00:00سیان ایلیف کے گھر پہنچتا ہے اور مسکراتے ہوئے کہتا ہے ایلیف اب تو تم خوش ہونا تمہاری ساری چیزیں
00:05مل گئی ہیں
00:06تب ہی پیچھے سے لالا کا ایک خطرناک گنڈا چھت پر بیٹھ کر سیان کو جان سے مارنے کے لیے
00:11سنائپر کا نشانہ لگاتا ہے
00:13لیکن ایلیف اچانک سیان کے سینے پر لال لیزر لائٹ دیکھ لیتی ہے
00:17جیسے ہی وہ سامنے دیکھتی ہے کہ بندہ گولی چلانے والا ہے
00:20اسی وقت وہ سیان کی جان بچانے کے لیے آگے بڑھ کر اس کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے
00:25ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے اور گولی سیدھا ایلیف کے بازو پر لگ جاتی ہے
00:29ایلیف خون میں لطپت زمین پر گرتی ہے تو سیان کے ہوش اڑ جاتے ہیں
00:33وہ فوراں اسے اٹھاتا ہے اور گاڑی بھگا کر ہسپٹل پہنچتا ہے
00:37اچانک سیان کا فون بچتا ہے
00:39غازی یوسف گھبرا کر پوچھتا ہے
00:40سیان کہاں ہوتم
00:42سیان روتے ہوئے بتاتا ہے
00:43بابا گولی لگی ہے
00:44یہ سننے کے بعد غازی یوسف اسی وقت ذکریہ اور گارڈز کو لے کر ہسپٹل بھاگتا ہے
00:49جب غازی اپنے بیٹے کو بلکل صحیح سلامت دیکھتا ہے
00:52تو فوراں اسے گلے لگا لیتا ہے
00:54سیان تڑپ کر بتاتا ہے
00:56بابا گولی تو مجھے لگ رہی تھی
00:57لیکن ایلیف نے اپنی جان خطرے میں ڈال دی
01:00یہ جاننے کے بعد غازی ذکریہ سے حملے کا پتہ لگواتا ہے
01:04تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب لالا نے کروایا ہے
01:06پیچھے سے سیان آ کر پوچھتا ہے
01:08کہ حملہ کس نے کروایا
01:10لیکن غازی اسے کچھ نہیں بتاتا
01:11اور کہتا ہے
01:19غازی یوسف اسی وقت ذکریہ کے ساتھ لالا کے اڈے پر پہنچتا ہے
01:23جہاں ان دونوں کے بیچ بھاری ٹکراف ہوتا ہے
01:26غازی غصے سے کہتا ہے
01:27تم نے میرے بیٹے پر حملہ کر کے اچھا نہیں کیا
01:30لالا ہستا ہے اور کہتا ہے
01:31احساس ہوا نا
01:33مریم کو میں نے بہن بنایا تھا
01:34اور الیف پاگل تھی
01:35جو تمہارے بیٹے کی جان بچانے آگے آگئی
01:38مجھے پتہ ہے
01:39تم باپ بیٹے مل کر پروپٹی ہتھیانا چاہتے ہو
01:42لالا سے بدلہ لینے اور راستے کا کاٹا ہٹانے کے لیے
01:45غازی یوسف فورن ہسپٹل پہنچتا ہے
01:47غازی کے کہنے پر ذکریہ اس آئی سی یو کمرے میں جاتا ہے
01:51جہاں الیف بےہوشی کی حالت میں ہوتی ہے
01:53اور اچانک الیف کا آکسیجن ماسک بند کر دیتا ہے
01:56تب ہی الیف کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوتی ہے
01:58اور ڈاکٹر بھاگتی ہوئی آتی ہے
02:00اور سیان کو بلاتی ہے
02:02الیف اپنی آخری سانسوں میں سیان کا ہاتھ پکڑتی ہے
02:05اور تڑپ کر کہتی ہے
02:06سیان ترکی میں میری بہن کا خیال رکھنا
02:09یہ کہہ کر الیف کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی ہیں
02:12سیان چیختا ہے
02:13اور الیف کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے
02:15لیکن تب ہی غازی یوسف وہاں آ کر اسے اٹھاتا ہے
02:18اور جھوٹ بولتا ہے
02:19سیان یہ سب لالا کی وجہ سے ہوا ہے
02:22غصے میں پاگل سیان فوراں لالا کے پاس پہنچتا ہے
02:25اور اس کا گریبان پکڑ لیتا ہے
02:27تم نے میری الیف کو مار کر اچھا نہیں کیا
02:29لیکن تب ہی ایک بہت بڑا ٹویسٹ آتا ہے
02:31لالا اس کے باپ کی ساری حقیقت بتاتا ہے
02:34یہ سب میں نے نہیں
02:35تمہارے باپ نے کیا ہے
02:36تمہارے باپ نے ہاسپٹل میں الیف کی جان لی ہے
02:45اور اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوتا
02:47اپنے اببو کو سزا دینے سے پہلے
02:49الیف سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کے لیے
02:52سیان اسی وقت ترکی چلا جاتا ہے
02:54وہاں پہنچ کر وہ الہام کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہے
02:57کہ اچانک اس کی نظر الہام پر پڑتی ہے
02:59سیان اس کے پاس جاتا ہے اور بتاتا ہے
03:02تمہاری بہن الیف کی ڈیتھ ہو گئی ہے
03:04لیکن الہام حصے سے کہتی ہے
03:05میرے سامنے اس کا نام مت لینا
03:07وہ میرے لیے مر چکی ہے
03:09یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی جاتی ہے
03:11دوستو کیا ترکی میں الہام سیان سے
03:13محبت کرنے لگے گی
03:14یا جب الہام کا بائی فرنڈ اسے پروپوز کرے گا
03:17تو وہ سیان کو چھوڑ دے گی
03:18اور جب غازی یوسف کو پتا چلے گا
03:20کہ الیف کی ایک ہمشکل الہام زندہ ہے
03:23تو کیا وہ اس کی بھی جان لینے کی کوشش کرے گا
03:25اپنی رائے کومنٹس میں ضرور
Comments