Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Prophet Yousuf Episode 4 - Urdu

Category

📚
Learning
Transcript
00:24خدا کا درود ہو ابراہیم پیغمبر پر
00:46خدا ابراہیم اور اسحاق کی ارواح کو شاد رکھے
00:50کنان کی لوگوں کی ہدایت اور ایمان انہی کی مہربانی سے ہے
00:59آخری لمحات میں وہ آپ کو دیکھنے کے لیے بے قرار تھے
01:04انہوں نے رسالت آپ کی سپورٹ کی ہے
01:07اور وسیعت فرمائیے کہ ابرانیوں کی ہدایت کی ذمہ داری خبول فرمائیں
01:12ان پاک تنیت ہستیوں سے مدد کا خواستگار ہوں
01:16اور خدا سے رسالت کی اس عظیم ذمہ داری کی انجام دہی پر
01:20مدد طلب کرتا ہوں
01:35یہ قمیز ہمارے دادا حضرت ابراہیم کی ہے
01:38جو ہمارے بابا عیسیٰ کو وراست میں ملی
01:43اور اب آپ اس کے وارث ہیں
01:46آپ کی عدم موجودگی میں بابا کی اولادوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے
01:50میں اس کی امین تھی
01:55اور اب میں یہ امانت آپ کے سپورٹ کرتی ہوں
02:00بابا کی وسیعت کے مطابق
02:02یہ قمیز آپ کے بعد آنے والے تمام انبیاء تک پہنچے گی
02:08اس قمیز کو ابائی رسالت بھی کہہ سکتے ہیں
02:17مبارک مبارک مبارک مبارک مبارک مبارک بات دیش کرتے ہیں
02:38میں اور کنان کے لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں
02:41اور حضرت عصاق کے بعد آپ کو نبیاء خدا مانتے ہیں
02:45اور آپ کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں
02:51مبارک مبارک مبارک بات دیش کرتے ہیں
02:56مبارک مبارک
03:12تمہارا کیا خیال ہے یہ قمیز بابا کے بعد کس کو ملے گی؟
03:17ظاہر ہے جو بھی سب سے زیادہ طاقتور ہوگا
03:21غلطی پر ہو
03:24وہ جس کا امان سب سے زیادہ قوی ہوگا
03:56موسیقی
04:08موسیقی
04:10موسیقی
04:12موسیقی
04:27موسیقی
05:03موسیقی
05:19موسیقی
05:23مجھے بھوک لگی ہے
05:26ہمیں کھانا نہیں دوگی ماں
05:28کھانے کا کیا ہوگا
05:29بھرا انتظار کرو
05:32کیا بات ہے
05:45موسیقی
05:46موسیقی
05:55موسیقی
05:58موسیقی
06:09آپ کیا ہوا کھانا کیوں نہیں کھا رہے ہو یہ تو بہت کم ہے یوسف کو زیادہ کیوں دیا چپ
06:18چاپ اپنا کھانا کھاؤ بس کرو لیا کیا کر رہی ہو خود پر قابو رکھو
06:27بینیامین کو میں سامال لیتی ہوں تم اپنے بچوں کو کھانا کھلاو اتنے سارے بچوں کا پالنا مشکل ہے لیا
06:38حق بجانب ہے
06:41اپنے ساتھ بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ رہیل کے بچوں کا بھی زافہ ہو گیا ہے
06:48میں پھر کہتی ہوں
06:52کہ مجھے ہمیشہ ہی سے سائے بے اولاد ہونے کی خواہش رہی
06:57لیکن یہ آرزو کبھی پوری نہ ہو سکی
