00:00غازی یوسف اپنے بندے ذکریہ کو بلاتا ہے اور غصے سے چلاتا ہے
00:04اب پاور کا استعمال کرنے کا وقت آ گیا ہے
00:06کتنے بھی پیسے لگیں
00:07اس ریسٹورنٹ کے فیک ٹیپرز بنواؤ
00:09ہر حال میں مجھے وہ جگہ چاہیے
00:10اگلے ہی دن ذکریہ فیک پیپرز تیار کروا کر غازی یوسف کو دے دیتا ہے
00:14اچانک اگلے دن غازی یوسف پوری پولس فوس لے کر ریسٹورنٹ پہنچ جاتا ہے
00:19اور زبردستی مریم کو باہر نکال کر ریسٹورنٹ خالی کروا لیتا ہے
00:22اپنی زندگی بھر کی محنت کو یوں اجڑتا دیکھ کر
00:25مریم یہ صدمہ برداشت نہیں کر پاتی
00:27اچانک ان کے سینے میں شدید درد ہوتا ہے
00:29ایلیف روتی ہوئی انہیں فوراں ہاسپٹل لے کر بھاگتی ہے
00:32لیکن وہاں پہنچتے ہی پتا چلتا ہے
00:34کہ ٹینشن کی وجہ سے ان کا ہارٹ فیل ہو گیا ہے
00:36وہیں بیڈ پر تڑپ کر ان کی موت ہو جاتی ہے
00:39تبھی سیان کو جب مریم کی موت کی خبر ملتی ہے
00:41تو وہ بھاگتا ہوا ہاسپٹل پہنچتا ہے
00:43لیکن تب تک ان کی تدفین کر دی جاتی ہے
00:45قبرستان پہنچ کر اپنی امی کی قبر کے پاس
00:48ایلیف آنکھوں میں خون لیے یہ ٹھان لیتی ہے
00:50کہ جس نے بھی یہ کیا ہے
00:51وہ اس سے چن چن کر بدلہ لے گی
00:53تبھی اسے پتا چلتا ہے
00:54کہ یہ سب سیان کے اببو غازی یوسف کا کیا دھرا ہے
00:57بدلہ لینے کے لیے ایلیف ایک بہت خوفناک چال چلتی ہے
01:00اور سیان کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھسا لیتی ہے
01:04وہ آہستہ آہستہ سیان کو اپنے ہی باپ کے خلاف کر دیتی ہے
01:07جن جن مظلوم لوگوں کے ساتھ غازی یوسف برا کرتا ہے
01:10ایلیف سیان سے کہہ کر ان سب کا بھلا کروا دیتی ہے
01:13اور غازی کا بزنس تباہ ہونے لگتا ہے
01:15ایک دن سیان ایلیف کو ایک شاندار ریسٹورنٹ میں لے کر جاتا ہے
01:18وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے پھول دیتا ہے
01:20اور کہتا ہے میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں
01:23اور تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں
01:25لیکن تب ہی ایلیف زور سے ہستی ہے
01:27اور صاف انکار کرتے ہوئے کہتی ہے
01:29میں نے تو یہ سب کچھ تم سے اور تمہارے ظالم باپ غازی یوسف سے
01:32اپنی امی مریم کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کیا تھا
01:35یہ جاننے کے بعد سیان کے ہوش اڑ جاتے ہیں
01:37وہ تڑپ کر کہتا ہے
01:38تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی ایلیف
01:40لیکن ایلیف اسے وہیں روتا چھوڑ کر چلی جاتی ہے
01:43سیان ٹوٹا ہوا گھر آتا ہے
01:45اور روتے ہوئے غازی یوسف کو بتاتا ہے
01:47ایلیف نے مجھے دھوکہ دیا ہے
01:48لیکن میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا
01:50یہ سن کر غازی یوسف آگ ببولہ ہو جاتا ہے
01:52اگلے دن غازی یوسف ایلیف کے پاس جاتا ہے
01:55اور کہتا ہے
01:55تم نے جو کیا ہے
01:56اس کی تمہیں بہت بھیانک سزا ملے گی
02:09گاڑی کے پر خچے اڑ جاتے ہیں
02:11اور ایلیف کی وہیں بے دردی سے موت ہو جاتی ہے
02:13جیسے ہی سیان کو ایلیف کی موت کا پتا چلتا ہے
02:16وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے
02:18اور منٹلی طور پر پاگل ہو جاتا ہے
02:20اسی وقت اسے منٹل ہسپٹل میں ایڈمٹ کروا دیا جاتا ہے
02:23کچھ وقت بعد جب اس کی حالت تھوڑی بہتر ہوتی ہے
02:25تو وہ اپنی اس دردناک محبت کو بھولانے کے لیے
02:28امریکہ چلا جاتا ہے
02:29لیکن وہاں سڑک پر چلتے ہوئے
02:31اچانک اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑتی ہے
02:33وہ بلکل ایلیف کی ہمشکل الہام ہوتی ہے
02:35یہ دیکھنے کے بعد سیان کے ہوش اڑ جاتے ہیں
02:38وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس جاتا ہے
02:40اور روتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے
02:42ایلیف لیکن وہ غصے میں اپنا ہاتھ چھڑاتی ہے
02:44اور ایک زوردار تھپر سیان کے موہ پر مارتی ہے
02:47تھپر کی گونج سے
02:47سیان وہیں زمین پر گر جاتا ہے
02:49ایلیف غصے سے چلاتی ہے
02:51خبردار جو مجھے چھونے کی کوشش کی
02:53میں ایلیف نہیں
02:53اس کی جڑوا بہن الہام ہوں
02:55اچانک وہاں پیچھے سے ایک آلی گاڑی آ کر رکھتی ہے
02:58جس میں سے ایک بہت ہی طاقتور اور خطرناک شخص باہر نکلتا ہے
03:01وہ سیدھا آ کر سیان کی کولر پکڑ لیتا ہے
03:04سیان اس شخص کا چہرہ دیکھتے ہی
03:06بری طرح کانپنے لگتا ہے
03:07کیونکہ وہ کوئی اور نہیں
03:08بلکہ ایلیف اور الہام کا سگا باپ ہوتا ہے
03:11جو امریکہ کا سب سے بڑا ڈان بن چکا ہوتا ہے
03:14اس میں پاکستان میں اپنی بیٹی ایلیف کی موت کی ساری خبر نکل والی ہوتی ہے
03:18وہ سیان کی کنپتی پر اسی وقت گن رکھتا ہے اور چلاتا ہے
03:22غازی یوسف نے میری ایک بیٹی کو مارا ہے
03:24اب میں اس کے بیٹے کی لاش پاکستان بھیجوں گا
03:27سیان کے پاس بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا
03:29اور وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے
03:31دوستوں اب کیا ہوگا
03:32کیا ایلیف کا باپ سیان کو وہیں گولی مار دے گا
03:35یا الہام سیان کو اس موت سے بچا لے گی
03:37اپنی رائے کومنٹس میں ضرور بتائیں
03:39ویڈیو پسند آئی ہو تو لائک کریں
Comments