Skip to playerSkip to main content
File 08 of 21| اھدنا الصراط المستقیم۔ |


Disclaimer: - This channel does not promote or encourages any illegal activities and all content provided by this channel is meant for educational purpose only.

Copyright Disclaimer: - Under section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purpose such a as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship and research. Fair use is a use permitted by copyright statues that might otherwise be infringing. Non- profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use

#Quran,#Islam,#Explore,#hadees,#hadith,#research

Category

📚
Learning
Transcript
00:00حدیث کی کوئی کتاب بھی کتاب من انجلہ نہیں ہے
00:03اب جبکہ قرآن کریم سچمت حق تعالیٰ کی کتاب ہے
00:07اور جملہ انسانوں کیلئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذابطہ حیات ہے
00:11تو ہمارا اس کی اطاعت کرنا ہماری آبیدانہ اطاعت ہے
00:15اس اطاعت سے ہم اپنے آپ کو سیدھے تصرف الہی کے تحت میں ڈال دیتے ہیں
00:20اس اطاعت میں ہم بندے بن کر بندوں کی طرح اپنی طرف سے کوشش کرتے ہیں
00:25اور ہم شروری انفسینا اور صحیحاتی آماء لنا سے اسی کی پناہ میں آ جاتے ہیں
00:31حق تعالیٰ چونکہ مومنین صالحین کا ولی ہے
00:42سورت نمبر ساتھ آیت نمبر 196
00:45بے شک میرا حمایتی تو اللہ ہی ہے
00:48جس نے یہ کتاب یعنی قرآن نازل کی ہے
00:51اور وہی نیکوں کا کارساز ہوا کرتا ہے
00:56چنانچہ وہ ان کی مدد کرتا ہے
00:59غرص کے تصرفاتی یعنی غائبانہ امداد کا تعلق
01:03ہمیشہ آبیدانہ اطاعت کے ساتھ ہی خاص رہا ہے
01:06حق تعالیٰ کی تصرفاتی مدد کا نقشہ
01:10مدین کے پنگرٹ پر دیکھنے کے قابل تھا
01:12جب حضرت موسیٰ علیہ السلام
01:14ایک ٹکٹی یعنی فیراؤنی کو سہون قتل کر کے وہاں پہنچے
01:19دو لڑکیوں کے ریور کو پالی پھلانے کے لیے
01:21ظالم اور جابر چرواہوں سے باری حاصل کی
01:24پانی پلا کر ساہے میں بیٹھے
01:26تو اپنا پسمنظر اور پیشمنظر نگاہوں کے سامنے پھر گیا
01:30پیرون جیسی سلطنت کے مفرور قاتل کو
01:33اپنے ہاں کون بنا دے گا
01:35روزی روزگار کے بغیر پیٹ بھرنا ناممکن ہے
01:38لیکن کاروبار کی تلاش میں جس کے پاس جائیں گے
01:41وہ ضرور آپ کا آتھا پتہ پوچھے گا
01:44جھوٹ آپ کو کہنا نہیں
01:46سچ کہوں گا تو ہو سکتا ہے کہ سننے والا فوراں حکومت کو خبر کر کے جیل بھیجوا دے
01:51کہ یہ ہمساہ حکومت کا مفرور قاتل ہے
01:54اس کے حوالے کر دیا جائے
01:56ان حالات میں آپ نے اپنے پروردگار کے بارگاہ میں التجا فرمائی
02:08صورت نمبر 28 آیت نمبر 24
02:11اے میرے پروردگار
02:13اس وقت تو جو بھلائی بھی میری طرف نازل فرمائے
02:16میں اس کا محتاج ہوں
02:17پوراں مخصوص غائبانہ تصرفات کی مدد آئی
02:21جو عابدانہ اطاعت ہی کے ساتھ بابستہ ہے
02:24جن نوجوان لڑکیوں کے ریور کو پانی پلایا تھا
02:27ان میں سے ایک آپ کو لینے کے لیے آئی
02:30آپ گئے صاحب خانہ نے آپ کی ساری داستان سنی اور کہا
02:34نجوت من القوم الظالمین
02:37صورت نمبر 28 آیت نمبر 25
02:41اللہ کا شکر کرو کہ
02:42تم نے ظالموں کی قوم سے نجات حاصل کر لی ہے
02:46صاحب خانہ حضرت شعیب علیہ السلام نے بائزت تاروبار بھی دیا
02:51اور گھر سے ایک بیٹی دے کر آپ کا گھر بھی بسایا
02:54اور آٹھ دس سال کے لیے اپنے پاس رکھا
02:57تاکہ جب آپ واپس مصر جائیں
03:00تو مفروض کی گرفتاری کی مدد بھی گزر چکی ہو
03:03اور مصر کا قانون آپ کا بال تک بیکا نہ کر سکے
03:07قرآن کریم تصرف الہی کی تشریح اور توحید کی توزی میں ہی
03:11ہمیشہ بے مصر نہیں رہا
03:13بلکہ اپنے ہدایت کے نتائج میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتا
03:16قرآن ہدایت کے بے مصر اور بے نظیر ہونے کی ادنا سی مثال یہ ہے
03:20کہ اس پر عمل کر کے صحابہ رسول جو محض شطربان تھے جہانبان ہو گئے
03:26بلا شبہ قرآن مجید اپنی پساہت و بلاغت میں بھی بے مثال ہے
03:30لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنی ہدایت میں بے نظیر نہیں
03:34قل فأتو بکتاب من عند اللہ ہوا اہدا منہما اتبعہ اتبعہ ان کنتم صادقین
03:45حق تعالیٰ کا ارشاد ہے سورة نمبر 28 آیت نمبر 49
03:50اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لیا ہو
03:57جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے زیادہ ہدایت والی ہو
04:01میں اس کی پیر بھی کرلوں گا
04:03اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اور اصلی تورات دونوں کتابیں ایک ہی صدا کی معمورہ ہدایت ہیں
04:11لیکن چونکہ تورات کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا گیا اور قرآن کریم
04:22سورة نمبر 15 آیت نمبر 9
04:24ہم نے اس ذکر یعنی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں
04:29کے مطابق حفاظت خداوندی میں ہے
04:32اس لئے تورات جیسی الہی کتاب کتاب من اندللہ میں بھی تحریف ہو گئی اور ناقابل اعتبار ہو گئی
04:39لہٰذا قرآن مجید جب کامل طور پر نازل ہو گیا اور تمام کتب سابقہ پر مہمین بن گیا
04:46تو قرآن رکھنے والے شخص کے لئے اس کا یعنی تورات کا استقلال بطور وحی کے جاتا رہا
