00:02شان رمضان شان رمضان
00:06ہے مومنوں کے دل کا اُجعلہ شان رمضان
00:14ناظرین اکرام خوش آمدید
00:16آپ program دیکھ رہے ہیں
00:17رحمت سہر تسلیم صابری کے ساتھ
00:19اور اس موضوع کی برکت سے
00:21یہ بھی سوال آج انٹرٹین ہو رہا ہے
00:24ہمیں پتہ چل جائے
00:25کہ چالیس کی بھی کوئی اهمیت ہے
00:27حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ مبارک ہستی ہیں جو چالیس میں مسلمان تھے
00:35اور صحابہ اکرام میں جو عشتہ جذبہ تھا جب حضرت عمر ان کی صفوں میں تشریف لائے تھے
00:41مراد رسول ہیں اور آقا علیہ السلام کی خوشی بھی دیدنی تھی
00:46کہ یہ دعاؤں کا سمر تھا عمر فاروق
00:49اور یہ ایک خوشی تو حضرت عمر کی آنے کی تھی
00:53اور ایک چالیس کے عدد پورے ہونے کی خوشی تھی
00:56یہ ایک کمال تھا
00:58چالیس کی کوئی خاص بات ہے
01:00دو حصے ہیں
01:02ایک حصہ گفتگو کا وہ ہے جس طرف شاہ صاحب نے تجرد کی حوالے سے اشارہ کیا
01:07اس میں علامہ کے بڑے خوبصورت دو شعر ہیں
01:11وہ میں پیش کر کے پھر چالیس کی طرف آتے ہیں
01:14در شبستانِ حرا خلوت گزید
01:16قوم و آئین و حکومت آفرید
01:19کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے حرا کے شبستان میں خلوت گزینی کی
01:24اس کے نتیجے میں قوم وجود میں آئی
01:27آئین وجود میں آیا
01:28حکومت وجود میں آئی
01:30اور دوسرا شعر ہے
01:32ماند شبہ چشم او محروم نوم
01:34تاب تخت خسروی خابیدہ قوم
01:37آپ کی جو آنکھیں ہیں
01:39مبارک چشمان ہیں
01:41وہ پتہ نہیں کتنا عرصہ
01:44نیند سے بے خبر رہیں
01:46تب جا کر آپ کی امت نے تخت خسروی پر آرام کیا
01:51اب آ جائیں چالیس کی عدد کی طرف
01:54چالیس کی عدد کی اہمیت تو قرآن پاک میں بھی ہے
01:56مثلا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلے تین راتیں
02:00تیس راتوں کا کہا گیا
02:02پھر رب نے دس
02:03اضافہ کر کے چالیس کر دی
02:05ایک اہمیت
02:06دوسری اہمیت
02:07جو فکری بلوغ ہے
02:10فکری بلوغت جسے آپ کہتے ہیں
02:12فکری پختگی ہے
02:13وہ بھی چالیس سال کے حوالے سے ہے
02:15انسان میں
02:16انسان میں
02:16یہ بھی قرآن پاک میں موجود ہے
02:23کہ وہ اپنی جب مضبوطی کو پہنچتا ہے
02:26حتی کہ جب وہ اپنی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے
02:29اسی لئے شیخ سعادی نے یہاں سے استدلال کرتے ہوئے کہا
02:33کہ چہل سال عمر عزیزت گزشت
02:36میری عمر کے چالیس سال گزر گئے
02:39مزاج تو از حال تفلی نگشت
02:41لیکن ابھی تک تیرا بچکانہ مزاج ختم نہیں ہوا
02:44اب تو پختگی آ جانی چاہیے
02:46تو تیسری چیز جو ہے
02:48جو انبیاء کو نبوت نصیب ہوتی ہے
02:51جب وہ اظہار نبوت کرتے ہیں
02:53تو وہ بھی چالیس سال کہا جاتا ہے
02:54اعلان جو ہے
02:55اعلان جو ہے
02:56وہ بھی چالیس سال ہے
02:58اور اسی طرح
