Skip to playerSkip to main content
Explore the Azmat e Insan in this special episode of Rehmat e Sehr, discussing the importance of humanity, ethics, and social responsibilities in Islam. Esteemed scholars share insights on how humans can lead meaningful lives while contributing positively to society.

Episode Details:

Host: Tasleem Ahmed Sabri

Guests: Dr Irfan Ullah Saifi, Mufti Khalil Ahmed Qadri, Peer Syed Ahmad Saqlain Haider Shah

Sana Khuwan: Hussnain Mazhari

Topic: Duniya Aur Akhirat

Watch More Spiritual Programs:

Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on

Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG

Gain spiritual knowledge, reflect on the greatness of humans in Islam, and learn practical guidance for leading an ethical life.

#AzmatEInsan #RehmatESehr #Ramzan2026 #IslamicBayan #ARYQtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00شانِ رمضان
00:02شانِ رمضان
00:07ہے مومنوں کے دل کا اجالہ شانِ رمضان
00:12ہے مومنوں کے دل کا اجالہ شانِ رمضان
00:36یہ شہدی کی محبت کا اثر لگتا ہے
00:54یہ شہدی کی محبت کا اثر لگتا ہے
01:18میرا ہر عیب جو دنیا کو ہنر لگتا ہے
01:31میرا ہر عیب جو دنیا کو ہنر لگتا ہے
01:44ان کے نالین
01:51کو جس دن سے کیا ہے
01:58دستار
02:02اُڑ کے نالین
02:14کو
02:15جس دن سے کیا ہے
02:21دستار
02:22سر اُٹھاتا ہوں تو
02:28افلاق سے سر
02:30لگتا ہے
02:35سر اُٹھاتا ہوں تو
02:42اُفلاق سے سر
02:45لگتا ہے
02:51صرف الفاظ
02:54و خیالات پہ موقوف نہیں
03:23نات کہنے کے لیے
03:27خون جگر
03:29لگتا ہے
03:34نات کہنے کے لیے
03:39خون جگر
03:42لگتا ہے
03:46نات پڑ کر میں
03:50گزر جاتا ہوں
03:53اُس رستے سے
04:00نات پڑ کر میں
04:14گزر جاتا ہوں
04:17اُس رستے سے
04:21مجھ کو جو راستہ
04:24پر خوف و خطر
04:27لگتا ہے
04:30یہ شہدی کی
04:38محبت
04:39کا اثر
04:40لگتا ہے
04:49بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:51الحمدللہ رب العالمین
04:53والصلاة والسلام
04:54وعلا سید الانبیاء والمرسلین
04:57سلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
05:00میں ہوں تسلیم احمد صابری
05:02اور آپ
05:02پروگرام دیکھ رہے ہیں
05:04رحمت سہر
05:05آج
05:06تو
05:07بالاخر
05:08رحمت سہر کا یہ آخری ہی پروگرام ہے
05:10ایک دن
05:11ہمیں اور ملا
05:12اس ماہِ رمضان میں
05:14اور اس ماہِ رمضان میں
05:16یکم رمضان سے
05:17انتہائے رمضان تک
05:19لاہور سٹوڈیو سے جو پروگرام پیش کیا گیا
05:22اس کا موضوع انسان ہی رہا
05:24ہم سب
05:26جو انسان جو اس پروگرام کو پیش کر رہے ہیں
05:29پیش کرنے میں کسی بھی انداز سے شامل ہیں
05:32یا کیمرے کے اس پار اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں
05:35وہ سب موضوع ہیں اس پروگرام کا
05:39انسان کی عظمت
05:41انسان اپنے مقصد کو
05:44اپنے مقصد تخلیق کو دنیا میں آنے کی
05:47کہ مقصد کو کس طرح سے پا سکتا ہے
05:51اس کے تقاضے کیا ہیں
05:53ہمیں یہ جاننے کے لیے ان لوگوں کو دیکھنا ہوگا
05:57کہ جو اس مقصد کو پا کر
06:00کامیاب اور
06:01یہاں سے کامران گئے ہیں
06:03اس دنیا سے ان لوگوں کا تذکرہ
06:06ان سے کچھ سیکھ کر
06:08ان انامت علیہم
06:10کی جو تصویریں ہیں
06:11جو مجسم ہیں
06:12منام لوگ ہیں
06:14ان لوگوں کی زندگیوں کو جانے
06:16ان کے احوال کو جانے
06:18وہ کیا اوصاف تھے
06:20جس سے انہوں نے
