Skip to playerSkip to main content
Uttarakhand ke khoobsurat pahadon mein aise kai gaon hain jo aaj bilkul veeran ho chuke hain. In “Ghost Villages” ki kahani sirf khali gharon ki nahi, balki un logon ki hai jo majbooran apna ghar chhor kar shehron ka rukh kar gaye.

Is video mein hum explore karenge:

Uttarakhand ke ghost villages ka sach
Logon ke migration ki asli wajah
Pahadi zindagi ke challenges
Government policies aur unka asar

Kya ye villages dobara abad ho sakte hain? Janiye is emotional aur eye-opening podcast storytelling mein.

Uttarakhand ghost villages, abandoned villages India, why villages are empty, migration in Uttarakhand, pahadi life problems, ghost towns India, rural migration India, Indian villages abandoned, mountain village life, real stories India, podcast storytelling Urdu Hindi, emotional stories, hidden India stories

uttarakhand ghost villages, ghost villages india, abandoned villages uttarakhand, migration story india, pahadi villages, rural exodus india, indian ghost towns, storytelling podcast, apna tv new york, emotional stories, real life stories, hindi podcast, urdu storytelling, mystery villages india

#Uttarakhand #GhostVillages #IndiaMystery #AbandonedPlaces #PodcastStory #RealStories #Migration #PahadiLife #HiddenIndia #ApnaTVNewYork #StruggleToSuccess #podcast #storytelling #urdustories #hindipodcast #kahani #emotionalstories #truestory #desipodcast #apnatvnewyork #viralpodcast #storytime #motivationalstories #horrorstories#viral #shorts

