- 2 days ago
Among the many stories mentioned in the Holy Qur’an, the tale of Qarun (Korah) stands out as a powerful reminder of how pride and greed can lead to destruction. Qarun was one of the richest men in human history, blessed with treasures that required strong men to carry the keys to his vaults. Yet, his arrogance and denial of Allah’s blessings became the cause of his downfall.
In this emotional and enlightening video by Noor TV, we explore the complete Quranic story of Qarun—his rise to unimaginable wealth, his pride, and the divine punishment that buried both him and his treasures deep within the earth.
What happened to Qarun’s gold? Does it still exist beneath the sands of Egypt? Could it ever be found again? Through Quranic verses, historical insights, and Islamic teachings, we uncover the hidden truth and lessons behind this powerful story.
This is not just history—it’s a warning to mankind about arrogance, greed, and forgetting the Giver of all blessings.
In this emotional and enlightening video by Noor TV, we explore the complete Quranic story of Qarun—his rise to unimaginable wealth, his pride, and the divine punishment that buried both him and his treasures deep within the earth.
What happened to Qarun’s gold? Does it still exist beneath the sands of Egypt? Could it ever be found again? Through Quranic verses, historical insights, and Islamic teachings, we uncover the hidden truth and lessons behind this powerful story.
This is not just history—it’s a warning to mankind about arrogance, greed, and forgetting the Giver of all blessings.
Category
📚
LearningTranscript
00:09QIARUN KINAKA?
00:30ڈالنسل میں کون تھا اس نے یہ لا محدود
00:32دولت کہاں سے اور کیسے حاصل کی
00:34اس کے پاس کون سا ایسا علم تھا
00:36جس نے اسے دنیا کا امیر
00:38ترین شخص بنا دیا اور
00:39سب سے اہم سوال یہ کہ اس کی موت کے بعد
00:41یہ سارا خزانہ کہاں چلا گیا
00:43کہ آج تک کسی کو اس خزانے کا کوئی
00:45سراغ مل سکا ہے یہ تمام
00:47حیرت انگیز معلومات آج کس
00:49ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے
00:51لہٰذا براہ کرم ہماری یہ ویڈیو
00:53آخر تک ضرور دیکھئے
00:55سب سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ قارون کون تھا
00:58قارون بنی اسرائیل سے
00:59تعلق رکھتا تھا اور خاص طور پر
01:01حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھا
01:03اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بے شک
01:05قارون موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تو تھا
01:07پھر اس نے سرکشی کی
01:09قرآنی حوالہ سورہ قصص آیت نمبر ستتر میں
01:12یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ
01:13حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچہ ذات بھائی تھا
01:16اور دونوں کا نصب ماں اور باپ
01:18دونوں کی طرف سے ملتا تھا
01:19اس کا نصب یوں ہے کہ قارون بن
01:21یسر بن قاحس بن لعوی
01:24بن یاکو جبکہ حضرت موسیٰ