03:01چالیس کے عدد میں
03:02ایک اور پہلو بھی ہے
03:05کہ حدیث پاک میں
03:07چالیس احدیث کو یاد کرنے کی جو ہے
03:09بہت فضیلت ہے
03:10چہل حدیث جیسے کہا جاتا ہے
03:12چہل حدیث ہے
03:13اس کی بھی فضیلت ہے
03:15اسی طرح چالیس کے عدد کی
03:18کئی اور بھی ڈیمنشنز ہیں
03:20جس پر مزید گفتگو بھی ہو سکتی ہے
03:23لیکن اس موضوع کی برکت سے
03:26یہ چیزیں ہم تک
03:28بہرحال یہ فکری پختگی کی علامت ہے
03:30چالیس
03:31شاہ صاحب کیا کہتے ہیں
03:32بلکل بڑی خوبصورت انداز میں بتایا
03:36سعیدی صاحب کی بلا نے
03:37انسان کا جو نفسیاتی اعتبار سے
03:41اور فکری پختگی کے اعتبار سے
03:44اور قوت فیصلہ جو اس کی ہوتی ہے
03:47اور وہ اس وقت پورے شباب پر ہوتی ہے
03:49اللہ کریم کے
03:52ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے
03:54یقین
03:54تو اس سے بزرگان دین اور
03:56اعتبار سے بہتایا ہے
03:57انہوں نے چالیس کے حرف کی
03:59اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے
04:01اور اس فضیلت کو دیکھتے ہوئے
04:03اور ایک نسبت کو دیکھتے تھے
04:06ہم تو نسبت کے ماننے والے لوگ ہیں
04:07جی ہم بالکل
04:07انہوں نے اس نسبت کو مانتے ہوئے
04:10اور دیکھتے ہوئے
04:11اور انہوں نے چالیس دن کے لیے
04:14اپنے آپ کو
04:15وہ جو دنیا کے معاملات سے
04:18ان کو الگ کرنے کا ایک روایت کی
04:21ایک خوبصورت روایت کی بنیار ڈالی
04:23ٹھیک ہے
04:23اور دیکھیں پھر اس میں وہ محاسبہ نفس کرتے ہیں
04:26انسان میں ایک چھوٹی سی مثال دے کے بعد
04:28قبلہ یہ بھی تو ہے نا
04:29کہ وہ جو چالیس دن نماز پابندی سے پڑھ لیتا ہے
04:32پھر وہ عادی ہو جاتا ہے
04:34یہ چالیس کا دیکھیں کوئی خاص ہے
04:36کتنی بڑی یہ
04:37بڑی خوبصورت آپ نے یہ جانب کہی
04:39کہ انسان اگر ایک کسی بھی اچھی عادت کو
04:42جب چالیس روز کے لیے پناتا ہے
04:45تو وہ اس کے عادات میں شامل ہو جاتی ہے
04:47وہ شامل ہو جاتی ہے
04:50مسجد نبی شریف میں چالیس نمازوں کی بڑی فضیلت ہے
04:54چالیس نمازوں کی دیکھیں
04:56تو اس لیے انسان چالیس دن تو کافی اچھا وقت ہے
05:00خوبصورت وقت ہے
05:01اگر انسان تین روز کے لیے
05:03انسان ذرا دنیا سے اپنے آپ کو الہدہ کر لے
05:06اور ان تین روز میں انسان
05:09اگر ہر نماز پڑھنے کے بعد
05:11کچھ بھی نہ کرے
05:12صرف احتصاب نفس اگر کر لے
05:15کہ میرے اندر کون کونسی کمزوریاں ہیں
05:18کون کونسی برائیاں ہیں
05:19کون کونسی خامیاں ہیں
05:21تو آپ یقین کیجئے صرف تین دن کا نتیجہ
05:24بڑا خوبصورت نکل آتا ہے
05:25اور چالیس دن کے لیے
05:27تو پکا ہو جاتا ہے
05:30بزرگان دین نے خود بھی
05:32اچھا پھر ایک اور بات
05:33بہت سے بزرگان دین آپ تاریخ تصوف کیسے پڑھیں
05:36چلا تو ایک ہے نا
05:37جو چالیس روز کے لیے
05:39کسی بھی شخص کو اپنے ساتھ منسلک رکھتے تھے
