Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
Prophet Yousuf Episode 21 - Urdu

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اے آمون بزرگ
00:01اگر میں یوزہ شیف کو حاصل کرلوں تو
00:04بیش قیمت حدیعہ نظرانی آپ کے قدموں پر اجھاور کر دوں گی
00:11میرا تیرے سوا کوئی خدا نہیں ہے
00:13میری مدد فرماؤں
00:15میں اسے چاہتی ہوں
00:18وہ میری ملکیت ہے
00:19میرا ذر خرید خلان ہے
00:22کچھ ایسا کر کے وہ میرے حکم کا تابع ہو جائے
00:27کیا ہوا بانو حضور
00:29یہ وقت آمون کے آرام کا ہے
00:32اتنی رات گئے
00:35ان کے آرام میں کسی طرح بھی مخل ہونا مناسب نہیں
00:39آپ سمجھ رہی ہیں نا میری بات کو
00:42میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں
00:43اگر آپ کی دعا سے میری حاجت روا ہو گئی
00:46تو میں آپ کی اور آمون کے غدبت میں قیمتی نظرانے پیش کر رکھی
00:50مگر یہ دعا تو آمون سے صبح بھی کی جا سکتی ہے
00:58میں آمون کو امانتن لیے جا رہی ہوں
01:00میں آج رات اس سے راز و نیاز کرنا چاہتی ہوں
01:12موسیقا
01:40موسیقی
01:51موسیقی
02:16موسیقی
02:18موسیقی
02:20موسیقی
02:26موسیقی
02:56موسیقی
03:12موسیقی
03:23موسیقی
03:31موسیقی
03:39موسیقی
03:44موسیقی
03:54موسیقی
04:08موسیقی
04:13موسیقی
04:14موسیقی
04:14موسیقی
04:14موسیقی
04:16موسیقی
04:17موسیقی
04:17موسیقی
04:19موسیقی
04:20موسیقی
04:20موسیقی
04:21موسیقی
04:28موسیقی
04:39ستینہ
04:41کو پیزات ستینہ
04:46ستینہ
04:52کیسن کی آواز آپ کے آرام میں خلل پیدا کر رہی ہے بانو حضور
04:56نہیں یہاں سے گزر رہی تھی کہ کیسین کی رونے کی آواز آئی
05:02کیا ہوا کیوں رو رہا ہے
05:05معلوم نہیں پیٹ بھی بھرا ہوا ہے اور لباس بھی خوشک ہے
05:09پھر بھی معلوم نہیں کیوں اس قدر رو رہا ہے
05:14عجیب باتیں
05:15چند روز پہلے ہی جناب یوزار سیف نے
05:17کیسین کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا
05:19تو وہ ایک دم چھپ ہوگا ہسنے لگا
05:23یوزار سیف کا دست مصیحائی
05:25سبھی کے لیے آرام بخش ہے
05:31آپ رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی ہیں
05:34شاید کسین کی طرح میری نین پیوڑ گئی ہے
05:42میرے
05:43موآد
05:43موسیقا
05:44موسیقا
05:47موسیقا
05:48موسیقا
06:17موسیقی
06:47موسیقی
06:50موسیقی
06:54یوزار سیف کو یہاں بلاؤ
06:57اور جب وہ آ جائے
07:00تو ساتھوں دروازوں کو بند کر دینا
07:04تامہ اور تیامینی اور دیگر غلاموں
07:07کنیزوں کو بھی یہاں سے دور ہٹا دو
07:38موسیقی
07:43بانو زلیخان نے آپ کو یاد فرمایا ہے
08:00آپ چلیے
08:01میں آتا ہوں
08:05میں ساتھ دروازے والی رہداری کے پاس
08:07آپ کی منتظر کھڑی ہوں
08:38موسیقی