01:25کا نصب ہے موسیٰ بن عمران
01:27بن قاحس اسی طرح
01:29دونوں کا نصب قاحس بن لعوی پر جا کر
01:31ملتا ہے کچھ علماء کے مطابق
01:33قارون اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں
01:35حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیروکار تھا
01:38اور بہت زیادہ عبادت گزار تھا
01:39یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق
01:41اس نے بنی اسرائیل میں سے کسی اور کے
01:43مقابلے میں عبادت کا ایسا مقام حاصل کر لیا تھا
01:46جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوا
01:47یہ بھی کہا گیا کہ وہ چالیس سال تک
01:50ایک پہاڑ پر اللہ کی عبادت کے لئے گوشہ نشین
01:52رہا وہ سے اس کے علم اور تورات
01:54کی خوبصورت تلاوت کی وجہ سے
01:55المنور یعنی نور والا کہا جاتا تھا
01:58اگرچہ بعض علماء نے ان روایات
02:00کو مسترد کیا ہے اور ان کی تجدیق
02:02کیلئے کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی
02:03پیارے دوستو ایک دلچسپ روایت یہ بھی ہے
02:05کہ ابلیس نے قارون کو بیک آنے کی کوشش کی
02:08لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا
02:09پھر ابلیس خود ایک شخص کی صورت میں اس کے پاس آیا
02:12اور اس کے ساتھ عبادت کرنے لگا
02:14ابلیس نے عبادت میں اس سے بھی بڑھ کر
02:16مقام حاصل کر لیا جس سے
02:17قارون کو ابلیس کے سامنے بہت زیادہ کم تری
02:20محسوس ہونے لگی تب ابلیس نے
02:21آہستہ آہستہ قارون کو اپنی طرف
02:23مائل کرنا شروع کر دیا
02:24اس نے قارون سے کہا کہ ہم لوگوں کے ساتھ
02:27نہ تو جماعت کی نماز پڑھتے ہیں
02:29اور نہ ہی کسی جنازے میں شامل ہوتے ہیں
02:31میری راہ ہے کہ ہمیں بھی ان کے ساتھ شریک ہونا چاہیے
02:34کیونکہ یہ بھی ایک عبادت ہے
02:35قارون نے اس کی بات مان دی
02:37جب قارون نے ایسا کیا اور بنی اسرائیل
02:39کو اس کی عبادت کا علم ہوا تو وہ
02:41اس کی عبادت کے ایام میں اس کے لئے کھانا
02:43لانے لگے
02:44اس پر ابلیس نے قارون سے کہا
02:45کہ ہم لوگوں پر بوجھ بن گئے ہیں
02:47میری راہ ہے کہ ہم ایک دن کمائی کریں
02:49اور باقی ہفتہ عبادت کریں
02:51پھر ابلیس نے قارون کو مزید بہکایا
02:53اور کہا کہ ہم نہ تو کسی پر صدقہ کرتے ہیں
02:55اور نہ ہی کسی کی مدد کرتے ہیں
02:57میری راہ ہے کہ ہم ایک دن کام کریں
02:59اور ایک دن عبادت کریں
03:00جب قارون اس مقام پر پہنچ گیا تو شیطان نے اس پر قابو پا لیا
03:04اور اسے چھوڑ کر چلا گیا
03:05اسی مقام پر قارون کے لیے دنیا کھول دی گئی
03:08اور وہ اپنی سابقہ عبادت و زہد کو بھول کر
03:11دنیا اور مال جمع کرنے میں مشغول ہو گیا
03:13یہاں تک کہ اس نے ایسی دولت اکھٹی کر لی
03:15جس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی
03:17اب بات کرتے ہیں قارون نے یہ دولت کیسے حاصل کی
03:20پیارے دوستو
03:21حقیقت یہ ہے کہ محققین اس طریقے کی تزدیق نہیں کر سکے
03:24کہ قارون نے اپنی دولت کیسے جمع کی
03:27تاہم اس بارے میں کئی روایات مشہور ہیں
03:29پہلی روایت کے مطابق وہ تجارت کا کام کرتا تھا
03:31جس میں وہ بہت ذہین اور ماہر تھا
03:33اس کے ذریعے اس نے یہ بے پناہ دولت اکھٹی کی
03:35دوسری روایت یہ ہے کہ قارون کو کیمیا کا علم حاصل تھا
03:38جو ایک چیز کو دوسری چیزوں میں تبدیل کرنے کا علم ہے