04:53اور جب قابل اعتباہ آسمانی کتاب اور بہترین ہدایت والی تورات کا یہ حال ہے
04:58تو یہ کیسے ہو سکتا ہے
05:00کہ غیر محفوظ حدیثیں قرآن کریم کے ساتھ بطور وحی کے بل استقلال شریک اور مثلہ مہا بن جائیں
05:06ماذا اللہ
05:09قرآن کریم کے ساتھ تورات اور انجیل کا استقلال باقی نہیں رہا
05:14عیسائیوں میں انجیلوں کے ساتھ تورات بھی آج تک لکھی چلی آتی ہے
05:19انجیلیں اہد نامہ جدید ہیں تو تورات اہد نامہ عتیق
05:23اس لیے کہ انجیلوں کے ساتھ تورات کے استقلال قائم تھا
05:27اگر قرآن مجید کے ساتھ بھی تورات اور انجیل کے استقلال باقی رہتا
05:32تو ضرور وہ بھی آنزور کی طرف قصص کے ساتھ ہی پیش کی جاتی
05:36اب جبکہ الہی کتابوں کا یہ حال ہے کہ وہ مثل قرآن نہیں ہو سکتی
05:41تو حدیثیں کیا ہیں
05:42کہ وہ قرآن کی برابری کا دم ماریں
05:44تورات اور انجیل میں حدیثیں شامل ہو گئیں تھیں
05:49پہلی کتابوں میں بہت بڑا نقص یہ تھا
05:52کہ حدیثیں ان کے ساتھ شامل تھیں
05:54ان میں وحی اور غیر وحی کا امتیاز مشکل ہو گیا تھا
05:57قرآن مجید کو حق تعالیٰ نے اس بلا سے بچا لیا
06:00اگر قرآن مجید حدیثوں سے جدہ نہ ہوتا
06:03تو پھر کسی اور نئی کتاب کے ضرورت باقی رہتی
06:06یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے
06:08وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ
06:14نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
06:21بِلِسَانٍ عَرَبِيٍ مُبِينَ
06:25وَإِنَّهُ لَفِي زُغُرِ الْأَوَّلِينَ
06:28صورت نمبر 26 آیت نمبر 192 سے 196
06:32یہ قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کا نازل کرتا ہے
06:37اسے روح الامین یعنی جبریل لے کر نازل ہوئے ہیں
06:41آپ کے قلب پر تاکہ آپ درانے والوں سے ہو جائیں
06:45عربی مبین کی زبان میں
06:47اور وہ بلا شبہ پہلے انبیاء کی کتابوں میں بھی مذکور ہو چکا ہے
06:52کے مطابق تمام کتابوں کے مذامین کو
06:56اپنے مطن کے دامن میں لے کر
06:58ان کا اپنا جلاغانہ استقلال قائم نہیں رہنے دیا
07:01چنانچہ قرآن کریم کے نازل ہونے کے بعد وہ منسوخ ہو گئیں
07:05لہذا جب قرآن کی موجودی میں صاحب کا الہی کتابیں حجت نہیں رہیں
07:10تو کتب روایت کس طرح حجت ہو سکتی ہیں
07:13قرآن کے مثل لانے کا چیلنج
07:16قرآن کریم میں بار بار دشمنان اسلام کو چیلنج دیا گیا
07:20کہ اگر تم اسے خدا کا کلام نہیں سمجھتے
07:23بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام سمجھتے ہو
07:27تو اس کے مثل تم بھی بنا کر لیاؤ
07:29قرآن کریم کی یہ تحضی اور چیلنج صرف اس میں نہیں ہے
07:33کہ قرآن کریم بڑا فسی و بلی کلام ہے
07:36تم فساد و براغت میں اس جیسا کلام بنا کر لیاؤ
07:40بلکہ یہ تحضی کلام کی ہدایت میں بھی ہے
07:43قرآن کا یہ بھی دعویٰ ہے
07:45کہ ہدایت میں بھی ایسا کلام بنا کر تم لوگ نہیں لاسکتے
07:48لیکن حدیث نبی علیہ السلام کے متعلق ایسی کوئی تحضی نہیں فرمائی گئی
07:54جس سے ثابت ہوتا ہے
07:55کہ حدیث نبی کلام الہی اور وحی خفی
07:59جب وحی غیر مطلوب نہیں تھی
08:01جیسا کہ مہدیسین کا دعویٰ ہے
08:03بلکہ وہ کلام نبی تھی
08:05لیکن ہمارے علماء کرام فرماتے ہیں
08:08کہ ہدایت میں قرآن کریم اور حدیث نبی یکسہ حیثیت کے مالک ہیں
08:13جیسا کہ قرآن کریم ہدایت ہے
08:15حدیث بھی ہدایت ہیں
08:17اور یہ کہ قرآن کریم کے سلسلے میں
08:19ہدایت کے بارے میں
08:20کوئی تحضی نہیں فرمائی گئی تھی
08:23کہ حدیث کے لئے بھی تحضی کی جاتی
08:25بلکہ قرآن کریم کی
08:27فساحت و بلاغت اور امور غیبیہ کے بیان کے سلسلے میں
08:31تحضی فرمائی گئی تھی
08:32فساحت و بلاغت اور امور غیبیہ کا بیان
08:35جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
08:37حدیث نبیہ میں ویسا نہیں ہے
08:39اس لئے حدیث کے سلسلے میں
08:41کوئی تحضی نہیں فرمائی گئی
08:43البتہ ہدایت میں
08:45قرآن و حدیث دونوں برابر ہیں
08:47لیکن یہ بات غلط ہے
08:48قرآن کریم نے اپنے متعلق
08:50ہدایت کے سسلے میں بھی
08:52اپنے دشمنوں کو تحضی
08:53یعنی چیلنج کی ہے
08:55چنانچہ سورة القصص میں
08:57اشاد الہی ہے
08:59قُلْ فَأْتُمُ بِكِتَابٍ مِّنْ عِلْدِ اللَّهِ
09:02وَأَهْدَى مِنْهُمَا أَتَّبِعَ
09:05اَتَّبِعُوا إِن كُنْتُمْ صَادِقِينَ
09:14اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے
09:16کہ اگر تم سچے ہو
09:18تو تورا تو قرآن سے زیادہ
09:19بہتر ہدایت کرنے والی
09:21کوئی کتاب خود بنا کر
09:22تو کیا لاؤگے خدا کے پاس
09:24سے ہی لیاو
09:25میں اس کا اتباہ کرلوں گا
09:28جہاں ہدایت ہی میں تحضی فرمائی
09:30جا رہی ہے لیکن اپنی
09:32کتبے روایت تو تحضی اور چیلنج
09:34عزت سے بچانے کے لئے
09:36ہمارے علماء کرام نے یہ قید لگائی ہے
09:38کہ تحضی فساعت و بلاغت میں ہے
09:40اور چونکہ حدیث نبی میں
09:42فساعت و بلاغت قرآن جیسی نہیں ہے
09:45اس لئے ان کے لئے
09:46تحضی بھی نہیں فرمائی گئی
09:48کوئی بھی منصف مزاج آدمی
09:50اس سے انکار نہیں کر سکتا
09:52کہ نری فساعت و بلاغت
09:54کلام کی ایک زینت تو ہے
09:56مگر ہدایت کی طرح دوسری
09:58چیز نہیں ہے
09:59پس اگر قرآن کریم نے اپنے متعلق
