08:44نیکوکاروں کو بھی
08:45اس طرح
08:46خدا تعالیٰ کی طرف سے
08:47علم و حکم
08:48ملا ہوتا ہے
08:49یعنی ان لوگوں کو
08:50جو نبی نہ ہونے
08:51کے باوجود
08:52احکام خداوندی
08:53کے ساتھ
08:54فیصلے کرتے ہیں
08:55تو کیا وہ بھی
08:56حکم و علم
08:57کے مل جانے سے
08:58معصوم انلخطہ
08:59ہو جاتے ہیں
09:01چنانچہ
09:01حضرت موسیٰ علیہ السلام
09:03کو اور حضرت
09:04یوسف علیہ السلام
09:05کو نبوت سے پہلے ہی
09:06حکم و علم
09:07عطا کر دیا گیا تھا
09:08تو کیا
09:09وہ اس حال میں
09:10معصوم انلخطہ
09:11ہو گئے تھے
09:12دیکھئے
09:12سورت نمبر بارہ
09:13آیت نمبر بائیس
09:14اور سورت نمبر اٹھائیس
09:15آیت نمبر چودہ
09:16نیز
09:17حضرت دعود
09:18اور حضرت سلمان
09:19علیہ السلام
09:19کے متعلق
09:20اوپر گزر چکا ہے
09:21کہ حق تعالیٰ
09:22نے دونوں کو
09:23علم و حکم
09:24عطا فرمایا ہوا تھا
09:25لیکن بکریوں
09:26کے مقدمے میں
09:27اس کے باوجود
09:28حضرت دعود
09:29صحیح فیصلہ
09:29نہیں دے سکے
09:30اور حضرت سلمان
09:31نے صحیح فیصلہ دیا
09:32ملائزہ ہو
09:33سورت نمبر اکیس
09:34آیت نمبر اناسی
09:35افسوس ہے
09:36کہ رسولوں کو
09:37بشر نہیں سمجھا جاتا
09:38اور ان کے لئے
09:39جو انام قرآن میں
09:40بیان ہوئے ہیں
09:41ان کے معنی
09:42ماں فوق البشر
09:43حالت کی کرتے ہیں
09:44کیا بلکیس
09:45ملکہ سبا کے لئے
09:46قرآن کریم میں
09:47موہوتیت من کل شیئ
09:50سورت نمبر ستائیس
09:52آیت نمبر تئیس
09:53اسے ہر طرح کی
09:54چیزیں دی گئیں تھیں
09:55کہ معنی تو
09:56بشری حالت
09:57یعنی بشری آہت
09:58اقتدار کے ہیں
10:00اور حضرت دعود
10:02سلمان علیہ السلام
10:03کے لئے
10:03جب قرآن
10:04موہتینا من کل شیئ
10:09سولہ کے الفاظ
10:10استعمال کریں
10:11تو اس کے معنی
10:12فوق البشر
10:13حیثیت کے کیے جائیں گے
10:14اور کیا
10:15جب آل فیرون کا
10:17ایک مرد مومن
10:18اتبعونی اہدکم
10:20سبیلا وشاد
10:22سورت نمبر چالیس
10:24آیت نمبر اٹھائیس
10:25تم میری پیروی کرو
10:27میں تمہیں
10:28نیکی کی راہ دکھاؤں گا
10:30کہے تو کچھ اور
10:31مطلب ہوتا ہے
10:32اور رسول
10:32اتبعونی فرمائیں
10:34یعنی
10:41سورت نمبر تین
10:43آیت نمبر اٹھائیس
10:44اگر تم
10:44اللہ سے محبت کرتے ہو
10:46تو میرا اتبع کرو
10:47اللہ تم سے
10:48محبت فرمائے گا
10:49کہیں
10:50تو اس کا مطلب
10:51کچھ اور ہونا چاہیے
10:52مطلب یہ
10:53کہ جب آل فیرون
10:54کے مرد مومن
10:55کی یہ کہنے سے
10:56کہ میری اتبع کرو
10:57اس کی ذاتی
10:58اتبع مراد نہیں تھی
10:59بلکہ
11:00اس ذابطے کی
11:01اتبع مراد تھی
11:02جس کی وہ
11:02خود اتبع کرتا تھا
11:04تو اسی طرح
11:05رسولوں کے یہ
11:06کہنے سے
11:06کہ میری اتبع کرو
11:08کیوں اس ذاتی
11:09کی اتبع مراد نہیں
11:10جس کی
11:11رسول اکرم
11:11خود اتبع کرتے تھے
11:13افسوس
11:21سورت نمبر چار
11:22آیت نمبر اٹھتر
11:24اس قوم کو
11:25کیا ہو گیا ہے
11:25کہ یہ بات
11:27کو سمجھنے کے
11:28قریب ہی نہیں آتی
11:29حکم و علم
11:30بہت بڑی چیز ہے
11:31جس طرح
11:32آنکھیں بہت
11:33بڑی نعمت ہیں
11:34مگر باوجود
11:34آنکھوں کے
11:35آدمی گڑھے میں
11:36گر پڑتا ہے
11:37تو کیا اس سے
11:37آنکھوں کا نعمت
11:38ہونا جاتا رہتا ہے
11:39یا اس سے
11:40بشری تقاضوں کا
11:41اظہار ہوتا ہے
11:42اسی طرح
11:43کیا رسولوں کی
11:44غلطیاں