03:41کہا جاتا ہے کہ وہ خالص کیمیای عمل سے مٹی کو سونا بنا لیتا تھا
03:45جس کی وجہ سے اس نے بے شمار مال و دولت جمع کر لیا
03:48اور وہ دنیا کا سب سے امیر ترین آدمی بن گیا
03:50تیسی روایت ہے کہ اس کو اس میں آزم کا علم تھا
03:52جس کے ذریعے اگر کوئی سوال کرے تو اسے عطا کر دیا جاتا ہے
03:55اور اگر کوئی پکارے تو اس کی پکار قبول ہو جاتی ہے
03:58اس نے اللہ سے مال کا رزق مانگا
04:01تو اللہ نے اسے قبول کر لیا
04:02اور وہ دنیا کا امیر ترین شخص بن گیا
04:04تاہم ایک رائے جو علماء میں سب سے زیادہ مشہور ہے
04:07وہ یہ کہ قارون کانوں اور غاروں سے سونا نکالنے کا کام کرتا تھا
04:11وہ اپنے زمانے میں باہد شخص تھا
04:12جسے پتھروں سے سونا نکالنے
04:14اور پھر اسے سلاقوں میں تبدیل کرنے کا طریقہ معلوم تھا
04:17اس لئے وہ اپنے زمانے میں سونے کی پیداوار
04:19اور تبدیلی کا باہد ذریعہ تھا
04:21کہا جاتا ہے کہ فیرونوں کے پاس
04:22موجود سونے کی سب سے بڑی وجہ قارون تھا
04:25اسی طرح قارون بہت ہی کم عرصے میں
04:27اپنے زمانے کا امیر ترین شخص بن گیا
04:29فیرون اس اپنے دربار میں
04:31اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں
04:32اس کی بے پناہ دولت کی وجہ سے زیادہ اہمیت دیتا تھا
04:35یہی سے قارون نے اپنے مال اور اپنی ذات
04:38اور اپنے اختیار پر بہت زیادہ غرور کرنا شروع کر دیا
04:41وہ لوگوں پر اپنی دولت کا فخر کرنے لگا
04:43اور اللہ کے فضل کو بھول گیا
04:45وہ بہترین لباس پہنتا
04:47اپنے کپڑے سونے سے بنواتا
04:48تکبر کی وجہ سے
04:49اپنی قمیز کو ایک یا دو بالشت لمبا رکھتا تھا
04:52اس وجہ سے ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:56نے ہمیں لباس چھوٹا رکھنے کا حکم دیا ہے
04:58کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے
05:00پیارے دوستو یہ جاہلیت کی بھی ایک عادت تھی
05:03جہاں کافر اپنے لباس کو زمین سے ایک بالشت لمبا رکھتے تھے
05:06تاکہ وہ اپنے آپ میں امیر ترین
05:08اور سب سے زیادہ قد دعور نظر آئیں
05:10قارون کا پلنگ اور اس کی کرسی بھی سونے کی تھی
05:13یہاں تک کہ اس کے محل کے دروازے بھی سونے کے تھے
05:15اس کے پاس سونے کے عظیم خزانے تھے
05:17یہاں تک کہ اس کے خزانوں کی چابیاں اٹھانے کے لیے
05:20چالیس طاقتور مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی
05:23جب اس کے خزانوں کی چابیوں کا یہ حال تھا
05:25تو خود اس کے خزانوں کا کیا حال ہوگا
05:27اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
05:29اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیئے
05:30کہ ان کی چابیاں طاقتور مردوں کی ایک جماعت کو بھاری لگتی تھی
05:34قرآنی حوالہ سورہ القصص آیت 76
05:36قارون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کہانی
05:39اس وقت شروع ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے
05:40بنی اسرائیل پر زکاة کا حکم نازل کیا
05:43جب اللہ نے اس کا حکم دیا
05:44تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی
05:46انہیں اس کا حکم دیا
05:47قارون نے سب سے زیادہ اس کا انکار کیا
05:49کیونکہ اس اپنے مال سے بہت زیادہ محبت اور خوف تھا
05:52لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوف نے
05:54اسے ان کے پاس جانے پر مجبور کیا