08:46موسیقی
08:47موسیقی
08:49موسیقی
08:51موسیقی
08:53موسیقی
09:06موسیقی
09:16موسیقی
09:17موسیقی
09:18موسیقی
09:19موسیقی
09:20موسیقی
09:20موسیقی
09:21موسیقی
09:21موسیقی
09:21موسیقی
09:21موسیقی
09:25موسیقی
09:27کیا ہوا یہ آج چک کیوں نہیں ہوا
09:33شاید اس کے رونے اور بیچائنے کی وجہ کچھ اور ہی ہے
09:37یا شاید اس کی پاک اور رتیف روح
09:40کسی ناغوار واقعے کے خبر دے رہی ہے
09:47کیا کوئی ہاتھ سرونما ہونے والا ہے
09:52کیا کیسین اسی واقعی کی وجہ سے بیچائن ہے
10:17یہ کمرہ جو دیکھ رہے ہو
10:20یہ زلیخہ اور پتفار کے نہائیت ہی قریب اور عزیز ترین مہمانوں کے لئے مقتر سے
10:26اس کمرے تک آنے کے لئے
10:28ان سات دروازوں سے جہاں سے ہم گزر رہے ہیں گزرنا پڑتا ہے
10:33ان سات دروازوں پر مضبوط پفل لگے ہوئے ہیں
10:37کہ اگر یہ دروازے مقفل ہوں
10:39تو کسی کو اس کمرے میں آمد رفت مجھا لیں
10:42ان دروازوں کی چاری صرف بانو زلیخہ کے پاس ہوتی ہے
10:47بانو زلیخہ کا حکم ہے
11:17درواز بانو زلیخہ
11:35موسیقی
11:55تم جانتے ہو نا کہ تم میرے خلام ہو
11:59جی بلکل ایسا ہی ہے
12:02اور یہ بھی جانتے ہو کہ
12:06خلام کو چاہیے اپنے مالک کی اطاعت کریں
12:11کیا آپ تک اطاعت میں کوئی کمی دیکھی ہے آپ نے
12:26آج بھی تمہیں اطاعت کرنی ہوگی
12:31میرے لائک اگر کوئی خدمت ہے تو میں حاضر ہوں
12:41میں نے خود کو تمہارے لیے آمدہ کیا ہے
12:47خدا کی پناہ مانگتا ہوں
12:51آخر آپ مجھ سے چاہتی کیا ہیں
12:55خیانت
12:58میں نے آپ سے کہا کہ میں آپ کی اطاعت کروں گا
13:01لیکن اطاعت اور خیانت میں بڑا ورگ ہے
13:06آخر آپ کیا چاہتی ہیں
13:07میں تم سے تمہیں چاہتی ہوں
13:10آپ کے شوہر سالہ سال مجھ سے محبت سے پیش آئے
13:13اور مجھے بلند مقام و مرتبہ عطا کیا
13:15اب میں انہی کے ساتھ خیانت کروں
13:17تم سے محبت سے پیش آئے میں
13:19میں نے کبھی کوئی کذر نہیں چھوڑی
13:21میں آپ کا اور آپ کے شوہر کا ممنون و مشکور ہوں
13:23لیکن کیا آپ مجھ سے یہ توقع رکھتے ہیں
13:25کہ میں آپ کی محبتوں کا صلح گناہ اور خیانت کی صورت میں دوں
13:28تم میرے احسان مند ہو
13:30اور تمہیں میری محبتوں کا صلح دینا ہوگا
13:33اور بحیثیت خلام کے
13:35تم مجبور ہو میری اطاعت کرو
13:37جس نے آپ کو مجھ پر مہربان کیا
13:39وہ میرا خالق ہے
13:40اور میں آپ سے کہیں زیادہ اور آپ سے بہت پہلے
13:43اس کے لطف و کرم و انعیت کا احسان مند ہوں
13:45میں نے خود کو عزت کی بلندی سے
13:47ذلت کس پستی میں گرا ڈالا
13:49صرف تمہیں حاصل کرنے کے لیے
13:51اور اب میں دست پردار ہونے والی نہیں
13:53میں اپنے عصمت اور نجابت کے گوھر کو
13:55ان عارضی عیش و عشرت سے نہیں بدلوں گا
