00:20دارک میٹر
00:30ہم جس چیز کا مشاہدہ کرتے ہیں
00:31وہ صرف نظر آنے والا مادہ نہیں ہو سکتا
00:36گلیکسز یا کہکشاؤں کے گرد روشنی
00:38طبقوں سے زیادہ خم کھاتی ہے
00:40جس کا مطلب ہے
00:41کہ کوئی نظر نہ آنے والا مادہ
00:44اس پر اثر ڈالتا ہے
00:47اور اگر ہم صرف نظر آنے والے مادے کو ہی سب کچھ مان لیں
00:50تو پھر ستارے جو اپنی کہکشاؤں کے گرد گھومتے ہیں
00:54ان کی کوئی توجیہ نہیں بنتی
00:56کوئی چیز تو ہونی چاہیے
00:58جس نے کہکشاؤں کو آپس میں جوڑ رکھا ہے
01:01جیسے کوئی نظر نہ آنے والا گلو
01:03ڈارک میٹر
01:04لیکن یہ بنا کس سے ہے
01:06یہ بات ابھی تک ایک راز ہے
01:11مگر ہم اس کے اثرات کی پیمائش کر سکتے ہیں
01:14ڈارک میٹر کی کشش سے سکل کے سبب
01:17روشنی کا راستہ خمدار ہو جاتا ہے
01:21ماہرین فلقیات
01:22اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں
01:26بہت ہی حساس ٹیلیسکوپس کی مدد سے
01:28وہ خلا کے مخصوص حصوں کا تجزیہ کرتے ہیں
01:31اس بات کا پتہ لگاتے ہوئے
01:33کہ روشنی نے عربوں سالوں کے دوران
01:35کس طرح سفر کیا
01:37اس سے انہیں ڈارک میٹر کے پھیلاؤ کا نقشہ بنانے میں
01:40مدد ملتی ہے
01:42اور وقت کے ساتھ جمع ہونے والے ڈیٹا کے سبب
01:45یہ میپ بہتر سے بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے
01:53فروری دوہزار چوبیس سے
01:55یورپی خلائی دوربین یوکلیڈ
01:57ہمارے آسمان کو سکین کر رہی ہے
01:59اس کا مشن ہے کہ گزشتہ دس عرب سالوں کے دوران
02:02ڈارک میٹر کے پھیلاؤ کا پتہ چلایا جائے
02:06اور وہ بھی بے مثال درستی کے ساتھ
02:10تھیوری کے مطابق ڈارک میٹر نے
02:11کائنات کے سٹرکچر کو شکل دی
02:14ایسی بعض جگہوں پر جہاں ڈارک میٹر کا ارتقاظ زیادہ تھا
02:17اس نے عام مادے کو اپنی طرف کھینچ لیا
02:20جس سے ستارے کہکشائیں اور کہکشاؤں کے وسیع جھنڈ
02:25وجود میں آئے
02:30ابھی تک ڈارک میٹر کی ہماری پہمائشیں
02:32اسی خیال سے مطابقت رکھتی ہیں
02:38کمپیوٹر سیمیلیشن سے بھی اسی خیال کو تقویت ملی
02:41انہوں نے عربوں سالوں کو سیکنڈز میں سمو دیا
02:44یہ دکھانے کے لیے کہ گلیکسیز اور گلیکسیز کے کلیسٹر
02:49کیسے وجود میں آئے
02:50نتائج وہاں سے ہیں
02:52ڈارک میٹر کے بغیر
02:54کائنات ایسے دکھائی نہ دیتی
02:56جیسی وہ آج ہے
03:14موسیقی
Comments