05:57تاکہ وہ انہیں رازی کریں
05:58حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس حکم دیا
05:59کہ وہ ہر ہزار دینار میں سے ایک دینار
06:02اور ہر ایک ہزار بکریوں میں سے ایک بکری زکاة میں دے
06:05قارون پہلے اس بات پر رازی ہو گیا
06:08لیکن وہ اس سے ناکوش تھا
06:09جب قارون اپنے گھر واپس آیا
06:11تو اس نے محسوس کیا کہ یہ بہت زیادہ ہے
06:13اور اس کا نفس اپنا کچھ بھی مال نکالنے پر تیار نہیں ہوا
06:16لہذا قارون نے ان لوگوں سے رابطہ کیا
06:18جو اس کے ساتھ بیٹھنے کیا دی تھے
06:20ان سے کہا کہ موسیٰ نے تم لوگوں کو بھی
06:22بہت سے کاموں کا حکم دیا ہے
06:24اور تم نے ان کی اطاعت کی ہے
06:25اب وہ تمہارا مال لینا چاہتے ہیں
06:27تو ہمیں ان کے ساتھ کیا کرنا چاہیے
06:29لوگوں نے کہا آپ ہمارے بڑے ہیں
06:30اور ہم آپ کے حکم کے تابع ہیں
06:32آپ جو چاہیں ہمیں بتائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں
06:34قارون نے ان سے کہا کہ ہم ایک بدکار عورت کو لائیں گے
06:37اور اسے مال کی پیشکش کریں گے
06:39تاکہ وہ لوگوں کے سامنے
06:40موسیٰ پر خود سے زنا کا الزام لگائے
06:43جس سے موسیٰ کا معاملہ ختم ہو جائے
06:45روایت کے مطابق قارون نے واقعی ایک بدکار عورت کو بلایا
06:48اسے ہزار دینار اور سونے کا اقتشت دیا
06:51اور اس حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے
06:53حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائے
06:54اور ان پر یہ الزام لگائے
06:56کہ انہوں نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے
06:58جب اگلا دن آیا تو قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا
07:00اور ان سے کہا کہ لوگ باہر آپ کا انتظار کر رہے ہیں
07:03تاکہ آپ انہیں نصیت کریں
07:04جب حضرت موسیٰ علیہ السلام باہر آئے
07:06اور لوگوں سے گفتگو کرنا شروع کی
07:08تو انہوں نے کہا کہ جو شخص شادی شدہ نہ ہو
07:10اور زنا کرے تو ہم اسے سو کڑے ماریں گے
07:13اور جو شادی شدہ ہو اور زنا کرے
07:15تو ہم اسے سنگ سار کر دیں گے
07:17یہاں تک کہ وہ مر جائے
07:18قارون نے ان سے کہا
07:19یہاں تک کہ اگر آپ خود بھی ہوں
07:21حضرت موسیٰ نے جواب دیا
07:22ہاں یہاں تک کہ اگر میں خود بھی ہوں
07:24قارون نے کہا کہ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں
07:26کہ آپ نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے
07:28حضرت موسیٰ نے کہا
07:29اس عورت کو بلاؤ جو یہ دعویٰ کرتی ہے
07:31پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے
07:33اور اللہ کے لیے دو رکاعت نماز عدد کی
07:36جب وہ عورت لائے گئی
07:37تو حضرت موسیٰ نے اس سے کہا
07:39اس اللہ کی قسم جس نے
07:40سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کیا
07:42اور تورات کو نازل کیا
07:44سچ بولو
07:45اس عورت نے سچ بول دیا
07:46اور جو کچھ ہوا وہ سب کچھ بتا دیا
07:48اس نے اپنے کیے پر توبہ کی
07:50اور اللہ سے معافی طلب کی
07:52اس سے قارون کا غصہ
07:53اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے
07:55اس کی نفرت اور بھی بڑھ گئی
07:56یہاں سے قارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے
07:58ادعویٰ شروع کر دی
07:59اور ان کی دعوتوں کی مخالفت
08:01اور انہیں جھٹلانا شروع کر دیا