07:02میری زندگی اب زیادہ نہیں رہی
07:06میری یہ خواہش پوری کر دو
07:09راہیل کے اس بچے کو مجھے دے دو
07:11اتنے بنان رکھو
07:12میں اسے اپنی پلکوں میں چھپا کر رکھوں گی
07:15دیکھ رہا ہوں نا
07:18کے لیے بیچاری بھی کس قدر مشکل میں گرفتار ہو گئی ہے
07:24تمہیں یوسف اور اس کے بھائے کے مطالق کو سوچنا ہوگا
07:29لیکن اس کی دوری کو کیسے برداشت کروں
07:31اگر دور لے جاؤں تو برداشت نہ کرنا
07:35اگر اسے ہر روز تمہارے پاس لے کر نہ ہوں تو واپس لے لینا
07:40اگر اس کی محبت میں کمی کروں
07:42تو مجھے مت بخشنا
07:46مجھے موقع دو
07:47میں اپنی زندگی کے یہ آخری ایام
07:51یوسف کے ساتھ گزار لوں
07:55یقین جانو
07:56اس طرح رکھوں گی کہ راہیل کی روح بھی شاد رہے
07:59اور تمہارا دل بھی
08:02لیکن فائقہ
08:03راہیل سے کھیے کہ میرے وعدوں کا کیا ہوگا
08:06میں نے جو قسم کھائی تھی کہ اس کے بچوں کے ماں کی کمی کا ذرہ بھی احساس نہیں ہونے
08:10دوں گی
08:11فائقہ تمہاری قسم کو عملی جامہ پہنائے گی
08:15یقینان وہ یوسف کو اس کی ماں سے کم عزیز نہیں رکھے گی
08:18تو میں ڈر ہے کہ میں بچوں کی زیادتی کی وجہ سے یوسف کا دھیان نہیں رکھ پاؤں گی
08:24نہیں بلکہ
08:26مجھے تو خوف ہے
08:27کہ کہیں تم دوسرے بچوں کو نظر انداز کر کے
08:30صرف یوسف پر تو بچوں نہ دینے لگو
08:34یوسف
08:34میرے بیٹے ادھر آؤ
08:42بیٹا یہ بتاؤ
08:44کہ تم اپنی فپی فائقہ کے ساتھ جانا چاہوگی
08:46جی بابا
08:48فپو فائقہ ایک اچھی ماں ہے
08:52مگر تمہاری ماں کی طرح اچھی نہیں
08:55لیکن کوشش کروں گی
08:57کہ مجھ میں سے تمہیں اس کی خوشبو آئے
09:01شکر گزاروں آپ کی
09:03میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں
09:05کہ جہاں سے زیادہ اسے عزیز رکھوں گی
09:07اور اپنے سینے سے لگا کر رکھوں گی
09:12اس سے پہلے کہ میرا ارادہ بدل جائے اسے یہاں سے لے جاؤ
09:15اس کا مطلب ہے اب ہم یوسف سے نہیں مل پائیں گے
09:18یہ تم سے کس نے کہہ دیا
09:20فپی کی جان یہ ہر روز تمہارے ساتھ یہاں کھیلے گا
09:24تو کیا ہم ابھی یوسف کے ساتھ کھیل سکتے ہیں
09:27ہاں ہاں کیوں نہیں
09:31آرے تمہارا خانہ
09:33تم لوگوں نے اپنا خانہ ختم نہیں کیا
09:35خیال سے
09:47موسیقی
10:27آج کے بعد بھیڑے تمہارے حوالے ہیں
10:30آئندہ میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں جاؤں گا
10:32مجھے لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں
10:34جس کے لیے ہم کنان آئے ہیں
10:37خیال رکھنا
10:38بھیڑوں کو کوئی خطرہ پیشنا آئے
10:40گھبرائیں مت بابا
10:42اب ہم بچے نہیں رہے
10:43جانتا ہوں جانتا ہوں