10:02ہدایت میں کوئی تحضی نہیں فرمائی
10:04تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے
10:06کہ قرآن کی مصر ہدایت
10:08کے اعتبار سے لے آنا
10:10کیا لوگوں کے لئے ممکن ہے
10:11اس طرح ماذا اللہ
10:14بلحاظ ہدایت قرآن کریم
10:16کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہے گی
10:19حالانکہ قرآن کریم
10:20تو ہدایت میں بھی تحضی فرما رہا ہے
10:22جیسا کہ سورة القصص کی آیت
10:25میں قرآن نئے تحضی کی ہے
10:26مگر یہ تحضی
10:28آدیث نبی کے سلسلے میں
10:36حضرات علماء کرام کے نزدیک
10:38آدیث نبیہ کے
10:39الفاظ و عبارات
10:41رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:43اپنے بشری طاقہ کی ہیں
10:45وہی الہی سے نہیں ہیں
10:47شکر ہے کہ اہد نبوت
10:49میں کچھ نہ کچھ رسول مقبول
10:51صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری
10:53عقل کا کام تسلیم تو کیا گیا
10:55جو مطلقاً وہی الہی سے
10:57نہیں تھا یہ ام
10:59روز روشن کی طرح واضح ہے
11:00کہ وہی کی اطاعت محض آقلانہ
11:03اور منتظمانہ ہی نہیں ہوتی
11:05بلکہ جس اطاعت کا
11:07ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے
11:08وہ قطن آبیدانہ اطاعت ہے
11:10اس کے لئے لازم ہے
11:11کہ وہی کو ممتاز کر کے
11:13اور علیہ دہ لکھ کر
11:14کتاب کی صورت میں
11:15ہمیں پہنچایا جائے
11:16جس کتاب میں ایسا ممتیاز نہیں رہے گا
11:19وہ ہمیشہ کے لئے مقصود نہیں ہوگی
11:21اور یہ بھی لازم ہے
11:23کہ جو وہی الہی
11:24ہمارے واسطے ہمیشہ کے لئے مقصود ہو
11:26حق تعالی خود ہی ضرور بھی ضرور
11:28اس کی حفاظت اور سیانت کی
11:30ذمہ داری بھی قبول فرمائے
11:32چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے
11:34وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلْ عَلَيْهِمْ ذِكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونَ
11:41لَوْمَا تَأْتِيْنَا بِالْمَلَائِكَةِ إِن كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
11:48مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَالُوا إِذًا مُنظَرِينَ
11:57آیت نمبر چھے سے آٹھ
11:59اور انہوں نے یعنی کفار قریش نے رسول مقبول کو مخاطب کر کے کہا
12:06اے وہ شخص جس پر یہ ذکر یعنی قرآن مجید اتارا گیا ہے
12:10تو تو یقیناً نیرا دیوانہ ہے
12:13اگر تو سچوں میں سے ہے کہ قرآن کے ساتھ سچمچ تجھ پر فرشتے اترتے ہیں
12:18تو کیوں فرشتوں کو سامنے نہیں لاتا
12:20اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے
12:25مگر ٹھیک طور پر
12:26اور اگر ٹھیک طور پر قانون کے مطابق ہم نے فرشتوں کو اتار دیا
12:30تو انہیں پھر تو ایک منٹ کی بھی محلت نہیں مل سکے گی
12:35اور سب جخلق طبعہ و برباد کر دیے جائیں گے
12:39پھر قرآن کریم کی صداقت کی کیا یہ کم دلیل ہے
12:43کہ مسلمانوں کی کمال کنزوری اور پکر کی بڑی شوقت و قوت
12:47اور ان کی انتہائی مخالفت کے وقت میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں
12:58صورت نمبر پندرہ آیت نمبر نو
13:01یقینا ہم جو خدا قادر مطلق ہیں
13:04ہی نے اس ذکر قرآن مجید کو نازل فرمایا ہے
13:08اور یقینا ہم ہی اس کے ضرور کی ضرور محافظ ہیں
13:12دیکھئے کس قدر تعقید اور زور کے ساتھ
13:15یہاں قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہے
13:18پھر حق تعالیٰ فرماتے ہیں
13:40سورت نمبر 41 آیت نمبر 41 اور 42
13:45یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس ذکر
13:47یعنی قرآن کے ساتھ کفر کیا
13:50جبکہ یہ ان کے پاس آیا ہے
13:52تو یہ لوگ اس ذکر کو دبا نہیں سکیں گے
13:55اور یقینا یہ ضرور نہ دبنے والی کتاب ہے
13:57جسے ہر حال میں غالب ہو کر رہنا ہے
14:00باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے
14:02یعنی بوقت نزول اس میں کوئی شیطان دخل نہیں ہو سکتا
14:06اور نہ اس کے پیچھے سے
14:08یعنی بات کو بھی کوئی اس میں دخل نہیں دے سکی گا
14:11اس کا اتارنا حکمت والے حمد والے خدا کی طرف سے ہے
14:15یہ ہے حکمت والے خدا کا خدائی ذمہ
14:18جس کو خود قرآن مجید میں ہی پیش کیا گیا ہے
14:21اب اگر حدیثیں بھی اس ذمہ میں داخل ہیں
14:24یا اگر قرآن مجید کی طرح باحفاظہ تمام
14:28ہم تک سب کی سب پہنچائی گئی ہیں
14:30تو ہماری طرف سے بحث کا خاتمہ ہے
14:32اس کے بعد ہمیں کچھ عرض کرنے کی گنجائش ہی نہیں
14:35لیکن کیا حدیثوں کا کوئی مجموعہ نبشتہ
14:40رسول و صحابہ ہے
14:42اگر آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام
14:45ارشادات بہینی ہم تک نہیں پہنچے
14:48اور جو پہنچے ان میں خود رسول اللہ کا
14:51یا آپ کے صحابہ کا کوئی نبشتہ موجود نہیں
14:54جو اہل اسلام کے ہاتھوں میں
14:56آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے
14:59آج تک متدابل چلا آ رہا ہو
15:01بلکہ وہ سب شہادت در شہادت در شہادت
15:05کہاں تک کہاں جائے
15:07بلکہ روایت در روایت در روایت کے طور پر
15:10یعنی انفلا انفلا انفلا کے طریقے سے آئی ہیں
15:14اور اس طرح وہ ذنی ہو گئی ہیں
15:16غریب و ضعیف ہو گئی ہیں
15:18بلکہ ان میں ترغیب و تحریز کے لیے
15:21جھوٹ کی آمیزش بھی خاص احتمام سے کی گئی ہے