08:03اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
08:04اور ہم نے موسیٰ کو اپنے نشانیاں
08:06اور واضح دلیلیں دے کر
08:07فیرون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا
08:10تو انہوں نے کہا یہ جادوگر ہے
08:12جھوٹا ہے
08:13قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کو
08:14للکارتا اور مقابلہ کرتا رہا
08:16اور اپنے مال پر زیادہ سے زیادہ
08:18تکبر کرتا رہا
08:20قارون کی دولت اور
08:21اس کی تباہی کی کہانی
08:23پیارے دوستو یہاں تک کہ وہ دن آگیا
08:25جب قارون ایک عظیم جلوس کے ساتھ
08:28اپنی قوم کے سامنے نکلا
08:29وہ اپنے خزانوں کی چابیاں
08:31ستر طاقتور اور مضبوط خچروں پر لاد کر
08:33اپنے ساتھ لے جا رہا تھا
08:35قارون کی یادت تھی
08:37کہ وہ جہاں بھی جاتا
08:38اپنی چابیاں
08:38اپنے ساتھ لے جاتا تھا
08:40تاکہ وہ لوگوں پر اپنی دولت
08:42اور اس کے مالک ہونے کا تکبر
08:44اور فخر کر سکے
08:45جب قارون جلوس کے ساتھ
08:46لوگوں کے درمیان سے گزر رہا تھا
08:48تو اس کا گزر
08:49حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا
08:51جو لوگوں کے درمیان تھے
08:52اور انہیں اللہ کا حکم بیان کر رہے تھے
08:55جب لوگوں نے قارون کا جلوس
08:56اور اس کی عظمت دیکھی
08:57تو انہوں نے
08:58حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ دیا
09:00اور قارون کے جاہو جلال
09:01اس کے مال
09:02اور اس کے خزانوں کی طرف متوجہ ہو گئے
09:04یہاں تک کہ لوگوں میں سے
09:06ایک گروہ نے یہ تمنہ کی
09:07کہ کاش وہ بھی قارون جیسے ہوتے
09:09انہوں نے کہا
09:10کہ کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا
09:11جو قارون کو دیا گیا ہے
09:13بے شک وہ بڑا نصیب والا ہے
09:15اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غصہ آیا
09:17اور انہوں نے
09:17انہیں نصیت کی اور بتایا
09:19کہ اللہ کا ثواب
09:20ان کے لئے بہتر اور باقی رہنے والا ہے
09:22ان لوگوں نے جو ایمان لائے
09:24اور تقوی اختیار کیا
09:25پھر حضرت موسیٰ قارون کے پاس گئے
09:27اور اسے نصیت کی
09:28کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے مال میں
09:30تقوی اختیار کریں
09:31اور اس پر تقبر اور فخر نہ کریں
09:33لیکن قارون نے
09:34اپنے اختیار پر اور بھی غرور کیا
09:36اور موسیٰ سے کہا
09:37کہ یہ سب کچھ
09:38مجھے اپنے علم کی وجہ سے ملا ہے
09:39یعنی اے موسیٰ یہ مال
09:41مجھے اپنی ذہنت کی وجہ سے ملا ہے
09:43اور اس میں کسی کا کوئی فضل نہیں ہے
09:45اور اگر تم نے
09:46اپنی نبوت کی وجہ سے
09:47لوگوں پر فضیلت حاصل کی ہے
09:49تو میں نے
09:50مال کی وجہ سے تم پر
09:51اور تمام لوگوں پر
09:52فضیلت حاصل کی ہے
09:53میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں
09:55اے موسیٰ
09:55اگر تم واقعی نبی ہو
09:57جیسے کہ تم دعویٰ کرتے ہو
09:58تو میں تمہارے خلاف
09:59لوگوں کے سامنے بددعا کروں گا
10:01اور تم میرے خلاف بددعا کرو
10:03پھر ہم دیکھیں گے
10:04کہ ہم میں سے زیادہ کون حق پر ہے
10:06حضرت موسیٰ نے اس سے پوچھا
10:07تم بددعا کرو گے یا میں کروں
10:09اس نے کہا میں بددعا کروں گا
10:11قارون نے بددعا کی
10:12لیکن اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق میں
10:14اس کی دعا قبول نہ کی
