Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Jaisi Awam Waisa Hukmran

Category

📚
Learning
Transcript
00:00A evil one came down, because of his world is a strong soul,
00:02a devilần ever came out.
00:04A evil one came out to give us a desire,
00:07and a evil one came before,
00:10and a man came out to work on his own.
00:11A evil way that didn't live in the world was DOING.
00:19That's disappointing,
00:19that he sat down at night.
00:19I am a beautiful man who was not able to help.
00:22I am a beautiful and beautiful person.
00:23And if you don't want to have a sacrifice,
00:26but if you make a special dress,
00:28तो मेरी जिन्दगी का हर सांस, भूके और नंगे इनसानों की खिदमत के लिए वक्फ होगा।
00:34मैं यतीमों, बेवाओं और नादार लोगों की सरपरस्थी करूंगा।
00:38मैं मुधाजों के लिए लंगरखाने खोलूंगा।
00:41میں عدل و انصاف کا بول بالا کروں گا
00:43رشوت خور اور بددیانت اہلکاروں کو عبرتناک سزائیں دوں گا
00:47مظلوم مجھے اپنی ڈھال سمجھیں گے
00:50اور ظالم میرے نام سے کامپیں گے
00:52میں نیکی اور بھلائی کو پروان چڑھاؤں گا
00:54کمسن چیلے کو پکا یقین تھا
00:56کہ کسی دن مرشد کی دعا ضرور سنی جائے گی
00:59لیکن وقت گزرتا گیا
01:01چیلہ جوان ہو گیا
01:02اور نیک دل درویش پر بڑھاپا آنے لگا
01:05آہستہ آہستہ چیلے کے یقین میں فرق آنے لگا
01:09یہاں تک کہ جب درویش دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا
01:12تو وہ اس کے قریب بیٹھنے کی بجائے
01:14چند قدم دور بیٹھتا
01:15اور دبی زبان سے یہ دعا شروع کر دیتا
01:19کہ اے میرے پروردگار
01:21اب میرا مرشد بڑھا ہو چکا ہے
01:23اس کے بال سفید ہو چکے ہیں
01:25دانت جھڑ چکے ہیں
01:26اور بینہ ہی جواب دے چکی ہے
01:28اب وہ مجھے تخت کی بجائے
01:30قبر سے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے
01:32اگر تجھے ایک نیک دل آدمی
01:35کا بادشاہ بننا پسند نہیں
01:36تو مجھے بادشاہ بنا دے
01:38میں یہ اہد کرتا ہوں
01:40کہ میرا ہر کام اپنے مرشد کی خواہشات
01:42کے الٹ ہوگا
01:43میں صدق دل سے اہد کرتا ہوں
01:45کہ میں ناداروں کو زیادہ نادار
01:48اور بے بسوں کو زیادہ بے بس
01:50اور مظلوموں کو زیادہ مظلوم
01:52بنانے کی کوشش کروں گا
01:53میں چوروں اور ڈاکوں کی سرپرستی کروں گا
01:56میں شریف لوگوں کو زلیل کروں گا
01:58اور زلیلوں کو عزت کی کرسیوں پر
02:00بٹھا دوں گا
02:01میں رشوت خور اور بددیانت اہلکاروں کی
02:04سرپرستی کروں گا
02:05ابتدا میں یہ ہوشیار چیلا چھپ چھپ کر
02:07دعائیں کرتا تھا
02:08لیکن آہستہ آہستہ اس کا حوصلہ بڑھتا گیا
02:11اور کچھ عرصے کے بعد اس کی یہ حالت تھی
02:14کہ جب مرشد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا
02:16تو وہ بھی اس کے قریب بیٹھ کر
02:18بلند آواز میں اپنی دعا دھورانا شروع کر دیتا
02:21درویش اپنی آنکھوں میں آنسوں بھر کر کہتا
02:24کہ اگر بادشاہ بن جاؤں
02:25تو عدل و انصاف نیکی اور سچائی کا بول بالا کروں
02:29اور چیلا کہکہ لگا کر کہتا
02:31کہ اگر میں بادشاہ بن جاؤں
02:33تو ظلم اور بدی کا جھنڈا بلند کروں
02:35درویش کہتا
02:36کہ میرے خزانے سے معذور اور نادار لوگوں کو وظائف ملیں گے
02:40اور چیلا کہتا
02:42کہ میں ان پر سخت جرمانے لگاؤں گا
02:44درویش اسے ڈانٹتا اور کبھی کبھی ڈنڈا اٹھا کر پیٹنا شروع کر دیتا
02:49لیکن چیلا اپنی آجزی کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹا رہا
02:53پھر وہی ہوا جو پرانے وقتوں میں ہوتا تھا
02:56یعنی ملک کا بادشاہ فوت ہو گیا
02:58اور تخت کے دعوے دار ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکال کر میدان میں آ گئے
03:03دور اندیش وزیر نے راتوں رات تمام عہدداروں کو جمع کر کے یہ تجویز دی
03:09کہ ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی ایک ہی صورت ہے
03:12کہ شہر کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں
