File 11 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |
Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.
Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use
#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research
Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.
Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use
#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research
Category
📚
LearningTranscript
00:00وحی
00:00وحی کی مخالف نہیں ہو سکتی
00:03حق تعالیٰ کی ایک وحی
00:04دوسری وحی کے مطابق
00:06اور ایک دوسری کی موئن
00:08مفسر معاون تو ضرور ہو سکتی ہے
00:10مگر یہ نہیں ہو سکتا
00:11کہ خدا ہی کی ایک حکم کو
00:13مخدوم اور دوسرے کو خادم قرار دیا جائے
00:16اس سے تو خود خدا ہی مخدوم
00:18اور خدا ہی خادم بن جائے گا
00:20پس سرف و نحب
00:21لغت و بیان وغیرہ خادموں کی موجودگی میں
00:24جو بلا وحی حاصل کر لیے گئے ہیں
00:26دو مخدوم وحیوں
00:28یعنی قرآن و حدیث کا ثبوت
00:30بہم پہنچانا
00:31پھر ایک کو مخدوم اور دوسرے کو خادم
00:34ٹھہرا لینا پرلے سرے کے
00:36تعصب کو ثابت کرتا ہے
00:38تمام خادم علوم انسانوں کی
00:40اپنی کوششوں اور کابیشوں پر
00:42چھوڑے گئے ہیں جو وحی
00:44الہی سے علاوہ ہیں پس اگر
00:46بقول بعض اہل حدیث حدیثیں
00:48اور روایات سرف و نحب
00:50لغت و بیان کی طرح خادم
00:52قرآن ہیں تو وہ بھی یقینا
00:54وہی نہیں ہو سکتی
00:56قرآن کو خادم کیوں ٹھہرا لیا گیا
00:59بڑے ہی افسوس
01:00کا مقام ہے کہ ان حضرات
01:02نے قرآن کریم کو بالکل یہ حدیث
01:04کے رنگ میں ڈھالا ہوا ہے
01:06اور اسی لئے یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ
01:08علیہ وسلم کو اللہ کے قرآن پر
01:10قاضی اور حاکم سمجھتے ہیں
01:12بلکہ حدیثوں اور سنتوں کو بھی
01:14قرآن محفوظ پر آج تک قاضی اور
01:16حاکم مانتے چلے آ رہے ہیں
01:18قرآن مجید کا اپنا مفہم کچھ اور ہوتا ہے
01:21لیکن حدیثوں کے ساتھ ملا کر
01:22کچھ اور بنا لیا جاتا ہے
01:24قرآن حکم و عزیز کو
01:26احادیث کے پیچھے چلایا جاتا ہے
01:28قرآن کریم کو جو مفصل اور مبین ہے
01:31گونگا کہتے ہیں
01:32اور حدیثوں کو قرآن کی ایسی تفسیر
01:34بتاتے ہیں جو وحی سے کی گئی ہے
01:36اس تفسیر کو کسی عام
01:38اصول یا کائنات کے علوم
01:40متعارفہ کے جن کی موافقت
01:42میں وحی نازل کی جاتی ہے
01:44تخصیص و استثناء کرنے
01:46بلکہ سریع الفاظ کے برخلاف
01:48مانے اور مفہم کر لینے کا حق بھی دیتے ہیں
01:51جو کسی اور مفصل کو نہیں مل سکتا
01:53حاصل یہ کہ حدیثوں کو
01:55قرآن پر قاضی اور حاکم بنانے میں
01:57کوئی قصر باقی نہیں رکھی جاتی
01:59مگر تماشا یہ کہ
02:00ساتھ ہی انہیں خادم بنا کر بھی پیش کیا جاتا ہے
02:04شاید خادم کا کام ہی یہ ہوتا ہے
02:06کہ وہ آقا کو بالکل اپنے رنگ میں رنگ لے
02:08حق تعالیٰ تو
02:09رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
02:11قاضی اور حاکم بالکتاب بننا سکلاتا ہے
02:14مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُقْمَ وَالنُّبُوَّةِ