15:24اور مختلف فرقوں نے اپنی اگراز کے لیے
15:27مختلف حدیثیں گھڑ بھی لی ہیں
15:29اور ان میں موضوع اور مختلف حدیثیں ہی نہیں
15:33بلکہ موضوع اور بناوٹی آیتیں بھی بنا کر شامل کی گئی ہیں
15:36جبکہ ساری باتیں ان حدیث کے بارے میں صحیح ہیں
15:40تو اس سے صاف کھل جاتا ہے
15:41کہ حق تعالیٰ نے حدیث کو اپنی اس حفاظت سے باہر رکھا ہے
15:45جو اس وحی کے لیے ضروری ہے
15:48جو ہمیشہ کے لیے مقصود ہو
15:50پس حدیثوں کو قرآن مجید کی طرح
15:52ہمیشہ کے لیے مقصود وحی کہنا بلکل ہی باطل ہے
15:56مطن حدیث یعنی وحی خفی کی صحت کا مدار عقل کے محتحت کیوں
16:02یہ ظاہر ہے کہ اس وقت مطن حدیث کی صحت و عدم صحت کا فیصلہ
16:08دیرائیت اور عقل کے محتحت کیا جاتا ہے
16:11چنانچہ مطن حدیث کو ہر شخص عقل و دیرائیت کے خلاف ثابت کر کے
16:16حدیث رسول ہونے سے انکار کر سکتا ہے
16:19اور بڑے بڑے محدثین نے اصول روایت دیرائیت کے محتحت
16:23بہت سے حدیثوں پر کلام کیا ہے
16:26اور ان کے حدیث نبی ہونے سے انکار کیا ہے
16:29لیکن قرآن مجید کے آیت کے مطلق کسی آیت کے بارے میں
16:33کسی بڑے سے بڑے محدث
16:34حتیٰ کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حق حاصل نہیں
16:39کہ وہ اس طریق سے اس پر کلام کر کے
16:41اس کے آیت قرآن ہونے کا انکار کر سکے
16:44اس سے واضح ہو جاتا ہے
16:46کہ روایت اور حدیث
16:47یا تو شروع سے ہی مقصود وحی نہیں تھی
16:50یا مطلقاً وحی نہیں تھی
16:52اگر وہ وحی تھی
16:53تو انہیں عقل اور دیرائیت کے محتحت کیوں رکھا گیا
16:58محدثین کی تحقیقات اور انتخابات پر انہیں کیوں چھوڑا
17:02حدیث میں راویوں کے اپنے شبہات
17:05حدیثوں میں خود راویوں کے اپنے شبہات بھی موجود ہیں
17:09کہ حضور نے یوں فرمایا تھا
17:11یا یوں فرمایا تھا
17:12بلکہ خود راوی ایک حدیث کو بڑے زور و شور کے ساتھ بیان کر کے
17:17آگے پہلی حدیث کے خلاف دوسری حدیث بیان کرتے ہیں
17:20حدیث کی ہر کتاب میں ایسی متضاد اور متخالف روایات ایک ہی باب میں مل سکتی ہیں
17:26لیکن قرآن کی کسی آیت کے متعلق راوی کے کسی ایسے شبہ
17:31یا انکار کی قطن کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی
17:34نہ آیات میں ایسا تضاد پیش کیا جا سکتا ہے
17:38حدیثوں کے متعلق لوگوں کو ایسے سوالوں کا بھی حق تھا
17:42کہ حضور جو کچھ فرما رہے ہیں
17:44وہ اپنی رائے سے فرما رہے ہیں یا وہی الہی سے استنباد فرما رہے ہیں
17:48ایسے سوالات پر آپ نے بعض مرتبہ فرما بھی دیا
17:52کہ نہیں بلکہ یہ محض میری اپنی رائے ہے
17:55اور پھر لوگ اس پر عمل بھی نہیں کیا کرتے تھے
17:58حدیث کے متعلق لوگوں کو ان کے خلاف رائے دینے کا بھی حق تھا
18:03کہ آپ ایسا نہ کیجئے
18:04اس سے نقصان ہوگا
18:06لوگ اس پر بھروسہ کر لیں گے
18:08اور عمل چھوڑ دیں گے
18:10اور آپ مان بھی لیتے تھے
18:12جیسے کہ مشکات کی حدیث ہے
18:14کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
18:17کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا
18:20وہ جنت میں داخل ہو جائے گا
18:21آپ نے ایک صحابی کو حکم دیا
18:24کہ اس کا اعلان کر دیں
18:26وہ اعلان کرنے چل دیئے
18:28حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث
18:31یعنی اعلان سنا
18:33تو بیان کرنے والے کو ایک تھپڑ رسید کیا
18:36اور پکر کر دربارے رسالت میں لے آئے
18:39اور تصدیق کے بعد عرض کیا کہ یہ آپ کیا فرما رہے ہیں
18:43اس طرح تو لوگ کلمہ پڑھنے پر بھروسہ کر کے عمل کرنا چھوڑ دیں گے
18:47تو آپ نے فرمایا
18:49اچھا لوگوں کو عمل کرنے دو
18:51کیا ماذا اللہ ماذا اللہ حدیثیں
18:53وہی خفی یا وہی غیر مطلب ہوا کرتی تھی
18:58اور آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
19:00حضرت عمر یا کسی کے کہنے سے
19:02وہی کی تبلیغ سے رب بھی جایا کرتے تھے
19:05آدیس ہی میں ہے کہ عبداللہ ابن ابی منافق کے جنازی کی نماز پڑھنے پر
19:10حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن آیت پیش کر کے اعتراض کیا گیا
19:15آجنا نے اس کی تفسیر اپنے خیال کے مطابق فرمائی
19:18لیکن حضرت عمر نے بحث کی
19:20اور آیت کی دوسری تفسیر فرمائی
19:22آخر وہی الہی نے حضرت عمر کے فہم کی تصدیق فرما دی
19:26اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر غلط نکلی
19:29یہ سب باتیں مولوی صاحبان کی مسلمہ صحیح حدیثیں ہی بتاتی ہیں
19:33اللہ بچائے حضرات علماء کرام کی ان صحیح حدیثوں سے
19:37ہم تو ان حدیث کو الزامی طور پر پیش کر رہے ہیں
19:41اگر یہ تمام حدیثیں سچی اور صحیح ہیں
19:44تو ہمارا مدعہ ثابت ہے
19:46کہ حدیثیں نہ وہی ہوتی تھی
19:48اور نہ وہ دین میں حجت ہوتی تھی
19:50وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بشری اور عقلی استحاد ہوا کرتی تھی
19:55جو بعض اوقات غلط بھی ہو جاتا تھا
19:57جیسا کہ ہر مشتہید کے اجتحاد میں غلطی کا احتمال ہوا ہی کرتا ہے
20:02اگر یہ سب حدیثیں جھوٹی اور غیر محفوظ ہیں
20:05تب بھی ہمارا مدعہ ثابت ہے
20:06کہ حق تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا کوئی ذمہ نہیں لیا
20:10لوگوں نے گھڑ گھڑ کر آپ کی طرف جھوٹی باتیں منصوب کر ڈالی
20:14لہٰذا ایسی باتوں کو دین میں حجت قرار دینا مشکل ہے