03:15اور صبح صویرے باہر سے جو آدمی سب سے پہلے مشرقی دروازے پر دستک دے
03:20اسے بادشاہ تسلیم کر لیا جائے
03:22یہ تجویز سب نے مان لی
03:24پھر یہ ہوا کہ نیک دل درویش کا چیلا
03:26بھیک مانگنے کے لیے کسی ہی چھوٹی بستی کی بجائے
03:29ملک کے دار الحکومت کی طرف جا نکلا
03:32صبح ہوتے ہی اس نے شہر کے مشرقی دروازے پر دستک دی
03:36پہرے داروں نے دروازہ کھول کر اسے سلامی دی
03:38اور عمرہ اسے ایک جلوس کی شکل میں شاہی محل لے گئے
03:42نئے بادشاہ نے تخت پر بیٹھتے ہی یہ حکم دیا
03:45کہ میری سلطنت میں جتنے درویش فقیر اور سادو ہیں
03:49انہیں فوراں گرفتار کر لیا جائے
03:52اس حکم پر عمل ہوا
03:53لیکن خوش قسمتی سے نئے بادشاہ کے مرشد کو پہلے ہی پتا چل گیا تھا
03:58کہ اس کے ہوشار چیلے کی دعا قبول ہو گئی ہے
04:01چنانچہ وہ سرد پار کر کے کسی دوسرے ملک میں چلا گیا
04:05اس کے بعد جو ہوا وہ کسی تشریح کا معتاج نہیں
04:08نئے بادشاہ نے اپنی دیانت داری کے ساتھ
04:11اپنے تمام برے وعدے پورے کیے
04:13نہروں کا پانی بند کر دیا
04:15کوئیں اور تالاب گندگی سے بھر دئیے گئے
04:18چوروں اور ڈاکوں کو جیلوں سے نکال کر حکومت کا کاروبار سوپ دیا گیا
04:22نیک اور خدا پرست انسانوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی
04:26غرض ان دانشمندوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملتی تھی
04:29جنہوں نے ایک بھیکاری کو تخت پر بیٹھا دیکھا تھا
04:33جب نئے بادشاہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے
04:35تو عوام کے لیڈروں نے اس کے خاندان کا پتہ لگانے کی ضرورت محسوس کی
04:40سابق وزیر آزم کی قیادت میں
04:42ایک وفد کافی تلاش کے بعد
04:44بادشاہ کے مرشد یعنی درویش کی خدمت میں حاضر ہوا
04:48اور فریاد کی کہ خدا کے لیے ہمیں اس مصیبت سے نجات دلائیے
04:52بڑھا درویش اپنے چیلے کے سامنے جانے سے ڈرتا تھا
04:55لیکن لوگوں کی آہو بکا دیکھ کر وہ یہ خطرہ مول لینے پر تیار ہو گیا
05:00جب وہ دربار میں حاضر ہوا
05:02تو بادشاہ کو اپنے پیرو مرشد کو دیکھتے ہی اپنا ماضی یاد آ گیا
05:06اور اس نے کچھ مرعوب ہو کر کہا
05:08کہ پیرو مرشد فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں
05:12درویش نے جواب دیا
05:14کہ میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا
05:16میں صرف تمہاری رعایہ کے لیے رحم کی اپیل کرنے آیا ہوں
05:19تم اقتدار کے نشے میں وہ زمانہ بھول گئے
05:22جب بھیک مانگا کرتے تھے
05:24خدا سے ڈرو یہ سب ختم ہونے والا ہے
05:26اگر ہو سکے تو موت سے پہلے کوئی نیک کام کر لو
05:29بادشاہ نے تلخ ہو کر جواب دیا
05:31کہ دیکھئے قبلہ آپ میری برداشت کا امتحان نہ لیں
05:35یہ آپ کی خوش قسمتی ہے
05:37کہ آپ میرے مرشد ہیں
05:38اور میں آپ پر ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراتا ہوں
05:40آپ مجھے جی بھر کر گالیاں دے سکتے ہیں
05:42لیکن خدا کے لیے ان لوگوں کے ساتھ
05:45کسی نیکی کا مشورہ نہ دیں
05:46آپ کو یاد ہے
05:47کہ ہم دونوں ایک ہی وقت میں دعا مانگا کرتے تھے
05:50پھر کیا وجہ ہے
05:51کہ آپ کی دعا قبول نہ ہوئی
05:53اور قدرت نے مجھے بادشاہ بنا دیا
05:55اگر ان لوگوں کے آمال ٹھیک ہوتے
05:58اور قدرت کو ان کی بھلائی منظور ہوتی
06:00تو آپ ان کے بادشاہ بنتے
06:02لیکن یہ بدبخت تھے
06:04انہیں اچھے برے کی تمیز نہ تھی
06:05اور قدرت نے ان کی بدعامالیوں کی سزا دینے کے لیے
06:09مجھے بادشاہ بنا دیا
06:10اب میں مرتے دم تک اپنا پروگرام پورا کرتا رہوں گا
06:13اگر قدرت کو ان کی فریاد پر رحم آ جائے
06:16اور میری زندگی کے دن پورے ہو جائیں
06:18تو اور بات ہے
06:19ورنہ میری طرف سے کوئی کم ہی نہیں ہوگی
06:22نیک دل درویش نے جواب دیا
06:24برخوردار تم بالکل ٹھیک کہتے ہو
06:27اگر یہ لوگ قدرت کی طرف سے
06:32عمر بھر کی دعائیں ضائع نہ جاتی
06:34یہ لوگ جنہوں نے میرے بجائے
06:36تمہارے سر پر تاج رکھ دیا ہے
06:38اس قابل نہیں کہ ان پر رحم کیا جائے
06:40تم شوق سے اپنا کام جاری رکھو
06:43دوستو کیسی لگی یہ کہانی
06:45ضرور بتائیے گا
Comments