10:45چلو اب جاؤ
10:48سلام بھکو
10:49سلام بھکو
10:50سلام میری جان
10:53سلام
10:53خدا تمہارا حامی اور ناصر
10:56بچوں وہ دیکھو یوسف
10:59سلام بھکو فائی کا
11:00سلام میری جان
11:02یوسف کا خیال رکھنا ہو
11:03جی اچھا
11:07سلام
11:10نبی خدا پر سلام
11:14یوسف جلدی کرو
11:16پکڑو اسے
11:17پکڑو اسے جلدی کرو
11:22کس نے کہا یتیمی بری چیز ہوتی ہے
11:25کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں یتیم بھی
11:30اگر یتیم ہونا
11:31اتنا ہی اچھا ہے
11:32تم سب کیوں نہیں مر جاتی
11:35شاید تمہارے بننے کے بعد
11:37تمہارے بچوں کو بھی
11:37زیادہ توجہ مل جائے
11:40نہیں
11:40بلہ کے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا پوپی
11:43میرے کہنے کا مطلب تھا
11:44کہ آپ کافی اچھی طرح سے
11:46یوسف کی پروریش کر رہی ہیں
11:50اور اس کے لئے میربان ماں کی طرح ہے
11:53رہنے دو
11:55تمہاری باتوں کا مطلب ہے خوف سمجھتی
11:58تم لوگوں کو کیا ہو گیا
12:00یعنی ذرا سی محبت بھی
12:02ایک بین ماں کے بچے کے لئے
12:03تم سے برداشت نہیں ہوتی
12:33خیال رکھنا بہن
12:34کہیں تمہاری یوسف سے
12:36حد سے زیادہ وابستگی
12:38اور اس کو سجانہ سوارنا
12:40اس کے بھائیوں میں
12:41حسد کا بیچ نبو دے
12:44یوسف کو تمہیں سوپنے کی
12:45اصل وجہ بھی
12:46لیا کہ اس سے بے انتہا
12:48محبت کرنا ہی تھی
12:49وہ نہ چاہتے وہ بھی
12:50یوسف اور اس کے بھائیوں کے درمیان
12:52فرق کر بیٹھتی تھی
12:55جو تمہارے بیٹوں میں
12:57حسد اور کینہ کا بیچ بو رہے ہیں
12:58وہ بلہ اور زلفہ ہیں
13:00لیا نہیں
13:07خدا یوسف کو
13:09حاسدوں اور دشمنوں کی شر
13:10اور بد نظروں کے نظر سے
13:12محفوظ رکھے
13:29پتہ نہیں کیوں
13:30اس کے لئے دل پریشان رہتا ہے
13:33پریشانی کی کوئی بات نہیں
13:36اگر اجازت ہو
13:38تو اسے لے جاؤں
13:39جانتی ہوں
13:40یوسف کو بھوک لگے ہوگی
13:43یوسف
13:43جی
13:44آجاؤ بیٹا
13:46چلو چلے میری جان
13:59خدا حافظ
14:01خدا حافظ
14:10ماں
14:10یوسف کے کپڑے دیکھیں
14:13وہ فائکہ نے اس کے لئے سیئے ہیں
14:16ہمارے لئے بھی ایسے کپڑے سیئے ہوگی نا
14:20میرا خیال ہے کہ کوئی اور بات ہے
14:22جو بابا ہمارے ساتھ نہیں آئے
14:24مثلاً کونسی بات
14:25یوسف
14:29وہ یوسف کے ساتھ
14:30دہنا چاہتے ہیں
14:30میں ایسا نہیں سمجھتا
14:33وہ پیامبر ہیں
14:34اور انہیں لوگوں کے درمیان رہ کر
14:36ان کے ماسائل حل کرنے ہوتے ہیں
14:40یوسف کے کپڑے دیکھے ہیں تم نے
14:42دیکھے
14:43بہت خوبصورت لگ رہا تھا
14:45بڑا خوش خسمت ہے
14:52لاوی
14:53یہودہ
14:54چلنا نہیں ہے
