00:00کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک بہت ہی انصاف پسند اور مہربان بادشاہ رہا کرتا تھا
00:05اس کے تین بیٹے تھے
00:06بادشاہ جب بڑھا ہونے لگا تو اس نے اپنے سب سے قابل وزیر کو بلایا
00:10اور کہا کہ وہ اپنی بادشاہت اپنے تین بیٹوں میں سے کسی ایک کے سپرد کرنا چاہتا ہے
00:16پر اس سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا
00:18وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت اس مسئلے کا ایک آسان سا حل ہے
00:22یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور رحمہ تنگوش ہو گیا
00:26وزیر نے صلاح دی کہ گندم کی ایک ایک بوری تینوں بیٹوں کو دے دیں
00:31اور ان سے کہہ دیں کہ آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں
00:35اور تین سال بعد واپس آئیں گے
00:37جب تک امانت سمجھ کر گندم کی حفاظت کریں
00:40واپسی پر آپ خود جان جائیں گے کہ کون سا شہزادہ تاجو تخت کے قابل ہے
00:45بادشاہ کو اپنے وزیر کی تجویز بہت اچھی لگی
00:48اور اس نے وہی کیا جیسا اس نے کہا تھا
00:51بادشاہ کے جانے کے بعد تینوں بیٹے گندم کی ایک ایک بوری کے ساتھ سوچ میں پڑ گئے
00:57کہ اب کیا ایسا کریں کہ بابا کو بحفاظت گندم واپس کر سکیں
01:02چنانچہ بڑے بیٹے نے گندم کو محل کی تجوری نمہ علماری میں رکھ کر تالہ لگا دیا
01:07اور سکھ کا سانس لیا کہ ایک ایک دانہ اسی طرح سے واپس کر دے گا جیسا اسے دیا گیا
01:14تھا
01:14دوسرے بیٹے نے گندم کو ایک خالی کھیت میں جہاں خاردار جھاڑیاں اور گھاس اگی ہوئی تھی وہاں ڈال دیا
01:21تاکہ محفوظ رہے اور اگتی بھی رہے
01:24تیسرے بیٹے نے سوچا کہ پورے تین سال بعد گندم واپس کرنی ہے
01:29اس لیے بہتر ہے کہ اس کی کاشت کی جائے
01:32اس نے اچھی سی زمین دیکھ کر پہلے جھاڑ جھنکار نکالا
01:36مٹی کن کر چن چن کر نکالے
01:39طریقے سلیکے سے زمین کو نرم کیا
01:41اور بڑی محنت سے گندم بو دی
01:44دن رات سوچتا کہ بابا جب آئیں گے
01:47تو لہلہاتی کھل کھلاتی جھومتی ہوئی گندم کے خوشبو سے مل کر
01:51کتنا خوش ہو جائیں گے
01:53تین برس گزر گئے
01:54بادشاہ سفر سے لوٹ آیا
01:56اس نے گندم کی بابت اپنے بیٹوں سے پوچھا
01:59بڑے بیٹے نے بڑے فخر سے تجوری نمہ علماری کا تالہ کھولا
02:03اور شرمندہ ہو گیا
02:04پوری گندم سڑ کر کالی مٹی ہو چکی تھی
02:08بادشاہ کو بہت رنج ہوا
02:10اور دوسرے بیٹے کی طرف متوجہ ہوا
02:12وہ اسے اس کھیت کی طرف لے چلا
02:14جہاں اس نے گندم ڈالی تھی
02:16جب وہ وہاں پہنچا
02:18تو دیکھا کہ کھیت میں کہیں کہیں کمزور سے گندم کے پودے تھے
02:23جنہیں جھاڑ جھنکار نے بڑھنے ہی نہ دیا تھا
02:26وہ شرمندگی سے اپنے بابا کو دیکھ رہا تھا
02:29کہ گندم کا ایک دانہ بھی واپس نہ لوٹا سکا
02:32مایوس اور افسردہ بادشاہ تیسرے بیٹے کے پاس پہنچا
02:36وہ خوشی خوشی اپنے بابا کو کھیت کی طرف لے چلا
02:39جہاں دور تک گندم کے سنہرے خوشے
02:42قطار در قطار لہلہ آ رہے تھے
02:45فضا خوشبو سے مہک رہی تھی
02:47بادشاہ کی آنکھوں میں خوشی سے آنسوں آ کے
02:50بیٹے کو گلے لگا کر شاباش دی
02:52کھیت کے کنارے بادشاہ بہت محبت سے
02:55اپنے بیٹوں سے مخاطب تھا
02:57خدا ہم انسانوں کو بھی گندم کی طرح
02:59کچھ بیج دے کر دنیا میں بھیجتا ہے
03:02پھر وہ ہمارا انتظار کرتا ہے
03:04کہ ہم واپسی پر اس کے دیئے بیج
03:06کس حالت میں واپس لاتے ہیں
03:08سنو ہم زمین کی طرح ہوتے ہیں
03:11جو سخت پتھری لی ہو
03:13تو خدا کے دیئے ہوئے بیج سڑ کر
03:15کالی مٹی جیسے ہو جائیں گے
03:17بیج کی پرورش کے لیے
03:18صاف سترا جھاڑ جھنکار سے پاک ہونا
03:21بہت ضروری ہے
03:22اور جو شخص بیج کی نموں کے لیے
03:25خود کو نرم رکھتا ہے
03:26خدا کے دیئے ہوئے بیج وہیں باراور ہوتے ہیں
03:29اس کے اطراف رحمتوں کی بارشیں ہوتی ہیں
03:32بارشوں کے بعد انسان
03:34کسی جنگل کی طرح اندر
03:35باہر سے ہرا بھرا خوشبودار
03:38اور مخلوق کی قرارگاہ
03:40ہو جاتا ہے
03:40سوچو کہ ایسا انسان جب تین گناہ
03:43زیادہ بیج لیے خدا کے پاس پہنچے گا
03:46تو وہ کتنا خوش ہو گا
03:47دوسرے دن بادشاہ نے
03:49بھرے دربار میں
03:50تاج اپنے سر سے اتار کر
03:52اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے سر پر
03:54رکھ دیا
03:55اور اسی طرح
03:56نئے بادشاہ کا
03:58اعلان ہو گیا
03:59دوسرے دوسرے دوسرے دوسرے دوسرے pictures
Comments