02:21ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِن دُونِ اللَّهِ
02:27وَلَاكِن كُونُوا رَبَّانِيِّنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدُرُسُونَ
02:39کسی انسان کو زیبہ نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب حکومت اور نبوت عطا فرمائے
02:45پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم خدا کے سوا میرے بندے مطی اور فرمبردار بن جاؤ
02:50لیکن وہ تو یہی کہے گا کہ تم اللہ والے بن جاؤ
02:53یعنی اللہ کے بندے بنو
02:55کیونکہ تم اللہ کی کتاب کی تعلیم دیتے ہو
02:58اور پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو
03:00مگر یہ حضرات بڑی جرت اور غستاخی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں
03:04کہ سنت قرآن پر حاکم ہے
03:09شاید ان حضرات کے نزدیک اس فکرے میں
03:12بالکتاب اور علل کتاب کا ایک ہی مفہوم ہوگا
03:16حضرات علمہ حدیث کی طرف سے حدیث کے تفسیر ہی نہیں
03:20بلکہ حاکم اور قاضی ہونے کی عموماً یہ مثال پیش کی جاتی ہے
03:24کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
03:34صورت نمبر چار آیت نمبر گیارہ
03:36اللہ تمہیں تمہارے اولاد کے بارے میں وسیعت فرماتا ہے
03:40کہ نرینہ اولاد کو لڑکیوں سے دگنا حصہ ملے گا
03:43علماء فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
03:47نے اپنے آپ کو اس الہی وسیعت کے حکم کے برخلاف
03:51دوسرے اہل ایمان سے مستثنہ قرار دی لیا ہے
03:53چنانچہ آپ کا ارشاد ہے
03:55کہ ہم انبیاء اس حکم میں داخل نہیں
03:57ہم نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں
04:00نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے
04:01جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے
04:03حالانکہ دوسری قرآن کی آیتیں
04:05تمام انبیاء اور رسول کو
04:07دیگر صالحین کے طرح خدا کے
04:09احکام کی فرمابردار بتلاتی ہیں
04:11چنانچہ قرآن کریم بتلاتا ہے
04:14وَقَالُوا اتَّخَدَ الرَّحْمَانُ وَلَدًا
04:17وَقَالُوا اتَّخَدَ الرَّحْمَانُ وَلَدًا
04:20سُبْحَانَهُ بَلْعِبَادٌ مُقْرَمُونَ
04:24لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ
04:29سورة نمبر 21 آیت نمبر 26 اور 27
04:34اور انہوں نے کہا کہ رحمان اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے
04:38اللہ کی ذات اس بہتان سے پاک ہے
04:40اس کے بھیجے ہوئے رسول اس کے بیٹے نہیں ہیں
04:43بلکہ مکرم و معظم بندے ہیں
04:45وہ بات کرنے میں اس سے سبقت نہیں کرتے
04:48اور وہ اسی کے حکم کی مطابق عمل کرتے ہیں
04:51اور خاص وراثت کے حکم میں بھی رسولوں کو شامل کرتی ہیں
04:55جیسے سورة نمبر 27 آیت نمبر 16 میں آیا ہے
04:59وَبَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُد
05:01سُلِمَان داوود کے وارث ہوئے
05:03مگر ان آیتوں کے برخلاف علماء احلی حدیث فرماتے ہیں
05:07کہ رسولوں کو ایسی تخصیص یا استثناء کا اختیار قوت اور حق ملا ہوتا ہے
05:12کہ وہ حکم الہی سے چاہیں اپنے کو مستثناء فرما لیں
