- 10 hours ago
Prophet Yousuf Episode 13 - Urdu
Category
📚
LearningTranscript
00:10رنجیدہ مت ہو یوسف
00:12آج یہ تمہارے خریدار ہیں
00:15ایک روز تم ان سب کو خرید لوگے
00:20یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں
00:22یہاں کیوں جمع ہیں
00:24خوبصورتی سب کے وجود میں ہوتی ہے
00:27لیکن آیا نہیں ہوتی
00:28تم میں انسانی وجود کا یہ گوھر متجلی ہوا ہے
00:32یہ سب لوگ خود اپنے اپنے اندر موجود
00:35یوسف کی اصلیت اور حقیقت کو دیکھنے کے لیے
00:38یہاں جمع ہوئے
00:40یہ لوگ میری خوبصورتی اور حسن کے قریدار تو ہیں
00:43لیکن اپنے اپنے اندر موجود خوبصورتی کی حقیقت کی طرف
00:47کیوں متوجہ نہیں ہوتے
00:49اپنے اندر موجود خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے
00:52چشم بسیرت چاہیے
00:53لیکن وہ حقیقت جو تمہارے وجود میں متجلی ہوئی
00:57وہ ظاہری آنکھوں سے بھی قابل مشاہدہ ہے
01:00بسیرت ہر ایک کے پاس نہیں ہوتی یوسف
01:03لیکن بسارت سب ہی رکھتے ہیں
01:06اس طرح سے تو اپنے خود بھی انہی کی طرح ہوا
01:09اگر یہ اپنے اندر کی خوبصورتی کی حقیقت جانتے ہوتے
01:13تو یہ سب میرے خریدنے کے مشتاق نہ ہوتے
01:16یہ یوسف کے مشتاق نہیں
01:20بلکہ در حقیقت خلیفہ خدا کے لیدار کے مشتاق ہے
01:27آدم کی زیارت کے لیے فرشتوں کے اشتیاق کے بارے میں سنا ہے یوسف
01:32دو سو پچاس سکھے
01:34دو سو پچاس سکھے
01:38نہیں جناب یہ قیمت بہت جانا کم ہے
01:40بہت جانا پھولی لگائیے
01:46ہاں آگے بڑھئے
01:48دین سو سکھے میں فرق ہوا جاتا ہے
01:50دین سو سکھے
01:57نہیں بھائی میں تو
01:58چار سو سکھے
02:00میں تو اتنے ہی دوں گا
02:01چار سو پچاس سکھے
02:03اس کی قیمت اس سے کہیں جانا ہے
02:09یہ بہت قوی ہے
02:10اتنا کہ اکیلا سو پر بھاری ہے
02:13یہ بھی لے چند
02:16آلی جناب آپ کی انتخاب کا جواب نہیں
02:20بولیے بولیے ایک ہزار تین سو سکھے
02:22چھ سو سکھے
02:24ہے کوئی قدردان
02:30اس سے بڑھ کر تیمت آپ کی بڑھا رہا ہے
02:40آلی جناب یہ بڑے ہی کام کے غلام ہے
02:44یہ بھی لے چند
02:46یہ تو بہت کام ہے حضور
02:52اس سے بڑھ کر تیمت آپ کی بڑھا رہا ہے
03:02حرکت کروں
03:15حرکت کروں
03:35ایک ہزار دس سکے
03:38ایک ہزار چالیس سکے
03:50اب یہ بھی مقابلے پر اتر آیا ہے
03:53بولو کیا کرے بولو
03:54آج اسے ہرا کر رہے ہیں
03:56کوشش کرو ہم سے جیتے نہ پائے
04:02ایک ہزار دوسو سکے
04:04ایک ہزار دوسو سکے
04:08ایک ہزار تین سو سکے
04:12ایک ہزار تین سو سکے
04:14ہے کوئی اور خریدار
04:16ہر چنگ کے لگائے کہی قیمت
04:18آٹھ سے دس غلاموں کی قیمت کے برابر ہے
04:21لیکن خیر کوئی
04:22بس کوشش کرو
04:24پوتی فار سے مقابلیاں پیچھے نہ رہ جائیں
04:31ایک ہزار پانچ سو سکے
04:33ایک ہزار پانچ سو سکے
04:36کوئی اور قدردان نہیں
04:39ایک ہزار پانچ سو سکے
04:42چنگ کا مقام ہے
04:45جیسے کسی جنس کے خریدو
