00:00ایک خاتون جب بھی اپنے شوہر کے لئے دل کی پسند کا لذیذ کھانا بناتی تو شوہر ایک گہری سانس
00:06لے کر کہتا آہاں بہت مزیدار ہے مگر ہاں میری ماں اس سے کہیں بہتر پکاتی تھی بیوی ایک نرم
00:13مسکرہت کے ساتھ انہیں دیکھتی اور چپ چاپ چلی جاتی اور جب بھی وہ کوئی خوشبودار پرفیوم لگا کر اس
00:20کے سامنے آتی تو وہ فوراں کہتا واہ کیا بات ہے یہ خوشبو تو بالکل میری ماں کی یاد تازہ
00:26کر دیتی ہے
00:27وہ پھر وہی مسکرہت لیے خاموش رہ جاتی اس طرح اس نے ساری زندگی یہ الفاظ سنتے گزارے کہ میری
00:34ماں کا کھانا ماں کا انداز ماں کی خوشبو ہر بات میں ماں ماں ماں بیوی ہر بار سبر سے
00:41مسکرہ کر گزر جاتی شادی کے بالکل ستائیس سال بعد ان کی پیاری والدہ کا انتقال ہو گیا
00:48تدفین کے بعد شوہر اکیلا بیٹھا ہوا تھا دل بھاری تھا آنکھیں نم تھیں اس کی وفادار بیوی اس کی
00:55تنہائی میں اسے تسلی دینے آئی
00:57اس نے جذباتی لہجے میں آ کر کہا کہ اب تمہارا کھانا بالکل میری ماں جیسا ہو گیا ہے
01:03تمہاری باتیں تمہاری ہنسی تمہاری خوشبو سب کچھ میری ماں کی یاد دلانے لگا ہے
01:09بیوی مسکرہ کر بولی وہ کیسے شوہر نے کہا کہ میں نے تم سے ستائیس سال کی عمر میں شادی
01:15کی تھی اب شادی کو ستائیس سال ہو چکے ہیں اب تم میری ماں جیسی سوچ اور انداز رکھنے لگی
01:21ہو
01:21بیوی نے نرم مگر پختہ آواز میں کہا آپ ریاضی کے پروفیسر ہیں مگر اس بار آپ کا حساب تھوڑا
01:28سا غلط ہو گیا ہے
01:29شوہر حیران ہو کر بولا وہ کیسے بیوی نے آنکھوں میں چمکتے آنسوں کے ساتھ کہا کہ میں جب تک
01:36زندہ ہوں آپ کی ماں کے برابر نہیں بن سکتی
01:39ان کی پچپن سال کی قربانی میرے دس سال کے برابر کہاں ہو سکتی ہے اور جس کے قدموں تل
01:45جنت ہے میں اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہوں
01:48یہ سن کر شوہر کا دل پگھل گیا وہ فرتجز بات سے رو پڑا اور بولا کیا تمہیں کبھی بھی
01:54ان باتوں سے تکلیف نہیں ہوئی جب میں ہر کام میں ماں کا نام لیتا اور ان کی تعریف کرتا
02:00تھا
02:00بیوی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ نہیں کبھی نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے
02:06جب بھی آپ اپنی ماں کی بات کرتے اور مجھ سے معازنہ کرتے تو میں دل میں دعا مانگتی
02:12کہ اے میرے اللہ میرے بیٹے کے دل میں بھی میری محبت ویسے ہی ڈال دے
02:17جیسے تو نے اس کے باپ کے دل میں اس کی دادی کے لیے محبت بھر دی ہے
02:22کیونکہ آپ اپنی والدہ سے جو بے پناہ محبت کرتے ہیں
02:26میں بھی چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا مجھ سے ویسی ہی محبت کرے
02:31اور میرے سرتاج مجھے آپ پر فخر ہے
02:33آخر میں اس نے کہا کہ اگر آج کی بہو یہ بات سیکھ لے
02:37تو بڑھا پے میں اس کا دل سکون سے بھرا رہے گا
02:41آج دوسرے کے بیٹے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والی
02:45کل اپنے ہی بیٹے کو ہاتھوں سے نکلتا دیکھے گی
02:49کیونکہ یہ دنیا مقافات عمل ہے
02:52دوستو آپ کیا کہتے ہیں
02:53بیوی کے سامنے ماں کی تعریفیں کرنی چاہیے کہ نہیں
02:57کمنٹس میں ضرور بتائیے گا
Comments