Category

😹
Fun
Transcript
00:05ڈیس دن سادک کر کے اوز دن تو یہ گاؤں اتنا بڑیا تھا بہت اچھا لگتا تھا
00:11اور آپ تو ایسا لگایا بلکل سنے مدب کوئی نہیں سب باہر چلے گئے
00:19انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنٹ کے پہاڑ جہاں کبھی ہر گھر میں چولے جلتے تھے اور بچوں کے شور دور
00:25دور تک گونچتے تھے
00:26لیکن آج ان میں سے بہت سے گاؤں خاموش خاموش سے ہیں
00:31پوڑی گھر وال کے بعض علاقے نقل مکانی سے ایسے خالی ہو گئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر کوسٹ بلیج
00:38یا آسیب زدہ گاؤں کا گمان ہوتا ہے
00:40انہیں پھر سے آباد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے دو سرکاری اسکیمیں بنائی
00:46گئی ہیں
00:47ایک ریاستی کامیشن کے مطابق اگست دو ہزار پچیس تک چھ ہزار سے زیادہ لوگ اتراکھنٹ کے دے ہی علاقوں
00:54میں واپس آئے ہیں
00:55حال ہی میں گھر وال کے رکنے پارلی آمان انیل بولونی کو لوگوں سے واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے
01:01دیکھا گیا ہے
01:02جس گاؤں میں جن پتھروں پر ہمارے آبو اجداد چلے وہ گاؤں کیسے بھوتیا ہو سکتا ہے
01:12اس لیے ہم سب کو کوشش کر کے اپنے اپنے گاؤں میں گھر بنا کر اپنے گاؤں میں ریجسٹریشن کرا
01:20کر ان گاؤں کو بچانا ہے
01:22اس ریاست کو بھی بچانا ہے یہی ہماری مہم ہے
01:30دھور گاؤں میں کبھی تقریباً دو درجن خاندان آباد تھے
01:33وہاں اب صرف نصف درجن کنبے ہی رہ گئے ہیں
01:36کچھ کوویٹ کی وبا کے دوران گاؤں واپس آئے
01:39جبکہ بہت سے بزرگ اپنے بچوں کا انتظار کر رہے ہیں
01:43جو روزگار کی تلاش میں باہر چلے گئے ہیں
01:47دو ہزار بیس میں جب یہ کرونا ٹائم سٹارٹ ہوا پینڈیمک آیا
01:51اس کے بعد جب یہ لگنے لگا کہ پینڈیمک ابھی رکنے نہیں والا
01:55تو اس کارن وش میں میرے ہوم ٹاؤن آ گیا کوٹ دوار
01:58میری وائیو گورنمنٹ ٹیچر ہے
02:00وہ آلریڈی یہاں پوسٹٹ تھیں
02:04اور انہوں نے مجھے سجیسٹ کیا
02:06کہ کیوں نہ ہم اپنے دادا جی کا جو یہ پشتینی گھر ہے
02:09جو اب کافی چھوٹ چکا ہے ویران ہو چکا ہے
02:11کیوں نہ اس کو اب ہم آباد کریں
02:13جس دن سادک کر کے آئے
02:15اس دن تو یہ گاؤں اتنا بڑیا تھا
02:19بہت اچھا لگتا تھا یہاں
02:21بہت پریوار تھی بائیس پریوار تھی
02:24گاؤں میں بہت رونک تھی
02:25اور اب تو ایسا لگایا بلکل سن
02:28سنا گاؤں ملک کوئی نہیں
02:30کہ سب باہر چلے گئے ہیں
02:32کچھ نہیں ہے روزگاریاں
02:35وہ جنگلی جان پر بہت آتی ہیں
02:38تاہم ریاستی حکومت کا دعویٰ ہے
02:40کہ اب لوگ گاؤں واپس آ رہے ہیں
02:42اور خود اپنا کام کر رہے ہیں
02:46سن 2018 میں جب پہلی بار سروے کیا گیا
02:49تو معلوم ہوا کہ کئی جگہوں پر خاطرخواہ نقل مقانی ہوئی ہے
02:53جبکہ کچھ جگہوں پر اس میں کمی آئی ہے
02:55جب 2022 میں دوبارہ سروے کیا گیا
02:58تو پتا چلا کہ جو لوگ نقل مقانی کر رہے تھے
03:01وہ زیادہ تر زلے کے اندر ریاست کے اندر تھے
03:03ریاست چھوڑنے والوں کی تعداد کم تھی
03:06دوسری بات یہ ہے کہ کوویٹ کے دوران لاکھوں لوگ واپس آئے
03:10ریاست بھر میں ساڑھے تین لاکھ لوگ اپنے گھروں کو لوٹے
03:13جن میں سے بہت سے لوگ واپس یہی رہ گئے
03:16ہم اسے ریورس مایگریشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں
03:22وہ لوگ جو واپس رہ گئے
03:24وہ باغ بانی، بکریاں پالنے
03:26اور ہوم اسٹیج ایسے اپنے کاروبار کر رہے ہیں
03:29پوڑی زلے میں ایسے بارہ سو افراد ہیں
03:33ممکنہ طور پر بارہ سو سے زیادہ ہوں
03:35ہمارے پاس دو ہزار پچیس کا ڈیٹا ہے
03:38دو ہزار چھبیس کا نہیں
03:41ان دعووں کے باوجود پوڑی گھر وال میں
03:44اب بھی لوگوں کی واپسی کے بجائے
03:46روزگار کی تلاش میں
03:47نقل مکانی کے واقعات زیادہ ہیں
03:51کچھ گاؤں ایسے ہیں
03:53جہاں اب کوئی بھی نہیں رہتا
03:54پوکرا بلوک میں
03:56بھرت پور ایسا ہی ایک گاؤں ہیں
03:58گاؤں چھوڑ کر جانے والے
04:00پرویش چندر سندریال کہتے ہیں
04:22ان کے برعکس کچھ لوگ واپس آ رہے ہیں
04:24اور پاؤں جمانے کی کوشش کر رہے ہیں
04:27پوڑی واپس آنے والی
04:28سویتہ راوت ان میں سے ایک ہیں
04:30جو سیب اور کیوی کی کھیتی کے ساتھ
04:33ساتھ ہوم اسٹے بھی چلا رہی ہیں
04:35پھر دوہزار اٹھارہ میں
04:36میں یہاں پر آئی اور میں نے
04:38زمین سرچ کری اپنے لی
04:40زمین لی اور پھر
04:42آرگینک ویجیٹیبلز کا کام سٹارٹ کیا تھا
04:44اس کے بعد ایک سال میں نے وہ کیا
04:46پھر مجھے سمجھ نہیں آیا وہ
04:48تو میں نے کہا کہ یہاں پر ایپلز ہوتے تھے
04:50بچپن میں ہم نے دیکھے ہوئے ہیں
04:52تو پھر میں نے ایپلز پہ کام کیا یہاں پہ
04:54اور ایپل کے میرے اس وقت میں
04:56دو ہزار پلانٹس ہیں لگ بھر
04:58اور کچھ سو کے قریب کیوی کے پلانٹس بھی ہیں
05:01اور ایدر فروٹس بھی سارے ہی لگائے ہوئے ہیں
05:03میں نے سوچا مرگی بھی پال لی جائیں
05:05جسے کی ایکس ہمیں پروائیڈ ہو جائیں گھر کے
05:07اور ہوم اسٹے میں نے
05:09لاسٹیور ہی شروع کیا ہے
05:11کیونکہ کیا ہوتا ہے فارمیگ
05:12بہت زیادہ
05:14پیڑ جوب نہیں ہے
05:16تو پھر ہوم اسٹے میں آپ کو
05:18انٹیگریٹڈ فارمیگ کرنی ہے
05:20اور ہوم اسٹے بھی اسی لئے سٹارٹ کیا
05:22کیونکہ یہ نیا ایک کونسپٹ ہے
05:24ایگرو ٹوریزم کا
05:25وہ بھی میں سٹارٹ کر رہی ہوں
05:34پوڑی کے یہ گاؤں
05:35اب صرف خالی مکانوں کی کہانیاں نہیں
05:37بلکہ پہاڑوں کی گم ہوتی دلکشی کی
05:40افسردہ کرنے والی داستان ہے
Comments

Recommended