Skip to playerSkip to main content
File 19 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |


Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.

Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use

#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research

Category

📚
Learning
Transcript
00:00,
00:00.
00:00so that Allah that's why he didn't know that Allah
00:05Allahattah Allahattah's ownness
00:07koh jujum insoheni ilmu akal
00:09eritkai menazil teah kerta ga raha
00:12ha hai aur is ki saka
00:13boland se boland ter hoti jati hai
00:15khud hi mohkomat me ta'dir kerta jata hai
00:43Surah 22, Ayah 52
01:07Allah جاننے والا حکمت والا ہے
01:09یہ بات گزشتہ صفحات میں واضح کی جا چکی ہے
01:13کہ رسول اور نبی بشر ہوتے ہیں
01:15اور بشری جذبات اور انسانی تقاضی سے مبررہ نہیں ہوتے
01:19ان میں وہ بشری کمزوریاں ہوتی ہیں جو ہر انسان کا لازمی حصہ ہیں
01:23اور انبیاء کا کمال اسی میں ہے
01:25کہ باوجود ان تمام بشری کمزوریوں کے
01:27اپنے آپ کو حق تل امکان کسی غلطی میں پر جانے سے بچائیں
01:32انسانی جبلت کا یہ تقاضی ہے
01:34کہ وہ ہر بات کو سمجھنا چاہتی ہے
01:37کوئی بات کہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیں
01:40کہ ابھی تم اس قابل نہیں ہو کے اسے سمجھ سکو
01:42لہٰذا تم اس پر غور و فکر نہ کرنا
01:45تو کوئی انسان اپنے صحیح و قابل سے کبھی باز نہیں آئے گا
01:48اور اسے ہر ممکن طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرے گا
01:51ایک چھوٹا سا بچہ جو ابھی صرف گڑلیوں چلنا سیکھا ہے
01:55وہ گھر کی ہر چیز کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
01:58اور اس کوشش میں روز نئی نئی چیزیں توڑتا ہے
02:01یہ انسانی جبلت کا تقاضہ ہے
02:03نبی اور رسول انسانی جبلت کے تقاضے سے تو مبرہ نہیں ہو سکتے
02:08چنانچہ وہ متشابعات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
02:11چونکہ ابھی ان کے دور کی عقلی اور علمی سطح
02:14اس حد تک ترقی آفتر نہیں ہوتی
02:16کہ وہ اس کی تہہ کو خونچ سکے
02:18اس لئے بات سمجھ میں نہیں آتی
02:20لیکن شیطان اس میں عقلی تکے بڑھانے پر اکساتا رہتا ہے
02:24حق تعالیٰ ان وسوسہ اندازیوں کو یوں ختم کرتا ہے
02:27کہ علمی اور عقلی سطح کے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ
02:30وہ ان متشابعات کو محکمات میں تبدیل کرتا رہتا ہے
02:34مثلا جس وقت قرآن نے فرمایا تھا
02:42صورت نمبر دس آیت نمبر بانوے
02:44اے فیرون اب ہم تیلی لاش کو بچا کر محفوظ کر دیں گے
02:48تاکہ تو بعد والوں کے لئے نشان عبرت بنے
02:51اس وقت کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا
02:54کہ فیرون کی ممی شدہ لاش کسی زمانے میں منظر عام پر آ جائے گی
02:58اور قرآن کے یہ حیرت انگیز جملے
03:01کھلی آنکھوں تمام لوگوں کے لئے واضح آیا محکم بن جائیں گی
03:04اسی طرح آج اور بھی بہت سی متشابہات محکمات بن چکی ہیں
03:09اور باقی بنتی چلی جا رہی ہیں
03:23صورت نمبر اکتالیس آیت نمبر ترے پن
03:25ہم انہیں آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھاتے جائیں گے
03:29حتیٰ کہ ان پر کھل جائے گا
03:31کہ قرآن ہر زمانے کے لئے حق ہے
03:33یہ تشریح ہم نے آیت نمبر تین بٹا سات کی عام تفسیر کے مطابق کی ہے
03:38عام علماء مفسرین اس تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں
03:41کیونکہ وما یعلمو تعویل اللہ پر وقف لازم کا نشان بنا ہوا ہے
03:47یعنی میم کا نشان بنا ہوا ہے
03:49جس کا تقاضی یہی ہے
03:51کہ جملہ یہاں ختم ہو گیا
03:53اور ورراسخون افع علم میں باؤ استعناف کا ہے
03:57یعنی وہاں سے دوسرا جملہ شروع ہو رہا ہے
03:59اور نئی بات شروع ہو رہی ہے
04:01کہ جو لوگ علم میں رسوخ رکھتے ہیں
04:03وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں
04:06سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے
04:09سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں
04:11لیکن امام ابن تیمیہ نے
04:13اور ان کی طرح دوسرے بعض علمانے وقف لازم کا انکار کیا ہے
04:17اور ورراسخون افع علم
04:19یقولون آمنہ کا عطف اللہ پر کیا ہے
04:22جس کی بنا پر ترجمہ یوں ہوگا
04:24اور ان کا مطلب سوائے اللہ اور راسخون افع علم کے
04:28کوئی نہیں جانتا
04:29وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے
04:32سب کے سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے
04:34مگر ہمارا نکتہ نظر اس تفسیر کے مطابق بھی پوری طرح ثابت ہوتا ہے
04:39کیونکہ جس طرح پہلی تفسیر کے مطابق
04:41اگر آیات متشابہات کو
04:43سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا
04:45تو ظاہر ہے کہ رسول بھی نہیں جانتے
04:47اسی طرح دوسری تفسیر کو بھی اگر مان لیا جائے
04:50کہ راسخون افع علم بھی اسے سمجھتے ہیں
04:53اور ظاہر ہے کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
04:56بھی راسخون افع علم میں شامل ہیں
04:58تو ان متشابہات کی فہم میں
05:00صرف رسول ہی کے خصوصیت نہ رہی
05:02راسخون افع علم بھی اس فہم میں آپ کے ساتھ شامل ہو گئے
05:06اور معلوم ہے کہ
05:07راسخون افع علم تو اہل کتاب میں بھی موجود تھے
05:11لیکن الراسخون في العلم منهم والمؤمنون
05:15يؤمنون بما انزل إليك وما انزل من قبله
05:26والمقیمين الصلاة والمؤتون الزکاة والمؤمنون بالله واليوم الآخر
05:36اولئیک سنؤخیهم اجرا عظیما
05:40صورت نمبر چار آیت نمبر ایک سو باسٹھ
05:43لیکن اہل کتاب میں جو راسخون افع علم ہیں
05:46اور مومن راسخ العلم
05:48سب اس پر بھی ایمان لاتے ہیں
05:51جو آپ پر نازل کیا گیا
05:53اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا تھا
05:56اور وہ نماز قائم کرنے والے ہیں
05:58زکاة دینے والے ہیں
05:59اور اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والے ہیں
06:02ہم انقریب انہیں بڑا عجر عطا فرمائیں گے
06:06بہرحال اس آیت سے ثابت ہوتا ہے
06:08کہ متشابہات کے معنی اور مطلب
06:10اگر دوسرے مسلمانوں کے طرح
06:12ہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں سمجھتے تھے
06:15تو اس باب میں عام مسلمانوں کے ساتھ
06:17آپ کا برابر ہونا ثابت ہوتا ہے
06:19اور اگر دوسری تفسیر مان لی جائے
06:22تب بھی آپ کے ساتھ راسخون افعلم کا بھی
06:24ان آیات کے مطالب و معنی کو سمجھنا ثابت ہوتا ہے
06:28جس سے عام راسخون افعلم کے ساتھ
06:31اس باب میں آپ کی مساوات ثابت ہوتی ہے
06:34جبکہ راسخون افعلم
06:35کوئی معورائی مخصوص و ممتاز درجہ نہیں ہے
06:39کیونکہ وہ اہل کتاب میں بھی پائے جاتے ہیں
06:42حضرت نوح علیہ السلام نے بیٹے کے حق میں دعا فرمائی
06:46مگر تنبیح الہی نازل ہو گئی
06:49بیٹے کے مطالب حضرت نوح علیہ السلام کی فہم بھی صحیح نہیں تھی
06:53لڑکے کے غرق ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ سے سوال کیا
06:57کہ میرا بیٹا میرے اہل سے ہے
06:59اور تیرا وعدہ سچا ہے
07:01اور جب تک حق تعالیٰ نے خود ہی اپنی وحی سے اس کا مطلب نہ سمجھایا
07:05حضرت نوح علیہ السلام بیٹے کو اپنا اہل ہی سمجھتے تھے
07:09حالانکہ واقع فہم نوح کے خلاف ہوا
07:12یعنی لڑکا غرق ہو گیا
07:13اور حق تعالیٰ نے فہم نوح کے خلاف فیصلہ صادر فرمایا
07:20صورت نمبر گیارہ آیت نمبر چھالیس
07:22وہ یقیناً تمہارے اہل میں سے نہیں ہے
07:26پس رسولوں کی فہم بھی ایسی نہیں ہوتی
07:29کہ ضرور بہر صورت ہی جو نتیجہ وہ نکالیں صحیح ہی ہو
07:33اور جب حالت یہ ہے
07:35تو خود فیصلہ فرما لیا جائے
07:37کہ رسل و انبیاء کے اقوال کس طرح حجت ہو سکتے ہیں
07:40حضرت نوح علیہ السلام نے جو فرمایا تھا
07:43کہ اے میرے رب میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے
07:46کیا یہ وہی خفی تھی
07:47اور کیا یہ قول رسول حجت تھا
07:50کاش کہ اہل حدیث حضرات جو مختلف قسم کی
07:53سیکڑوں انسان پرستیوں کی دلدر سے نکل چکے ہیں
07:56رسول پرستی میں بھی دامن بچا کر
07:58سچے پکے موحض بن جائیں
08:00اور یہ چیز ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں
08:02کیونکہ رسول کو بشر تو وہ پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں
08:07الفاظ
08:08رسول پرستی پر حاشیہ
08:11جو در حقیقت
08:12رواد پرستی
08:14اور روایت پرستی ہے
08:18حروف مقتعاد بھی
08:19وحی الہی ہیں
08:21رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:24کے قلب اثر پر حروف مقتعاد
08:26بھی نازل ہوتے تھے
08:27سو جس طرح کاف، ہائے، یا، آئین، سوال، اور ہا، میم، آئین، سین، کاف وغیرہ آپ کو ملتے ہیں
08:38اسی طرح باقی قرآن بھی ملتا تھا
08:40اور اگر کوئی تفسیر اور فہم بھی ملتی تھی
08:43تو وہ بھی
08:44وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيغًا
08:51سورة نمبر پچیس آیت نمبر تیس
08:54اور نہیں لاتے
08:55وہ آپ کے پاس کوئی مثال
08:57مگر ہم لے آتے ہیں
08:59آپ کے پاس صحیح جواب اور بہترین توجیح