05:16تعجب ہے کیا رسولوں کی تفسیر اسی شان کی ہوا کرتی ہے
05:20گویا یہ تفسیر معنوی اور استلاحی نہیں ہوتی
05:23بلکہ مغالطہ دینے کے لیے اس کا نام تفسیر رکھ لیا جاتا ہے
05:28اب حضرات علماء کرام ہی فرمائیں
05:30کہ اگر خدا نہ خاصہ رسول نے ایسا کہا ہو تو
05:33کیا حضور نے اس کتاب الہی کے حکم پر عمر فرمایا
05:37یا خود قاضی علل کتاب بن گئے
05:39پناہ با خدا
05:42حاشیہ
05:42خواہدہ صاحب کا اعتراض علماء کرام کے عام تصور کے اوپر ہے
05:47کیونکہ وہ حضرات ایک طرف تو
05:49مال فیض سے جو کچھ حاصل ہوا
05:51اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی ملکیت خیال فرماتے ہیں
05:55اور پھر اس میں وراثت کا قانون نافذ ہونے کے منکر بھی ہیں
05:59حالکہ وہ پہلی بات ہی غلط ہے
06:01بغیر جنگ و جدل کے جو اموال فیح حاصل ہوتے ہیں
06:04وہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے تھے
06:08بلکہ وہ مملکت اسٹیٹ کی ملکیت ہوتے تھے
06:10اگر البتہ سربراہ مملکت
06:13ہیڈ آف اسٹیٹ ہونے کی حیثیت سے آپ کی تحویل میں ہوتے تھے
06:17اور آپ کی وفات کے بعد جو آپ کا جانشین ہوا
06:20اس کی تحویل میں چلے جاتے تھے
06:22حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ انبیاء اور رسول
06:25مال و دولت چھوڑ جاتے ہیں
06:27اور پھر بھی اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی
06:30بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ مال و دولت چھوڑتے ہی نہیں
06:33کہ اس میں وراثت جاری ہو سکے
06:35وہ تو کتاب اللہ اور ہدایت خداوندی چھوڑ کر جاتے ہیں
06:38اور وارث ہونے والے اسی کے وارث ہوتے ہیں
06:41چنانچہ بخاری اور نسائی میں
06:43حضرت عمر ابن الحارس خزائی رضی اللہ تعالی سے مروی ہے
06:48کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:50نہ کوئی دینار چھوڑا
06:51نہ درم نہ کوئی غلام چھوڑا
06:54نہ باندھی اور نہ کوئی اور چیز چھوڑی
06:56سوائے صفیت خچر کے
06:58جس پر آپ سواری فرمایا کرتے تھے
07:01اور اپنے ہتیاروں کے
07:02اور اس زمین کے
07:04جسے آپ نے مسافروں کے لئے
07:06وقت یعنی صدقہ فرما دیا تھا
07:08بخاری اور نسائی
07:09نیز بخاری ہی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے
07:13کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
07:18سوائے اس کے جو دفتین کے درمیان بشکل قرآن موجود ہے
07:21بحوالہ جمع و فوائد
07:23صفحہ 273 جلد ایک
07:26لہذا انبیاء و رسول کے ترقے میں
07:28وراثت جاری نہ ہونے کی وجہ
07:30انبیاء کی کوئی خصوصی حیثیت نہیں ہے
07:33بلکہ یہ ہے
07:34کہ وہ مال و دولت نہ جمع کرتے ہیں
07:36نہ چھوڑ کر جاتے ہیں
07:37کہ اس کو ورثے میں تقسیم کیا جائے
07:39وہ تو صرف علم الہی چھوڑ کر جاتے ہیں
07:42اور ان کے جانشین اسی علم کے وارث ہوتے ہیں
07:44حضرت دعود علیہ السلام کے جانشین اور سربراہ مملکت حضرت سلمان علیہ السلام ہوئے
07:50ان کی وراثت بھی مالی نہیں تھی
07:52بلکہ علمی ہی تھی
07:53کیونکہ دعود علیہ السلام نے جو سلطنت چھوڑی تھی
07:56وہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں تھی
07:58بلکہ وہ قوم کی ملکیت تھی