20:18حدیث کرتاس
20:19رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں جب وسیعت کرنے کا ضروری وقت ہوتا ہے
20:26بڑی تحقید کے ساتھ فرمایا
20:28کہ میرے پاس کوئی کتاب
20:30یعنی کاغس اور کلم دوار لاؤ
20:32میں تمہیں ایسی تحریر لکھوا دوں
20:35کہ تم اس کے بعد کبھی گمرا نہ ہو
20:37اس پر حضرت عمر نے کہا
20:39حضرت عمر نے کہا
20:39حضرت عمر نے کہا
20:41حضرت عمر نے کہا
20:41ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے
20:43اور وہ ہمارے لئے کافی ہے
20:45بخاری
20:46اس کے بعد حضرت عمر صلی اللہ علیہ وسلم پانچ روشتہ زندہ رہے
20:49مگر حضرت عمر کا بیان سننے کے بعد
20:52آپ نے قطن اس وسیعت کو لکھوانے کا ارادہ نہیں فرمایا
20:56جس سے صاف معلوم ہوتا ہے
20:58کہ حضرت عمر کا منشہ اسی وسیعت کو لکھوانے کا تھا
21:00جو حضرت عمر نے کہہ دی تھی
21:02چنانچہ حضرت عمر نے بغیر لکھوانے کے بھی جو وسیعت فرمائے
21:06وہ قرآن ہی کے متعلق تھی
21:08چنانچہ بخاری میں ہے
21:09اوہ صاحب بھی کتاب اللہ
21:11یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
21:14نے کتاب اللہ کی وسیعت فرمائی
21:16لیکن اگر کتاب اللہ کے علاوہ
21:18آپ کچھ اور لکھوانا چاہتے تھے
21:20اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ
21:21تعقیدی حکم وہی الہی سے تھا
21:24تو ضرور لکھوائے جاتا
21:25اور وہ آج ہمارے پاس موجود بھی ہوتا
21:28حضرت عمر منشہ الہی کو
21:30ہرگز ہرگز نہیں روک سکتے تھے
21:32وہی الہی کو لکھوانے سے
21:34حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
21:35ایک حضرت عمر تو کیا
21:37ہزار عمر رضی اللہ بھی نہیں روک سکتے تھے
21:41اگر کرتاس والا واقعہ صحیح ہے
21:43تو آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
21:45اپنی اس آخری وسیعت کو
21:47حضرت عمر کے مشورے کے بعد لکھوانے سے
21:49جقیناً اس لئے باز رہے
21:51کہ عمت کے پاس آپ کا کوئی
21:53نوشتہ پرانے کریم کے علاوہ
21:55اگر پایا جاتا
21:57تو بعد میں آنے والی عمت
21:58نہ جانے اسے کیا سے کیا بنا لیتی
22:01صحابہ رضوان اللہ علیہ مجمعین
22:03حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
22:05کی پوری طرح فرما بردار تھے
22:07اگر اس وسیعت نامے کا لکھوانا
22:09وحی کے ماتحت ہوتا
22:11اور حضور اسے لکھوانا چاہتے
22:13تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
22:16کو اس وسیعت کے لکھوانے سے
22:18کوئی نہیں روک سکتا تھا
22:19اگر ماذا اللہ ماذا اللہ
22:21صحابہ کی قسرت بے ایمان بھی ہو گئی ہوتی
22:24تب بھی وحی کے مطابق
22:26کسی وسیعت کو لکھوانے سے
22:27روکنا ممکن نہیں تھا
22:29جس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
22:31اپنے آپ کو امتہائی کنزور
22:33اور بے سر و سامان محسوس فرماتے تھے
22:36یعنی اقتداء اسلام میں
22:38اس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
22:40آپ کو وحی کے لکھوانے سے
22:41نہ روک سکے بلکہ خود دشمن
22:44اس بات کی گواہی دیتے تھے
22:46کہ آپ قرآن کو لکھواتے ہیں
22:49وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اَكْتَتَبَهَا
22:56صورت نمبر 25 آیت نمبر 5
22:59اور کفار و مشرقین کہتے ہیں
23:01کہ کچھ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
23:03جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ لی ہیں
23:06چنانچہ وہی صبح و شام
23:08اس کے پاس لکھوائی جاتی ہیں
23:11یہ خود دشمنوں کی شہادت ہے
23:13اور ظاہر ہے کہ دشمن
23:14اگر کسی بات کی شہادت دے
23:16تو وہ انتہائی وزنی ہوتی ہے
23:18تو جب کمزوری اور بے سر و سامانی
23:20کے زمانے میں کوئی آپ کو
23:22وہی کے لکھوانے سے نہ روک سکا
23:24تو اس وقت جبکہ اسلام
23:26کافی ترقی کر چکا تھا
23:28اور پرائیتن ناس
23:30یدخلون فی دین اللہ
23:31افواجہ کا منظر پیش ہو چکا تھا
23:34وہی کا لکھوانے سے
23:36روکنا کیسے ممکن ہو سکتا تھا
23:38حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
23:40کی حیات طیبہ میں
23:42قرآن مجید کے ساتھ ضرورتاً
23:44اور باتیں بھی لکھی جاتی تھی
23:45چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
23:47کے اردگرد کے چند بادشاہوں کے نام
23:50تبلیغی خطوط روانہ کیے
23:52اور ان میں صرف
23:53قرآن مجید کی آیت ہی سے
23:55تبلیغ کی گئی
23:56دوسری قوموں کے ساتھ جو معاہدے ہوتے تھے
23:59وہ بھی لکھے جاتے تھے
24:00لیکن حضور یہ نہیں چاہتے تھے
24:02کہ آپ کے بعد قرآن مجید کے ساتھ
24:04آپ کی کوئی اور تحریر
24:06مسلمانوں کے پاس موجود رہے
24:08آپ کو یہ اندیشہ تھا
24:09کہ اگر کوئی ایسی تحریر
24:11لوگوں کے پاس موجود ہوگی
24:13تو اسے لوگ متبرک خیال کرتے کرتے
24:15کہیں دوسری الہی کتاب
24:17اور حضور کو اللہ کے ساتھ
24:19دوسرا قاضی قرار نہ دے لیں
24:20یہ احتیاط بالکل حق بجانی تھی
24:23کیونکہ لوگوں نے تو
24:24روایتی اور زنی حدیثوں کو
24:26قرآن مجید کے ساتھ
24:27مسلمان قرار دے لینے میں
24:28دریغ نہیں کیا
24:30اور اس پر امت کو چلانے کے لیے
24:32رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
24:34کو قرآن مجید کے ساتھ
