00:00ایلف اپنے ریسٹران جاتی ہے اور وہاں کی بکھری ہوئی حالت دیکھ کر مینجر سے پوچھتی ہے
00:04تو اسے پتا چلتا ہے کہ کچھ لوگ اس ریسٹران کو زبردستی خریدنا چاہتے ہیں
00:08جب وہ اس بات کا پتا لگواتی ہے تو اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں
00:11اسے پتا چلتا ہے کہ یہ قبضہ مافیا کوئی اور نہیں بلکہ غازی یوسف ہے
00:15جو کی سیان کا سغا باپ ہے
00:17اپنی امی مریم کی موت کا اصلی قاتل غازی یوسف کو جان کر
00:21ایلف کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے
00:23تب ہی وہ قسم کھاتی ہے کہ وہ سیان کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھسا کر
00:27غازی یوسف سے اپنی امی کی موت کا گن گن کر بدلہ لے گی
00:31ایلف کی میٹھی باتوں اور جھوٹے پیار میں اندھا ہو کر
00:34سیان سیدھا اپنے گھر آتا ہے
00:36سیان خوشی خوشی غازی یوسف سے کہتا ہے
00:38بابا مجھے ایک لڑکی بہت پسند آگئی ہے
00:41اور میں ہر حال میں اس سے شادی کروں گا
00:43غازی یوسف مسکراتا ہے
00:44لیکن تب ہی وہ اپنے خاص بندے ذکریہ کو
00:47اس لڑکی کا بیک گراؤنڈ چیک کرنے کا آرڈر دیتا ہے
00:50اگلے دن ذکریہ غازی یوسف کے پاس آ کر بتاتا ہے
00:53صاحب وہ لڑکی کوئی اور نہیں
00:54بلکہ مریم کی بیٹی ایلف ہے
00:56اور وہ سیان بابا کو اپنے محبت کے جال میں پھسا کر
00:59اپنی امی کی موت کا بدلہ لے رہی ہے
01:01یہ سنتے ہی غازی یوسف کے ہوش اڑ جاتے ہیں
01:04غازی یوسف غصے میں پاگل ہو جاتا ہے
01:06ایک تیر سے دو شکار کرنے اور اپنا ریسٹرانٹ ہتھیانے کے لیے
01:10وہ ذکریہ کو ایک خوفناک آرڈر دیتا ہے
01:12اگلے دن سیان اور ایلف ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر جا رہے ہوتے ہیں
01:15پیچھے سے ذکریہ ایک بہت بڑا ہیوی ٹرک لے کر آتا ہے
01:18اور ان کی گاڑی کو ایک بھیانک ٹک کر مارتا ہے
01:21گاڑی ہوا میں اچھل کر بری طرح زمین پر گر جاتی ہے
01:24اسی وقت موت کے اس بھیانک کھیل میں
01:26ایلف کی وہیں تڑپ تڑپ کر موت ہو جاتی ہے
01:28جبکہ سیان بری طرح زخمی ہو جاتا ہے
01:31اچانک ایمبیلنس وہاں پہنچ جاتی ہے
01:33اور خون میں لطپت سیان کو فوراں ہاسپٹل لے کے جاتے ہیں
01:36جہاں سیان سیدھا کومہ میں چلا جاتا ہے
01:38غازی یوسف روتا ہوا ہاسپٹل میں کھڑا ہوتا ہے
01:41کچھ دن بعد سیان کو تھوڑا ہوش آتا ہے
01:43ڈاکٹر بہار آ کر غازی یوسف کو بتاتے ہیں
01:45کہ سیان صرف ایلف نام کی لڑکی کو پکار رہا ہے
01:48غازی یوسف فوراں کمرے میں جاتا ہے
01:50سیان روتے ہوئے پوچھتا ہے
01:52بابا میری ایلف کہاں ہے
01:53غازی یوسف غصے اور دکھ سے بتاتا ہے
01:56سیان وہ ایلف اس دنیا میں نہیں رہی
01:58وہ مر چکی ہے
01:59یہ بھیانک خبر سنتے ہی سیان کے دماغ کی رگیں پھٹنے لگتی ہیں
02:03اور اچانک ایک زوردار جھٹکے سے
02:05سیان اپنی پوری یاد داشت بھول جاتا ہے
02:07اپنے بیٹے کی ایسی حالت دے کر
02:09غازی یوسف اس کے آگے کے علاج کے لیے
02:11سیان کو فوراں لندن لے کر چلا جاتا ہے
02:13لندن پہنچ کر سیان کی طبیعت تھوڑی بہتر ہونے لگتی ہے
02:17اچانک ایک دن سیان لندن کی سڑکوں پر چل رہا ہوتا ہے
02:20کہ تب ہی اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑتی ہے
02:22سیان کے ہوش اڑ جاتے ہیں
02:24کیونکہ وہ لڑکی بلکل ایلف کی ہمشکل الہام ہوتی ہے
02:27سیان پاگل ہو کر اس کے پاس جاتا ہے
02:29اس کا ہاتھ پکڑتا ہے
02:30اور روتے ہوئے کہتا ہے
02:31ایلف تم زندہ ہو
02:32میں جانتا تھا تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی
02:35لیکن الہام غصے سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہے
02:37اور کہتی ہے پاگل ہو گئے ہو کیا
02:39میں تمہیں نہیں جانتی
02:40یہ سننے کے بعد سیان کے دماغ پر اتنا زور پڑتا ہے
02:43کہ اسی وقت سیان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو جاتی ہے
02:46اور وہ وہیں سڑک پر چکر کھا کر بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے
02:50جب غازی یوسف کو پتا چلتا ہے
02:52کہ لندن میں ایلف کی بلکل ہمشکل الہام موجود ہے
02:55تو وہ اپنی ساری انا اور غرور چھوڑ کر
02:57الہام کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے
03:00غازی یوسف روتے ہوئے مافی مانگتا ہے
03:02اور کہتا ہے مجھے ماف کر دو بیٹی
03:04لیکن اب صرف تم ہی ہو
03:05جو میرے بیٹے کی زندگی واپس لا سکتی ہو
03:08تمہیں اس کی جان بچانے کے لیے
03:09کچھ دنوں کے لیے ایلف بننا ہوگا
03:11دوستوں کیا الہام ایک انجان شخص
03:14سیان کی جان بچانے کے لیے
03:15اس کی ایلف بننے کا ناٹک کرے گی
03:17اور جب سیان کی یادداشت واپس آئے گی
03:20تو کیا اسے پتا چلے گا
03:21کہ یہ جان لیوا ایکسیڈنٹ کسی اور نے نہیں
03:23بلکہ غازی یوسف نے کروایا تھا
Comments