08:00اور حضرت دعود کی تحویل میں تھی
08:02ناشر
08:03حاشیہ اختتام
08:04حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے
08:08تفسیر نبی کی معاذ اللہ تغلید
08:11قرآن مجید کا ارشاد ہے
08:17سورت نمبر 6
08:18آیت نمبر 164
08:20سورت نمبر 17
08:21آیت نمبر 15
08:22سورت نمبر 35
08:23آیت نمبر 18
08:24سورت نمبر 49
08:26آیت نمبر 7
08:27سورت نمبر 53
08:28آیت نمبر 38
08:30کوئی بوجھ اٹھانے والا
08:31کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
08:34لیکن بخاری اور مسلم کہتی ہیں
08:36کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
08:39کہ میت کو اس کے رشتداروں کے رونے
08:41اور نوحہ کرنے سے عذاب ہوتا ہے
08:43روایت کے مطابق
08:44اس تفسیر نبی کی تردید کرتے ہوئے
08:46حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے
08:49اسے آیت مذکورہ کے خلاف قرار دیا
08:51اسی سورت نمبر 6
08:53آیت نمبر 164
08:54والی آیت کریمہ سے
08:56صاف معلوم ہوتا ہے
08:57کہ باپ داداؤں کے گناہوں کا بدلہ
08:59ان کی اولاد سے نہیں لینا چاہئے
09:01مگر حدیث فرماتی ہے
09:03کہ گرگٹ پنجابی کرلہ
09:05کو جہاں دیکھو قدل کر دو
09:07یہ حضرت عبراہیم علیہ السلام کی
09:09آپ کو پھونک پھونک کر بھڑکاتا تھا
09:11اگر اسی کا نام تفسیر ہے
09:13تو ایسی تفسیر سے تو خالی رہنا ہی بہتر ہے
09:15جب ایسے درائل سے جانوروں کے ساتھ
09:18کینہ رکھنا سکھایا جاتا ہے
09:19تو مسلمانوں کے مختلف فرقے
09:21آپس میں جو کچھ ایک دوسرے کے خلاف کر رہے ہیں
09:24وہ تو ضرور ہی حق بجانب بن جائے گا
09:26افسوس
09:27صد افسوس
09:28اس صاحب خلق عظیم رسول اکرم پر
09:30ایسے کینہ پروری کے اعزام لگائے جاتے ہیں
09:33مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
09:35کو اپنی بشری اقل سے کام لینے والا
09:37ماننے سے گریز کیا جاتا ہے
09:39اگر آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
09:41کو بشری اقل سے کام لینے والا ہی
09:43مانتے
09:44تو ایسی باتیں رسول کے ذمہ نہ لگاتے
09:46کہ گرگٹ کو تو دیکھتے ہی فوراں مار دینا
09:49لیکن اگر کسی کے گھر میں
09:51سامپ نکل آئے
09:52تو اس کو تین روز تک وارننگ دیتے رہنا
09:54کہ اے سامپ اگر تو جن ہے تو چلا جا
09:56اور تین دن تک نہ جائے
09:58تب ماننا
09:59اور تین دن تک
10:00اسے حضرت نوح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
10:02کے کول و قرار یاد دلانا
10:04اور یہ سمجھنا
10:05کہ جن سامپ بن جایا کرتے ہیں
10:07شاید کوئی مسلمان
10:08جن سامپ بن کر نہ آگیا ہو
10:10وہ غلطی سے مارا نہ جائے
10:12اور اس طرح ایسے وہموں سے
10:14اپنے اہل و آیال کو
10:15تین دن تک خطرے میں ڈالے رکھنا
10:16کسی ایسے شخصے
10:18جو بشری اقل سے کام لینے والا ہو
10:20ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا
10:22مگر ایسی حدیثوں کو کیا کہیں
10:24جو یہ سب باتیں آن حضرت
10:26پیدا ہو
10:27ابی و امی کے ذمہ لگاتی ہیں
10:29بہوالہ
10:30مشارق الانوار
10:32بخاری و مسلم کی
10:33کولی آہ حدیث کا مجوان
10:35حدیث نمبر 326