10:16پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا
10:18اب میں بددعا کروں
10:19اس نے کہا ہاں
10:20حضرت موسیٰ نے کہا
10:22اے اللہ زمین کو حکم دے
10:23کہ آج میری اطاعت کرے
10:25اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی کی
10:27کہ میں نے ایسا ہی کر دیا ہے
10:28حضرت موسیٰ نے کہا
10:30اے زمین
10:30انہیں اپنے اندر لے لو
10:32زمین نے انہیں ان کے پاؤں تک
10:34اپنے اندر لے لیا
10:35پھر انہوں نے کہا
10:36کہ انہیں لے لو
10:36sonra,
10:37then on the side of the floor,
10:39after he was thanked,
10:41then he said,
10:44on the side of the roof and американ Shore,
10:57that he said,
10:59He said,
11:29حضرت موسیٰ قارون کے پاس گئے اور اسے فخر اور غرور نہ کرنے اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں
11:34تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا لیکن قارون نے تکبر کی اور موسیٰ کی بات نہیں سنی لہذا حضرت موسیٰ
11:40علیہ السلام نے اس کے خلاف بددعا کی اور جیسے ہی صبح ہوئی اللہ نے قارون اور اس کے گھر
11:45کو زمین میں دھسا دیا
11:46پیارے دوستو وہ لوگ جو کل تک قارون جیسے ہونے کی تمنہ کر رہے تھے اور دنیا میں اس کی
11:51قسمت پر رشت کر رہے تھے آج کہنے لگے جیسا کہ اللہ نے قرآن مجید میں فرما دیا ہے
11:56افسوس اللہ اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے رزق کو شادہ کر دیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا
12:02ہے تنگ کر دیتا ہے
12:03اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھسا دیتا
12:06افسوس کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے
12:09اس طرح قارون آنے والی امتوں کے لیے ایک عبرت اور نصیحت بن گیا
12:13اب بات کرتے ہیں آج قارون کا خزانہ کہاں ہے
12:16قارون کے خزانوں کا کیا ہوا
12:18وہ کہاں چلے گئے اور ان کا کیا ہوا
12:20حقیقت یہ ہے کہ قارون کے خزانوں کے مقام کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں
12:25یہ کہا جاتا ہے کہ قارون کا محل جو مصر کے جنوب مغرب میں فیوم صوبے میں بہر قارون کے
12:30قریب واقع ہے وہی محل ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے
12:33اور یہ بھی کہ اس محل کے قریب موجود جھیل اس محل کے حدود میں تھی
12:37اور وہاں تین ہزار کمرے تھے جو زمین کے اوپر اور نیچے تھے
12:41کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس میں داخل ہوتا وہ راشتہ بھٹک جاتا
12:45اور شاید صدمے سے دوشار ہوتا اور پھر اپنا ہوش و حواظ کھو کر باہر نکلتا
12:50روایت کے مطابق یہ معلومات ایک طبیل عرصے تک عام رہی
12:53یہاں تک کہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے یہ ثابت کر دیا
12:57کہ یہ تمام معلومات غیر حقیقی ہیں
12:59اور اس مشہور محل کا قرآن میں مذکور قارون کے محل سے کوئی تعلق نہیں ہے
13:03اور یہ کہ مصریوں نے اسے قارون کا محل اس لئے کہا
13:06کیونکہ یہ بحر قارون کے قریب واقع تھا
13:09جس کا نام اسی کسرت سے نہروں اور خلیجوں کی وجہ سے رکھا گیا تھا
13:12اور اسے ابتداء میں بحر القرون کہا جاتا تھا
13:15جو بعد میں بدل کر بحر قارون ہو گیا
13:17یہ بھی پتا چلا کہ ان معلومات کو یہودیوں نے پھیلائے تھا
13:20جب وہ مصر میں موجود تھے