09:02کے مطابق خدای الفاظ کا جامع پہن کر داخل قرآن ہو جاتا تھا
09:07لیکن اگر بلفرز کوئی مضمون
09:09بقول اہلِ حدیث بغیر الفاظ کے بھی وحی ہوتا تھا
09:13تو چونکہ وہ مضمونن قرآن تھا
09:15اور چونکہ قرآن کی بے مثلیت کی تحدی کرنا
09:18اور اس کی حفاظت کا ذمہ لینا حق تعالیٰ کا کام ہے
09:21اسی لئے ضروری تھا
09:22کہ اس مضمون کو حق تعالیٰ اپنی ہی پسندیدہ
09:25اور روشن تر الفاظ کا جامع پہنا کر
09:28کسی دوسرے موقع پر ہی صحیح
09:30قرآن مجید میں شامل کر کے
09:32یقینی طور پر محفوظ
09:33اور ہر طرح سے بے مثل
09:35اور بے نظیر اور واضح تر بنا دے
09:37اور یوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:40کی تمام وحی کا ممتاز
09:42مجموعہ ہمارے پاس ہر وقت موجود رہے
09:44مگر اہلِ حدیث حضرات
09:45تو ان حروف مقتعات کی
09:47وحی خفی والی تشریح بھی آج تک پیش نہ کر سکے
09:50آہ وحی خفی پر ایمان رکھنے والے بیچارے
09:53اہلِ حدیث
09:54خلاصہ یہ کہ اگر مقتعات کی تفسیر
09:57خارج از قرآن کسی وحی میں آئی تھی
10:00تو ظاہر ہے کہ حضور نے وہ وحی چھپائی نہیں ہوگی
10:03لہٰذا اسے پیش کیا جائے
10:05مگر آج تک تمام علماء
10:07اس کے پیش کرنے سے آجز ہیں
10:08اس کا صاف مطلب ہے
10:10کہ قرآن مجید کے علاوہ
10:11حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر
10:13کوئی اور وحی نازل نہیں آتی تھی
10:15اب رہ گئی دو صورتیں
10:17یعنی نمبر ایک
10:18یا تو حروف مقتعات کی تفسیر
10:20کوئی نہیں جانتا
10:21نہ رسول
10:22نہ دوسرا کوئی اور شخص
10:23اس صورت میں بھی ہمارا مدعہ ثابت ہے
10:26کہ بشری کمزوری میں
10:27رسول و غیر رسول دونوں برابر ہیں
10:29نمبر دو
10:30یا یہ سمجھا جائے
10:31کہ تدبر فی القرآن سے
10:33حروف مقتعات کے معنی
10:35ہر کوشش کرنے والا دریافت کر سکتا ہے
10:37اس صورت میں بھی ہمارا استدلال برقرار رہتا ہے
10:40یعنی یہ کہ بشری حیثیت سے
10:42فہم قرآن کا حق
10:43جس طرح
10:43رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے
10:46اسی طرح دوسروں کو بھی ہے
10:47کیونکہ دونوں کے فہم بشری ہیں
10:49معصوم عن الخطہ نہیں ہیں
10:51جیسا بتایا جا چکا ہے
10:53کہ یقیناً یقیناً
10:55محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:58تمام باتیں وحی نہیں تھیں
11:00جیسا کہ
11:15صورت نمبر نو
11:16اللہ آپ کو معاف فرمائے
11:18آپ نے ان منافقین کو
11:20تبوک سے پیچھے رہ جانے کی اجازت کیوں دے دی
11:23جب تک آپ پر واضح نہ ہو جاتا
11:25کہ کون لوگ سچ بول رہے ہیں
11:27اور آپ جھوٹوں کو بھی نہ پہچان لیتے
11:29اور
11:30قد سمع اللہ قولا
11:33التي تجادلك في زوجها
11:35وتشتكی
11:37إلى اللہ
11:38وتشتكی
11:40إلى اللہ واللہ
11:42يسمع تحاوركما
11:44ان اللہ سميع
11:47بصیر
11:48الذین يظاهرون
11:51منكم من نسائهم
11:54ما من
11:55أمهاتهم
11:57من أمهاتهم
12:07إلا اللہ
12:27ولدنهم
12:28تم میں سے وہ لوگ
12:30جو اپنی بیویوں سے
12:31زہار کر لیتے ہیں
12:32یعنی انہیں ما کہہ دیتے ہیں
12:34وہ ان کی ماں نہیں ہیں
12:36ان کی ماں تو وہی ہیں
12:37جنہوں نے انہیں جنم دیا ہے
12:39البتہ
12:40یقیناً وہ
12:40ایک ناپسندیتا بات
12:42اور جھوٹی بات
12:43کہہ گزرتے ہیں
12:44اور یقیناً
12:45اللہ ماں فرمانے والا
12:47بخشش فرمانے والا ہے
12:48ان دونوں آیت کریمہ سے ثابت ہے
12:51کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
12:53کا ہر کال وحی سے نہیں ہوتا تھا
12:55تو اس صورت میں جب وحی کرنا خدا کا کام ہے
12:58تو وحی کو غیر وحی سے ممتاز
13:00اور جدہ کر دینا بھی خدا ہی کا کام ہونا لازم ہے
13:03اور ظاہر ہے
13:04کہ جس وحی کو حق تعالیٰ جدہ کر کے ہمیں دے گا
13:07اسے انسانی الفاظ میں رکھ کر نہیں دے گا
13:10بلکہ اسے اپنی ترتیب دیئے ہوئے
13:12اپنے الفاظ میں ہی ہمیں بخشے گا
13:14یہ کام حق تعالیٰ نے صرف قرآن مجید کی صورت میں ہمارے لیے کر دیا ہے
13:18اور ہم پر یہ بار متقن نہیں ہے
13:21کہ ہم سنگ سنگ کر وحی کو غیر وحی سے جدہ کرتے پھرے
13:24اور سب کچھ کرنے کے بعد بھی
13:26ظن و تصمین سے چھٹکارہ نہ پاسکیں
13:30نوٹ
13:30اب اگرچہ یہ بات پائے ثبوت کو پہنچ چکی ہے
13:34کہ آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اقوال وحی نہیں تھے
13:37لیکن اگر بل فرض محال بکور اہل حدیث مان لیا جائے
13:41کہ قرآن کے علاوہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض قول وحی سے بھی ہوتے تھے
13:46یعنی کیونکہ تمام اقوال کے وحی ہونے کے اہل حدیث بھی قائل نہیں ہیں