13:57میرے اور تمہارے سوا اس راست سے
13:59کوئی باخبر نہیں ہوگا
14:01اور خدا کی نگاہوں سے خود کو
14:03کیسے چھپائیں گے
14:04اچھا تو تمہیں خداوں سے خوف زدہ ہو
14:08مجھے بھی اس سے حیاء آ رہی
14:10اس میں کونسی مشکل ہے
14:13میں تمہاری نگاہوں کی داپ نہیں لاسکتی
14:16مجھے معاف کرتے نہ ہونے بھوسر
14:18آپ وہ ہمارے گناہ کا شاید نہیں ہے
14:23مجھے خوف اس خدا کا ہے جو حاضر ناظر اور قادر ہے
14:28اس دھاتی مجسمے کا خوف
14:30ہماقت اور نادانے کے سوا کچھ نہیں
14:32تو مجھے اہمہ کو نادان کہہ رہے ہو
14:36تم جیسے سرکڑوں کو تمہیں اپنی ٹھوکر پر رکھتی ہوں
14:39تم تو میرے گھوڑوں کی خلازت تک
14:41ساف کرنے کے قابل نہیں
14:42اور آمون بزرگ کی اتات کو
14:45ہماقت کی علامت سمجھتے ہو
14:46میں تمہیں حکم دیتی ہوں
14:48اور تم مجبور ہو کے میری اتات کرو
14:51ورنہ میں تمہیں یہی دفن کر دوں گی
15:10کچھ بھی ہو میں آپ کے حکم کی اتات وہیں تک کروں گا جہاں تک حکم خدا پامال نہ ہو
15:15بس
15:25آپ جیسوں سے نپٹنے کے لیے
15:27تمبیہی اور مقابلہ ہی بہترین راہ حل ہے
15:30سخت سزا ہی
15:31اسیزہ شہوت کو
15:33خواب غفلت سے بیدار کرتی ہے
15:36اے نبی خدا
15:38یہ پیغام
15:40خداوند یکتہ کی جانب سے ہے
15:41ہم نے تمہیں کبھی بھی
15:44تنہا نہیں چھوڑا ہے
15:47زلیخہ جیسوں سے تمبیہ اور مقابلے سے اشتناب کروں گا
15:51کیونکہ اگلے ہی چند لمحوں بعد وہ کہے گی کہ
15:54کیونکہ یوسف نے دیکھا
15:56کہ اس کی فائش پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی
15:58تو زبردستی پر اتر آئے گا
16:00اور اس وقت تم جن کے مرتقب کر آنا ہوگا
16:04وہ شیطانی امازگاہ سے
16:06دروازے کی طرف پر آنا ہوگا
16:16اے نبی خدا
16:18یہ پیغام
16:19خداوند یکتہ کی جانب سے
16:25دروازے کی جانب کرتا ہے
16:28بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں
16:30تم عطاق کرنے پر مجبور ہو
17:01موسیقی
17:13موسیقی
17:44موسیقی
18:30موسیقی
18:59موسیقی
19:05موسیقی
19:16موسیقی
19:20موسیقی
19:33موسیقی
19:34موسیقی
19:45موسیقی
19:53موسیقی
19:54موسیقی
19:59موسیقی
20:03موسیقی
20:11موسیقی
20:17موسیقی
20:30اگر تم اپنی بے گناہی ثابت نہ کر سکے تو ابھی اسی لمحے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے
20:40آلی جناب میں نے دیکھا کہ یوزار صرف قصر کی رہداری سے آئے اور کیسین وہی بچے جس کی رونے
20:47کی آواز آ رہی ہے
20:48اور اس سے بہلایا اور پھر اس رہداری میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر دیا
20:55میں اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی کہ اسے اپنے سر پر کھڑا دیکھا
21:02جب جلہی اور مدد کو پکارا تو یہ بھاگ کھڑا ہوا