13:22انہوں نے یفعہ پھیلائی کہ یہ محل قرآن میں مذکور قارون کا ہے
13:26اور طورات میں مذکور قوراہ کا ہے
13:28قوراہ کے مطابق قوراہ لاوی بن یعقوب کی نسل میں سے تھا
13:31جس نے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حارون علیہ السلام کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی
13:36اللہ نے اسے زمین کو پھار کر قورو اور اس کی جماعت اور اس کے گھروں کو نگل کر سزا
13:42دی
13:42علماء نے یہ بھی تجدیق کی کہ یہ مارت جسے قارون کا محل کہا جاتا ہے
13:46وہ ایک قدیم مندر ہے اور اس کا قارون اور اس کے محل سے کوئی تعلق نہیں
13:50اسی طرح اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ وہ موجودہ بہر قارون وہی جگہ ہے
13:54جہاں قارون رہتا تھا
13:55ان تمام باتوں کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان غرق شدہ خزانوں کو تلاش کرنے کی امید میں
14:00جھیلوں کی گہرائیوں میں غوتہ لگایا لیکن اب تک کوئی چیز نہیں ملی
14:05جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قارون کا محل عراق کے علاقے نینوہ میں واقع تھا
14:09انہوں نے قارون کو قدیم نینوہ کے بادشاہوں میں سے ایک اپولو سے جوڑا
14:13جس کے پاس زمین کے نیچے خزانوں میں محفوظ بے پناہ دولت تھی
14:17لیکن یہ منطقی نہیں ہے
14:18کیونکہ قارون مصر کی سرزمین پر تھا عراق میں نہیں
14:21اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قارون کے خزانوں کے مقام کے بارے میں
14:25بہت سی قیاس آرائیاں اور روایتیں موجود ہیں
14:27اور ہر دور میں ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں
14:31کہ وہ ان خزانوں کا مقام جانتے ہیں
14:33پیارے دوستو لیکن یہ حقیقت ہے
14:35کہ یہ تاریخ کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک راز ہے
14:38جب تک بے نقاب نہیں ہوا
14:40اور شاید کبھی بھی بے نقاب نہ ہو
14:42یہاں تک کہ دنیا کے امیر ترین شخص کی کہانی
14:45اور اس کی خزانیں ہمیشہ ایک راز بن کر ہی رہیں گے
14:48اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن مجید میں ہمارے لیے
14:52ایک عبرت ایک نشانی اور ایک نصیحت کے طور پر کیا ہے
14:55قرآن ہمیشہ ماضی کے امتوں کی کہانی اجتماعی یا انفرادی طور پر بیان کرتا ہے
15:00تاکہ بعض لوگوں کی جھوٹی باتوں کو رد کیا جا سکے
15:03یا تاکہ ان لوگوں کے لیے عبرت ہو
15:06جو نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا انکار کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں
15:11قارون کی کہانی سے میں بہت عام سبق ملتے ہیں
15:14سب سے پہلا سبق یہ کہ دولت اور طاقت کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے
15:17انسان کے اپنی کوئی حیثیت نہیں
15:19قارون نے یہ سمجھا کہ اس سب کچھ اس کے اپنے علم اور ذہانت کی وجہ سے ہے
15:24لیکن اللہ نے اسے دکھا دیا کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے
15:27دوسرا سبق یہ ہے کہ تکبر اور غرور انسان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں
15:31جب انسان اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنے لگتا ہے
15:34تو اللہ اسے نیچہ کر دیتا ہے
15:35تیسرہ ہم سبق یہ ہے کہ دولت کو اللہ کی راہ میں خرش کرنا چاہیے
15:39قارون نے اپنی تمام دولت کو صرف اپنی نمائش اور تکبر کیلئے استعمال کیا