24:35ایک ہی کیفیت کا دوسرا قاضی بنا لیا ہے
24:38تو اگر رسول اللہ کی
24:40اصل تحریریں موجود ہوتیں
24:42تو ان کے ساتھ
24:43کیا کچھ نہ کرنے کا حق
24:44یہ لوگ پیدا کر لیتے
24:46ایسا قاضی سوائے خدا کے
24:48کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا
24:49اللہ تعالی سورہ مومن میں
24:51ارشاد فرماتا ہے
25:07صورت نمبر چالیس آیت نمبر بیس
25:10اللہ حق کے ساتھ قضا
25:11یعنی فیصلے کرتا ہے
25:13اور جن کو یہ لوگ
25:14اللہ کے سوائے پکارتے ہیں
25:16مسیح ہوں
25:17یا ازیر
25:18ملائکہ ہوں
25:19یا کوئی اور
25:20وہ کسی چیز کے ساتھ بھی
25:22قضا یعنی فیصلے نہیں کرتے
25:24یقیناً اللہ سننے والا
25:25اور دیکھنے والا ہے
25:26اس میں علمی
25:28عملی
25:29ہر طرح کی قضا شامل ہے
25:30پس جب وہی الہی
25:33اور اللہ کے دیگر
25:34فیلی تصرفات
25:35قضاء الہی سے ہیں
25:36اور ان میں خدا کے ساتھ
25:38کوئی شریک نہیں ہو سکتا
25:40تو خدا اور رسول
25:41دونوں کے کسی بات میں بھی
25:44ایک ہی طرح کے
25:45دو قاضی ہونے کا
25:46اعتقاد رکھنا
25:47سرطاقہ باطل ہے
25:48کیونکہ حق تعالیٰ کا
25:50کوئی شریک نہیں
25:51نہ ذات میں
25:52نہ صفات میں
25:53نہ حکم میں
25:54خدا کے شریک
25:56خدا کے بنائے ہوئے
25:57اور ٹھہرائے ہوئے
25:58بھی نہیں ہوتے
25:59یعنی خود
26:00حق تعالیٰ
26:01کسی نبی
26:02اور رسول
26:02تک کو بھی
26:03اپنا شریک نہیں ٹھہرادا
26:05جیسے کہ
26:06سورہ زخرف میں
26:07اشارت ہوا ہے
26:08اَجْعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آرِهَةً
26:12يُعْبَدُونَ
26:13سورة نمبر تیہتالیس آیت نمبر پہتالیس
26:16کیا ہم نے خود رحمان کے ساتھ اور عالی مقرر کر رکھے ہیں
26:22کہ لوگ ان کی عبادت بے چونچ رہا اطاعت کریں
26:25ہرگز نہیں
26:26قرآن کے سوا کچھ مت لکھو
26:29خود احادیث اس بات کی شاہد ہے
26:31کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موانیت فرمائی تھی
26:35کہ مجھ سے قرآن مجید کے سوا کچھ نہ لکھو
26:37اور جس نے کچھ لکھ لیا ہو
26:39تو لازم ہے کہ اسے مٹا ڈالے
26:42مسلم
26:42صحابہ نے اس پر پورا پورا عمل کیا
26:45اگر کسی نے کچھ لکھا تھا
26:47تو آخر جلا دیا
26:48حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ
26:51نے کسی دوسرے صحابی سے کوئی حدیث پوچھی
26:54اور اپنے آدمی کو لکھنے کا اشارہ کیا
26:56لیکن جب اس صحابی نے فرمایا
26:58کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
27:00نے ہمیں سوائے قرآن مجید کے حضور کی طرف سے
27:03کچھ لکھنے سے منع فرمایا ہے
27:05تو آپ نے اس لکھے ہوئے کو مٹا دیا
27:07ابو دعوت
27:08اب ظاہر ہے کہ
27:10اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
27:13کتابت حدیث کو
27:14ضروری سمجھتے تو ضرور
27:16اسے لکھوا کر ہم تک پہنچاتے
27:18اگر صحابہ کتابت حدیث کو
27:24میکن ہی نہیں تھا کہ مسلمان
27:25رسول خدا کے یا صحابہ کے
27:28نوستوں کو مٹانے کو جائز سمجھتے
27:30ضرور ان نوستوں کی قدر
27:32بخاری اور مسلم سے بدر جہا
27:34بڑھ کر ہوتی
27:36لوگوں کو ان نوستوں کے حدیثیں
27:38روایت در روایت یعنی
27:40انفلان انفلان کے طور پر
27:42نہ لینے پڑتی پس صحابہ کے
27:44کسی نوستے کا موجود نہ ہونا
27:46صاف بتلاتا ہے
27:48کہ انہوں نے حدیث کی تبلیغ کو
27:50صرف غیر ضروری ہی نہیں
27:52بلکہ جو کچھ ضرورتا لکھا
27:54گیا تھا اس کو بھی مٹا دیا
27:55نیز یاد رہے کہ صحابہ کو
27:58اپنی فتوحات کے زمانے میں رسول
28:00خدا کا کوئی والے نامہ
28:01یا اہد نامہ ملا ہوگا
28:03تو انہوں نے اس کو بھی باقی نہیں رکھا
28:05مسلمانوں کے باس رسول خدا
28:07کی امبوٹی کا نوستہ تک
28:09قائم نہیں رہا
28:10رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
28:13اردگرد کے سالاتین کے نام
28:15فتو تحریر فرمائے
28:16ان میں سے ایک خط
28:17کسی پادری کے پاس سے
28:19تھوڑے عرصہ ہوا ملا ہے
28:20اس کا فوٹو لے کر
28:21دنیا میں پھیل آیا گیا
28:22لیکن یہ عمر قابلہ غور ہے
28:24کہ مسلمان جن کے پاس
28:26رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
28:27کی تحریروں کا پایا جانا
28:29کرینے کے عرصہ
28:30وہ تو مطلقاً
28:31ان تحریروں سے خالی ہیں
28:33اگر کوئی تحریر مل بھی جاتی ہے
28:35وہ غیروں کے پاس سے ملتی ہے
28:37اس سے حدیث کے ساتھ
28:38صحابہ اکرام
28:39رضی اللہ علیہم
28:40اجمعین کی پوری
28:42بے اعتنائی کا
28:43ثبوت ملتا ہے
28:44خود حدیث کے بیان کے
28:45مطابق صحابہ کے زمانے میں
28:47ایک دوسرے سے حدیث سن کر
28:49اس کی تغلیظ
28:50بھی کی جاتی تھی
28:51قرآن کے خلاف پا کر
28:53اسے رد بھی کیا جاتا تھا
28:55بعض صحابہ نے
28:56دوسروں سے حدیث کا
28:58سننا ترک کر دیا تھا
28:59اس لیے کہ لوگ
29:00نرم و سکھ
29:01ہر راہ پر چلنے لگے تھے
29:03بعض نے خود
29:04روایت کرنا بھی چھوڑ دیا تھا
29:06تاکہ بے ضرورت
29:07غلط کر کے
29:08جہنم مول نہ لیں
29:09حضرت فاطمہ
29:10رضی اللہ تعالی عنہ
29:11حضب روایت
29:12حضرت ابو بکر سے
29:14حدیث سن کر
29:15غزبناک ہوئیں
29:16اور ان سے
29:16کلام کرنا ترک کر دیا
29:18جہاں تک کہ
29:19احکم الحاکمین کے پاس
29:20جا پہنچیں