04:46فروض ہو رہے ہیں ہوں
04:48اگر اس پچے کی اصلے کا درکیمت جانتے ہوتے
04:51تو سونے چاندی کے پہاڑ بھی اس کے مقابلے میں کم تھے
05:01دو ہزار سکے
05:03دو گناہ
05:06تین ہزار سکے
05:12تین ہزار سکے
05:15تین ہزار سکے
05:17عزیز مصر جناب پوتی فار اور سپے سالار مصر
05:21تین ہزار سکوں کی پیش کش کرتے ہیں
05:23جناب پوتی فار تین ہزار سکوں کی پیش کش کرتے ہیں
05:27جناب پوتی فار سے مقابلہ کرنے کی جرست کر بھی کون سکتا ہے
05:31مبارک ہو
05:32اس غلام کے اب آپ مالک ہیں
05:37میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ نے ایک معدی باکمال اور بڑا لکھا غلام خریدا ہے
05:43مزید یہ کہ نیایندی خوش قدم غلام ہے
05:45یہ غلام جناب پوتی فار کا ہوا
06:10حرکت کرو
06:21یہاں تشریف آئیے
06:23یہاں پیتری غلام پڑھائے پڑھو
06:25موجود ہے
06:26بولی لگائیے
06:28آئیے
06:29بولی لگائیے
06:35آئیے
07:12راکت کرو
07:41موسیقی
08:11موسیقی
08:41موسیقی
09:04موسیقی
09:05موسیقی
09:09جاؤ زلیخ اکبراؤ
09:15موسیقی
09:19موسیقی
09:20موسیقی
09:28یہ گوھری یگانہ کہاں سے لائے ہیں آلی جناب
09:33خریدہ ہے وہ بھی بھاری قیمت ادا کر کے
09:36اس کے لیے تو جتنی بھی قیمت ادا کی جائے کم ہے
09:40جس احمق نے بھی اس جیسے گوھر نیاب کو فروغ کیا ہے
09:44اسے قبر میں پہنچا دینا چاہیے مردوں کے دنیا میں
09:47لوگ گلام بیشتے ہیں تاکہ ذرو جواہر ہاتھ آئیں
09:51اس احمق بردہ فروش نے ایسے گوھر نیاب کو بیچ کر
09:55کیا حاصل کیا
09:58یہ آپ کا بڑا پن ہے میں غلام سے زیادہ کچھ نہیں
10:03قصر پوتی فار میں خوش شام دید برخوردہ
10:06آپ کا شکر گزار ہوں آلی جناب
10:13تشریف لاتے ہی ہماری یاس ستانے لگی
10:18کیا بطور خاص طلب کرنے کا سبب جان سکتی ہو
10:23یہ تو فارم پسند آیا تمہیں
10:36میں نے اس بچے کو پہلے کہیں دیکھا ہے
10:39علم میں خواب میں یا پھر
10:45نہیں معلوم لیکن آشنا سا لگتا ہے
10:51جناب پوتی فار
10:53انتخاب کی دانت دینی چاہیے
11:01یہ بچہ واقعی بہت خوبصورت ہے جناب پوتی فار
11:06لا چواب ہے
11:10کیا نام ہے تمہارا
11:13یوسف
11:18یوسف یہ نام یا تو آرامی ہے
11:21یا پھر عبرانی
11:24میں عبرانی ہوں
11:26شام میں واقع شہر کنان کا رہائشی
11:32ان لوگوں کا مشغلہ بھیڑ بکریاں چرانا ہے
11:40یوسف
11:43ہاں یوسف
11:45نہیں
11:46مجھے یہ سہرہ نشیم بدو قبائل کے نام پسند نہیں
11:52بلکل نہیں
11:56اگر آپ کی اجازت ہو تو اس کی لیے کسی مصری نام کا انتخاب کریں
12:01یہ بچہ تو مہارے لیے میری طرف سے توفہ ہے
12:04سو جس نام سے جاہو پکارو
12:06میں جناب پوتی فار کی نہائیت مشکور ہوں
12:11اگر اجازت مرحمت فرمائے
12:14تو بندے کی نظر میں ایک مصری نام ہے
12:17کہو
12:18ایک نام جو یوسف سے ملتا جلتا ہے
12:24یوزار شیف
12:27یوزار شیف
12:29برا نہیں
12:33یوزار شیف
12:35بلکہ بہت ہی اچھا ہے