15:43اس نے نہ زکاة دی نہ غریبوں کی مدد کی
15:46نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی تمام دولت اس کے کام نہ آئی
15:49چوتھا سبق یہ ہے کہ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے
15:52قارون کی تمام شان و شوقت چند لمحوں میں ختم ہو گئی
15:54اس کا کوئی نشان باقی نہ رہا
15:56آج کے دور میں ہمارے اردگرد بہت سے قارون موجود ہیں
15:59وہ لوگ جو اپنی دولت پر فقر کرتے ہیں
16:02جو غریبوں کو حقیر سمجھتے ہیں
16:04جو ظلم کرتے ہیں جو رشوت لیتے ہیں اور عوام کا حق مارتے ہیں
16:07ان سب کو قارون کا انجام یاد رکھنا چاہیے
16:10اللہ کی گرفت بہت سخت ہے
16:11اور جب وہ پکڑتا ہے تو کوئی بچ نہیں سکتا
16:14موجودہ دور کے حکمرانوں کے لئے قارون کی کہانی ایک بہت بڑا سبق ہے
16:18جو حکمران اپنی قوم کے مال کو لوٹتے ہیں
16:21جو عوام پر ظلم کرتے ہیں
16:22جو بیرون ملک اپنے خاتوں میں عربوں روپے رکھتے ہیں
16:25جبکہ ان کی قوم بھوکی ہے
16:26ایسے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے
16:29کہ قارون بھی اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتا تھا
16:31لیکن اللہ نے اسے زمین میں دھسا دیا
16:33آج نہیں تو کل
16:34دنیا میں نہیں تو آخرت میں
16:36ہر ظالم کو اس کی سزا ضرور ملے گی
16:38امیر لوگوں کا پیغام ہے
16:40کہ آپ کی دولت میں غریبوں کا حق ہے
16:41اللہ نے آپ کو یہ دولت امانت کے طور پر دی ہے
16:44اسے نیک کام کریں
16:45زکاة دیں
16:46غریبوں کی مدد کریں
16:47قارون کے پاس بے شمار خزانے تھے
16:49لیکن وہ سب زمین میں دفن ہو گئے
16:51اور اس کے کام نہیں آئے
16:53آپ کی دولت بھی آپ کے ساتھ قبر میں نہیں جائے گی
16:56صرف آپ کے نیک عمال ساتھ جائیں گے
16:58عام لوگوں کے لئے پیغام یہ ہے
17:00کہ امیروں کو دیکھ کر رشک نہ کریں
17:01اصل کامیابی دولت میں نہیں
17:03بلکہ اللہ کی رضا میں ہے
17:05وہ لوگ جنہوں نے قارون کی دولت پر رشک کیا تھا
17:07بعد میں انہوں نے احساس ہوا
17:08کہ انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی
17:10اصل نعمت ایمان اور تقویٰ ہے
17:12دولت نہیں
17:13قارون کی کہانی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے
17:15کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام بہت برا ہوتا ہے
17:18قارون نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادھا نہیں کیا
17:21تکبر کیا
17:22انبیاء کے مخالفت کی
17:23نتیجہ یہ نکلا کہ وہ زمین میں دھس گیا
17:26آج بھی جو لوگ اللہ کی نافرمانی کریں گے
17:28ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا
17:30پیارے دوستو آخر میں قارون کا قصہ
17:32ہمیں یہ یاد دلاتا ہے
17:33کہ دنیا آرزی ہے اور آخرت دائمی
17:35قارون نے دنیا کو سب کچھ سمجھا
17:38اور آخرت کو بھول گیا
17:39اس کا انجام ہم نے دیکھا
17:41ہمیں دنیا میں گرہتے ہوئے آخرت کی فکر کرنے چاہیے
17:44حلال کمانا چاہیے
17:46اللہ کی راہ میں خرش کرنا چاہیے
17:48اور ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے
17:50کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے
17:52اللہ ہم سب کو قارون کی طرح
17:54تباہ ہونے سے بچائے
17:55اور ہمیں سیدھے راستے پر
17:56چلنے کی توفیق عطا فرمائے
17:58آمین
Comments