13:51تو اس فرضی نظریے کے مطابق ہونا یہ چاہیے تھا
13:54کہ جب کوئی راوی کسی محدث کے سامنے کوئی حدیث بیان کرتا
13:58تو اس محدث کا اولین فرض یہ ہوتا
14:01کہ وہ اس سے پوچھتا کہ کیا یہ حدیث وحی سے ہے
14:04یا بغیر وحی کے
14:05مگر محدثین نے راویوں سے یہ کبھی دریافت نہیں کیا
14:09کہ تم جو حدیث سنا رہے ہو
14:10یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے فرمائی تھی
14:14یا بغیر وحی کے بتلائی تھی
14:15انہوں نے تو حدیثوں کو اپنے خیال میں صرف اس وقت کے واقعات کے لحاظ سے ہی جمع کر لیا
14:20تھا
14:21اور صحابہ کے اقوال و افعال کو بھی اسی طرح لے آئے ہیں
14:24جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو
14:28پس اگر حدیثوں میں غیر وحی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی وحی بھی موجود
14:35ہے
14:35جو قرآن مجید میں نہیں لائے گئی
14:37البتہ حوالات نہیں سہی
14:38تو بزرور اہل حدیث ابھی تک اس بوجھ کے تلے دبے ہوئے ہیں
14:43کہ حدیثوں کی وحی کو غیر وحی سے محض اپنے خیال کے ماتحد ہی صحیح ممتاز کر کے دکھ لائیں
14:49کتنی تاجب خیز بات ہے
14:50کہ قرآن کتاب الہیہ میں تحریف یعنی موضوعات کے داخل ہونے اور وحی کے غیر وحی سے مخلوط ہو جانے
14:57پر تو اللہ نے انہیں منسوخ کر دیا
15:00اور غیر مخلوط اور تحریف سے پاک وحیوں کا مجموع قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا
15:05لوگوں پر یہ بات نہیں چھوڑی گئی
15:08کہ وہ جو اپنی تحقیق اور اپنے اجتحاد سے اس مخلوط وحی میں سے اصل وحی کو ممتاز کر کے
15:14دکھ لائیں
15:15مگر آخر نبی کی وحیوں کے ساتھ ایک حصے کو مخلوط صورت میں رہنے دیا اور بیچارے اہل حدیثوں پر
15:22یہ بوجھ آ پڑا
15:23کہ وحی خفی کے مخلوط حصوں کو غیر وحی سے اپنے اجتحاد و تحقیق سے ممتاز کریں
15:29مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بزریا قرآن ہمیں اس مصیبت سے بچا لیا ہے
15:33فَالْحَمْدُ لِلَّهِ سُمَّا الْحَمْدُ لِلَّهِ
15:37بسم اللہ الرحمن الرحیم اہدین السراط المستقیم
15:41قرآن مجید اور حدیث یعنی کلام الہی اور قول بشر میں فرق
15:47حاشیہ
15:48حضرت خواجہ احمد کا یہ مقالہ مولانا عبدالسلام ندوی کے مضمون اجتحادات نبیہ پر ایک تفسرہ ہے
15:55جسے ہم خواجہ صاحب ہی کے الفاظ میں پیش کر رہے ہیں
15:58تاکہ ناظرین ان کے اصل طرز تحریر کو بھی ملاحظہ فرمالیں
16:04حدیث کے متعلق لوگوں کے خیالات میں سخت گربڑ مچی ہوئی ہے
16:07جتنے موہ اتنی باتیں ہی سنی جاتی ہیں
16:10عام لوگ تو علیدہ رہے
16:12زی علم اور فاظل اصحاب بھی مختلف اوقات میں مختلف خیالات کا اظہار فرماتے ہیں
16:17کمترین نے برحان القرآن میں اس کا ایک واضح نمونہ حدیعہ ناظرین کر دیا ہے
16:22یہی وجہ ہے کہ خاکسار کو جواب دینے میں لوگوں کے مختلف اقوال کا خیال رکھنا پڑتا ہے
16:27بڑے شکر کا مقام ہے
16:29کہ رسالہ معرف جلد پندرہ نمبر چار میں مولانا عبدالسلام صاحب ندوی نے
16:34اپنا خیال حدیث کے متعلق بہت کچھ وضاحت کے ساتھ ظاہر فرما دیا ہے
16:39لیکن ابھی تک کئی ایک باتیں قابل استفسار باقی ہیں
16:43مولانا ممدو کے اخلاق سے بفضل الہی امید ہے
16:46کہ آجناب ان استفسارات کے متعلق پوری روشنی ڈالیں گے
16:50مولانا صاحب نے اپنا مضمون میں یہ تو تسلیم فرما لیا ہے
16:54کہ قرآن مجید کے برخلاف کوئی حدیث قابل تسلیم نہیں
16:57اور یہ بھی ارشاد کیا ہے
16:59کہ اقلی پہلو سے بھی بعض احادیث پر اعتراضات کیے گئے ہیں
17:03لیکن چند حدیثوں کے متعلق لکھا ہے
17:05کہ نقلی حیثیت سے متعدد حدیثوں کی قطعیت اور صحت پر
17:10خود محدثین اور فقا کے زمانے میں کافی بیعث ہو چکی ہے
17:17اس سے صاحب ظاہر ہوتا ہے
17:19کہ متعدد حدیثیں بالضرور قطعی اور صحی
17:22یعنی خود رسول کریم کی ہیں
17:24پھر مولانا موصوب نے ان حدیثوں کے جو یقیناً
17:27رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں
17:29دو حصے کیے ہیں
17:32حاشیہ
17:32آحادیث کی یہ تقسیم
17:34علامہ شبلی نے الفاروق وسیرت النومانی میں
17:37بہاوالہ فاروق عظم و امام عظم و شاہ ولی اللہ وغیرہ پیش کی ہے
17:42بہت سے علماء مصر بھی اس کے قائل ہیں
17:45اپنی کتاب رسائل و مسائل میں
17:47یہی فرق مولودی صاحب نے داڑی کے بحث میں کیا ہے
17:50لہٰذا یہ تمام اعتراضات ان پر بھی وارد ہوتے ہیں
17:55پھر مولانا موصوب نے ان حدیثوں کے
17:58جو یقیناً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں
18:01دو حصے کیے ہیں
18:02بڑے حصے کے متعلق آن جناب نے