14:55آ رہے
15:00چلو چلیں
15:02یہودہ چلو
15:10اس کی حالت تو اور بہتر ہو گئی ہے
15:12بزائر رہیل کی موت کم اسکم
15:13یوسف کے لیے تو بری ثابت نہیں ہوئی
15:15کہنے کو تو تم بھائی ہو
15:17مگر تمہاری باتوں سے نہیں لگتا
15:27موسیقی
15:31یہ پہنو
15:38موسیقی
15:54تم جانتے ہو یہ کیا ہے
16:01یہ میرے باپا اور تمہارے دادا
16:04اس ساخ نبی کا کمر بند ہے
16:07میری خواہش تھی
16:08کہ یہ اسے دن
16:10جو کارے رسالت کو جاری رکھے
16:14مجھے امید ہے
16:15کہ اس کے وارث تم ہی ہو
16:17مجھے یہ کمر بند
16:18اچھا لگا ہے
16:22حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
16:23کمیز ہو
16:24یہ کمر بند میرے پاس آمانت تھی
16:27کمیز میں نے بھائی کو دی دی
16:28یہ کمر بند فیلال
16:30تمہارے پاس رہے
16:32اسے کئی گم نہ کر دینا
16:34میں ڈرتا ہوں
16:36کہ کوئی اس کمر بند کو دیکھ کر
16:38ناراض نہ ہو جائے
16:40مسلن کون
16:41مسلن
16:43میرے بھائی
16:48اس کی تم فکر مت کرو
16:51چلو جلدی کرو
16:52ہمیں تمہارے بابا کی درس میں پہنچنا ہے
16:59چلو
17:09حسد
17:11یعنی وہ نعمت اور دولت و مقام و منزلت
17:14جو کسی بندے کو عطا ہوئی ہے
17:16اس کی نابودی کی آرزو کرنا
17:19حسد یعنی کسی کے پاس
17:21کسی نعمت کے ہونے کو برداشت نہ کرنا
17:24حسد یعنی دوسروں کی کامیابی اور خوش قسمتی کو برداشت نہ کرنا
17:29اور دوسروں کی فقر اور تنگ دستی کا خواہش مند ہونا
17:34اب تم میں سے کوئی بتائے
17:36کہ حسد کسے کہتے ہیں
17:48وہ کمر بن جو یوسف نے باندھا ہوا ہے
17:51وہ تو عساق نبی کا ہے
17:52فائکہ نے یوسف کو کیوں دیا
17:55میرا خیال ہے یہ تو آنے والے پیغمبر کے حوالے کیا جانا جائے تھا
18:01یعنی حسد کا دن نہیں چاہتا
18:05کہ لوگوں کے پاس کوئی نعمت ہو
18:08شاباش
18:11حسد وہی ہوتا ہے جو تم نے کہا
18:14حسد ہمیشہ دوسروں کی چیزوں کو دیکھ کر
18:17غمگین اور رنجیدہ ہوتا ہے
18:20دیکھ رہے ہو
18:21خواہ وہ مانوی اور علمی چیزیں ہوں
18:24خواہ مادی اور مال اور مطاہ دنیا ہوں
18:29حسد سے بچنے کا کیا طریقہ ہے
18:31یہ کون بتا سکتا ہے
18:34اس کا جواب یوسف کو نہیں آئے گا
18:40میرے پیاری یوسف
18:42کیا تمہارے ذہن میں کچھ نہیں آ رہا
18:46بابا کیا حسد کو معلوم ہے
18:48کہ اس دنیا کو ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے
18:55شاباش بیٹا شاباش
18:57جواب یہی ہے جو تم نے دیا
19:01حسد کو چاہیے کہ جان لے
19:03کہ دنیا کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتی
19:07حسد کو نہ دنیا کی نعمتیں میں یسر آتی ہیں
19:10نہ آخرت کے انعام