10:38فہم نوی بھی
10:40بشری فہم تھا
10:41حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
10:43چونکہ ایک بشر ہے
10:44اس لئے آپ کا فہم بشری ہی تھا
10:47نبی اور رسول ہونے کی وجہ سے
10:49آپ کا فہم ماں پوکل بشر نہیں تھا
10:52حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
10:54افلا یتدبرون القرآن
11:00افلا یتدبرون القرآن
11:02ولو كان من عند غیر اللہ
11:05لوجدوا فيه اختلافا کثيرا
11:09وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ
11:13وَلَوْا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ
11:28لَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ
11:31لَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ
11:33إِلَّا قَلِيلًا
11:35صورت نمبر چار آیت نمبر بیاسی اور تیراسی
11:39یعنی پھر کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے
11:43اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا
11:46تو وہ اس میں بہت اختلافات پاتے ہیں
11:48اور جب ان کے پاس کوئی بات امن یا خوف کی آتی ہے
11:52تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں
11:53اور اگر یہ اسے رسول کی طرف اور اپنے میں سے مقرر کردہ حکام وقت کی طرف لوٹا دیتے
11:59تو وہ ان میں سے جو استنباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
12:03یقیناً اسے جان لیتے
12:04اور اگر تم پر اللہ کا فضل یعنی قرآن
12:07اور اس کی رحمت یعنی تدبر في القرآن اور استنباد نہ ہوتی
12:11تو تم ضرور شیطان کے پیچھے لگے لیے ہوتے
12:14مگر تم میں سے تھوڑے سے
12:17وحی اور عقل دو نعمتیں
12:19ان آیت مبارکہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس دو نعمتیں ہیں
12:23ایک خود وحی الہی
12:25یعنی قرآن مجید ہے
12:27دوم
12:28اقلی ذرائع
12:29اقلی ذرائع بھی دو قسم کے بتلائے ہیں
12:32ایک ہمارا خود قرآن میں تدبر اور غور فکر کرنا
12:35دوم خارج اس قرآن باتوں میں استنباد کرنے والوں سے سمجھ لینا
12:39وحی الہی کو فضل الہی فرمایا ہے
12:42اور اقلی ذرائع کو رحمت الہی بتایا ہے
12:45یہ دونوں نعمتیں بڑی ضروری اور خود اہم ہیں
12:48اور ان دونوں میں ہی ہمارا تمام دین آ جاتا ہے
12:52لیکن علماء اہلی حدیث کا کہنا ہے
12:54کہ حضور کی ہر بات وحی تھی
12:56یعنی اللہ تعالیٰ ہر وقتی عمر تک کا فیصلہ آپ پر بذریہ وحی نازل فرمایا کرتا تھا
13:01اہلی حدیث کی اس عقیدے کے مطابق بات یہ بنتی ہے
13:05کہ یا تو معاذ اللہ معاذ اللہ آپ کو عقل دی ہی نہیں گئی تھی
13:09اور یا آپ اسے استعمال نہیں فرما سکتے تھے
13:12حالانکہ آیت زیر نظر میں جہاں امن اور خوف کی باتوں کو
13:16رسول کی طرف اور اولیل امن کی طرف موڑنے کا حکم
13:19اس لیے دیا گیا ہے
13:20کہ ان میں سے جو لوگ استنباد کی صلاحیت رکھتے تھے
13:24وہ اس بات کی حقیقت کو معلوم کر لیں
13:27اب اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استنباد کر ہی نہیں سکتے تھے
13:31تو استنباد کی خاطر رسول اللہ کی طرف ان کا علیہ دا ذکر فرما کر
13:36اس عمر کو موڑنے کا حکم کیوں صادر فرمایا گیا