11:44صحب نسیان
11:46اور خطا کرنے سے
11:47ان کے انعامات
11:48بھی حقیقت ہو جاتے ہیں
12:17افصوص ہے
12:19وہی الہی کو دوسروں تک پہنچانا
12:21اور تیسرے اس
12:22وہی کی تشریع و تفسیر کرنا
12:24یہ تینوں کام
12:25الگ الگ ہیں
12:25جہاں تک پہلے دونوں کاموں کا
12:27تعلق ہے
12:28اس میں غلطی کا
12:28کوئی امکان نہیں ہو سکتا
12:30لیکن جہاں تک
12:31تیسرے کام کا تعلق ہے
12:32یعنی
12:33وہی الہی کی تشریع و تفسیر کرنا
12:35تو اس میں کوئی شبہ نہیں
12:36کہ رسول
12:37اس میں پورا پورا
12:38تدبر
12:38اور تفکر کرتا ہے
12:39لیکن
12:40تدبر
12:40اور تفکر
12:41انسانی فہم
12:42کا کام ہے
12:43اور بشری فہم
12:44لگزش بھی کر جاتا ہے
12:45یقیناً
12:46آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
12:48قرآن کریم پر
12:49تدبر فرماتے تھے
12:50لیکن
12:50بعض مرتبہ
12:51وہی الہی کی تشریع میں
12:53آپ سے
12:53اجتہازی غلطی بھی
12:54ہو جاتی تھی
12:55آیت مبارکہ ہے
13:11اے پیغمبر
13:13آپ ان منافقین کے لئے
13:14استغفار کریں
13:15یا استغفار نہ کریں
13:17یعنی بیکار ہے
13:18اگر آپ ان کے لئے
13:20ستر مرتبہ بھی
13:21استغفار کریں گے
13:22تو اللہ ان کی
13:23ہرگز مغفرت
13:24نہیں فرمائے گا
13:25اس آیت کریمہ کے فہم
13:27میں حضب روایت
13:28بخاری و بقول
13:29مفسرین
13:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:32کا فہم
13:33حقیقت سے دور نکل گیا تھا
13:34اور حضرت عمر
13:36رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:37کا فہم
13:38صحیح تھا
13:38آخر قرآن نے بھی
13:40حضرت عمر کے فہم
13:41کی تزدیق فرمائی
13:42اسے لئے
13:42حق تعالیٰ فرماتا ہے
13:44قل ان ضللت
13:46فا انما
13:48اضل على نفسی
13:50و ان احتدیت
13:51فبما یوحی
13:54الی ربی
13:56انہو سمیع قریب
13:59صورت نمبر 34
14:01آیت نمبر 50
14:02اے پیغمبر
14:03کہہ دو
14:04کہ اگر میں بھول جاؤں
14:05تو میں اپنے نفس
14:06کی وجہ سے بھولتا ہوں
14:07اور اگر میں ہدایت باؤں
14:09تو اس وحی کے سبب سے ہے
14:11جو میرا رب میری طرف کرتا ہے
14:13سچ مجھ
14:13وہ سننے والا قریب ہے
14:15اور فرمایا
14:16کہ اے رسول
14:17مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَتِمْ فَمِنَ اللَّهِ
14:22وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيْئَدٍ
14:26وَمِنْ نَفْسِكَ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا
14:31وَكَفَالِ اللَّهِ شَهِيدًا
14:35سورة نمبر چار
14:36آیت نمبر اناسی
14:38اے پیغمبر
14:39جو کچھ بھلائی تمہیں پہنچتی ہے
14:41تو وہ اللہ کی طرف سے ہے
14:42اور جو بھرائی تمہیں پہنچتی ہے
14:44تو وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہے
14:46اور ہم نے آپ کو پوری نو انسانی کے لیے
14:49رسول بنا کر بھیجا ہے
14:50اور اس پر اللہ ہی گواہ کافی ہے
14:53کیا حق تعالیٰ
14:54رسول اللہ کی تمام اغلاد
14:56کی تصحیح فرما دیتے تھے
14:58حضرات علماء کرام کی طرف سے
15:00یہ بات تسلیم کر لینے کے بعد
15:02کہ حضرات انبیاء کرام سے
15:04اجتہادی غلطیاں اور صحیح و نسیان ہو سکتا ہے
15:06یہ دعویٰ کیا جاتا ہے
15:08کہ رسول سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر
15:11کبھی اجتہادی غلطی سرزد ہو جائے
15:13یا وہ بھول چکا مرتقب ہو جائے
15:15تو حق تعالیٰ اس کی اصلاح فرما دیتے ہیں