18:05بصفائی تمام تسلیم فرما لیا ہے
18:07کہ ان حدیثوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
18:10مؤرہ انیل خطہ نہ ہونا بے شباب صحیح ہے
18:14اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
18:16کہ امت کو ایسی ثابت شدہ حدیثوں کی
18:19حضب ضرورت ترمیم و تنصیف کا پورا اختیار ہے
18:22باقی رہا قطعی حدیثوں کا وہ تھوڑا سا حصہ
18:25جو عبادات و معات وغیرہ سے تعلق رکھتا ہے
18:31یا اجتہاد بمنزلہ وحی ہیں
18:34اگر یہ بات صحیح ہے
18:36تو کیا اس صورت میں یہ ضروری نہیں
18:38کہ ان متعدد حدیثوں کو جو بمنزلہ وحی ہیں
18:41اور جن کو قرآن مجید کی طرح
18:43بنیادی اصول بنانا لازم سمجھا جاتا ہے
18:46الگ کر کے ایک رسالے کے صورت میں
18:48دنیا کے آگے پیش کیا جائے
18:49بمنزلہ وحی حدیثوں کو
18:51ان حدیثوں کے ساتھ مخلوط رکھنے سے
18:54جو بمنزلہ وحی نہیں ہیں
18:55بڑے نقصان پیدا ہوتے ہیں
18:57مثلا
18:59اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
19:01کہ مسلمانوں کے نزدیک بمنزلہ وحی
19:03حدیثوں کی کچھ قدر نہیں
19:05ان کے نزدیک بمنزلہ وحی حدیثوں
19:07کو ان حدیثوں کے ساتھ جو
19:09مؤررہ انیل خطہ
19:11اور بمنزلہ وحی نہیں ہیں
19:13مخلوط رکھنے میں کچھ حرض نہیں پائے جاتا
19:16لیکن یہ بات
19:17سورج کی طرح روشن ہے
19:18کہ خدا تعالیٰ کے تصرف اور دخل خاص سے
19:21بمنزلہ وحی بنائی ہوئی حدیثیں
19:23قرآن بمثل کی مثل ہونی لازم ہیں
19:26اور رسول خدا کی اپنی بشری عقل کی باتیں
19:29جو بقول مولانا صاحب
19:30بے شبہ
19:31مؤررہ انیل خطہ
19:32نہیں محض بشری اجتہادات ہیں
19:35ان دونوں قسم کی حدیثوں کی
19:37عزت و منزلت پر زمین و آسمان
19:40کا تفاوت ہونا لازم ہے
19:41جس طرح قرآن محفوظ کا
19:43عام عزیشہ غیر سے پاک رہنا ضروری ہے
19:45یہی حال بمنزلہ وحی حدیثوں
19:48کا بھی ہونا چاہئے
19:49مگر افسوس ہے کہ علماء کرام نے آج تک
19:51بمنزلہ وحی حدیثوں کی غیر وحی
19:54حدیثوں سے علب کر کے دکھلانے کی
19:56کوئی ضرورت نہیں سمجھی
19:57اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ علماء کے نزدی
20:00خدا تعالیٰ کے تصرف خاص کی
20:02باتوں اور رسول کے اپنے بشری
20:04اجتہادات میں امتیاز کر کے
20:05دکھلانے کی کوئی ضرورت نہیں
20:07اور خدای اور بشری باتوں کے گربڑ
20:09ہو جانے میں کوئی حرج نہیں
20:11اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے
20:13کہ یا تو الہی تصرف کی باتیں
20:15ہیچ ہیں انہیں بشری باتوں سے
20:17ممتاز کر کے دکھلانے کی کوئی ضرورت نہیں
20:19اور یا رسول کے وہ اجتہادات
20:22جو مؤررہ انیل خطہ
20:23نہیں وہ بھی خدای
20:25فرمانوں کے برابر اور ان کے ساتھ
20:27مخلوط رہنے کے حق دار ہیں
20:29پا تبیرو یا علی الافصار
20:31دوم
20:32اندرینی صورت ہر شخص اپنی اپنی رائے سے
20:35کسی حدیث کو وحی ٹھرائے گا
20:37اور کسی کو غیر وحی
20:38اس طرح اجتہادی اختلافات کے علاوہ
20:41خود بنیادی وحی میں بھی مسلمانوں کے
20:43درمیان نئے اختلافات پڑھتے
20:45رہیں گے
20:47اگر بمنزلہ وحی حدیثیں
20:49معین و مشخص کر کے
20:51ایک رسالے کی صورت میں دنیا کے آگے
20:53پیش کر دی جائیں تو مسلمانوں کے
20:55آپس کے لڑائی جھگلے بہت کچھ کم
20:57ہو جائیں اور بعد بعد میں ایک دوسرے
20:59پر جو تشدد غیر وحی
21:01حدیثوں کے بنیاد پر کیے جا رہے ہیں
21:03ان میں بڑی حد تک تخفیف ہو جائے
21:05لیکن دونوں قسم کی حدیثوں کے
21:07مخلوط رہنے کے سبب اس نقصان سے
21:09بچاؤ نہیں ہو سکتا
21:11چہارم
21:12اگر غیر مذہب کے لوگ کسی حدیث پر اعتراض کریں
21:16تو دونوں حدیثوں کے مختلط
21:17ہونے کے باعث مسلمان انہیں
21:19کس طرح جواب دے سکتے ہیں
21:21کہ یہ حدیث بمنزلہ وحی نہیں
21:23اس لئے تمہارا اعتراض باطل ہے
21:25اگر بمنزلہ وحی حدیثیں
21:27ایک رسالے کی صورت میں الگ موجود ہوتی
21:30تو مسلمان ان محترزین
21:31کو اس رسالے کے باہر کسی اعتراض
21:34کرنے کا موقع ہی نہ دیتے
21:35صرف اتنی بحث باقی رہ جاتی
21:37کہ آیا اس رسالے کی حدیثیں
21:40بمنزلہ وحی ہیں یا نہیں
21:41لیکن بڑے امبار کی ذمہ داری سے
21:44تو جان چھوڑ جاتی
21:48ہم لوگ حدیثوں کو
21:50ہرگس ہرگس بمنزلہ وحی
21:52نہیں مانتے لیکن بطور
21:54معقول ان کے لینے کے قائل ہیں
21:56جب ہم اپنی اکل سے فائدہ
21:57اٹھا سکتے ہیں اور شیخ سادی اور
21:59مولانا روم کی باتوں سے مستفید ہو
22:01سکتے ہیں تو کیا جناب رسول
22:03خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی
22:05اقلی اور اشتہادی باتیں ہی مفید