05:43کہ تم نے چالیس روز کے لیے
05:44میری صحبت میں میری مجلس میں بیٹھنا ہے
05:46وہ اس کا اثر وہ اللہ اللہ اللہ
05:47اور اب آپ دیکھیں تذکیہ اور تصفیہ
05:49اور پھر وہ جو پریکٹیکل ہی دیکھتا تھا
05:52کہ ایک نقش ایک نیک بندہ ہے
05:54ایک اللہ کا برگزیدہ بندہ ہے
05:55ایک انام یافتہ بندہ
05:56اللہ کا ایک پسندیدہ بندہ یہ عمل کر رہے ہیں
05:59اور محبت اور شفقت کے وہ ساتھ چالیس روز
06:01اس کو کروا رہے ہیں
06:02تو کیا بات ہے
06:03اس کے کتنے خوبصورت اس کے پھر اثرات جو
06:05بہت یہ گفتگو سن کے میرا تو جی چاہ رہا ہے
06:08جماعتی صاحب سے ہم چالیس ناتیں سنتے آج
06:11لیکن اب ٹائم نہیں ہے
06:12موقع نہیں ہے
06:13تو بسم اللہ
06:14کلام شامل کرتے ہیں جماعتی صاحب
06:16ہمارے سے بسم اللہ
06:18کوئی صلیقہ ہے یا ارزو کا
06:29نہ بندگی میری بندگی ہے
06:40یہ سب تمہارا کرم ہے آقا
06:51یہ سب تمہارا کرم ہے آقا
07:01کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
07:10یہ سب تمہارا کرم ہے آقا
07:19کسی کا احسان کیوں اٹھائے
07:44کسی کو حالات کیوں بتائیں
07:53تم ہی سے مانگیں
07:58کہ تم ہی دوگے
08:03تم ہی سے مانگیں
08:08کہ تم ہی دوگے
08:12تمہارے در سے ہلو لگی ہیں
08:21یہ سب تمہارا کرم ہے آقا
08:32عطا کیا
08:41مجھ کو دل کے الفتح
08:52کہاں تھی یہ پرخطہ کی قسم
09:02کہاں تھی یہ پرخطہ کی قسم
09:10میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
09:19میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
09:29حضور کی بیدہ پیوری ہے
09:37یہ سب تمہارا کرم ہے آقا
09:47بشیر کہیے نظیر کہیے
10:02انہیں صدا جو منیر کہیں ہے
10:10جو سربسر ہے کلا میرا بھی
10:18جو سربسر ہے کلا میرا بھی
10:27وہ میرے آقا کی زندگی ہے
10:36یہ سب تمہارا کرم ہے آقا
10:50لازم اکرام خوش آمدید آپ کا خیر مقدم ہے رحمت سہر میں اور انسان اور معاشرے کے حوالے سے گفتگو
10:57ہو رہی ہے
10:58معاشرے کی تشکیل میں اولین جو اسلامی معاشرہ جو مثال بنا اس کی تشکیل میں ان تین سو تیرہ کا
11:07بہت اہم کردار ہے جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانسار ہیں
11:14اور وفادار ہیں اور جانے نچاور کرنے والے ہیں ان تین سو تیرہ اصحاب بدر آج سترہ رمضان بھی ہے
11:23جن کے لیے آقا علیہ السلام نے رب تعالی سے عرض کی کہ مولا اگر یہ تین سو تیرہ نہ
11:30رہے
11:31تو اس دنیا پر اس قرعہ عرض پر تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا
11:36اور صحابہ کرام روایات میں ملتا ہے کہ جو آقا علیہ السلام کی کیفیات
11:42حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ نہوں ہیں جو عریش پر آقا علیہ السلام کے ساتھ ہی رہے
11:50مولا کائنات فرماتے ہیں کہ میں بار بار میدان جنگ میں جاتا کبھی حضور کی پاس آتا پھر میدان جنگ