21:11پرودامون کو یہاں بلاؤ
21:14یوزار صرف کو ابھی اور اسی وقت سزا ملی چاہیے
21:17چھوڑا مجھے
21:55میرا شاہد ہے
21:59کہاں ہے ہارا گوا کون ہے ابھی اور اسی وقت اسے حاضر کرو
22:03جی جناب میں ایسا گوا حاضر خدمت کروں گا جو نہ مجھے پہچانتا ہے جو میری حمایت کرے اور نہ
22:09ہی بانوکوں کے دشمنی کرے وہ توتی کی طرف فرفر بولے گا اور یہ بھی سمجھ نہ پائے گا کہ
22:14کس کے حق میں اور کس کے خلاف میں بولا ہے اور دوسرے یہ رشتدار بھی بانو زلخہ کا ہے
22:20یقیناً اس کی شہدت بانو کے حق میں ہونی چاہیے ہیں
22:25بتاؤ کون ہے وہ اس سے پہلے کہ سزا پاؤ اسے حاضر کرو میرا گوا وہ بچہ ہے جس کے
22:31رونے کی آواز آپ سن رہے ہیں
22:36کیا تم میرا مزاک اڑا رہے ہو
22:39میں آپ سے التجا کرتا ہوں میری ان تمام تر خدمات کے خاطر جو میں آپ کے خاطر بجا لائیا
22:44ہوں کہ اس بچے کو یہاں بلوائیے
22:50ایک نو زہدہ بچہ گوا ہی دے گا
22:55وہ چھوٹا بچہ اس میں کوئی قباط نہیں کہیں گے لے کر آئے
23:09موسیقی
23:10موسیقی
23:18موسیقی
23:20موسیقی
23:39درود برالی جناب کو دیفار
23:45یہ رہی میری بھوپیزہ ستینہ اور یہ ہے کسی
23:49کہو کہ گواہی دے
23:53کہسین کلام کرو
23:56جو کچھ میرے خدا نے تمہیں سکھایا ہے بولو
24:11کہسین کلام کرو
24:23باہکم میں حال کے یقتا
24:24اس کا کلام بیان کرتا ہوں
24:35اگر کرتا سامنے سے پھٹا ہوا ہو تو
24:39وہ بانک سوروار اور یوسف بے گناہ ہے
24:49تم نے کس طرح بات کی میرے بچے
25:04موسیقی
25:20تم اپنے آسوں سے مجھے فرید لینا چاہتی تھی
25:25بے شک یہ تم عورتوں کا مکر ہے اور تمہارا مکر بڑا مکر ہے
25:40میں نے تم پر جو تعمت لگائی اس کی بابت معافی چاہتا ہوں
25:46امید ہے کہ تم مجھے اور سلیخہ کو معاف کر دوگے
25:48اور اس ماجر کو ہمیشہ کے لیے اسی غیراز میں رکھو گے
26:00کسی اور کو بھی اس واقعے کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے
26:04اگر کسی نے اس واقعے کو بیان کیا تو
26:06وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا
26:09اب جاؤ
26:20کیا ہوا
26:21کیا ہوا دا وہاں
26:26ایک بچہ
26:31کسین
26:31سیتینہ کا بیٹا
26:34وہ بول اٹھا اور تمام واقعہ کھول کر رکھ دیا
26:40کیا ایک نوع زہدہ بچہ بول سکتا ہے
26:45لیکن وہ بولنے لگا
26:47آخر آخر یہ کیسے ہوا
26:52بس مجھے بھی نہیں معلوم
26:54یوزار صیف نے اسے کہا
26:56اور وہ بات کرنے لگا
26:59اس سے بھی زیادہ جی بات ہے کہ
27:02بچے نے کہا کہ میں حکم خداوند یکتہ کلام کر رہا ہوں
27:09یہ تو جادو ہے
27:11اگر اس میں حقیقت میں ہو تب بھی
27:14یہ جادو سے زیادہ کچھ بھی نہیں
27:17یوزار صیف نے نہ صرف ساقینین یا قصر پر
27:20بلکہ اس بچے پر بھی جادو کر دیا