06:21زندگی میں کامیابیاں پائیں
06:24اور اس دنیا سے لوٹے
06:25تو کامیاب و کامران لوٹے ہیں
06:27اور انہی کے نقش قدم پر
06:30ہمیں چلتے ہوئے کامیابی مل سکتی ہے
06:32پھر یہ بھی خاص طور پر کہا جاتا ہے
06:35کہ کیا دنیا اور آخرت میں سے
06:39کوئی ایک چیز ہی مل سکتی ہے
06:41دنیا کی کامیابی ہو گئی
06:43تو آخرت کی نہیں ہے
06:44اور اگر آخرت کی کامیابی پانی ہے
06:46تو پھر دنیا کی کامیابی کو چھوڑ دیا جائے
06:49کیا یہ تصور ٹھیک ہے
06:51ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
06:52ممتاز سکولر
06:53ممتاز علماء دین
06:55ڈاکٹر ارفاناللہ سیفی صاحب
06:57السلام علیکم
06:58آپ کی آمد کا بہت شکریہ
07:00اور ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
07:02ممتاز علم دین
07:03مفتی خلیل احمد خادری صاحب
07:05مفتی صاحب آپ کی آمد کا بھی بہت شکریہ
07:08اور بڑی نوازش
07:10بڑی بندہ نوازی
07:11آپ نے ایک مرتبہ پھر آج
07:13ہمیں وقت دیا ہے حضور قبلہ
07:15پیر طریقت قبلہ علامہ
07:17پیر سید احمد سقلین حیدر شاہ صاحب
07:20جو زیب سجادہ ہیں
07:22آستانہ علیہ چورہ شریف کے
07:24اسلام علیکم شاہ جائے
07:25آپ کی آمد کا بھی بہت شکریہ
07:27بہت ممتاز سناخا ممتاز
07:30ناتگو ممتاز شاعر
07:32قناب حسین مظری صاحب
07:33السلام علیکم آپ کی آمد کا بھی بہت شکریہ
07:36لوگ سب آغاز کرتے ہیں
07:38کیا دنیا اور آخرت
07:40مل سکتی ہے ایک آدمی کو
07:42بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:45بہت شکریہ
07:45اور نہایت ہی اہم
07:47موضوع ہے
07:49اگر ہم اسلامی تعلیمات
07:52کا مشاہدہ کرتے ہیں
07:53تو وہاں ہمیں دو طرح
07:55کے لوگ نظر آتے ہیں
07:56ایک وہ
07:57جنہوں نے اپنی اس دنیا
07:59کو کرا کچھ سمجھا
08:01اور اپنی اس دنیا
08:04کو بنانے کے لیے مکمل
08:06کوششیں سرف کر دیں
08:07ساری توانائیاں یہاں خرچ کر دیں
08:09اور ان کا مطمئن نظر
08:11صرف دنیا کا حصول ہوا
08:13قرآن مجید فرقان حمید نے
08:15ان کی مذہمت بیان فرمائی
08:17ٹھیک ہے
08:18جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے لوگ ہیں
08:20جنہوں نے دنیا اور آخرت
08:22دونوں کو
08:24حاصل کرنے کی کوشش بھی کی
08:26اور اللہ سے مانگا بھی
08:27بلکہ اللہ تبارک و تعالی نے
08:28خود اس بات کا ذکر فرمایا
08:30وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا
08:33وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقِ
08:35جنہوں نے کہا نا
08:36یا اللہ ہمیں دنیا ہی میں سارا کچھ دے دے
08:38تو دنیا میں اللہ دے تو دیتا ہے
08:40لیکن آخرت میں پھر ان کا کوئی حصہ نہیں ہے
08:44آخرت میں ان کو کچھ نہیں ملے گا
08:45دنیا میں سب کچھ مل جائے گا
08:46اور اسی طرح ایک اور جگہ پر
08:48اللہ نے ارشاد فرمایا جو چاہتا ہے
08:49کہ ہمیں دنیا میں مل جائے
08:51اللہ دنیا میں دے دیتا ہے
08:52لیکن آخرت میں پھر ان کو کچھ نہیں ملے گا
08:54لیکن ایمان والوں کو جو سکھایا گیا ہے
08:56وہ کیا ہے
08:57رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَا
08:59وَفِي الْآخِرَتِ حَسَنَا
09:00سبحان اللہ
09:01تو ہمیں دنیا کی خیر مانگنے کی بھی تلقین کی گئی ہیں
09:05اور آخرت کی خیر مانگنے کی بھی تلقین کی گئی ہیں
09:07دنیا کی بھی خیر مانگیں اور آخرت کی بھی خیر مانگیں
09:10تو اللہ تبارک و تعالی نے جو ہمیں انامات عطا فرمائے ہیں
09:13قرآن مجید میں جا بجا ان کا ذکر کیا
09:15اور بلکہ ان کو یہ فرمایا
09:22محبوب ان سے پوچھئے
09:24کہ یہ جو اللہ تعالی نے زینت عطا فرمائے