19:12حسد اپنے حسد کی وجہ سے
19:14دونوں جہاں کی نعمتوں سے محروم رہتا ہے
19:16اور اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا
19:19نہ حسد نہ محسود
19:21کوئی بھی اس دار فانی میں باقی رہنے والا نہیں
19:25اگر حسد یہ جان لے
19:28تو اپنی دنیا کو حسد اور تنگ نظری کی وجہ سے
19:31جہنم میں تبدیل نہ کرے
19:39ایک بین ماں کے بچے سے محبت کرنا فطری بات ہے
19:43کیا جن کی ماں زندہ ہوں ان سے محبت نہ کرنا بھی فطری بات ہے
19:46یعنی جن کی ماں ہوں انہیں محبت کی ضرورت نہیں ہوتی
19:49ایک طرف تو پھپو اسے نینے کپڑے پہناتی ہیں اور اسے سجاتی سوارتی ہیں
19:53اسی طرف ماں اسے زانوں پر بٹھاتی ہے اور بہترین کھانے دیتی ہے
19:58ہمارے سامنے اس کی حفاظت ظاہر کرتے ہیں
20:01لیکن بابا اسے ہم سب سے زیادہ چاہتے ہیں
20:03ہاں بلکل
20:03ویسے آپس کی بات ہیں ہمارا بھائی یوسف ہے ہی اتنا سمائجدار اور شیری زبان
20:09اس کا معصوم چہرہ واقعیتاً چاہے جانے کے قابل ہے
20:12ہم سب ہی اپنے بھائی یوسف کو چاہتے ہیں
20:15لیکن غلطی تو ہمارے والدین کی ہے نا
20:17وہ کیوں یوسف سے ہم سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں
20:20تم نے ہمارے دادا عساق کا کمر بن اور بازو بن دیکھا جو یوسف نے باندھا ہوا تھا
20:25آہ
20:27بلہا کہیتی کی یہ انبیاء کی میراس ہے
20:29اور بات میں آنوالے پیغمبر کو ملنی چاہیے
20:32تو پھر پھپو فائقہ نے وہ یوسف کو کیوں دیا
20:35یہ تو پھپو سے بھی پوچھا جا سکتا ہے
20:37وقتِ غروب جب گلہ واپس لے کر چلیں گے
20:40تو پھر پھپو کے پاس چلیں گے
20:42بھائیوں پتھر
20:46چلو آزم آ کے دیکھتے ہیں
20:48میں تم سب کو ہرا دوں گا
20:50یہ لو یہودہ نے پھر وہی شروع کر دیا
20:53جو جیتے گا وہی بابا کا جانشین ہوگا
20:56چلو شاباش جوڑ لگا
20:59نہیں اٹھا سکتے
21:00جو جیتے گا وہی بابا کا جانشین ہوگا
21:04شاباش جوڑ لگا
21:06اب تم پولیس کرو
21:09تم اٹھاؤ
21:13شاباش جوڑ لگا
21:42سلام خالہ
21:43سلام زلفہ
21:44سلام
21:45کہاں جا رہے ہیں
21:48گلے کو باڑے میں چھوڑیں گے
21:49پھر ہم پھپو فائقہ کے پاس جائیں گے
21:51دراصل ہمیں ان سے کچھ کام ہے
21:53ہمیں بھی ان سے بہت کچھ پوچھنا تھا
21:55اور ابھی ہم وہیں سے آ رہے ہیں
21:56میرے خیال میں یوں بینا بتایا ہے
21:58تمہارا پھپو کے گھر جانا ٹھیک نہیں
21:59تمہارے بابا پھپو فائقہ کے پاس ہیں
22:02وہ یوسف سے ملنے گئے ہیں
22:04اور یہ سب دیکھ کر
22:06تم لوگ کو شاید اچھا نہ لگی
22:13کیوں
22:13وہاں ایسا کیا ہو رہا ہے
22:15چلو دیکھتے ہیں
22:16یہ کونسا مشکل کام ہے
22:18آجاؤ