13:39اس طرز بیان سے صاف واضح ہو جاتا ہے
13:41کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف صاحب اقل و فہم تھے
13:45بلکہ اقل و فہم کے ساتھ آپ میں استنباد کی اور بات کی تیہ تک
13:50پہت جانے کی پوری پوری صلاحیت تھی
13:52اور آپ فی الواقع استنباد کیا بھی کرتے تھے
13:55اور یہ ایسا ہی استنباد تھا
13:58جیسے دوسرے اولیل امر میں سے بہت سے کر سکتے تھے
14:01پھر آیت کریمہ میں رسول اور اولیل امر کے استنباد کرنے کا نتیجہ بھی ایک ہی بتلایا ہے
14:07یعنی وہ اس بات کی حقیقت کو جان لیتے تھے
14:10اور بات کی تیہ تک پہنچ جاتے تھے
14:14آن حضرت گمان بھی کرتے تھے
14:16پھر آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
14:18وقتی عمور میں دوسرے انسانوں کی طرح بشری گمان بھی کیا کرتے تھے
14:22حق تعالیٰ نے یہودیوں کے متعلق اشارت فرمایا
14:30سورت نمبر 69 آیت نمبر 14
14:32آپ سمجھتے ہیں کہ وہ متحد و متفق ہیں
14:35حالکہ ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں
14:38وغیرہ وغیرہ
14:39اس سے صاف معلوم ہوتا ہے
14:41کہ حضور کا فہم بشری فہم تھا
14:43کوئی مافاق البشر فہم نہیں تھا
14:45جب ہی تو بات کو سمجھنے میں غلطی ہو جاتی تھی
14:48کہ یہودیوں کے دل حقیقت میں تو ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں
14:52لیکن آپ انہیں متحد الخیال سمجھ رہے تھے
14:55حضور کا طریقہ تحقیق بھی دوسرے بشروں کی طرح ہی ہوا کرتا تھا
15:00آپ سچے حاجت من فقیروں کو جو لوگوں سے لپٹ لپٹ کر نہیں مانتے تھے
15:05ان کے چہروں سے عام انسانوں ہی کی طرح پہچان لیا کرتے تھے
15:23صورت نمبر دو آیت نمبر دو سو تاہتر
15:27نا واقف لوگ انہیں سوال سے بچنے کی وجہ سے مالدار سمجھ بیٹھتے ہیں
15:31لیکن ان کے چہروں کے نشانات سے تم انہیں پہچان لوگے
15:35وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر نہیں مانتے
15:38آپ منافقوں کو ان کے لحن القول چبا چبا کر بات کرنے کے انداز سے شناس فرمایا کرتے تھے
15:45وَلَوْنَ شَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيمَاهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ
15:57صورت نمبر 47 آیت نمبر 30
16:00اور اگر ہم چاہتے تو ہم آپ کو وہ لوگ دکھا دیتے
16:04اور اے پیغمبر آپ انہیں ان کے چہروں کے نشانات سے پہچان لیتے
16:08اور آپ انہیں ان کی باتیں کرنے کے انداز سے بھی ضرور پہچان لیں گے
16:12اور اے منافقوں اللہ تمہارے عمال کو اچھی طرح جانتا ہے
16:16یہ سب بشری عقل ہی کے قائدے ہیں
16:18ان قائدوں سے سارے انسان وقت پڑھنے پر کام لیتے ہیں
16:22اور اسی لیے ان میں غلطی بھی ہو جاتی تھی
16:25آپ بہت عرصے تک اہل مدینہ کے تمام منافقوں کو بھی نہیں جانتے تھے
16:30جیسا کہ سورة توبہ میں ارشاد ہوا ہے
16:38اے پیغمبر آپ انہیں نہیں جانتے
16:41مگر ہم انہیں خوب جانتے ہیں
16:43جو عورتیں کفار کے دینی جبر کے سبب ہجرت کر کے آتی تھی
16:48ان کے دلی ایمان کو تو اللہ ہی جانتا تھا
16:51لیکن ان کے متعلق جو تحقیقات درکار تھی
16:54وہ حضور کے سامنے انسانی امتحان سے ہی کرنے کا حکم تھا
17:17سورت نمبر ساٹھ آیت نمبر دس