15:18اور ان غلطیاں کو نکال دیتے ہیں
15:20لہٰذا وہ غلطیاں باقی نہیں رہتی
15:22اس بنا پر انبیاء کے اقوال و افعال شرعی حجت ہیں
15:25اور یہ کہ جس بات کو حق تعالیٰ نے اصلاح نہیں فرمائی
15:29جس بھول چک کی حق تعالیٰ نے تسخی نہیں فرمائی
15:32وہ لازمن صحیح اور درست ہونی چاہیے
15:35اس لئے قابل اقتبا اور لائک اطاعت بھی ہونی چاہیے
15:38نیز یہ کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی
15:42مسلمانوں کے لئے عصوہ حسنہ
15:44یعنی قابل اقتبا جب ہی ہو سکتی ہے
15:46جبکہ اس کی صحت کا کوئی انتظام کیا جائے
15:49اور صحت کا انتظام یہی ہو سکتا ہے
15:51کہ بتقاضہ بشریت اگر آپ سے کوئی غلطی سرزت ہو جائے
15:55تو حق تعالیٰ اس کی اصلاح فرما دیں
15:57اس بیان میں حضرات علماء کرام کی طرف سے دو دعوے فرمائے گئے ہیں
16:01پہلا دعویٰ یہ کہ رسول اگر بتقاضہ بشریت کبھی کوئی غلطی کرتا ہے
16:06تو حق تعالیٰ ضرور اس کی غلطی کی اصلاح فرما دیتے ہیں
16:09جہاں تک ہمارے علم کا تعلق ہے
16:11قرآن نے کہیں ایسا وعدہ نہیں فرمایا
16:14کہ اے پیغمبر اگر کبھی تم غلطی کرے گا
16:16تو ہم ضرور ہی اس کی اصلاح فرما دیں گے
16:19قرآن کریم میں بے شک
16:21آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض غلطیوں پر تنبیح فرمائے گئی ہے
16:25اور بعض غلطیوں کی اصلاح بھی فرمائے گئی ہے
16:27لیکن قرآن کریم نے تو دوسرے انسانوں غیر انبیاء کی غلطیوں پر بھی بہت سی تنبیحیں فرمائی ہیں
16:33اور دسیوں غلطیوں کی اصلاح فرمائی ہے
16:36پورا قرآن علماء بنی اسرائیل احبار و رہبان کی بل آمالیوں پر تنبیحات سے بھرا ہوا ہے
16:42اور کفار و مشرقین کے آمال پر گرفت اور صحیح طریقے سے نشاندہی سے بھرا ہوا ہے
16:48تو کیا یہ سمجھا جائے
16:49کہ بنی اسرائیل کے احبار و رہبان اور علماء کی جن آمال پر تنبیح فرما دی گئی ہیں
16:55ان کے علاوہ ان کے دیگر آمال لازمان سہی ہیں
16:58کیونکہ ان پر کوئی تنبیح نہیں آئی
17:00یا عرب کے کفار و مشرقین کے جیل آمال کی تغلیب نہیں کی گئی
17:05وہ لازمان سہی ہیں
17:07اسی طرح قرآن کریم میں
17:09آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج متحرات
17:12رضی اللہ عنہ اور خود صحابہ کرام کی بعض غلطیوں پر تنبیح فرمائی گئی ہے
17:17مثلا سورہ تحریم میں
17:19ازواج متحرات کے متعلق اور غزوہ اہد
17:22اور غزوہ ہنین میں صحابہ کرام کے متعلق تنبیحی آیات آئی ہیں
17:27اور ان کی غلطیوں کی اصلاح فرمائی گئی ہے
17:30تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے
17:32کہ ازواج متحرات اور صحابہ کرام کے باقی تمام آمال لازمان سہی ہیں
17:37کیونکہ قرآن نے ان کی ایمان کو دوسروں کے لئے میار بنایا ہے
17:41کہ
17:42فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدْ اَحْتَدَوْا
17:49سورت نمبر دو آیت نمبر 137
17:52اور ان کے طرز عمل کی پیروی نہ کرنے والوں کو جہنمی بتایا ہے
17:57وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ
18:01وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ
18:04نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّا
18:06نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّا
18:08وَنُصْبِهِ جَهَنَّمَا
18:10سورت نمبر 4 آیت نمبر 114
18:13حقیقت یہ ہے
18:15کہ قرآن کریم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
18:18کی صرف غلطیاں ہی نہیں نکالتا