11:57میں جاتا
11:58اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضور کو اس کیفیت میں اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا نہ اس
12:04کے بعد دیکھا پھر غیبی مدد آئی
12:06قبلہ ان تین سو تیرہ قیمتی ترین لوگوں کا ذکر
12:11سبحان اللہ تین سو تیرہ جو اصحاب بھدر ہیں وہ اسلامی تہذیب اور تمدن کے جو اولین جنہیں میمار آپ
12:21کہہ سکتے ہیں
12:21وہ ہیں جنہوں نے اپنے اخلاص اپنے ایمان اپنے تقوی اور اپنی استقامت سے ایک ایسی بنیاد کھڑی کر دی
12:32کہ آج ہما ہم اور ہماری نسلیں اور قیامت تک آنے والے مسلمان اور ان کی نسلیں مکروز رہیں گی
12:40اس میں اگر دیکھا جائے جو تین سو تیرہ یہ جو لوگ تھے یہ عجیب ایک قیفیت تھی
12:50کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا والہانہ پن اور پھر بے سر و سامانی میں
12:57نکل کھڑا ہونا
12:57یعنی ایمان بالغیب جسے کہتے ہیں نا صحیح ایمان بالغیب
13:06قرآن جن کے لیے ہدایت ہے جو اہل تقوی کی پہلی صفت ہے ایمان بالغیب
13:11یہ اس کا کامل مزہر تھے ایک حال اس دور میں اپنے دور میں جو فریاد کرتے گئے
13:19یقین مثل خلیل آتش نشینی یقین اللہ مستی خود گزینی سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار غلامی سے بد ترہ
13:28بے یقینی
13:29ان تین سو تیرہ کا یقین جو تھا وہ صرف اور صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ ودہا
13:36کے گردی گھوم رہا تھا
13:38وہ جو آپ فرماتے گئے ویسے ویسے وہ کرتے ہیں
13:59ایک ایک شخص جو ہے وہ ایمان کی اخلاص کی قربانی کی شجاعت کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز پتر
14:08آپ
14:08کوئی شک نہیں حق ہے
14:09جنہوں نے میدان میں نکل کر اور یہ ثابت کر دیا کہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے کے لیے محض
14:16تعداد ہی کو بنیاد نہیں بنایا
14:19اور اسباب کو بھی
14:20اسباب کو بھی نہیں بنایا جا سکتا
14:22دولت ایمانی سے تاریخ کے بہتے ہوئے دھارے کا رخ تبدیل کریا جا سکتا
14:27اقل کو بھی مہوے حیرت کر دیا انہوں نے
14:30اور ان کی دل میں توقل کا اور اخلاص کا کیا عالم ہوگا
14:36اور پھر دیکھئے ان جیسا خوش نصیب اور بلند بخت شخص کون ہوگا
14:41جنہیں اللہ کریم نے اپنی رضا کا مجدہ اطاف فرما دی
14:44مغفرت کا مجدہ اطاف فرما دی
14:46اور پھر ان کی نبی کریم علیہ السلام کی ذات اقدس سے
14:51محبت قلبی محبت کا عالم کیا ہوگا
14:54اور پھر ان کیوں اس حوالے سے بھی عظمت تو دیکھئے
14:56کہ جب وہ میدان میں ہوتے ہوں گے
15:01تو ان کی نظر اٹھتی ہوگی
15:02تو آقا کریم علیہ السلام کے رخیہ انور پر پڑتی ہوگی
15:05تو آپ نے کتنا خوبصورت جملہ فرمایا
15:07کہ اس میں سے اگر ہزاروہ نہیں لاکوہ نہیں کروڑوہ حصہ بھی