22:07یا معقول ہونے کی صورت میں ہمیں
22:09ڈنگ مارتی ہیں ہرگز نہیں
22:12ہرگز نہیں
22:13اندری حالات اگر وہ
22:15متعدد حدیثیں جنہیں بمنزلہ
22:17وحی قرار دیا جاتا ہے
22:19الگ کر کے ایک رسالے کی صورت میں پیش
22:21کی جاتی اور ہم انہیں معقول
22:23یا مفید یا اپنی کسی ضرورت
22:25کو پورا کرنے والی دیکھتے تو عاملا
22:27ہمیں بھی ان سے خوام خواہ اختلاف
22:29پیدا کرنے کی کوئی ضرورت
22:31باقی نہ رہتی وغیرہ وغیرہ
22:34برادران
22:34اگر خدا تعالی نے متعدد حدیثوں
22:37کو اپنے تصرف اور دخل خاص
22:39سے بمنزلہ وحی بنایا ہوتا
22:41تو کیا ازاد بابرکت کا
22:43تصرف اس بات میں یہی
22:45نہیں ہونا چاہیئے تھا کہ وہ انہیں
22:47الگ کر کے ہمارے پاس پہنچا دیتا
22:49اچھا اگر ماز اللہ
22:51خدا تعالی نے اپنا کام خود نہیں کیا
22:53تو اب مولانا صاحب ہی جنہیں
22:55بمنزلہ وحی اور غیر وحی حدیثوں
22:57کے پرکنے کا گر ہاتھ آ گیا ہے
22:59بمنزلہ وحی حدیثوں کو
23:01الگ کر کے ایک رسالے کی صورت میں
23:03دنیا کے آگے پیش کر دیں
23:04کیا ہم امید کر سکتے ہیں کہ مولانا ممدو
23:07کبھی بھی ایسا کر کے دکھلائیں گے
23:09اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے
23:11تو کیا ایسے بزرگوں کو زیبہ ہے
23:13کہ عام خیارات کو پرچانے کے لیے
23:15ایسی باتیں بنائیں
23:16بمنزلہ وحی حدیثوں کو تو
23:18الگ کر کے نہ دکھلا سکیں
23:20لیکن ان کے بمنزلہ وحی ماننے پر
23:22زور دیتے جائیں
23:23مولانا کا روح سخن اپنے مضمون میں
23:26اگرچہ خواجہ عباد اللہ صاحب
23:28اختر بی اے کی جانب ہے
23:30مگر چونکہ حق کے ثبوت کے لیے
23:32یہ کچھ ضروری نہیں کہ
23:34سامنے پلا پہلوان ہی کھڑا ہو
23:36بلکہ ہر ایک کو سمجھانا مقصود ہوتا ہے
23:38اس لیے امید ہے
23:40کہ مولانا موصوب خاک صاحب کی
23:42کمزوری کو خیال میں نہیں لائیں گے
23:44بلکہ کمترین کے استفسارات کا جواب دے کر
23:47اپنے ہی مضمون کو مکمل اور مبرہن بنا دیں گے
23:51کمترین نے بفضل الہی اعتراضات کے
23:53جوابات کا سلسلہ شلوع کر دیا ہے
23:56اور بتوفیق کے الہی ایک اعتراض کا جواب بھی دے چکا ہوں
24:00اس لیے اب مولانا صاحب کے مضمون
24:02اجتہادات نبیہ کو پیش کرتا ہوں
24:05پھر اس مضمون کے جواب میں انشاءاللہ تبارک و تعالی
24:08چند استفسارات حدیعہ ناظرین کروں گا
24:10اگر مولانا صاحب ان پر روشنی ڈال کر ممنون فرمائیں گے
24:14تو این سعادت سمجھوں گا
24:17اجتہادات نبیہ
24:18از مولانا عبدالسلام صاحب ندوی
24:22نقلی حیثیت سے متعدد حدیثوں کی قطعیت اور صحت
24:26پر خود محدثین اور فوقہ کے دمانے میں کبھی بحث ہو چکی ہے
24:30اور عقلی پہلو سے بھی بعض احادیث پر اعتراضات کیے گئے ہیں
24:34قرآن مجید کو بھی احادیث کی صحت کا میار قرار دیا گیا ہے
24:38اور جو حدیثیں اس کے مخالف نظر آئی ہیں
24:40ان کو خود صحابہ نے بھی ناقابل تسلیم قرار دیا ہے
24:44لیکن یعین ہماں
24:45حصولی حیثیت سے اتنا سب نے تسلیم کر لیا ہے
24:48کہ حدیث ایک حجت شرعی بلکہ وحی غیر مطوب ہے
24:52اور اس کا ایک
24:53مؤسل بحصہ
24:54اصلی اور نقلی اعتراضات سے محفوظ ہے
24:57لیکن اس زمانے میں بعض لوگ اس متفقہ رائے سے اختلاف کرتے ہیں
25:01اور وہ حدیث کے کسی حصے کو بھی حجت نہیں خیال کرتے
25:05چنانچہ خواجہ عباد اللہ اخطر
25:07بیئے امت مسلمہ کے مہوار
25:09رسالے بلاغ
25:11بابت ایپریل
25:12انیس سو پچیس میں ایک مضمون کے سلسلے میں
25:14احادیث کے متعلق لکھتے ہیں
25:16کہ اگر بلفرز
25:18ان کی صحت کسی علمی شہادت سے پائے ثبوت کو بھی پہنچ چکی ہو
25:22تو وہ اجتحادات نبی ہیں
25:24اور انہی حالات خارجی اور ذہنی کے تحت قابل عمل ہیں
25:28جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں
25:32یا اس کرن میں رونما ہوئے
25:33کیونکہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
25:37خارجی اور ذہنی حالات کو مدد نظر رکھتے ہوئے
25:40انہی اصول کی بنا پر
25:42جو قرآن میں مفصل مذکور ہیں
25:44اجتحاد فرمایا کرتے تھے
25:45جنہیں ہم احادیث سے موصوم کرتے ہیں
25:48لیکن ان میں اور قرآن مجید کی اصول میں یہ فرق ہے
25:52کہ احکام حالات کے مناسب وضع ہوتے ہیں
25:55اور اصول فطری ہوتے ہیں
25:56جو کبھی تبدیل و تحویل نہیں ہوتے
25:59اگر بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے
26:02کہ ان غیر متبدل اصول سے
26:03جو نتائج نکالے جائیں گے
26:05وہ بھی غیر متبدل ہوں گے
26:07اس لئے احادیث میں جو احکام اصولی طور پر
26:10قرآن مجید سے اخص کر کے بیان کیے گئے ہیں