18:20بلکہ قرآنی دستور العمل میں
18:22آپ کی حیاتِ طیبہ کی تمام ضروری باتیں بھی درج کرتا ہے
18:26اگر غلطیوں کے بتانے سے باقی باتیں صحیح سمجھی جا سکتی ہیں
18:30تو صحیح باتوں کے بتانے سے باقی باتیں ضرور غلط سمجھی جانے چاہیے
18:34حالانکہ ہر دو قسم کی باتیں قرآن پاک میں صرف اسی حد تک لائے گئی ہیں
18:39جو وہی والے دستور العمل میں لانی ضروری تھی
18:42باقی باتوں کو اقلی دائرے ہی میں چھوڑ دیا گیا ہے
18:45جنہیں اقلی طور پر غلط یا درست یا بے ضرور قرار دیا جا سکتا ہے
18:50نہ کہ سب کی سب کے متعلق یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے
18:53کہ وہ سب غلط ہیں یا سب صحیح ہیں
18:55رہ گیا عصوہ حسنہ تو اس کے متعلق ہم آئندہ بحث کریں گے
18:59قرآن کریم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
19:02تعیون کے ساتھ بیان کیے بغیر
19:05اپنے زمد لذش خطا سے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے
19:15اور اے پیغمبر اپنی لغزش اور غلطی سے استغفار کیجئے
19:21مبہم لغزشیں ان لغزشوں کے علاوہ ہیں
19:24جن کا تذکرہ سراحت کے ساتھ قرآن میں کر دیا گیا ہے
19:27جن لغزشوں کا مبہم تذکرہ کیا گیا ہے
19:30اور ان کی اصلاح نہیں فرمائے گی
19:32ان کے متعلق کیا کہا جائے گا
19:34بہت سے انبیاء نے سوختنی قربانیاں کی ہیں
19:37خدا نے ان کی غلطی نہیں بتائی
19:40اَلَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ
19:49حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ
19:55قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبِلِ
19:59بِالْبَيِّنَاتِ وَلِلَّذِي قُلْتُمْ
20:02بِالْبَيِّنَاتِ وَلِلَّذِي قُلْتُمْ
20:07بَلِمَا قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
20:12سورة نمبر تین آیت نمبر ایک سو تیرہ سی
20:16یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا
20:18کہ اللہ نے ہم سے اہد لیا ہوا ہے
20:20کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں
20:22جب تک وہ ایسی قربانیاں لے کر نہ آئے
20:25جسے آگ کھا لیتی ہو
20:27یعنی سوختنی قربانیاں
20:29اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے
20:31کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول
20:32واضح نشانیاں لے کر آ چکے ہیں
20:35اور وہ نشان لے کر بھی آ چکے ہیں
20:37جو تم بتا رہے ہو
20:38تو تم نے انہیں قتل کیوں کر دیا
20:40اگر تم سچے ہو
20:43چنانچہ دو آدم کے بیٹوں
20:45یعنی دو انسانوں کا واقعہ
20:46خود قرآن نے بیان کر دیا ہے
21:02اور اے پیغمبر ان کو آدم کے دو بیٹوں
21:05یعنی دو انسانوں کا سچا حال سنا دیجئے
21:08جب ان دولوں نے قربانی پیش کی
21:10تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی
21:12اور دوسری کی قربانی قبول نہ ہوئی
21:14اہل روایات کا بیان ہے
21:16کہ ایک کی قربانی قبول ہو جانے کا علم
21:19اسی طرح ہوا تھا
21:21کہ ایک کی قربانی کو آگ نے جلا دیا
21:23اور دوسرے کی قربانی کو آگ نے نہیں جلایا
21:26بہرحال یہ سوختنی قربانیاں
21:29ہزارہ سال تک ہوتی رہیں
21:30اور انبیاء رسول بھی یہ قربانیاں پیش کرتے رہے
21:34اور حق تعالیٰ نے ان کو ان کی غلطی نہیں بتائی
21:37ہزاروں سال کے بعد
21:38اس حضور حون کی رسم کو
21:40قرآن نے آ کر دور کیا
21:42کسی نبی کے تمام کے تمام اختیاری کاموں کی
21:45اصلاح خدا نے ہرگز ہرگز