09:26یہ حرام کس نے کی ہے
09:27کسی نے حرام نہیں کی
09:28اور اللہ نے یہ طیب رزق عطا فرمایا ہے
09:30یہ کس نے حرام کیا
09:31اور وہ لوگ جو رہبانیت اختیار کر لیتے تھے
09:34اور اپنے آپ پر دنیاوی جو نمتیں تھیں
09:37ان کو حرام قرار دیتے تھے
09:39اللہ تعالی نے ان کی مضمت فرمائی
09:41اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:43نے بقیدہ ارشاد فرمایا
09:46اسلام میں تو رہبانیت نہیں ہے
09:48اسلام کے اندر آپ
09:49اللہ تعالی نے جو عطا کیا ہے
09:51اس سے استفادہ کیجئے
09:53ان نعمتوں سے حض اٹھائیے
09:55اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیجئے
09:57دو چیزیں مال کے اعتبار سے
10:00جو اسلامی تعالیمات کا فلسفہ ہے
10:02وہ حدیث کے دو جملوں کے اندر
10:05سارے کسارا ہے
10:06ایک یہ
10:11ایک یہ ہے کہ مال کمایا کہاں سے ہے
10:13اور ایک یہ ہے کہ خرچ کہاں کے
10:15یہ دو جملے ہیں
10:17حدیث مبارکہ کے
10:18قیامت کے دن یہ
10:19جو انسان سے سوال ہوں گے
10:20ان سوالوں میں
10:21یہ دو سوال ہیں
10:22کہ کہاں سے کمایا ہے
10:24اور کہاں خرچ کیا ہے
10:25بس
10:25اگر انسان کا یہ سارے کا سارا
10:27معاملہ شفاف ہے
10:28اور وہ
10:29اللہ تعالی کی جو حدود ہیں
10:31اس کی اندر رہ کر ہے
10:32تو پھر خیر ہی خیر ہے
10:34پھر کوئی مسئلہ نہیں
10:34شاہ صاحب یہ تو ایک مشکل مرحلہ ہے
10:37نا
10:37یعنی یہ ایک امتحان
10:38تو سب سے بڑا یہی ہے
10:39کہ آپ دنیا میں رہ کر
10:41دنیا کے لیے کوشش کر کے
10:43اور پھر دنیا میں نہیں ہیں
10:45یعنی یہ سوچ
10:47لے کر چلنا
10:48کیسے ممکن ہے
10:50ایک انسان کے لیے
10:51سب سے پہلی بات تو ہی
10:53کہ
10:54ضرور چلا جا سکتا ہے
10:55اور
10:56رزق حلال کے لیے
10:58کوشش کرنی
10:59توقع دو کرنی
11:00جد و جہد کرنی
11:01یہ تو این عبادت ہے
11:02آپ اللہ کریم کی بارگاہ میں
11:05نعمتوں کے لیے دعا کر سکتے ہیں
11:07حضور نبی کریم علیہ السلام کی بارگاہ
11:09اقدس میں دو غلام تشریف لائے
11:11اللہ کریم نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا تھا
11:13لیکن لباس جو تھے
11:15وہ تھوڑے
11:17جو بوسیدہ تھے
11:18یوں کہہ لیجی آپ
11:19تو حضور نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمائے
11:22کہ جتنی نعمتیں اللہ کریم نے تمہیں
11:23عطا فرمائی ہیں
11:24ان کا اثر تمہارے پر نظر بھی آنا چاہیے
11:27اور اللہ کریم خود بڑا جمیل ہے
11:29اور وہ حسن و جمال کو
11:30خوبصورتی کو پسند کرتا ہے
11:32آپ یہ دیکھئے کہ حضرت
11:34اس کے لیے میں
11:35اس سے بڑی اور کیا مثال ہوں گا
11:37حضور نبی کریم علیہ السلام کے جلیل
11:39حضرت صحابی
11:40حضرت سہینا عثمان غنی رضی اللہ تعالی
11:42آپ
11:44حیاتِ طیبہ کو دیکھیں آپ
11:45کہ آپ کے جو کافل تجارت کی آیا کرتے تھے
11:49وہ اتنے بڑے ہوتے تھے
11:51ملکِ شام سے اور دوسرے مبالک سے آتے تھے
11:53کہ جہاں تک انسان کی نظر جاتی تھی
11:55وہاں تک اونٹوں کی ایک طویل کتار ہوا کرتی تھی
11:58اور آپ کا جو آپ
11:59عرب کے بڑے جو بزنس مہنت
12:01ان میں آپ کا شمار ہوتا تھا
12:03ایک صرف غزبِ طبوق کے موقع پر
12:05حضرت سہینا عثمان غنی نے
12:07ایک ہزار اونٹ جو ہے
12:09حضور نبی کریم علیہ السلام کی بارگاہ
12:11اکدس میں پیش کیا
12:13درہم پیش کیا ہے دینار پیش کیا
12:15اور حضرت سہینا عبد الرحمن بن عوف
12:17کو دیکھ لیجئے
12:18اور حضرت سہینا عثمان غنی
12:21کاروبار بھی دیکھ لیجئے
12:22اور آپ کو جتنی اللہ کریم نے
12:24مال و دولت سے نوازاتا اس کو بھی دیکھ لیجئے
