00:00سیحان علیف کے گھر پہنچتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ اورنگ زیب سے محبت کرتی ہے
00:05جس پر علیف بتاتی ہے کہ اس کی امی مریم چاہتی ہے کہ اس کی شادی ڈاکٹر اورنگ زیب سے
00:11ہو یہ سن کر سیحان کی ہوش اڑ جاتے ہیں سیحان گھبرایا ہوا سیدھا اپنے گھر آتا ہے اور اپنے
00:18اببو غازی یوسف سے پوچھتا ہے بابا اگر کسی لڑکی کے پاس دو چوائس ہوں ایک میرے جیسا لڑکا اور
00:24دوسرا ایک ڈاکٹر تو وہ کسے چنے گی
00:26غازی یوسف حصے اور غرور سے کہتا ہے اس دنیا میں ایسی کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی جو میرے
00:33سیحان سے شادی کرنے سے انکار کر دے مجھے اس لڑکی کا نام بتاؤ لیکن سیحان انہیں کچھ نہیں بتاتا
00:39اور چپ چاپ وہاں سے چلا جاتا ہے اگلے دن سیحان خود چل کر علیف کے گھر جاتا ہے اور
00:44دکھ سے پوچھتا ہے علیف سچ بتاؤ کیا تم بھی اورنگ زیب سے محبت کرتی ہو جس پر علیف نظرے
00:50جھکا کر بتاتی ہے میری امی مریم کی یہ آخری خواہش تھی
00:54کہ ہم دونوں کی شادی ہو جائے میں نے محبت کے بارے میں تو نہیں سوچا لیکن میں ہر حال
00:59میں شادی اسی سے کروں گی اگلے ہی دن ایک بہت بڑا جھٹکا لگتا ہے اورنگ زیب اپنی گاڑی پر
01:05جسٹ میریڈ لکھوا کر اور اسے پھولوں اور غباروں سے سجا کر علیف کو کال کرتا ہے علیف آج بہت
01:12سپیشل دن ہے جلدی تیار ہو کر باہر آ جاؤ جیسے ہی علیف اپنے گھر سے باہر آتی ہے وہ
01:17اورنگ زیب کی سجی ہوئی گاڑی دیکھ کر حیران دہ ج
01:20جاتی ہے تب ہی اورنگ زیب اس کے پاس آتا ہے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑتا ہے
01:25اور اسے رنگ دکھا کر پروپوس کر دیتا ہے علیف میں نے ساری زندگی تم سے محبت کی ہے اور
01:31ہمیشہ کروں گا علیف مسکراتی ہے اور اپنا ہاتھ آگے کر کے وہ انگوٹھی پہن لیتی ہے اچانک سیحان اپنا
01:38موبائل چیک کرتا ہے تو انسٹاگرام پر اورنگ زیب اور علیف کی انگیجمنٹ کی تصویر دیکھ لیتا ہے یہ تصویر
01:44دیکھتے ہی سیان کی دنیا اجر جاتی ہے
01:47اور اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں وہ گصے اور دکھ میں پاگل ہو کر اپنی گاڑی توفانی رفتار سے
01:53سڑک پر بھگاتا ہے راستے میں وہ علیف کی محبت اور اس کی باتوں کو یاد کر رہا ہوتا ہے
01:58کہ اسی وقت اس کی گاڑی کا ایک خوفناک ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے سیان خون میں لکپت زمین پر گر
02:05جاتا ہے
02:05اتفاق سے پیچھے سے اورنگ زیب اپنی گاڑی میں وہاں سے گزر رہا ہوتا ہے جیسے ہی وہ سیہاں کو
02:11اس حال میں دیکھتا ہے وہ اسی وقت سیہاں کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں ڈالتا ہے اور فوراں ہاسپٹل
02:17لے کر بھاگتا ہے ہاسپٹل میں علیف ڈیوٹی پر ہوتی ہے جیسے ہی وہ سیہاں کی ایسی موت والی حالت
02:23دیکھتی ہے اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں وہ روتی ہوئی فوراں اس کا علاج شروع کرتی ہے اور تب
02:28ہی غازی یوسف کو کال کر کے بتات
02:30ہے کہ سیہاں کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے یہ جاننے کے بعد غازی یوسف غصے میں پاگل ہو جاتا ہے
02:36اور اسی وقت ذکریہ کے ساتھ ہسپٹل پہنستا ہے غازی یوسف ڈاکٹر کا گریبان پکڑ کر چلاتا ہے کچھ بھی
02:43ہو جائے لیکن میرے سیہاں کو کچھ نہیں ہونا چاہیے پیچھے سے ڈاکٹر باہر آ کر بتاتی ہے پیشن کی
02:49جان بہت خطرے میں ہے وہ سیدھا کومہ میں چلے گئے ہیں یہ سننے کے بعد علف بھاگ کر سیہاں
02:54کے کمرے میں جاتی ہے اور روتے ہوئے
02:56اس کا علاج کرتی ہے اچانک ایک چمتکار ہوتا ہے اور سیہاں کو ہوش آ جاتا ہے لیکن جیسے ہی
03:02وہ آنکھیں کھولتا ہے علف کو پاس دیکھ کر بولتا ہے تم کون ہو کیوں آئی ہو تب ہی ڈاکٹر
03:07چیک کر کے بتاتی ہے کہ سیہاں اپنی یادداشت پوری طرح بھول چکا ہے ڈاکٹر غازی یوسف کو بتاتی ہے
03:13کہ ان کی یادداشت واپس لانے کے لیے اب آپ کو انہیں فوراں ترکی لے کر جانا ہوگا دوستو آپ
03:19کو کیا لگتا ہے کیا ترکی جا کر سیہاں کی یادداشت
03:23اور اگر آپ سیہاں اور علف کو ایک ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو ہمارے
03:29چینل کو لائک شیئر اور سبسکرائب کرنا ہوگا یہ ہماری پریڈکشن ہے جو صرف انٹرٹینمنٹ پرپس کے لیے بنائی گئی
03:35ہے اور غلط بھی ہو سکتی ہے
Comments