21:46اپنے ذمہ نہیں لی
21:47حضرت جنس علیہ السلام سے ایک غلطی سرزد ہوئی
21:51حق تعالیٰ نے خود سے ان کی غلطی کی
21:53کوئی اصلاح نہیں فرمائی
21:54انہوں نے دعا کی
21:55حق تعالیٰ کو ان پر رحم آیا
21:57ورنہ وہ مچھلی کے پیٹ
21:58گی میں پوتھ ہو کر
22:00خدا کے حضور میں پیش ہو جاتے
22:14صورت نمبر سینتیس آیت نمبر ایک سو تیتالیس ایک سو چوبالیس
22:18اگر وہ خدا کے حضور آج جی نہ کرتے
22:21اور دعا کرنے والوں میں سے نہ ہوتے
22:23تو وہ ضرور مچھلی ہی کے پیٹ میں
22:25اس دن تک رہتے جب سب اٹھائے جائیں گے
22:28یعنی قیامت کے دن تک
22:30اس سے معلوم ہوا
22:31کہ حق تعالیٰ پر ان کی اصلاح ان کی زندگی ہی میں لازم نہ تھی
22:35ماذا اللہ ماذا اللہ
22:36بالفرز محال
22:38اگر آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک سرزت ہو جاتا
22:42تو اس صورت میں حق تعالیٰ پر یہ لازم نہیں تھا
22:45کہ انہیں جہنم تک پہنچنے نہ دے
22:48اس سے پہلے ہی پہلے جبرن ان کی اصلاح فرما دے
22:51بلکہ حق تعالیٰ اس صورت میں فرماتے ہیں
22:53کہ تُو جہنم میں ڈال دیا جاتا
22:56ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَا إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ
23:03وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَا فِي جَهَنَّمَ
23:09فَتُلْقَا فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا
23:15سورت نمبر سترہ آیت نمبر انتالیس
23:18اے پیغنبر یہ ان حکمت کی باتوں میں سے ہے
23:21جو آپ کے پروردگار نے آپ کی طرف وہی فرمائی ہے
23:25اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا لینا
23:28کہ تُم جہنم میں ملامت کی ہوئے دھتکارے ہوئے بنا کر ڈال دیے جاؤ
23:32نیز
23:33قرآن کریم کے مطابق اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاکم بدھن
23:38کفار کی طرف جھگ جاتے
23:39تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہم تجھے زندگی اور موت کا درنہ آزاد چکھاتے
23:45وَإِن كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِدَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ
23:53وَإِذَا لَّا اتَّخَذُوكَ خَلِيلًا
23:56وَلَوْ لَا أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ
24:15صورت نمبر سترہ آیت نمبر تہتر سے پشتر
24:18اور پیشت ممکن تھا کہ وہ آپ کو اس سے بہکا دیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی
24:24ہے
24:24تاکہ آپ اس وحی کے علاوہ ہم پر بہتان لگائیں
24:28اس بہکانے کی صورت میں وہ آپ کو اپنا عزیز ترین دوست بنا لیتے
24:32اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا
24:35تو آپ قریب قریب ان کی طرف تھوڑا سا جھکنے ہی لگے تھے
24:38ایسا ہوتا تو ہم آپ کو زندگی میں بھی اور منع کے بعد بھی دبنی سزا کا مزا چکھا دیتے
24:45اور ہمارے خلاف آپ کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے
24:48اس صورت میں پہلے ہی خصوصی طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
24:53قربار کی طرف جھکنے سے روک نہیں لیا
24:55کہ اس کی نوبت ہی نہ آتی
24:57کہ آپ قریب قریب ان کی طرف جھکنے کے قریب ہو جائیں
25:00اگر خدا نہ خواستہ خدا نہ خواستہ
25:03رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
25:05اپنے کسی کول کو جو خدا نے نہ فرمایا ہوتا
25:08اسے خدا کا کول بتاتے