12:26اور بارگاہ ربوبیت میں
12:29آپ کا جو اتنا درجہ تھا
12:31اور اتنی اہمیت تھی
12:33کہ حضور نبی کریم علیہ السلام نے
12:35کئی موقع پر جو آپ کی فضیلت
12:37کو بیان کی ہے
12:38حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دیکھ لیجئے
12:41آپ نے جب دنیا سے تشریف لے گئے
12:44تو آپ نے تقریباً
12:45ایک ہزار اونٹ ترکے میں چھوڑا
12:47تین ہزار سے
12:49زائد کا بڑا ریوڑ جو بھیڑ
12:51اور بکریاں تھی وہ چھوڑا
12:52اس کے علاوہ سب سے بڑی بات جو ہے
12:54وہ بہت سے درم اور دینار جہاں چھوڑے
12:56وہاں پر جو گولڈ چھوڑا آپ نے سونا
12:58وہ کہتے ہیں اتنا بڑا تھا
13:00کہ اس کو کلہاروں سے کاٹ کے تقسیم کیا گیا
13:03آپس میں اور یہ دیکھ لیجئے
13:05لیکن کیا تھا جو اختتامی جملہ بولا
13:07یہ ساری چیزیں موجود تھی
13:08لیکن دل میں مال کی اس طرح محبت نہیں دی
13:11دل میں اللہ کی یاد اور محبت سے آبا
13:13بے شک تو یہ مفتی صاحب کہا جا سکتا ہے
13:16کہ یہ وہ ہستیاں ہیں مبارک
13:18لیکن حضرت عثمان نے غنی کا ذکر کیا
13:20تو آقا علیہ السلام نے فرما دیا
13:22کہ اب عثمان کو کوئی شئے نقصان نہیں پہنچا سکتی
13:26یعنی اتنا بڑی بشارت
13:28جو کسی کو عطا نہیں ہوئی
13:30وہ حضرت عثمان کو عطا ہوئی
13:31یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ
13:34وہ لوگ تھے جو حضور کے تربیت یافتگان تھے
13:38آج اس عمل کو کیسے ممکن منایا جا سکتا ہے
13:41بسم اللہ الرحمن الرحیم
13:43اللہم صلی اللہ علیہ السیدنا و مولانا محمد
13:46نبی الامی والا آلیہ و صحبہ
13:48و صلیم تسلیم
13:49مطرم صاحب زیادہ تسلیم
13:51احمد صاحب صاحب یہ انسان کا ایک جو دولت
13:54کے ساتھ تعلق ہے اس کو سامنے رکھ کے
13:56یہ گفتگو کی جا رہی ہے اور یہ بہت
13:58ضروری ہے ایک ہے
13:59کسی شخص کے پاس دولت کا ہونا
14:02ایک ہے دولت کی حوث
14:04کو اپنے اوپر سوار کر لینا
14:05یہ دو باتیں دولت کا ہونا معیوب نہیں ہے
14:08اور دولت کی حوث
14:10کو سوار کرنا جب یہ کفی
14:12یاد پیدا ہوتی ہیں تو اس وقت پھر انسان نہیں دیکھتا
14:14کہ مال منع لینا کہاں سے ہے
14:15جیسے کبلا ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ
14:17حریصہ پاک میں ہے کہ مال آیا کہاں سی
14:20اور خرچ کہاں پہ کیا
14:20مردان روم فرماتی ہے کہ آپ
14:23در کشتی کشتی است
14:24آپ زیر کشتی پشتی است
14:27کہ پانی اگر کشتی کی اندر ہو
14:28تو کشتی کے لیے وہ تباہی کا سبب ہے
14:31اور وہی پانی اگر نیچی ہو
14:32یہ کشتی کے لیے کروانی کا سبب ہے
14:35یہ دولت کو اپنے اوپر
14:37اس قدر ہیوی کر لینا
14:38کہ انسان اس کی حوث میں پڑ جائے
14:40پھر انسان نہیں دیکھتا کہ رشوت کیا ہے
14:42پھر سود کیا ہے پھر مال کو غصب کرنا
14:44حرام کیا حلال کیا
14:46تمیز نہیں کر سکتا
14:47لیکن یہی کیفیات
14:49اگر انسان کے اوپر تاری نہ ہو
14:51تو پھر دولت کا ہونا اور اس کا اظہار ہونا
14:53اللہ نے سلمان علیہ السلام کو جو لشکر عطا فرمائے تھے
14:56جو دولتوں سے نوازہ تھا
14:57ان کی چابیہ اٹھانے والے جو غزانوں کے تھے
15:00وہ ہزاروں میں ہوتے تھے
15:01لیکن عبادت اور ریاست کا علم کیا تھا
15:03کہ آپ پوری پوری رات اللہ کے حضور گڑ گڑاتے تھے
15:07اور حضرت دعود علیہ السلام جو عادی دنیا کے بادشاہ بھی گزرے ہیں
15:10لیکن ان کا اللہ رب العزت نے گڑ گرانے کا انداز بھی قرآن پاک کے اندر بیان فرمایا ہے
15:15سرکار غوث عظم جلانی نظروں نے
15:17آپ جو جبشی پہنتے تھے
15:19اس وقت کے بادشاہوں کے پاس نہیں ہوتا تھا
15:21لیکن کیفیت یہ نہیں ہے