12:38آج سے تمہیں یوزار شیف کہہ کے بلائیں گے
12:41راضی ہو
12:44اگر آپ کو پسند ہے تو
12:46میں بھی راضی ہوں
12:47میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ یوزار شیف کا عزت و اعترام بچا لائیں
12:52شاید یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو
12:55اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ہم
12:58اس سے بطور اپنا ولی اہد انتخاب کر لیں
13:03کیوں نہیں
13:04یوزار شیف سے بہتر اور کون ہوگا
13:26تم نے دیکھا
13:27دیکھا کتنا خوبصورت ہے
13:29میں اپنی تمام عمر میں اس سے خوبصورت بچا لگے دیکھا
13:32یعنی وہ ایک غلام ہے
13:41یہ تمہارا کمرا ہے
13:44پسند آیا
14:11شکر گزار ہوں مانو
14:12بہت اچھا ہے
14:16اس کے آرام کے لیے تمام اسباب مہیا کرو
14:29موسیقی
14:30موسیقی
14:38موسیقی
14:40موسیقی
14:56پروردگارہ
14:58میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں
15:00تُو نے مجھے غلامی سے نجات دے کر آرام و اسائش کی زندگی عطا کی
15:05موسیقی
15:06اے یوسف
15:08اس طرح خدا نے تمہیں عظمت و کرامت اور جاہو مرتبہ آتا کیا
15:14تمہیں کوئے کی گہرائیوں سے اوج کمال پر پہنچایا
15:18اور تمہیں علمِ تعبیلِ فواب اور احادیث آتا کیا
15:23کہ اب تم معبران سے زیادہ ان کے علم اور زبان سے واقف ہو
15:30اور کسی بھی استاد کی ضرورت سے بے نیاز ہو
15:39موسیقی
15:41تیرا شکر گزار ہوں
15:43اے خدا مہربان تیرا شکر گزار ہوں
16:00موسیقی
16:08تم خسارے میں رہے مالک
16:11اگر تم یوسف کو اس کے وزن کے برابر
16:14سیم و ذر میں بھی تولتے
16:16تب بھی خسارے میں تھے
16:18بہت بڑے خسارے میں
16:36تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے
16:38توفان میں ہمارا گم ہو جانا تمہیں یاد ہے
16:41اور جانوروں کا اس کوئیں کے پاس روک جانا
16:44یہ سب کس لیے تھا
16:47تمہارے ہاتھ لگنے کے لیے
16:48یا یوسف کی نجات کے لیے
16:52میں تو کوئیں کے پانی کے میٹھے ہو جانے کو بھی
16:54یوسف کے وجود کی بڑھ کر سمجھتا ہوں
16:59وہ یوسف کو میرا تھپڑ مارنا
17:01جس کی وجہ سے میرا ہاتھ شل ہو گیا تھا
17:03بھول گئے
17:05کیا یوسف کی دعا کرنے
17:07اور اس کے ہاتھ پھیرنے سے
17:08مجھے شفاہ نہیں ملی تھی
17:11جنات بیماری
17:13اگر آپ کو یاد ہو تو
17:15یوسف نے مجھے بھی
17:17موت سے نجات دلائی تھی
17:18میں یوسف کی دعا سے شفاہی آب ہوا تھا
17:22ہاں
17:23یوسف کی دعا سے
17:25یوسف کے وجود سے
17:26جہاں دیگر فائدے ہوئے
17:28وہیں مال و ذرگے تمہارے ہاتھ آ رہا
17:31یوسف پر معمولی انسان نہیں تھا
17:34یہ سب تو موجزے ہیں
17:39جو صرف انبیاء الہی سے صادر ہوتے ہیں
17:45میں کیوں متوجہ نہیں ہوا
17:49اصل میں یہ یوسف کون تھا
17:53کیوں اس نے اپنا حسب نظم نہیں بتایا
17:59لانت ہے تم پر فلی کے جس نے میرا چین چھین لیا
18:02اب تک مجھے یہی لگ رہا تھا
18:03کہ مجھے نفع حاصل ہوا ہے