27:26کسی کو میرے خلاف شہدت دینے کی جرت نہ تھی
27:29سواء اس بچے کے
27:33یہ تو جادو گری ہے
27:34یہ زیادہ صیف ایک جادو گر ہے اور اس کو سزا
27:37بس کریں کریں ماما
27:55کیا یہ دروازے مکفل نہ تھے
27:58پھر وہ کیسے بھاگا
28:01حیرانی تو یہی ہے
28:04اس نے ان دروازوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا
28:07مگر دروازے کھلتے چلے گئے
28:11خود بخود
28:13میں نے نہیں کہا کہ وہ ایک جادو گر ہے
28:15جادو گر نہیں
28:17میں نے اسے بچپن سے پال کر پڑھا کیا
28:20وہ کسی جادو گر اور ساہر کے پاس نہیں گئے
28:24تو پھر یہ دروازہ
28:26یہ بچہ
28:35یہ زیادہ کون ہے
28:54سکینہ
28:55ستینہ
29:02میرے لائک کوئی حکم ہے علی جناب
29:08تم نے کیسے بات کی
29:12مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا
29:22تم یہاں کیا کر رہی ہو
29:25کیوں آنا ہوا تھا
29:26میں منفیس سے بانو زلیخہ سے ملاقات کے لیے آئی تھی
29:29مجھے معلوم نہ تھا یہ واقعہ پیش آ جائے گا
29:31وگرنا ہرگز نہ آتی
29:32تم اپنی معموزات زلیخہ سے ملے آئی ہو
29:34اس میں کیا کب ہاتھ ہے
29:38بلکہ میں تمہارا اور تمہارے بیٹے کا مشکور ہوں
29:42اگر تم لوگ نہ ہوتے تو
29:44زلیخہ کے فریل میں آ کر ایک شریف
29:46اور معصوم جوان کی خون سے میرے ہاتھ رنگ چاہتے
29:57مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ
29:59تم نے کس طرح بات کی
30:05چھ ماں کے بچے نے کب آئی تھی
30:08چھ ماں کے بچے نہیں بات کی
30:09میں نے اپنے کالوں سے سنا
30:34اگر یہ خبر تمام جگہ پھیل گئی
30:36تو کیا کریں گے
31:06موسیقی
31:13موسیقی
31:15موسیقی
31:21موسیقی
31:22موسیقی
31:45موسیقی
32:15موسیقی
32:45موسیقی
32:46سنا ہے کہ کافی عرصے سے زلیقہ اس کے پیچھے لگی ہوئی تھی
32:49میں نے قد خسر میں دیکھا
32:51جب میں نے یوزار صف سے مطالق بات کی تو
32:55زلیقہ بہت ناراض ہوئی اور محفل سے اٹھ کر چلی گئی
33:00پورے شہر میں اس کے تعلق سے مطالق باتیں ہو رہی ہیں
33:03کہاں اتنا غرور اور گھومن تھا کہ کسی مرد کو خاطر میں نہیں لاتی تھی
33:08اور کہاں خود کو ایک غلام کے قدموں میں گھرا ڈالا
33:11ہم سارے آمون اور مصر کے خدای عظیم اور مابق کی دیوی
33:15خود ایک غلام کی عصیر ہو گئی
33:18اور وہ بھی ایک بیگانے بھیڑے چرانے والے غلام کی
33:21یہ تو بڑی شرم کی بات ہے
33:25کائنِ آزم مالی جناب آخمہو کو بھی اس واقعے سے باخبر ہونا چاہیے
33:32زلیقہ اور پوتیفار کو اتنی آسانی سے اس واقعے سے چھٹکارہ نہیں ملنا چاہیے
33:37ہاں جنابِ پوتیفار اور بانو زلیقہ کی عزت و وقار
33:41اب اس واقعے پر منحصر ہے
34:07کیا بتایا نہیں تھا کہ میں تنہا رہنا چاہتا ہوں
34:09تفاوڈا