15:23جیسے حدیث پاک پیش کی قبراء شاہ صاحب نے
15:24اللہ خوبصورت ہے
15:28اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
15:30اب یہ کیفیت
15:31اس وقت یہ نیت نہیں ہوتی تھی
15:34کہ میرے پاس دولت زیادہ ہے
15:35بلکہ نیت یہ ہوتی تھی کہ ایک دین کا خادم
15:37اس حیثیت کے سامنے لوگوں کے سامنے بیٹھے
15:40کہ لوگ اس کو ہیچ نہ سمجھیں
15:41اس کیفیت کو اپنانے کی آج بھی ضرورت ہے
15:44ایک دیندار دین کی رخوالی کرنے والا
15:46رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دین کی چوکی داری
15:48کرنے والا حفاظت کرنے والا
15:50اس کیفیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیٹھا ہو
15:52کہ وہ کسی معاملے میں پریشان بھی نہ ہو
15:54اور لوگ دیکھ کے یہ بھی محسوس نہ کریں
15:56کہ دین شاید کسی اس چیز کا نام ہے
15:58جس میں انسان دنیا سے بے بس ہو جائے
16:00بلکل ٹھیک
16:01ناظرین اکرام یہاں ایک مختصر سا وقفہ لیں گے
16:03وقفے کے بعد لوٹتے ہیں
16:04اس یقین کے ساتھ آپ کا ہی نہیں جائے
16:06ناظرین اکرام خوش آمدید
16:08آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
16:09رحمت سہر تسلیم صابری کے ساتھ
16:11یہ تیہ ہوا علماء اکرام کی گفتگو سے
16:14ان کی دانمائی سے
16:15یہ تیہ ہوا کہ یہ ضروری نہیں ہے
16:18یہ تصور غلط ہے
16:19کہ انسان کو
16:20یا تو دنیا مل سکتی ہے
16:22یا آخرت
16:23تو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے
16:26یہ تصور سراسر
16:28اگر اسے ایز ای ہول دیکھا جائے
16:31تو یہ غلط ایک تصور ہے
16:33لیکن دنیا کے ساتھ ساتھ
16:36دین آخرت کا تصور
16:38اللہ رب العزت کی رضا
16:39اور خوشنودی کا تصور
16:41یہ ساتھ رہنا
16:43دنیا کے ساتھ ساتھ
16:45جسے صوفیاء کہتے ہیں
16:46کہ دنیا میں رہ کر بھی
16:48دنیا میں نہیں ہے
16:49دنیا کی حوث
16:50دنیا کی لالچ نہیں ہے
16:52تاریخ میں ایسی بہت سی شخصیات گزری ہیں
16:55حضرت امام آزم کا ذکر ہوا
16:57قبلہ
16:57کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جو لباس پہنتے تھے
17:01دوسری مرتبہ نہیں پہنتے تھے
17:02حضور غوث آزم کے لیے
17:04کہ آپ کے کپڑوں پر
17:06آپ کے جبے پر
17:09ہیرے جواہرات جڑے ہوتے تھے
17:12آپ دیکھئے ہیں
17:12کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:15نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق
17:17رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
17:18جو خدمت مالی ہے
17:19اس کو کئی مرتبہ آپ نے ذکر فرمایا
17:22اور آپ نے فرمایا
17:28مال کا لفظ ذکر کیا
17:29کہ مجھے کسی کے مال نے
17:31اتنا نفع نہیں دیا
17:32جتنا ابو بکر کے مال نے نفع دیا ہے
17:34اس کا مطلب ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق
17:36رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مال تھا
17:38تو حضور کی خدمت میں پیش کیا
17:39اور اس کے علاوہ جتنے بھی مواقع آئے
17:42کیونکہ وہ آپ خود
17:43تجارت سے تعلق رکھتے تھے
17:46اور متمول گرانے سے تعلق رکھتے تھے
17:49اچھا ایک اور بات میں عرض کروں
17:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
17:52اگر اپنی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرے
17:54تو حضور بھی الحمدللہ
17:56ایسا مسئلہ نہیں تھا
17:58حضور علیہ السلام کا اپنا ذاتی فقر
18:01جو تھا وہ بھی اختیاری تھا
18:02اختیاری فقر تھا
18:03اور وہ بھی آپ دیکھئے کہ حضور علیہ السلام
18:05نے اپنی ازواج کو جو حق مہر ادا کیا ہے
18:07وہ پانچ سو درہم