17:20اے پیروانے دعوت ایمانی
17:23جب تمہارے پاس ہجرت کر کے کچھ مومن عورتیں آ جائیں
17:27تو تم ان کی جانچ پرتال کر لیا کرو
17:29ان کے دلی ایمان کو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے
17:32تو اگر تم انہیں ظاہر طور پر واقعی مومن عورتیں سمجھو
17:36تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو
17:39آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بشری عقل اور لوگوں کے انداز سے
17:44جھوٹوں سچوں کو پرخا کرتے تھے
17:46وہی خفیر نہیں بتایا کرتی تھی کہ فلاں سچا ہے اور فلاں جھوٹا
18:04سورت نمبر نو آیت نمبر تیرتالیس
18:06اللہ آپ کو معاف فرمائیں
18:09آپ نے انہیں غزو تبوک سے پیچھے رہ جانے کی کیوں اجازت دے دی
18:13آپ کو معلوم تو ہو جاتا کہ کون ان میں سے سچ بول رہے ہیں
18:17اور آپ ان میں سے جھوٹوں کو بھی جان لیتے
18:20پھر آپ کو بعض اوقات صرف قسموں کے ذریعے مقدموں کا فیصلہ کرنا پڑتا تھا
18:25والذین يرمون المحصنات ثم لم يأتوا بأربعة شهداء فاجلدوهم ثمانین جلدة ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا
18:43وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
18:46إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
18:56وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
19:20والخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين
19:28ويدرأ عنها العذاب أن تشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الكاذبين
19:44وَالْخَامِسَتَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
19:56سورة نمبر چوبیس آیت نمبر چار سے نو
19:59اور جو پاک دامن عورتوں کو تحمد لگائیں
20:02پھر چار گواہ تحمد کے ثبوت میں پیش نہ کر سکیں
20:06تو انہیں اسی کھوڑے مارو
20:07اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو
20:10یہ لوگ فاسق ہیں
20:11بجس ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کریں
20:14اور اسلح احوال کر لیں
20:16تو یقیناً حق تعالیٰ وقشنے والا رحم کرنے والے ہیں
20:19اور جو اپنی بیویوں پر تحمد درتے ہیں
20:21اور ان کے پاس بھی بجس اپنے کوئی گواہ نہیں ہے
20:25تو انہیں خود چار شہادتیں ادا کرنی چاہیے
20:29کہ بخدا وہ سچے ہیں
20:30اور پانچویں شہادت یہ کہ
20:32ان پر خدا کی لانت ہو اگر وہ جھوٹے ہوں
20:35اور عورت بھی اپنے سے سزا کو شہادتوں سے ہٹا سکتی ہے
20:39وہ چار شہادتیں اس بات کی ادا کریں
20:42کہ وہ خدا اس کا شہر تحمد لگانے میں جھوٹا ہے
20:45اور پانچویں شہادت یہ ادا کریں
20:47کہ اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر خدا کا قضب نازل ہو
20:50اور ظاہر ہے
20:52کہ جو فیصل حق تعالیٰ نے قسموں پر کرنے سکھائے ہیں
20:55رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہرگز ہرگز وہی سے نہیں کر سکتے تھے
21:00پس حضور کی اکل و فہم کا بشری اکل و فہم ہی ہونا سورج کی طرح روشن ہے
21:04جس شخص کو مقدمات کا فیصلہ کرنے میں قسموں پر چھوڑا جاتا ہے
21:09اس کی تمام غلطیوں کو نکال دینا
21:11خدا نے اپنے ذمہ نہیں لیا تھا