29:21آپ کے جنازے پر
29:22حضرت ابو بکر
29:23کوئی نہیں بلایا گیا
29:24بلکہ رات تو
29:25چکے سے دفن کر دیا گیا
29:26یہ باتیں
29:27بخاری اور مسلم میں
29:28پائی جاتی ہیں
29:29جن کی صداقت
29:30کے وہ خود
29:31ذمہ دار ہیں
29:32عزر فیل
29:33بتر از فیل
29:35بعض حضرات
29:36بے نیازانہ طور پر
29:37فرما دیتے ہیں
29:38کہ حدیثیں
29:40لکھنے کی
29:40ممانعت
29:41اس لئے کی گئی تھی
29:42کہ کہیں
29:43حدیثیں قرآن
29:43مجید کے ساتھ
29:44مخلوط نہ ہو جائیں
29:45یہ ایک بہانہ ہے
29:47کیا ضرورتا
29:48اور باتیں
29:49نہیں لکھی جاتی تھی
29:50پھر کیا
29:51وہ قرآن
29:51مجید میں مل گئیں
29:52اگر حدیثوں
29:53کو بھی لکھنے کی
29:54ضرورت ہوتی
29:55تو کیا وہ بھی
29:56ضرورتا نہیں
29:57لکھی جا سکتی تھی
29:58معلوم ہوتا ہے
29:59کہ ہمارے علماء
30:00اکرام کے خیال میں
30:01قرآن مجید کی حفاظت
30:02کا ذمہ
30:03حق تعالیٰ نے
30:04مشروط طور پر لیا تھا
30:05کہ اگر حدیثیں
30:06لکھی گئیں
30:07تو پھر حق تعالیٰ
30:08قرآن عزیز کی
30:09حفاظت کا
30:10ذمہ دار نہیں ہوگا
30:11ماذا اللہ
30:12استغفراللہ
30:13ایسے بہانے بنانے پر
30:15عزرفیل
30:15بتر
30:16عزفیل
30:16کی مثال
30:17صادقاتی ہے
30:18اگر کتابت
30:20حدیث
30:20ضروری ہوتی
30:21تو اس کے لئے
30:22موضوع ترین
30:23زمانہ
30:24احضور
30:24اور صحابہ
30:25کا تھا
30:25صاحبان
30:27اگر
30:27احادیث کو
30:28لکھنا
30:28ضروری ہوتا
30:29تو ان کو
30:29لکھنا
30:30رسول اللہ
30:30صلی اللہ
30:31علیہ وسلم
30:32اور صحابہ
30:33کے وقت
30:33میں ہی
30:33زیادہ
30:34مناسب تھا
30:35مروضہ
30:35تاریخ
30:36اسلام کے
30:36مطابق
30:37حضرت عائشہ
30:38رضی اللہ
30:39تعالی
30:39عنہ
30:39اور حضرت
30:40علی
30:41قرم
30:41اللہ
30:41کی جنگ
30:42میں
30:44جمل
30:44کی جنگ
30:45میں
30:45دس ہزار
30:46صحابہ
30:46کا خون
30:47بہنے
30:47کی نزبت
30:48یہ کام
30:48نہائی
30:49ضروری
30:49تھا
30:49پھر حدیثوں
30:50کو
30:50اس وقت
30:51لکھے
30:51جانے سے
30:52حدیثوں
30:52کے
30:52ذنی
30:53ضعیف
30:53اور
30:53موضوع
30:54بننے
30:54کا
30:54بھی
30:54کوئی
30:55موقع
30:55نہ
30:55رہتا
30:56برقص
30:56اس کے
30:57حدیثوں
30:57کا
30:57زمانہ
30:58رسالت
30:58اور
30:58صحابہ
30:59کے
30:59بہت
30:59بات
30:59لکھا
31:00جانا
31:00بہت
31:01کچھ
31:01مذر
31:01نقصان
31:02دے
31:02اور
31:02نا
31:03اتفاقی
31:03کا
31:03موجب
31:04ہوا ہے
31:04لوگوں
31:05نے
31:05اپنی
31:05حدیثوں
31:06کے
31:06مجموعیں
31:06الگ
31:06الگ
31:07بنا
31:07لئے
31:07ہیں
31:07اور
31:08جب
31:08تک
31:08یہ
31:08مجموعیں
31:09بطور
31:09وحی
31:09کے
31:10سمجھے
31:10جائیں
31:10گے
31:10ان کو
31:11ماننے
31:11والے
31:27ان کی
31:27آر میں
31:27قرآن
31:28مجید
31:28کو
31:28فائدہ
31:29پہنچانے
31:29کے
31:29بجائے
31:30سخت
31:30نقصان
31:31پہنچانے
31:31کی
31:31بھی
31:31کوشش
31:32کی
31:32ہیں
31:32نئی
31:33نئی آیتیں
31:34بلکہ
31:34نئی
31:34نئی
31:35صورتیں
31:35بھی
31:35گھڑی
31:35گئی
31:36ہیں
31:36مگر
31:36شکر
31:37کریں
31:37کہ وہ
31:37مطن
31:38قرآن
31:38پر
31:38اثر
31:39انداز
31:39نہیں
31:39ہو
31:40سکی
31:40وہ
31:41صرف
31:41بخاری
31:42اور
31:42مسلم
31:42اور
31:42شیعوں
31:43کی
31:43کافی
31:43اور
31:44تیوری
31:44وغیرہ
31:45ہمار
31:45ہی
31:45میں
31:45بن
31:46پڑی
31:46ہیں
31:46خود
31:47بخاری
31:47شریف
31:48میں
31:48آیت
31:48رجم
31:49کا
31:49قرآن
31:49آیت
31:49ہونا
31:50مذکور
31:50ہے
31:50لیکن
31:51حفاظت
31:51خدا
31:52بندی
31:52سورة
31:52نمبر
31:53پندرہ
31:53آیت
31:53نمبر
31:54نو
31:54کے
31:54مطابق
31:54اسے
31:55قرآن
31:55کریم
31:56میں آج
31:56تک
31:56جگہ
31:56نہیں
31:57مل
31:57سکتی
31:57اس کے
31:58لائق
31:58بھی
31:59وہی
32:13یقیناً
32:13ان میں
32:14جھوٹ
32:14ملا
32:14ہوا
32:15بھی
32:15ہے
32:15بس
32:15وہ
32:16ہرگز
32:16ایسی
32:17نہیں
32:17ہو
32:17سکتی
32:17جو
32:18وقتی
32:18ضرورتوں
32:18کے
32:19علاوہ
32:19ہمیشہ
32:20کے
32:20لئے
32:20مقصود
32:20ہوں
32:20قیامت
32:21تک
32:21کے
32:21لئے
32:22مقصود
32:22تو
32:22صرف
32:23قرآن
32:23کریم
32:23ہی
32:24ہے
32:24کیا
32:25تقلید
32:25شخصی
32:26کا
32:26دروازہ
32:26خود
32:27رسول
32:27اکرم
32:27کھل
32:28سکتے
32:28تھے
32:29آن
32:43کو
32:43بطور
32:43شخصیت
32:44کے
32:44ہمیشہ
32:44کیلئے
32:45اصولی
32:45طور پر
32:46کوئی
32:46مزید
32:47اور
32:47عزمت
32:47و
32:47برطری
32:48یا
32:48خصوصیت
32:49دے دیں
32:49اور
32:50یوں
32:50انسانی
32:51تکلید
32:51کا
32:51دروازہ
32:52خود
32:52اپنے
32:52ہاتھ
32:53سے
32:53کھول
32:53جائیں
32:53اگر
32:54حضور
32:54صلی اللہ
32:55علیہ وسلم
32:55کی
32:55کوئی
32:56تحریر
32:56موجود
32:56ہوتی
32:57تو
32:57ضرور
32:57ہی
32:58اس کی
32:58تکلید
32:58تھی جاتی
32:59بلکہ
32:59اسے
33:00دوسری
33:00وحی
33:00قرار
33:01دیا
33:01جاتا
33:01اور
33:02آن
33:02حضور
33:02صلی اللہ
33:03علیہ وسلم
33:03کی
33:04حضور
33:04وحی
33:05وقتی
33:05اصلاح
33:06کو
33:06دائمی
33:07اصول
33:07بنا
33:07لیا