26:12ان کو بھی غیر متبدل ہونا چاہیے
26:14لیکن بائیں ہمان غور و فکر کے بعد
26:17احادیث پر نظر ڈالنے سے
26:18جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے
26:20خواجہ صاحب کو معلوم ہوتا ہے
26:22کہ یہ اجتہاد وقتی تھا
26:24اب ان اقتباسات کو پڑھ کر
26:26قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے
26:28کہ ان وقتی اجتہادات کی حیثیت کیا ہے
26:31اور ان میں اور عام امت کے اجتہاد میں
26:33کوئی فرق ہے یا نہیں
26:35خواجہ صاحب کے نظریک اجتہادات نبیہ
26:37کو عام امت کے اجتہاد پر
26:39کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے
26:41بلکہ تمام اجتہادات کی طرح
26:43ان میں بھی غلطی کا احتمال ہے
26:45اور اگر یہ اجتہادات صحیح بھی ہوں
26:47تو قرآن کی طرح عبدی نہیں ہیں
26:50غرص یہ کہ
26:50رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
26:53اجتہادات بھی معرضہ ہنی الخطہ نہ تھے
26:55نہ عبدی تھے
26:56اب اس مضمون میں
26:59اقلی اور نقلی حیثیت سے
27:00صرف یہ مسئلہ تنقیح طلب ہے
27:02کہ نمبر ایک
27:04اجتہادات نبیہ میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے
27:07یا نہیں
27:08خواجہ صاحب اگر اہل قرآن
27:10یا اتباع سرسید میں ہیں
27:12تو سردست ہمارا خطاب ان سے نہیں ہے
27:14لیکن عام امت مسلمہ کے نزدیک
27:17یہ سوال بلکل واضح ہے
27:19اور آئیمہ محققین
27:21نے اکثر مسلمانوں کے دلوں کو
27:23شک و شبہ کے زنگ سے پاک کر کے
27:25اس قدر جلہ دے دی ہے
27:26کہ ان کے دل میں اس قسم کے سوالات
27:28پیدا ہی نہیں ہو سکتے
27:30مثلا
27:30شاہ علیہ اللہ صاحب نے
27:32رجت اللہ البالغہ میں
27:34مبحث استنبات الشرام
27:36حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم
27:38کا ایک خاص باب بادہ ہے
27:40اور اس میں سب سے پہلے
27:41علوم نبیہ کی نوعیت پر بحث کی ہے
27:44چنانچہ وہ فرماتے ہیں
27:46کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
27:48سے جو حدیثیں
27:49روایت کر کے
27:50کتب حدیث میں جمع کی گئی ہیں
27:52ان کی دو قسمیں ہیں
27:54نمبر ایک
27:55وہ حدیثیں جو منصب رسالت و تبلیغ
27:57شریعت سے تعلق رکھتی ہیں
27:59اور خداون تعالیٰ کا یہ ارشاد
28:01کہ پیغمبر جو کچھ تم کو لے دے
28:03اس کو لے لو
28:04اور جس چیز سے روک دے
28:06اس سے رک جاؤ
28:06اسی قسم کی حدیثوں سے
28:08تعلق رکھتا ہے
28:09اور ماد اور
28:10اور عجائبات ملکورت سے
28:13جو علوم تعلق رکھتے ہیں
28:15وہ بھی اس قسم میں داخل ہیں
28:16اور یہ تمام علوم
28:18وحی کی طرف منصوب ہیں
28:20شرائع
28:21عبادات اور اجتماعیات
28:22کے گزشتہ
28:23تعیونات بھی
28:24اسی منصب رسالت سے
28:27میں بعض وحی کی طرف
28:29اور بعض اجتہاد کی طرف
28:30منصوب ہیں
28:31لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
28:33کا اجتہاد بھی
28:34بمنجرہ وحی کے ہے
28:35کیونکہ خدا نے آپ کو
28:37اس سے محفوظ و معصوم رکھا ہے
28:38کہ آپ کی رائے غلطی پر قائم ہو
28:41یہ کوئی ضروری نہیں
28:42کہ آپ کا اجتہاد
28:43کسی نص سے مستمبت ہو
28:45جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے
28:47بلکہ زیادہ تر
28:48اس کی صورت یہ تھی
28:49کہ خدا وحیم تعالیٰ نے
28:50آپ کو شریعت کے مقاصر
28:52تشریح
28:53تحصیر
28:54اور احکام کے اصول
28:55سکھا دیئے ہیں
28:56اور آپ نے انہی مقاصد کو
28:58جو وحی کے ذریعے سے
28:59حاصل ہوئے تھے
29:00ان اصول و قوانین کے ذریعے سے
29:02بیان فرما دیا
29:03متفرک حکمت کی باتیں
29:05اور عام غیر موقع
29:07تو غیر منظبت
29:08مسئلیتیں
29:09مثلا اخلاق سالحہ
29:10اور اخلاق غیر سالحہ
29:12کا بیان بھی
29:13اسی منصب تبلیغ رسالت میں
29:15داخل ہے
29:16اور ان میں اکثر
29:17اجتہاد کی طرف منصوب ہیں
29:19یعنی خداون تعالی نے
29:20آپ کو اجتماعی اور
29:22تمدنی قوانین
29:23سکھا دیئے تھے
29:24اور آپ نے انہی سے
29:25حکمت کی باتوں کو
29:26اخص کیا
29:27اور انہی سے
29:28کلیات بنائیں
29:29فضائل عمال
29:30اور مناقب عمال
29:31بھی اسی منصب سے
29:32وابستہ ہیں
29:33اور میرے خیال میں
29:34اس میں بعض
29:35وحی سے
29:35اور بعض اجتہاد سے
29:37تعلق رکھتے ہیں
29:39نمبر دو
29:40دوسری قسم وہ ہے
29:42جس کو منصب
29:43تبلیغ رسالت سے
29:44تعلق نہیں
29:45اور رسول اللہ
29:46صلی اللہ علیہ وسلم
29:46کی یہ اشارت ہے
29:48میں تمہاری طرح
29:49کا ایک آدمی ہوں
29:50جب تمہارے دین
29:51کے متعلق
29:52کوئی حکم دوں
29:53تو اس کو
29:53قبول کر لو