21:14ورنہ مقدمے کو قسموں پر چھوڑنے کا یہ ادنا طریقہ نہ سکھایا جاتا
21:18آپ کے حضور میں مقدمے میں دو فریق قسمیں کھا کر سچ سے بجھ جایا کرتے تھے
21:24اور معلوم نہیں ہو سکتا تھا
21:26کہ ان دونوں سے کون سچا ہے
21:28حالانکہ دونوں میں سے ایک کا جھوٹا ہونا یقینی تھا
21:31حوالے کے لئے سورہ نور کی آیت کریمہ 6 تا 9
21:35دوبارہ ملاحظہ فرمائیں
21:38جن میں بدلایا گیا کہ اگر شوہر اپنی بیوی پر بدکاری کا عظام لگائے
21:43اور اس کے پاس چار گواں نہ ہوں
21:45تو ارشاد ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں چار مرتبہ قسم اٹھا کر یہ کہے کہ وہ سچا ہے
21:50اور پانچویں مرتبہ قسم اٹھا کر یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے
21:54تو اس پر خدا کی لانت ہو
21:55اس سے آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اب اگر وہ ملزمہ جس پر بدکاری کی حد کے طور پر
22:01سو کڑے کی سزا لازم آتی ہے
22:03وہ اس سزا سے اس طرح بچ سکتی ہے
22:06کہ وہ چار مرتبہ قسم اٹھا کر یہ کہے
22:08کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے
22:10اور پانچویں مرتبہ قسم اٹھا کر یہ کہے
22:12کہ اگر وہ سچا اور میں جھوٹی ہوں
22:15تو مجھ پر خدا کا غزب نازل ہو
22:17اب ظاہر ہے
22:18کہ فریکین میں سے دونوں تو سچے ہو نہیں سکتے
22:21یا تو شوہر نے غلط اجزام لگایا ہے
22:23اور وہ اسی کڑوں کی سزا کا مستحق ہے
22:26اور اگر وہ سچا ہے
22:27تو بیوی پر سو کڑوں کی سزا لازم آتی ہے
22:30اور وہ غلط قسمیں اٹھا کر
22:31سزا سے بچ گئی ہے
22:33اب یہ فیصلہ جس میں لازمی طور پر فریکین میں سے
22:36کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے
22:37دربارہ رسالت سے صادر ہو رہا ہے
22:40تو صاف ظاہر ہے
22:41کہ دربارہ رسالت کے ایسے فیصلے
22:43رسولی فہم اور استنباد کے ذریعے ہوا کرتے تھے
22:46یعنی وہ ہرگز ہرگز
22:48کسی نام نہاد
22:49وحی خفی کے ذریعے نہیں ہوتے تھے
22:51کیونکہ ایسے مبہم اور غیر یقینی فیصلوں کو
22:54وحی الہی کی طرح منسوب کرنا
22:56حق تعالیٰ کو جاہل مترک قرار دینا ہے
22:59کہ وہ بھی نہیں جانتا تھا
23:00کہ فریکین میں سے کون جھوٹا ہے
23:02اور کون سچا ہے
23:04اور حق تعالیٰ نے
23:05ماذ اللہ ماذ اللہ
23:06وحی خفی کے ذریعے غیر یقینی فیصلہ دے دیا ہے
23:09فلہذا
23:10رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:13کے اقوال مبارکہ
23:14وحی یا نام نہاد
23:16وحی یا خفی
23:17ہرگز ہرگز نہیں تھے
23:18حقیقت یہ ہے
23:19کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:21نہ غیب دان تھے
23:22نہ آپ کے اقوال و افعال
23:24وحی کے ذریعے سرزت ہوا کرتے تھے
23:26حق تعالیٰ نے
23:27میاں بیوی کے باہر میں جگڑوں کو
23:29جن میں گواہ موجود نہ ہوں
23:31معاشرے کا امن و امان قائم رکھنے کے لئے
23:33فریقین سے قسمیں اٹھوا کر
23:35ختم کر دینے کی ہدایت فرمائی ہے
23:37باقی رہا فریقین میں سے
23:39جھوٹی قسمیں اٹھانے والے فریق کا معاملہ
23:41تو وہ قیامت میں حق تعالیٰ کی
23:43عدالت عالیہ میں جھوٹی قسموں کی
23:45سزا سے ہرگز نہیں بچ سکے گا
Comments