00:03بلوچستان کے یہ کانکن انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں زیر زمین کان سے کوئلہ نکالتے ہیں
00:15یہ سینٹر ہے یہاں ایک نالی ہے یہ تقریباً چالیس فٹ اونچی ایک لمبی دیوار ہے
00:20یہاں سے ہم ایک گڑھا کھوٹتے ہیں اور نیچے جاتے ہیں
00:24پھر ہم کوئلے کو اپنے پیروں سے گھسیٹ کر جمع کرتے ہیں
00:27یہ محلت کشمزدور بتاتے ہیں کہ کوئلے کی کانوں کے اندر آئے دن حادثات رونما ہوتے ہیں
00:40جبکہ زہریلی گیسوں سے ان کی زندگیوں کو شدید خطرات بھی لاکھ ہیں
00:45ان کے پاس حفاظتی آلات کی بھی کمی ہے
01:09کانکنوں کے مطابق بہت سی کانوں میں مناسب فینٹیلیشن سسٹم اور ہنگامی سہولیات کا بھی فقدار ہے
01:16اس کی وجہ سے کئی مزدور پھیپڑوں کے خراب ہونے اور سانس کی دیگر بیماریوں کی شکایت کرتے ہیں
01:26اگر کسی کو سینے کی بیماری نہیں ہوئی تو اسے بعد میں مسائل ہوں گے
01:31اور اگر کسی کا سینہ خراب ہے تو اسے جلد ہی مسائل ہوں گے
01:35جب مزدور صبح کام پر آتے ہیں تو شام کو انہیں پریشانی ہوتی ہے
01:39لیکن انہیں گھر اور بچوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے
01:41سر، ٹانگوں، کمر اور جوڑوں میں درد ہوتا ہے
01:45کوئلے کی دھول، دمیں اور جگر کے مسائل کا باعث بنتی ہے
01:51طبی ماہرین کے مطابق کانکنی کی سنت میں حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں
01:56مزدوروں کو ایسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ جان لیوہ ثابت ہو سکتی ہیں
02:07جب کوئلہ، کرومائٹ اور مٹی کی دھول اٹھتی ہے تو یہ کانکنوں کے پھپڑوں میں داخل ہو جاتی ہے
02:13یہ دھول پھپڑوں میں جمع ہو جاتی ہے جس سے سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں
02:17اور آہستہ آہستہ سانس کے مسائل پیدا ہو جاتی ہیں
02:23اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں ہر سال کوئلے کی کانکنی کے حادثات میں سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار جاتے
02:30ہیں
02:32مزدور نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خصوصاً بلوچستان میں زیادہ تر کان مالکان
02:38مزدوروں کو حفاظتی سامان فراہم نہیں کرتے
02:41جس کی وجہ لاغت میں کمی، منافع میں زافہ اور قوانین کا کمزور نفاظ ہے
02:49دوسری جانب پاکستان سینٹرل مائنس لیبر فیٹریشن کے سیکریٹری جنرل سلطان محمد کہتے ہیں کہ
02:54کانکنوں کے حقوق کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں
03:03آج وقت کا معاوضہ پانچ لاکھ اور ڈیتھ بینیفٹ ڈس لاکھ ہے
03:06ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست بھی کیا گیا ہے
03:09اور اس کے علاوہ بھرتی کے وقت ان کے بچوں کے لیے پچیس فیصد کوٹا مختص کیا گیا ہے
03:14رہائشی سہولیات، دواخانے اور سکول بھی مطور امداز فراہم کیے گئے ہیں
03:19اس دوران مزید سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں
03:26اس طرح کے خطرناک کام کے لیے
03:29اٹھانہ سو سے ڈھائی ہزار روپے یومی عوضرت ادا کی جاتی ہے
03:32لیکن کچھ کانوال کان مزدوروں کو سرکاری طور پر ریجسٹر نہیں کراتے
03:36جس کے باعث کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اپنے حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں
03:53موسیقی
03:55موسیقی
03:55موسیقی
03:55موسیقی
03:56موسیقی
03:56موسیقی
Comments