15:11اس کی کوئی حرارت اس کی کوئی ہمیں بھی مل جائے
15:15سمندر سے چند کترے ہمیں بھی اگر مل جائے
15:17تو انسان جو ہے اس کی پوری زندگی جو ہے وہ تبدیل ہو جائے
15:20بلکل ایسا ہی ہے یہ یقین اور وہ تو جو کہتے ہیں نا وہ کر دکھایا انہوں نے
15:26جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا
15:28جو کوئی سوچ نہیں سکتا وہ انہوں نے کر دکھایا
15:32کہ یا رسول اللہ ہم تو آپ کے مکڑے کو دیکھ کر جان دے دیں گے ہم تو
15:36ہم تو جان دینے کے لیے تیار ہیں
15:38یعنی یہ وہ لوگ ہیں اتنے قیمتی کہ کائنات کے بہترین لوگوں
15:44نبیوں کے بعد کائنات کے بہترین لوگوں کے بھی بہترین لوگ ہیں یہ
15:49یہ تین سو تیرہ
15:52ناظرین اکرام آج کے موضوع کے حوالے سے چند جملے جو ہم اسلام
15:57انسان اور معاشرے کے حوالے سے
15:59جی اگر
16:00conclusion
16:01جی جی
16:03لوٹ جاہد نبی کی سمت اے رفتار جہاں
16:06پھر میری پسماندگی کو ارتکا درکار ہے
16:09واہ
16:10ہمیں اگر ارتکا چاہیے تو پھر ادھر ہی لوٹنا ہوگا اور وہاں سے خیر ملے گا
16:15شاہ صاحب
16:16حضور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ معاشرہ جو ہے
16:18اس کو ایک خوبصورت کس طرح کیا جائے
16:21ہماری معاشرتی جو آج کا موضوع ہے
16:23آج کی جو معاشرتی ہمیں اللہ کریم نے عطا فرمائی ہے
16:26خاندانوں کمبوں کبیلوں قوموں کی صورت میں ہماری شناخت بنائی ہے
16:31اس کی خوبصورتی یہ ہے
16:32کہ کوئی آپ کے پاس رہے
16:34تو اس کو تحفظات نہ ہو
16:36کوئی آپ سے دور اگر جانا چاہے
16:39آپ کی زندگی سے چند قدم پیچھے اٹنا جائے
16:42تو اس کو کچھ خطرات نہ ہو
16:43آپ کی جو شخصیت ہے
16:46آپ کا وجود جو ہے
16:47وہ ہر رشتے کے لیے
16:50ایک مسررت کا
16:51ایک رہت کا باعث ہے
16:53بہت شکریہ ڈاکساہب کبلہ
16:54آپ کی آمد کا شاہ صاحب کبلہ
16:56آپ کی آمد کا کباتی صاحب کبلہ
16:58آپ کی آمد کا بھی بہت شکریہ
17:00لازنے کرام
17:02اللہ رب العزہ
17:03اپنی اللہ کی مخلوق
17:05اللہ کا کمبہ قرار دی گئی ہے
17:07یہ مخلوق کمبہ ہے
17:10اور ان کے اتحاد
17:12کا منظر
17:14دنیا میں
17:15ایک مسلمان کے لیے فخر کا باعث ہے
17:18کہ جب حج کا منظر دیکھتے ہیں
17:21میدانِ عرافات میں دیکھتے ہیں
17:24نمازوں میں جو جماعت کے ساتھ نمازیں ہوتی ہیں
17:27اتنا بڑا اجتماع
17:28اکٹھا ایک امام کی آواز میں
17:31وہ جو اجتبائیت نظر آتی ہے
17:33اور جو اتحاد نظر آتا ہے
17:35ایک مسلمان کو قربان ہونا چاہیے
17:38اس منظر پر
17:40کہ جب میدانِ عرافات کا منظر دیکھیں
17:43اور نماز تو
17:43گھر پہ ہو سکتی ہے
17:45پڑھی جا سکتی ہے
17:46اکیلے بھی پڑھی جا سکتی ہے
17:48لیکن اجتماعیت میں
17:51جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو
17:53اللہ رب العزت نے
17:54افضل قرار دیا
17:56کئی کئی گناہ اس کا عجر بڑھا دیا
