00:00شاہ جہاں جب آفیس سے آ رہا ہوتا ہے تو راستے میں انجان بندے اس پر گولی چلا دیتے ہیں
00:06جس کے بعد وہ خون میں لطفت فوراں ہاسپٹل جاتا ہے جب یہ خبر زہارہ کو ملتی ہے تو وہ
00:12گھبراہٹ کا ناٹک کرتے ہوئے ہاسپٹل پہنچتی ہے لیکن دوسری طرف جب آئیزہ کو خبر ملتی ہے کہ شاہ جہاں
00:18کو گولی لگی ہے تو اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور وہ پاگلوں کی طرح روتے ہوئے ہاسپٹل پہنچتی
00:23ہے
00:23وہاں وہ زہارہ کو شاہ جہاں کے کمرے کے باہر کھڑا دیکھتی ہے تو اسے بہت غصہ آتا ہے آئیزہ
00:29فوراں شاہ جہاں کے پاس آ کر روتی ہے اور کہتی ہے شاہ جہاں مجھے بہت ڈر ہے کہ زہارہ
00:35مجھے آپ سے چھین نہ لے یہ عورت ہماری جان کی دشمن ہے شاہ جہاں اس کا ہاتھ پکڑ کر
00:40اسے تسلیت دیتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں جس کے بعد شاہ جہاں کی طبیعت بہتر ہوتی ہے تو
00:46وہ گھر آتا ہے اور بنا وقت ضائع کیے ان غنڈوں کے خلاف
00:50فولیس میں رپورٹ لکھوا دیتا ہے جب یہ خبر جنید کو ملتی ہے کہ زہارہ نے شاہ جہاں کی جان
00:55لینے کی کوشش کی ہے تو وہ بدلہ لینے کے لیے آگ ببولہ ہو جاتا ہے دوسری طرف جیل میں
01:01سرمت کافی زیادہ پریشان ہوتا ہے اور اسے اپنی عزت کی فکر کھا رہی ہوتی ہے جس کے بعد مائرہ
01:06جب اس کے پاس جیل آتی ہے تو سرمت اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہے مائرہ مجھے کسی
01:11بھی طرح یہاں سے باہر نکل والو مجھے زہارہ سے اپنا آخری ح
01:16مائرہ دن رات اے کر کے بہت سارا پیسہ اور وکیل کا انتظام کرتی ہے جس کے بعد اگلے دن
01:22عدالت میں سرمت کو بائزت رہائی مل جاتی ہے تب ہی کہانی میں ایک بہت بھیانک نیا ٹویسٹ آتا ہے
01:27سرمت جیل سے چھوٹتے ہی سیدھا زہارہ کے گھر پہنچتا ہے گھر کے اندر زہارہ اپنے خفیہ شیشے والے کمرے
01:34میں نوید کو نوٹوں کی گڑڈیاں دے رہی ہوتی ہے
01:37زہارہ بہت مکاری سے نوید کو کہتی ہے کہ شاہ جہاں تو گولی سے بچ گیا لیکن اب اگلا نشانہ
01:43آئیزہ ہوگی آج رات آئیزہ کے کھانے میں زہر ملا دو تاکہ اس کی کہانی ہمیشہ کے لیے ختم ہو
01:49جائے
01:49لیکن زہارہ کو اس بات کا بلکل اندازہ نہیں ہوتا کہ پیچھے سے سرمت اور ملازمہ آسیا دروازے کے پاس
01:56کھڑے اس کی یہ ساری خوفناک باتیں سن رہے ہوتے ہیں
01:59اپنی بیوی کی ایسی گھنونی حرکتیں اور قتل کا پلان پیچھے سے سن کر سرمت کے ہوش اڑ جاتے ہیں
02:05اسی وقت سرمت اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پاتا اور اچانک دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوتا ہے
02:11اپنے سامنے سرمت کو آزاد دے کر زہارہ کے پیرو تلے زمین نکل جاتی ہے
02:15سرمت آگے بڑھ کر زہارہ کے موہ پر ایک زوردار تھپڑ مارتا ہے اور چیخ کر کہتا ہے
02:21تمہاری مکاری کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے زہارہ
02:24آسیا فوراں روتے ہوئے شاہ جہاں کو کال کرتی ہے اور اسے ساری حقیقت بتا دیتی ہے
02:29کہ آئیزہ کی جان خطرے میں ہے
02:31شاہ جہاں جو اس وقت آئیزہ کے ساتھ کھانا کھانے لگا ہوتا ہے
02:34کال سنتے ہی اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں
02:37تب ہی وہ آئیزہ کے ہاتھ سے زہر والا کھانا چھین کر زمین پر پھیک دیتا ہے
02:41آئیزہ یہ سب دے کر اتنی بری طرح ڈر جاتی ہے
02:44کہ وہ صدمے سے چکر کھا کر وہیں بے ہوش ہو جاتی ہے
02:47شاہ جہاں فوراں پولیس کی بھاری نفری لے کر زہارہ کے گھر پہنچتا ہے
02:51جب زہارہ اپنے سامنے پولیس اور شاہ جہاں کو دیکھتی ہے
02:55تو اسے سمجھ آ جاتا ہے کہ آج اس کی بچنے کی کوئی امید نہیں
02:59سرمد پولیس کو زہارہ اور نوید کی ساری باتیں بتا دیتا ہے
03:02اپنی ساری چالیں الٹی پڑتی دیکھ
03:05ہتھکڑیاں سامنے دیکھ کر
03:06اور اس شدید بے عزتی کے ڈر سے
03:08زہارہ پر اتنا شدید خوف تاری ہوتا ہے
03:11کہ اچانک اس کے سینے میں درد اٹھتا ہے
03:13وہ ڈر کے مارے تھر تھر کامتی ہے
03:15اور اچانک زمین پر بے ہوش ہو کر گر جاتی ہے
03:18پولیس بے ہوش زہارہ اور نوید کو گھسیتے ہوئے گاڑی میں ڈالتی ہے
03:22اور ہمیشہ کے لیے انہیں جیل کی اندھیری کوٹری میں بند کرنے لے جاتی ہے
03:26آئیزہ ہوش میں آ جاتی ہے
03:28اور شاہ جہاں کے گلے لکر روتی ہے
03:30اس عذاب کے ختم ہونے کے بعد
03:32اب دونوں کی زندگی میں صرف خوشیاں ہی خوشیاں لوٹ آتی ہیں
03:36اگر آپ اور بھی اس ڈرامے کے ریویو دیکھنا چاہتے ہیں
03:39تو چینل کو لائک شیئر اور سبسکرائب کر دیں
03:41یہ ہماری پریڈکشن ہے
03:42جو صرف انٹرٹینمنٹ پرپس کے لیے بنائی گئی ہے
Comments