33:07جاتا
33:08اور
33:08یوں
33:08دوسری
33:09اقلوں
33:09سے
33:10حضور
33:10وحی
33:10لینے
33:11کی
33:11قدر
33:12اور
33:12ضرورت
33:12قلعدم
33:13ہو جاتی
33:13جیسا
33:14کہ آن
33:15حضور
33:15کی
33:15طرف
33:15منصوب
33:16محض
33:16حدیثوں
33:17کو
33:17وحی
33:18قرار
33:18دے
33:18لیا
33:19گیا
33:19ذاتی
33:20رجحانات
33:20اور
33:21وقتی
33:21اصلاحات
33:22کو
33:22دائمی
33:23اصول
33:23بنایا
33:23جا
33:24چکا
33:24ہے
33:24لیکن
33:25چونکہ
33:25ذاتی
33:26رجحانات
33:26اور
33:27اس
33:27دور
33:27کی
33:27وقتی
33:28اصلاحات
33:28ہمیشہ
33:29کیلئے
33:29زمانے
33:30کا
33:30ساتھ
33:30نہیں
33:31دے
33:31سکیں
33:31تو
33:32مسلمانوں
33:32نے
33:32اس
33:33طرح
33:33قرآن
33:33اور
33:34اسلام
33:34ہی
33:34کو
33:46کر کے
33:46یعنی
33:47وقتی
33:47اصلاحات
33:48کو
33:48ان کے
33:49صحیح
33:49مقام
33:50کے
33:50خلاف
33:50انہیں
33:51دوام
33:51دے
33:51کر
33:51یعنی
33:52احادیث
33:53مبارکہ
33:53کو
33:53محفوظ
33:54کر کے
33:54اپنے
33:55عمل
33:55سے
33:55یہ
33:56سکھانا
33:56نہیں
33:57چاہا
33:57تھا
33:57کہ
33:58کسی
33:58بشری
33:58اکل
33:59کو
33:59بلہ
34:00حاز
34:00اس کی
34:00شخصیت
34:01کے
34:01ہمیشہ
34:01کیلئے
34:02اصولی
34:02رنگ
34:03میں
34:03مزیت
34:03اور
34:04دینی
34:04تقدس
34:05دے
34:05لیا
34:05کرو
34:06امت
34:06نے
34:06جتنے
34:07نقصان
34:07اٹھائیں
34:08اپنے
34:08خیالات
34:09اور
34:09اخترات
34:09سے
34:10اٹھائیں
34:10رسول
34:11اللہ
34:11صلی اللہ
34:11کا
34:12ذمہ
34:12ان سے
34:13بلکل
34:13بری ہے
34:14حضور
34:14صلی اللہ
34:15نے
34:15ان
34:16احادیث
34:16کو
34:16صرف
34:17زبانی
34:17ہی
34:17رہنے
34:18دیا
34:18اور
34:18واضح
34:19کر
34:19دیا
34:19کہ
34:19یہ
34:20قرآن
34:20مجید
34:21کی طرح
34:21ہمیشہ
34:21کے
34:21لئے
34:22مقصود
34:22نہیں
34:22رسول
34:23اکرم
34:23نے
34:25قرآن
34:25مجید
34:26کو
34:26لکھ
34:26کر
34:26اور
34:27لکھوا
34:27کر
34:27دائمی
34:28اصول
34:28کی طرح
34:28ہمیں
34:29دیا
34:29ہم نے
34:33صورت
34:34نمبر
34:34انصر
34:35آیت
34:35نمبر
34:36سات
34:36رسول
34:37تمہیں
34:37جو کچھ
34:38دیں
34:38اسے
34:39لے لو
34:39کے
34:39حکم
34:40کے
34:40مطابق
34:40اسے
34:41پکڑ
34:41لیا
34:41لیکن
34:42اہل
34:42حدیث
34:43حضرات
34:43نے
34:46مجھ سے
34:47قرآن
34:47کی
34:51صورت
34:52نمبر
34:52انصر
34:53آیت
34:53نمبر
34:53سات
34:54جس سے
34:54آپ
34:55روک
34:55دیں
34:55اس سے
34:56رک جاؤ
34:56کے
34:56شلاف
34:57حدیثوں
34:58کا
34:58لکھوایا
34:58اور
34:58دائمی
34:59اصول
34:59بنا لیا
35:01دائمی
35:02کتاب
35:02کی
35:02زبان
35:03زندہ
35:03اور
35:04مبین
35:04ہونی
35:04چاہیے
35:05صاحبان
35:06اگر یہ
35:07ضروری
35:07ہے
35:07کہ حق
35:08تعالی
35:08لوگوں
35:08کی
35:09ہدایت
35:09کیلئے
35:09وحی
35:10بھیجیں
35:10اور
35:11اس
35:11وحی
35:12کو
35:18دنیا
35:18میں
35:18ضرور
35:19کوئی
35:19نہ
35:19کوئی
35:20کتاب
35:20اپنی
35:20اصل
35:21شکل
35:21میں
35:21موجود
35:22رہے
35:22پھر
35:22یہ
35:23بھی
35:23ضروری
35:23ہے
35:23کہ
35:24وہ
35:24کتاب
35:24اپنی
35:25خصوصیات
35:25کو
35:26خود
35:26ہی
35:26پیش
35:26کر
35:27کے
35:27اپنی
35:27شناک
35:28کرائے
35:28اور
35:28مقدم
35:29شناک
35:29یہ
35:30ہے
35:30کہ
35:30وہ
35:30اپنی
35:31زبان
35:31کا
35:31مبین
35:32ہونا
35:32دکھ
35:33لائے
35:33اور
35:33اپنی
35:33تعلیمات
35:34کے
35:34بے
35:34مثل
35:35اور
35:35بے
35:35نظیر
35:35ہونے
35:36اور
35:36اپنی
35:36حفاظت
35:37کی
35:37تحدی
35:38کرے
35:38الہامی
35:39کتاب
35:39کی
35:39زبان
35:40کے
35:40لیے
35:40اپنے
35:41مدعا
35:41کے
35:41اظہار
35:42میں
35:42مبین
35:42ہونے
35:43کی
35:43صفت
35:43صرف
35:44قرآن
35:44مجید
35:44کے
35:45ساتھ
35:45ہی
35:45خاص
35:45ہے
35:46دوسری
35:46الہامی
35:47کتاب
35:47کی
35:47زبان
35:48مردہ
35:48ہو
35:48چکی
35:49ہیں
35:49اور
35:49بعض
35:50کتابیں
35:50استیارہ
35:51در
36:04قرآن
36:05مجید
36:05ہی
36:05نے
36:05کیا
36:06ہے
36:06ایک
36:06امی
36:07کے
36:07ہاتھوں
36:07ایسے
36:08زمانے
36:08میں
36:09جبکہ
36:09چاروں
36:09طرف
36:10ظلمت
36:10ہی
36:10ظلمت
36:11چھائی
36:11ہوئی
36:11تھی
36:12حق
36:12تعالی
36:12نے
36:13ایسے
36:13ایسے
36:13بھید
36:14کھلے
36:14ہیں
36:14کہ
36:15علم
36:15اکل
36:15ارتقاء
36:16مدارش
36:17تہہ کرتے
36:17ہوئے
36:18جو جو
36:18آگے
36:19قدم
36:19بڑھاتے
36:20ہیں
36:20وہ
36:20قرآن
36:20کریم
36:21کے
36:21بیان
36:21کردہ
36:22اسرار
36:22کے
36:22قریب
36:23ہی
36:23آتے
36:23جاتے
36:24ہیں
36:24تنوریهم
36:25آیاتنا
36:26فی
36:26الہافاق
36:27وفی
36:29انفسهم
36:30حتی
36:31یتبین
36:32لہم
36:32انہو
36:34الحق
36:34صورت
36:36نمبر
36:36اکتالیس
36:36آیت
36:37نمبر
36:37ترہ پن
36:38ہم انہیں
36:39آفاق میں
36:40اور خود ان کے
36:41نفسوں میں
36:42اب نشانیاں
36:43دکھاتے
36:43چلے جائیں گے
36:44حتیٰ کہ ان پر
36:45واضح ہو جائے گا
36:46کہ قرآن
37:16ہی حق ہے
37:46موسیقی
37:47موسیقی
Comments

Recommended