29:54اور جب تم کو
29:55اپنی رائے سے
29:56حکم دوں
29:56تو میں صرف
29:57ایک انسان ہوں
29:58اس طرح
29:58قجوروں کے جوست
29:59ہونے کے معاملے میں
30:00آپ کا یہ اشارت
30:01کہ میں نے
30:02ایک رائے قائم کی تھی
30:03تم لوگ میری رائے
30:04پر عمل نہ کرو
30:06البتہ جب میں
30:07خدا کی طرف سے
30:07تمہارے سامنے
30:08کوئی بات بیان کرو
30:09تو اس کو
30:10قبول کر لو
30:11کیونکہ میں خدا کے
30:12معاملے میں
30:12جھوٹ نہیں کہتا
30:13اسی غیر تبلیجی
30:14منصف سے متعلق ہے
30:16طبی مسائل بھی
30:17اسی دوسری
30:17قسم میں شامل ہیں
30:18اور آپ کا یہ فرمانا
30:20کہ تم لوگ
30:21سیاہ اور سفیر
30:22پیشانی کے گھوڑے
30:23کو استعمال کیا کرو
30:24اسی سلسلے میں
30:25داخل ہے
30:26اور اس کا
30:27دارومدار
30:28تجربے پر ہے
30:28آپ نے
30:29علیہ سبیل
30:30آداد
30:31نہ علیہ سبیل
30:32عبادات
30:33اور اتفاقا
30:35نہ کے قزدن
30:36جو کچھ کہا ہے
30:37وہ بھی
30:38اسی قسم سے
30:39تعلق رکھتا ہے
30:40اپنی قوم کے
30:41خیالات کے
30:41موافق
30:42آپ نے
30:42جو کچھ
30:43بیان کیا ہے
30:44مثلا
30:44امہ زرہ
30:45کا واقعہ
30:46اور خرافہ
30:46کی حدیث
30:47توبہ
30:48بھی
30:48اسی قسم سے
30:49متعلق ہے
30:49اور
30:50زید بن ثابت سے
30:51جب کچھ لوگوں نے
30:53حدیث بیان کرنے کی
30:54خواہش کی
30:54تو انہوں نے
30:55اسی نقطے کو
30:56ان انفاظ میں
30:57بیان کیا
30:57کہ
30:57میں آپ کا
30:58پروڈوسی تھا
30:59جب آپ پر
31:00وہی نازل ہوتی تھی
31:01تو آپ مجھے
31:02بلوا لیتے تھے
31:03اور میں
31:03اس کو
31:04لکھ لیتا تھا
31:04ہم جب دنیا کی
31:06باتیں کرتے تھے
31:07تو آپ بھی
31:07ہمارے ساتھ
31:08شریک کلام ہوتے تھے
31:09اور جب ہم
31:10کھانے پینے کا
31:11ذکر کرتے تھے
31:11تو آپ بھی
31:12ہماری طرح
31:13اس کا ذکر
31:13فرماتے تھے
31:14تو کیا میں
31:15آپ کی ان
31:16تمام باتوں کو
31:16بطور حدیث
31:17کے بیان کروں
31:18اس زمانے کی
31:19جزئی
31:19مسئلیاتیں
31:20بھی جو
31:21تمام امت کے لیے
31:22لازمی نہیں ہیں
31:23وہ بھی
31:23اسی دوسری قسم میں
31:24شامل ہیں
31:25مثلا
31:26فوجوں کی آرستگی
31:27اور اس کے شعار کی
31:29تعین
31:29حضرت عمر کا یہ
31:31کال
31:31کہ اب ہم کو
31:32رمل سے کیا کام
31:33ہم اس طریقے سے
31:34ایک قوم پر
31:35اپنی قوت
31:36و طوانائی کا
31:37اظہار کرتے تھے
31:38لیکن اب
31:39خدا نے
31:39اس کو حلاک کر دیا
31:40اسی دوسری قسم سے
31:41تعلق رکھتا ہے
31:42بہت سے احکام
31:44بھی اسی دوسری قسم
31:45پر محمول ہیں
31:46مثلا
31:46آپ کا یہ ارشاد
31:47کہ جس مسلمان
31:48نے کافر کو
31:49قتل کیا
31:50اس کا تمام
31:50سوان جنگ
31:51اسی کے لیے ہے
31:52آپ کے مخصوص
31:53فیصلے بھی
31:54اسی دوسری قسم میں
31:55شامل ہیں
31:56کیونکہ آپ
31:56ان میں صرف
31:57گواہوں
31:58اور قسموں پر
31:59اعتماد کرتے تھے
32:00ان تصریحات
32:01کے پیش نظر
32:02ہو جانے کے بعد
32:03فوجہ صاحب کے
32:04ان فکر وقعات کے
32:06اجتحادات
32:06خواہ کسی
32:07رسول یا نبی
32:08یا امام کے ہوں
32:09محض وقتی ہوتے ہیں
32:11اور اگر
32:11صحیح ہوں
32:12تو بلا شبہ
32:13حجت شرعی وقتی ہوتے ہیں
32:15اجتحادات میں
32:16غلطی کا احتمال ہے
32:17اور رسول کریم
32:19کے اجتحادات
32:19بھی معارہ
32:20ان الخطان نہ تھے
32:21کیا مطلب ہے
32:22اگر وہ
32:23اس سے وہ
32:24اجتحادات
32:25مراد لیتے ہیں
32:26جو علوم نوویہ
32:27کی دوسری قسم سے
32:28تعلق رکھتے ہیں
32:29تو یہ بے شبہ
32:30صحیح ہے
32:30لیکن ان کے
32:31مضمون کا عنوان
32:32شریعت اسلام
32:33اور رجم ہے
32:34اور یہ ظاہر ہے
32:35کہ رجم کا تعلق
32:36حدود و قصاص سے ہے
32:38جو ایک منظبت
32:39چیز ہے
32:39اور منظب تبلیغ
32:41رسالت سے
32:42تعلق رکھتی ہے
32:42اس لئے آپ نے
32:44جو حدود مقرر
32:45فرما دیئے ہیں
32:46وہ اگر
32:46منصوب
32:47علی الوحی ہیں
32:48تو ان میں
32:49غلطی اور وقتی
32:49پابندی کا
32:50کسی طرح
32:51احتمال ہی نہیں
32:52ہو سکتا
32:53لیکن اگر ان کے
32:54تحیین و تحتید
32:55اجتحالاً
32:57ہوئی ہے
32:57تو اس میں بھی
32:59جیسا کہ
32:59شاہ صاحب کی
33:00عبارت سے
33:01معلوم ہوا ہوگا
33:02کسی قسم کی
33:03غلطی اور
33:04تعالی جن
33:04وقت کا
33:05احتمال نہیں ہے
33:06البتہ
33:07علوم و نویہ کی
33:08دوسری قسم میں
33:09اس قسم کی
33:10بعض چیزیں
33:11نکل سکتی ہیں
33:11لیکن افسوس ہے
33:13کہ رجم کا
33:13مسئلہ
33:14اس قسم سے
33:14تعلق نہیں رکھتا
Comments

Recommended