18:09کم از کم پانچ سو درہم چاندی ہے
18:11اور ابھی اس وقت
18:13کم از کم ہم جب بھی
18:15کوئی کسی نکاح کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں
18:17تو وہاں حق مہر کی بات ہوتی ہے
18:18کتنا رکھنا چاہیے جی
18:20کم از کم دس درہم چاندی
18:21تو حضور نے فرمایا
18:25اور اس وقت ابھی
18:26حال میں چاندی کی قیمت زیادہ ہوئی ہے
18:28تو تقریباً تیس ہزار
18:29پچاس ہزار تک گیا ہے
18:30لوگ پریشان ہوتے تھے
18:32پچاس ہزار
18:32دس درہم چاندی پچاس ہزار
18:34اور پانچ سو درہم چاندی
18:35کتنی مہر بنے گا
18:37اس کا مطلب ہے
18:38وہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم
18:39کے پاس ہوتا تھا
18:4032 روپے کان سے آگئے
18:42یہ بس اسی طرح کی بات ہے
18:44اصل میں
18:46جو حضور سرور کائنات
18:47صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:49کی اپنی ایک شان تھی
18:50اور حضور کی خدمت میں
18:51تو حضرت جبریل حاضر ہوئے تھے
18:52انہوں نے آکے عرض کیا تھا
18:53کہ حضور اگر آپ
18:54پسند فرماتے ہیں
18:55تو یہ اہد پہاڑ سونے کا ہو جاتا ہے
18:57اور آپ جہاں تشریف لے جائیں گے
18:58آپ کے ہمراہ رہے گا
18:59لیکن حضور علیہ السلام
19:01نے اس کو پسند نہیں فرمایا
19:03لیکن
19:03اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے
19:05کہ مال کو
19:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:09نے
19:11یعنی
19:12ناپسندیدگی کی وجہ
19:13قرار دیا ہے
19:14اور کسی شخص کے
19:15زوال کی وجہ قرار دیا
19:17نہیں
19:17حضور علیہ السلام نے فرمایا
19:19لا حسد الا فی اسنائم
19:21رشک یہاں
19:22حسد ممانہ رشک ہے
19:23کہ رشک جو ہو سکتا ہے
19:24وہ دو لوگوں میں ہو سکتا ہے
19:26ویسے رشک بنتا نہیں ہے
19:27کسی میں
19:28دو لوگ
19:29ان میں سے ایک وہ ہے
19:30اللہ نے جس کو علم اطاف کیا ہے
19:32اور وہ علم کے مطابق
19:33فیصلے کر رہا ہے
19:34اور لوگوں کو سکھا رہا ہے
19:35اور دوسرا وہ شخص ہے
19:37جس کو اللہ نے مال دیا ہے
19:38اور اللہ نے جیسے مال دیا ہے
19:40وہ اس جگہ پر خرچ کرتا ہے
19:41جہاں اللہ نے حکم دیا خرچ کرنے
19:42تو مال دیا ہے
19:44تو اس کا مطلب ہے
19:45کہ وہ قابل رشک ہے
19:46تو قابل رشک وہی شخص ہو سکتا ہے
19:48جسے پاس کوئی نعمت موجود ہو
19:49تو یہاں گویا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
19:51نے مال کوئی نعمت قرار دیا
19:53اسی طرح آپ قرآن مجید
19:54سورہ آل عمران کو دیکھیں
19:56تو وہاں پر یہ فرمایا گیا ہے
19:57کہ انسان کے دل میں
19:58اس کی محبت موجود ہے
19:59زینا للناس حب الشہوات
20:02من النسائی والبنین
20:03والقناتیر المقنطرہ
20:05من الذہب والفدہ
20:06وخیر المسمع
20:07سونا چاندی
20:08سواریاں گھوڑے
20:10یعنی اس وقت کی جو چیزیں تھی
20:12یہ انسان کے دل میں
20:13اس کی محبت موجود ہے
20:15اور یہ اللہ کی طرف سے
20:16عطا کی گئی محبت
20:17بے شک
20:17لیکن اصل میں جہاں پر
20:19مسئلہ گھڑبر ہوتا ہے
20:20جس طرح احباب بھی
20:21گفتگو فرما رہے ہیں
20:22وہ ان کے استعمال کا مسئلہ ہے
20:23اور ان کے حصول کا مسئلہ ہے
20:25اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی
20:26یہ نعمتیں موجود ہیں
20:27تو الحمدللہ
20:28ان کو انسان
20:29اچھے طریقے سے استعمال کرے
20:30اللہ کا شکر ادا کرے
20:32اور اس کے ایمان میں
20:34زیادہ مضبوطی کا باعث بنے
20:35اور محتاجی سے انسان بچا رہے
20:38اور زیادہ بہتر طریقے سے
20:40زندگی بسر کرے
20:41تو میں سمجھتا ہوں
20:41کہ یہ بہت بڑی نعمت ہے