22:38دیکھا بابا یوسف کو ہم سب سے زیادہ کتنا چاہتے ہیں
22:41یہودہ فضول باتیں مت کرو
22:42جب ہم چھوٹے تھے تو بابا کے زانوں پر اسی طرح بیٹھتے تھے
22:46اور وہ اسی طرح محبت کرتے تھے
22:47بلہا اور ظلفہ اسی لئے کہہ رہے تھیں
22:49کہ پھپو فائقہ کے پاس یوں ہی اچانک مت جانا
22:52فضول باتیں مت کرو
22:53میں تو جا رہا ہوں
23:07یہیں رکو بیٹا
23:12سلام بابا
23:13سلام بابا
23:16سلام میرے بچوں
23:18سلام خاندان یعقوب کے مردوں
23:20جیتے رہو میرے بچوں
23:24تم لوگ کب لوٹے
23:25بس ابھی ابھی بھیڑوں کو باڑے میں چھوڑا اور
23:29یہاں آگئے تاکہ
23:31تاکہ کیا
23:32ہم آئے ہیں تاکہ فائقہ پھپو سے کچھ باتیں کر سکیں
23:36ہاں بولو
23:37سن رہی ہوں
23:38پھپو
23:39یہ کمربن
23:42ہمارے دادا ایساق نبی کا ہے نا
23:46ہاں ایسا ہی ہے
23:49لیکن یوسف کے لیے صرف ایک کھلو نہ ہے
23:53میں نے سوچا کہ یوسف اس میں مشہول ہو کر
23:57اپنی ماں کے غم کو بھول جائے
23:59لیکن بلہا کہہ رہی تھی کہ یہ کمربن
24:01گدشتہ نبی کی میراس ہے
24:03اور اس سے بعد میں آنے والے نبی کو
24:05ملنا چاہیے
24:22ان کی بات پر کان من دھرہ کرو
24:29بابا
24:32یہودہ کہہ رہا تھا کہ آپ یوسف کو ہم سے زیادہ چاہتے ہیں
24:35ایسا نہیں ہے
24:38لیکن آج آپ یوسف سے ملنے آئے ہیں
24:41اسے اپنے زانوں پر بٹھائے ہوا تھا
24:43تم لوگوں کو بھی بچپن میں اپنے زانوں پر بٹھاتا تھا
24:46اگر تم لوگ بھی مجھ سے دور ہوتے
24:49تو تمہیں بھی دیکھنے کے لیے آتا
24:50میں تم سب کو چاہتا ہوں
24:52میں مزید ایسی باتیں سننا نہیں چاہتا ہوں
24:54چلو چلو
24:57میں تم لوگوں کو گھر کے مرد اور اپنا دست و بازو سمجھتا ہوں
25:01اور ایک تم لوگ ہو کہ ایک چھوٹے سے کبزور بچے سے برابری کرتے ہو
25:05خدا حافظ بہن
25:21فائقہ پپو بابا سے کہیے کہ وہ مجھ سے محبت نہ کیا کرے
25:25کیوں بیٹا
25:26اس لیے کہ میرے بھائی ناراض ہوتے ہیں
25:29میری جان
25:30تمہیں ماں کی محبت تو ملی نہیں
25:32کیا آپ باب کی محبت سے بھی محروم رہنا چاہتے ہو
25:44موسیقا
25:51یوسیقا
25:52یوسیقا
25:53موسیقا
26:14موسیقی
27:04موسیقی
27:07موسیقی
27:07یوسف
27:08اور آپ سے یہاں آجا میٹا
27:46موسیقی
27:47موسیقی
28:04چلو چھپ جاؤ
28:08جلدی کرو چھپ جاؤ
28:11سب لوگ چھپ گئے
28:14میں بیس تک گنتی ہوں
28:22جاؤ ڈھونڈوں نے
28:52لیکن ابھی تک یوسف کو نہیں ڈھونڈا
29:00یوسف
29:03پتہ نہیں یوسف کہاں چھڑا گیا
29:06یوسف
29:13یوسف کھیل ختم ہو گیا
29:15بہار آجاؤ
29:24یوسف
29:26کہاں ہو تم
29:28یوسف کہاں ہو تم
29:32یوسف کھاں چلا گیا ہے
29:34مل ہی نہیں رہا