18:05لیکن یہ تو میں سراسر خسارے میں رہا ہوں
18:11افسوس فلی
18:14میں نے غلام نہیں
18:17بلکہ دہاقی کا تک آزاد منش فلی
18:19یا شاید نبی خدا کو بیچ جانا
18:23ایسی مہدبانہ و حقیمانہ گفتگو
18:26اور بزرگانہ اتفار پر غور کیوں نہیں کیا
18:28بغض و عطاوت سے پاک دل
18:32اور آئینے کی طرح شفاہ روح کیوں دکھائیں نہ دی مجھے
18:38میں نے آج سے اپنے سابقہ خداوں کو
18:41واصل جہنم کر کے
18:42اس کے خدا کا انتخاب کر لیا
18:47میں اس خسارے کا ازالہ کروں گا
18:49مجھے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا
18:55کہاں
18:57اس وقت تو کچھ نہیں ہو سکتا
18:59صبح تک انتظار کرو
19:24جناب پوتیفار کا قصر کس طرف ہے
19:26سیدھے چلے جاؤ
19:27اس طرف آخر میں
19:55مجھے کچھ نہیں
19:59یہاں کیا کر رہے ہو
20:03آلی جناب پوتیفار سے کام ہے
20:05پہلے جناب رو دامن سے اجازت لینی پڑے گی
20:09اوپر آ جائے
20:22جناب رو دامن یہ لوگ آلی جناب پوتیفار سے ملنا چاہتے ہیں
20:29عزیز مصر جناب پوتیفار سے آپ کو کیا کام ہے
20:35ہم نے انہیں غلام بیچا تھا
20:37انہیں بتائیے کہ مالک جس سے کلے غلام خریدتا تھا وہ آیا ہے
20:44میں نے پوچھا کام کیا ہے
20:49کچھ سکے ان کی طرف سے اضافی آ گئے ہیں
20:52وہ ہم صرف انہیں ہی دیں گے
21:00آپ لوگ یہیں رکھیں
21:17کیا ہوا رو دامن
21:21ایک تاظر جس نے آپ کو کلے غلام بیچاتا شرف باریا بھی چاہتا ہے
21:43لگتا ہے تم خوش نہیں ہوئے برانی
21:48میں یہاں ہونے سے خوش ہوں لیکن غلام ہونے سے نہیں
21:58کیا تمہارے ساتھ ہمارا سلوک غلاموں جیسا ہے
22:03آپ کا سلوک آپ کی عظمت کے شایان شان ہے
22:06اور میرا یہ احساس غلامی سے عبارت ہے
22:08آفرین
22:10نہائیتی مناسب اور برجستہ جواب دیا ہے
22:13میں اس سے کافی پر امید ہوں
22:15یہ پڑھنا اور لکھنا بھی جانتا ہے آلی جناب
22:18فیسے تو اس کی تمام خوبیاں ٹھیک ہیں
22:21بس اس کی زبان کو تھوڑا لکام دینا ہوگی
22:25بانو اکمنان رکھیں میری زبان کو فضول گوئی کی عادت نہیں
22:28اور جناب پوتیفار اور آپ کی اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں کروں گا
22:35آفرین یہی مناسب ہے
22:37تمہارا تعلق کہاں سے ہے
22:39تمہارے ماں باپ کا نام کیا ہے
22:42آپ کو کیا فرق پڑتا ہے بانو
22:46سہراندشین پیشاور چرواؤں کے پاس بتانے کو رکھا ہی کیا ہے
22:52کسی نے آپ سے مشروع مانگا
22:56لیکن چہرے یوزہ صیف اس کے عالی حسب و نصب کی اکاسی کرتا ہے
23:11کیا ہوا تاجر؟
23:14کہیں پشمان تو نہیں ہو گئے
23:16جی، نہیں، نہیں
23:19اس سے پہلے کہ اپنے آنے کا سبب
23:22ارز کروں، اجازت چاہتا ہوں
23:26خلوت میں چل دا میں یوسف کے ساتھ آخری بار ودا کر لوں
23:33سمجھتا ہوں، یوزہ صیف کے ساتھ رہ کر ایک دلی تعلق پیدا ہو جاتا ہے
23:39ساتھ والے کمرے تک ان کی رہنمائی کرو
24:06دیکھ رہی ہیں آپ؟
24:07جزار صیف سے دزبردار ہونا اس کے لئے کتنا مشکل ہے؟