20:42یہ بلکل کلیر ہو گیا
20:44واضح ہو گیا
20:45کچھ ان عظیم ہستیوں کا
20:47ان صوفیاء کا
20:49اولیاء کا تذکرہ
20:50ہم کرنا چاہیں گے
20:52جنہوں نے یہ تقاضے پورے کیے ہیں
20:54اس حوالے سے
20:55سب دیکھیں
20:57دولت ہوگی
20:58رزق حلال ہوگا
21:00اچھے یہاں پر ایک چیز
21:01میں بڑی اہم بیان کرنا چاہتا ہوں
21:03اپنے کہ
21:03دیکھیں اسلام ہمارے
21:04ایک بڑا توازن ہمیں دیتا ہے
21:06دیکھیں ایک ہوتا ہے
21:08کہ ایک مناسب انداز میں
21:09میرے پاس
21:09اگر پیسے ہوں گے
21:11تو میں دین کی خدمت کر سکوں گا
21:13میں کسی درس میں دے سکوں گا
21:15میں درس بنوا سکوں گا
21:16میں مسجد کی مرمت کروا سکوں گا
21:18میں مسجد بنوا سکوں گا
21:19جو دین کی
21:20دین کا علم حاصل کرنے کیلئے
21:22طلاعبہ ہیں
21:22میں ان کی رہنمائی کر سکوں گا
21:24ان کے لئے بہتری
21:25کے لئے اسبات پرہ سکوں گا
21:28That's a good thing.
21:58When I was told that I had to stop laughing at the place.
22:00He did a clip with gold-plated.
22:04He came to see that he was a person who had to come and said that he was a person
22:09who had to come and said,
22:10I got a wonder.
22:11I was told that I had to stop laughing at the place.
22:12He made a clip with gold-plated.
22:20You said that I had to say,
22:27Wow.
22:28Wow.
22:28Wow.
23:05Wow.
23:47Wow.
23:48Wow.
23:49اب یہ بات چلی ہے تو یہ کلیریفائے ہونا ضروری ہے کیا وجہ بن گئی کہ دیندار طبقے کے پاس
23:55پیسے نہیں ہونے چاہیے پیسے دیکھے تو عام طبقہ وہ ایک حسد کا شکار ہو جائے گا کہ بھئی یہ
24:03مذہبی آدمی ایک عالم ہے یا ایک مولانا ہے یا کوئی ایک ناتخان ہے یا کوئی ایک پیر ہے یا
24:10کوئی قطیب ہے اس کے پاس پیسہ کیوں آ گیا ہے اس کے پاس اچھی گاڑی کیوں ہے یہ تصور
24:16کیوں آ گیا ہے
24:17ماشاءاللہ آپ نے بہت اچھی بات کی ہے اور اس بات
24:20حالو یہ کلیریفائے ہو جائے میں چاہتا ہوں
24:22اور یہ بات جب آپ کے زبان پہ آئی تو ہمیں بہت سارے تصورات ہمارے ذہن میں گھومنے لگے
24:26کئی جگہ پہ یہ فلاں مولوی صاحب کی چھٹی اصلی ہو گئی کہ اس نے گاڑی لے لیے اس نے
24:30اپنی کوٹھی بنا لیے وغیرہ وغیرہ
24:32بات یہ ہے کہ قرآن کریم فرکان حمید میں اللہ رب العزت نے نیک لوگوں کی خصوصیات کا ذکر بھی
24:38فرمایا
24:40گلوکار کے پاس پیسہ ہے تو ٹھیک ہے
24:42وہی میں ارز کر رہا ہوں
24:43اب اس میں کسی جگہ پر یہ ارشاد نہیں فرمایا گیا کہ اس کے پاس دولت نہ ہو
24:48اور سرکار نے فرمایا کہ اللہ اخبرکم میں کیا تمہیں بتا دوں
24:53الاخیار کہ تمہیں خیارکم یا الاخیار تمہیں اچھے لوگ کونسے ہیں
24:57پھر سرکار نے فرمایا ازار اوزو کر اللہ جب ان کو دیکھو تو اللہ کی یاد آجائے
25:01اور پھر فرمایا بشرارکم کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تمہیں سب سے گندے لوگ کونسے ہیں
25:06تو پھر سرکار نے جب گندے لوگوں کے خوبیہ بیان کی اس میں یہ نہیں ان کے پاس دولت ہو
25:10سرکار نے ارشاد فرمایا وہ گندے لوگ جو ہے
25:13جو لوگوں کے درمیان فساد فلانے والے ہیں
25:16اللہ اللہ
25:17اور اس میں جو سرکار نے اگلی خوبی بیان کی یا اگلی اس کی خاصیت بیان کی
25:21سرکار نے ارشاد فرمایا کہ وہ ایسے لوگ ہیں
25:27فرمایا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو لوگوں کے اندر خامیہ تلاش کرتے ہیں
25:31یہ سرکار نے ان لوگوں کے بارے میں
25:33Here, I think this is where you get it, that's how many questions from the audience.