25:10کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں
25:12وہ خدا ہی کا کول ہے
25:14وہ وحی خفی ہے
25:15یا وحی غیر مطلوب
25:17مگر ہے وحی
25:18تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں
25:19کہ ہم رسول کو قتل کر دیتے
25:21وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِينَ
25:26لَأَخَدْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ
25:29ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ
25:32فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
25:37صورت نمبر
25:39آنتر آیت نمبر
25:40چوالیس سے سنتالیس
25:42اور اگر وہ
25:44یعنی پیغمبر
25:45ہمارے ذمہ کچھ اپنی بناوٹی باتیں لگاتا
25:48تو ہم اسے اس کے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے
25:51اور پھر اس کی رگے گردن
25:53کارڈ ڈالتے
25:54پھر تم میں سے کوئی بھی ہمیں
25:56اس سے روکنے والا نہ ہوتا
25:58یہ نہیں فرمایا
25:59کہ ہم زندگی ہی میں اسے ایسا نہ کرنے دیتے
26:02اور جبرن اسے اس سے روک دیتے
26:04وغیرہ وغیرہ
26:05اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے
26:07کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:09کے اپنے اقوال بھی ہوتے تھے
26:11جو خدا کے اقوال
26:12یعنی وہی نہیں ہوتے تھے
26:14لیکن آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
26:16ان اقوال کو اپنے اقوال ہی فرماتے تھے
26:18اللہ کی طرف منصوب نہیں فرماتے تھے
26:21وعید اس بات پر کی جا رہی ہے
26:23کہ اگر وہ ان اقوال کو
26:24خدا کے اقوال کہہ دیتے
26:26تو ہم ان کی رگے گردن
26:28کتا کر دیتے
26:29اقوال کے وجود کا انکار نہیں ہے
26:32اجتہادی صحب
26:33قرآن میں بیان کردہ
26:35رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
26:37اجتہادی غلطیوں کے علاوہ بھی
26:39بہت سی غلطیاں اور صحب ہمارے علماء کرام
26:42خود بھی تسلیم کرتے ہیں
26:43دوسرے انبیاء کرام کی
26:45بشری کمزوریوں کے نمونے بھی
26:46خود قرآن کریم میں جا بجا بیان ہوئے ہیں
26:49اور یہ بال آفتاب
26:50نفس النحار کی طرح روشن ہے
26:52کہ جو بات غلط ہوتی ہے
26:54وہ وحی سے
26:54یا کسی ایسے طریق سے
26:56جو وحی الہی کا ہم مانے ہو
26:58ملی ہوئی نہیں ہو سکتی
26:59پس یقیناً
27:01رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
27:03ایسی باتیں بھی تھی
27:04جو حضور کے اپنے بچری
27:05اور محدود فہم اختیار کا نتیجہ تھی
27:08بعض لوگ حقیقت پر پردہ ڈالنے
27:10اور واقعے کو چھپانے کے لئے
27:12کہہ دیا کرتے تھے
27:13کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
27:15غلطیاں تو ہو جاتی تھی
27:17مگر وہ غلطیاں دینی مسائل میں نہیں ہوتی تھی
27:20غیر دینی چیزوں میں ہو سکتی تھی
27:22اس پر بڑے عدب کے ساتھ گزارش ہے
27:24کہ اگر وہ غلطیاں دینی مسئلوں میں نہیں تھی
27:26تو حق تعلق کو اپنے قرآن میں آیتیں اتار کر
27:29تنبیہ نازل فرمانے کی کون سی ضرورت پڑ گئی تھی
27:32غیر دینی باتوں کی دین میں کیا اہمیت ہو سکتی ہے
27:35قرآن ایک خالص دینی کتاب ہے
27:37اس میں ان باتوں پر تنبیہ کرنا خود ایک بات کی دلیل ہے
27:41کہ ان کا تعلق خالصتاً دین سے تھا
27:44جبھی تو قرآن کو ان کا نوٹس لینا پڑا
27:46کیا خدا کی حلال کردہ چیزوں کو
27:49اپنی بیویوں کی رضا مندی کے لئے حرام کر لینا
27:52اور پھر اس پر قسم کھا لینا