24:11موسیقی
24:21موسیقی
24:51موسیقی
24:55پھر آپ کو خداون کے حضور ایک عہد کرنا ہوگا
24:58کہ جو کچھ میں بتانے جا رہا ہوں کسی سے نہیں کہیں گے
25:01میں عہد کرتا ہوں اور ابراہیم کے خدا کی قسم کہاتا ہوں
25:06میں یوسف ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابراہیم ہوں
25:15موسیقی
25:17ہائے افسوس
25:19موسیقی
25:21موسیقی
25:23موسیقی
25:26موسیقی
25:31موسیقی
25:38موسیقی
25:39خدا مجھے کبھی نہ بخشے
25:42میں نے یہ کہا کر ڈالا
25:46کیوں تمہیں فروض کیا؟
25:48میں جانتا تھا ہم چچہزاد ہیں
25:51اور مجھے اپنے بیچے جانے پر کسی سے کوئی شکوہ نہیں
25:57مجھے تو مصر میں آنا اور بکھنا ہی تھا
26:02یہ تمام واقعات ارادہِ خداوندی اور ایک عظیم واقعے کی تمہید ہیں
26:08مجھے ان موت جو سے ہی سمجھ لینا چاہیئے تھا کہ تم معمولی انسان نہیں
26:16تم میں ایک پیغمبر ہو
26:19لانت ہو مجھ پر کہ ایک پیغمبر کو بطور غلام بھیج ڈالا
26:22میں اس ذلت کے ساتھ کہا جاؤں
26:24یہ کیا کر رہے ہیں؟ اٹھئے
26:29ان واقعات کو رونما ہونا ہی تھا
26:32مجھے تو اپنی رسالت کی انجام دہی کے لیے مصر آنا ہی تھا
26:35آپ تو صرف وسیلہ بنے ہیں
26:38میں تو آپ کا شکر گزار ہوں
26:40میں اس غلطی کا آزالہ کروں گا
26:47یہ لوگ
26:49یہ تمہاری سند غلامی ہے
26:51جس پہ تمہارے مالکوں نے دستخط کیے تھے
26:53اسے چھپا لو
26:56آپ یہیں رکیں
26:58میں نہیں چاہتا آپ ہماری بحثوں گفتوں کو سنیں
27:16میں عالی جناب بوتفار عزیز مصر سے نہایت معذرت چاہتا ہوں
27:21اور مجبوروں کے عالی جناب سے
27:24تنسیق ہے معاملہ کروں
27:27بندہ یوسف کو نہیں بیچ رہا
27:36آفرین
27:37آفرین
27:37ابھی کچھ دیر پہلے تک
27:40میں تمہیں احمق سمجھ رہا تھا
27:41کہ جس نے یزار شیف جیسے گوھر نایاب کے قدر نہیں جانی
27:45لیکن دیکھ رہا ہوں کہ ایسا نہیں ہے
27:47تم نے بھی اس گوھر کے جوہر کو پہچان لیا
27:51لیکن تمہیں نہیں لگتا تم نے ذرا دیر کر دی
27:54یہ تو تمہیں بیچے سے پہلے سوچا چاہیے تھا
27:56اب بہت دیر ہو چکی ہے
28:00عالی جناب
28:01میں اپنی تمام در جمع پونجی
28:03یوسف کا عوض دینے کو تیار ہوں
28:06التجا کرتا ہو کہ یوسف مجھے لوٹا دیں
28:09سنا نہیں
28:10جناب بوتفار نے کیا فرمایا
28:12یوزار شیف کسی بھی قیمت پر واپس نہیں لوٹایا جائے گا
28:15بندہ بھی ارز کر چکا ہے کہ وہ اس معاملے پر راضی نہیں
28:19ہم یوسف کو نہیں بیچ رہے
28:20اور اس کا بغیر یہاں سے واپس نہیں جائیں گے
28:23اب اگر تم نے مزید کوئی گستاگی کی تو
28:26تم دونوں کو داخلی زندان کر دوں گا
28:29یہاں سے چلے جاؤ
28:30یوسف کو لیے بغیر ہم نہیں جائیں گے
28:33عالی جناب یوسف کو لے جانے کی اجازت دے دیجئے
28:35رودمون
28:38شفایوں انہیں زندان میں ڈال دو
28:40مجھے یوسف واپس چاہیے
28:42میں یوسف کو لے کر نہیں جاؤ گا
28:44وہ مجھے واپس لٹھا دیں
28:45یوسف مجھے واپس لوٹھا دیں