25:37That's how many questions from the audience.
25:38Yes, that's why we built a video.
25:42Right, so we've got a video and created a video from the audience to not have come.
25:47There are no such things.
25:49This is a great idea of the audience that watched the audience and the audience.
25:55The audience has talked about the views of the Prophet.
25:58ڈاللہ قبلہ پیر صاحب نے فرمایا رضی اللہ عنہ ہو آپ کے پاس دولت تھی لیکن بات وہی ہے کہ
26:03محبت نہیں تھی جب آپ نے حکومت سنبھالی اس وقت سے لے کر آپ کے وسائل تک روزانہ بلا ناغہ
26:09مشجد نبی شریف کے آگے آپ کی طرف سے دو وقت کا لنگر دیا جاتا تھا
26:13ایک دفعہ ایسی قیفیت بھی ہوئی کہ ایک کوئی شخص بیر سے مسافر آیا اس نے لنگر لیا لنگر لے
26:19کے مسجد کے کونے میں کھانے لگا اس نے دیکھا کہ بابا جی بیٹھے ہیں
26:22so i want to go to the water
26:22and cook at the pot
26:23I'll give it a good idea
26:25because sheходит
26:26what I don't know
26:27that I'll consume it
26:28then it will last
26:29it will last
26:29and give it a good idea
26:33he lets me ask
26:34that I don't know
26:35that I don't know
26:35that when I'm telling him
26:35when I question him
26:35he'll tell you
26:36he'll talk to me
26:37that I wanna eat
26:38he'll take the water
26:39he'll tell him
26:39these things we have
26:40we'll talk about
26:42I break it
26:43which I'll give it
26:43which I'm going to start
26:43the other ones
26:44I want to know
26:46I'll give it
26:47that I'll give it
26:48as well
26:48which I'll tell you
26:49we'll try to understand
26:49that we have
26:50So allah Music
27:20waa waa waa waa.
27:21حسنین مذری صاحب,
27:22ما شاءاللہ.
27:22بسم اللہ कلام شامل کرتے ہیں.
27:50Oh
27:50Oh
27:51I
27:52I
27:53I
27:54I
27:56I
28:05I
28:07I
28:08I
28:09I
28:09I
28:10I
28:11I
28:11I
28:20I
28:21I
28:21I
28:22I
28:22I
28:25I
28:26I
28:26I
28:26I
28:27I
28:30I
28:30I
28:32I
28:32I
28:32I
28:36I
28:44I
28:45I
28:46I
28:46I
28:46I
28:47I
28:47I
28:52I
28:53I
28:53I
28:56I
28:57I
28:57I
28:57I
28:57I
28:59I
28:59I
28:59I
29:00I
29:03I
29:05I
29:07I
29:08I
29:08I
29:09I
29:09I
29:11I
29:13I
29:14I
29:15I
29:20I
29:21I
29:21I
29:21I
29:23I
29:25I
29:27I
29:27I
29:28I
29:29I
29:30I
29:31I
29:33I
29:34I
29:34I
29:35I
29:40I
29:41I
29:41I
29:41I
29:49I
29:50I
29:50I
29:50I
29:52I
29:54I
29:54I
29:56I
29:57I
29:58I
30:04I
30:05I
30:06I
30:08I
30:08I
30:09I
30:12I
30:15I
30:17I
30:17I
30:17I
30:24I
30:26I
30:27I
30:27I
30:28I
30:29I
30:31I
30:33I
30:34I
30:36I
30:37I
30:38I
30:40I
30:42I
30:42I
30:44I
30:45I
30:47I
30:52I
30:53I
30:53I
30:54I
30:55I
30:55Jis kader bhi ho
30:59Yehi lagta hai
31:02Kam hooti hai
31:07Jis ko khairat e
31:12Dar e shahe
31:15Arab mil jayen
31:20Kab ushe arzu'e
31:26Jaho hasham
31:28Hooti hai
31:32Mazhar hi
31:34Jis ko kham e
31:37Ibn Ali mil jayen
31:42Bas ushe
31:44Aag hi hai
31:46Lazzat e gham
31:49Hooti hai
31:52Sa hai
31:54Vena
31:56Jis ko khairat e
Comments

Recommended