27:54مطلقاً کوئی دینی مسئل نہیں تھا
28:10سورت نمبر 66 آیت نمبر 1
28:12اے نبی آپ ان چیزوں کو جنہیں
28:15اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے
28:17کیوں حرام کرنے لگے ہیں
28:18آپ اپنی بیویوں کی خوشنودیاں چاہتے ہیں
28:21اور اللہ بڑا بکشنے والا رحم کرنے والا ہے
28:24یا کیا زہار کی بدرسم کی مخالفت
28:28چاہنے والی عورت کے ساتھ جھگڑا ہونا
28:30کسی دینی مسئل سے بلکل لا تعلق تھا
28:32قد سمع اللہ قولاً لتی تجادلک فی زوجها
28:37و تشتکی الى اللہ
28:40و تشتکی الى اللہ واللہ
28:44یسمع تحاورکما
28:47صورت نمبر اٹھاون آیت نمبر ایک
28:50خدا نے اس عورت کی بات سن لی ہے
28:52جو اے نبی آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی
28:56اور اللہ سے شکایت کر رہی تھی
28:58اور اللہ تم دونوں کی گھتگو کو سن رہا تھا
29:02مفسرین کے وقال حضرت زینب سے نکاح کے سلسلے میں
29:06رسول اپرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ڈرتے تھے
29:09حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے
29:11کہ آپ اسی سے ڈرتے
29:13و تخشن ناس واللہ و حق ان تخشان
29:18صورت نمبر 23 آیت نمبر 37
29:21مفسرین کہتے ہیں کہ اسی لیے حق تعالیٰ نے فرمایا تھا
29:25کہ اے نبی اللہ سے ڈرو اتق اللہ
29:27صورت نمبر 33 آیت نمبر 37
29:30سوال یہ ہے کہ کیا وہ غیر خدا کا خوف
29:33کوئی دینی مسئلہ نہیں تھا
29:34بلکہ کوئی گھریلو مسئلہ تھا
29:36اس پر بھی اگر یہی کہا جاتا رہے
29:38کہ دینی باتوں میں کوئی غلطی یا صحب نہیں ہوتا تھا
29:41تو ہمارے پاس اس زد کا کوئی علاج نہیں ہے
29:45بھول چوک خاصہ بشریت ہے
29:47اس میں بھی کوئی کلام نہیں
29:49کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
29:51بھولنے والے بشر تھے
29:52اور بھولنے والے آدم کی اولاد تھے
29:55اور یہ ظاہر ہے کہ بھولنے والا ضرور غلطیاں کرتا ہے
29:58غلطی مناسب موقع پر
30:00مناسب بات کے بھول جانے ہی کو کہتے ہیں
30:03تکلیفیں بھی بالعموم غلطیوں ہی
30:05کا نتیجہ ہوتی ہیں
30:06سورہ نسا میں ہے
30:08مَا أَصَابَكَ مِن سَيْئَرٍ
30:12وَمِن نَفْسِكَ
30:14سورہ نمبر 4
30:15جو مصیبت آپ پر آئی
30:17وہ آپ کے نفس کی وجہ سے ہے
30:19اور یہ قطن مسلم ہے
30:21کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
30:23لگ کو بزرور تکلیفیں تو پہنچ جاتی تھی
30:25تکلیفوں غلطیوں
30:27اور صحب و خطا سے صرف
30:28وہی بچ سکتا ہے جو غیب دان ہو
30:31رسول اکرم بحق میں
30:32خدا ارشاد فرماتے ہیں
30:42صورت نمبر 7
30:43آیت نمبر 188
30:45اگر میں غیب جانتا ہوتا
30:47تو بہت سی بھلائی اکٹی کر لیتا
30:49اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی
30:52حاصل یہ کہ
30:53رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
30:55صحب و نسیان اور غلطیوں
30:56اور تکلیفوں سے
30:57ہرگز مبرہ نہیں تھے
31:08آیت نمبر 26 اور 27
31:10بلکہ وہ
31:12یعنی انبیاء عزت والے بندے ہیں
31:14وہ اس سے بات کرنے میں
31:16سبطت نہیں کرتے
31:17اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں
31:20کے مطابق آپ کے صحب
31:22اور غلطی میں ارادہ خطا کو
31:24دخل تک نہیں تھا
31:25امدن آپ کوئی غلطی نہیں کرتے تھے
31:28اس کا واقعی امکان بھی نہیں تھا
31:30کہ آپ ارادتا کوئی غلط کام کریں
31:33اور آپ سے امدن کوئی غلطی سرزت ہو