28:48یوسف مجھے پھمے لٹھا دیں
28:49انھیں لے جا کر ٹیٹ کر دو
28:50می scratch و Mobile
28:52یوسف ممک جاہیے
28:54میں یوسف لکے لٹھا دیں
28:56یوسف امیں لٹھا دیں
28:58مجھے پھمے لٹھا دیں
28:58یوسف بعد اپنا خیال رکھنے
29:00میں یوسف کو لے کر جاؤ گا
29:02مجھے یوسف ڈ أوڈہ گا
29:11آئی جناب انہیں ماف کر دیں
29:14انہوں نے میری خاطر خود کو خطرے میں ڈالا ہے
29:27ان کا حق ہے کہ ان کو سخت سزا ملے
29:33میں التجا کرتا ہوں
29:38لیکن صرف یوزار سیف کی خاطر ماف کیا
29:43کہو انہیں ازاد کر دیں
29:46قید کرنے کی ضرورت نہیں
29:55یوزار سیف
29:56تمہارے پاس ایسا کیا ہے جو یہ بڑھتا فروش
29:59اپنی تمام زندگی تم پر نچھاور کرنے کو تیار ہے
30:03کیا بتاؤں بانو
30:05میرے پاس اپنا تو کچھ نہیں ہے
30:07یوسف جیسے ناچار کے پاس اور ہو بھی کیا سکتا ہے
30:12اس حضاف سے تو اب یوزار سیف پر ہمارا کوئی ایسا نہیں رہا
30:17کیونکہ ہم نے اس کی جو بھی کی مدادہ کی تھی
30:20وہ ہمیں واپس ملے
30:25میں احسان فراموش نہیں ہوں
30:27میں آپ کی محبتوں کو درہم و دینار کے پیمانے میں نہیں دولوں گا
30:34میں سبیش قیمت حدیعے کے لیے آپ کی شکر گزار ہوں
30:54آپ نے توجہ کی کہ یہ دوسروں کے برعکس ہماری تازیم کے لیے بلکل نہیں جھکتا
31:01کوئی بات نہیں
31:03آج سا جسا سیکھ جائے گا
31:07میرا خیال ہے کہ اس کا آدم تازیم ارادتن ہے
31:12وہ مجھے واپس لوٹا دیں
31:14یوسف مجھے واپس لوٹا دیں
31:17یوسف کو نہیں ریشنا
31:20یوسف ہمیں واپس لگا دیں
31:21یوسف واپس چاہیے
31:24یوسف کو ہمیں واپس کر دیں
31:51تمہاری قسمت اچھی تھی
31:53جو یوسف کی خاطر چھوٹ گئے ورنہ زندان تمہارا مقدر تھا
31:56اب یہاں اطراف میں دکھائی نہ دینا
31:59میں یوسف سے دست بردار نہیں ہوں گا
32:01دیکھ لیں گے
32:02اپنی جان بچاؤ اور جاؤ یہاں سے
32:05کیوں اپنی جان کے دشمن ہوئے ہو
32:22اتفار اور ان کی بانوں میری طرح احمق نہیں کہ یوسف جیسے گوہر انہیاب کو اتنی آسانی سے اپنے ہاتھ
32:27سے جانے دیں
32:29ہم خسارے میں رہے فلی
32:31تم خسارے میں رہے میں نہیں
32:33خدا کے کرم سے مجھے منافع ہوا ہے
32:35میری زندگی کا سب سے بڑا منافع
32:38منافع ہوا ہے وہ کیسے
32:40تم نے یوسف کو گوا دیا بغیر کچھ منافع حاصل کیا
32:44لیکن میں نے یوسف کو کھونے کے بدلے میں
32:46یوسف کے خدا کو پا لیا
32:49گلشتہ شب کاروان سرا میں
32:51میں نے پتھر کے خداوں کو چھوڑ کر
32:54یوسف سے یکتہ پرستی کے انمول گوہر کو پا لیا
32:59ہاں
33:00خدا کی قسم فلی
33:02اگرچہ میں نے پیغمبر خدا کو بیچا نہیں
33:05لیکن مرتے دن تک میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا
33:08میں تو اپنی سرزمین واپس جا کر
33:11آج کے بعد سے یکتہ پرستی کی ترویج کروں گا
33:27جب تک یوسف یہاں ہے
33:28میں اس شہر کو ترخ نہیں کر سکتا
33:31چلو کاروان سرا چلتے ہیں
33:39موسیقی