29:38کہیں جھت پڑ تو نہیں ہے
29:40فائی کا پکپو اور بسمہ کے پاس تو نہیں گیا
29:44تم رب نیچے ڈھونڈو
29:48یوسف
29:50بسمہ
29:51یوسف کو ترہی دیکھا
29:52نہیں
29:52یہاں تو نہیں آیا
29:54کیوں
29:54کیا ہوا
29:55یوسف گم ہو گیا ہے
29:56یہاں تو نہیں آیا ہے
29:57کیا ہوا
29:58یوسف گم ہو گیا ہے
30:00گم ہو گیا
30:02تم کہا تھے جب گم ہو گیا
30:04کیا وہ تمہارے ساتھ نہیں کھیل رہا تھا
30:06وہ چھپ گیا تھا
30:07اور اب مل نہیں رہا ہے
30:09سب جگہ دیکھ لیا ہے
30:11ہاں
30:11سب جگہ دیکھ لیا
30:13وہ میرے بھائی کی امانت ہے
30:15آؤ دیکھو
30:16کہاں کھیل رہے تھے جب گم ہوا
30:23یوسف
30:24یوسف
30:25پپا کی جان کہا ہو
30:30یوسف
30:35کہا ہو
30:37یوسف کہا ہو
30:39یوسف
30:44جان بردو نہیں ہے
30:53یوسف
30:54یوسف
30:56یوسف
31:04یوسف
31:06محطان
31:11یاگر
31:12یاگر
31:13محطان
31:13محطان
31:14محاطان
31:15محطان
31:17محطان
31:24اکوہ
31:26اکوہ
31:27اکوہ میں گر گیا
31:29یوسف
31:36پتہ نہیں کہاں چلا ہے
31:40یوسف پر کیا گزری
31:41کیا کیا اس کے ساتھ
31:43کچھ تو بولو
31:44آرام سے
31:45رکو تو صحیح پتہ تو چلے کہ کیا ہوا ہے
31:47اب بولو
31:49میں گھر میں کام میں مشغول تھی
31:52بچے سہن میں
31:53کھیل میں مگن تھے
31:55اچانک شنائے کہ سب یوسف کو بکا رہے ہیں
31:58میں نے پوچھا
31:59کیا ہوا تو
32:01بتایا کہ یوسف کم ہو گیا ہے
32:04سب جگہ ڈھونڈ لیا ہے
32:05ڈھونڈ لیا ہے
32:07اس طرح حمالت کا خیال رکھا جاتا ہے
32:09اس طرح سے یوسف کی فادر کی ہے
32:11آپ کا دھیان کہا تھا
32:13بس کرو
32:15دیکھنے تو دو آخر ہوا کیا
32:18تم نے گھر میں اچھی طرح تو دیکھ لیا نا
32:21دیکھ لیا ہے
32:24یوسف بہت ہوشیار بچہ ہے
32:28خود کو ایسی جگہ چھپایا ہوگا
32:30کہ کوئی ڈھونڈ نہ سکے
32:31مثلاً
32:33مثلاً صندوق میں
32:35یا
32:36یا تندھور میں
33:03میری خوط
33:05یوسف
33:09یوسف
33:11یوسف
33:12ادھر آؤ میرے بچے
33:14سلام بابا
33:15سلام میرے بچے
33:16تم یہاں کیا کر رہے ہو
33:18واہ بیٹا
33:19تم نے تو میری جان ہی نکال دی
33:24یہاں کیا کر رہے تھے
33:26تنور کے اندر کیا کر رہے تھے
33:28خالہ ہم کھیل رہے تھے
33:30میں یہاں آکا چھپ گیا
33:32تاکہ میرے بھائی مجھے ڈھونڈ نہ سکے
33:38فائقہ
33:38تمہیں یوسف سے غفلت نہیں برتنے چاہیئے تھی
33:42اگر یوسف کا تنور میں دم گھڑ جاتا تو کیا کر لیتی
33:47میں نے اپنی بہن راہیل سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کے بچوں کی حفاظت کروں گی
33:51آج کے بعد میں انہیں اپنی نگاہوں سے کبھی دھوڑنے کروں گی
34:12موسیقی
34:19موسیقی