31:35بشری جذبات بھی خاصہ بشریت ہیں
31:39پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
31:50Surah No.18 Ayat No.110
31:52Ayy Pagomber, queh dijee que
31:55میں تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں
31:57فرق صرف یہ ہے کہ
31:58مجھ پر وحی آتی ہے
32:00کے مطابق بشر ہونے کے سبب
32:02بشری جذبات بھی رکھتے تھے
32:04چنانچہ غم اور غصے سے
32:06مبررہ نہ تھے اور ظاہر ہے
32:08کہ جو باتیں جذبات کے تحت
32:10واقع ہوں وہی الہی سے
32:12ہرگز نہیں ہو سکتی
32:13حتیٰ کہ خود حدیث سے بھی اس کی تعریف ہوتی ہے
32:16مسلم میں حضرت عائشہ
32:18رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
32:20کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
32:23نے فرمایا کہ
32:24الہی میں بشر ہوں
32:25سو جس مسلم کو میں لانت کروں
32:28یا برا بھلا کہوں
32:29تو تو میرے اس کہنے کو اس کے لئے
32:31پاکیزگی اور عجر کا باعث بنا دے
32:33اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے
32:36کہ آپ ایسی باتیں بھی کرتے تھے
32:37جن سے آخر پچھتائے تھے
32:39اور استغفار بھی کرتے تھے
32:41اور ظاہر ہے
32:41کہ اس قسم کی باتیں
32:43وہی الہی سے نہیں ہو سکتی
32:44کفار کہتے تھے
32:46کہ اس حسول نے قرآن مجید
32:47کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے
32:49جس کے جواب نے
32:50آپ نے یہ نہیں فرمایا
32:51کہ میرا تو اپنی طرف سے
32:52کوئی بات کرنا ممکن ہی نہیں
32:54یعنی میری تو تمام باتیں
32:56وہی ہوتی ہیں
32:57کچھ وہی جلی اور باقی وہی خفی
32:59میری اپنی طرف سے
33:00کوئی بات ہوتی ہی نہیں
33:01بلکہ ان کے جواب میں
33:03آپ نے یہ فرمایا
33:04کہ بشریت کے لحاظ سے
33:05جو کام میری لئے ممکن ہو سکتا ہے
33:07وہ تمہارے لئے بھی ممکن ہے
33:09سو اگر میں نے
33:10یہ قرآن اپنی طاقت
33:12اکل فہم استیار کے بنا لیا ہے
33:14تو یہ چیزیں تو میری مانن
33:16تمہارے پاس بھی موجود ہیں
33:18تم سب ملکر اس کی مانن
33:19بنا لاؤ
33:40اے پیغمبر کہہ دیجئے
33:43کہ اگر تمام انسان اور جن
33:45جمع ہو جائیں
33:45کہ اس قرآن جیسی
33:47کوئی کتاب لے آئے
33:48تو وہ اس کے مثل نہیں لا سکیں گی
33:50اگرچہ وہ ایک دوسرے کے
33:52مدددار ہو جائیں
33:53پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
33:56کی اس طاقت
33:57اکل فہم استیار کے کام
33:59جو دوسرے انسان بھی کر سکتے تھے
34:00ہرگز وہی الہی
34:02یا وہی کے ہم معنی نہیں ہو سکتے تھے
34:05قرآن کریم
34:06خود بنا لینا
34:07آن حضرت کے لئے بھی ممکن نہیں تھا
34:10اس سے ہی بھی ثابت ہوتا ہے
34:11کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
34:13کے پاس جو چیز
34:15حضور کی اپنی طاقت اکل فہم اختیار سے بڑھ کر تھی
34:18وہ صرف قرآن مجید
34:20اور کتاب حمید ہی تھی
34:21ونہا قرآن کریم کے علاوہ
34:23کسی اور چیز کے مطلق بھی
34:25ضرور ایسا ہی دعویٰ ہوتا
34:26بحلقہ سے دیگر
34:28اگر حضور کے اقوال مبارکہ بھی
34:30وحید کے تصرف سے ہوتے
34:31تو یہ دعویٰ بھی کیا جاتا
34:33کہ قرآن کے علاوہ
34:34کوئی حدیث
34:35یعنی وحی خفی ہی بنا لاؤ
34:37لیکن اقوال رسول کے مطلق
34:39کوئی ایسا چیلنج ہرگز نہیں دیا گیا
34:41اور دیا بھی کیسے جا سکتا تھا
34:43جبکہ لوگوں نے بغیر چیلنج ہی
34:45کے وضعی
34:46احادیث کے دھیر کے دھیر لگا دیئے ہیں
Comments

Recommended