17:58اسی لیے
17:59کہ وہ چاہتا ہے
18:01کہ میرے بندے آپس میں ملیں
18:03ایک دوسرے سے ایک دوسرے کا خیال رکھیں
18:06پوچھیں
18:07سوال کیا جائے گا قیامت میں
18:09کہ میں بھوکا تھا
18:10تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا
18:12بندہ عرض کرے گا مولا
18:13تو تو بھوک سے پاک ہے
18:15رب فرمائے گا
18:17میرا بندہ بھوکا تھا
18:19تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا
18:20میں بیمار تھا
18:22تو میری مزاج پرسی کے لیے نہیں آیا
18:25بندہ عرض کرے گا مولا
18:27تو تو ان سب چیزوں سے پاک ہے
18:28رب فرمائے گا
18:30میرا بندہ بیمار تھا
18:32تو اسے دیکھنے نہیں گیا
18:33اللہ رب العزت چاہتا ہے
18:35یہ چاہتا ہے
18:36کہ میری مخلوق
18:38میرے بندے
18:38یہ انسان
18:39ایک معاشرے کی صورت میں رہیں
18:42ایک دوسرے کے ساتھ
18:43رواداری اور اخوت کے جذبے کے ساتھ رہیں
18:46ایک بیمار ہو جائے
18:48ایک کو تکلیف پہنچے
18:49تو دوسرا
18:50اس تکلیف کو
18:51اپنے اندر محسوس کرے
18:52ایک جسم کے عضو
18:55کو جس طرح تکلیف ہوتی ہے
18:56دوسرا عضو
18:58اس کو اپنے اندر
18:59اس طرح سے محسوس کرے
19:00یہ اللہ رب العزت کی رضا ہے
19:03اسی میں اللہ کی خوشنودی ہے
19:05وہ یہ چاہتا ہے
19:06کہ میرے بندے
19:07ایک دوسرے کے ساتھ ملیں
19:09ایک دوسرے کے ساتھ
19:10اتحاد اتفاق میں
19:12ایک اجتماعیت کا تصور دیں
19:14جس سے پھر
19:15خیر ہی خیر ہے
19:17کل انشاءاللہ
19:18ایک مرتبہ پھر
19:19آپ سے ملاقات ہوگی
19:20تسلیم احمد صابری کو
19:22اجازت دیجئے
19:23السلام علیکم
19:24تسلیمات
19:28ہم کو اپنی طلب سے سیبا چاہیے
19:38آپ جیسے ہیں
19:44وہ سیعتا چاہیے
19:49آپ جیسے ہیں
19:53وہ سیعتا چاہیے
19:59بھر کے جو لی میری
20:10میرے سرکار نے
20:13بھر کے جو لی میری
20:18میرے سرکار نے
20:23موسکر آ کے کہا
20:28اور کیا چاہیے
20:33موسکر آ کے کہا
20:38اور کیا چاہیے
20:43سبز گم بدے
20:47بد کے سائے میں
20:51بیٹھا رہوں
20:55سبز گم بد کے سائے میں
21:01بیٹھا رہوں
21:05ایک گناہ گھر کو
21:09اور کیا چاہیے
21:14ایک گناہ گھر کو
21:19اور کیا چاہیے
21:29سامنے آستانے کی ہے
21:36جالیاں سامنے آستانے کی ہے
21:46جالیاں
21:47اے میری چشمیں تر
21:52اور کیا چاہیے
21:56اے میری چشمیں تر
22:01اور کیا چاہیے
22:06کیوں کہوں
22:11کیوں کہوں
22:14کیوں کہوں
22:17یہ عطا
22:20وہ عطا
22:23چاہیے
22:25کیوں کہوں
22:27یہ عطا
22:30وہ عطا
22:33چاہیے
22:35آپ کو
22:37علم ہے
22:40ہم کو
22:41کیا
22:43چاہیے
22:45آپ کو
22:47علم ہے
22:49ہم کو
22:51کیا
22:52چاہیے
22:54آپ جیسے ہیں
22:58ویسی عطا
23:02چاہیے
23:04آپ جیسے ہیں
23:08ویسی عطا
23:11چاہیے
23:23شانِ رمضان
23:25ہے مومنوں کے دل کا
23:29اجالا شانِ رمضان
23:31ہم
Comments